امام ابو حنیفہؒ کی حکایتِ چاندی کا مدہن: ایک تحقیقی و الزامی جائزہ قَالَ أَبُو يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عبد الله مُحَمَّدُ بْنُ حِزَامٍ الْفَقِيهُ قَالَ نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ نَا شَدَّادُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ نَا زُفَرُ بْنُ الْهُذَيْلِ قَالَ اجْتَمَعَ أَبُو حَنِيفَةَ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْعُلَمَاءِ فِي وَلِيمَةٍ لِقَوْمٍ فَأَتَوْهُمْ بِطِيبٍ فِي مُدْهُنِ فِضَّةٍ فَأَبُوا أَنْ يَسْتَعْمِلُوهُ لِحَالِ الْمُدْهُنِ فَأَخَذَهُ أَبُو حَنِيفَةَ وَسَلَتَهُ بِإِصْبَعِهِ وَجَعَلَهُ فِي كَفِّهِ ثُمَّ تَطَيَّبَ بِهِ وَقَالَ لَهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أُتِيَ بِخَبِيصٍ فِي جَامِ فِضَّةٍ فَقَلَبَهُ عَلَى رَغِيفٍ ثُمَّ أَكَلَهُ فَتَعَجَّبُوا مِنْ فِطْنَتِهِ وَعَقْلِهِ ابو یعقوب نے کہا: ہمیں ابو عبداللہ محمد بن حزام فقیہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالصمد بن الفضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں شداد بن حکیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں زفر بن ہذیل نے بیان کیا۔ زفر بن ہذیل کہتے ہیں: ابو حنیفہ، ابن ابی لیلیٰ اور ع...
امام ابو حنیفہؒ کی فقاہت کا لیث بن سعدؒ اور ابن شبرمہؒ کی زبان سے اعتراف امام ابو حنیفہؒ کی فقہی بصیرت، دقتِ نظر اور مقامِ امامت کا اعتراف صرف آپؒ کے تلامذہ، اصحاب اور متعلقین ہی کی جانب سے منقول نہیں، بلکہ ایسے اجلۂ اہلِ علم کے کلمات بھی منقول ہیں جن کے دل میں ابتدا میں امام صاحبؒ کے بارے میں سخت رائے پائی جاتی تھی؛ مگر جب انہیں آپؒ کی فقاہت اور قوتِ استنباط کا مشاہدہ ہوا تو وہ اپنے سابق تأثر سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئے۔ چنانچہ مشہور محدث لیث بن سعدؒ کا واقعہ نہایت قابلِ غور ہے۔ : نا حكم بن منذر قال نا أبو يعقوب يوسف بن أحمد قال نا أبو علي أحمد بن عثمان الحافظ الأصبهاني قال نا محمد بن العباس قال نا يحيى بن عبد الله بن بكير قال سمعت الليث بن سعد يقول كنت أسمع بذكر أبي حنيفة وأتمنى أن أراه فكنت يوما في المسجد الحرام فرأيت حلقة عليها الناس منقصفين فأقبلت نحوها فرأيت رجلا من أهل خراسان أتى أبا حنيفة فقال أني رجل من أهل خراسان كثير المال وإن لي ابنا ليس بالمحمود وليس لي ولد غيره فذكر نحوه سواء وزاد قال الليث فوالله ما أعجبني قوله بأكثر مما أعجبني سرعة جوابه (الانتقاء لابن عبد ال...