اعتراض نمبر ۲۰: يكره تقديم ...... والأعمى (هدايه يوسفي جلد اول ص ۱۱۰ باب الإمامة) یعنی اندھے شخص کو امام بنانا مکروہ ہے۔ (درایت محمدی ص ۹۴، ہدایت محمدی ص ۷) جواب: ہدایہ شریف میں اس کی وجہ لکھی ہے کہ وہ نابینائی کے باعث کپڑوں کو نجاست سے نہیں بچا سکتا، لیکن در مختار میں تصریح ہے کہ اگر نابینا قوم میں زیادہ علم والا ہو تو مکروہ نہیں ہے۔ اسی طرح مراقی الفلاح میں ہے: وإن لم يوجد أفضل منه فلا كراهة اگر اندھے سے افضل کوئی نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز مکروہ نہیں۔ بتائیے! اس مسئلہ میں کیا اعتراض ہے؟ ------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب "ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق" سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔ پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
اعتراض نمبر ۱۹: اگر سجدے میں صرف ناک زمین پر لگائی اور پیشانی نہ لگائی یا پیشانی لگائی اور ناک نہ لگائی تو بھی جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کی رائے یہی ہے۔
اعتراض نمبر ۱۹: فإن اقتصر على أحدهما جاز عند أبي حنيفة. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۱۰۰ باب صفة الصلوة) یعنی اگر سجدے میں صرف ناک زمین پر لگائی اور پیشانی نہ لگائی یا پیشانی لگائی اور ناک نہ لگائی تو بھی جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کی رائے یہی ہے۔ جواب: (درایت محمدی، ص ۹۴، ہدایت محمدی ص ۷) مگر مکروہ تحریمی ہے۔ امام اعظم، امام ابو یوسف اور امام محمد سب کے نزدیک سجدہ میں مسنون طریقہ یہی ہے کہ پیشانی اور ناک دونوں زمین پر لگائے۔ اگر صرف پیشانی لگائے تو نماز مکروہ ہوگی۔ اگر صرف ناک لگائے تو امام صاحب کی ایک روایت میں جائز ہے مگر مکروہ تحریمی، اور صاحبین جائز نہیں کہتے۔ شرح وقایہ میں اسی قول پر فتویٰ لکھا ہے کہ جائز نہیں۔ بلکہ شیخ عبد الحئی نے عمدۃ الرعایہ میں برہان شرح مواہب الرحمن، مراقی الفلاح اور مقدمہ غزنویہ سے نقل کیا ہے کہ امام اعظم نے اس مسئلہ میں صاحبین کے قول کی طرف رجوع کیا ہے۔ در مختار میں ہے کہ: وكره اقتصاره في السجود على أحدهما ومنعا الاكتفاء بالأنف بلا عذر وإليه صح رجوعه وعليه الفتوى سجدہ میں صرف ناک یا پیشانی پر اکتفا مکروہ ہے اور صاحبین نے ناک پر بلا عذر اکتفا مکروہ فرمایا ہے۔...