نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جون, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اعتراض نمبر ۳۵ : جو شخص اپنے باپ کی یا اپنی ماں کی یا اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کرے اور یہ کہہ دے کہ میں نے خیال کیا تھا کہ یہ مجھ پر حلال ہے تو اسے حد نہیں لگائی جائے گی۔

  اعتراض نمبر ۳۵ جارية أبيه وأمه وزوجته. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٤٩٢ باب الوطء الذي يوجب) یعنی جو شخص اپنے باپ کی یا اپنی ماں کی یا اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کرے اور یہ کہہ دے کہ میں نے خیال کیا تھا کہ یہ مجھ پر حلال ہے تو اسے حد نہیں لگائی جائے گی۔ (درایت محمدی، ص ۹۶، ۹۷، ہدایت محمدی ص ۹) جواب: ہدایہ شریف میں اس کی وجہ لکھی ہے کہ یہ شبۂ اشتباہ ہے، اس لیے کہ بیٹا ماں باپ کے مال سے نفع اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح خاوند اپنی بیوی کے مال سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس کا ماں باپ یا بیوی کی لونڈی کو حلال ظن کر لینا محتمل ہے۔ جب اس نے حلت کا ظن کیا تو یہ شبۂ اشتباہ ہے، اور شبہات کے سبب حدود کا ٹال دینا احادیث میں آیا ہے۔ چنانچہ "ادرؤوا الحدود ما استطعتم" پیچھے گزر چکی ہے جو کہ ابو یعلیٰ کی مسند میں مرفوعاً مروی ہے۔ مسند امام اعظم میں ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ ادرؤوا الحدود بالشبهات کہ شبہات کی بنا پر سزاؤں کو ٹالو۔ ابن ابی شیبہ نے ابراہیم نخعی سے روایت کیا کہ امیر المؤمنین حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر میں حدود کو شبہات کے سبب معطل رکھوں تو میرے نزدیک اس...

اعتراض نمبر ۳۴ : زانی کو سنگسار کرنے کے وقت پہلے گواہ سنگ باری شروع کریں اور اگر وہ نہ کریں تو حد ساقط ہو جائے گی۔ یعنی زانی کو بھی پھر رجم ہی نہ کیا جائے گا۔

  اعتراض نمبر ۳۴ فإن امتنع الشهود من الابتداء سقط الحد. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ٤٨٨ فصل كيفية الحد) یعنی زانی کو سنگسار کرنے کے وقت پہلے گواہ سنگ باری شروع کریں اور اگر وہ نہ کریں تو حد ساقط ہو جائے گی۔ یعنی زانی کو بھی پھر رجم ہی نہ کیا جائے گا۔ (درایت محمدی، ص ۹۶، ۹۷، ہدایت محمدی ص ۹) جواب: خود صاحب ہدایہ نے لکھا ہے: لأنه دلالة الرجوع کہ گواہوں کا ابتدائے رمی نہ کرنا ان کے رجوع پر دلالت کرتا ہے اگرچہ صریح رجوع نہیں۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ گواہوں نے زنا کی شہادت تو دے دی ہو اور شہادت کے وقت ایسا کوئی خیال نہ آیا ہو، لیکن جب رجم کرنے لگے، جب ان کو سب سے پہلے سنگساری کے لیے کہا گیا تو انہوں نے ایک آدمی کے قتل کو امرِ عظیم سمجھ کر سنگ باری نہ کی ہو اور اپنی شہادت سے ممکن ہے کہ رجوع کر لیا ہو۔ گواہوں کا سنگ باری نہ کرنا ان کے رجوع پر دلیل ہے، لہٰذا حد ساقط ہوگئی۔ خود سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ادرؤوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم جہاں تک ممکن ہو مسلمانوں سے حد کو روکو۔ اگر کوئی بھی وجہ ہو سکے تو زانی کو چھوڑ دو۔ قاضی اگر معافی میں خطا کر جائے تو اس سے بہتر ہے کہ سزا میں خطا ...

اعتراض نمبر ۳۳ : ذمی مرد نے ذمی عورت سے نکاح کیا اور مہر میں شراب یا سور مقرر کیا، پھر دونوں میاں بیوی مسلمان ہو گئے تو بھی مہر میں شراب یا سور ادا کر دے۔ اسی طرح اگر دونوں میں سے ایک مسلمان ہو گیا تو بھی یہی حکم ہے۔

  اعتراض نمبر ۳۳ فإن تزوج الذمي ذمية على خمر أو خنزير ثم أسلما أو أسلم أحدهما فلها الخمر والخنزير. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ۳۱۸ أحكام النكاح في الكفار) یعنی ذمی مرد نے ذمی عورت سے نکاح کیا اور مہر میں شراب یا سور مقرر کیا، پھر دونوں میاں بیوی مسلمان ہو گئے تو بھی مہر میں شراب یا سور ادا کر دے۔ اسی طرح اگر دونوں میں سے ایک مسلمان ہو گیا تو بھی یہی حکم ہے۔ (درایت محمدی ص ۹۶، ہدایت محمدی ص ۸) جواب: ہدایہ شریف میں یہ مسئلہ شراب اور سورِ معین کے بارے میں لکھا ہے اور شراب یا سورِ غیر معین کے بارے میں شراب میں قیمت اور سور میں مہرِ مثل ہے۔ چنانچہ فرمایا: إن كانا بغير أعيانهما فلها في الخمر القيمة وفي الخنزير مهر المثل. امام اعظم کی دلیل جو ہدایہ میں ہے وہ یہ ہے کہ شراب یا سورِ معین کو اشارہ کر کے ذمی اور ذمیہ نے اپنا مہر مقرر کیا تو عقد کرتے ہی وہ عورت اس شراب یا سورِ معین کی مالک ہو گئی۔ وہ اس کو فروخت یا ہبہ وغیرہ تصرف کر سکتی ہے۔ رہا یہ کہ ابھی عورت نے وہ شراب یا سور پر قبضہ نہیں کیا، تو دونوں یا ان میں سے ایک مسلمان ہو گیا۔ اب وہ عورت اسلام کی حالت میں بھی قبضہ کر سکتی ہے کیونکہ قبضہ میں ...

اعتراض نمبر ۳۲: ایک عورت نے ایک مرد پر جھوٹا دعویٰ کیا کہ اس سے اس کا نکاح ہے اور جھوٹے گواہ گزار دیے۔ قاضی نے اس پر فیصلہ کر دیا حالانکہ حقیقتاً نکاح نہیں ہوا تو اب ان دونوں کو یکجا رہنا سہنا اور مجامعت اور صحبت کرنا سب جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ یہی ہے۔

  اعتراض نمبر ۳۲: من ادعت عليه امرأة أنه تزوجها وأقامت بينة فجعلها القاضي امرأته ولم يكن تزوجها وسعها المقام معه وأن تدعه يجامعها وهذا عند أبي حنيفة. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ۲۹۳ بيان المحرمات) یعنی ایک عورت نے ایک مرد پر جھوٹا دعویٰ کیا کہ اس سے اس کا نکاح ہے اور جھوٹے گواہ گزار دیے۔ قاضی نے اس پر فیصلہ کر دیا حالانکہ حقیقتاً نکاح نہیں ہوا تو اب ان دونوں کو یکجا رہنا سہنا اور مجامعت اور صحبت کرنا سب جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ یہی ہے۔ (درایت محمدی ص ۹۶، ہدایت محمدی ص ۸) جواب: معلوم نہیں کہ معترض نے نکاح کیا سمجھ رکھا ہے۔ عورت نکاح کا دعویٰ کرتی ہے اور گواہ بھی موجود ہیں۔ قاضی وہ مرد عورت کو دلا دیتا ہے۔ مرد اس فیصلہ کو قبول کر لیتا ہے تو یہی فیصلہ اس کے حق میں نکاح ہو جاتا ہے۔ حضرت علیؓ نے بھی یہی فیصلہ فرمایا۔ دیکھو رسالہ "بعض الناس"۔ یہ مسئلہ کسی حدیث صحیح کے خلاف نہیں۔ اگر معترض اس مسئلہ کو کسی حدیث صحیح کے مخالف سمجھتا ہے تو وہ حدیث مع وجہِ مخالفت و طریقِ استدلال لکھے۔ حدیث "لعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته" اس مسئلہ کے مخالف نہیں ہے۔ دیکھو لعان میں قاضی کی تفریق ...

اعتراض نمبر ۳۱: کسی عورت کو زنا کرتے ہوئے دیکھا اور اس سے نکاح کر لیا تو اس سے ہم بستر ہونا جائز ہے اور کچھ ضرورت نہیں کہ ایک حیض تک ٹھہرے۔

  اعتراض نمبر ۳۱: إذا رأى امرأة تزني فتزوجها حل له أن يطأها قبل أن يستبرئها عندهما. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ۲۹۲ فصل في المحرمات) یعنی کسی عورت کو زنا کرتے ہوئے دیکھا اور اس سے نکاح کر لیا تو اس سے ہم بستر ہونا جائز ہے اور کچھ ضرورت نہیں کہ ایک حیض تک ٹھہرے۔ (درایت محمدی ص ۹۶، ہدایت محمدی ص ۸) جواب: اگر زنا کی عدت کسی حدیث میں آئی ہے تو بیان کرو، دونه خرط القتاد۔ جب نکاح درست ہے تو جماع بھی درست ہے۔ ہاں اگر حاملہ ہو تو اس سے نکاح درست ہے لیکن وطی درست نہیں۔ چنانچہ ہدایہ شریف میں اس سے پہلے تصریح ہے: وإن تزوج حبلى من الزنا جاز النكاح ولا يطؤها حتى تضع حملها. اگر حاملہ بالزنا سے نکاح کیا تو نکاح جائز ہوا لیکن وضعِ حمل تک وطی جائز نہیں۔ پس معترض اس مسئلہ کے خلاف کوئی آیت یا حدیث پیش کرے ورنہ اعتراض واپس لے۔ ----------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب "ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق" سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔ پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

اعتراض نمبر ۳۰: ایک شخص نے اپنی بیوی کو بائن طلاق دے دی یا رجعی، جب تک اس کی عدت نہ گزر جائے وہ مرد اس کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا۔ (عورت کی عدت تو سنی تھی، یہ مرد کی عدت بھی سن لیجیے)

  اعتراض نمبر ۳۰: إذا طلق امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا لم يجز له أن يتزوج بأختها حتى تنقضي عدتها. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ۲۸۹ فصل في المحرمات) یعنی ایک شخص نے اپنی بیوی کو بائن طلاق دے دی یا رجعی، جب تک اس کی عدت نہ گزر جائے وہ مرد اس کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا۔ (عورت کی عدت تو سنی تھی، یہ مرد کی عدت بھی سن لیجیے) (درایت محمدی ص ۹۶، ہدایت محمدی ص ۸) جواب: بالکل صحیح ہے کیونکہ یہ جمع بین الاختین ہے جو قرآن نے منع فرمایا ہے۔ گو یہ جمع نکاحاً نہیں لیکن عدۃً ضرور ہے۔ عدت میں اگرچہ مرد کا نکاح باقی نہیں لیکن من وجہ اس کا تعلق باقی رہتا ہے۔ ہدایہ شریف میں ہے: ولنا أن النكاح الأول قائم لبقاء أحكامه كالنفقة والمنع والفراش. یعنی پہلے نکاح کے احکام باقی رہتے ہیں جیسے نفقہ، منع اور فراش، تو من وجہ ابھی نکاح باقی ہے۔ اس لیے عدت کا خرچہ مرد کے ذمہ ہے، عدت میں عورت کا مرد کے گھر سے نکلنا منع ہے، اور وہ عورت نسب کے ثبوت کے لیے اسی مرد کا فراش ہوگی۔ یعنی اگر اکثر مدتِ حمل سے پہلے پہلے بچہ پیدا ہوا اور مرد انکار نہ کرے تو اسی کی نسب ثابت ہوگی۔ جب یہ ثابت ہو گیا کہ عورتِ معتدۂ بائنہ کا نکاح ابھی من وج...

اعتراض نمبر ۲۹ : اگر چھونے سے انزال ہو جائے تو حرمت ثابت نہ ہوگی۔ اسی طرح اگر خلافِ فطرت فعل کیا یعنی اس عورت سے پاخانہ کی جگہ وطی کی تو بھی حرمت ثابت نہ ہوگی۔ (یعنی صرف چھونے سے حرمت ثابت لیکن اگر اتنا مساس کیا کہ انزال ہو گیا تو حرمت زائل، صرف دیکھ لینے سے حرمت موجود لیکن شرمناک بدفعلی سے حرمت مفقود)

  اعتراض نمبر ۲۹ ولو مس فأنزل والصحيح أنه لا يوجبها وعلى هذا إتيان المرأة في الدبر. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ۲۸۹ فصل في بيان المحرمات) یعنی اگر چھونے سے انزال ہو جائے تو حرمت ثابت نہ ہوگی۔ اسی طرح اگر خلافِ فطرت فعل کیا یعنی اس عورت سے پاخانہ کی جگہ وطی کی تو بھی حرمت ثابت نہ ہوگی۔ (یعنی صرف چھونے سے حرمت ثابت لیکن اگر اتنا مساس کیا کہ انزال ہو گیا تو حرمت زائل، صرف دیکھ لینے سے حرمت موجود لیکن شرمناک بدفعلی سے حرمت مفقود) (درایت محمدی، ص ۹۵، ہدایت محمدی ص ۸) جواب: ہدایہ شریف میں اس مسئلہ کو مدلل بیان کیا گیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ واطی اور موطوءہ کے درمیان وطی سببِ جزئیت ہے یعنی وہ دونوں مثل ایک شخص کے ہو جاتے ہیں۔ عورت کے والدین اور اولاد اس مرد کے والدین اور اولاد کی طرح ہو جاتے ہیں اور مرد کے والدین اور اولاد اس عورت کے والدین اور اولاد کی طرح ہو جاتے ہیں، چاہے وطی حلال ہو یا حرام۔ پس جس طرح حلال وطی سے عورت کی ماں بیٹی حرام ہو جاتی ہیں، اسی طرح جس عورت کے ساتھ زنا کرے اس کی ماں بیٹی بھی اس پر حرام ہو جاتی ہیں۔ سابقہ جواب میں اسی مسئلہ کے دلائل لکھے گئے ہیں۔ رہی یہ بات کہ صرف لمس اور...

اعتراض نمبر ۲۸: کسی مرد نے کسی غیر عورت کو شہوت کے ساتھ چھو لیا، اس کی شرمگاہ کو دیکھ لیا یا اس عورت نے اس کی شرمگاہ کو شہوت کی نظر سے دیکھ لیا تو اس عورت کی ماں اور بیٹی اس مرد پر حرام ہو گئی۔

اعتراض نمبر ۲۸: مس امرأة بشهوة ونظر إلى فرجها ونظرت إلى ذكره عن شهوة. (هدايه يوسفي جلد ۲ ص ۲۸۹ فصل في المحرمات) یعنی کسی مرد نے کسی غیر عورت کو شہوت کے ساتھ چھو لیا، اس کی شرمگاہ کو دیکھ لیا یا اس عورت نے اس کی شرمگاہ کو شہوت کی نظر سے دیکھ لیا تو اس عورت کی ماں اور بیٹی اس مرد پر حرام ہو گئی۔ (درایت محمدی ص ۹۵، ہدایت محمدی ص ۸) جواب: اگر کسی کے پاس اس کے برخلاف کوئی آیت یا حدیث ہے تو دکھائے ورنہ اعتراض واپس لے۔ اب سنیے! کہ یہ مسئلہ نہ صرف امام اعظم کا ہے بلکہ صحیح مسلم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان "واحتجبي منه يا سودة" اس کی تائید کرتا ہے۔ جوہر النقی ج ۲ ص ۸۴ میں بحوالہ ابن حزم لکھا ہے: حضرت عبداللہ بن عباس نے ایک مرد اور عورت کو جدا کر دیا جب یہ معلوم ہوا کہ اس مرد نے عورت کی ماں کے ساتھ ناجائز حرکت کی، حالانکہ اس مرد کے اس عورت کے بطن سے سات بچے بھی پیدا ہو چکے تھے۔ معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن عباس کا یہی مذہب تھا جو فقہاء علیہم الرحمہ نے لکھا ہے۔ اسی طرح سعید بن مسیب، ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور عروہ بن زبیر نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی عورت کے ساتھ زنا کرے، اس کے لی...

اعتراض نمبر ۲۷: هدايه قربانی کے جانور کی کوہان پر نشان کر دینا جو سنت ہے مکروہ ہے بلکہ یہ مثلہ کرنا ہے (یعنی اعضاءِ بدن کا کاٹ دینا) امام ابو حنیفہ کی رائے یہی ہے۔

  اعتراض نمبر ۲۷: لا يشعر عند أبي حنيفة ويكره، ولأبي حنيفة أنه مثلة. (هدايه يوسفي جلد اول ص ٢٤٣ باب التمتع) یعنی قربانی کے جانور کی کوہان پر نشان کر دینا جو سنت ہے مکروہ ہے بلکہ یہ مثلہ کرنا ہے (یعنی اعضاءِ بدن کا کاٹ دینا) امام ابو حنیفہ کی رائے یہی ہے۔ (درایت محمدی ص ۹۵، ہدایت محمدی ص ۸) جواب: امام اعظم نے مطلقاً مکروہ نہیں فرمایا بلکہ اپنے زمانے کے لوگوں کا اشعار مکروہ فرمایا کہ وہ اشعار میں مبالغہ کرتے تھے۔ امام صاحب کے نزدیک اس میں مبالغہ مکروہ ہے نہ کہ اشعار۔ كما ذكره الطحطاوي رحمۃ اللہ علیہ۔ ہدایہ شریف میں اس امر کی تصریح موجود ہے مگر افسوس کہ معترض کو تعصب کے سبب نظر نہ آیا۔ چنانچہ صاحب ہدایہ لکھتا ہے: قيل إن أبا حنيفة كره إشعار أهل زمانه لمبالغتهم فيه على وجه يخاف منه السراية. شیخ عبد الحئی نے حاشیہ ہدایہ میں اسی کو اولیٰ و احسن فرمایا ہے۔ علامہ عینی شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں: وأبو حنيفة رضي الله عنه ما كره أصل الإشعار، وكيف يكره ذلك مع ما اشتهر فيه من الآثار. ابو حنیفہ نے اصل اشعار کو مکروہ نہیں فرمایا اور کیسے مکروہ کہہ سکتے تھے جب کہ آثارِ مشہورہ اس میں ثابت ہیں۔ قال الط...

اعتراض نمبر ۲۶ : شرم گاہ کے سوا کسی اور جگہ جماع کیا اور انزال بھی ہوا، پھر بھی روزہ کا کفارہ لازم نہیں آئے گا۔

  اعتراض نمبر ۲۶ من جامع فيما دون الفرج فأنزل لا كفارة عليه. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۲۰۲ باب ما يوجب القضاء) یعنی شرم گاہ کے سوا کسی اور جگہ جماع کیا اور انزال بھی ہوا، پھر بھی روزہ کا کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ (درایت محمدی ص ۹۵، ہدایت محمدی ص ۷) جواب: فرمائیے یہ مسئلہ کس آیت یا حدیث کے خلاف ہے؟ آپ کو معلوم نہ ہو تو اپنے کسی بڑے محدث سے دریافت کر کے دیکھئے کہ فلاں حدیث میں تو ایسے شخص کے حق میں کفارہ آیا ہے۔ اگر ایسا نہ دکھا سکو، ہرگز نہ دکھا سکو گے، تو دوزخ کی آگ سے ڈرو۔ تمہارے ہاں تو بغیر جماع کفارہ ہی نہیں۔ دیکھو نزل الابرار ص ۲۳۱ میں علامہ وحید الزمان لکھتا ہے کہ ماہ رمضان میں روٹی کھانے اور پانی پینے میں بھی کفارہ نہیں۔ اب بتاؤ کہ کس منہ سے حنفیہ پر اعتراض کرتے ہو۔ ----------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب "ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق" سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔ پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

اعتراض نمبر ۲۵ : مردہ عورت سے یا چوپائے سے بدفعلی کرنے سے روزہ کا کفارہ نہیں آتا، انزال نہ ہوا ہو تب بھی اور انزال ہو گیا ہو تب بھی۔

  اعتراض نمبر ۲۵ لو جامع ميتة أو بهيمة فلا كفارة، أنزل أو لم ينزل. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۲۰۱ باب ما يوجب القضاء) مردہ عورت سے یا چوپائے سے بدفعلی کرنے سے روزہ کا کفارہ نہیں آتا، انزال نہ ہوا ہو تب بھی اور انزال ہو گیا ہو تب بھی۔ (درایت محمدی ص ۹۵، ہدایت محمدی ص ۷) جواب: بتاؤ یہ مسئلہ کسی آیت یا حدیث کے خلاف ہے؟ چونکہ حدیث شریف میں ایسے شخص کے لیے کوئی کفارہ نہیں آیا، اس لیے حضرات فقہاء علیہم الرحمہ نے کفارہ نہیں فرمایا۔ کفارہ ایسے جماع میں ہے جو محلِ مشتہیٰ میں ہو۔ مردہ عورت یا بہیمہ میں چونکہ محلِ مشتہیٰ نہیں اس لیے کفارہ بھی نہیں۔ اگر معترض کے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل ہے تو بیان کرے ورنہ ائمہ پر بے دلیل طعن بازی سے باز رہے۔ اس سے کوئی کم فہم یہ نہ سمجھ لے کہ حنفیہ کے نزدیک مردہ عورت یا چوپایہ سے وطی کرنا جائز ہے۔ معاذ اللہ ہرگز نہیں۔ یہاں تو صرف اس قدر ذکر ہے کہ اگر کوئی شخص روزہ کی حالت میں ایسا کر بیٹھے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا لیکن کفارہ نہیں، کیونکہ حقیقتاً جماع پایا نہیں گیا۔ اس فعل کی سزا ہدایہ میں دوسرے مقام پر بیان کی گئی ہے۔ --------------------------------------------...

اعتراض نمبر ۲۴ : پاخانے کی جگہ میں وطی کرنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا۔ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ یہی ہے۔

  اعتراض نمبر ۲۴ عن أبي حنيفة أنه لا يجب الكفارة بالجماع في الموضع المكروه. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۲۰۱ باب ما يوجب القضاء) یعنی پاخانے کی جگہ میں وطی کرنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا۔ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ یہی ہے۔ (درایت محمدی، ص ۹۴، ہدایت محمدی ص ۷) جواب: کاش معترض تھوڑا سا آگے پڑھتا تو اس کو مل جاتا: والأصح أنها تجب "اور اصح یہ ہے کہ کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔" لیکن معترض کے ضمیر نے یہی حکم دیا کہ آگے جملہ ہضم کر جاؤ۔ کون ہدایہ شریف دیکھے گا اور کون اس خیانت کو معلوم کرے گا؟ کئی عقل کے اندھے ایسے بھی تو ہوں گے جو اصل کتاب کو دیکھنا ہی پسند نہ کریں گے اور بات بن جائے گی۔ لیکن اس عدمِ وجوبِ کفارہ سے یہ سمجھنا کہ حنفیہ کے نزدیک ایسا کرنا جائز ہے، سراسر افترا ہے۔ ----------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب "ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق" سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔ پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

اعتراض نمبر ۲۳: مشت زنی کرنے والے کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ حنفی مذہب کے فقہاء نے یہی کہا ہے۔

  اعتراض نمبر ۲۳: كالمستمني بالكف على ما قالوا. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۱۹۹ باب ما يوجب القضاء) یعنی مشت زنی کرنے والے کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ حنفی مذہب کے فقہاء نے یہی کہا ہے۔ (درایت محمدی ص ۹۴، ہدایت محمدی ص ۷) جواب: معترض نے اگر کتبِ فقہ کسی استاد سے پڑھی ہوتیں تو اسے معلوم ہوتا کہ صاحب ہدایہ لفظ "قالوا" کہتے ہیں تو اس کی مراد کیا ہوتی ہے۔ یہاں بھی صاحب ہدایہ نے "على ما قالوا" کہا ہے۔ شیخ عبد الحئی مقدمہ عمدۃ الرعایہ کے ص ۱۵ میں فرماتے ہیں: لفظ قالوا يستعمل فيما فيه اختلاف المشائخ، كذا في النهاية في كتاب الغصب، وفي العناية والبناية في باب ما يفسد الصلاة، وذكر ابن الهمام في فتح القدير في باب ما يوجب القضاء والكفارة من كتاب الصوم أن عادته أي صاحب الهداية في مثل إفادة الضعف مع الخلاف انتهى، وكذا ذكره سعد الدين التفتازاني أن في لفظ قالوا إشارة إلى ضعف ما قالوا. لفظ "قالوا" وہاں بولتے ہیں جہاں مشائخ کا اختلاف ہو۔ نہایہ کے کتاب الغصب اور العنایہ والبنایہ کے باب ما يفسد الصلاة میں ایسا ہی لکھا ہے۔ ابن الہمام فتح القدیر میں فرماتے ہیں کہ صاحب ہدایہ کی عادت اس لفظ کے...

اعتراض نمبر ۲۲ : کسی غریب مسکین شخص کو زکوٰۃ کے مال میں سے دو سو درہم یعنی پچاس روپے یا اس سے زیادہ دینا مکروہ ہے۔

  اعتراض نمبر ۲۲ يكره أن يدفع إلى واحد مائتي درهم فصاعدا. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۱۸۹، ۱۹۰ باب من يجوز دفع الصدقات) یعنی کسی غریب مسکین شخص کو زکوٰۃ کے مال میں سے دو سو درہم یعنی پچاس روپے یا اس سے زیادہ دینا مکروہ ہے۔ (درایت محمدی ص ۹۴، ہدایت محمدی ص ۷) جواب: اس کے آگے ہدایہ شریف کی عبارت کیوں نہیں نظر آئی؟ وإن دفع جاز کہ دو سو درہم یا اس سے زیادہ دے دے تو جائز ہے۔ اور کراہت بھی اس صورت میں ہے کہ وہ مسکین قرض دار اور صاحبِ عیال نہ ہو۔ اگر قرض دار ہو یا صاحبِ عیال ہو تو دو سو درہم یا اس سے زیادہ دینا کوئی مکروہ نہیں۔ چنانچہ شرح وقایہ اور اس کے حاشیہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ ----------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب "ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق" سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔ پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

اعتراض نمبر ۲۱: اگر جان بوجھ کر تشہد کے بعد گوز مار دے یا بات چیت کرے تو اس کی نماز پوری ہو جائے گی۔

اعتراض نمبر ۲۱: إن تعمد الحدث في هذه الحالة أو تكلم ...... تمت صلوته (هدايه يوسفي جلد اول ص ١١٦ باب الحدث) یعنی اگر جان بوجھ کر تشہد کے بعد گوز مار دے یا بات چیت کرے تو اس کی نماز پوری ہو جائے گی۔ (گویا ہوا نکال دینا سلام کے قائم مقام ہے) (درایت محمدی ص ۹۴، ہدایت محمدی ص ۷) جواب: تمہارا یہ اعتراض ہدایہ پر نہیں، امام اعظم پر نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے کیونکہ اس مسئلہ کی سند حدیث میں موجود ہے۔ افسوس کہ علمائے غیر مقلدین یا تو دیدہ دانستہ عوام کو مغالطہ میں ڈالتے ہیں یا ان کو کتب فقہ کی سمجھ نہیں۔ یہی بے سمجھی ان کو اعتراض کرنے پر دلیر کرتی ہے۔ چنانچہ اسی اعتراض میں معترض نے یہ سمجھا ہے کہ ہوا نکال دینا فقہاء کے نزدیک سلام کے قائم مقام ہے۔ نعوذ باللہ من سوء الفہم۔ ہرگز نہیں۔ اگر قصداً ایسا کرے تو گناہ گار ہے اور اس کی نماز مکروہ تحریمی، جس کا دوبارہ پڑھنا اس پر واجب ہے۔ یہ اس لیے کہ اس نے سلام کہہ کر نماز سے باہر آنا تھا اور یہ سلام اس پر واجب تھا۔ چونکہ اس نے واجب (سلام) کو ترک کیا اس لیے گناہ گار بھی ہوا اور نماز کا اعادہ بھی لازم ہوا۔ یہ خیال کہ حنفیہ ایسی نماز کو بلا...