امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے منسوب اعتراضات کی حقیقت غیر مقلدین کی جانب سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی تنقیص کے لیے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے روای ا ت پیش کی جاتی ہے۔ 1. حدثنا مُحمد بن سَعيد بن بَلج ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ يَذْكُرُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِمَامِ مَسْجِدِهِمْ، قَالَ: قَالَ لِي يَعْقُوبُ: قُلْ لِسُفْيَانَ: تَلْقَانِي وَحْدِي، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسُفْيَانَ، فَقَالَ سُفْيَانُ، أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالَ الثَّعْلَبُ: لَا يَرَانِي الْكَلْبُ وَلَا أُرَاهُ حسن بن محمد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یعقوب ( امام ابو یوسف ) نے مجھ سے کہا: سفیان سے کہو کہ وہ مجھ سے اکیلے میں ملیں۔ حسن کہتے ہیں: میں نے یہ بات سفیان تک پہنچائی، تو سفیان نے (جواباً) فرمایا: کیا تم نے لومڑی کی وہ بات نہیں سنی: "نہ کتا مجھے دیکھے اور نہ میں اسے دیکھوں ۔"...
*امام العصرعلامہ کشمیری کااسلوب نگارش* محمدسفیان عطاء مدرس جامعہ رحیمیہ عابدیہ، ڈیرہ غازی خان اس تحریر سے خدانخواستہ یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم ایسے لوگ حضرت شاہ صاحب کے اسلوب نگارش پر قلم اٹھانےکی جرأت کررہے ہیں۔حاشاکلا چہ نسبت خاک راباعالمِ پاک۔ اس عنوان سےہمارا مقصود،محض فضلاء اہل علم اور ارباب تحقیق کو توجہ دلانا ہے،کہ وہ اس عنوان کو مستقل طور پر اپنا موضوع تحقیق بنائیں، اوراس پر تفصیل سے لکھیں۔ شاہ صاحب کی ہر تحریر علوم و معارف کا گنجینہ ہوتی ہے۔جس کے حقائق و دقائق کایہ عالم ہے،کہ ان کے ایک ایک جملہ پر حضرت تھانوی مستقل رسالہ لکھ سکتےتھے،تبھی تو حضرت موصوف انہیں حجة الاسلام قرار دیتے تھے۔شاہ صاحب کی تحریرات اس کی بین گواہ ہیں، کہ ان کی طرف جومقولہ منسوب ہے،اس کی صحت میں کوئی اشکال نہیں،فرماتے تھے ،کہ رمضان میں بمشکل ایک بار تلاوت قرآن کرپاتاہوں،کہ صدیوں کے علوم ومعارف اپنےتمام ترتنوع ،اقسام ،اختلاف اورتوسع کےساتھ ان پرآواردہوتے،اس پرمستزادان کااخاذذہن،قوت استنباط واستخراج،وسعت فکر! اللہ اللہ کیا عالم ہوگا۔ یقینااگراکابرکی خواہش پر...