کیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مجالس درودِ پاک سے خالی ہوتی تھیں؟ آج کل بعض کم فہم اور متعصب حلقوں کی جانب سے چند ایسی روایات پیش کر کے عامۃ الناس کو مغالطے میں ڈالنے کی ناپاک جسارت کی جاتی ہے، جن کا مقصد یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ امامِ اعظم رحمہ اللہ کی مجالسِ علم (معاذ اللہ) ذکرِ رسول ﷺ اور درود و سلام سے خالی ہوا کرتی تھیں۔ پہلی روایت: امام ابو حنیفہ کی مجلس کے بارے میں قناد کا قول حاسدین کی طرف سے پیش کی جانے والی پہلی روایت درج ذیل ہے: أخبرني أبو نصر أحمد بن الحسين القاضي - بالدينور - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن إسحاق السني الحافظ قال: حدثني عبد الله بن محمد بن جعفر ، حدثنا هارون بن إسحاق سمعت محمد بن عبد الوهاب القناد يقول: حضرت مجلس أبي حنيفة، فرأيت مجلس لغو، ولا وقار فيه، وحضرت مجلي سفيان الثوري، فكان الوقار والسكينة والعلم فيه، فلزمته. ترجمہ: "محمد بن عبدالوہاب القناد کہتے ہیں کہ میں نے ابو حنیفہ کی مجلس میں حاضری دی، تو میں نے اسے ایک لغو مجلس پایا جس میں کوئی وقار نہ تھا۔ اور میں سفیان ثوری کی مجلس میں حاضر ہوا، تو وہاں وقار، سکینہ اور علم موجود تھا، چن...
اعتراض نمبر ۲۰: يكره تقديم ...... والأعمى (هدايه يوسفي جلد اول ص ۱۱۰ باب الإمامة) یعنی اندھے شخص کو امام بنانا مکروہ ہے۔ (درایت محمدی ص ۹۴، ہدایت محمدی ص ۷) جواب: ہدایہ شریف میں اس کی وجہ لکھی ہے کہ وہ نابینائی کے باعث کپڑوں کو نجاست سے نہیں بچا سکتا، لیکن در مختار میں تصریح ہے کہ اگر نابینا قوم میں زیادہ علم والا ہو تو مکروہ نہیں ہے۔ اسی طرح مراقی الفلاح میں ہے: وإن لم يوجد أفضل منه فلا كراهة اگر اندھے سے افضل کوئی نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز مکروہ نہیں۔ بتائیے! اس مسئلہ میں کیا اعتراض ہے؟ ------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب "ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق" سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔ پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز