امام ابو حنیفہؒ کی فقاہت کا لیث بن سعدؒ اور ابن شبرمہؒ کی زبان سے اعتراف امام ابو حنیفہؒ کی فقہی بصیرت، دقتِ نظر اور مقامِ امامت کا اعتراف صرف آپؒ کے تلامذہ، اصحاب اور متعلقین ہی کی جانب سے منقول نہیں، بلکہ ایسے اجلۂ اہلِ علم کے کلمات بھی منقول ہیں جن کے دل میں ابتدا میں امام صاحبؒ کے بارے میں سخت رائے پائی جاتی تھی؛ مگر جب انہیں آپؒ کی فقاہت اور قوتِ استنباط کا مشاہدہ ہوا تو وہ اپنے سابق تأثر سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئے۔ چنانچہ مشہور محدث لیث بن سعدؒ کا واقعہ نہایت قابلِ غور ہے۔ : نا حكم بن منذر قال نا أبو يعقوب يوسف بن أحمد قال نا أبو علي أحمد بن عثمان الحافظ الأصبهاني قال نا محمد بن العباس قال نا يحيى بن عبد الله بن بكير قال سمعت الليث بن سعد يقول كنت أسمع بذكر أبي حنيفة وأتمنى أن أراه فكنت يوما في المسجد الحرام فرأيت حلقة عليها الناس منقصفين فأقبلت نحوها فرأيت رجلا من أهل خراسان أتى أبا حنيفة فقال أني رجل من أهل خراسان كثير المال وإن لي ابنا ليس بالمحمود وليس لي ولد غيره فذكر نحوه سواء وزاد قال الليث فوالله ما أعجبني قوله بأكثر مما أعجبني سرعة جوابه (الانتقاء لابن عبد ال...
امام ابو یوسفؒ کی علمی عظمت، فقہی بصیرت اور اصحابِ حدیث و اصحابِ رائے کے درمیان ان کا مقام امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم رحمہ اللہ فقہِ حنفی کے وہ جلیل القدر امام ہیں جنہوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علمی منہج کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اپنی غیر معمولی فقہی بصیرت، وسعتِ نظر اور علمی استقلال کے ذریعے اسے عملی میدان میں بھی نمایاں فرمایا۔ زیرِ نظر روایت میں ان کی شخصیت کا ایک نہایت روشن پہلو سامنے آتا ہے کہ وہ اصحابِ رائے اور اصحابِ حدیث دونوں کو اپنے علمی دائرے کا حصہ سمجھتے تھے، کسی ایک طبقے کو محض تعصب کی بنیاد پر دوسرے پر ترجیح نہ دیتے تھے، بلکہ علمی معیار اور درست جواب کو اصل معیار قرار دیتے تھے۔ یہ واقعہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی فقہی مہارت کے ساتھ ان کے اخلاق، وسعتِ ظرف، علمی انصاف اور اپنے اساتذہ و اکابر کے احترام کی بھی بہترین تصویر پیش کرتا ہے۔ روایت : حدثنا أبي قال: ثنا أبي قال: حدثني أحمد بن محمد بن سلامة قال: سمعت بكار بن قتيبة القاضي يقول: سمعت أبا الوليد الطيالسي يقول: لما قدم أبو يوسف البصرة حاجا مع هارون الرشيد اجتمع أصحاب الرأي وأصحاب الحديث على بابه فطل...