نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر 44: کہ ابوبکر بن داؤد نے کہا کہ امام مالک، امام اوزاعی، امام الحسن بن صالح ، امام سفیان ثوری اور امام احمد بن حنبل اور ان کے اصحاب رحمہم اللہ کا ابو حنیفہ کو گمراہ قرار دینے پر اتفاق ہے۔


 اعتراض نمبر 44: 
کہ ابوبکر بن داؤد نے کہا کہ امام مالک، امام اوزاعی،  امام الحسن بن صالح ، امام سفیان ثوری اور امام احمد بن حنبل اور ان کے اصحاب رحمہم اللہ کا ابو حنیفہ کو گمراہ قرار دینے پر اتفاق ہے۔


حدثنا محمد بن علي بن مخلد الوراق - لفظا - قال في كتابي عن أبي بكر محمد بن عبد الله بن صالح الأسدي الفقيه المالكي قال: سمعت أبا بكر بن أبي داود السجستاني يوما وهو يقول لأصحابه: ما تقولون في مسألة اتفق عليها مالك وأصحابه، والشافعي وأصحابه، والأوزاعي وأصحابه، والحسن بن صالح وأصحابه،وسفيان الثوري وأصحابه، وأحمد بن حنبل وأصحابه؟ فقالوا له: يا أبا بكر لا تكون مسألة أصح من هذه. فقال: هؤلاء كلهم اتفقوا على تضليل أبي حنيفة.

الجواب: 

میں کہتا ہوں کہ الکامل میں ابن عدی کی عبارت یوں ہے 

《سمعت ابن ابی داود يقول الوقيعة في أبي حنيفة جماعة من العلماء》

 کہ میں نے ابن ابی داؤد کو کہتے ہوئے سنا کہ ابو حنیفہ سے اختلاف رکھنے میں علماء کا اجماع ہے اس لیے کہ بصرہ کے امام ایوب السختیانی ہیں اور کوفہ کے امام ثوری ہیں اور حجاز کے امام مالک ہیں اور مصر کے امام اللیث بن سعد ہیں اور شام کے امام الاوزاعی ہیں اور خراسان کے امام عبد اللہ بن المبارک ہیں اور ان میں سے ہر ایک نے ان کے بارے میں کلام کیا ہے۔ تو دنیا کے تمام اطراف میں اس سے اختلاف کرنے میں علماء کا اجماع ہے او کما قال الخ۔ [1]

اور خطیب نے اس واقعہ کی سند میں جس ابوبکر الاسدی کا ذکر کیا ہے وہ ابو بکر محمد بن عبد الله بن محمد بن صالح الابہری المالکی ہے جو کہ علم کا پہاڑ ہے۔ اس نے صرف اس وجہ سے قاضی بننے سے انکار کر دیا کہ اس کی نظر میں اس عہدہ کا اس کی بہ نسبت زیادہ حقدار موجود تھا اور وہ ابوبکر الرازی الجصاص الحنفی تھے اور یہ قصہ مشہور ہے[2]۔ اور پختہ بات ہے کہ ابو بکر نے ابن ابی داؤد کی اس بات کو تردید کے لیے بیان کیا اور خطیب نے ابن ابی داؤد کے قول کو ابو حنیفہ کے بارے میں جرح سے متعلق احتجاج (دلیل پکڑنے) میں ذکر کر دیا اور ابن عدی نے بھی اسی طرح کیا ہے لیکن جب خطیب نے اور ابن عدی نے راوی کے حال کی طرف توجہ نہ کی تو یہ کہہ کر ہی خوش ہونے لگے کہ کیا وہ عبد اللہ بن سلیمان بن الاشعث السجستانی نہیں ہے جو کہ صاحب السنن ابو داود کا بیٹا ہے حالانکہ اس کے باپ نے اور ابن صاعد نے اور ابراہیم بن الاصبہانی نے اور ابن جریر نے اس کو جھوٹا کہا ہے [3] اور وہ ناصبی ہے  رب تعالی کے لیے جسم مانتا ہے خبیث ہے۔ اس نے زہری سے تسلق والا من گھڑت اور جھوٹا افسانہ روایت کیا اور اس کے خلاف عادل گواہوں نے شہادت دی جو کہ حفاظ ہیں یعنی محمد بن العباس الاخرم اور احمد بن علی ابن الجارود اور محمد بن یحیی بن مندہ۔ اور قریب تھا کہ اصبہان کے امیر ابو لیلی کے ہاتھوں اس کا خون بہا دیا جاتا اگر اس کو بچانے میں بعض ایسے عہدہ داروں کی کوشش نہ ہوتی جو اس کے باپ کے قدر دان تھے اور اس کے ساتھ یہ معاملہ اس لیے ہوا تا کہ ان گواہوں جیسے لوگوں کے بارے میں طعن سے اس کو نجات مل جائے اور یہ اس کا حال تھا اگرچہ اس کا معاملہ مشہور ہو گیا ان لوگوں پر جو اس کے اندرونی حالات کو نہ جانتے تھے۔ اور وہ ابو عبد اللہ الجصاص کی صف میں تھا جس کا معاملہ بغداد میں ابن جریر کے مقابلے میں بالکل واضح ہے اور اس کی خباثتوں کی وضاحت کے لیے مستقل کتاب کی ضرورت ہے اور وہ کلام میں بد ترین جھوٹ بولتا تھا اور الحافظ ابو الوليد الباجی نے المنتقى شرح الموطا ج 7 ص 300 میں اس روایت پر بحث کرتے ہوئے جو اس نے مالک سے لی ہے[4]، اس کو بہت سخت جھوٹا کہا ہے جیسا کہ ہم نے اس کی واضح عبارت المقدمہ میں نقل کی ہے اور اہل علم کے ہاں حدیث اور فقہ اور تاریخ میں الباجی " کا مرتبہ بہت بلند ہے اور اسی نے ابن حزم کا منہ بند کیا اور اس کو خاموش کر لیا تھا۔ 

اور الحسن بن صالح کا ابو حنیفہ کی تعریف کرنا تو بہت ہی مشہور ہے اور اس کو ابن عبد البر نے الانتقاء میں اپنی سند کے ساتھ ص 28 میں ذکر کیا ہے[5] اور اسی طرح سفیان ثوری کا اس کی تعریف کرنا الانتقاء ص 27 میں ذکر کیا ہے[6] اور اللیث کا اس کی تعریف کرنا ابن ابی العوام کی کتاب میں ہے[7] اور بیشک ہم نے اس کو نصب الرایہ کے مقدمہ میں نقل کیا ہے بلکہ وہ تو اس کے قابل قدر ساتھیوں میں سے تھے۔ اور اوزاعی کے ساتھ اس کا رفع یدین کے بارے میں مناظرہ کرنا اور اس کو خاموش کرانا جو کہ الحافظ ابی محمد البخاری کی مسند میں ہے[8] اور اس کا امام ابو حنیفہ کی تعریف کرنا خطیب کی تاریخ ص 338 میں گزر چکا ہے[9] اور ایوب السختیانی کا ابو حنیفہ کی تعریف کرنے کا ذکر الانتقاء ص 125 میں ہے [10] اور عبد اللہ ابن المبارک تو اس کی زندگی اور اس کے مرنے کے بعد باقی لوگوں کی بہ نسبت اس کی زیادہ طرفداری کرنے والے تھے جیسا کہ آپ اس کا ذکر خطیب کی تاریخ میں بہت سے مقامات میں پائیں گے[11]۔ اس میں صراحت سے ذکر ہے کہ وہ اس کی انتہائی تعریف کرتے تھے۔ اور الباجی نے اس کی بہت اعلیٰ درجہ کی تعریف کی ہے اور اس کی عبارت ہم نے المقدمہ میں ذکر کی ہے[12] اسی طرح عبداللہ بن مبارک کا ابو حنیفہ کی تعریف کرنے کا ذکر الانتقاء ص 132 میں ہے[13] اور امام احمد تو اس کے حق میں رحمت کی دعائیں کیا کرتے تھے اور اس کے بارے میں اچھے کلمات کہتے تھے جیسا کہ خود خطیب نے ص 327 میں نقل کیا ہے[14] اور جیسا کہ العوفی نے مختصر الروضہ کی شرح میں ابو الورد سے نقل کیا ہے جو کہ حنابلہ کے اماموں میں سے ایک امام ہیں تو اس سے واضح ہو گیا کہ ابو داؤد کے بیٹے نے ان دونوں روایتوں میں بہتان تراشی کی ہے اور دونوں خبروں میں اپنے باپ ابو داؤد پر جھوٹ باندھا ہے۔ اور ابن عبد البر نے الانتقاء ص 32 میں عبد اللہ بن محمد بن عبد المومن بن یحی، ابو بکر محمد بن بكر بن عبد الرزاق التمار جو که ابن داسہ کے ساتھ مشہور ہیں کی سند سے نقل کیا کہ ابن داسہ نے کہا کہ میں نے ابو داؤد سلیمان بن الاشعث بن اسحاق السجستانی  سے سنا وہ کہتے تھے کہ اللہ تعالٰی امام مالک پر رحم فرمائے، وہ امام تھے۔ اللہ تعالٰی امام شافعی پر رحم فرمائے وہ امام تھا۔ اللہ تعالی ابو حنیفہ پر رحم فرمائے وہ امام تھے الخ ۔[15]بلکہ وہ اقوال جو ان ائمہ سے صحیح طور پر ثابت ہیں، وہ سارے کے سارے تعریف پر مشتمل ہیں جیسا کہ آپ ان کی صراحت اس کتاب میں اور ابن عبد البر اور ابن ابی العوام اور الصیمری وغیرہ کی کتابوں میں سندوں کے ساتھ پائیں گے لیکن بے عقل آدمی جو اللہ تعالٰی سے نہیں ڈرتا تو وہ جو چاہے جلد بازی میں لکھتا جائے۔

امام کوثری کا کلام مکمل ہوا۔

[1]۔ سمعت ابن أبي داود -عبد الله بن سليمان الأشعث- يقول: الوقيعة في أبي حنيفة جماعة من العلماء لأن إمام البصرة أيوب السختياني وقد تكلم فيه، وإمام الكوفة الثوري وقد تكلم فيه، وإمام الحجاز مالك وقد تكلم فيه، وإمام مصر الليث بن سعد وقد تكلم فيه، وإمام الشام الأوزاعي وقد تكلم فيه، وإمام خراسان عبد الله بن المبارك وقد تكلم فيه، فالوقيعة فيه إجماع من العلماء في جميع الآفاق أوكما قال

(الكامل - عبد الله بن عدي - ج 7  صفحہ 10)

[2]۔وسئل أن يلي القضاء فامتنع، فاستشير فيمن يصلح لذلك فقال: أبو بكر أحمد بن علي الرازي

 (تاریخ بغداد ت: بشار 3/491)

[3]۔ الأسم : عبد الله بن سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو بن عمران

الشهرة : عبد الله بن أبي داود السجستاني 

وضاحت:

1)۔

دونوں روایات کا سند اور متن کے اعتبار سے تقابلی مطالعہ 

پہلی روایت، جو الکامل میں مذکور ہے، اس کی سند نہایت مختصر اور متصل ہے؛ امام ابن عدیؒ نے یہ روایت براہِ راست ابن ابی داؤد سے سماع کی ہے۔ اس کے برخلاف تاریخ بغداد میں یہی روایت متعدد واسطوں کے ذریعے منقول ہوئی ہے، یعنی محمد بن علی الوراق، محمد بن عبداللہ الأبہری کے واسطے سے ابن ابی داؤد تک پہنچتی ہے۔ 

پہلی روایت میں چھ ناموں کا ذکر ہے: ایوب سختیانیؒ، سفیان ثوریؒ، مالکؒ، لیث بن سعدؒ، اوزاعیؒ، اور عبداللہ بن مبارکؒ۔ دوسری روایت میں چھ نام آتے ہیں: مالکؒ، شافعیؒ، اوزاعیؒ، حسن بن صالحؒ، سفیان ثوریؒ، اور احمد بن حنبلؒ۔ ان دونوں فہرستوں میں سے صرف مالکؒ، اوزاعیؒ اور سفیان ثوریؒ مشترک ہیں، جبکہ باقی نام بالکل مختلف ہیں۔ پہلی روایت میں محض یہ کہا گیا کہ ان ائمہ نے ابو حنیفہؒ کے بارے میں "تکلم فیہ" یعنی کلام کیا۔ دوسری روایت میں یہ دعویٰ بڑھ کر "اتفقوا علی تضلیل ابی حنیفۃ" یعنی سب نے تضلیل پر اتفاق کیا، تک پہنچ جاتا ہے۔ نیز دوسری روایت میں ہر امام کے ساتھ "وأصحابه" کا اضافہ کر کے دعوے کا دائرہ نامعلوم اصحاب کی ایک وسیع جماعت تک بھی پھیلا دیا گیا ہے  جو پہلی روایت میں سرے سے موجود نہیں۔ 

چنانچہ دونوں طرق کے تقابل سے الکامل کی روایت کو ترجیح دینا زیادہ قرینِ قیاس ہے؛ اس لیے کہ اس کی سند مختصر اور زیادہ مضبوط ہے، جبکہ تاریخ بغداد کی روایت کی سند طویل ہے اور اس کے متن میں بھی الکامل کی روایت سے زائد الفاظ پائے جاتے ہیں۔ اس بنا پر قرینِ قیاس یہی معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ بغداد کی روایت میں یہ زائد الفاظ بعد کے کسی نچلے طبقے کے راوی کی طرف سے نقل کے دوران شامل ہوئے ہیں۔

عبداللہ بن ابی داؤد ٢٣٠ھ میں سجستان میں پیدا ہوئے اور ٣١٦ھ میں بغداد میں وفات پائی۔ اب جو شخص اتنی مدت بعد پیدا ہوا ہے، وہ ان تمام ائمہ کے بارے میں یہ دعویٰ کیسے کر سکتا ہے کہ وہ سب اس بات پر متفق تھے کہ امام ابو حنیفہؒ گمراہ تھے  جبکہ گمراہی کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی گئی؟ ذرا ان اکابر کے سنِ وفات ملاحظہ ہوں:

  • ایوب سختیانیؒ — وفات ١٣١ھ

  • سفیان ثوریؒ — وفات ١٦١ھ

  • عبدالرحمٰن اوزاعیؒ — وفات ١٥٧ھ

  • حسن بن صالح بن حیؒ — وفات ۱۶۹ ھ

  • لیث بن سعدؒ — وفات ١٧٥ھ

  • مالک بن انسؒ — وفات ١٧٩ھ

  • عبداللہ بن مبارکؒ — وفات ١٨١ھ

  • محمد بن ادریس شافعیؒ — وفات ٢٠٤ھ

  • احمد بن حنبلؒ — وفات ٢٤١ھ

ابن ابی داؤد نے ان میں سے کسی ایک کا بھی زمانہ نہیں پایا  سوائے امام احمدؒ کے، جن کا زمانہ تو انہوں نے پایا لیکن ان سے سماع ثابت نہیں۔ گویا یہ سراسر ایک ایسا دعویٰ ہے جو کسی سند کے بغیر، محض ایک بہت بعد کے شخص کی زبانی، ان تمام اکابر کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے: اگر ابن ابی داؤد واقعی جانتا تھا کہ ان تمام ائمہ اور ان کے اصحاب نے امام ابو حنیفہؒ کو "مضل" کہا تھا، تو اس کے لیے اس نے کیا ماخذ یا سند پیش کی؟ روایت میں ایسی کوئی سند موجود نہیں۔ لہٰذا حقیقت میں ہمارے پاس "ان سب کا اجماع" نہیں، بلکہ محض ایک شخص کا اپنی رائے کے مطابق ان سب کے بارے میں دعویٰ ہے۔

"وأصحابہ" کا ابہام

دوسری روایت میں «مالك وأصحابه»، «الشافعي وأصحابه» اور اسی طرز پر دیگر ائمہ کے ساتھ «وأصحابه» کا لفظ وارد ہوا ہے۔ لیکن مالکؒ کے اصحاب سے کون حضرات مراد ہیں؟ آیا اس لفظ سے ان کے جملہ اصحاب و تلامذہ مراد ہیں، یا ان میں سے بعض اشخاص مخصوص؟ اور اگر بعض ہی مراد ہیں تو وہ کون ہیں، اور ان کی طرف اس قول کی نسبت کس معتبر ماخذ سے ثابت ہے؟ یہی سوال امام شافعیؒ، امام احمدؒ، امام سفیان ثوریؒ اور دیگر ائمہ کے اصحاب کے متعلق بھی پوری قوت سے قائم رہتا ہے۔  پس محض «وأصحابه» کے ایک مبہم اور غیر معین لفظ سے نامعلوم افراد کی ایک کثیر جماعت کو امام ابو حنیفہؒ کی تضلیل کا ہم نوا قرار دینا نہ علمی تحقیق کا تقاضا ہے، نہ تاریخی اثبات کا معتبر طریق۔  با حلوای حلوا گفتن، دهان شیرین نمی‌شود 

خود ابن ابی داؤد کی ذاتی حیثیت

کیا خود ابن ابی داؤد کی ذات ایسی صفائے باطن، استقامتِ حال اور وثاقتِ مقام کی حامل تھی کہ امت کے جلیل القدر امام ابو حنیفہؒ  کی تضلیل جیسے دعوے کو  بے تکلف قبول کر لیا  جائے؟ جب دعویٰ اس قدر جسیم ہو تو مقتضائے تحقیق یہ ہے کہ پیش ازاں خود مدعی کی سیرت و شخصیت کو میزانِ نقد پر تولا جائے۔

کذب کی جرح

امام ابراہیم بن اورمہ الاصبہانیؒ نے عبداللہ بن ابی داؤد سجستانی کو کذاب کہا ہے۔ سند یوں ہے: "سمعت مُوسَى بْنَ الْقَاسِمِ بْنِ مُوسَى بْنِ الْحَسَنِ بْنِ مُوسَى الأَشْيَبِ (ثقة) يقول، حَدَّثني أبو بكر (ابو بکر بن ابی الدنیا: ثقۃ صدوق)، قَالَ: سَمِعْتُ إبراهيم الأصبهاني (إبراهيم بن أورمة أبو إسحاق الأصبهاني: الإمام، الحافظ، ثقة، حافظ نبيل) يقول: أبو بكر بن أبي داود كذاب" (الکامل في ضعفاء الرجال لابن عدی، ج ٥، ص ٤٣٦)۔

شیخ المعلمي اليماني صاحب اس جرح کو کمزور کرنے کی سعی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "أبو بكر شيخ الأشيب يحتمل أن يكون هو ابن أبي الدنيا لأنه ممن يروي عن إبراهيم وممن يروي عنه الأشيب، ويحتمل أن يكون غيره لأن أصحاب هذه الكنية في ذاك العصر ببغداد كثيرون ولم يشتهر ابن أبي الدنيا بهذه الكنية بحيث إذا ذكرت وحدها في تلك الطبقة ظهر أنه المراد، فعلى هذا لا يتبين ثبوت هذه الكلمة عن ابن الأصبهاني. وابن أبي داود إن كان سنة عند وفاة الأصبهاني سنة ٢٦٦ فوق الثلاثين فلم يكن قد تصدى للرواية في زمانه"

یعنی شیخ کے نزدیک اشیب کے شیخ ابو بکر سے مراد ابن ابی الدنیا ہونا قطعی نہیں؛ ممکن ہے کوئی اور شخص ہو، کیونکہ اس عہد میں بغداد میں اس کنیت کے حامل متعدد اشخاص تھے۔ (التنكيل، ط المکتب الإسلامي، ٢/‏٥١٨)

مگر غور کیا جائے تو یہ طرزِ استدلال تحقیق کی تکمیل سے زیادہ احتمال تراشی معلوم ہوتا ہے۔ خود شیخ المعلمي کا معروف اصول یہ ہے کہ راوی کی تعیین میں اس کے شيوخ و تلامذہ کی موافقت بنیادی قرینہ ہے۔ چنانچہ اسی کتاب میں فرماتے ہیں: "وأما إبراهيم بن جنيد فإن كان هو في الرقي فمجهول كما في (لسان الميزان)... وإن كان هو إبراهيم بن عبد الله بن الجنيد الختلي البغدادي، نسب إلى جده فثقة، لكن لم أر في ترجمته من (تاريخ بغداد) ذكر عبيد بن يعيش في شيوخه، ولا محمد بن أحمد بن حماد في الرواة عنه" (التنكيل، ١/‏٢٠)۔ پس اسی میزان کو یہاں جاری کیا جائے تو خود شیخ کے الفاظ "لأنه ممن يروي عن إبراهيم وممن يروي عنه الأشيب" اس تعیین کے لیے نہایت قوی قرینہ ہیں؛ یعنی ابو بکر بن ابی الدنیا کا ابراہیم سے روایت کرنا اور اشیب کا ان سے روایت کرنا، اسی طبقاتی اتصال کی صریح تائید کرتا ہے جسے شیخ دوسرے مقامات پر تعیینِ رواۃ کا معتبر وسیلہ قرار دیتے ہیں۔

مزید برآں، سلفی محقق سرساویؒ نے الکامل في ضعفاء الرجال کی تحقیق میں اس ابہام کو رفع کرتے ہوئے صاف لکھا ہے: "«أبو»، وهو الصواب، وهو أبو بكر بن أبي الدنيا" (ت السرساوی، ج ٧، ص ١١٦)۔ اور خود شیخ المعلمي صاحب کے قول "فعلى هذا لا يتبين ثبوت هذه الكلمة عن ابن الأصبهاني" پر ان کے ہم مکتب محقق أبو الطيب نايف بن صلاح بن علي المنصوري نے صراحتاً تعاقب کیا ہے: "أقول: الصواب ثبوت هذه الحكاية عن ابن الأَصْبَهاني" (بلوغ الأماني بتراجم شيوخ أبي الشيخ الأصبهاني، ١/‏٦٠٧)۔ پس جس احتمال کو شیخ المعلمي نے ثبوتِ روایت کے منافی قرار دیا، اسی احتمال کے مقابل میں خود ان کے مکتب کے محققین نے قرائنِ روایت و تعیین کی بنا پر ثبوت کو راجح قرار دیا ہے۔

مزید برآں، اس کی تائید ایوب بن عتبہ کے ترجمے میں بھی ہوتی ہے : "سمعت ابن عدي يقول: قال إبراهيم بن الأصفهاني أبو بكر ثلاثة كذابين أبو بكر أحمد بن أبي يحيى، وأبو بكر بن أبي داود السجستاني، وأبو بكر بن الباغندي" (الکامل في ضعفاء الرجال، ٢/‏١١)۔یہی وجہ ہے کہ خود ابن عدیؒ نے دوسری جگہ بلا کسی تردد کے تصریح فرمائی:  "وابن أبي داود قد تكلم فيه أبوه وإبراهيم الأصبهاني" (الكامل في ضعفاء الرجال ٥/‏٤٣٧)

مزید تقویت اس امر کو اس شہادت سے پہنچتی ہے کہ سلفی محقق أبو الطيب نايف بن صلاح المنصوري نے بلوغ الأماني بتراجم شيوخ أبي الشيخ الأصبهاني (٢/‏١٠٠٧) میں تاريخ دمشق کی ایک روایت کو، جسے وہ صحیح سند سے منقول قرار دیتے ہیں، یوں نقل کیا ہے: "في «تاريخ دمشق» بإسناد صحيح عن حمزة السهمي قال: أنبأنا عبد الله بن عدي قال: وقال إبراهيم بن الأصبهاني: أبو بكر ثلاثة كذابون: أبو بكر أحمد بن أبي يحيى، وأبو بكر بن أبي داود السجستاني، وأبو بكر بن الباغندي"۔  گویا سند صحیح ہے، اور شیخ المعلمي صاحب نے یہاں محض ٹال مٹول سے کام لیا ہے کیونکہ انہیں کذب کی اس جرح سے عبداللہ بن ابی داؤد سجستانی کو بچانا مقصود تھا۔

حضرت عائشہؓ اور حضرت علیؓ کی توہین پر مبنی روایت اور امام ذہبیؒ کا حکم

ابن عدیؒ لکھتے ہیں: "ونسب في الابتداء إلى شيء من النصب، ونفاه ابن فرات من بغداد إلى واسط، وردّه علي بن عيسى، وأظهر فضائل علي، ثمَّ تحنبل فصار شيخًا فيهم" 

ابتداء میں اس کی طرف نصب (حضرت علیؓ سے بغض) کی نسبت کی گئی، ابن فرات نے اسے بغداد سے واسط جلاوطن کر دیا، پھر علی بن عیسیٰ نے اسے واپس بلایا، تو اس نے فضائلِ علیؓ ظاہر کرنے شروع کیے، پھر حنبلی ہو گیا اور ان میں سربراہ بن گیا۔ (الکامل، ٤/‏٢٦٦)۔ امام ذہبیؒ اور ابن عدیؒ نے وہ روایت بھی نقل کی ہے جس میں ابن ابی داؤد نے ایک ایسی روایت بیان کی جس سے حضرت عائشہؓ اور حضرت علیؓ کی سخت توہین ہوتی ہے۔ اس روایت پر امام ذہبیؒ نے موصوف کو "خفیف الرأس" یعنی دماغ کا ہلکا یا بیوقوف کہا (سیر أعلام النبلاء، ١٣/‏٢٢٩-٢٣٠)۔

خود شیخ المعلمي صاحب نے اصبہان کے واقعے میں ابن ابی داؤد کا ایک نہایت قابلِ گرفت کردار بیان کیا ہے۔ ان کے بقول ابن ابی داؤد ایک ایسی حکایت سے واقف تھا جو نواصب کی طرف سے امام زہریؒ کے واسطے سے حضرت عروہؒ کی طرف منسوب کی جاتی تھی؛ خود ابن ابی داؤد اس حکایت کے بطلان کا علم اور اعتقاد رکھتا تھا، مگر اسے علمی مذاکرے میں اِغراب اور اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے محفوظ کیے ہوئے تھا۔ پھر جب وہ اصبہان پہنچا اور وہاں کے محدثین سے مذاکرہ ہوا، تو انہیں اپنے علم سے مغلوب کرنے کے لیے اسی حکایت کا سہارا لیا۔ شیخ المعلمي لکھتے ہیں: «وكان ابن أبي داود صلفًا تَيَّاهًا حريصًا على الغلبة ... فحفظ ابن أبي داود الحكاية مع علمه واعتقاده بطلانها لكن كان يعدها للإغراب عند المذاكرة»۔

ابن ابی داؤد صلف تھا  یعنی اکڑنے والا، متکبر اور درشت مزاج؛
تَيَّاہ تھا  یعنی اپنی بڑائی میں اترانے والا، خود پسند اور متکبر؛
اور حریصًا على الغلبة یعنی بحث و مذاکرے میں دوسروں پر غلبہ پانے کا شدید حریص تھا۔ (التنكيل - ط المكتب الإسلامي ٢/‏٥٢٣)

ایسا لاابالی انسان، جس کا اپنا کردار صاف نہ ہو، کیسے اس قابل ہو سکتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کی تضلیل پر امتِ مسلمہ کے اکابر کا اجماع نقل کر سکے؟

ابن ابی داؤد اور حدیث میں عدمِ احتیاط 

ابن ابی داؤد کے طرزِ نقد و کلام کی کیفیت کا اندازہ اس واقعے سے بھی بخوبی کیا جاسکتا ہے کہ جب ان سے حدیثِ طیر کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے نہایت بے باکانہ اور غیر محتاط کلام کیا: "سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي دَاوُدَ عَنْ حَدِيْثِ الطَّيْرِ، فَقَالَ: إِنْ صَحَّ حَدِيْثُ الطَّيْرِ فنُبُوَّةُ النَّبِيِّ -ﷺ- بَاطِلٌ، لأَنَّهُ حَكَى عَنْ حَاجِبِ النَّبِيِّ -ﷺ- خِيَانَةً -يَعْنِي: أَنَسًا- وَحَاجِبَ النَّبِيِّ لاَ يَكُونُ خَائِنًا"۔

 یعنی: میں نے ابن ابی داؤد سے حدیثِ طیر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اگر حدیثِ طیر صحیح ہو تو نبی کریم ﷺ کی نبوت باطل ہوجاتی ہے؛ کیونکہ اس میں نبی ﷺ کے دربان، یعنی انسؓ، کی خیانت کا ذکر ہے، حالاں کہ نبی ﷺ کا دربان خائن نہیں ہوسکتا۔ یہاں امام ذہبیؒ نے اس کلام پر نہایت سخت تعاقب فرمایا اور لکھا: "قُلْتُ: هَذِهِ عِبَارَةٌ رَدِيْئَةٌ، وَكَلاَمٌ نَحْسٌ، بَلْ نُبُوَّةُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- حَقٌّ قَطْعِيٌّ، إِنْ صَحَّ خَبَرُ الطَّيْرِ، وَإِنْ لَمْ يَصُحَّ، وَمَا وَجْهُ الارْتِبَاط؟" 

یعنی ابن ابی داؤد کی یہ عبارت نہایت رکیک، شنیع اور نامبارک کلام ہے؛ نبوتِ محمد ﷺ تو قطعی اور ناقابلِ تردد حق ہے، خواہ حدیثِ طیر صحیح ہو یا صحیح نہ ہو، پھر ان دونوں امور کے درمیان کیا ربط ہے؟  (سیر أعلام النبلاء، ط الرسالۃ، ١٣/‏٢٣٢)۔

یہ واقعہ اس امر کی واضح مثال ہے کہ ابن ابی داؤد مباحث میں کبھی ایسے نتائج تک پہنچ جاتے تھے جن کے لیے مقدمات اور دعوے کے مابین کوئی لازم ربط موجود نہ تھا۔ رہا اس روایت کی سند میں علی بن عبداللہ الدہری کے مجہول ہونے کا اعتراض، تو اس کے جواب میں یہ بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ معاصر سلفی محقق أبو الطيب نايف بن صلاح المنصوري نے اس کے متعلق لکھا ہے: "قلت: [مقبول] ولو قيل: صدوق -إن شاء الله- لرواية هؤلاء الأئمة عنه فليس ببعيد -والله أعلم-" (الدليل المغني لشيوخ الإمام أبي الحسن الدارقطني، ١/‏٣٠٣)۔ یعنی اسے کم از کم مقبول قرار دینا بعید نہیں، بلکہ متعدد ائمہ کی اس سے روایت کے پیشِ نظر صدوق کہنے کی بھی گنجائش ہے۔

اور اس سے بڑھ کر یہ کہ خود امام ذہبیؒ نے اس روایت کو نقل کرکے اس پر تفصیلی تعاقب فرمایا ہے؛ لہٰذا اسے محض کسی غیر معتبر حکایت کی حیثیت سے نظرانداز کرنا بھی درست نہیں۔ غرض یہ کہ ابن ابی داؤد کا مذکورہ کلام خود ان کے طرزِ نقد میں عدمِ احتیاط، لوازمِ کلام سے متعلق عدمِ توازن اور حدیثی استدلال میں کبھی کبھی غیر منضبط طرزِ تفریع کی ایک نمایاں مثال ہے۔

ابن ابی داؤد کے شاگرد امام دارقطنیؒ  کی گواہی

امام دارقطنیؒ ان کے بارے میں فرماتے ہیں: "سألت الدارقطني عن ابن أبي داود، فقال: ثقة، كثير الخطأ في الكلام على الحديث" (تذکرۃ الحفاظ، ٢/‏٧٧١)۔ ترجمہ: "ثقہ ہے، لیکن حدیث پر کلام کرنے میں بہت غلطیاں کرتا ہے۔" نیز امام بغویؒ کی قسم بھی ملاحظہ ہو، جسے ابن عدیؒ نقل کرتے ہیں: "قال البغوي لما قرأ رقعته أنت والله عندي منسلخ من العلم" (الکامل في ضعفاء الرجال، ٥/‏٤٣٦)  یعنی امام بغویؒ نے ان کا خط پڑھ کر کہا: "خدا کی قسم! تم میرے نزدیک علم سے بالکل عاری ہو!"

امام طبریؒ کے خلاف ابن ابی داؤد کا کردار

امام ذہبیؒ لکھتے ہیں: "وقد قام ابن أبي داود وأصحابه، وكانوا خلقًا كَثِيْرا على ابن جرير ونسبوه إِلى بدعة اللفظ، فصنَّف الرجلُ معتقدًا حسنًا سمعناه، تنصَّل فيه مما قيل عنه، وتألَّم لذلك" (میزان الاعتدال، ٢/‏٤٣٥)۔

 ابن ابی داؤد اور اس کے ساتھی، جو کثیر تعداد میں تھے، ابن جریر طبریؒ کے خلاف کھڑے ہو گئے اور اسے بدعتِ لفظ کی طرف منسوب کیا، تو ابن جریرنے ایک عمدہ عقیدہ نامہ تصنیف کیا جسے ہم نے سنا، جس میں اس نسبت سے براءت ظاہر کی اور اس پر رنجیدہ ہوئے۔

باپ بیٹے کے مابین اختلاف اور خود ابو داودؒ کا امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں موقف

ابن ابی داؤد اور ان کے والد امام ابو داود سجستانیؒ کے مابین طبیعت اور موقف میں فرق تھا۔

قضاء کی خواہش پر والد کی ناراضی

صحیح سند سے مروی ہے کہ ابن ابی داؤد قاضی بننا چاہتے تھے، جبکہ ان کے والد اسے پسند نہ کرتے تھے: "سمعت عبدان يقول: سمعت أبا داود السجستاني يقول ومن البلاء أن عبد الله يطلب القضاء" 

’’میں نے عبدان کو کہتے سنا کہ میں نے ابو داود سجستانیؒ کو فرماتے ہوئے سنا: یہ بھی ایک مصیبت ہے کہ عبداللہ قضاء کا طلب گار ہے۔‘‘  (الکامل في ضعفاء الرجال، ٥/‏٤٣٦)۔

شیخ المعلمي نے والد کی اس سخت تعبیر کو قضاء سے اکابر ائمہ کی عمومی دوری اور شفقتِ پدری کے دائرے میں رکھنے کی کوشش کی ہے؛ لیکن خود شیخ المعلمي کی اپنی شہادت اس تاویل کو پوری طرح بے تکلف قبول کرنے میں مانع ہے۔ وہ ابن ابی داؤد کے مزاج کے متعلق صاف لکھتے ہیں: «وكان ابن أبي داود صلفًا تَيَّاهًا حريصًا على الغلبة»؛ یعنی وہ خود پسند، متکبر، اترانے والا اور غلبۂ بحث کا حریص تھا۔

لہٰذا زیادہ قرینِ قیاس بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ محدثِ وقت امام ابو داودؒ نے اپنے بیٹے کی طبیعت کو قریب سے پہچان لیا تھا اور اس کے مزاج و کردار سے بخوبی واقف تھے۔ چنانچہ انہوں نے بیٹے کے لیے اس منصب کی طلب کو «من البلاء» قرار دیا۔ آخر ایک والد اپنے بیٹے کے مزاج اور رجحانات سے دوسروں کی نسبت زیادہ واقف ہوتا ہے۔

امام ابو داودؒ کا امام ابو حنیفہؒ کی صریح توثیق

امام ابو داودؒ سے صحیح سند کے ساتھ امام ابو حنیفہؒ کی تعریف منقول ہے: "محمد بن بكر بن داسة يقول سمعت أبا داود سليمان بن الأشعث السجستاني يقول رحم الله مالكا كان إماما رحم الله الشافعي كان إماما رحم الله أبا حنيفة كان إماما" (جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبدالبر، ج ٢، ص ١٦٣)۔

 امام ابو داودؒ فرماتے تھے: "اللہ مالکؒ پر رحم فرمائے، وہ امام تھے۔ اللہ شافعیؒ پر رحم فرمائے، وہ امام تھے۔ اللہ ابو حنیفہؒ پر رحم فرمائے، وہ امام تھے۔"

خود والد کا اپنے بیٹے پر جرحِ کذب

 ابن ابی داؤد کے والد نے بھی اپنے بیٹے پر کذب کی جرح کی تھی، جیسا کہ ابن عدیؒ نے صراحت کے ساتھ نقل کیا ہے: «ابن أبي داود قد تكلم فيه أبوه»

یعنی: ’’ابن ابی داؤد کے بارے میں خود اس کے والد نے کلام کیا ہے۔‘‘

اور ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: «وأما كلام أبيه فيه فلا أدري أيش تبين له منه»

یعنی: ’’رہا اس کے والد کا اس کے بارے میں کلام، تو مجھے معلوم نہیں کہ اس کے والد پر اس کے متعلق کیا بات ظاہر ہوئی تھی۔‘‘

پھر اسی کتاب میں ایک اور مقام پر ابن عدیؒ لکھتے ہیں: «قال الشيخ: كان الباغندي شيطان في التدليس واما بن أبي داود فإن أباه كان كذبه قال ابن صاعد يكفينا ما قال أبوه فيه»
(الکامل في ضعفاء الرجال، ٢/‏١١)

یعنی: ’’شیخ نے کہا: باغندی تدلیس میں شیطان تھا، اور ابن ابی داؤد کے بارے میں یہ ہے کہ اس کے والد نے اسے کاذب قرار دیا تھا۔ ابن صاعد نے کہا: اس کے بارے میں اس کے والد نے جو کچھ کہہ دیا ہے، وہی ہمارے لیے کافی ہے۔‘‘

امام ذہبیؒ  تذکرة الحفاظ میں لکھتے ہیں: «وأما قول أبيه فيه فالظاهر أنه إن صح عنه، فقد عنى أنه كذاب في كلامه لا في الحديث النبوي، وكأنه قال هذا وعبد الله شاب طري، ثم كبر وساد»

یعنی: ’’رہا اس کے والد کا اس کے بارے میں یہ قول، تو بظاہر اگر یہ ان سے صحیح ثابت ہو، تو انہوں نے یہ مراد لیا ہوگا کہ وہ اپنی گفتگو میں کاذب ہے، نہ کہ حدیثِ نبوی میں۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ بات اس وقت کہی جب عبداللہ ابھی کم عمر اور نوخیز تھا، پھر وہ بڑا ہوا اور صاحبِ وجاہت و سیادت بن گیا۔‘‘

اسی طرح سير أعلام النبلاء - ط الرسالة ١٣/‏٢٣١ میں فرماتے ہیں: «لعل قول أبيه فيه - إن صح - أراد الكذب في لهجته لا في الحديث النبوي، فإنه حجة فيما نقله، أو كان يكذب ويوري في كلامه، ومن زعم أنه لا يكذب أبدا فهو أرعن»

یعنی: ’’شاید اس کے والد کا اس کے بارے میں یہ قول، اگر صحیح ثابت ہو، تو اس سے مراد اس کی گفتگو اور لہجے میں کذب ہو، نہ کہ حدیثِ نبوی میں؛ کیونکہ وہ جو احادیث نقل کرتا ہے ان میں حجت ہے۔ یا یہ مراد ہو کہ وہ اپنی گفتگو میں کذب کرتا اور بات کو توریہ کے ساتھ بیان کرتا تھا۔ اور جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا تھا، وہ احمق ہے۔‘‘

غور کیجیے کہ امام ذہبیؒ نے یہاں والد کی جرح کو سرے سے باطل، بے اصل یا غیر ثابت قرار نہیں دیا، بلکہ دونوں مقامات پر اس کی مختلف توجیہات اور تاویلات پیش کی ہیں: کہیں اسے ’’کلام میں کذب‘‘ پر محمول کیا، کہیں توریہ کا احتمال ذکر کیا، اور کہیں یہ احتمال ظاہر کیا کہ یہ کلام ابن ابی داؤد کی کم سنی کے زمانے کا ہے۔ اس طرزِ کلام سے کم از کم یہ امر ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اس جرح کی کوئی نہ کوئی اصل اور وجہِ اعتبار ان کے نزدیک موجود تھی؛ اسی لیے انہوں نے اصل نسبت کو ساقط کرنے کے بجائے اس کے مفہوم کی تاویل فرمائی۔گویا خود امام ذہبیؒ کے نزدیک بھی یہ جرح بالکل بے بنیاد نہ تھی؛ ورنہ اگر ان کے نزدیک اصلِ نسبت ہی غیر ثابت ہوتی تو وہ صاف کہہ سکتے تھے کہ ’’یہ روایت صحیح نہیں‘‘ یا ’’والد سے یہ قول ثابت نہیں‘‘۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ ان کی گفتگو سے کم از کم اصلِ جرح کے لیے ایک قابلِ لحاظ بنیاد کا اشارہ ضرور ملتا ہے۔

اسی طرح اگر ابن عدیؒ کے نزدیک والد کی یہ جرح محض بے اصل، ساقط یا ناقابلِ التفات ہوتی، تو اس انداز سے اسے نقل کرنا اور ابن صاعد کے اس تبصرے کو محفوظ کرنا بے معنی ہوتا۔ چنانچہ ابن عدیؒ کے کلام سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس جرح کی کوئی نہ کوئی بنیاد اور وزن ضرور تھا۔

خود ان اکابر کی صحیح سند سے موجود شہادات، جو ابن ابی داؤد کے دعوے کے سراسر خلاف ہیں

سب سے اہم اور فیصلہ کن نکتہ یہ ہے کہ ابن ابی داؤد کے پاس ان اکابر سے منسوب اس دعوے کی کوئی مستند سند موجود نہیں، جبکہ صحیح اسناد سے اس دعوے کے برعکس حقیقت ثابت ہوتی ہے۔

الانتقاء لابن عبدالبر (ص ١٥٤) میں ہے کہ امام لیث بن سعدؒ نے خود امام ابو حنیفہؒ سے ملاقات کی خواہش کی اور مسجدِ حرام میں ان کی مجلس میں شرکت کی، اور فرمایا: "فوالله ما أعجبني قوله بأكثر مما أعجبني سرعة جوابه"  یعنی مجھے ان کی رائے سے زیادہ ان کی سرعتِ جواب نے متاثر کیا۔ امام حماد بن زیدؒ کا قول ہے: "اللہ کی قسم، میں ابو حنیفہ سے اس لیے محبت کرتا ہوں کہ وہ ایوب سے محبت کرتے تھے" (فضائل ابی حنیفہ، ص ١٩٤، سند حسن؛ الانتقاء لابن عبدالبر، ص ١٣٠)۔ نیز جب امام ابو حنیفہؒ حج پر گئے تو امام ایوب سختیانیؒ نے انہیں سلام بھجوایا (فضائل ابی حنیفہ، ص ١٠٤، سند حسن؛ الانتقاء، ص ١٢٥؛ تاریخ بغداد)۔ حسن بن صالح بن حیؒ امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں فرماتے ہیں: "كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ شَدِيدَ الْخَوْفِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، هَائِبًا لِلْحَرَامِ أَنْ يَسْتَحِلَّ" یعنی: ابو حنیفہؒ اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ خوف رکھنے والے اور حرام سے اس قدر ڈرنے والے تھے کہ اسے حلال سمجھ لینے سے بھی خائف رہتے تھے۔ (فضائل ابی حنیفہ وأخبارہ ومناقبہ لابن ابی العوام، رقم النص: 133)
امام مالکؒ کے بارے میں منقول ہے: "كان مالك بن أنس ينظر في كتب أبي حنيفة وينتفع بها" یعنی: امام مالک بن انسؒ امام ابو حنیفہؒ کی کتابوں کا مطالعہ کرتے اور ان سے استفادہ کرتے تھے۔ (فضائل ابی حنیفہ وأخبارہ ومناقبہ، ص 235) عبداللہ بن مبارکؒ فرماتے ہیں: "إِذَا سَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ أَبَا حَنِيفَةَ بِسُوءٍ سَاءَنِي ذَلِكَ، وَأَخَافُ عَلَيْهِمُ الْمَقْتَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" یعنی: جب میں لوگوں کو ابو حنیفہؒ کا برائی کے ساتھ ذکر کرتے سنتا ہوں تو مجھے اس سے تکلیف ہوتی ہے، اور مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی نہ ہو جائے۔ (فضائل ابی حنیفہ، ص 76، سند صحیح) امام شافعیؒ سے منقول ہے: "ما رأيت أحدا أفقه من أبي حنيفة" یعنی: میں نے ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر کسی کو فقہ میں ماہر نہیں دیکھا۔ (تاریخ بغداد، تحقیق بشار، 15/474، سند صحیح)


 اس موضوع پر تفصیلی مباحث ہماری کتاب «تحويل التنكيل إلى صاحبه المعلمي، لما وقع في الأوهام والأباطيل» میں مذکور ہیں۔


[4]۔ قَالَ الْقَاضِي أَبُو الْوَلِيدِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعِنْدِي أَنَّ هَذِهِ الرِّوَايَةَ غَيْرُ صَحِيحَةٍ عَنْ مَالِكٍ؛ لِأَنَّ مَالِكًا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى مَا يُعْرَفُ مِنْ عَقْلِهِ وَعِلْمِهِ وَفَضْلِهِ وَدِينِهِ وَإِمْسَاكِهِ عَنْ الْقَوْلِ فِي النَّاسِ إلَّا بِمَا يَصِحُّ عِنْدَهُ وَثَبَتَ لَمْ يَكُنْ لِيُطْلِقَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ مَا لَمْ يَتَحَقَّقْهُ وَمِنْ أَصْحَابِ أَبِي حَنِيفَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَقَدْ شُهِرَ إكْرَامُ مَالِكٍ لَهُ وَتَفْضِيلُهُ إيَّاهُ، وَقَدْ عُلِمَ أَنَّ مَالِكًا ذَكَرَ أَبَا حَنِيفَةَ بِالْعِلْمِ بِالْمَسَائِلِ وَأَخَذَ أَبُو حَنِيفَةَ عَنْهُ أَحَادِيثَ وَأَخَذَ عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُوَطَّأَ وَهُوَ مِمَّا أَرْوِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَبْدِ بْنِ أَحْمَدَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، وَقَدْ شُهِرَ تَنَاهِي أَبِي حَنِيفَةَ فِي الْعِبَادَةِ وَزُهْدُهُ فِي الدُّنْيَا، وَقَدْ اُمْتُحِنَ وَضُرِبَ بِالسَّوْطِ عَلَى أَنْ يَلِيَ الْقَضَاءَ فَامْتَنَعَ، وَمَا كَانَ مَالِكٌ لِيَتَكَلَّمَ فِي مِثْلِهِ إلَّا بِمَا يَلِيقُ بِفَضْلِهِ وَلَا نَعْلَمُ أَنَّ مَالِكًا تَكَلَّمَ فِي أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الرَّأْيِ وَإِنَّمَا تَكَلَّمَ فِي قَوْمٍ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَدْرَكْتُ بِالْمَدِينَةِ قَوْمًا لَمْ تَكُنْ لَهُمْ عُيُوبٌ فَبَحَثُوا عَنْ عُيُوبِ النَّاسِ فَذَكَرَ النَّاسُ لَهُمْ عُيُوبًا وَأَدْرَكْت بِهَا قَوْمًا كَانَتْ لَهُمْ عُيُوبٌ سَكَتُوا عَنْ عُيُوبِ النَّاسِ فَسَكَتَ النَّاسُ عَنْ عُيُوبِهِمْ فَمَالِكٌ يُزَهِّدُ النَّاسَ عَنْ الْعُيُوبِ وَمِنْ أَيْنَ يَبْحَثُ فِي عُيُوبِ النَّاسِ وَكَيْفَ يَذْكُرُ الْأَئِمَّةَ بِمَا لَا يَلِيقُ بِفَضْلِهِ، وَقَدْ ذَكَرْت فِي كِتَابِ فِرَقِ الْفُقَهَاءِ مَا نُقِلَ عَنْهُ مِنْ ذَلِكَ وَبَيَّنْتُ وُجُوهَهُ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ وَأَحْكَمُ.

(المنتقی شرح الموطا 7/300)

[5]۔كان النعمان بن ثابت فهما عالما متثبتا في علمه، إذا صحّ الخبر عنده عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ لم يعده إلى غيره

امام حسن بن صالح رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: 

 ابو حنیفہ زبردست عالم تھے اور علم میں مضبوط. جب آپ کے نزدیک کوئی حدیث ثابت ہوجاتی تو پھر کسی اور کی طرف توجہ نہیں کرتے۔

 (الانتقاء  ت :عبدالفتاح ابو غدہ صفحہ 198 ، 199 )

[6]۔  وقال أبو عمر بن عبد البر: ثنا أبو على الأسيوطى، قال: حدثنا أحمد بن محمد بن علامة الطحاوى، قال: حدثنا أحمد بن أبى عمران، قال: أخبرنا محمد بن شجاع قال: سمعت الحسن بن أبى مالك يقول: سمعت أبا يوسف يقول: سفيان الثورى أكثر متابعة لأبى حنيفة.

 وعن عبد الله أبى داود الحربى يقول: كنت عند سفيان الثورى، فسأله رجل عن مسألة من مسائل الحج فأجابه، فقال له الرجل: إن أبا حنيفة قال فيها كذا، قال: هو كما قال أبو حنيفة، ومن يقول غير هذا؟!

 (الانتقاء  ت :عبدالفتاح ابو غدہ صفحہ 197 )

[7]۔ قَالَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ: " كُنْتُ أَسْمَعُ بِذِكْرِ أَبِي حَنِيفَةَ، فَأَتَمَنَّى أَنْ أَرَاهُ، فَإِنِّي لَبِمَكَّةَ إِذْ رَأَيْتُ النَّاسَ مُتَقِصِّفِينَ عَلَى رَجُلٍ، فسَمِعْتُ رَجُلًا، يَقُولُ: يَا أَبَا حَنِيفَةَ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ هُوَ، فَقَالَ: إِنِّي ذُو مَالٍ وَأَنَا مِنْ خُرَاسَانَ وَلِي ابْنٌ أُزَوِّجُهُ الْمَرْأَةَ وَأُنْفِقُ عَلَيْهِ الْمَالَ الْكَثِيرَ، فَيُطَلِّقُهَا فَيَذْهَبُ مَالِي، وَأَشْتَرِي لَهُ الْجَارِيَةَ بِالْمَالِ الْكَثِيرِ فَيُعْتِقُهَا، فَيَذْهَبُ مَالِي فَهَلْ مِنْ حِيلَةٍ؟ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: «أَدْخِلْهُ سُوقَ الرَّقِيقِ، فَإِذَا وَقَعَتْ عَيْنُهُ عَلَى جَارِيَةٍ فَاشْتَرِهَا لِنَفْسِكَ، ثُمَّ زَوِّجْهَا إِيَّاهُ، فَإِنْ طَلَّقَهَا رَجِعَتْ مَمْلُوكَةً لَكَ، وَإِنْ أَعْتَقَهَا لَمْ يَجُزْ عِتْقُهُ» ، قَالَ اللَّيْثُ: فَوَاللَّهِ مَا أَعْجَبَنِي صَوَابُهُ كَمَا أَعْجَبَنِي سُرْعَةُ جَوَابِهِ

امام لیث بن سعد فرماتے ہیں

میں نے امام ابو حنیفہؓ کا ذکر سن رکھا تھا اور میری یہ خواہش تھی کہ میں ان کو دیکھوں! ایک دن میں مسجد حرام میں موجود تھا میں نے ایک حلقہ دیکھا کہ بہت سے لوگ کسی کے گرد ہجوم کیے ہوئے ہیں ، میں بھی اس حلقہ کی طرف آیا (تو پتہ چلا کہ امام ابو حنیفہ کا حلقہ ہے ) تو میں نے خراسان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو دیکھا ، وہ امام ابو حنیفہ کے پاس آیا ، اس نے کہا میرا تعلق خراسان سے ہے میں ایک مالدار شخص ہوں میرا ایک بیٹا ہے جو قابل تعریف شخصیت کا مالک نہیں ہے ، لیکن اسکے علاوہ میری کوئی اولاد نہیں ہے ، جس نے مجھے پریشان کیا ہوا ہے اور عاجز کر دیا ہے امام ابو حنیفہ نے دریافت کیا وہ کیا ہے ؟ 

اس شخص نے کہا : جب میں اپنے بیٹے کی شادی کرواتا ہوں تو وہ (کچھ عرصے بعد) بیوی کو طلاق دے دیتا ہے ، اگر میں اسے کوئی کنیز خرید کے دیتا ہوں تو وہ اسے آزاد کر دیتا ہے ، میں اس سے تنگ آچکا ہوں ، کیا اسکا کوئی حل ہے ؟ 

تو امام ابو حنیفہ نے اسی وقت اسے جواب دیا : اسے جو کنیز پسند آتی ہے وہ کنیز تم خود خرید لو اور پھر اس کنیز کے ساتھ اس کی شادی کردو ، اگر وہ طلاق بھی دیدے گا تو تمہاری ملکیت والی کنیز تمہارے پاس واپس آجائے گی اور اگر وہ آزاد کرتا ہے تو وہ ایک ایسی کنیز کو آزاد کرے گا جسکا وہ مالک ہی نہیں ہے (تو وہ کنیز آزاد شمار نہیں ہوگی ) 

امام لیث فرماتے ہیں اللہ کی قسم! مجھے انکے جواب پر اتنی حیرت نہیں ہوئی جتنی حیرت جواب کی تیزی پر ہوئی ۔

(فضائل ابی حنیفہ الابن ابی العوام  ت بہرائچی صفحہ 87

 مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه ، صفحہ 36 ، شمس الدين الذهبي)

[8]۔ اسنادی حیثیت کیلئے دیکھیں اعلاء السنن جلد 3 صفحہ 74

[9]۔  أخبرني أبو بشر الوكيل وأبو الفتح الضبي قالا: حدثنا عمر بن أحمد الواعظ، حدثنا أحمد بن محمد بن عصمة الخراساني، حدثنا أحمد بن بسطام، حدثنا الفضل ابن عبد الجبار قال: سمعت أبا عثمان حمدون بن أبي الطوسي يقول: سمعت عبد الله ابن المبارك يقول: قدمت الشام على الأوزاعي فرأيته ببيروت. فقال لي: يا خراساني من هذا المبتدع الذي خرج بالكوفة يكنى أبا حنيفة؟ فرجعت إلى بيتي، فأقبلت على كتب أبي حنيفة، فأخرجت منها مسائل من جياد المسائل، وبقيت في ذلك ثلاثة أيام، فجئت يوم الثالث، وهو مؤذن مسجدهم وإمامهم، والكتاب في يدي، فقال: أي شئ هذا الكتاب؟ فناولته فنظر في مسألة منها وقعت عليها قال النعمان: فما زال قائما بعد ما أذن حتى قرأ صدرا من الكتاب. ثم وضع الكتاب في كمه، ثم أقام وصلى، ثم أخرج الكتاب حتى أتى عليها. فقال لي: يا خراساني من النعمان بن ثابت هذا؟ قلت: شيخ لقيته بالعراق. فقال: هذا نبيل من المشايخ، اذهب فاستكثر منه. قلت: هذا أبو حنيفة الذي نهيت عنه.

[10]۔ نا أبو حفص عمر بن شجاع الحلواني قال نا علي بن عبد العزيز قال نا عازم قال سمعت حماد بن زيد يقول أردت الحج فأتيت أيوب أودعه فقال بلغني أن فقيه أهل الكوفة أبا حنيفة يريدالحج فإذا لقيته فاقرئه منى السلام

امام حماد کہتے ہیں کہ میں نے حج پر جانے کا ارادہ کیا تو میں امام  سختیانی کے پاس آیا تا کہ ان سے الوداعی ملاقات کروں تو انہوں نے مجھے فرمایا:مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ اہل کوفہ کے فقیہ  امام ابو حنیفہ بھی حج پر جانے والے ہیں ، سو جب تمہاری ان سے ملاقات ہو تو انہیں میری طرف سے سلام کہنا۔

(الإنتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء - ابن عبد البر - صفحہ  115 )

 یہی روایت اخبار ابی حنیفہ للصیمری ، تاریخ بغداد اور 

فضائل أبي حنيفة لابن  ابی العوام میں بھی موجود ہے۔ 

  أخبرنا القاضي أبو جعفر محمد بن أحمد بن محمد السمناني، قال: أخبرنا إسماعيل بن الحسين بن علي البخاري الزاهد، قال: حدثنا أبو بكر أحمد بن سعد بن نصر، قال: حدثنا علي بن موسى القمي، قال: حدثني محمد بن سعدان، قال: سمعت أبا سليمان الجوزجاني، يقول: سمعت حماد بن زيد، يقول: أردت الحج، فأتيت أيوب أودعه، فقال: بلغني أن الرجل الصالح فقيه أهل الكوفة، يعني: أبا حنيفة يحج العام فإذا لقيته فأقرئه مني السلام.

(تاريخ بغداد ت : بشار ج 15 ص459)

  حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال: حدثني محمد بن سعدان قال: سمعت أبا سليمان الجوزجاني يقول: سمعت حماد بن زيد يقول: أردت الحج فأتيت أيوب السختياني أودعه فقال لي: بلغني أن فقيه الكوفة يريد الحج يعني أبا حنيفة فإن لقيته فاقرئه مني السلام.

( فضائل أبي حنيفة وأخباره ومناقبه  لابن ابی العوام ، ص 104)

  أخبرنا عبد الله بن محمد الحلواني قال ثنا القاضي أبو بكر مكرم بن أحمد قال ثنا عبد الوهاب بن محمد قال حدثني محمد بن سعدان قال سمعت أبا سليمان الجوزجاني قال سمعت حماد بن زيد قال أردت الحج فأتيت أيوب أودعه فقال بلغني أن الرجل الصالح فقيه أهل الكوفة أبو حنيفة يحج فإن لقيته فأقرئه مني السلام.

(  أخبار أبي حنيفة وأصحابه ، الصيمري، ص79)

[11]۔  تفصیل کیلئے دیکھیں الاجماع شمارہ نمبر 22 : صفحہ 24 ، 33۔

[12]۔المنتقی شرح الموطا  7/300

[13]۔   الانتقاء مترجم صفحہ 272

[14]۔وقال النخعي: حدثنا إبراهيم بن مخلد البلخي، حدثنا محمد بن سهل بن أبي منصور المروزي، حدثني محمد بن النضر قال: سمعت إسماعيل بن سالم البغدادي يقول: ضرب أبو حنيفة على الدخول في القضاء، فلم يقبل القضاء.

قال: وكان أحمد بن حنبل إذا ذكر ذلك بكى وترحم على أبي حنيفة، وذلك بعد أن ضرب أحمد

[15]۔ وحدثنا عبد الله بن محمد بن يوسف قال حدثنا ابن دحمون قال سمعت محمد بن بكر بن داسة يقول سمعت أبا داود سليمان بن الأشعث السجستاني يقول رحم الله مالكا كان إماما رحم الله الشافعي كان إماما رحم الله أبا حنيفة كان إماما

(جامع بيان العلم وفضله - ابن عبد البر - ج ٢ - الصفحة ١٦٣)



حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد المؤمن بن يحيى رحمه الله قال أنا أبو بكر محمد بن بكر بن عبد الرازق التمار المعروف بابن داسة قال سمعت أبا داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق السجستاني رحمه الله يقول رحم الله مالكا كان اماما رحم الله الشافعي كان اماما رحم الله أبا حنيفة كان اماما

(الإنتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء - ابن عبد البر - الصفحة ٣٢)

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین : سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ

 *مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین*  صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرنے کی احادیث کا مجموعہ مرفوع موقوف اور آثار کتب احادیث سے *✍️۔۔ ابو محمد آصف بن یوسف ۔۔🔸*  *(النعمان سوشل میڈیا سروسز)* *🌹سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ 🌹* سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ *♦️ حدیث نمبر... 1️⃣♦️* 🔹۔۔۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ۔۔۔  🔹۔۔۔ سیدناجابربن سمرہ رضہ نےفرمایا رسول اقدسﷺ ھم پرداخل ھوئےاور لوگ(صحابہ) رضہ نماز کے اندر رفع الیدین کررہے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ھے کہ میں تمہیں دی...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...