امام سفیان ثوریؒ اور امام اوزاعیؒ سے منقول امام ابو حنیفہؒ پر جرح: "منحوس" قرار دینے والی روایات کا تحقیقی جائزہ امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں بعض کتبِ تاریخ و رجال میں امام اوزاعیؒ اور امام سفیان ثوریؒ کی طرف نہایت سخت اور شدید الفاظ منسوب کیے گئے ہیں۔ ان میں بعض روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے اسلام کے "کڑے" ایک ایک کر کے توڑ دیے، بعض میں انہیں اہلِ اسلام کے لیے "سب سے منحوس" یا "سب سے زیادہ نقصان دہ" قرار دیا گیا، اور بعض روایات میں امام اوزاعیؒ اور امام سفیان ثوریؒ دونوں کی طرف اس نوعیت کے اقوال منسوب کیے گئے ہیں۔ ان اقوال کو بعض اہلِ قلم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے خلاف بطورِ جرح پیش کرتے ہیں اور ان سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اکابر ائمۂ سلف کے نزدیک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی شخصیت ناقابلِ اعتماد اور اسلام کے لیے مضر تھی۔ پہلی روایت: امام اوزاعیؒ کا قول خطیب بغدادی نے نقل کیا ہے: «أخبرنا ابن رزق البرقاني قالا: أخبرنا محمد بن جعفر بن الهيثم الأنباري، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا رجاء بن السندي قال: سمعت سل...
اعتراض نمبر ۷۵ : اگر ذمی کافر جزیہ ادا کرنے سے انکار کر دے یا کسی مسلمان کو قتل کر ڈالے یا نبی علیہ السلام کو گالیاں دے یا کسی مسلمان عورت سے زنا کرے پھر بھی اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا۔
اعتراض نمبر ۷۵ من امتنع من الجزية أو قتل مسلمًا أو سب النبي عليه السلام أو زنى بمسلمة لم ينقض عهده. (ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۷۵ فصل فيما ينافي الذمي) یعنی اگر ذمی کافر جزیہ ادا کرنے سے انکار کر دے یا کسی مسلمان کو قتل کر ڈالے یا نبی علیہ السلام کو گالیاں دے یا کسی مسلمان عورت سے زنا کرے پھر بھی اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا۔ جواب نمبر ۱: (درایت محمدی ص ۱۰۴، ہدایت محمدی ص ۱۲) شارح ہدایہ مولانا جمیل احمد صاحب اس کی شرح میں لکھتے ہیں: تشریح: وَمَنِ امْتَنَعَ مِنَ الْجِزْيَةِ ...... الخ ذکورہ باتوں سے ذمی کا معاہد ختم نہیں ہوگا اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اس سے معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہنے سے جس طرح ایک مسلمان کا ایمان ختم ہو جاتا ہے اسی طرح ذمی کا امان بھی ختم ہو جاتا ہے کیونکہ امان کا عہد، عہدِ ایمان کے قائم مقام ہوتا ہے۔ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہنا اس کی جانب سے کفر ہے، اور ذمی بنانے کے وقت جو کفر اس کے اندر لگا تھا وہ ذمی بننے کے لیے مانع نہیں ہوا تو یہ کفر جو بعد میں اس پر طاری ہوا ...