امام ابو یوسفؒ کے خلاف رُستہ/ابنِ مہدی کی روایت کا تحقیقی جائزہ ایک طویل عرصے سے فقہِ حنفی اور ائمہ احناف کے خلاف چند روایات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا بعض حلقوں کا شیوہ رہا ہے۔ اسی قبیل کا ایک اعتراض امامِ جلیل، قاضی القضاۃ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی طرف منسوب ایک نام نہاد مناظرے یا گفتگو کو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اعتراض کی بنیاد حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الرَّازِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِأَبِي يُوسُفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَاخْتَصَمَ إِلَيْكَ رَجُلَانِ فِي امْرَأَةٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، كَيْفَ الْقَوْلُ فِي ذَلِكَ؟ أَوْ كَيْفَ تَقْضِي؟ قَالَ: أَنْظُرُ فَإِذَا رَأَيْتُ أَنَّهَا لِأَحَدِهِمَا دَفَعْتُهَا إِلَيْهِ، قُلْتُ: فَإِنَّكَ دَفَعْتَهَا إِلَيْهِ فَبَاتَ مَعَهَا، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ، رَأَيْتَ أَنَّهَا لِلْآخَرِ؟ قَالَ: آخُذُهَا فَأَدْفَعُهَا إِلَى الْآخَرِ، قُلْتُ: فَإِنَّكَ رَدَدْتَهَا إِلَى الْآخَرِ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ رَأَيْتَ أَنَّهَا لِلْأَوَّلِ، قَالَ: أَرُدُّهَا إِلَيْهِ...
کیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مجالس درودِ پاک سے خالی ہوتی تھیں؟ آج کل بعض کم فہم اور متعصب حلقوں کی جانب سے چند ایسی روایات پیش کر کے عامۃ الناس کو مغالطے میں ڈالنے کی ناپاک جسارت کی جاتی ہے، جن کا مقصد یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ امامِ اعظم رحمہ اللہ کی مجالسِ علم (معاذ اللہ) ذکرِ رسول ﷺ اور درود و سلام سے خالی ہوا کرتی تھیں۔ پہلی روایت: امام ابو حنیفہ کی مجلس کے بارے میں قناد کا قول حاسدین کی طرف سے پیش کی جانے والی پہلی روایت درج ذیل ہے: أخبرني أبو نصر أحمد بن الحسين القاضي - بالدينور - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن إسحاق السني الحافظ قال: حدثني عبد الله بن محمد بن جعفر ، حدثنا هارون بن إسحاق سمعت محمد بن عبد الوهاب القناد يقول: حضرت مجلس أبي حنيفة، فرأيت مجلس لغو، ولا وقار فيه، وحضرت مجلي سفيان الثوري، فكان الوقار والسكينة والعلم فيه، فلزمته. ترجمہ: "محمد بن عبدالوہاب القناد کہتے ہیں کہ میں نے ابو حنیفہ کی مجلس میں حاضری دی، تو میں نے اسے ایک لغو مجلس پایا جس میں کوئی وقار نہ تھا۔ اور میں سفیان ثوری کی مجلس میں حاضر ہوا، تو وہاں وقار، سکینہ اور علم موجود تھا، چن...