اعتراض نمبر ۶۴: جو شخص اپنے ماں باپ یا اولاد یا کسی اور ذی محرم رشتہ دار کی چوری کرے اس کا ہاتھ بھی نہ کاٹا جائے گا۔
اعتراض نمبر ۶۴:
من سرق من أبويه أو ولده أو ذي رحم محرم منه لم يقطع.
(ہدایہ یوسفی جلد ۲، ص ۵۲۲ فصل فی الحرز)
یعنی جو شخص اپنے ماں باپ یا اولاد یا کسی اور ذی محرم رشتہ دار کی چوری کرے اس کا ہاتھ بھی نہ کاٹا جائے گا۔
(درایت محمدی ص ۱۰۲، ہدایت محمدی ص ۱۱)
جواب:
ہدایہ میں آگے ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ بھی لکھی تھی جو جوناگڑھی نے نقل نہیں کی۔ ہدایہ کی مکمل عبارت کا ترجمہ اس طرح ہے:
جس نے اپنے والدین یا اپنی اولاد یا اپنے ذی رحم محرم کا مال چوری کیا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
رہی پہلی قسم یعنی اولادی رشتے والی، تو ان لوگوں کے مال میں آپس میں لینے کی عادت ہوتی ہے اور ایک دوسرے کے محفوظ مقامات پر آتے جاتے رہتے ہیں، اور ثانی (یعنی ذی رحم محرم میں) دوسری بات (دخول) موجود ہوتی ہے۔
(احسن الہدایہ ج ۶ ص ۳۳۴ فصل فی الحرز)
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ ہاتھ نہ کاٹنے کی دو وجہیں ہیں:
(۱) شبہِ مال۔
(۲) حرز (یعنی محفوظ جگہ اور حفاظت والی جگہ) نہیں پائی گئی۔
اور یہ دونوں چیزیں چوری کی حد یعنی ہاتھ کاٹنے کو ساقط کر دیتی ہیں۔
تفصیل مسئلہ:
ان دونوں کی کچھ تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
(۱) شبہِ مال اس طرح کہ حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔
(ابن ماجہ)
اس حدیث کی وجہ سے اس مال میں اپنی ملکیت ہونے کا شبہ ہے جس کی وجہ سے حد ساقط ہو گئی۔
دوسری وجہ حرز کا نہ پایا جانا، جبکہ ہاتھ کاٹنے کے لیے حرز کا ہونا لازمی ہے۔ یہ بات خود غیر مقلدین کو بھی تسلیم ہے۔ مولانا طارق صاحب لکھتے ہیں:
دوسری قسم سرقہ کی وہ ہے جس سے حد واجب ہوتی ہے۔ سرقہ کی حد کے بیان سے قبل مختصراً ان شروط کا بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے جن کی موجودگی میں حد واجب ہوتی ہے۔
(اسلام کا نظام تعزیرات ص ۱۴۹)
پھر ص ۱۴۹ سے لے کر ص ۱۵۴ تک آٹھ (۸) شرطیں ذکر کی ہیں۔
ص ۱۵۲ پر شرط نمبر ۶ جو ذکر کی ہے وہ حرز ہے، جس کا خلاصہ ہم یہاں پر نقل کرتے ہیں:
(۱) مال محفوظ جگہ سے نکالا گیا ہو، اور اموال کے لحاظ سے جگہ کی صورت بھی مختلف ہوتی ہے۔ ہر مال کے لیے اس کے مناسب حال محفوظ مقام ہوتا ہے جسے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں۔
محفوظ جگہ سے مال نکالنے کی شرط جمہور علماء نے لگائی ہے۔ ان کا استدلال عمرو بن شعیب کی حدیث سے ہے جو انہوں نے اپنے باپ اور دادا سے روایت کی ہے کہ...
(آگے حدیث مع متن کے درج کی ہے)
اس حدیث سے ان کا استدلال یہ ہے کہ “من سرق منه شيئا بعد أن يؤويه الجرين فعليه القطع” کے الفاظ اس بات پر واضح دلیل ہیں کہ قطع کے لیے محفوظ جگہ پر ہونا شرط ہے، اس لیے کہ جرین پھل کی محفوظ کرنے کی جگہ کو کہتے ہیں، اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قطع کو اس جگہ سے پھل چرانے پر مرتب کیا ہے، پس اس سے محفوظ جگہ کی شرط پر دلالت ہوتی ہے۔
مصنف آگے چل کر اپنا فیصلہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
ہمارے نزدیک جمہور کی رائے کو ترجیح حاصل ہے جو چوری میں قطع کے لیے محفوظ جگہ کی شرط لگاتے ہیں۔
(اسلام کا نظام تعزیرات ص ۱۵۲-۱۵۳)
ناظرین! ہم نے ہاتھ نہ کاٹنے کی دونوں وجہیں بتا دی ہیں۔
شارح ہدایہ مولانا میر الدین قاسمی حنفی اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں:
وجہ:
(۱) یہ مسئلے دو اصولوں پر متفرع ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ لوگ ایک دوسرے کے اتنے قریب رہتے ہیں کہ اس کے لیے اس کا گھر محفوظ نہیں رہا، مثلاً باپ کے لیے بیٹے کا اور بیٹے کے لیے باپ کا محفوظ اور حرز نہیں ہے۔ اس پر باقی مسئلے قیاس کر لیں۔ اور چوری کہتے ہیں مقام محفوظ سے چپکے سے اٹھانا۔ اس لیے چوری نہیں پائی گئی، اس لیے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اور دوسرا اصول یہ ہے کہ ایک کا دوسرے کے مال میں کچھ نہ کچھ حصہ سمجھا جاتا ہے، مثلاً بیٹا سمجھتا ہے کہ باپ کے مال میں میرا حصہ ہے اور باپ بھی سمجھتا ہے کہ بیٹے کا مال میرے لیے مباح ہے۔ اور اوپر اثر اور حدیث گزری کہ مال میں کچھ نہ کچھ حصہ ہو تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ یہی حال غلام یا آقا، غلامِ مکاتب کی چرالے، بیوی شوہر کی چرالے یا شوہر بیوی کی چرالے تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
(اثمار الہدایہ ج ۷، ص ۳۷)
ہماری اس بات کی تائید بعض احادیث و آثار سے بھی ہوتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
حدیث:
معقل بن مقرن نے ابن مسعود سے سوال کیا کہ میرے غلام نے میرا جبہ چوری کر لیا ہے تو آپ نے فرمایا: تیرے بعض مال نے بعض کو چوری کیا ہے۔ اس پر ہاتھ نہیں کٹے گا۔
(سنن الکبریٰ بیہقی مترجم ج ۱۰، ص ۷۰۴، كتاب السرقة باب العبد يسرق من متاع سيده)
حدیث:
عبد اللہ بن عمر حضرمی حضرت عمرؓ کے پاس ایک غلام کو لائے اور کہا: اس نے چوری کی ہے، اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ تو حضرت عمر نے پوچھا: کیا چوری کی ہے؟ کہا: میری بیوی کا شیشہ جس کی قیمت ۲۰ درہم تھی۔ تو آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا اور فرمایا: تیرے بعض مال نے تیرا مال چوری کیا ہے۔
(سنن الکبریٰ بیہقی مترجم ج ۱۰، ص ۷۰۴، كتاب السرقة باب العبد يسرق من مال امرأة سيده)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا کیونکہ وہ گھر میں رہتا ہے۔ یہ بات خود غیر مقلدین بھی تسلیم کرتے ہیں۔ مولانا حافظ محمد امین غیر مقلد، نسائی کتاب قطع السارق باب القطع في السفر میں حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت آتی ہے جس کے الفاظ اس طرح ہیں:
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو اگرچہ نصف قیمت پر بکے۔
اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
فوائد و مسائل:
(۱) چوری کرے یعنی مالک کی چوری کرے، کیونکہ کسی دوسرے کی چوری کرے گا تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ مالک کی چوری میں ہاتھ کاٹنا جائز نہیں کیونکہ وہ بھی گھر میں رہتا ہے۔ گویا وہ گھر کا ایک فرد ہے اور گھر کے افراد پر گھر سے چوری کی بنا پر حد نہیں لگائی جاتی۔
(نسائی مترجم ج ۳ ص ۸۲)
----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں