اعتراض نمبر ۶۹ كذلك إن حمله على حمار فساقه وأخرجه. (ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۲۴ فصل فی الحرز) یعنی اگر اسی طرح مال گدھے پر لاد لیا اور اسے ہنکا لیا تو بھی حد نہیں، ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (درایت محمدی ص ۱۰۳، ہدایت محمدی ص ۱۲) جواب: معترض نے ہدایہ کی عبارت کا ترجمہ غلط کیا ہے۔ صحیح ترجمہ اس طرح ہے: ایسے ہی ہاتھ کاٹا جائے گا اگر لادا سامان گدھے پر اور اس کو ہانکا اور اس کو نکالا۔ (اثمار الہدایہ، ج ۷، ص ۴۸) اشرف الہدایہ میں ہے: ترجمہ: قدوری نے کہا کہ اور اسی طرح اگر سامان کو ایک گدھے پر لاد کر اسے ہانکا اور باہر نکال دیا جائے تو بھی اس کا قطع واجب ہے، کیونکہ گدھے کی رفتار ہی چلانے والے شخص کی طرف منسوب ہے کیونکہ یہی شخص اسے ہانکتا تھا۔ (اشرف الہدایہ، ج ۶ ص ۲۲۸) احسن الہدایہ میں ہے: ترجمہ: فرماتے ہیں ایسے ہی اگر سامان کسی گدھے پر لاد کر اس کو ہانک کر نکال دیا (تو بھی قطع ہوگا) اس لیے کہ گدھے کی چال ہانکنے کی وجہ سے اس کی طرف منسوب ہے۔ (احسن الہدایہ ج ۶، ص ۳۴۳) شارح ہدایہ مولانا میر الدین قاسمی حنفی اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں: تشریح: چور گھر کے اندر گیا اور گدھا بھی ساتھ لے گیا، پھر سا...
اعتراض نمبر ۷۰: من نقب البيت وأدخل يده فيه وأخذ شيئًا لم يقطع. (ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۲۴ فصل فی الحرز) یعنی چور نے اگر نقب لگا کر اور اس میں سے ہاتھ بڑھا کر چوری کی تو ہاتھ نہ کاٹا چاہیے۔ جواب: (درایت محمدی ص ۱۰۳، ہدایت محمدی ص ۱۲) اس عبارت کی شرح کرتے ہوئے مولانا شمیر الدین لکھتے ہیں۔ تشریح: کسی نے کمرے میں سوراخ کر کے ہاتھ ڈالا، خود داخل نہیں ہوا اور اندر سے کچھ نکال لیا تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ وجہ: (۱) کمرہ خود حرز ہے۔ اس سے چرانے کا طریقہ یہ ہے کہ خود آدمی کمرے میں داخل ہو اور وہاں سے ساتھ سامان لائے تب چوری ہوگی۔ اور یہاں خود کمرے میں داخل نہیں ہوا بلکہ ہاتھ ڈال کر نکالا ہے، اس لیے چوری نہیں پائی گئی، اس لیے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (۲) اس قولِ صحابی میں ہے: أتي علي رضي الله عنه برجل نقب بيتا فلم يقطعه وعذره لسؤاله. حضرت علیؓ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے گھر میں نقب لگایا تھا تو آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا اور اس کے سوال کی وجہ سے اس کے عذر کو قبول کیا۔ (مصنف عبدالرزاق باب في الرجل ينقب البيت ويؤخذ منه المتاع، ج ۹، ص ۴۹۳، حدیث نمبر ۱۹۰۹۲) اس قولِ صحابی سے معلوم ہوا کہ ا...