نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

Featured post

امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے خلاف محدث عبداللہ بن ادریس کوفی رحمہ اللہ کے بعض اقوال کا تحقیقی جائزہ

امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ  کے خلاف محدث عبداللہ بن ادریس کوفی رحمہ اللہ  کے بعض اقوال کا تحقیقی جائزہ ﷽ اسلامی تاریخ کے افق پر چند ایسی فروزاں شخصیتیں نمودار ہوئیں جن کی علمی ضیا پاشیاں رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔ ان عبقری ہستیوں میں سرِ فہرست امامِ اعظم، سراج الامہ، سیدنا امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابتؒ کی ذاتِ گرامی ہے، جنہوں نے تفقہ فی الدین اور تدوینِ فقہ کے وہ سنگِ میل عبور کیے کہ عقلِ انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ آپ نے شریعتِ مطہرہ کے غوامض اور باریکیوں کو جس شرحِ صدر اور اصولی ترتیب کے ساتھ مرتب فرمایا، اس نے امتِ مسلمہ کو ایک ابدی فکری اثاثہ عطا کیا۔ اسی دبستانِ علم و دانش کے ایک تابندہ ستارے امام قاضی ابو یوسفؒ ہیں، جن کی فقہی بصیرت اور منصبِ قضا پر فائز ہو کر عدل و انصاف کی ترویج نے حنفی دبستان کو ایک جہانِ نو سے روشناس کرایا۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تاریخ کے جھروکوں میں جہاں علم کی روشنی ہے، وہیں حاسدین کی تیرہ بختی اور متعصبین کی کج فہمی نے بھی اپنا رنگ دکھایا ہے۔ مسلکی عصبیت کے زیرِ اثر بعض کج رو تذکرہ نگاروں نے ان ائمہِ ہدیٰ کی جانب ایسے ...
حالیہ پوسٹس

آمین بالجہر نور حسین گرجاکھی پر ایک نظر

  ﷽ آمین بالجہر  نور حسین گرجاکھی پر ایک نظر تالیف : ابوالجراح الحنفی  ادارہ : النعمان سوشل میڈیا سروسز مقدمہ الحمد للہ الذی أرسل رسوله بالهدی ودین الحق لیظهره علی الدین کلّه ولو کره المشرکون، والصلاة والسلام علی سیدنا محمد، الصادق الأمین، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین، أما بعد : "          اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو رشد و ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس دین کی تبلیغ و حفاظت کا ذریعہ بنایا۔ محدثینِ عظام نے اپنی زندگیوں کو اس دین کے تحفظ کے لیے وقف کیا اور حدیثِ رسول کو پرکھنے کے اصول مرتب کیے تاکہ امت پر جھوٹ اور افتراء کی حقیقت عیاں ہو۔ لیکن آج کے دور کا المیہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنی مسلکی عناد اور ہٹ دھرمی کے سبب نہ صرف علماء و فقہاء بلکہ صحابہ کرام اور یہاں تک کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کو بھی اپنی من گھڑت باتوں کا نشانہ بنا لیا ہے۔  پہلے دین کی خدمت کرنے والے مجتہدین و محدثین پر الزام تراشی کی گئی، پھر صحابہ کرام جیسے مقدس اور پاکیزہ شخصیات پر جھوٹ باندھنے ک...

کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 11 : دوامِ رفع یدین کے قائلین کی طرف سے عوام میں پھیلائے گئے چند اہم شبہات کا ازالہ

  کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 11 :  دوامِ رفع یدین کے قائلین کی طرف سے عوام میں پھیلائے گئے چند اہم شبہات  کا ازالہ چند شبہات کا ازالہ: اب آخر میں دوامِ رفع یدین کے قائلین کی طرف سے عوام میں پھیلائے گئے چند اہم شبہات (جن کو وہ اپنے بزعم بہت وزنی دلائل سمجھتے ہیں)کے جوابات ملاحظہ ہوں۔ شبہ نمبر۱: ﴿حدیث ابن عمر ؓسے دوام پر استدلال﴾ غیر مقلدین کی طرف سے دوامِ رفع یدین پر بطور دلیل درج ذیل روایت پیش کی جاتی ہے : عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالیٰ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ کَانَ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلوٰۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ وَاِذَا رَکَعَ وَاِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ وَکَانَ لَایَفْعَلُ ذٰلِکَ فِیْ السُّجُوْدِ فَمَازَالَتْ تِلْکَ صَلوٰتُہُ حَتّٰی لَقِیَ اللَّہَ تَعَالیٰ ۔رَوَاہُ الْبَیْہَقِیُّ ۔(آثار السنن : ۳۹۴) ٭٭ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے (ٍتو بھی رفع یدین کرتے)،اور سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔اسے بیہقی (مختصر الخلافیات:ص۷۶)نے روایت کیا ہے ...