نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

عید کی نماز لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نمازِ عیدین کا مسنون طریقہ

 نمازِ عیدین کا مسنون طریقہ 🔹 پہلی رکعت • تکبیرِ تحریمہ: امام کے ساتھ “اللہ اکبر” کہہ کر رفع الیدین کریں۔  [صحیح  -  ترمذی: 257] • ہاتھ باندھنا: ہاتھ ناف کے نیچے باندھیں۔  [مصنف ابن ابی شیبہ: 3981، اسنادہ صحیح] • ثناء پڑھنا: دعائے استفتاح پڑھیں:  “سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ...”  [صحیح مسلم: 399] • زائد تکبیریں: سورۂ فاتحہ سے پہلے رفع الیدین کے ساتھ 3 زائد تکبیریں کہیں۔  [ اسنادہ حسن  ابوداؤد: 1152، شرح معانی الآثار: 7129، مصنف عبدالرزاق: 5699] • قراءت: امام قراءت کرے اور مقتدی خاموشی اور توجہ سے سنیں۔  [الأعراف: 204، صحیح مسلم: 404] • رکوع و سجود: پھر عام نماز کی طرح رکوع اور سجود کریں۔ 🔹 دوسری رکعت • قراءت: امام سورۂ فاتحہ اور سورت کی قراءت کرے، مقتدی توجہ سے سنیں۔  [الأعراف: 204، صحیح مسلم: 404] • زائد تکبیریں: رکوع سے پہلے رفع الیدین کے ساتھ 3 زائد تکبیریں کہیں۔    [ اسنادہ حسن ابوداؤد: 1152، شرح معانی الآثار: 7129، مصنف عبدالرزاق: 5699] • رکوع میں جانا: چوتھی تکبیر کہہ کر بغیر رفع الیدین کے رکوع میں جائیں۔...

عید کی نماز میں 6 زائد تکبیروں کا حنفی طریقہ نبی ﷺ اور سلف (صحابہ، تابعین اور تبع تابعین) سے ثابت ہے

عید سیریز: عید کی نماز میں 6 زائد تکبیروں کا حنفی طریقہ نبی ﷺ اور سلف (صحابہ، تابعین اور تبع تابعین) سے ثابت ہے پیشکش : Al Ijma Foundation 📌 پس منظر اہلِ سنت والجماعت کے حنفی مذہب پر کیے جانے والے عام اعتراضات میں سے ایک عید کی نماز میں 6 زائد تکبیروں کا مسئلہ ہے۔ بعض شدت پسند یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سنی حنفی مکتبِ فکر، جو 1400 سالہ مضبوط علمی بنیادوں پر قائم ہے، اس مسئلے پر مستند دلیل سے خالی ہے۔ درج ذیل سلائیڈز میں ہم نبی ﷺ کی احادیث اور سلف (صحابہ، تابعین اور تبع تابعین) سے براہِ راست “صحیح” دلائل پیش کریں گے تاکہ اس دعوے کی تردید کی جا سکے اور حنفی موقف کی مضبوطی کو ثابت کیا جا سکے۔ 📌 نبی ﷺ سے دلائل 1️⃣ ابو عبد الرحمن القاسم رحمہ اللہ نے فرمایا: ❝مجھے رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی۔ آپ نے چار چار تکبیریں کہیں (یعنی ہر رکعت میں عید کی تین تکبیریں اور ایک رکوع کی تکبیر)۔ پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو اپنا نورانی چہرہ ہماری طرف متوجہ کیا اور فرمایا: “یاد رکھو! دونوں عیدوں کی تکبیریں چار ہیں، جیسے جنازے کی نماز کی تکبیریں ہوتی ہیں۔”❞ 📚 [شر...

*عورتوں کو عید کی نماز کے لئے عید گاہ نہیں جانا چاہئے*

 *عورتوں کو عید کی نماز کے لئے عید گاہ نہیں جانا چاہئے*  حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّهُ كَانَ لَا يُخْرِجُ نِسَاءَهُ فِي الْعِيدَيْنِ» ( مصنف ابن ابی شیبہ رقم ۵٨۴۵ ) حضرت ابن عمرؓ عیدین کے لئے اپنی عورتوں کو نہ بھیجتے تھے۔  یہ روایت سند کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے ۔     راویوں کی مختصر توثیق ملاحظہ کریں :  ١) ابو بکر بن ابی شیبہؒ  : ثقہ  آپ امام بخاریؒ کے استاد ہیں اور امام بخاری ؒنے بھی ان سے روایتیں نقل کی ہیں ۔ آپ ثقہ ، حافظ ، صاحب تصانیف ہیں ۔ ( تقریب التھذیب  ٣۵٧۵ )  ٢) وکیع بن جراح ؒ: ثقہ  آپ صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں ۔  آپ ثقہ ، جافظ اور عابد ہیں ( تقریب التھذیب ٧۴١۴ )  ٣)سفیان ثوریؒ : ثقہ آپ صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے ثقہ بالاجماع راوی ہیں ۔ آپ خیر القرون کے  ثقہ ، حافظ ، فقیہ ، امام حجت ہیں ( تقریب التھذیب ٢۴۴۵ )  ۴) عبد اللہ بن جابرؒ : ثقہ  *یحیی بن معین ؒنے ثقہ کہا ہے ۔( تھذیب ال...