نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

Featured post

امام ابو زرعہ رازی کی غیر مفسر جرح اور قاضی القضاة امام ابو یوسف کی ثقاہت

امام ابو زرعہ رازی کی غیر مفسر جرح اور قاضی القضاة امام ابو یوسف کی ثقاہت امام ابو زرعہ رازی کی کتاب "اسامی الضعفاء" (ترجمہ رقم 382) میں فقہ حنفی کے اساطین میں سے ایک عظیم ستون، امام اعظم کے جلیل القدر شاگرد اور قاضی القضاة امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بارے میں جو کلام نقل کیا گیا ہے: الذي كان على القضاء، يعني صاحب أبي حنيفة. [أسامي الضعفاء لأبي زرعة الرازي (ترجمة رقم ٣٨٢)].  مذکورہ بالا کلام ایک غیر مفسر جرح (ایسی تنقید جس کی وجہ بیان نہ کی گئی ہو) کی حیثیت رکھتا ہے ، اور ایسی غیر مفسر جرح قبول نہیں کی جاتی۔ حیرت بالائے حیرت یہ ہے کہ ہمارے دور کے وہ احباب جو خود کو اہلحدیث (غیر مقلدین) کہتے ہیں، وہ فقہ حنفی کے ائمہ پر طعن کرنے کے لیے تو ایسے مبہم اقوال کا سہارا لیتے ہیں، مگر خود ان کے اپنے مسلمہ محققین اور شیوخ کے قلم سے اس اصول کی جو تصدیق ہوئی ہے، وہ ان کے اس رویے کا منہ چڑاتی ہے۔ انصاف پسند طبقے کے لیے خود انھی کے گھر کی گواہی پیشِ خدمت ہے: غیر مقلد اہلحدیثوں کے محقق زبیر علی زئی لکھتا ہے : " صرف ضعیف یا متروک یا منکر الحدیث کہہ دینا جرح مفسر نہیں ہے۔ " ( رکعتِ ...
حالیہ پوسٹس

مسنون ثناء -

  مسنون ثناء   سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ. ت رجمہ : اے اللہ ! ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں اور تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرا نام بہت برکت والا ہے اور تیری بزرگی برتر ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ [صحیح مسلم کتاب الصلاة باب حجة من قال لا يجهر بالبسملة حديث : 399 سنن ابو داؤد حدیث : 776 ، مسند الدار می کتاب الصلاة باب ما يقال بعد افتتاح الصلاة حديث : 1275 اسناده جید محقق : حسین اسد جمہور کا موقف  جمہور علماء کرام کے نزدیک استفتاح صلاۃ (نماز کے آغاز ) کے موقع پر یہی دعا آہستہ پڑھنا مختار و  مسنون ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منقول ہے کہ آپ علیہ السلام سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ یعنی ثناء پڑھتے تھے اسی طرح حضرت عمر بن خطاب رض اور حضرت ابن مسعود رض سے بھی مروی ہے، اور تابعین و غیر تابعین میں سے اکثر اہل علم کا  اسی پر عمل ہے۔ [ سنن ترمذی تحت حدیث : 242] عرب عالم شیخ محمد نعیم ساعی کہتے ہیں جمہور اہل علم کے نزدیک دعائے افتتاح صلاۃ میں ثناء ...

قاضی القضاة امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر حدیث «كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ» میں تفرّد و خطا کا اعتراض

قاضی القضاة امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر حدیث «كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ» میں تفرّد و خطا  کا اعتراض  امام ابو یعلیٰ الخلیلی نے اپنی تصنیف ’الإرشاد في معرفة علماء الحديث‘ (٢/‏٥٦٩) میں جو کلام نقل کیا ہے، اس کا متن درج ذیل ہے:   أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاضِي الْأَنْصَارِيُّ صَدُوقٌ فِي الْحَدِيثِ وَمَحِلُّهُ فِي الْفِقْهِ كَبِيرٌ سَمِعَ الْأَعْمَشَ وَأَقْرَانَهُ مِنْ أَشْيَاخِ الْکُوفَةِ وَيَرْوِي عَنِ الضُّعَفَاءِ وَيُخْطِئُ فِي أَحَادِيثَ. قَالَ ابْنُ خُزَيْمَةَ: لَيْسَ الْحَدِيثُ مِنْ صِنَاعَتِهِ۔ ١٧٣ - وَأَخْطَأَ فِي حَدِيثٍ رَوَاهُ عَنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ «كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ» وَإِنَّمَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ التَّيْمِيُّ عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ۔ وَالْحَدِيثُ مُخَرَّجُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ وَغَيْرِهِ...

اعتراض نمبر ۵۰: جو نشہ لانے والی مباح چیزیں ہیں ان کے استعمال سے اگر نشہ آئے تو حد نہیں جیسے بھنگ کا پینا۔

  اعتراض نمبر ۵۰: لا السكر من المباح لا يوجب الحد كالبنج. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥٠٦ باب حد الشرب) یعنی جو نشہ لانے والی مباح چیزیں ہیں ان کے استعمال سے اگر نشہ آئے تو حد نہیں جیسے بھنگ کا پینا۔ (ہدایت محمدی ص ۱۰، درایت محمدی ص ۱۰۰) جواب: حنفیہ کا فتویٰ ہدایہ کے اس مسئلہ پر نہیں ہے۔ (۱) چنانچہ رد المحتار شرح در مختار المعروف بہ فتاویٰ شامی میں لکھا ہے کہ: في متن البزدوي أنه يحد بالسكر من البنج في زماننا على المفتى به. (فتاویٰ شامی جلد ۴، ص ۴۲) متن بزدوی میں ہے کہ اگر بھنگ سے نشہ آئے تو ہمارے زمانے میں اس پر حد ہوگی اور یہ مفتیٰ بہی قول ہے۔ (۲) شارح ہدایہ علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں: ورواية عبد العزيز عن أبي حنيفة وسفيان أنهما سئلا فيمن شرب البنج فارتفع إلى رأسه وطلق امرأته هل يقع؟ قال: إن كان يعلمه حين شربه ما هو يقع. (فتح القدير شرح الهداية ج ۵ ص ۱۸۲) عبد العزیز نے بیان کیا ہے کہ امام ابو حنیفہ اور سفیان سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص بھنگ کے نشہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے تو کیا اس کی طلاق واقع ہو جائے گی؟ ابو حنیفہ اور سفیان نے کہا اگر بھنگ پیتے وقت اس کو بھنگ کا علم تھا تو اس کی طلاق...

اعتراض نمبر ۴۹: شرابی نے شراب پی۔ جب اس کے منہ کی بدبو چلی گئی تو اگرچہ گواہ گواہی دیں، تاہم حد نہیں لگائی جائے گی۔

  اعتراض نمبر ۴۹: كذلك إذا شهدوا عليه بعد ما ذهب ريحها عند أبي حنيفة وأبي يوسف. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥٠٥ باب حد الشرب) یعنی شرابی نے شراب پی۔ جب اس کے منہ کی بدبو چلی گئی تو اگرچہ گواہ گواہی دیں، تاہم حد نہیں لگائی جائے گی۔ (درایت محمدی ص ۹۹، ۱۰۰، ہدایت محمدی ص ۱۰) جواب: اس میں بھی امام محمد کا قول ہدایہ شریف میں مرقوم ہے کہ حد لگائی جائے۔ حاصل یہ ہے کہ تقادم قبولِ شہادت کا مانع ہے كما مر۔ یعنی گواہوں کا پہلے خاموش رہنا پھر دیر کے بعد شہادت دینا اس بات کی تہمت پیدا کر دیتا ہے کہ شاید ان کو کسی عداوت نے ادائے شہادت پر برانگیختہ کیا، اور متہم کی شہادت معتبر نہیں۔ اور اس دیر کی ابتدا امام محمد کے نزدیک ایک مہینہ ہے، امام اعظم و امام ابو یوسف کے نزدیک بو کے زائل ہونے تک ہے۔ یعنی بو کے زائل ہونے تک بلا عذر گواہوں کا ادائے شہادت سے خاموش رہنا تہمت پیدا کر دیتا ہے، اس لیے ان کی گواہی قبول نہ ہوگی، نہ حد لگے گی۔ ہدایہ شریف میں اس مسئلہ کی دلیل میں قولِ ابن مسعودؓ نقل کیا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: وجدتم رائحة الخمر فاجلدوه. اگر تم شراب کی بو پاؤ تو حد لگاؤ۔ واللہ اعلم --------------------------...

اعتراض نمبر ۴۸: ایک شرابی نے اپنے شراب پینے کا اقرار کیا لیکن اس وقت اس کے منہ کی شراب کی بدبو چلی گئی تو باوجود اس کے اقرار کے اسے حد نہیں لگے گی۔

  اعتراض نمبر ۴۸: إن أقر بعد ذهاب رائحتها لم يحد عند أبي حنيفة وأبي يوسف. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥٢٩ باب حد الشرب) یعنی ایک شرابی نے اپنے شراب پینے کا اقرار کیا لیکن اس وقت اس کے منہ کی شراب کی بدبو چلی گئی تو باوجود اس کے اقرار کے اسے حد نہیں لگے گی۔ جواب: (درایت محمدی ص ۹۹، ہدایت محمدی ص ۱۰) ہدایہ شریف کی اس عبارت کے آگے امام محمد کا قول لکھا ہے: وقال محمد يحد. ابن الہمام نے فتح القدیر میں اس کو صحیح لکھا۔ چنانچہ فرمایا: فقول محمد هو الصحيح. (ج ۲ ص ۶۱۸) اور غایۃ البیان میں قولِ محمد کو ترجیح دی گئی ہے۔ بحر الرائق میں بھی قولِ محمد کو "أدفع من جهة المعنى" کہا گیا ہے۔ فقہاء نے قولِ امام محمد کو صحیح فرمایا، پھر کیا اعتراض؟ امام محمد دیگر تلامذۂ امام اعظم رحمہ اللہ کے جملہ اقوال امام اعظم رحمہ اللہ کے ہی اقوال ہیں۔ صرح به الشعراني في ميزانه والشامي في تصانيفه. ----------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب "ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق" سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب د...

اعتراض نمبر ۴۷ : ایک زانی کے زنا پر چار گواہ ہیں۔ دو تو کہتے ہیں کہ وہ عورت راضی نہ تھی، دو کہتے ہیں وہ بھی راضی تھی، تو نہ عورت کو حد لگائی جائے گی نہ مرد کو۔ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ یہی ہے اور ان کے شاگرد امام زفر بھی ان کے ساتھ ہیں

  اعتراض نمبر ۴۷ إن شهد اثنان أنه زنى بفلانة فاستكرهها وآخران أنها طاوعته درئ الحد عنهما جميعا عند أبي حنيفة وهو قول زفر. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥٠٠ باب الشهادة على الزنا) یعنی ایک زانی کے زنا پر چار گواہ ہیں۔ دو تو کہتے ہیں کہ وہ عورت راضی نہ تھی، دو کہتے ہیں وہ بھی راضی تھی، تو نہ عورت کو حد لگائی جائے گی نہ مرد کو۔ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ یہی ہے اور ان کے شاگرد امام زفر بھی ان کے ساتھ ہیں۔ (درایت محمدی ص ۹۹، ہدایت محمدی ص ۱۰) جواب: نہ صرف امام زفر ہی ان کے ساتھ ہیں بلکہ امام مالک، امام شافعی، امام احمد رحمہم اللہ تعالیٰ بھی ان کے ساتھ ہیں۔ دیکھو فتح القدیر نولکشور ج ۲ ص ۶۰۷۔ میں کہتا ہوں مولوی وحید الزمان مترجم صحاحِ ستہ بھی ان کے ہی ساتھ ہیں۔ چنانچہ وہ نزل الابرار جلد دوم کے صفحہ ۳۹۹ میں لکھتے ہیں: ولو شهد اثنان منهم على أنه زنا بها وهي مكرهة فلا حد على واحد منهما. ترمذی شریف میں ہے: قال عليه السلام: ادرؤوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم، فإن كان له مخرج فخلوا سبيله، فإن الإمام أن يخطئ في العفو خير من أن يخطئ في العقوبة. ایک دوسری حدیث میں آیا ہے: ادرؤوا الحدود بالشبهات. تو اس مسئ...

اعتراض نمبر ۴۶ : اگر گواہوں نے گواہی زنا کی دی لیکن اس عورت کو وہ پہچانتے نہ تھے تو اسے حد نہ لگائی جائے اگرچہ مرد کو پہچانتے بھی ہوں۔

  اعتراض نمبر ۴۶ إن شهدوا أنه زنى بامرأة لا يعرفونها لا يحد. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥٠٠ باب الشهادة على الزنا) یعنی اگر گواہوں نے گواہی زنا کی دی لیکن اس عورت کو وہ پہچانتے نہ تھے تو اسے حد نہ لگائی جائے اگرچہ مرد کو پہچانتے بھی ہوں۔ جواب: (درایت محمدی، ص ۹۹، ہدایت محمدی ص ۱۰) ہدایہ میں اس کی نہایت معقول وجہ لکھی ہے۔ افسوس کہ معترض کو نظر نہ آیا۔ لکھا ہے: لاحتمال أنها امرأته أو أمته بل هو الظاهر. ممکن ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی یا لونڈی ہو، بلکہ ظاہر یہی ہے۔ کیونکہ مسلمان کا ظاہر حال یہی ہے کہ وہ زنا کار نہیں۔ گواہوں کے لیے لازم تھا کہ وہ عورت کی پہچان رکھتے، بعد میں گواہی دیتے۔ جب وہ عورت کو پہچانتے ہی نہیں تو ان کی گواہی غیر معتبر اور مجہول قرار دی جائے گی۔ ----------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب "ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق" سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔ پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

اعتراض نمبر ۴۵: کسی چور کی چوری، شرابی کی شراب خوری، زانی کی زنا کاری کی گواہوں نے وقوعہ کے کچھ دنوں بعد گواہی دی تو اس مجرم کو نہ پکڑا جائے نہ حد ماری جائے۔

  اعتراض نمبر ۴۵: إن شهد عليه الشهود بسرقة أو بشرب خمر أو بزنا بعد حين لم يؤخذ به. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٤٩٩ باب الشهادة على الزنا) یعنی کسی چور کی چوری، شرابی کی شراب خوری، زانی کی زنا کاری کی گواہوں نے وقوعہ کے کچھ دنوں بعد گواہی دی تو اس مجرم کو نہ پکڑا جائے نہ حد ماری جائے۔ (کچھ دنوں بعد سے مراد ایک ماہ بعد ہے۔ ملاحظہ ہو اس سے اگلا صفحہ) (درایت محمدی ص ۹۹، ہدایت محمدی ص ۱۰) جواب: چوری، شراب نوشی یا زنا کاری کا دیکھنے والا اگر شہادت نہ دے اور پردہ ڈال دے تو وہ ثواب کا مستحق ہے۔ چنانچہ حضور علیہ السلام کا ارشادِ گرامی ہے: من ستر على مسلم ستره الله في الدنيا والآخرة. جو شخص مسلمان کے (گناہ) پر پردہ ڈالے تو اللہ اس پر دنیا اور آخرت میں پردہ ڈالے گا۔ اور اگر یہ سوچ کر گواہی دے کہ مجرم کو سزا ملنی چاہیے تاکہ معاشرہ میں نظم و ضبط اور سکون قائم رہے تو یہ بھی باعثِ ثواب ہے۔ اگر گواہوں نے بروقت گواہی نہ دی اور عرصہ گزر جانے کے بعد گواہی دی تو دیکھا جائے گا کہ اتنا عرصہ خاموشی کی وجہ کیا تھی؟ اگر کوئی عذر ہو مثلاً بیماری کے سبب یا کسی حسی اور معنوی عذر کے باعث شہادت نہ دے سکے تھے تو ان کی ...

اعتراض نمبر ۴۴: خود مختار آزاد بادشاہ جو کچھ برا کام کرے (مثلاً چوری، زنا کاری، شراب خوری وغیرہ) اس پر کوئی حد نہیں۔ ہاں اگر کسی کو قتل کر ڈالے تو قصاص ہے۔

  اعتراض نمبر ۴۴: كل شيء صنعه الإمام الذي ليس فوقه إمام فلا حد عليه إلا القصاص. (هدايه يوسفي جلد ۳ ص ٤٩٨ باب الوطء الذي يوجب الحد) یعنی خود مختار آزاد بادشاہ جو کچھ برا کام کرے (مثلاً چوری، زنا کاری، شراب خوری وغیرہ) اس پر کوئی حد نہیں۔ ہاں اگر کسی کو قتل کر ڈالے تو قصاص ہے۔ (درایت محمدی، ص ۹۸، ۹۹، ہدایت محمدی ص ۱۰) جواب: چونکہ قصاص حقوق العباد میں سے ہے اور اس کا مدعی صاحبِ حق ہے، اس لیے صاحبِ حق کے طلب کرنے پر قصاص لیا جائے گا۔ لیکن حدود حقوق اللہ میں سے ہیں اور حدود کا اجراء و اقامت بادشاہ سے متعلق ہے۔ جب بادشاہ ایسا ہو کہ اس کے اوپر کوئی بادشاہ نہ ہو تو وہ اپنے آپ پر اقامتِ حدود نہیں کر سکتا۔ ہاں! اگر اس پر بھی بادشاہ ہو تو وہ اپنے ماتحت بادشاہ پر حدود قائم کر سکتا ہے۔ اور یہی دلیل صاحب ہدایہ نے لکھی ہے۔ واللہ اعلم ----------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب "ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق" سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔ پیشکش: النعمان...

اعتراض: ایک شخص نے خواب میں امام ابو یوسفؒ کو دیکھا کہ ان کی گردن میں صلیب لٹکی ہوئی تھی

  اعتراض: ایک شخص نے خواب میں امام ابو یوسفؒ کو دیکھا کہ ان کی گردن میں صلیب لٹکی ہوئی تھی خواب کی روایت  حدثني أبو سليمان محمد بن سليم المروزي قال حدثني أبو الدرداء محمد بن عبد العزيز بن منيب قال سمعت محمد بن بشر بن العبدي قال حدثني أخي قال رأيت أبا يوسف في المنام وعلى عنقه صليب قلت من أعطاك هذا قال يحيى اليهودي. "مجھ سے ابو سلیمان محمد بن سلیم المروزی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابو الدرداء محمد بن عبدالعزیز بن منیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن بشر بن العبدی سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا کہ: میں نے خواب میں ابو یوسف (امام ابو یوسف، جو امام ابو حنیفہ کے مشہور شاگرد اور قاضی تھے) کو دیکھا اور ان کی گردن میں صلیب لٹکی ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ آپ کو کس نے دی؟ انہوں نے کہا: یحییٰ یہودی نے (كتاب الضعفاء الكبير للعقيلي 4/443) جواب یہ روایت بھی مردود اور ناقابلِ احتجاج ہے۔ پہلی علت: ابو سلیمان محمد بن سلیم المروزی مجہول ہیں اس روایت میں امام عقیلی کے شیخ ابو سلیمان محمد بن سلیم المروزی ہیں، لیکن کتبِ رجال میں ان کا واضح تعارف اور ...

امام ابو یوسفؒ پر "جہمی" ہونے کے الزام کا تحقیقی جائزہ

  امام ابو یوسفؒ پر "جہمی" ہونے کے الزام کا تحقیقی جائزہ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ النُّهَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَكِيمٍ الْقُرَشِيُّ، وَكَانَ يُجَالِسُ أَحْمَدَ وَيَحْيَى وَأَصْحَابَنَا سِنِينَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَدْ أَشْهَدَ عَلَى أَبِي يُوسُفَ أَنَّهُ جَهْمِيٌّ. (كتاب الضعفاء الكبير للعقيلي 4/443) جواب یہ روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر حجت نہیں بن سکتی، کیونکہ اس کی بنیاد ہی ایک مجہول شخص کی خبر پر قائم ہے۔ روایت میں بقیہ بن الولید کہتے ہیں: "أخبرني رجل من أهل العلم" یعنی "مجھے اہلِ علم میں سے ایک شخص نے خبر دی"۔ مگر یہ شخص کون تھا؟ اس کا نام کیا تھا؟ اس کا ضبط، عدالت اور ثقاہت کیا تھی؟ اس کے بارے میں کوئی تفصیل موجود نہیں۔ مزید برآں، متعدد صحیح اور ثابت روایات سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی طرف سے جہمیہ کی تردید منقول ہے، جس سے یہ الزام خود بخود باطل ہو جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو: (تاریخ بغداد، ت بشار 15/514) جب ایک شخص سے جہمیہ ...

امام ابو یوسفؒ پرسفیان بن عیینہ سے حدیث "چوری" کرنے کے الزام کا تحقیقی جائزہ

امام ابو یوسفؒ پر سفیان بن عیینہ سے  حدیث "چوری" کرنے کے الزام کا تحقیقی جائزہ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَأْتِي عَرَفَةَ بِسَحَرٍ، قَالَ ابْنُ الطَّبَّاعِ: قَالَ سُفْيَانُ: مَكَثَ أَبُو يُوسُفَ يَسْأَلُنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مُدَّةً، فَلَا أُرَاهُ أَهْلًا أَنْ أُحَدِّثُهُ بِهِ، حَتَّى كُنَّا عِنْدَ هَارُونَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو يُوسُفَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ عِنْدَهُ حَدِيثًا حَسَنًا فَسَلْهُ عَنْهُ، فَسَأَلَنِي عَنْهُ فَحَدَّثْتُهُ بِهِ فَسَرَقَهُ. ہم سے احمد بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسن بن علی الحلوانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عیسیٰ الطباع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا کہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما صبح کے آخری وقت (سحر کے وقت) عرفات آیا کرتے تھے۔ابن الطباع (محمد بن عیسیٰ) نے کہا کہ سفیان ...

اعتراض نمبر ۴۳ : اگر کوئی عورت اپنی خوشی اور رضامندی سے کسی بے وقوف یا بچے کے ساتھ زنا کرائے تو اس عورت پر کوئی حد نہیں، نہ اس بیوقوف اور بچے پر کوئی حد ہے۔

  اعتراض نمبر ۴۳ إذا زنى الصبي أو المجنون بامرأة طاوعته فلا حد عليه ولا عليها. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٤٩٧ باب الوطء الذي يوجب الحد) یعنی اگر کوئی عورت اپنی خوشی اور رضامندی سے کسی بے وقوف یا بچے کے ساتھ زنا کرائے تو اس عورت پر کوئی حد نہیں، نہ اس بیوقوف اور بچے پر کوئی حد ہے۔ (درایت محمدی ص ۱۹۸، ہدایت محمدی ص ۱۰) جواب: نابالغ اور دیوانے پر سقوطِ حد ظاہر ہے کہ دونوں مکلف نہیں۔ رہی بات عورت کی تو اس پر حد اس لیے نہ ہوگی کہ زنا فعلِ مرد کا ہے، عورت محلِّ فعل ہے۔ اسی لیے مرد کو واطی، زانی کہتے ہیں اور عورت موطوءہ، مزنیٌّ بها، البتہ مجازاً عورت کو بھی زانیہ کہہ لیتے ہیں۔ زنا اس شخص کے فعل کو کہتے ہیں جو فعل سے بچنے کا مخاطب ہو اور کرنے سے عاصی، اور وہ عاقل بالغ ہوگا نہ دیوانہ اور نابالغ کیونکہ یہ دونوں احکامِ شرعیہ کے مکلف نہیں۔ عورت اگرچہ فعلِ زنا کا محل ہے لیکن اس کو حد اس وقت ہوگی جب وہ زنا کرنے پر ایسے مرد کو موقع دے جو اس سے بچنے کا مخاطب ہو اور کرنے پر آثم۔ صورتِ مذکورہ میں عورت نے جس لڑکے یا دیوانہ کو زنا کا موقع دیا ہے وہ نہ عاقل ہے نہ بالغ، اس لیے عورت پر بھی حد نہیں۔ صاحب ہدایہ ...