نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

Featured post

عید کی نماز میں 6 زائد تکبیروں کا حنفی طریقہ نبی ﷺ اور سلف (صحابہ، تابعین اور تبع تابعین) سے ثابت ہے

عید سیریز: عید کی نماز میں 6 زائد تکبیروں کا حنفی طریقہ نبی ﷺ اور سلف (صحابہ، تابعین اور تبع تابعین) سے ثابت ہے پیشکش : Al Ijma Foundation 📌 پس منظر اہلِ سنت والجماعت کے حنفی مذہب پر کیے جانے والے عام اعتراضات میں سے ایک عید کی نماز میں 6 زائد تکبیروں کا مسئلہ ہے۔ بعض شدت پسند یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سنی حنفی مکتبِ فکر، جو 1400 سالہ مضبوط علمی بنیادوں پر قائم ہے، اس مسئلے پر مستند دلیل سے خالی ہے۔ درج ذیل سلائیڈز میں ہم نبی ﷺ کی احادیث اور سلف (صحابہ، تابعین اور تبع تابعین) سے براہِ راست “صحیح” دلائل پیش کریں گے تاکہ اس دعوے کی تردید کی جا سکے اور حنفی موقف کی مضبوطی کو ثابت کیا جا سکے۔ 📌 نبی ﷺ سے دلائل 1️⃣ ابو عبد الرحمن القاسم رحمہ اللہ نے فرمایا: ❝مجھے رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی۔ آپ نے چار چار تکبیریں کہیں (یعنی ہر رکعت میں عید کی تین تکبیریں اور ایک رکوع کی تکبیر)۔ پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو اپنا نورانی چہرہ ہماری طرف متوجہ کیا اور فرمایا: “یاد رکھو! دونوں عیدوں کی تکبیریں چار ہیں، جیسے جنازے کی نماز کی تکبیریں ہوتی ہیں۔”❞ 📚 [شر...
حالیہ پوسٹس

امام ابو یوسفؒ پر امام عمرو بن علی المعروف الفلاس (متوفی 249ھ) کی “کثیر الغلط” کی جرح کا تحقیقی جائزہ : سطوة العادي في بَرَاءَةُ القاضي أَبِي يُوسُفَ مِنْ طَعْنِ الْفَلَّاسِ الْمُعَادِي

  امام ابو یوسفؒ پر امام عمرو بن علی المعروف الفلاس  (متوفی 249ھ)   کی “کثیر الغلط” کی جرح کا تحقیقی جائزہ سطوة العادي   في بَرَاءَةُ القاضي أَبِي يُوسُفَ  مِنْ طَعْنِ الْفَلَّاسِ الْمُعَادِي امام ابو یوسفؒ: علمی مقام اور خدمات ا ئمۂ دین میں حضرت امام ابو حنیفہؒ اور ان کے جلیل القدر تلامذہ کا مقام نہایت بلند اور مسلّم ہے۔ انہی درخشاں ستاروں میں سے ایک عظیم نام قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری رحمہ اللہ کا ہے، جنہوں نے فقہ اسلامی کی تدوین، ترویجِ حدیث، اور نظامِ قضاء میں وہ خدمات انجام دیں کہ تاریخِ اسلام ان پر ہمیشہ نازاں رہے گی۔ آپ کی علمی رفعت، دیانت، اور فقہی بصیرت اہلِ علم پر مخفی نہیں، اور آپ کا شمار ان اکابر میں ہوتا ہے جنہوں نے امت کو علمی استحکام عطا کیا۔  تاہم بعض ناقدین کی جانب سے آپ پر جرح بھی منقول ہے، جن میں سے ایک قول امام عمرو بن علی المعروف الفلاس (متوفی 249ھ) کا ہے ، اس کی سند اور متن درج ذیل ہے:    أخبرنا ابن الفضل، قال: أخبرنا عثمان بن أحمد الدقاق، قال: حدثنا سهل بن أحمد الواسطي، قال: حدثنا أبو...

امام ابو یوسفؒ کے خلاف امام یحییٰ بن معینؒ کے اقوال کا علمی جائزہ : إِعْلَامُ القَاصِي والدَّانِي بِتَوْثِيقِ يحي ابنِ مَعِينٍ لِلإِمَامِ أَبِي يُوسُفَ القَاضِي

إِعْلَامُ القَاصِي والدَّانِي  بِتَوْثِيقِ يحي ابنِ مَعِينٍ  لِلإِمَامِ أَبِي يُوسُفَ القَاضِي تمہید:   فقہ حنفی کے قصرِ عالی شان کے معمارِ ثانی، قاضی القضاة امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم انصاریؒ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ نہ صرف امامِ اعظمؒ کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں، بلکہ علمِ حدیث اور فقہ کے اس سنگم پر فائز ہیں جہاں سے علم کے دریا پھوٹتے ہیں۔ امام یحییٰ بن معینؒ، جو فنِ جرح و تعدیل کے امامِ بے بدل ہیں، ان سے امام ابویوسفؒ کی واضح توثیق کے اقوال کتبِ رجال میں تواتر کے ساتھ موجود ہیں،   قارئین دیکھیں :    "النعمان سوشل میڈیا سروسز"    کی ویب سائٹ پر موجود سلسلہ دفاع قاضی ابو یوسف ؒ : قسط نمبر1 : قاضی القضاۃ امام یعقوب بن ابراہیم ابو یوسف الأنصاریؒ (متوفی ۱۸۲ھ) کی تعریف ، توثیق اور تحسین زیرِ نظر تحریر میں ہم "تاریخ بغداد" (ت بشار 16/377) میں مذکور ان چند روایات کا علمی محاکمہ کریں گے جنہیں بعض کم فہم   ،     امام یحییٰ بن معینؒ   سے  امام صاحب  قاضی القضاة   کی تنقیص کے لیے پیش کرنے کی سعیِ...

امامِ جلیل، قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر امام بخاری رحمہ اللہ سے منسوب جرح کا علمی و تحقیقی جائزہ

  امامِ جلیل، قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر امام بخاری رحمہ اللہ سے منسوب   جرح کا علمی و تحقیقی جائزہ مقدمہ: امام ابو یوسفؒ کا علمی مقام اور معترضین کا ہدف ائمۂ اسلام کی عظیم جماعت میں امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیمؒ کا نام نہایت احترام اور جلال کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ آپ امام اعظم  کے جلیل القدر شاگرد، فقہِ حنفی کے اولین مدونین میں سے، اور خلافتِ عباسیہ کے پہلے قاضی القضاۃ تھے۔  امام ابو یوسف رحمہ اللہ وہ عبقری شخصیت ہیں جن کی فقاہت اور ثقاہت پر امت کا سوادِ اعظم متفق رہا ہے۔ تاہم، بعض حلقوں کی جانب سے امام بخاری رحمہ اللہ کی کتب کے حوالے دے کر آپ کی شخصیت کو ہدفِ ملامت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم ان اعتراضات کا علمی و تحقیقی محاسبہ کریں گے تاکہ غبارِ تلبیس چھٹ جائے اور حق آشکار ہو سکے۔ پہلا اعتراض اور اس کی حقیقت امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب "التاریخ الکبیر" میں ہے:   [١٢٦١٣] يَعْقوبُ بنُ إِبْراهيمَ، أَبُو يُوسُفَ، القَاضِي۔ سَمِعَ الشَّيبانيَّ۔ وَصاحِبُهُ تَرَكوهُ، يَعنِي أَبَا حَنيفةَ۔    ابو یوسف، جو ک...