نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اسلاف کے مفتی بمقابلہ اہلحدیث جدید کے مفتی



 محترم ضرار خان الحنفی حفظہ اللہ 

اسلاف کے مفتی بمقابلہ اہلحدیث جدید کے مفتی

"ماخوذ از مجلہ رہِ ہدایت، شمار نمبر 43"

 امام شافعی رحمہ ﷲ سے پوچھا گیا کہ مفتی کون ہو سکتا ہے؟تو انہوں نے فرمایا:

”اللہ کے دین میں فتویٰ دینا صرف اسی کے لئے جائز ہے جو کتاب اللہ کا ماہر ہو، ناسخ منسوخ، محکم، متشابہ، تاویل، تنزیل، مکی مدنی، مراد ومطلب سے آگاہ ہو؛ پھر ساتھ ہی احادیث پر بھی اس کی نظر بالغ ہو، ناسخ منسوخ کو خوب جانتا ہو۔ قرآن و حدیث کی وضاحت کے لئے کام آنے والے دیگر فنون یعنی لغت و شعر کا بھی عالم ہو۔ان فنون کا پھر نہایت انصاف کے ساتھ استعمال کرتا ہو اور شہریوں کے اختلاف پر بھی اس کی نگاہ ہو اور استنباط کا ملکہ بھی رکھتا ہو۔جس شخص میں یہ اوصاف جمع ہوں وہ شریعت پر گفتگو کرنے اور حلال و حرام کے فتوے دینے کا اہل ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔“

 (اعلام الموقعین: ص ۴۹)

کیا موجود غیرمقلدین میں یہ شرائط پائی جاتی ہیں؟ عوام تو دور انکے خواص میں بھی اجتہاد کی شرائط موجود نہیں جیسا کہ انکے مجدد نواب صاحب اپنے بارے میں لکھتے ہیں:

”مجھے بخوبی معلوم ہے کہ مجھ میں کوئی شرط اجتہاد موجود نہیں۔“

(خود نوشت سوانح نواب صدیق ص ۱۲۰)

اور پھر ان لوگوں کی ستم ظریفی دیکھیں کہ خواص تو کجا عوام کو بھی اجتہاد کرنے کی صلاح دیتے ہیں جیساکہ زبیر علی زئی سے ایک سوال ہوا تو جواب میں لکھتے ہیں:

 "باقی امور میں آپ خود اجتہاد کر لیں"

(فتاوی علمیہ ص ۱۹۸)

جو عوام ترجمہ کرنے میں بھی علماء کے محتاج ہیں انکو بھی اجتہاد کے منصب پر فائز کر رکھا ہے۔ فیا للعجب!

 امام احمد بن حنبل رحمہ ﷲ سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:

”جب کوئی شخص مفتی بننا چاہے تو اسے قرآن کی تمام وجوہ کا علم ہونا چاہئے، صحیح سندوں کا علم ہونا چاہئے، سنتِ رسول ﷺ اور احادیثِ پیغمبر کا علم ہونا چاہئے، ورنہ اس شخص کیلئے فتویٰ دینا جائز نہیں۔“

فرماتے ہیں:

 ”اسے اپنے سے پہلے کے علماء کے اقوال معلوم ہونے چاہیئے، ورنہ فتویٰ بازی نہیں کرنی چاہیے۔“

کسی نے آپؒ سے پوچھا:

”ایک لاکھ حدیثیں یاد کرنے کے بعد انسان فقیہ ہوجاتا ہے؟

فرمایا: ”نہیں۔“

پوچھا: ”دو لاکھ کے بعد؟“

فرمایا: ”نہیں۔“

دریافت کیا: ”اچھا تین لاکھ؟“

فرمایا: ”نہیں۔“

پوچھا: ”چار لاکھ؟“

تو آپؒ نے اپنے ہاتھ ہلاکر اشارہ کیا اور فرمایا:

 ”اب میں توقع کرتا ہوں کہ وہ بالکل فتویٰ دے سکے گا۔“

خود امام صاحبؒ کو چھ لاکھ احادیث حفظ تھیں۔

(اعلام الموقعین: ص ۴۸)

امام احمدؒ تو فقیہ بننے کے لیے دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ چار لاکھ احادیث کا یاد ہونا شرط ٹھہرا رہے ہیں لیکن آج کا غیرمقلد جسے ایک بھی حدیث یاد نہیں، وہ بھی مجتہد بنا بیٹھا ہے اور پھر انہوں نے صرف بخاری و مسلم کو ہی پورا دین سمجھ رکھا ہے ان کو کسی کتاب سے حدیث دکھا دو تو فوراً کہتے ہیں:

 "بخاری مسلم سے دکھاؤ گے تب ہی قبول کروں گا۔"

بخاری مسلم یا صرف صحاحِ ستہ میں احکامِ دین کو منحصر سمجھنے والوں سے یہاں سوال بنتا ہے:

”کیا صحاح ستہ میں چار لاکھ احادیث موجود ہیں؟“

امام مالک رحمہ ﷲ فرماتے ہیں:

 "میں نے فتویٰ دینا شروع نہیں کیا، یہاں تک کہ مدینہ کے ستر فقہاء نے اس کی شہادت دی کہ میں فتویٰ دے سکتا ہوں۔“

 (البدایۃ والنہایۃ: ج۱۰، ص ۱۷۴)

غیرمقلدین کی عوام جو سوشل میڈیا پر فتوے بانٹتی نظر آتی ہے، ان کی گواہی کتنے فقہاء نے دے رکھی ہے؟عوام تو دور، ان کے تو علماء بھی ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں؛ الٹا ایک دوسرے کا رد بڑے زور و شور سے کرتے آئے ہیں۔

ارشاد الحق اثری زبیر علی زئی کا رد کرتا ہے،

علی زئی سنابلی کی کذب بیانیوں پر رسالے لکھتا ہے،

سنابلی جواب میں علی زئی کا رد لکھتا ہے۔

علی زئی نے تو اپنے استاد محب اللہ راشدی کے خلاف بھی مضمون لکھا جس پر محب اللہ نے جوابی رسالہ لکھا۔ 

(مقالات راشدیہ ج ۱ ص ۲۹۹)

مزید پروفیسر طالب الرحمن نے بارود نامی کتاب لکھ کر الدعوہ والارشاد کے علماء کو انبیاء کی توہین، صحابہ کی گستاخیاں، محدثین پر بہتان باندھنے والا قرار دیا۔اور حافظ عمر صدیق نے ٹانگیں میز پر رکھ کر امن پوری کو جو عزت دی، اس منظر کو تو سب دیکھ ہی چکے۔

یہ علماء گواہی دیں گے ایک دوسرے کی؟یہ تو عصرِ حاضر کی چند مثالیں ہیں،ان کے اکابرین کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔اس فرقے کے مجدد نواب صدیق حسن نے تفسیر لکھی تو ثناء اللہ امرتسری نے لکھا:

 "یہ سب شوکانی کی تفسیر ہے۔"

(مظالم روپڑی ص ۲۱)

ثناء اللہ امرتسری، جو کہ شیخ الاسلام ہیں اس فرقے کے، انہوں نے خود تفسیر لکھی تو دیگر اہلِ حدیث علماء نے اس کو کافر و مرتد قرار دیا۔

 (کتاب فتنہ ثنائیہ، فیصلہ مکہ)

مولوی عنایت اثری نے تفسیر لکھی تو عبداللہ روپڑی نے اس کو ثناء اللہ کی تفسیر سے بھی بدتر قرار دیا۔

اور محدث عبداللہ روپڑی نے تفسیر لکھنا شروع کی تو مولوی ثناء اللہ نے اس تفسیر کا نام کوک شاستر رکھا۔

غزنوی حضرات نے مولانا ثناء اللہ کے خلاف اربعین لکھی اور اس پر چالیس کے قریب علماء اہلِ حدیث (باصطلاحِ جدید) نے دستخط کیئے اور مولانا ثناء اللہ امرتسری کواہلِ حدیث سے خارج قرار دیا۔

جس کے جواب میں مولانا ثناء اللہ نے "مظالم روپڑی برمظلوم امرتسری" لکھ کر جماعت کی اندرونی حالت پوری طرح بے نقاب کی۔

 (مظالم روپڑی: ۴۸)

مولانا عبدالوہاب ملتانی کے خلاف بانوے علماء اہلِ حدیث نے دستخط کیئے اورکہا کہ مدعی امامت (مولانا عبدالوہاب ملتانی) گمراہ ہے، اہلِ حدیث سے خارج ہے۔ پھر مولانا عبدالوہاب کے شاگرد خصوصی مولانا محمد جونا گڑھی نے مولانا عبداللہ روپڑی کے بارے میں لکھا ہے:

"یہ مولوی صاحب جھوٹے ہیں بدعقیدہ ہیں اسے علمِ دین سے بلکہ خود دین سے بھی مس نہیں اس کا وعظ ہرگز نہ سنو؛ بلکہ اگر بس ہوتو وعظ کہنے بھی نہ دو، نہ اس کے پیچھے جمعہ جماعت پڑھو"

ان حضرات کے اخبار محمدی کی ایک سُرخی ملاحظہ ہو 

"روپڑ کا خوفناک بھیڑیا"۔

(اخبار محمدی، دہلی، یکم جون سنہ۱۹۳۹ء)

رسائل اہلحدیث (۱/۵۶۹) پر  غرباء اہلحدیث کے متعلق لکھا ہے: 

”غرباء اہلحدیث ایک باغی جماعت ہے جسکا جماعت اہلحدیث سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ پوری جماعت مع امام کے واجب القتل ہے۔ “

مولانا ثناء اللہ امرتسری کی خدمات اہلِ حدیث پران کے ہمنوا علماء انہیں سردارِ اہلِ حدیث کہتے تھے، مولانا عبداللہ روپڑی کوان کی یہ حیثیت پسند نہ تھی، آپ نے مولانا ثناء اللہ صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا:

”ٹھیلے تلے کتا چل رہا تھا وہ سمجھا کہ ٹھیلے کو میں کھینچ رہا ہوں تمہاری مثال یہ ہے“

(ثنائی نزاع، تالیف:عبداللہ روپڑی صاحب)

تحریر طویل ہو گئی، ورنہ اس دست و گریباں گروہ پر تو پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو دن رات یہ شور مچاتے ہیں کہ

 ”ائمہ مجتہدین نے اختلافات پیدا کیے، دین کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا“

اور دعویٰ کرتے ہیں کہ 

”ہم نے مسائل کو قرآن و حدیث کی طرف لوٹایا ہے“

مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے کچھ لوٹایا نہیں، بلکہ اختلاف و انتشار کی نئی داستان رقم کر دی ہے۔آپ نے اوپر صرف ایک جھلک ملاحظہ کی۔انکو سلفی نہیں مخالفی کہیں تو بجا ہوگا اسلاف نے مفتی/مجتہد بننے کے لئے کتنی کڑی شرائط رکھی تھیں جبکہ انکا ہر ایرا غیرا آج مجتہد ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ:

جس فرقہ کے "مجدد، محدث، شیخ الاسلام" اور دیگر اکابر ہی باہمی رسہ کشی، طعن و تشنیع اور تکفیر میں مبتلا ہوں، اور انکی علمی صلاحیت کا یہ معیار ہو کے خود انکے معاصرین انکی تفاسیر کا رد کرتے ہوں اس فرقہ کی عوام جب سوشل میڈیا پر ”تحقیق“ کے نعرے لگاتی اور ”تقلید“ کو شرک و بدعت قرار دیتی ہے، تو ان کے حال پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ایسے موقع پر بےاختیار بٹالوی صاحب کا قول یاد آتا ہے، جنہوں نے کیا خوب فرمایا:

 "اس زمانے کے اہلِ حدیث اکثر علم سے عاری ہیں۔"

 (اشاعۃ السنہ، ج ۹، ص ۳۱۹)

اور عبداللہ بہاولپوری صاحب نے بھی خوب لکھا کہ 

”ہم نام کے اہلحدیث ہیں کام کے نہیں۔“

 (رسائل بہاولپوری ۵۸۰)


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...