نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

Featured post

اعتراض نمبر ۲۰: اندھے شخص کو امام بنانا مکروہ ہے۔

  اعتراض نمبر ۲۰: يكره تقديم ...... والأعمى (هدايه يوسفي جلد اول ص ۱۱۰ باب الإمامة) یعنی اندھے شخص کو امام بنانا مکروہ ہے۔ (درایت محمدی ص ۹۴، ہدایت محمدی ص ۷) جواب: ہدایہ شریف میں اس کی وجہ لکھی ہے کہ وہ نابینائی کے باعث کپڑوں کو نجاست سے نہیں بچا سکتا، لیکن در مختار میں تصریح ہے کہ اگر نابینا قوم میں زیادہ علم والا ہو تو مکروہ نہیں ہے۔ اسی طرح مراقی الفلاح میں ہے: وإن لم يوجد أفضل منه فلا كراهة اگر اندھے سے افضل کوئی نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز مکروہ نہیں۔ بتائیے! اس مسئلہ میں کیا اعتراض ہے؟ ------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب "ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق" سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔ پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
حالیہ پوسٹس

اعتراض نمبر ۱۹: اگر سجدے میں صرف ناک زمین پر لگائی اور پیشانی نہ لگائی یا پیشانی لگائی اور ناک نہ لگائی تو بھی جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کی رائے یہی ہے۔

  اعتراض نمبر ۱۹: فإن اقتصر على أحدهما جاز عند أبي حنيفة. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۱۰۰ باب صفة الصلوة) یعنی اگر سجدے میں صرف ناک زمین پر لگائی اور پیشانی نہ لگائی یا پیشانی لگائی اور ناک نہ لگائی تو بھی جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کی رائے یہی ہے۔ جواب: (درایت محمدی، ص ۹۴، ہدایت محمدی ص ۷) مگر مکروہ تحریمی ہے۔ امام اعظم، امام ابو یوسف اور امام محمد سب کے نزدیک سجدہ میں مسنون طریقہ یہی ہے کہ پیشانی اور ناک دونوں زمین پر لگائے۔ اگر صرف پیشانی لگائے تو نماز مکروہ ہوگی۔ اگر صرف ناک لگائے تو امام صاحب کی ایک روایت میں جائز ہے مگر مکروہ تحریمی، اور صاحبین جائز نہیں کہتے۔ شرح وقایہ میں اسی قول پر فتویٰ لکھا ہے کہ جائز نہیں۔ بلکہ شیخ عبد الحئی نے عمدۃ الرعایہ میں برہان شرح مواہب الرحمن، مراقی الفلاح اور مقدمہ غزنویہ سے نقل کیا ہے کہ امام اعظم نے اس مسئلہ میں صاحبین کے قول کی طرف رجوع کیا ہے۔ در مختار میں ہے کہ: وكره اقتصاره في السجود على أحدهما ومنعا الاكتفاء بالأنف بلا عذر وإليه صح رجوعه وعليه الفتوى سجدہ میں صرف ناک یا پیشانی پر اکتفا مکروہ ہے اور صاحبین نے ناک پر بلا عذر اکتفا مکروہ فرمایا ہے۔...

اعتراض نمبر ۱۸: رکوع سجدہ بھی آرام سے کرنا فرض نہیں۔ امام ابو حنیفہ کا اجتہاد یہی ہے کہ نہ تو سیدھا کھڑا ہونا فرض، نہ دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا فرض، نہ آرام سے رکوع کرنا فرض۔

  اعتراض نمبر ۱۸: والطمأنينة في الركوع والسجود وهذا عند أبي حنيفة ومحمد. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۹۹ باب صفة الصلوة) یعنی رکوع سجدہ بھی آرام سے کرنا فرض نہیں۔ امام ابو حنیفہ کا اجتہاد یہی ہے کہ نہ تو سیدھا کھڑا ہونا فرض، نہ دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا فرض، نہ آرام سے رکوع کرنا فرض۔ (درایت محمدی، ص ۹۳، ہدایت محمدی ص ۷) جواب: اس کا جواب اعتراض نمبر ۱۶ میں گزر چکا ہے۔ ------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب "ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق" سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔ پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

اعتراض نمبر ۱۷: دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا فرض نہیں

  اعتراض نمبر ۱۷: كذا الجلسة بين السجدتين. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۹۹ باب صفة الصلوة) یعنی دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا فرض نہیں۔ (درایت محمدی، ص ۹۳) جواب: اس کا جواب اعتراض نمبر ۱۶ میں گزر چکا ہے۔ ------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب "ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق" سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔ پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

اعتراض نمبر ۱۶: رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا فرض نہیں۔

  اعتراض نمبر ۱۶: أن الاستواء قائما فليس بفرض. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۹۹ باب صفة الصلوة) یعنی رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا فرض نہیں۔ (درایت محمدی، ص ۹۳، ہدایت محمدی ص ۶) جواب: بے شک امام اعظم کی مشہور روایت میں یہ تینوں امور فرض نہیں لیکن سنت بلکہ واجب ضرور ہیں۔ قومہ، جلسہ کے تارک اور رکوع و سجود میں آرام کے تارک کی نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے جس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ ہدایہ شریف میں صاف تصریح ہے کہ قومہ، جلسہ امام اعظم اور امام محمد کے نزدیک سنت ہے۔ اسی طرح رکوع و سجود میں آرام کرنا تخریجِ جرجانی میں سنت اور تخریجِ کرخی میں واجب ہے۔ چنانچہ فرمایا: ثم القومة والجلسة سنة عندهما وكذا الطمأنينة في تخريج الجرجاني وفي تخريج الكرخي واجبة. اگر معترض صاحبِ انصاف ہوتا تو صاف لکھ دیتا کہ قومہ، جلسہ و طمانیت امام صاحب کے نزدیک فرض نہیں لیکن سنت بلکہ واجب ہے، پھر امام صاحب کے قولِ سنت یا وجوب کے خلاف اگر دلیل رکھتا تو پیش کرتا۔ یہ تو نہ کر سکا البتہ یہ کہہ دیا کہ امام صاحب کہتے ہیں کہ فرض نہیں۔ معترض کو اگر کتب فقہ میں نظر ہوتی تو اسے معلوم ہو جاتا کہ قومہ، جلسہ و طمانیت کے وجوب کا قول ہی حنفی ...

اعتراض نمبر ۱۵: سورہ فاتحہ پڑھ لی پھر دوسری سورت نماز میں پڑھے تو اس سے پہلے بسم اللہ نہ پڑھے۔

 اعتراض نمبر ۱۵: لا يأتي بها بين السور والفاتحة. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۹۷ باب صفة الصلوة) یعنی سورہ فاتحہ پڑھ لی پھر دوسری سورت نماز میں پڑھے تو اس سے پہلے بسم اللہ نہ پڑھے۔ (درایت محمدی، ص ۹۳، ہدایت محمدی ص ۶) جواب: اس کا مطلب یہ ہے کہ سورہ فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ پڑھنا مسنون نہیں۔ بحر الرائق میں تصریح ہے: فلا تسن التسمية بين الفاتحة والسورة فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ پڑھنا مسنون نہیں۔ یہ نہیں کہ پڑھنا بھی جائز نہیں یا اس کا پڑھنا مکروہ ہے بلکہ بحر الرائق ص ۳۱۲ میں ہے: أما عدم الكراهة فمتفق عليه ولهذا صرح في الذخيرة والمجتبى بأن سمى بين الفاتحة والسورة كان حسنا عند أبي حنيفة. ذخیرہ اور مجتبیٰ میں تصریح ہے کہ اگر فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ پڑھے تو امام صاحب کے نزدیک اچھا ہے۔ محقق ابن ہمام نے اس کو ترجیح دی اور علامہ شامی نے بھی یہی لکھا ہے۔ معلوم ہوا کہ امام اعظم کے نزدیک فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ پڑھنا بہتر ہے البتہ مسنون نہیں۔ ہدایہ کی عبارت سے یہی مراد ہے۔ ہاں اگر معترض اس کو مسنون سمجھتا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موقع پر بسم اللہ ...

اعتراض نمبر ۱۴: امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ ہر رکعت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ فاتحہ سے پہلے نہ پڑھے، صرف پہلی رکعت میں پڑھے۔

 اعتراض نمبر ۱۴: ثم عن أبي حنيفة أنه لا يأتي بها في أول كل ركعة. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۹۷ باب صفة الصلوة) یعنی امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ ہر رکعت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ فاتحہ سے پہلے نہ پڑھے، صرف پہلی رکعت میں پڑھے۔ (درایت محمدی، ص ۹۳، ہدایت محمدی ص ۶) جواب: یہاں بھی معترض نے دیانت سے کام نہیں لیا۔ اسی سطر میں صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: وعنه أنه يأتي بها احتياطا وهو قولهما. (هدايه ص ۸۷) امام اعظم سے روایت ہے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ سے پہلے احتیاطاً بسم اللہ پڑھے اور یہی قول امام ابو یوسف و امام محمد کا ہے۔ وہ روایت جس کو نقل کر کے معترض نے اعتراض کیا ہے، اگر اسے کتب فقہ پر نظر ہوتی تو اسے معلوم ہو جاتا کہ اس روایت کو فقہاء نے صحیح نہیں مانا۔ چنانچہ بحر الرائق جلد اول ص ۳۱۲ میں ہے: قول من قال لا يسمى إلا في الركعة الأولى قول غير صحيح، بل قال الزاهدي إنه غلط على أصحابنا غلطًا فاحشًا. یہ قول کہ صرف پہلی رکعت میں بسم اللہ پڑھی جائے غلط ہے۔ زاہدی فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب (ائمہ) کے ہاں یہ غلطِ فاحش ہے۔ ---------------------------------------------------------------------------...

اعتراض نمبر ۱۳: ایک شخص عربی میں اچھی طرح پڑھ سکتا ہے، باوجود اس کے فارسی میں قرآن کے معنی پڑھتا ہے، قرآن نماز میں نہیں پڑھتا، اللہ اکبر کے بدلہ میں بھی اس کا ترجمہ فارسی میں پڑھ دیتا ہے تو اس کی نماز جائز ہے۔

 اعتراض نمبر ۱۳: فإن افتتح الصلوة بالفارسية أو قرأ فيها أو ذبح وسمى بالفارسية وهو يحسن العربية أجزأ عند أبي حنيفة. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۹۵ باب صفة الصلوة) یعنی ایک شخص عربی میں اچھی طرح پڑھ سکتا ہے، باوجود اس کے فارسی میں قرآن کے معنی پڑھتا ہے، قرآن نماز میں نہیں پڑھتا، اللہ اکبر کے بدلہ میں بھی اس کا ترجمہ فارسی میں پڑھ دیتا ہے تو اس کی نماز جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ یہی ہے۔ اور امام صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر وہ "اللہ" و "اللہ اکبر" نہ کہے اور فارسی میں اللہ کا نام لے کر ذبح کر ڈالے تو بھی جائز ہے بلکہ اس صفحہ میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ فارسی کی بھی کوئی قید نہیں، بأي لسان كان یعنی جس زبان میں چاہے ترجمہ ادا کر دے۔ (درایت محمدی، مسئلہ نمبر ۱۳، ص ۹۲، ۹۳، ہدایت محمدی ص ۶) جواب: افسوس کہ معترض کو تعصب نے اندھا کر دیا کہ اس کو ہدایہ شریف کی یہ عبارت نظر نہ آئی جو اس کے آگے لکھی ہے: يروى رجوعه في أصل المسئلة إلى قولهما وعليه الاعتماد. (هدايه ص ٨٦) امام اعظم کا اس مسئلہ میں صاحبین کے قول کی جانب رجوع مروی ہے اور اسی پر اعتماد (فتویٰ) ہے۔ در مختار میں بھی اسی...

اعتراض نمبر ۱۲ : اگر حرام پرندوں کی بیٹ کپڑے پر پھیلی کی چوڑائی سے بھی زیادہ لگی ہوئی ہو پھر بھی نماز ہو جائے گی۔

 اعتراض نمبر ۱۲ إن أصابه خرء ما لا يؤكل لحمه من الطيور أكثر من قدر الدرهم أجزأت الصلاة فيه عند أبي حنيفة وأبي يوسف. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۷۳ باب الانجاس) یعنی اگر حرام پرندوں کی بیٹ کپڑے پر پھیلی کی چوڑائی سے بھی زیادہ لگی ہوئی ہو پھر بھی نماز ہو جائے گی۔ امام ابو حنیفہ کی فقہ یہی ہے اور امام ابو یوسف بھی ان کے ساتھ متفق ہیں۔ (درایت محمدی، ص ۹۲، ہدایت محمدی ص ۶) جواب: حرام جانوروں کی بیٹ امام صاحب کے نزدیک نجاست مخففہ ہے اس لیے قدرِ درہم سے زیادہ لگ جانے پر بھی نماز ہو جائے گی۔ اگر معترض کے پاس اس کے مغلظ ہونے اور اس کے لگ جانے سے نماز ناجائز ہونے کی دلیل ہے تو پیش کرے۔ اگر نہیں، اور یقیناً نہیں، تو ائمہ مجتہدین پر بے جا طعن سے توبہ لازم ہے۔ سنیے! فقہاء علیہم الرحمہ نے ایک اصول لکھا ہے جو قرآن و حدیث سے مستنبط ہے، وہ یہ ہے: المشقة تجلب التيسير کہ مشقت آسانی کو کھینچتی ہے، یعنی تکلیف اور مشقت کے وقت شرعاً تخفیف ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے، تنگی کا نہیں۔ اور فرمایا: وَمَا...

اعتراض نمبر 11 : اگر نجاست خفیف ہو اور اس سے کپڑا نجس ہو گیا ہو، اگر چوتھے حصے سے کم ہو تو اسے پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے۔

 اعتراض نمبر 11 إن كانت مخففة جازت الصلاة معه حتى يبلغ ربع الثوب يروى ذلك عن أبي حنيفة. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۷۲ باب الانجاس) یعنی اگر نجاست خفیف ہو اور اس سے کپڑا نجس ہو گیا ہو، اگر چوتھے حصے سے کم ہو تو اسے پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کا مسلک یہی ہے۔ (درایت محمدی، ص ۹۲، ہدایت محمدی ص ۶) جواب: امام اعظم کے نزدیک نجاست مغلظہ وہ ہے جس کی نجاست میں نص وارد ہو اور اس کے معارض کوئی نص نہ ہو۔ نجاست مخففہ وہ ہے جس کے معارضہ میں کوئی نص ہو۔ علامہ شامی ج ۱ ص ۲۳۲ میں فرماتے ہیں: اعلم أن المغلظ من النجاسة عند الإمام ما ورد فيه نص لم يعارض بنص آخر، فإن عورض بنص آخر فمخفف كبول ما يؤكل لحمه. جانئے کہ جس میں نص بلا معارضہ وارد ہو وہ نجاست مغلظہ ہے اور جس میں دوسری نص معارض ہو وہ مخففہ ہے جیسے حلال جانوروں کا بول۔ علامہ طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح ص ۸۸ میں فرماتے ہیں: إن الإمام رضي الله عنه قال: ما توافقت على نجاسته الأدلة فمغلظ سواء اختلف فيه العلماء وكان فيه بلوى أم لا، وإلا فهو مخفف. امام رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ جس چیز کی نجاست پر ادلہ متفق ہوں وہ مغلظ ہے، اس میں علماء کا اخت...

اعتراض نمبر 10 : غلیظ نجاست جیسے کہ ناپاک خون اور پیشاب اور شراب اور مرغ کی بیٹ اور گدھے کا پیشاب وغیرہ کپڑے پر یا جسم پر بقدر ایک درہم کے لگا ہوا ہو تو بھی نماز ہو جائے گی۔

  اعتراض نمبر 10 قدر الدرهم وما دونه من النجس المغلظ كالدم والبول والخمر وخرء الدجاج وبول الحمار جازت الصلوة معه (هدايه يوسفي جلد اول ص ۷۱ باب الانجاس) یعنی غلیظ نجاست جیسے کہ ناپاک خون اور پیشاب اور شراب اور مرغ کی بیٹ اور گدھے کا پیشاب وغیرہ کپڑے پر یا جسم پر بقدر ایک درہم کے لگا ہوا ہو تو بھی نماز ہو جائے گی۔ (بقدر درہم سے مراد تھیلی کی چوڑائی کے برابر ہے اور وزن میں ایک مثقال) (هدايه يوسفي ج ۱ ص ۷۲، باب الانجاس) (درایت محمدی ص ۹۲، ہدایت محمدی ص ۶) جواب: بے شک فقہاء علیہم الرحمہ نے ایسا لکھا ہے لیکن یہ معافی بہ نسبت صحت نماز ہے نہ یہ بہ نسبت گناہ کے۔ یعنی اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا کرنے والے کو گناہ بھی نہیں۔ خود فقہاء رحمہ اللہ علیہم نے تصریح فرمائی ہے کہ ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ در مختار میں ہے: عفا الشارع عن قدر درهم وإن كره تحريما فيجب غسله. (در مختار) شارع نے قدرِ درہم معاف کیا ہے اگرچہ مکروہ تحریمی ہے، پس اس کا دھونا واجب ہے۔ معلوم ہوا کہ جس کپڑے کو بقدر درہم نجاست لگی ہوگی، اس میں نماز پڑھنا ہمارے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔ اس کا دھونا واجب اور نماز کا اعادہ واجب ہے۔ كما قا...

اعتراض نمبر ۹ : کوئی شخص عیدگاہ پہنچا، نماز ہو رہی ہے، اسے خوف ہے کہ اگر میں وضو کروں گا تو نماز ختم ہو جائے گی تو تیمم کر کے شامل ہو جائے۔

 اعتراض نمبر ۹ من حضرت العيد فخاف إن اشتغل بالطهارة أن تفوته العيد تيمم (هدايه يوسفي جلد اول ص ٥٦ باب التيمم) یعنی کوئی شخص عیدگاہ پہنچا، نماز ہو رہی ہے، اسے خوف ہے کہ اگر میں وضو کروں گا تو نماز ختم ہو جائے گی تو تیمم کر کے شامل ہو جائے۔ (درایت محمدی، ص ۹۱، ۹۲، ہدایت محمدی ص ۵) جواب: فرمائیے! یہ مسئلہ کس آیت یا حدیث کے خلاف ہے؟ ایسے شخص کے لیے تم ہی بتاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا حکم فرمایا ہے؟ اب ہم سے سنیے! ابن عباس نے فرمایا کہ جب تجھے خوف ہو کہ اگر میں وضو کروں گا تو جنازہ کی نماز فوت ہو جائے گی، تیمم کر کے نماز میں شامل ہو جاؤ۔ اس کو ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عن ابن عباس: إذا خفت أن تفوتك الجنازة وأنت على غير وضوء فتيمم وصل. رواه ابن أبي شيبة. (تخريج زيلعي ج۱ ص۸۲) ابن عمر ایک جنازہ پر تشریف لائے۔ آپ بے وضو تھے۔ آپ نے تیمم کر کے نماز پڑھی۔ اس اثر میں گو فوتِ جنازہ کی قید نہیں مگر یہ قید پہلے اثر میں موجود ہے اس لیے یہاں بھی یہی سمجھی جائے گی تا کہ آثار متعارض نہ ہوں۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عن ابن عمر أنه أتي بجنازة وهو على غير وضوء ف...

امام ابن ابی حازم، شاکر دھوبی اور امام ابو یوسف کا واقعہ: ایک علمی و تحقیقی جائزہ

امام ابن ابی حازم، شاکر دھوبی اور امام ابو یوسف کا واقعہ: ایک علمی و تحقیقی جائزہ   امام عقیلی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں اس واقعے کو اِس طرح نقل کیا ہے :  حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ نَصْرِ الزَّيَّاتُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ أَبُو الطَّاهِرِ قَالَ: سَمِعْتُ هَارُونَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي حَازِمٍ، يَقُولُ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، صَلَاةُ الصُّبْحِ وَأَبُو يُوسُفَ يَرْكَعُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَمَرَّ بِهِ شَاكِرٌ الْقَصَّارُ، فَقَالَ: يَا أَحْمَقُ، كَمْ تَرَى مَوْقِعَ هَاتَيْنِ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ، أَنَضَعُ لَكَ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذَلَّكَ بِمَوْعِظَةِ الْقَصَّارِ شَاكِرٍ۔  ہارون بن عبداللہ الزہری کو کہتے سنا کہ میں نے ابن ابی حازم سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں مسجد میں داخل ہوا تو صبح (فجر) کی نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی، اور ابو یوسف (قاضی) فجر کی دو (سنت) رکعتیں پڑھ رہے تھے۔ تو ان کے پاس سے 'شاکر قصار' (دھوبی) گزرا، اس نے کہا: 'اے احمق! فرض نم...

قربانی صرف تین دن جائز ہے

 قربانی صرف تین دن جائز ہے (1) خلیفہ راشد حضرت علی المرتضیٰ رض فرماتے ہیں کہ قربانی صرف تین دن ہے [حسن] احکام القرآن للطحاوی  حدیث:1569 (2) حضرت ابنِ عمر رض فرماتے ہیں قربانی تین دن ہیں [صحیح] المؤطا کتاب الضحایا حدیث: 12 (3) حضرت انس رض فرماتے ہیں کہ قربانی عید دن کےبعد دو اور ہیں یعنی صرف تین دن ہیں [صحیح] احکام القرآن للطحاوی حدیث: 1575 ()حضرت ابنِ عباس رض فرماتے ہیں کہ قربانی عید کے بعد صرف دو دن ہے اور سب سے افضل عید کا دن ہے    [صحیح] احکام القرآن للطحاوی حدیث :1571 صحابہ کرامؓ اور ائمہ مسلمینؒ کے ہاں قربانی تین دن ہے چنانچہ علامہ بدر الدین عینی ؒ فرماتے ہیں کہ:   قربانی کا وقت یومِ نحر(دس ذی الحجہ )اور اس کے بعد دو دن ہے۔یہ قول امام مالکؒ، امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحابؒ، سفیان ثوریؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کا ہے۔ اور یہی قول صحابہ کرامؓ میں سے:حضرت عمر بن خطابؓ حضرت علی بن ابی طالبؓ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ حضرت ابو ہریرہؓ حضرت انس بن مالکؓ سے بھی مروی ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے بھی یہی روایت منقول ہے۔  (عمدۃ ا...