نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

Featured post

قربانی صرف تین دن جائز ہے

 قربانی صرف تین دن جائز ہے (1) خلیفہ راشد حضرت علی المرتضیٰ رض فرماتے ہیں کہ قربانی صرف تین دن ہے [حسن] احکام القرآن للطحاوی  حدیث:1569 (2) حضرت ابنِ عمر رض فرماتے ہیں قربانی تین دن ہیں [صحیح] المؤطا کتاب الضحایا حدیث: 12 (3) حضرت انس رض فرماتے ہیں کہ قربانی عید دن کےبعد دو اور ہیں یعنی صرف تین دن ہیں [صحیح] احکام القرآن للطحاوی حدیث: 1575 ()حضرت ابنِ عباس رض فرماتے ہیں کہ قربانی عید کے بعد صرف دو دن ہے اور سب سے افضل عید کا دن ہے    [صحیح] احکام القرآن للطحاوی حدیث :1571 صحابہ کرامؓ اور ائمہ مسلمینؒ کے ہاں قربانی تین دن ہے چنانچہ علامہ بدر الدین عینی ؒ فرماتے ہیں کہ:   قربانی کا وقت یومِ نحر(دس ذی الحجہ )اور اس کے بعد دو دن ہے۔یہ قول امام مالکؒ، امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحابؒ، سفیان ثوریؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کا ہے۔ اور یہی قول صحابہ کرامؓ میں سے:حضرت عمر بن خطابؓ حضرت علی بن ابی طالبؓ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ حضرت ابو ہریرہؓ حضرت انس بن مالکؓ سے بھی مروی ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے بھی یہی روایت منقول ہے۔  (عمدۃ ا...
حالیہ پوسٹس

اعتراض نمبر ۸: پتھر سے اور گچ سے اور چونے سے اور سرمہ سے اور ہڑتال سے بھی تیمم ہو سکتا ہے۔ امام ابو حنیفہ کا خیال یہی ہے اور امام محمد بھی ان کے ہم خیال ہیں۔

  اعتراض نمبر ۸: يجوز التيمم وعند أبي حنيفة ومحمد بالحجر والجص والنورة والكحل والزرنيخ (هدايه يوسفي جلد اول ص ٥٣ باب التيمم) یعنی پتھر سے اور گچ سے اور چونے سے اور سرمہ سے اور ہڑتال سے بھی تیمم ہو سکتا ہے۔ امام ابو حنیفہ کا خیال یہی ہے اور امام محمد بھی ان کے ہم خیال ہیں۔ (درایت محمدی ص ۹۱، ہدایت محمدی ص ۵) جواب: کیا تمہارے پاس کوئی حدیث ہے جس میں یہ علم ہو کہ ان اشیاء پر تیمم درست نہیں؟ اگر ہے تو بیان کرو، ورنہ اپنا اعتراض واپس لو۔ سنیئے! ہدایہ شریف میں اس کی دلیل موجود ہے، یعنی: إن الصعيد اسم لوجه الأرض صعید مٹی ہی کو نہیں کہتے بلکہ صعید روئے زمین کا نام ہے۔ علامہ عینی شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں: لأن الصعيد ليس التراب، إنما هو وجه الأرض ترابا كان أو صخرا لا تراب عليه أو غيره. "کیونکہ صعید مٹی نہیں بلکہ روئے زمین ہے، مٹی ہو یا پتھر جس پر مٹی نہ ہو یا اس کا غیر ہو۔" اور حدیث بخاری و مسلم میں آیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جعلت لي الأرض مسجدا وطهورا کہ میرے لیے جنسِ زمین کو مسجد اور طہور بنایا گیا۔ ایک حدیث میں آیا ہے: التراب طهور المسلم علامہ عینی شرح ہدایہ میں...

اعتراض نمبر ۷: کھجور کی شراب سے وضو کرنا جائز ہے اور اس شراب کو پینا بھی حلال ہے۔ امام ابو حنیفہ کا فرمان یہی ہے۔

  اعتراض نمبر ۷: إن اشتد فعند أبي حنيفة يجوز التوضؤ به لأنه يحل شربه عنده (هدايه يوسفي جلد اول ص ٥١ فصل في الآسار) یعنی کھجور کی شراب سے وضو کرنا جائز ہے اور اس شراب کو پینا بھی حلال ہے۔ امام ابو حنیفہ کا فرمان یہی ہے۔ (درایت محمدی، ص ۹۱، ہدایت محمدی ص ۵) جواب: امام اعظم کی یہ روایت مفتیٰ بہ نہیں۔ خود فقہاء علیہم الرحمہ نے تصریح کی ہے۔ امام اعظم کی صحیح اور مفتیٰ بہ روایت یہ ہے کہ نہ اس کا پینا جائز ہے اور نہ ہی اس سے وضو درست ہے۔ خود صاحب ہدایہ نے ص ۳۰ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں: قال أبو يوسف: يتيمم ولا يتوضأ به، وهو رواية عن أبي حنيفة. (هدايه) امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ نبیذِ تمر سے وضو نہ کرے، تیمم کرے اور یہ روایت ابو حنیفہ سے ہے۔ بلکہ امام اعظم کا یہی آخری قول ہے۔ چنانچہ علامہ عینی شرح ہدایہ جلد اول ص ۲۸۶ میں فرماتے ہیں: روى عنه نوح بن أبي مريم وأسد بن عمرو والحسن أنه يتيمم ولا يتوضأ به. قال قاضي خان: وهو الصحيح وهو قوله الآخر وقد رجع إليه. نوح بن ابی مریم، اسد بن عمرو اور حسن نے امام اعظم سے روایت کیا ہے کہ نبیذِ تمر سے وضو نہ کرے، تیمم کرے۔ قاضی خان نے لکھا ہے کہ یہ ص...

اعتراض نمبر ۶: ان جانوروں، کتے، بھیڑیئے، گدھے وغیرہ درندوں کی کھالیں بلکہ گوشت بھی ذبح کرنے سے پاک ہو جاتے ہیں۔

  اعتراض نمبر ۶: يطهر بالذكاة ..... وكذلك يطهر لحمه (هدايه يوسفي جلد اول ص ٤٥ باب الماء الذي يجوز الخ) یعنی ان جانوروں، کتے، بھیڑیئے، گدھے وغیرہ درندوں کی کھالیں بلکہ گوشت بھی ذبح کرنے سے پاک ہو جاتے ہیں۔ (درایت محمدی ص ۹۱، ہدایت محمدی ص ۵) جواب: حضور علیہ السلام کے ارشاد: إِذَا دُبِغَ الْإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ کے مطابق کھالیں تو بے شک پاک ہو جاتی ہیں جس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ رہی یہ بات کہ یہاں دباغت کا ذکر نہیں بلکہ ذکاۃ کا ہے۔ صاحب ہدایہ اس کا جواب دیتے ہیں: لأنه يعمل عمل الدباغ في إزالة الرطوبات النجسة. (هدايه) کہ ذبح کرنا دباغت کا کام کر جاتا ہے۔ جس طرح دباغت سے رطوبات نجسہ زائل ہو جاتی ہیں اسی طرح ذبح سے بھی رطوبات نجسہ زائل ہو جاتی ہیں۔ ذبیح اگر حلال جانور کو کیا جائے گا تو طہارت و حلت دونوں ہوں گی۔ اگر حرام کو ذبح کیا جائے گا تو طہارت ہو جائے گی لیکن حلت نہ ہوگی، اس کی حرمت برقرار رہے گی۔ اگر حلال جانور کو شریعت کے مطابق ذبح نہ کیا جائے تو حرام و ناپاک ہوگا۔ حدیث شریف میں زكاة الميتة دباغها (رواہ النسائی) آیا ہے۔ یعنی مردار کا ذبح کرنا اس کو دباغت دینا ہے۔ اسی طرح حدیث مرفوع م...

اعتراض نمبر ۵: کتا نجس العین نہیں۔

  اعتراض نمبر ۵ ليس الكلب نجس العين (هدايه يوسفي جلد اول ص ٤٤ باب الماء الذي يجوز) یعنی کتا نجس العین نہیں۔ (درایت محمدی ص ۹۱، ہدایت محمدی ص ۵) جواب: مندرجہ بالا عبارت سے یہ کب ثابت ہوتا ہے کہ "کتا نجس نہیں"۔ معترض اتنا بے خبر ہے کہ نجس اور نجس العین میں فرق نہیں جانتا۔ فقہاء علیہم الرحمہ نے کتا کو نجس العین بھی لکھا ہے اور نجس العین نہ ہونے کی بھی روایت ہے۔ کتا نجس العین نہ سہی نجس تو ہے۔ اس کا گوشت اور خون بالاتفاق پلید ہے، کسی فقہ کی کتاب میں اس کے گوشت یا خون کو پاک لکھا ہوا دکھاؤ۔ لو ہم تمہارے پیشواؤں سے دکھا دیتے ہیں کہ وہ کتا کو پلید ہی نہیں سمجھتے۔ وحید الزمان لکھتا ہے: دم السمك طاهر وكذا الكلب وريقه عند المحققين من أصحابنا. (نزل الابرار) "ہمارے محققین کے نزدیک مچھلی کا خون پاک ہے، اسی طرح کتا اور اس کا لعاب بھی پاک ہے۔" امام بخاری بھی ان محققین میں ہیں جو کتے کو پاک سمجھتے ہیں۔ عرف الجادی کے ص ۱۰ میں تصریح ہے کہ کتے کے ناپاک ہونے میں کوئی دلیل نہیں۔ نواب صدیق حسن بھی کتے کو پاک لکھتا ہے۔ تو یہ مسئلہ غیر مقلدین کے اپنے ہی گھر سے نکل آیا۔ ہم الزام ان کو دیتے ...

اعتراض نمبر ۴: کتے، بھیڑیے، گدھے وغیرہ کی دباغت دی ہوئی کھال کو پہن کر نماز ہو جاتی ہے اور ان کھالوں کے ڈول بنا کر ان میں پانی بھر کر وضو کرنا بھی جائز ہے۔

  اعتراض نمبر ۴: جازت الصلوة فيه والوضوء منه (هدايه يوسفي جلد اول ص ٤٤ باب الماء الذي يجوز) یعنی کتے، بھیڑیے، گدھے وغیرہ کی دباغت دی ہوئی کھال کو پہن کر نماز ہو جاتی ہے اور ان کھالوں کے ڈول بنا کر ان میں پانی بھر کر وضو کرنا بھی جائز ہے۔ (درایت محمدی ص ۹۱، ہدایت محمدی ص ۵) جواب: جب یہ ثابت ہو گیا کہ کھالیں دباغت سے پاک ہو جاتی ہیں تو ان پر نماز پڑھنا یا ان کے ڈول کے پانی سے وضو کرنا کیوں منع ہوگا؟ ہاں! تمہارے پاس کوئی صحیح حدیث اس کے برخلاف ہو تو پیش کرو لیکن پہلے اپنے مولوی وحید الزمان کی نزل الابرار دیکھ لینا۔ وہ فرماتے ہیں: ويتخذ جلده مصلى ودلوا (ص۳۰) یعنی کتے کے چمڑے کا ڈول اور جانماز بنا لینا درست ہے۔ ---------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب "ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق" سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔ پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

اعتراض نمبر ۳ : انسان اور خنزیر کے سوا جس جانور کے چمڑے کو دباغت دی جائے وہ پاک ہو جاتا ہے (یعنی کتے کی، بھیڑیے کی، گدھے کی اور تمام درندوں کی کھالیں بعد از دباغت پاک ہیں)۔

  اعتراض نمبر ۳ كل إهاب دبغ فقد طهر يجوز ...... إلا جلد الخنزير والآدمي (هدايه يوسفي جلد اول ص ٤٤ باب الماء الذي يجوز) یعنی انسان اور خنزیر کے سوا جس جانور کے چمڑے کو دباغت دی جائے وہ پاک ہو جاتا ہے (یعنی کتے کی، بھیڑیے کی، گدھے کی اور تمام درندوں کی کھالیں بعد از دباغت پاک ہیں)۔ (درایت محمدی، ص ۹۰، ۹۱، ہدایت محمدی ص ۵) جواب: صحیح مسلم میں موجود ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ وفي رواية: إِذَا دُبِغَ الإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ ہدایہ شریف میں اس حدیث کے الفاظ ہیں یعنی: كُلُّ إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ تعجب ہے کہ اس معترض کو یہ خیال نہیں آیا کہ میں یہ اعتراض ہدایہ پر کر رہا ہوں یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ صاحب ہدایہ نے وہی کہا ہے جو حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے۔ پھر اگر یہ گندا مسئلہ ہے تو شرم کرو کہ اس کی نوبت کہاں تک پہنچی ہے؟ تمہارا مولوی وحید الزمان بڑا پکا غیر مقلد، تقلید کو برا کہنے والا، صحاح ستہ کا ترجمہ کرنے والا، قرآن مجید کی تفسیر لکھنے والا اور فقہ محمدی لکھنے والا، درندے، بھیڑیے تو ایک طرف خنزیر کے چمڑے کو بھی دباغت سے پاک ...

اعتراض نمبر ۲: چوپائے کے ساتھ بدفعلی کرنے اور شرمگاہ کے سوا اور جگہ کرنے سے جب تک انزال نہ ہو غسل واجب نہیں۔

  اعتراض نمبر ۲: بخلاف البهيمة وما دون الفرج (هدايه يوسفي جلد اول ص ۲۷ فصل في الغسل) یعنی چوپائے کے ساتھ بدفعلی کرنے اور شرمگاہ کے سوا اور جگہ کرنے سے جب تک انزال نہ ہو غسل واجب نہیں۔ (درایت محمدی، ص ۹۰، ہدایت محمدی ص ۵) جواب: فرمائیے یہ مسئلہ کسی آیت یا حدیث کے خلاف ہے؟ اگر کسی حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ چوپائے کے ساتھ یا شرمگاہ کے علاوہ شہوت رانی کی جائے تو بلا انزال غسل واجب ہے، تو وہ حدیث بیان فرمائیں۔ اگر کوئی ایسی حدیث نہیں تو شرم کرو۔ پھر اس مسئلہ کو گندا اور خلاف حدیث کس عقل سے سمجھتے ہو۔ تمہارے یہاں صحیح بخاری میں تو عورت سے جماع کرنے سے بھی بلا انزال غسل لازم نہیں سمجھتے۔ امام بخاری ایسی حالت میں غسل لازم نہیں سمجھتے، صرف احوط فرماتے ہیں تو چوپائے یا تفخیذ یا تبطین سے بلا انزال غسل لازم کس دلیل سے سمجھا جائے گا؟ جب وجوب غسل پر کوئی دلیل نہیں تو فقہاء علیہم الرحمہ نے کیا برا کیا کہ فقدان دلیل کی وجہ سے وجوب غسل کا حکم نہیں دیا۔ اگر کسی کے پاس کوئی دلیل ہے تو بیان کرے ورنہ اپنا اعتراض واپس لے۔ البتہ ہدایہ شریف میں عدم وجوب غسل پر دلیل بھی لکھی ہے ...

اعتراض نمبر 1 : اگر رکوع و سجدہ والی نماز میں کھلکھلا کر ہنس پڑا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ جنازہ کی نماز میں یا سجدہ تلاوت میں کھلکھلا کر ہنسنے سے وضو نہیں جائے گا۔

 اعتراض نمبر 1 بسم الله الرحمن الرحیم القهقهة في صلوة ذات ركوع وسجود ...... لم يكن حدثا في صلوة الجنازة وسجدة التلاوة (هدايه يوسفي جلد اول ص ٣٥ فصل في نواقض الوضوء) یعنی اگر رکوع و سجدہ والی نماز میں کھلکھلا کر ہنس پڑا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ جنازہ کی نماز میں یا سجدہ تلاوت میں کھلکھلا کر ہنسنے سے وضو نہیں جائے گا۔ (درایت محمدی ص ۹۰ ، ہدایت محمدی ص ۵) جواب: یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر حضرت امام اعظم کی جس قدر تعریف کی جائے بجا ہے۔ اس مسئلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام اعظم سب سے زیادہ حدیث نبوی کے پیرو تھے۔ یہاں آپ نے ایک حدیث کی بنا پر قیاس کو ترک کیا۔ قیاس چاہتا تھا کہ جس طرح نماز سے باہر قہقہہ وضو کا مفسد نہیں اسی طرح نماز میں بھی وضو کا مفسد نہ ہو، لیکن چونکہ ایک حدیث میں آگیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قہقہہ پر وضو کے اعادہ کا حکم فرمایا تھا، اس لیے امام اعظم نے قیاس پر حدیث کو ترجیح دی۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت امام اعظم حدیث پر قیاس کو ترجیح دیتے تھے وہ ذرا اس مسئلہ پر غور کریں اور اپنے اس افترا کو واپس لیں۔ دیکھئے ابو القاسم بناری لکھتا ہے: "احادیث نبوی کو قیاس ...

نمازِ عیدین کا مسنون طریقہ

 نمازِ عیدین کا مسنون طریقہ 🔹 پہلی رکعت • تکبیرِ تحریمہ: امام کے ساتھ “اللہ اکبر” کہہ کر رفع الیدین کریں۔  [صحیح  -  ترمذی: 257] • ہاتھ باندھنا: ہاتھ ناف کے نیچے باندھیں۔  [مصنف ابن ابی شیبہ: 3981، اسنادہ صحیح] • ثناء پڑھنا: دعائے استفتاح پڑھیں:  “سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ...”  [صحیح مسلم: 399] • زائد تکبیریں: سورۂ فاتحہ سے پہلے رفع الیدین کے ساتھ 3 زائد تکبیریں کہیں۔  [ اسنادہ حسن  ابوداؤد: 1152، شرح معانی الآثار: 7129، مصنف عبدالرزاق: 5699] • قراءت: امام قراءت کرے اور مقتدی خاموشی اور توجہ سے سنیں۔  [الأعراف: 204، صحیح مسلم: 404] • رکوع و سجود: پھر عام نماز کی طرح رکوع اور سجود کریں۔ 🔹 دوسری رکعت • قراءت: امام سورۂ فاتحہ اور سورت کی قراءت کرے، مقتدی توجہ سے سنیں۔  [الأعراف: 204، صحیح مسلم: 404] • زائد تکبیریں: رکوع سے پہلے رفع الیدین کے ساتھ 3 زائد تکبیریں کہیں۔    [ اسنادہ حسن ابوداؤد: 1152، شرح معانی الآثار: 7129، مصنف عبدالرزاق: 5699] • رکوع میں جانا: چوتھی تکبیر کہہ کر بغیر رفع الیدین کے رکوع میں جائیں۔...

امام ابو یوسفؒ کی ذات اور فقہ پر متفرق اعتراضات: ایک تحقیقی جائزہ

امام ابو یوسفؒ کی ذات اور فقہ پر متفرق اعتراضات: ایک تحقیقی جائزہ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ  تاریخِ اسلام کا یہ ایک روشن اور تابناک باب ہے کہ جب بھی ائمہ احناف، بالخصوص قاضی القضاۃ، تلمیذِ رشیدِ امام اعظم، حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی جلالتِ علمی اور رفعتِ منزلت پر حسد کے شراروں سے حملہ کرنے کی کوشش کی گئی، تو حق کے مصلحین اور علمِ رجال کے شہسواروں نے ان مخدوش دعووں کے تار و پود بکھیر کر رکھ دیے۔ اعدائے فقہ کی جانب سے ہمیشہ ایسی بوسیدہ اور لنگڑی روایات کا سہارا لیا جاتا ہے جن کی عمارت کذب، وہم اور صریح بغض کی ریت پر کھڑی ہوتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں، ہم امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر کیے جانے والے متفرق اعتراضات اور مخدوش روایات کا ایک جامع، عالمانہ اور دندان شکن تحقیقی جائزہ پیش کر رہے ہیں، تاکہ کج فہموں پر حجت تمام ہو اور حقیقتِ حال روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے۔ پہلی قسط: منصور بن ابی مزاحم کی مخدوش روایت کا محققانہ محاکمہ مخالفینِ احناف کی جانب سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے زہد، وقار اور دیانت کو داغدار کرنے کے لیے ایک انتہائی لغو اور من گھڑت حکایت پیش کی جاتی ہے، جس...

قاضی شریک کا تعصب اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر اعتراضات کی حقیقت

قاضی شریک کا تعصب اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر اعتراضات کی حقیقت مخالفینِ احناف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی علمی تنقید و تنقیص کے لیے تاریخ کی کتابوں سے چن چن کر ایسی روایات لاتے ہیں جن کی حیثیت علمِ رجال کی ترازو میں پرِ کاہ کے برابر بھی نہیں ہوتی۔ روایت کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:  حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: كُنَّا يَوْمًا عِنْدَ شَرِيكٍ، فَقَالَ: مَنْ ذُكِرَ هَا هُنَا مِنْ أَصْحَابِ يَعْقُوبَ فَأَخْرِجُوهُ.  ترجمہ: علی بن حجر کہتے ہیں کہ ایک دن ہم قاضی شریک کے پاس بیٹھے تھے تو انہوں نے کہا: جو بھی یہاں یعقوب (یعنی امام ابو یوسف) کے ساتھیوں میں سے ذکر کیا جائے، اسے یہاں سے نکال دو۔ (الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/‏٤٣٨)  جواب اس روایت کو اچھالنے والے نادان اس بنیادی نقطے سے بالکل غافل ہیں کہ جرح و تعدیل کے بھی کچھ مسلمہ قوانین ہیں، جن کی رو سے یہ روایت علمِ حدیث کے کوچے میں داخل ہونے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ١. معاصرانہ چشمک اور اصولِ جرح و تعدیل کی پامالی قاضی شریک رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ ہم عصر (معاصر) تھے۔  کس...

امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے منسوب اعتراضات کی حقیقت

امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر امام  سفیان ثوری  رحمہ اللہ سے منسوب اعتراضات کی حقیقت  غیر مقلدین کی جانب سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی تنقیص کے لیے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے  روای ا ت پیش کی جاتی ہے۔ 1. حدثنا مُحمد بن سَعيد بن بَلج ،  قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ يَذْكُرُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِمَامِ مَسْجِدِهِمْ، قَالَ: قَالَ لِي يَعْقُوبُ: قُلْ لِسُفْيَانَ: تَلْقَانِي وَحْدِي، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسُفْيَانَ، فَقَالَ سُفْيَانُ، أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالَ الثَّعْلَبُ: لَا يَرَانِي الْكَلْبُ وَلَا أُرَاهُ حسن بن محمد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یعقوب (  امام ابو یوسف  ) نے مجھ سے کہا: سفیان سے کہو کہ وہ مجھ سے اکیلے میں ملیں۔ حسن  کہتے ہیں: میں نے یہ بات سفیان  تک پہنچائی، تو سفیان  نے (جواباً) فرمایا: کیا تم نے لومڑی کی وہ بات نہیں سنی: "نہ کتا مجھے دیکھے اور نہ میں اسے دیکھوں ۔"...

امام العصرعلامہ کشمیری کااسلوب نگارش - محمدسفیان عطاء

*امام العصرعلامہ کشمیری کااسلوب نگارش*  محمدسفیان عطاء مدرس جامعہ رحیمیہ عابدیہ، ڈیرہ غازی خان    اس تحریر سے خدانخواستہ یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم ایسے لوگ حضرت شاہ صاحب کے اسلوب نگارش پر قلم اٹھانےکی جرأت کررہے ہیں۔حاشاکلا  چہ نسبت خاک راباعالمِ پاک۔   اس عنوان سےہمارا مقصود،محض  فضلاء اہل علم اور ارباب تحقیق  کو توجہ دلانا ہے،کہ وہ اس عنوان کو مستقل طور پر اپنا موضوع تحقیق  بنائیں، اوراس پر تفصیل سے لکھیں۔ شاہ صاحب کی ہر تحریر علوم و معارف کا گنجینہ ہوتی ہے۔جس کے حقائق و دقائق  کایہ عالم ہے،کہ ان کے ایک ایک جملہ پر حضرت تھانوی مستقل رسالہ لکھ سکتےتھے،تبھی تو حضرت موصوف انہیں حجة الاسلام قرار دیتے تھے۔شاہ صاحب کی تحریرات اس کی بین گواہ ہیں، کہ ان کی طرف جومقولہ منسوب ہے،اس کی صحت میں کوئی اشکال نہیں،فرماتے تھے ،کہ رمضان میں بمشکل ایک بار تلاوت قرآن کرپاتاہوں،کہ صدیوں کے علوم ومعارف اپنےتمام ترتنوع ،اقسام ،اختلاف اورتوسع کےساتھ ان پرآواردہوتے،اس پرمستزادان کااخاذذہن،قوت استنباط واستخراج،وسعت فکر! اللہ اللہ کیا عالم ہوگا۔ یقینااگراکابرکی خواہش پر...