امام ابو زرعہ رازی کی غیر مفسر جرح اور قاضی القضاة امام ابو یوسف کی ثقاہت امام ابو زرعہ رازی کی کتاب "اسامی الضعفاء" (ترجمہ رقم 382) میں فقہ حنفی کے اساطین میں سے ایک عظیم ستون، امام اعظم کے جلیل القدر شاگرد اور قاضی القضاة امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بارے میں جو کلام نقل کیا گیا ہے: الذي كان على القضاء، يعني صاحب أبي حنيفة. [أسامي الضعفاء لأبي زرعة الرازي (ترجمة رقم ٣٨٢)]. مذکورہ بالا کلام ایک غیر مفسر جرح (ایسی تنقید جس کی وجہ بیان نہ کی گئی ہو) کی حیثیت رکھتا ہے ، اور ایسی غیر مفسر جرح قبول نہیں کی جاتی۔ حیرت بالائے حیرت یہ ہے کہ ہمارے دور کے وہ احباب جو خود کو اہلحدیث (غیر مقلدین) کہتے ہیں، وہ فقہ حنفی کے ائمہ پر طعن کرنے کے لیے تو ایسے مبہم اقوال کا سہارا لیتے ہیں، مگر خود ان کے اپنے مسلمہ محققین اور شیوخ کے قلم سے اس اصول کی جو تصدیق ہوئی ہے، وہ ان کے اس رویے کا منہ چڑاتی ہے۔ انصاف پسند طبقے کے لیے خود انھی کے گھر کی گواہی پیشِ خدمت ہے: غیر مقلد اہلحدیثوں کے محقق زبیر علی زئی لکھتا ہے : " صرف ضعیف یا متروک یا منکر الحدیث کہہ دینا جرح مفسر نہیں ہے۔ " ( رکعتِ ...
مسنون ثناء سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ. ت رجمہ : اے اللہ ! ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں اور تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرا نام بہت برکت والا ہے اور تیری بزرگی برتر ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ [صحیح مسلم کتاب الصلاة باب حجة من قال لا يجهر بالبسملة حديث : 399 سنن ابو داؤد حدیث : 776 ، مسند الدار می کتاب الصلاة باب ما يقال بعد افتتاح الصلاة حديث : 1275 اسناده جید محقق : حسین اسد جمہور کا موقف جمہور علماء کرام کے نزدیک استفتاح صلاۃ (نماز کے آغاز ) کے موقع پر یہی دعا آہستہ پڑھنا مختار و مسنون ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منقول ہے کہ آپ علیہ السلام سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ یعنی ثناء پڑھتے تھے اسی طرح حضرت عمر بن خطاب رض اور حضرت ابن مسعود رض سے بھی مروی ہے، اور تابعین و غیر تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ [ سنن ترمذی تحت حدیث : 242] عرب عالم شیخ محمد نعیم ساعی کہتے ہیں جمہور اہل علم کے نزدیک دعائے افتتاح صلاۃ میں ثناء ...