نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

Featured post

امام ابو یوسفؒ کی وفات پر ایک شاعر کی طرف سے ہجو اور اس کا علمی جائزہ

امام ابو یوسفؒ کی وفات پر ایک شاعر کی طرف سے ہجو اور اس کا علمی جائزہ دینِ اسلام کے درخشندہ ستارے  قاضی القضاۃ امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری رحمہ اللہ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ وہ جلیل القدر فقیہ ہیں جنہوں نے تدوینِ فقہ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، تاریخ کے اوراق میں بعض ایسی روایات بھی در آئی ہیں جن میں حاسدین یا معاندین کی زبان درازیوں کو جگہ ملی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم ان اشعار اور ان سے متعلقہ روایات کا اصولِ جرح و تعدیل کی روشنی میں محاکمہ کریں گے۔ روایت کا متن اور اس کا ادبی و فکری پس منظر ابن ابی کثیر (مولیٰ بنی الحارث) نامی شاعر کی جانب منسوب یہ اشعار امام ابو یوسفؒ کی وفات پر کہے گئے: أخبرنا القاضي أبو عبد الله الصيمري، أخبرنا محمّد بن عمران المرزباني، أخبرنا محمّد بن الحسن بن دريد ، أخبرنا السّكن بن سعيد عن أبيه عن هشام بن محمّد الكلبيّ قال: قال ابن أبي كثير، مولى بني الحارث بن كعب- من أهل البصرة- يرثي أبا يوسف القاضي: سقي جدثا به يعقوب أضحى … رهينا للبلى هزج ركام تلطف بالقياس لنا فأضحت … حلالا بعد شيعتها المدام فلولا أن قصدن له المنايا … وأعجله عن...
حالیہ پوسٹس

القولُ الحَسَنُ في الذَّبِّ عن إمامِ الزَّمَنِ عمّا أورده الإمامُ أبو الحسن صاحبُ السُّنَن : دفاعِ امام ابو یوسف رحمہ اللہ: امام دارقطنی کی جرح کا علمی و تحقیقی محاکمہ

القولُ الحَسَنُ في الذَّبِّ عن إمامِ الزَّمَنِ عمّا أورده الإمامُ أبو الحسن صاحبُ السُّنَن دفاعِ امام ابو یوسف رحمہ اللہ: امام دارقطنی کی جرح کا علمی و تحقیقی محاکمہ الحمد للّٰہ ربّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ امامِ اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ   کے گلستانِ علم کے خوشہ چینوں میں امام قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ وہ آفتابِ نیم روز ہیں جنہوں نے فقہِ حنفی کی تدوین و ترویج میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کی ثقاہت اور عظمتِ کردار پر امت کا سوادِ اعظم متفق ہے، مگر افسوس کہ بعض ناقدین کی کج فہمی یا مسلکی تصلب کی بنا پر ان کی ذات پر رکیک حملے کیے جاتے ہیں۔ امام دارقطنی کے اقوال  ذیل میں امام دارقطنی رحمہ اللہ کی جانب سے کی گئی تنقید کا علمی، منصفانہ اور مدلل جائزہ پیش کیا جاتا ہے  : • قال البَرْقانِيّ: سألت الدَّارَقُطْنِيّ عن أبي يوسف، صاحب أبي حنيفة. فقال: هو أقوى من محمد بن الحسن. (٥٦٧) برقانی کہتے ہیں کہ میں نے دارقطنی سے امام ابو حنیفہ کے صاحب (شاگرد) ابو یوسف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: "وہ محمد بن حسن سے قوی ہیں۔" • وقال ا...

امامِ اعظمؒ بحیثیتِ "حافظ الحدیث"

امامِ اعظمؒ بحیثیتِ "حافظ الحدیث" الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ امتِ مسلمہ کے علمی افق پر امام ابو حنیفہؒ کی شخصیت اس آفتاب کی مانند ہے جس کی شعاعیں فقہ اور حدیث دونوں جہتوں کو منور کرتی ہیں۔ آپ کی فقاہت، آپ کے بحرِ حدیث سے ہی کشید کی گئی ہے۔ جس طرح تمام صحابہؓ شہسوار تھے مگر حضرت علیؓ کا امتیاز جدا تھا، اسی طرح امام صاحبؒ تمام علومِ اسلامیہ کے امام تھے مگر فقہ میں آپ کی جلالتِ شانی نے دیگر پہلوؤں کو ڈھانپ لیا۔ ذیل میں ان جلیل القدر ائمہ و محدثین کی گواہیاں پیش ہیں جنہوں نے امام صاحبؒ کو باقاعدہ  "حفاظِ حدیث" کی صفِ اول میں شمار کیا ہے:  ائمہِ اسماء الرجال کی مستند شہادتیں 1. چنانچہ امام ذہبی رحمہ اللہ  (م۷۴۸؁ھ)   نے اپنی مشہور کتاب «تذکرة الحفاظ» میں آپ کا ذکر حفاظِ حدیث میں کیا ہے۔   آپ  ؒ  نے  امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  کو ’’طبقات المحدثین ‘‘ میں  ذکر کیا ۔ (المعين في طبقات المحدثين : ص ۵۷،رقم ۵۴۶)  مزید تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر...

عید کی نماز میں 6 زائد تکبیروں کا حنفی طریقہ نبی ﷺ اور سلف (صحابہ، تابعین اور تبع تابعین) سے ثابت ہے

عید سیریز: عید کی نماز میں 6 زائد تکبیروں کا حنفی طریقہ نبی ﷺ اور سلف (صحابہ، تابعین اور تبع تابعین) سے ثابت ہے پیشکش : Al Ijma Foundation 📌 پس منظر اہلِ سنت والجماعت کے حنفی مذہب پر کیے جانے والے عام اعتراضات میں سے ایک عید کی نماز میں 6 زائد تکبیروں کا مسئلہ ہے۔ بعض شدت پسند یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سنی حنفی مکتبِ فکر، جو 1400 سالہ مضبوط علمی بنیادوں پر قائم ہے، اس مسئلے پر مستند دلیل سے خالی ہے۔ درج ذیل سلائیڈز میں ہم نبی ﷺ کی احادیث اور سلف (صحابہ، تابعین اور تبع تابعین) سے براہِ راست “صحیح” دلائل پیش کریں گے تاکہ اس دعوے کی تردید کی جا سکے اور حنفی موقف کی مضبوطی کو ثابت کیا جا سکے۔ 📌 نبی ﷺ سے دلائل 1️⃣ ابو عبد الرحمن القاسم رحمہ اللہ نے فرمایا: ❝مجھے رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی۔ آپ نے چار چار تکبیریں کہیں (یعنی ہر رکعت میں عید کی تین تکبیریں اور ایک رکوع کی تکبیر)۔ پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو اپنا نورانی چہرہ ہماری طرف متوجہ کیا اور فرمایا: “یاد رکھو! دونوں عیدوں کی تکبیریں چار ہیں، جیسے جنازے کی نماز کی تکبیریں ہوتی ہیں۔”❞ 📚 [شر...