﷽
تاریخ بغداد میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ
پر اعتراضات کے جوابات
---------------------------------------------------------------------------------------------
Click Here To Follow
" Al Noman Social Media Services"
Channel on WhatsApp :
یہاں کلک کر کے
"النعمان سوشل میڈیا سروسز"
وٹس ایپ چینل کو جوائن کریں اور دفاع احناف و رد غیر مقلدیت سلفیت پر ہر قسم کی پوسٹ بر وقت پائیں۔
---------------------------------------------------------------------------------------------
درج ذیل جس بھی اعتراض یا موضوع کے بابت پڑھنا چاہتے ہیں ، اس اعتراض یا موضوع پر کلک کریں ، اور پڑھیں۔ تحریر کو کاپی پیسٹ اور شئیر بھی کر سکتے ہیں
--------------------------------------------------------------------------------------------------
تاریخ بغداد میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ
پر اعتراضات کے جوابات
--------------------------------------------------------------------------------------------------
اسلامی تاریخ کے افق پر چند ایسی فروزاں شخصیتیں نمودار ہوئیں جن کی علمی ضیا پاشیاں رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔ ان عبقری ہستیوں میں سرِ فہرست امامِ اعظم، سراج الامہ، سیدنا امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابتؒ کی ذاتِ گرامی ہے، جنہوں نے تفقہ فی الدین اور تدوینِ فقہ کے وہ سنگِ میل عبور کیے کہ عقلِ انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ آپ نے شریعتِ مطہرہ کے غوامض اور باریکیوں کو جس شرحِ صدر اور اصولی ترتیب کے ساتھ مرتب فرمایا، اس نے امتِ مسلمہ کو ایک ابدی فکری اثاثہ عطا کیا۔
لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تاریخ کے جھروکوں میں جہاں علم کی روشنی ہے، وہیں حاسدین کی تیرہ بختی اور متعصبین کی کج فہمی نے بھی اپنا رنگ دکھایا ہے۔ مسلکی عصبیت کے زیرِ اثر بعض تذکرہ نگاروں نے ان ائمہِ ہدیٰ کی جانب ایسے نازیبا اور سخت اقوال منسوب کر دیے ہیں جو نہ صرف علمِ جرح و تعدیل کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہیں، بلکہ عدل و دیانت کے دامن پر بھی ایک بدنما داغ ہیں۔
ذیل میں ہم انہی بے بنیاد الزامات اور سخت اقوال کا اسماء الرجال اور اصولِ حدیث کی روشنی میں علمی و تحقیقی محاکمہ پیش کریں گے، تاکہ کذب و افترا کے بادل چھٹ سکیں اور ان اکابرین کی عظمتِ رفتہ کا دفاع حق و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہو سکے۔
اعتراض نمبر 1: حضرت امام ابو حنیفہؒ نے صرف حضرت انسؓ کو دیکھا ہے، کسی اور صحابی کو نہیں دیکھا۔
اعتراض نمبر 2: امام ابو حنیفہ اور ان کے والد نصرانی پیدا ہوئے تھے۔
اعتراض نمبر 3: امام ابو حنیفہؒ کا پہلے نام عتیک تھا انہوں نے خود بدل کر نعمان رکھا۔
اعتراض نمبر 4: امام ابو حنیفہ نبطی تھے۔
اعتراض نمبر 5 : جن لوگوں نے امام ابو حنیفہؒ کی ولادت 61ھ بتائی ہے، اس قول کا کوئی متابع نہیں۔
اعتراض نمبر 6 : امام ابو حنیفہؒ علم نحو میں کمزور تھے۔
اعتراض نمبر 7 : امام ابو حنیفہ نے تُرزقَانِهٖ کی بجائے ترزقَانَهٗ کی قراءة کو صحیح کہا ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر متفرق اعتراضات
اعتراض نمبر10: بڑے بڑے محدثین نے امام ابو حنیفہ کی تردید کی ہے۔
اعتراض نمبر 15: امام ابو حنیفہ کے ہاں جوتے کی عبادت جائز ہے۔
اعتراض نمبر 16 : قاضی شریک نے کہا کہ ابو حنیفہ قرآن کریم کی دو آیات کا انکار کرتے ہیں
اعتراض نمبر 17: امام ابو حنیفہ نے کہا کہ حضرت ابو بکرؓ کا ایمان اور ابلیس کا ایمان برابر ہے
اعتراض نمبر 20 : کہ امام ابو حنیفہ نے سعید بن جبیر کو مرجئہ اور طلق بن حبیب کو قدری کہا ہے
اعتراض نمبر 21: کہ ابو مسہر نے کہا کہ ابو حنیفہؒ مرجٸہ کے سردار ہیں۔
اعتراض نمبر 22: کہ امام ابو حنیفہ دوسروں کو مرجئہ بننے کی دعوت دیتے تھے۔
اعتراض نمبر 23: کہ امام ابو یوسف نے کہا کہ ابو حنیفہ مرجئہ اور جہمیہ میں سے تھے
اعتراض نمبر 25 : کہ ابو حنیفہ نے کہا کہ جہم بن صفوان کی عورت ہماری عورتوں کو ادب سکھاتی تھی ۔
اعتراض نمبر 27: کہ قرآن کریم کو مخلوق ، سب سے پہلے ابو حنیفہ نے کہا۔
اعتراض نمبر 29: کہ امام ابو یوسف نے کہا کہ ابو حنیفہ خلق قرآن کا نظریہ رکھتے تھے ، ہم نہیں رکھتے۔
اعتراض نمبر 30: کہ دس ثقہ آدمیوں نے کہا کہ ابو حنیفہ قرآن کریم کو مخلوق ماننے کا نظریہ رکھتے تھے۔
اعتراض نمبر 34: کہ ابو حنیفہ نے کہا کہ ابن ابی لیلی میرے ساتھ ایسا سلوک جائز سمجھتا ہے جو میں کسی جانور کے لیے بھی جائز نہیں سمجھتا۔
اعتراض نمبر 35: کہ ابن ابی لیلی نے اشعار میں ابو حنیفہ کو برے آدمی کا کافر شیخ کہا ہے۔
اعتراض نمبر 36: کہ حماد بن ابی سلیمان نے ابو حنیفہ کو مشرک کہا اور اس کے مذہب سے بیزاری ظاہر کی۔
اعتراض نمبر 40: قیس بن ربیع کہتے ہیں کہ یوسف بن عثمان نے ابو حنیفہ سے توبہ طلب کی کہ کفر سے توبہ کرے
اعتراض 41 کہ قاضی شریک نے کہا کہ ابو حنیفہ سے کفر سے توبہ طلب کی گئی تھی۔
اعتراض نمبر 42: کہ سفیان ثوری نے کہا کہ ابو حنیفہ سے دو مرتبہ کفر سے توبہ طلب کی گئی۔
اعتراض نمبر 43: کہ ابن ادریس نے کہا کہ جو ایمان میں کمی زیادتی کا نظریہ نہیں رکھتا وہ کذاب ہے
اعتراض 45 کہ ابو حنیفہ حاکم وقت کے خلاف بغاوت کا نظریہ رکھتے تھے
اعتراض نمبر 53 کہ ابو حنیفہ نے حدیث کو مسجع اور ولاء کے بارہ میں حضرت عمر کے فیصلہ والی روایت کو قول شیطان کہا۔
اعتراض نمبر 54 : کہ سفیان ابن عیینہ کہا کہ میں نے ابو حنیفہ سے بڑھ کر اللہ کے سامنے بے باکی کا مظاہرہ کرنے والا کوئی اور نہیں دیکھا وہ نبی کریم ﷺ کی حدیث کو مثال دے کر بیان کرتے پھر اس کی تردید کرتے۔
اعتراض نمبر 55: کہ ابو حنیفہ نے کہا کہ میرے ساتھیوں میں سے کون ہے جو قلتین میں پیشاب کرے اور وہ اپنی اس بات کے ساتھ 《إذا كان الماء قلتين لم ينجس》 والى حديث کا رد کر رہے تھے۔
اعتراض نمبر 59 : کہ ابو حنیفہ نے دو سو احادیث کی مخالفت کی۔
اعتراض نمبر 61: کہ ابو حنیفہ نے 《 لا قطع في ثمر ، ولا كثر 》 والی حدیث کے خلاف فتوی دیا
اعتراض نمبر 63 : کہ احمد بن المعذل نے ابو حنیفہ کے خلاف اشعار کہے۔
---------------------------------------------------------------------------
: تانیب الخطیب
تاریخ بغداد میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ
پر اعتراضات کے جوابات--------------------------------------------------------------------------
《النعمان سوشل میڈیا سروسز》دفاع اہلسنت والجماعت احناف دیوبند اور فرقہ ضالہ و باطلہ کا رد
▪︎1) النعمان سوشل میڈیا سروسز کی فخریہ پیشکش موبائل ایپلیکیشن
▪︎2) موبائل ایپلیکیشن غیر معتبر روایات کی تحقیق لنک:
▪︎3) النعمان وٹس ایپ چینل لنک :
▪︎4) النعمان سوشل میڈیا سروسز ٹیلیگرام مکتبہ لنک :
▪︎5) النعمان سوشل میڈیا سروسز فیس بک پیج لنک :
▪︎6) النعمان سوشل میڈیا سروسز ویب سائٹ :
▪︎7) النعمان سوشل میڈیا سروسز یوٹیوب چینل لنک:
▪︎8) النعمان سوشل میڈیا سروسز گوگل ڈرائیو سکین لنک :
▪︎9) النعمان سوشل میڈیا سروسز ، دفاع امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سکین فولڈر لنک :
---------------------------------------------------------------------------------------------
《النعمان سوشل میڈیا سروسز》---------------------------------------------------------------------------------------------
---------------------------------------------------------------------------
تاریخ بغداد میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ
پر اعتراضات کے جوابات
--------------------------------------------------------------------------
---------------------------------------------------------------------------------------------
---------------------------------------------------------------------------------------------
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں