نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

Featured post

امام العصرعلامہ کشمیری کااسلوب نگارش - محمدسفیان عطاء

امام العصرعلامہ کشمیری کااسلوب نگارش محمدسفیان عطاء مدرس جامعہ رحیمیہ عابدیہ، ڈیرہ غازی خان   اس تحریر سے خدانخواستہ یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم ایسے لوگ حضرت شاہ صاحب کے اسلوب نگارش پر قلم اٹھانےکی جرأت کررہے ہیں۔حاشاکلا چہ نسبت خاک راباعالمِ پاک۔   اس عنوان سےہمارا مقصود،محض  فضلاء اہل علم اور ارباب تحقیق  کو توجہ دلانا ہے،کہ وہ اس عنوان کو مستقل طور پر اپنا موضوع تحقیق  بنائیں، اوراس پر تفصیل سے لکھیں۔ شاہ صاحب کی ہر تحریر علوم و معارف کا گنجینہ ہوتی ہے۔جس کے حقائق و دقائق  کایہ عالم ہے،کہ ان کے ایک ایک جملہ پر حضرت تھانوی مستقل رسالہ لکھ سکتےتھے،تبھی تو حضرت موصوف انہیں حجة الاسلام قرار دیتے تھے۔شاہ صاحب کی تحریرات اس کی بین گواہ ہیں، کہ ان کی طرف جومقولہ منسوب ہے،اس کی صحت میں کوئی اشکال نہیں،فرماتے تھے ،کہ رمضان میں بمشکل ایک بار تلاوت قرآن کرپاتاہوں،کہ صدیوں کے علوم ومعارف اپنےتمام ترتنوع ،اقسام ،اختلاف اورتوسع کےساتھ ان پرآواردہوتے،اس پرمستزادان کااخاذذہن،قوت استنباط واستخراج،وسعت فکر! اللہ اللہ کیا عالم ہوگا۔ یقینااگراکابرکی خواہش پرشرح بخاری و تر...
حالیہ پوسٹس

امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر امام مالک رحمہ اللہ کے اعتراض کی حقیقت

امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر امام مالک رحمہ اللہ کے اعتراض کی حقیقت تمہید اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امتِ مسلمہ پر یہ عظیم احسان فرمایا کہ اسے ایسے جلیل القدر ائمہ و فقہاء عطا کیے جنہوں نے دین کی خدمت میں اپنی پوری زندگیاں وقف کر دیں۔ انہی بزرگوں میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے عظیم شاگرد، قاضی الائمہ، امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری رحمہ اللہ کا نامِ مبارک بھی آتا ہے، جنہوں نے فقہِ حنفی کی ترویج و اشاعت میں وہ خدمات سرانجام دیں جو تاریخ میں ہمیشہ زریں حروف سے لکھی جائیں گی۔ ان کی علمی عظمت اور فقہی بصیرت پر تاریخ کا ہر باخبر طالبِ علم شاہد ہے۔ تاہم بعض حلقوں کی طرف سے، خصوصاً غیر مقلدین کی جانب سے، یہ کوشش کی جاتی ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی شان میں کسی نہ کسی روایت کو پیش کر کے ان کی تنقیص کی جائے اور عوام الناس کے دلوں میں ان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں۔ انہی روایات میں سے ایک روایت امام مالک رحمہ اللہ سے منسوب کی جاتی ہے، جسے اعتراض کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ذیل میں اس روایت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور اس کی حقیقت واضح کی جائے گی۔ زیرِ بحث روایت بعض ...

دفاعِ امام ابو یوسف رحمہ اللہ: قاضی شریک کی جرح کا علمی محاکمہ اور حقیقتِ ارجاء

دفاعِ امام ابو یوسف رحمہ اللہ: قاضی شریک کی جرح کا علمی محاکمہ اور حقیقتِ ارجاء امامِ اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے لائق و فائق اصحاب کی پوری زندگی اعتدال،   حلم،   علم و تقویٰ، فقہی بصیرت اور حق گوئی کا ایسا حسین سنگم ہیں جس کی نظیر تاریخِ اسلام میں کم ہی ملتی ہے۔ فقہِ حنفی کے ان جلیل القدر ائمہ نے دین کی جو خدمت کی، اس نے چودہ صدیوں سے امت کی رہنمائی کی ہے۔ تاہم، یہ ایک انسانی پہلو ہے کہ معاصرانہ چشمک یا فکری نزاعات کی بنا پر بعض اوقات جلیل القدر شخصیات کے درمیان سخت کلامی یا غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے متعلق پیش کی جاتی ہے جس کی حقیقت کو سمجھنا ایک طالبِ علمِ حق کے لیے نہایت ضروری ہے۔ روایت کا متن  زیرِ بحث روایت میں آتا ہے:  حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ آدَمَ يَقُولُ: شَهِدَ أَبُو يُوسُفَ عِنْدَ شَرِيكٍ فَرَدَّ شَهَادَتَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: رَدَدْتَ شَهَادَةَ أَبِي يُوسُفَ؟، قَالَ: لَا، أَرُدُّ شَهَادَةَ مَنْ ي...

جوزجانی ناصبی کی ائمہ احناف رحمہم اللہ پر جرح کا علمی رد

  جوزجانی ناصبی کی ائمہ احناف    رحمہم اللہ  پر جرح کا علمی رد ابو اسحاق جوزجانی کا شمار ان نقادین میں ہوتا ہے جن کے قلم سے کوفہ کے ائمہ کے حق میں صرف زہر ہی نکلا ہے۔ اس نے اپنی کتاب "احوال الرجال" میں ائمہ احناف رحمہم اللہ کے متعلق جو یہ نازیبا کلمات کہے کہ «قد فرغ الله منهم» (اللہ ان سے فارغ ہو چکا ہے)، یہ جرح علمِ اسماء الرجال کے میزان پر قطعی مردود اور باطل ہے۔ ٩٦ - أسد بن عمرو ٩٧ - وأبو يوسف ٩٨ - ومحمد بن الحسن ٩٩ - واللؤلؤي قد فرغ الله منهم   (أحوال الرجال ص ١٢٠ ، الكامل في ضعفاء الرجال ٢/‏٨٣) جواب :    امام ابن حجر عسقلانیؒ   نے صراحت فرمائی ہے کہ جوزجانی کا دل اہل کوفہ اور حبِ علیؓ رکھنے والوں کے خلاف بغض و عصبیت سے لبریز تھا، لہٰذا اس کی ایسی جرح  ناقابلِ قبول ہے  (لسان الميزان 1/16) ۔  قارئین دیکھیں :    "النعمان سوشل میڈیا سروسز"    کی ویب سائٹ پر موجود اعتراض نمبر 20 : محمد بن جابر اليمامى نے کہا کہ ابو حنیفہ نے مجھ سے حماد کی کتابیں چوری کیں ۔ اعتراض نمبر 21 : ابو حنیفہ ج...

امام ابو یوسفؒ کی وفات پر ایک شاعر کی طرف سے ہجو اور اس کا علمی جائزہ

امام ابو یوسفؒ کی وفات پر ایک شاعر کی طرف سے ہجو اور اس کا علمی جائزہ دینِ اسلام کے درخشندہ ستارے  قاضی القضاۃ امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری رحمہ اللہ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ وہ جلیل القدر فقیہ ہیں جنہوں نے تدوینِ فقہ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، تاریخ کے اوراق میں بعض ایسی روایات بھی در آئی ہیں جن میں حاسدین یا معاندین کی زبان درازیوں کو جگہ ملی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم ان اشعار اور ان سے متعلقہ روایات کا اصولِ جرح و تعدیل کی روشنی میں محاکمہ کریں گے۔ روایت کا متن اور اس کا ادبی و فکری پس منظر ابن ابی کثیر (مولیٰ بنی الحارث) نامی شاعر کی جانب منسوب یہ اشعار امام ابو یوسفؒ کی وفات پر کہے گئے: أخبرنا القاضي أبو عبد الله الصيمري، أخبرنا محمّد بن عمران المرزباني، أخبرنا محمّد بن الحسن بن دريد ، أخبرنا السّكن بن سعيد عن أبيه عن هشام بن محمّد الكلبيّ قال: قال ابن أبي كثير، مولى بني الحارث بن كعب- من أهل البصرة- يرثي أبا يوسف القاضي: سقي جدثا به يعقوب أضحى … رهينا للبلى هزج ركام تلطف بالقياس لنا فأضحت … حلالا بعد شيعتها المدام فلولا أن قصدن له المنايا … وأعجله عن...