اعتراض: امام زکریا الساجی نے امام ابو یوسفؒ کے بارے میں کہا: “صاحب أبي حنيفة مذموم مرجئ” ۔ حدثنا يعقوب القمي. أخبرني البرقانيّ قال: حدثني محمّد بن أحمد بن محمّد الأدمي ، حدثنا محمّد بن علي الإيادي، حدثنا زكريّا الساجي قال: يعقوب بن إبراهيم أبو يوسف صاحب أبي حنيفة مذموم مرجئ. حدثني أبو داود سليمان بن الأشعث، حدثنا عبدة بن عبد الله الخراسانيّ قال: قال رجل لابن المبارك: أيما أصدق أبو يوسف أو محمّد؟ قال: لا تقل أيهما أصدق، قل أيهما أكذب. قيل لعبد الله بن المبارك: أيما؟ قال أبو يوسف: قال: ما ترضى أن تسميه حتى تكنيه؟ قل قال يعقوب. قال أبو داود: وسمعت المسيب بن واضح قال: قيل لابن المبارك مات أبو يوسف. فقال: الشقي يعقوب یعقوب القمی نے ہم سے روایت کیا۔ برقانی نے مجھے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھ سے محمد بن احمد بن محمد الادمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن علی الإیادی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے زکریا الساجی نے بیان کیا کہ: "یعقوب بن ابراہیم ابو یوسف، جو ابو حنیفہ کے شاگرد تھے، مذموم (قابلِ مذمت) مرجئ تھے۔" اور مجھ سے...
امام ابو یوسفؒ اور امام ابو حنیفہؒ پر ’’مرجئ‘‘ ہونے کا اعتراض : ایک علمی جائزہ اور مدلل جواب أخبرنا أبو القاسم عبد الله بن أحمد بن علي السوذرجاني- بأصبهان- أخبرنا أبو بكر بن المقرئ، حدثنا محمّد بن الحسن بن علي بن بحر، حدثنا أبو حفص عمرو بن علي قال: سمعت يحيى- يعني القطّان- وقال له جار له: حدثنا أبو يوسف عن أبي حنيفة عن جواب التّيميّ. فقال: مرجئ عن مرجئ عن مرجئ. امام یحییٰ بن سعید القطانؒ سے یہ منقول ہے کہ انہوں نے ایک موقع پر فرمایا: ’’مرجئ عن مرجئ عن مرجئ‘‘ ۔ بعض حضرات اس جملے کو بنیاد بنا کر امام اعظم امام ابو حنیفہؒ اور ان کے عظیم شاگرد امام ابو یوسفؒ پر طعن کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک منصف مزاج اور اصولِ حدیث سے واقف شخص کے نزدیک یہ اعتراض علمی وزن نہیں رکھتا۔ ذیل میں اس کا تفصیلی اور مدلل جواب پیش کیا جاتا ہے: پہلی بات: یہ اعتراض حدیث یا فقہ پر نہیں ہے سب سے پہلے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہاں نہ تو امام ابو یوسفؒ اور امام ابو حنیفہؒ کی عدالت پر کوئی جرح ہے، نہ ان کے حفظ و ضبط پر، نہ فقاہت پر...