دفاعِ امام ابو یوسف رحمہ اللہ: قاضی شریک کی جرح کا علمی محاکمہ اور حقیقتِ ارجاء امامِ اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے لائق و فائق اصحاب کی پوری زندگی اعتدال، حلم، علم و تقویٰ، فقہی بصیرت اور حق گوئی کا ایسا حسین سنگم ہیں جس کی نظیر تاریخِ اسلام میں کم ہی ملتی ہے۔ فقہِ حنفی کے ان جلیل القدر ائمہ نے دین کی جو خدمت کی، اس نے چودہ صدیوں سے امت کی رہنمائی کی ہے۔ تاہم، یہ ایک انسانی پہلو ہے کہ معاصرانہ چشمک یا فکری نزاعات کی بنا پر بعض اوقات جلیل القدر شخصیات کے درمیان سخت کلامی یا غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے متعلق پیش کی جاتی ہے جس کی حقیقت کو سمجھنا ایک طالبِ علمِ حق کے لیے نہایت ضروری ہے۔ روایت کا متن زیرِ بحث روایت میں آتا ہے: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ آدَمَ يَقُولُ: شَهِدَ أَبُو يُوسُفَ عِنْدَ شَرِيكٍ فَرَدَّ شَهَادَتَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: رَدَدْتَ شَهَادَةَ أَبِي يُوسُفَ؟، قَالَ: لَا، أَرُدُّ شَهَادَةَ مَنْ ي...
جوزجانی ناصبی کی ائمہ احناف رحمہم اللہ پر جرح کا علمی رد ابو اسحاق جوزجانی کا شمار ان نقادین میں ہوتا ہے جن کے قلم سے کوفہ کے ائمہ کے حق میں صرف زہر ہی نکلا ہے۔ اس نے اپنی کتاب "احوال الرجال" میں ائمہ احناف رحمہم اللہ کے متعلق جو یہ نازیبا کلمات کہے کہ «قد فرغ الله منهم» (اللہ ان سے فارغ ہو چکا ہے)، یہ جرح علمِ اسماء الرجال کے میزان پر قطعی مردود اور باطل ہے۔ ٩٦ - أسد بن عمرو ٩٧ - وأبو يوسف ٩٨ - ومحمد بن الحسن ٩٩ - واللؤلؤي قد فرغ الله منهم (أحوال الرجال ص ١٢٠ ، الكامل في ضعفاء الرجال ٢/٨٣) جواب : امام ابن حجر عسقلانیؒ نے صراحت فرمائی ہے کہ جوزجانی کا دل اہل کوفہ اور حبِ علیؓ رکھنے والوں کے خلاف بغض و عصبیت سے لبریز تھا، لہٰذا اس کی ایسی جرح ناقابلِ قبول ہے (لسان الميزان 1/16) ۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود اعتراض نمبر 20 : محمد بن جابر اليمامى نے کہا کہ ابو حنیفہ نے مجھ سے حماد کی کتابیں چوری کیں ۔ اعتراض نمبر 21 : ابو حنیفہ ج...