امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قرآن کو مخلوق کہنا ثابت نہیں امام ابو حنیفہؒ پر ایک نہایت سنگین اعتراض یہ وارد کیا جاتا ہے کہ آپؒ قرآنِ کریم کے مخلوق ہونے کے قائل تھے۔ تاہم کتبِ رجال و روایات کے تتبع اور منقولہ آثار کی تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ یہ نسبت امام صاحبؒ سے بسندِ صحیح و صریح ثابت نہیں۔ یہاں ایک نہایت اہم اصولی وضاحت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ قرآنِ کریم کو مخلوق کہنا ائمۂ اہلِ سنت کے نزدیک قولِ کفر ہے، اور کسی مسلمان، بالخصوص کسی جلیل القدر امام کی طرف ایسے قول کی نسبت کرنا کوئی معمولی امر نہیں، بلکہ نہایت سنگین دعویٰ ہے۔ لہٰذا ایسی نسبت کے اثبات کے لیے محض کسی راوی کا یہ کہنا کہ امام صاحبؒ اس قول کے قائل تھے، یا کسی غیر واضح نقل میں اس قول کو آپؒ کی طرف منسوب کر دینا کافی نہیں؛ بلکہ اس کے لیے ثبوتِ نسبت، صحتِ سند اور صراحتِ دلالت تینوں امور کا لحاظ ناگزیر ہے۔ چنانچہ جب اس باب میں منقول روایات کا اصولِ حدیث کے مطابق جائزہ لیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو امام ابو حنیفہؒ کا اپنی زبانِ مبارک سے قرآن کو مخلوق کہنا صحیح اور صریح سند سے ثابت ہے، اور نہ ہی ایسی کوئی معتبر روایت موجود ہے...
امام ابو حنیفہؒ کی حکایتِ چاندی کا مدہن: ایک تحقیقی و الزامی جائزہ قَالَ أَبُو يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عبد الله مُحَمَّدُ بْنُ حِزَامٍ الْفَقِيهُ قَالَ نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ نَا شَدَّادُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ نَا زُفَرُ بْنُ الْهُذَيْلِ قَالَ اجْتَمَعَ أَبُو حَنِيفَةَ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْعُلَمَاءِ فِي وَلِيمَةٍ لِقَوْمٍ فَأَتَوْهُمْ بِطِيبٍ فِي مُدْهُنِ فِضَّةٍ فَأَبُوا أَنْ يَسْتَعْمِلُوهُ لِحَالِ الْمُدْهُنِ فَأَخَذَهُ أَبُو حَنِيفَةَ وَسَلَتَهُ بِإِصْبَعِهِ وَجَعَلَهُ فِي كَفِّهِ ثُمَّ تَطَيَّبَ بِهِ وَقَالَ لَهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أُتِيَ بِخَبِيصٍ فِي جَامِ فِضَّةٍ فَقَلَبَهُ عَلَى رَغِيفٍ ثُمَّ أَكَلَهُ فَتَعَجَّبُوا مِنْ فِطْنَتِهِ وَعَقْلِهِ ابو یعقوب نے کہا: ہمیں ابو عبداللہ محمد بن حزام فقیہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالصمد بن الفضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں شداد بن حکیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں زفر بن ہذیل نے بیان کیا۔ زفر بن ہذیل کہتے ہیں: ابو حنیفہ، ابن ابی لیلیٰ اور ع...