کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 5 : احادیث براء بن عازب رضی اللہ عنہ تحقیق کے آئینے میں : حدیث براء رضی اللہ عنہ پراعتراضات کے جوابات
بِسْمِ اللَّہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْمِ
کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 5 :
احادیث براء بن عازب رضی اللہ عنہ تحقیق کے آئینے میں :
حدیث براء رضی اللہ عنہ پراعتراضات کے جوابات
حدیث نمبر۱: بحوالہ مسند ابی یعلیٰ الموصلی
روی الامام الحافظ ابویعلیٰ الموصلی حدثنا اسحاق حدثنا ابن ادریس قال سمعت یزید بن ابی زیاد عن ابن ابی لیلیٰ عن البراء قال رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رفع یدیہ حین استقبل الصلاۃ حتی رأیت ابھامیہ قریباً من اذنیہ ثم لم یرفعھما۔
(مسند ابی یعلیٰ الموصلی ج۲ ص۹۰برقم ۱۶۹۲)
ترجمہ:سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز شروع کی تو رفع یدین کیا حتی کہ دونوں ہاتھ کانوں کے برابر ہوگئے پھر پوری نماز میں رفع یدین نہ کیا۔
سند کی تحقیق:
اس حدیث کی سند کے راویوں کا مختصر تذکرہ حاضر خدمت ہے۔
(۱)امام ابویعلیٰ الموصلی رحمۃ اللہ علیہ م۳۰۷ھ
اس حدیث کے پہلے راوی امام ابویعلیٰ احمد بن علی بن المثنیٰ التمیمی الموصلی رحمۃ اللہ علیہ ثقہ بالاجماع محدث ہیں، ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے ان کی ثناء و مدح اور توثیق و تعدیل بڑے واضح لفظوں میں کی ہے مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:‘‘محدث الموصل۔۔۔ الحافظ۔ الحافظ الثقۃ محدث الجزیرۃ۔الامام الحافظ شیخ الاسلام۔ محدث الموصل ’’ (المعین فی طبقات المحدثین ج۱ ص۱۰۷، تذکرہ الحفاظ ج۲ ص۱۹۹، برقم ۷۲۶، سیر اعلام النبلاء:ج۱۱ ص۱۰۷ برقم ۲۶۱۹)
(۲)۔۔۔۔ امام ابویعلیٰ الخلیلی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۴۶ھ لکھتے ہیں کہ: ‘‘ ثقۃ متفق علیہ ’’ (الارشاد ج۲ ص۶۱۹)
(۳)۔۔۔۔ امام ابوعبداللہ حاکم رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۵ھ فرماتے ہیں کہ: ‘‘ ثقۃ مأمون ’’ (سیراعلام النبلاء:ج۱۱ ص۱۰۹)
(۴)۔۔۔۔ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھکہتے ہیں کہ ‘‘ ثقۃ مأمون ’’ (ایضاً)
(۵)۔۔۔۔ حافظ عبدالغنی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۹ھ فرماتے ہیں کہ امام ابویعلیٰ موصلی رحمۃ اللہ علیہ ثقہ، ثبت تھے، اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک پر تھے۔ (سیراعلام النبلاء-04 ج۱۱ ص۱۱۲ برقم ۲۶۱۹)
(۶)۔۔۔۔ امام قاسم بن قطلوبغا رحمۃ اللہ علیہ م ۸۷۹ھ کہتے ہیں ‘‘ ثقۃ ’’ (ملخصاً الثقات :ج۱ ص۴۳۰ برقم ۴۷۳)
(۷)۔۔۔۔ حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ‘‘ الحافظ الثقۃ محدث الجزیرۃ ’’ (طبقات الحفاظ ج۱ ص۳۰۹ برقم ۷۰۱)
(۲) امام اسحاق بن اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ م۲۲۵ھ
دوسرے راوی امام اسحاق بن اسماعیل الطالقانی رحمۃ اللہ علیہ کو متعدد ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے ثقہ و صدوق قرار دیا ہے، مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ لکھتے ہیں کہ : ثقۃ (الکاشف ج۱ ص۶۰برقم ۲۸۵)
(۲) ۔۔۔۔امام ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م۲۳۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ کان صدوقاً ’’
(تہذیب التہذیب ج۱ ص۲۶۶)
(۳) ۔۔۔۔امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م۳۸۵ھ کہتے ہیں کہ: ‘‘ ثقۃ ’’ (تہذیب التہذیب ج۱ ص۲۶۷)
(۴)۔۔۔۔ امام ابوداؤدد رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۵ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (ایضاً)
(۵)۔۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھلکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (تقریب ج۱ ص۱۰۰ برقم ۳۴۱)
(۳) عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۲ھ
ابومحمد عبداللہ بن ادریس بن یزید بن عبدالرحمن الاودی کی توثیق و تعدیل کے حوالے ملاحظہ فرمائیں۔
(۱)۔۔۔۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ لکھتے ہیں کہ: ‘‘ الامام الحافظ المقرئ القدوۃ شیخ الاسلام ’’ (سیر اعلام النبلاء ج۷ ص۴۹۹ برقم۱۳۲۵)
(۲)۔۔۔۔ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۳ھ فرماتے ہیں ‘ ‘ ثقۃ ثبت ’’ (ملخصاً ایضاً)
(۳)۔۔۔۔ امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ کہتے ہیں ‘‘ ھو حجۃ امام من ائمۃ المسلمین ’’ (ایضاً)
(۴)۔۔۔۔ امام ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م۲۳۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (ملخصاً ایضاً)
(۵)۔۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ فقیہ ’’ (تقریب ج۱ ص۲۹۵)
(۴) امام یزید بن ابی زیاد رحمۃ اللہ علیہ م۱۳۷ھ
چوتھے راوی امام یزید بن ابی زیاد رحمۃ اللہ علیہ فی نفسہ ائمہ محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک ثقہ و صدوق محدث ہیں، ان کی تعدیل و توثیق کے حوالے اس حدیث پر پہلے اعتراض کے جواب کے ذیل میں آرہے ہیں۔
(۵)امام عبدالرحمن بن ابی لیلی رحمۃ اللہ علیہ م۳۸ھ
امام ابوعیسیٰ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸ھ جلیل القدر تابعی ہیں، ان کے بارے میں ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کی آراء ملاحظہ فرمائیں۔
(۱)۔۔۔۔ امام عجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ لکھتے ہیں ‘‘ ثقۃ تابعی ’’ (تاریخ الثقات ج۱ ص۲۹۸)
(۲) ۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (تقریب ج۱ ص۲۹۸)
(۳)۔۔۔۔ امام ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م۲۳۳ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (تہذیب التہذیب ج۶ ص۲۶۱)
(۴)۔۔۔۔ امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھکہتے ہیں ‘‘ لابأس بہ ’’ (الجرح والتعدیل ج۵ ص۳۰۱)
(۵)۔۔۔۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ لکھتے ہیں کہ: ‘‘عالم الکوفۃ الفقیہ المقری، الکوفی الفقیہ ’’ (الکاشف ج۱ ص۶۴۱تاریخ اسلام ج۲ ص۹۶۶ برقم ۹۲، تذکرۃ الحفاظ ج۱ ص۴۷)
(۶) سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ م۷۲ھ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ جلیل القدر انصاری صحابی رضی اللہ عنہ ہیں آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعمارۃ اور خاندان حارثہ ہے، آپ رضی اللہ عنہ کانسب کچھ یوں ہے:
‘‘براء بن عازب ابن حارث بن عدی بن جشم بن مجدعۃ بن حارثہ۔۔۔۔الخ۔’’ننھیال کی طرف سے سیدنا ابوبردۃ رضی اللہ عنہ(جو غزوہ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب تھے۔ الاصابہ) آپ رضی اللہ عنہ کے ماموں تھے، (مسند احمد ج۴ ص۲۸۲) سیدنا براء رضی اللہ عنہ کے والد محترم عازب رضی اللہ عنہ بھی صحابی رسول تھے۔ غزوہ بدر میں آپ رضی اللہ عنہ اگرچہ کمسن تھے تاہم جوش ایمان عین شباب پر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بوجہ کمسنی کے) ان کو واپس بھیج دیا۔ (ملخصاً بخاری ج۱ ص۵۶۴) البتہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کو غزوہ اْحد، غزوہ خندق، حدیبیہ اور خیبر وغیرہ میں شمولیت کا شرف حاصل ہے۔ (ملخصاً بخاری ج۱ ص۵۷۹، ۵۸۹، ۲۱۰، ۶۰۷) آپ رضی اللہ عنہ حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم انکسار و تواضع اور اتباع سنت جیسی عظیم الشان صفات سے بدرجہ اتم متصف تھے۔ ایک مرتبہ کسی شخص نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک (چمک میں) تلوار کی مانند تھا؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ چاند کی مانند تھا۔ (بخاری ج۱ ص۵۰۲) آپ رضی اللہ عنہ کا کوفہ ۷۲ھ میں انتقال ہوا۔ ( رضی اللہ عنہ ) (ملخصاً از سیر الصحابہ ج۲ ص۲۴۷ تا ۲۵۱)
خلاصۃ التحقیق:
مذکورہ تحقیق سے معلوم ہوا اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں اور اس کی سند بالکل صحیح ہے۔
﴿حدیث براء رضی اللہ عنہ پراعتراضات کے جوابات﴾
سند کے راویوں کی تحقیق کے بعد اب اس حدیث پر فریق مخالف کے اعتراضات کا تحقیقی جائزہ پیش خدمت ہے۔
اعتراض نمبر۱:
زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتا ہے کہ:
اس حدیث کا دارومدار یزید بن ابی زیاد القرشی الھاشمی الکوفی پر ہے جو کہ ضعیف ۔۔۔۔تھا۔
(نورالعینین ص۱۴۵)
جواب اوّل:
اوّلاً۔۔۔۔ یزید بن ابی زیاد الکوفی رحمۃ اللہ علیہ فی نفسہ ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک ثقہ و صدوق راوی ہے مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔ امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ یزید مذکور کے متعلق لکھتے ہیں کہ: ‘‘ کوفی ثقۃ جائز الحدیث وکان بآخرۃ یلقن ’’ (کتاب الثقات ج۲ ص۳۶۴ برقم ۲۰۱۹)
(۲)۔۔۔۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں ‘‘ الامام المحدث ابوعبداللہ الھاشمی صدوق فی نفسہ صدوق ردئ الحفظ لم یترک۔۔۔ الخ۔’’ (سیر اعلام النبلاء ج۶ ص۲۷۶ برقم ۸۷۲ تاریخ اسلام ج۸ ص۵۶۵ الکاشف ج۲ ص۳۸۲ برقم ۶۳۰۵)
(۳)۔۔۔۔ حافظ ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۰ھ کہتے ہیں ‘‘ کان ثقۃ فی نفسہ الا انہ اختلط فی آخر عمرہ۔۔۔۔ الخ۔’’ (الطبقات الکبریٰ ج۶ ص۳۴۰)
(۴)۔۔۔۔ حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م۳۵۴ھفرماتے ہیں :‘‘ کان یزید صدوقاً الا انہ لماکبر۔۔۔۔ الخ۔’’ (المجروحین ج۳ ص۱۰۰ ،تاریخ اسلام ج۸ ص۵۶۵)
(۵)۔۔۔۔ امام ابوحفص ابن شاہین رحمۃ اللہ علیہ م۳۸۵ھ کہتے ہیں ‘‘ ثقۃ ’’ (تاریخ اسماء الثقات ج۱ ص۲۵۶)
(۶)۔۔۔۔ امام احمد بن صالح المصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ‘‘ ثقۃ ولا ییعجبنی قول من تکلم فیہ ’’ (تہذیب التہذیب ج۷ ص۱۵۲،تاریخ اسماء الثقات ج۱ ص۲۵۶)
(۷)۔۔۔۔ امام شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۰ھ نے یزید مذکورہ سے متعدد روایات لی ہیں، (مثلاً دیکھئے مسند ابی داؤد طیالسی برقم ۳۸۶۔۴۴۸۔۱۳۱۸ وغیرہ) اور متعدد علمائے غیر مقلدین مثلاً قاضی شوکانی، احمد شاکر، عبدالرحمن مبارکپوری، زبیرعلی زئی وغیرہم نے صراحت کررکھی ہے کہ امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے نزدیک ثقہ راویوں سے ہی روایت لیتے تھے۔ (القول المقبول شرح صلوٰ الرسول ص۳۸۶ نیل الاوطار ج۱ ص۱۶ بکار المنن ص۱۴۷۔ ۱۵۰ ماہنامہ الحدیث ص۱۰ ش نمبر۱۷) لہٰذا ثابت ہوا کہ علمائے غیر مقلدین کے بقول امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یزید بن ابی زیاد ثقہ راوی ہے۔
(۸)۔۔۔۔ امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۵ھ فرماتے ہیں: ‘‘ یزید بن ابی زیاد ثبت لا اعلم احداً ترک حدیثہ ۔۔۔۔.الخ۔’’ (سوالات الآجری ج۱ ص۱۵۸ برقم ۱۳۹ تہذیب ج۷ ص۱۵۲)
(۹)۔۔۔۔ امام جریر بن عبدالحمید رحمۃ اللہ علیہ م۱۸۸ھ کہتے ہیں ‘‘یزید احسنھم استقامۃ فی الحدیث ’’ (الجرح والتعدیل :ج۹ ص۲۶۵ برقم ۱۱۱۴)
(۱۰)۔۔۔۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۱ھ بھی امام جریر کی مثل فرماتے ہیں۔ (ایضاً)
(۱۱)۔۔۔۔ یعقوب بن سفیان الفسوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ‘‘ وان کانوا یتکلمون فیہ لتغیرہ فھو علی العدالۃ والثقۃ ’’ (تہذیب التہذیب ج۷ ص۱۵۲)
(۱۲)۔۔۔۔ امام ابن العماد الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۸۹ھلکھتے ہیں ‘‘ وھو حسن الحدیث ’’ (شذرات الذہب ج۲ ص۱۸۴)
(۱۳)۔۔۔۔ امام ضیاء الدین المقدسی رحمۃ اللہ علیہ م۶۴۳ھ نے اپنی کتاب ‘‘الاحادیث المختارۃ’’ میں یزید مذکور کی متعدد روایات لی ہیں (مثلاً دیکھئے حدیث نمبر ۶۴۴۔ ۶۴۵۔ ۴۶۶) جو کہ زبیر علی زئی صاحب کے بقول امام مقدسی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یزید بن ابی زیاد کے صحیح الحدیث (ثقہ) ہونے کی دلیل ہے۔ (تحقیقی مقالات ج۱ ص۴۲۳) نیز امام مقدسی رحمۃ اللہ علیہ نے صراحتاً بھی ان کی روایات کو صحیح و حسن بھی کہا ہے (مثلاً دیکھئے الاحادیث المختارہ برقم ۴۶۸۔۴۶۵۔۴۶۶ وغیرہ)
(۱۴)۔۔۔۔ امام ابو الحسن نور الدین الہیثمی رحمۃ اللہ علیہ م۸۰۷ھ لکھتے ہیں :‘‘ یزید بن ابی زیاد وھو حسن الحدیث ’’ (مجمع الزوائد ج۸ ص۲۵۸برقم ۱۳۹۴۶)
(۱۵)۔۔۔۔ امام ابن دقیق العید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ‘‘ یزید بن ابی زیاد معدود فی اہل الصد ق ’’ (نصب الرایۃ ج۱ ص۴۷۷)
(۱۶)۔۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھکی تحقیق کے مطابق امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمۃ اللہ علیہ م۲۵۶ھ نے اپنی کتاب ‘‘صحیح بخاری’’ میں یزید مذکور کی روایت تعلیقاً لی ہے۔ (تہذیب ج۷ ص۱۵۲) جو کہ زبیر علی زئی صاحب کے بقول امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یزید بن ابی زیاد کے صحیح الحدیث (ثقہ و صدوق) ہونے کی دلیل ہے۔ (مقالات ج۱ ص۴۲۱)
(۱۷)۔۔۔۔ امام المحدثین محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ ۸۵۵ھلکھتے ہیں :‘‘ یزید فی نفسہ ثقۃ یقال جائز الحدیث ’’ (البنایہ شرح الہدایہ ج۲ ص۲۵۵)
(۱۸)۔۔۔۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ نے اپنی کتاب ‘‘صحیح مسلم’’ میں یزید مذکور کی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ (ملخصاً تہذیب التہذیب ج۷ ص۱۵۲ البنایہ ج۲ ص۲۵۵) اور امام موصوف کا صحیح مسلم میں ان کی حدیث سے استدلال کرنا ہی زبیر صاحب کے بقول امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یزید مذکور کے ثقہ و صدوق اور صحیح الحدیث ہونے کی دلیل ہے۔ (ملخصاً مقالات ج۱ ص۴۳۲)
درج ذیل حضرات نے یزید بن ابی زیاد کی سند سے مروی احادیث کو صحیح و حسن وغیرہ قرار دیا ہے اور علماء غیرمقلدین نے متعدد اپنی کتب میں تصریح کررکھی ہے کہ اگر کوئی محدث کسی روایت یا اس کی سند کو صحیح یا حسن قرار دے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی سند کا ہر ہر راوی اس محدث کے نزدیک ثقہ یا صدوق ہے۔ (ماہنامہ الحدیث ص۳۲ ش نمبر ۱۴ نورالعینین ص۵۳ نصر الباری ص۱۷۲، القول المتین ص۲۰ مکالمات نورپوری ص۳۴۰ تنقیح الکلام ص۲۹۰) لہٰذا علمائے غیرمقلدین کے بقول درج ذیل ائمہ محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی یزید بن ابی زیاد ثقہ یا صدوق ہے۔
(۱۹)۔۔۔۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۹ھ :(سنن ترمذی برقم ۳۷۰۱۔ ۳۶۹۱۔ ۳۵۴۱۔ ۳۵۴۰)
(۲۰)۔۔۔۔ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ م۷۷۴ھ: (البدایہ والنہایہ ج۲ ص۶۰)
(۲۱)۔۔۔۔ امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ م ۸۴۰ھ: (مصباح الزجاجہ برقم ۴۱۸۔ ۱۲۶۳۔ ۵۴۶)
(۲۲)۔۔۔۔ امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۱۶ھ: (شرح السنہ برقم ۳۹۳۶۔ ۱۷۵۸۔ ۳۳۴)
(۲۳)۔۔۔۔ امام ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ: (التمہید لابن عبدالبر : ج۹ ص۲۲۰)
(۲۴)۔۔۔۔ امام ابوعلی الطوسی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۱۲ھ: (مختصر الاحکام ج۴ ص۵۲)
زبیر علی زئی نے صراحت کررکھی ہے کہ مندرجہ ذیل اماموں نے سنن نسائی کو صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے مسئلہ فاتحہ خلف الامام ص۵۲) اور مذکور یزید بن ابی زیاد کی سند سے مروی متعدد احادیث سنن نسائی میں موجود ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ زبیر صاحب کے بقول ان اماموں نے مذکور یزید کی احادیث کو بھی صحیح قرار دیا ہے، اور ماقبل میں علماء غیرمقلدین کی متعدد کتب کے حوالہ سے عرض کیا جاچکا ہے کہ اگر کوئی محدث کسی روایت کو صحیح یا حسن قرار دے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس حدیث کی سند کا ہر ہر راوی اس محدث کے نزدیک ثقہ یا صدوق ہے، لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ علماء غیرمقلدین کے بقول یزید بن ابی زیاد درج ذیل اماموں کے نزدیک بھی ثقہ یا صدوق ہے۔
(۲۵)۔۔۔۔ امام ابوعلی نیسابوری رحمۃ اللہ علیہ م۳۴۹ھ:
(۲۶)۔۔۔۔ امام ابو احمد بن عدی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۵ھ
(۲۷)۔۔۔۔ امام عبدالغنی بن سعید رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۹ھ:
(۲۸)۔۔۔۔ امام ابن مندہ رحمۃ اللہ علیہ م۳۹۵ھ:
(۲۹)۔۔۔۔ امام ابویعلیٰ الخلیلی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۳ھ
(۳۰)۔۔۔۔ امام ابوبکر الخطیب البغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ:
(۳۱)۔۔۔۔امام ابوعلی ابن السکن م۳۵۳ھ :
(۳۲ تا ۳۴)۔۔۔۔ امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ م ۳۱۱ھ نے اپنی کتاب ‘‘صحیح ابن خزیمہ’’ میں امام ابن الجارود رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۷ھ نے ‘‘المنتقٰی’’ میں، اور امام ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ م۳۱۶ھ نے اپنی کتاب ‘‘صحیح ابی عوانہ’’ میں یزید بن ابی زیاد کی روایت بغیر جرح کے روایت کی ہے۔ (دیکھئے صحیح ابن خزیمہ برقم ۱۱۷، المنتقیٰ برقم ۱۱۷، صحیح ابی عوانہ برقم ۸۴۸۵۔ ۱۹۷۰) جو کہ زبیر علی زئی صاحب کے بقول ان تینوں حضرات کے نزدیک یزید مذکور کے صحیح الحدیث (ثقہ و صدوق) ہونے کی دلیل ہے۔ (ملخصاً مقالات ج۱ ص۴۶۰۔ ۴۲۱)
(۳۵)۔۔۔۔ زبیر علی زئی غیرمقلد نے تسلیم کیا ہے کہ حافظ ابوموسیٰ محمد بن ابی بکر المدینی رحمۃ اللہ علیہ نے مسند احمد کو صحیح کہا ہے۔ (ملخصاً ماہنامہ الحدیث ص۴۳ ش نمبر ۵۰) اور مسند احمد میں یزید بن ابی زیاد کی سند سے مروی کئی احادیث موجود ہیں۔ (مثلاً دیکھئے مسنداحمد برقم ۸۶۹۔ ۸۹۰۔ ۸۹۱۔ ۸۹۳) جس سے ثابت ہوا کہ حافظ موصوف نے بقول علی زئی راوی مذکور کی متعدد احادیث کو صحیح قرار دے کر اس راوی کو بھی ثقہ و صدوق تسلیم کرلیا ہے۔
(۳۶)۔۔۔۔ مستدرک حدیث صلاۃ التسبیح ج۱ ص ۳۱۸ رقم الحدیث ۱۱۹۲ کے حوالے سے غیرمقلد مذکور نے لکھا ہے کہ امام ابوعبداللہ الحاکم رحمۃ اللہ علیہ م۴۰۵ھ کے نزدیک سنن نسائی صحیح ہے۔ (ماہنامہ الحدیث ص۴۳ش نمبر۵۰) اور سنن نسائی میں یزید کی کئی روایات موجود ہیں۔ جس سے ثابت ہوا کہ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے سنن نسائی میں موجود یزید بن ابی زیاد کی متعدد احادیث کو صحیح مان کر بقول علی زئی یزید کو بھی ثقہ و صدوق مان لیا ہے۔
(۳۷)۔۔۔۔ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘سنن نسائی’’ میں یزید بن ابی زیاد کی متعدد روایات ذکر کی ہیں۔ (مثلاً دیکھئے سنن النسائی کی حدیث نمبر۵۶۶۹۔ ۵۳۰۱۔ ۴۸۷۲) اور ارشاد الحق اثری غیرمقلد کے نزدیک امام موصوف کا محض کسی حدیث کو سنن النسائی میں ذکر کرنا ہی امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس حدیث کے صحیح یا حسن ہونے کی دلیل ہے۔ (ملخصاً توضیح الکلام ص۳۳۷) جس سے معلوم ہوا کہ بقول اثری امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے یزید مذکور کی احادیث کی تصحیح و تحسین کے ضمن میں یزید کو بھی ثقہ و صدوق قرار دے دیا۔
ثانیاً۔۔۔۔ متعدد علماء غیرمقلدین میں سے بھی کچھ نے تو یزید بن ابی زیاد کی روایات کی تصحیح و تحسین کررکھی ہے اور کچھ نے اس کی روایات سے استدلال کررکھا ہے، اور کچھ نے تو صراحتاً یزید مذکور کو ثقہ و صدوق قرار دیا ہے مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔ عبدالرحمن مبارکپوری غیرمقلد لکھتا ہے ‘‘ یزید بن ابی زیاد وھو حسن الحدیث ’’ (تحفۃ الاحوذی ص۷۴۹برقم ۳۵۱۶)
(۲)۔۔۔۔ احمد محمد شاکر غیرمقلد لکھتا ہے ‘‘ والحق انہ ثقۃ ’’ (شرح ترمذی ج۱ ص۲۳۶)
(۳)۔۔۔۔ ناصر الدین البانی غیرمقلد نے اس کی کئی احادیث کی تصحیح و تحسین کررکھی ہے مثلاً دیکھئے صحیح سنن ابی داؤد برقم ۹۳۔ ۱۷۳۳۔ ۱۷۹۴۔ ۱۹۶۸۔ ۱۹۷۰۔ ۲۰۸۲، صحیح سنن ابن ماجہ برقم ۳۰۸۱۔ ۳۰۳۱۔ ۳۰۲۸۔ ۲۶۷۰۔ ۱۵۱۳۔ ۱۳۷۹۔ ۵۰۴۔
(۴)۔۔۔۔ صادق سیالکوٹی غیرمقلد نے اپنی کتاب ‘‘صلوٰۃ الرسول’’ میں اس کی کئی احادیث سے استدلال کیا ہے۔ (مثلاً دیکھئے صلاۃ الرسول مع تسہیل الوصول ص۱۰۶۔ ۱۱۱ برقم ۱۱۷۔ ۱۲۶)
(۵)۔۔۔۔ غیر مقلدین کے روزنامہ انقلاب میں ‘‘صلوٰۃ الرسول’’ میں درج شدہ احادیث کو صحیح کہا گیاہے۔ (دیکھئے صلوٰۃ الرسول مع تسہیل الوصول ص۲۳)
(۶)۔۔۔۔غیر مقلدین کے ہفت روزہ آفاق لاہور میں ‘‘صلوٰۃ الرسول’’ میں درج احادیث کو صحیح کہا گیاہے۔ (ایضاً)
(۷)۔۔۔۔ روزنامہ احسان لاہور نے بھی صحیح کہا ہے۔ (ایضاً :ص۲۵)
(۸)۔۔۔۔ ہفت روزہ الاعتصام نے بھی صحیح کہا ہے۔ (ایضاً :ص۲۷)
(۹)۔۔۔۔ ماہنامہ ترجمان دہلی نے بھی صحیح کہا ہے۔ (ایضاً :ص۲۸)
لہٰذا مذکورہ اخباروں اور رسائل میں غیرمقلد تبصرہ نگاروں نے صلوٰۃ الرسول کی احادیث کو صحیح قرار دے کر اس میں درج شدہ یزید بن ابی زیاد کی سند سے مروی احادیث کو بھی صحیح تسلیم کرلیا ہے۔
جواب ثانی:
زبیر صاحب نے یزید بن ابی زیاد کے خلاف جو ائمہ کے اقوال جرح نقل کیے ہیں، وہ زیربحث یزید بن ابی زیاد کی روایت پر جاری نہیں ہوسکتے، کیونکہ زبیر علی زئی نے بذاتِ خود ‘‘نور العینین قدیم’’ میں اور زبیر صاحب کے ہم مسلک رئیس ندوی غیرمقلد نے ‘‘سلفی تحقیقی جائرہ’’ میں تسلیم کیا ہے کہ یزید مذکور فی نفسہ ثقہ و صدوق راوی ہے مگر آخر میں یہ اختلاط یعنی خرابی حافظہ کا شکار ہوگیا تھا۔ لہٰذا جن ائمہ محدثین نے اس کی توثیق کی ہے وہ اختلاط یعنی خرابی حافظہ سے پہلے پر محمول ہے، اور جنہوں نے اس کی تضعیف کی ہے وہ اختلاط کے بعد پر مبنی ہے۔
چنانچہ زبیر صاحب لکھتے ہیں کہ:
(یزید بن ابی زیاد کی) پہلے حالت اچھی تھی بعد میں اس کا حافظہ خراب ہوگیا تھا، لہٰذا جنہوں نے اس کی توثیق کی ہے وہ اختلاط سے پہلے پر محمول اور جنہوں نے اس کی تضعیف کی ہے وہ اختلاط کے بعد پر مبنی ہے۔ (نورالعینین ص۱۳۶ قدیم ایڈیشن)
رئیس ندوی غیرمقلد صاحب لکھتے ہیں کہ:
ائمہ کرام نے یزید بن ابی زیاد کو تخلیط و تغیر کا شکار ہونے کے بعد متروک و ساقط الاعتبار قرار دیا ہے، لہٰذا جن ائمہ نے انہیں ثقہ و صدوق کہا انہوں نے تخلیط و تغیر کے شکار ہونے سے پہلے کی حالت کو ملحوظ رکھ کر توثیق و تصدیق کی ہے، اور یہ بات تمام ائمہ حدیث کو کہنی چاہیے۔ (سلفی تحقیقی جائزہ ص۵۷۶)
ندوی صاحب مزید لکھتے ہیں:
موصوف یزید ایک زمانہ تک صحیح الحدیث تھے، لیکن بعد میں یہ تغیر حفظ کے شکار ہوگئے۔ (ملخصاً ص۵۷۵)
الغرض مذکورہ اقتباسات میں زبیر علی زئی اور رئیس ندوی صاحب نے تسلیم کرلیا ہے کہ یزید بن ابی زیاد ایک زمانہ تک صحیح الحدیث اور ثقہ و صدوق راوی تھا مگر بعد میں موصوف خرابی حافظہ کا شکار ہوگیا تھا اور جن ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے اس پر جرح کی ہے وہ اختلاط کے بعد پر مبنی ہے اور حافظہ کی خرابی کی وجہ سے ہی ائمہ نے اس پر جرح کی ہے۔
اور جو راوی فی نفسہ ثقہ و صدوق ہو مگر بعد میں خرابی حافظہ کے عارضہ میں مبتلاہوگیا ہو تو ایسے راوی کے بارے میں متفق علیہ اْصول ہے کہ جو حدیثیں اس راوی نے خرابی حافظہ سے پہلے بیان کی ہیں وہ حدیثیں صحیح شمار ہوتی ہیں، اور جو خرابی حافظہ کے بعد بیان کی ہیں وہ ضعیف شمار ہوتی ہیں، اور آگے جاکر انشاء اللہ ہم ناقابل تردید دلائل سے ثابت کریں گے کہ ترک رفع یدین کی مذکورہ بالا حدیث یزیدبن ابی زیاد نے خرابی حافظہ کے عارضہ میں مبتلا ہونے سے پہلے بیان کی ہے۔ پس اْصول کے مطابق اس کی یہ حدیث صحیح ہے، اور یزید کے خرابی حافظہ کا اعتراض اس حدیث پر جاری نہیں ہوتا۔
جواب ثالث:
زبیر صاحب کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ زیر بحث حدیث کا دارومدار محض یزید بن ابی زیاد پر ہی نہیں ہے، اور نہ ہی اسے بیان کرنے میں یزید بن ابی زیاد اکیلا ہے، بلکہ عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اور حکم بن عتیبہ نے اس کی متابعت تامہ اور ابوالحکم نے متابعت قاصرہ کررکھی ہے۔ (دیکھئے شرح معانی الاٰثار ج۱ ص۲۲۴، مسند الرویانی ج۱ ص۴۰۴ مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ ص۲۶۷تاریخ بغداد برقم ۶۷۵۲) نیز اس حدیث کی تائید مسند ابی حنیفہ بروایہ ابی نعیم رحمۃ اللہ علیہ ص۱۵۶ میں موجود سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہورہی ہے، اور اس کی سند میں نہ تو یزید بن ابی زیاد ہے اور نہ ہی محمد بن ابی لیلیٰ۔
اعتراض نمبر۲:
زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
اس حدیث کا دارومدار یزید بن ابی زیاد القرشی الہاشمی الکوفی پر ہے جو کہ۔۔۔۔ شیعہ تھا۔
(نورالعینین ص۱۴۵)
الجواب:
اوّلاً۔۔۔۔ تو عرض ہے کہ یزید بن ابی زیاد کا غیرمقلدین کے اْصولوں کی روشنی میں شیعہ ہونا ہی سرے سے ثابت نہیں ہے۔ کیونکہ جن حضرات نے اس کو شیعہ کہا ہے وہ اس کی وفات کے کئی سال بعد پیدا ہوئے ہیں، ان حضرات کو اس کا شیعہ ہونا کس طرح معلوم ہوا؟ لہٰذا اس پر شیعیت کی جرح کی سند منقطع ہے۔ اور غیر مقلدین کے نزدیک منقطع السند جرح سند کے انقطاع کی وجہ سے مردود ہوتی ہے۔
چنانچہ امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ انہوں نے عبداللہ سالم الاشعری کو ناصبی قرار دیا ہے اور اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ کہتا تھا کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کے قتل پر اعانت کی ہے، اور ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ اس کی مذمت کرتے تھے۔
زبیرعلی زئی صاحب نے اس جرح کو نقل کرنے کے بعد اس کا جواب یہ دیا ہے:
کہ بقول آجری ابوداود ۲۰۲ھ میں پیدا ہوئے۔ اور بقول آجری عن ابی داود، عبداللہ بن سالم ۱۷۹ھ کو فوت ہوا۔ یعنی اس کی وفات کے تئیس سال بعد ابوداؤد پیدا ہوئے۔ لہٰذا انہیں یہ قول کس طرح معلوم ہوا؟ سند کے انقطاع کی وجہ سے اس قول کی نقل مردود ہے۔ (القول المتین: ص۲۰)
الغرض خود زبیرعلی زئی کے اس مذکورہ اْصول کی روشنی میں سند کے انقطاع کی وجہ سے یزید بن ابی زیاد پر شیعیت کی جرح مردود و غیر ثابت ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔ یزید بن ابی زیاد ائمہ محدثین کے نزدیک فی نفسہ ثقہ و صدوق راوی ہے، اور ثقہ و صدوق راوی پر مطلقاً شیعیت کی جرح کو خود زبیر صاحب بھی مضر نہیں سمجھتے۔چنانچہ زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
جس راوی کا ثقہ و صدوق ہونا ثابت ہوجائے اس کا قدری، خارجی، رافضی، شیعی، جہمی، مرجی وغیرہ ہونا صحت حدیث کے خلاف نہیں۔ (نور العینین ص۲۵ وفی طبعۃ ص۶۳)
علی زئی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:
روایت حدیث میں اصل بات راوی کی عدالت اور ضبط ہے، اس کا بدعتی مثلاً مرجئ، شیعہ، قدری وغیرہ ہونا چنداں مضر نہیں ہے۔ (ماہنامہ الحدیث ص۹ ش نمبر۲)
ثالثاً۔۔۔۔بفرض محال یزید کا شیعہ ہونا ثابت بھی ہوجائے تو تب بھی اس سے اس کا اثنا عشری، جعفری شیعہ یا رافضی ہونا قطعاً لازم نہیں آتا۔ کیونکہ یزید مذکور متقدمین میں سے ہے، اور متقدمین علماء کی اصطلاح میں شیعہ اس کو کہتے ہیں جو محض حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیتا ہو، اسے تفضیلی شیعہ بھی کہا جاتا ہے، اور ان متقدمین شیعوں میں موجودہ شیعوں کی طرح کفریہ عقائد (جیسے تکفیر صحابہ، انکارِ قرآن، عقیدہ رجعت وغیرہ) عموماً نہیں پائے جاتے تھے، اور جو شخص ان کفریہ عقائد کا معتقد ہوتا تھا متقدمین علماء اسے غالی رافضی کہتے تھے۔
جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
‘‘ والتشیع محبۃ علی رضی اللہ عنہ وتقدیمہ علی الصحابۃ فمن قدمہ علی ابی بکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ فھو غال فی التشیع ویطلق علیہ رافضی والا فشیعی فان انضاف الیٰ ذلک السب او التصریح بالبغض فغال فی الرفض وان اعتقد الرجعۃ الی الدنیا فاشد فی الغلو ’’
اصطلاح قدیم میں شیعیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت اور ان کو دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے افضل سمجھنے کا نام ہے، جو شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر مقدم سمجھتا ہے تو وہ غالی شیعہ ہے، اور اسی کو رافضی بھی کہا جاتا ہے، ورنہ شیعی کہتے ہیں پھر اگر اس کے ساتھ سب و شتم یا بغض و نفرت کا اظہار بھی ہو تو وہ رافضیت میں غلو کرنے والا ہے۔ (غالی رافضی ہے)۔ اور اگر وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دوبارہ دنیا میں آنے کا عقیدہ رکھتا ہو تو وہ غلو کرنے میں بھی آگے ہے۔ (ھدی الساری مقدمہ فتح الباری ص:۶۴۰)
ارشاد الحق اثری صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں کہ:
متقدمین کے عرف میں شیعہ اس کو کہتے ہیں جو صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر فضیلت دے۔ (تصانیف کے آئینے میں: ص۶۶)
محمد بن اسماعیل سلفی غیرمقلد صاحب لکھتے ہیں کہ:
رفض اور تشیع میں جو فرق ہے وہ اہل علم پر مخفی نہیں۔ (مقالات حدیث: ص۴۴۵)
اب چونکہ موجودہ شیعوں میں بھی رافضیوں کی طرح کفریہ عقائد پائے جاتے ہیں۔ اس لئے اس زمانہ میں شیعہ اور رافضی کا مصداق ایک ہی ہے، لیکن اصطلاح قدیم میں ان دونوں میں فرق تھا۔ پس جو راوی صرف تشیع کے ساتھ مجروح ہو اور اس میں رافضیوں کی طرح کفریہ عقائد نہ پائے جاتے ہوں تو ایسے راوی کی روایت (بشرطیکہ وہ ثقہ و صدوق ہو اور اس کی بیان کردہ روایت مسلک اہل سنت کے خلاف نہ ہو تو) قابل قبول ہوتی ہے، کیونکہ ایسے تفضیلی شیعوں کی روایتیں تو بخاری و مسلم میں بھی موجود ہیں۔
چنانچہ صرف امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۱۱ھ نے تقریباً پچیس راوی ایسے شمار کیے ہیں جو تشیع کے ساتھ مجروح ہیں۔ (تدریب الراوی ج۱ ص۲۷۹) حتیٰ کہ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۵ھ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ صحیح مسلم ایسے راویوں (تفضیلی شیعوں) سے بھری ہوئی ہے۔ (ایضاً)
الغرض ثقہ و صدوق متقدمین شیعہ جو کہ صرف تشیع کی جرح کے ساتھ مجروح ہیں اور ان میں کفریہ عقائد رافضیوں کی طرح نہیں پائے جاتے تو ان کی وہ روایات جو اہل سنت والجماعت کے مسلک کے خلاف نہیں ہیں۔ بالاتفاق قابل قبول ہیں۔
نیز اگر غیرمقلدین مذکورہ اْصولی بحث کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو پھر غیرمقلدین اور ان کے اتباع بخاری و مسلم کی ان جملہ روایات پر جن کی سند میں تشیع کی جرح کے ساتھ مجروح راوی موجود ہیں خط تضعیف کھینچ دیں اور ان کے غیر صحیح ہونے کا کھلم کھلا اعلان کردیں۔
من نگویم کہ ایں مکن آں کن
مصلحت بیں و کار آسان کن
رابعاً۔۔۔۔ یزید موصوف نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو جنتی قرار دینے والی حدیث بیان کی ہے۔ (دیکھئے المعجم الکبیر برقم ۶۹۵) اور زبیر علی زئی صاحب کے نزدیک جب کوئی راوی کسی صحابی کی فضیلت میں کوئی حدیث بیان کردے تو اس راوی پر شیعیت کی جرح باطل و مردود ہوتی ہے۔چنانچہ امام ابوعبداللہ الحافظ رحمۃ اللہ علیہ پر منقول ‘‘رافضی خبیث’’ کی جرح کا جواب دیتے ہوئے علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
یہ جرح چاروجہ سے مردود اور باطل ہے۔۔۔۔(امام ابوعبداللہ الحافظ رحمۃ اللہ علیہ) نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب لکھے ہیں، اور یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شیعہ ان صحابہ کی فضیلت کا قائل ہو بلکہ شیعہ تو ان صحابہ کو برا کہتے ہیں۔ (العیاذ باللہ) (مقالات ج۴ ص۴۶)
لہٰذا علی زئی کے اس اْصول کی روشنی میں یزید بن ابی زیاد پر شیعیت کی جرح کا مردود و باطل ہونا واضح ہے۔
خامساً۔۔۔۔ امام یزید بن ابی زیاد القرشی الہاشمی رحمۃ اللہ علیہ صحیح مسلم، سنن النسائی، سنن الترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، اور تعلیقاً صحیح بخاری کے راوی ہیں، اور جمہور ائمہ محدثین کے نزدیک فی نفسہ ثقہ و صدوق بھی ہیں۔ اور غیرمقلد زبیرعلی زئی صاحب نے اپنے پسندیدہ راویوں پر شیعیت جیسی جروحات کو متعدد مقامات پر بغیر کسی معقولی دلیل کے محض اس وجہ سے رد کردیا ہے کہ یہ بخاری و مسلم یا کتب صحاح ستہ کا راوی ہے یا عندالجمہور موثق ہے لہٰذا اس پر جرح مردود ہے مثلاً۔۔۔۔
محمد بن فضیل پر منقول شیعیت کی جرح کا جواب دیتے ہوئے علی زئی لکھتا ہے کہ:
محمد بن فضیل کتب ستہ کے راوی اور موثق عندالجمہور تھے، ان پر تشیع کا الزام چنداں مضر نہیں ہے۔ (بلفظہ توضیح الاحکام:ص۲۶۸)
صحیح مسلم کے راوی اسماعیل بن عبدالرحمن کے متعلق زبیر صاحب لکھتے ہیں کہ:
آپ پر تشیع کا الزام ہے جو کہ جمہور کی توثیق کے بعد یہاں مردود ہے۔ (توضیح الاحکام: ص۵۷۴)
عبدالحمید بن جعفر پر قدری کی جرح کو رد کرتے ہوئے اس نے لکھا ہے کہ:
ثقہ راوی پر قدری وغیرہ کی جرح مردود ہوتی ہے۔ (مقالات ج۱ ص۴۷۰)
بغیر کسی دلیل کے محمد بن مظفر کے متعلق لکھا:
ان پر ابوالولید الباجی کی جرح فیہ تشیع ظاہر مردود ہے۔(مقالات:ج۲ص۵۴۳)
بخاری و مسلم کے راویوں کے متعلق لکھا:
صحیحین کے اْصول کے راوی چونکہ جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہیں، لہٰذا ان پر بدعت وغیرہ کی جرحیں مردود ہیں۔ (مقالات ج۲ ص۳۵۰)
اسی طرح زبیر علی زئی صاحب نے ابوقلابہ پر ناصبیت اور نصر بن عاصم پر خارجیت کی جرح کو رد کرتے ہوئے بغیر کسی دلیل کے لکھا:
ابوقلابہ پر ناصبیت اور نصر بن عاصم پر خارجیت کا الزام مردود ہے۔ (حاشیہ جزء رفع الیدین :ص۳۹)
کیا یزید بن ابی زیاد کے متعلق بھی زبیر صاحب سے ایسے فیصلے کی توقع کی جاسکتی ہے؟
زبیر علی زئی تضاد نمبر ۱۹:
پھر زبیر صاحب کی دوغلی پالیسی ملاحظہ فرمائیں کہ یہاں پر علی زئی صاحب ترکِ رفع الیدین دشمنی میں صحیح مسلم، سنن النسائی، سنن الترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد اور تعلیقاً صحیح بخاری کے راوی یزید بن ابی زیاد پر جرحی نشتر چلارہے ہیں، جبکہ دوسری طرف اس کے برعکس زبیر صاحب نے بخاری و مسلم کے راویوں پر جرح کرنے والوں کو بدعتی کہا ہے۔ (دیکھئے نورالعینین ص۳۲)
دروغ گورا حافظہ نباشد
سادساً۔۔۔۔مذکورہ معروضات کے بعد بھی اگر کوئی غیرمقلد یزید بن ابی زیاد کو شیعہ کہہ کر ترک رفع الیدین دشمنی میں اس کی بیان کردہ حدیث کو ضعیف قرار دینے پر ہی مصر ہے تو اس شخص کو چاہیے کہ یزید موصوف کی حدیث کو ضعیف قرار دینے سے پہلے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ان تمام احادیث کو ضعیف قرار دے جن کو شیعہ راویوں نے بیان کیا ہے، کیونکہ حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۱۱ھ اور امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۵ھ نے وضاحت فرمارکھی ہے کہ شیعیت کی جرح کے ساتھ مجروح راوی بخاری و مسلم میں بھی ہیں، مزید لطف کی بات یہ ہے کہ فریق مخالف کے محدث العصر زبیر علی زئی صاحب نے بھی بخاری و مسلم کے کئی راویوں کو شیعہ قرار دیا ہے مثلاً۔۔۔۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم کے راوی خالد بن مخلد کے بارے میں ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے زبیر صاحب لکھتے ہیں کہ:
‘‘ وکان منکر الحدیث فی التشیع مفرطاً ’’ تشیع میں افراط کرنے والا منکر حدیثیں بیان کرنے والا تھا ۔(توضیح الاحکام ج۱ ص۹۵)
جو زجانی نے کہا ‘‘ کان شتاماً معلناً بسوء مذھبہ ’’ وہ (صحابہ) کو گالیاں دینے والا تھا اپنے برے مذہب کا اعلان کرنے والا تھا۔ (ایضاً)
صحیح بخاری کے راوی عباد بن یعقوب کے متعلق ‘‘الکامل’’ کے حوالے سے علی زئی نے لکھا ہے کہ:
یہ شیعیت میں غالی تھا اور سلف (صحابہ و تابعین) کو گالیاں دیتا تھا۔ (ایضاً :ص۹۵)
صحیح بخاری کے راوی ‘‘علی بن الجعد’’ کے متعلق اس نے لکھا:
علی بن الجعد تشیع کے ساتھ مجروح ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ وغیرہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی تنقیص کرتا تھا۔ (قیام رمضان کا تحقیقی جائرہ: ص۲۸)
علی زئی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:
اہل بدعت (شیعوں وغیرہ۔ ن) کی روایات صحیحین (بخاری و مسلم) میں موجود ہیں۔ (توضیح الاحکام: ص۹۵)
سابعاً۔۔۔۔ غیرمقلدین کا یزید بن ابی زیاد پر غصہ برسانا فضول ہے، کیونکہ ہم ماقبل میں عرض کرچکے ہیں کہ یزید موصوف یہ حدیث نقل کرنے میں اکیلا نہیں ہے، بلکہ عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ، حکم بن عتیبہ نے اس کی متابعت تامہ اور ابوالحکم نے اس کی متابعت قاصرہ کررکھی ہے۔ (کمامر)
اعتراض نمبر۳:
رئیس ندوی غیرمقلد کہتا ہے کہ:
یہ حدیث یزید موصوف نے تخلیط و تغییر کے بعد بیان کی ہے جس پر دلیل یہ ہے کہ ابراہیم بن یسار مادی نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ یزید بن ابی زیاد جب مکہ میں تھا تو اس نے یہ حدیث ہمیں ‘‘جملہ لایعود’’ کے بغیر بیان کی اور جب کوفہ میں گیا تو اس نے یہ حدیث ہم سے ‘‘جملہ لایعود’’ کے ساتھ بیان کی، تو میں نے گمان کرلیا کہ (ان کے اختلاط سے فائدہ اْٹھاتے ہوئے) انہیں اہل کوفہ نے یہ جملہ تلقین کردیا ہے۔ (ماحصل از تحقیقی جائزہ ص:۵۷۶)
جواب اول:
اولاً۔۔۔۔عرض ہے کہ اس سارے افسانے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ‘‘ابراہیم بن بشارالرمادی کہتے ہیں کہ امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یزید موصوف (اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں) یہ حدیث مکہ مکرمہ میں ہمیں جملہ ‘‘لایعود’’ کے بغیر بیان کی تھی’’ حالانکہ تاریخ کے آئینے میں امام سفیان کا یزید مذکور کی زندگی کے ابتدائی دور میں ان سے مکہ مکرمہ میں حدیث سننا سرے سے ممکن ہی نہیں ہے، جس پر کئی قرائن موجود ہیں مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔امام یزید بن ابی زیاد رحمۃ اللہ علیہ کوفہ ۴۷ھ میں پیدا ہوئے، (دیکھئے : تہذیب التہذیب ج۷ص۱۵۳ برقم ۹۰۲۱، تاریخ اسلام ج۸،ص۵۶۵، المجروحین لابن حبان رحمۃ اللہ علیہ ج۳،ص۱۰۰برقم ۱۱۷۷) اور کوفہ ہی میں ۱۳۶ھیا ۱۳۷ھ میں ان کا انتقال ہوا (حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول صحیح یہ ہے کہ ان کا انتقال ۱۳۶ھ میں ہوا) (دیکھئے: تہذیب التہذیب برقم ۹۰۲۱، تاریخ خلیفہ بن خیاط ج۱، ص۴۱۵، العبر ج۱،ص۱۴۴، تاریخ اسلام ج۸ ص۳۵۳۔۵۶۵ شذرات الذھب ج۲، ص۱۸۴، الطبقات الکبری ج۶،ص۳۴۰، التاریخ الکبیر برقم: ۳۲۲۰، المجروحین: ج۳ ص۹۹، تاریخ مولد العلماء ج۱ص۱۳۳، میزان الاعتدال ج۴،۴۲۵، التکمیل فی الجرح والتعدیل ج۲ص۳۳۴ سیراعلام النبلاء ج۶،۱۳۳ ،میزان الاعتدال ج۴،۴۲۵، التکمیل فی الجرح والتعدیل ج۲، ۳۳۴، تقریب التہذیب برقم ۷۷۱۷، مغانی الاخیارج۳،ص۲۳۵، برقم ۲۶۸۳، خلاصہ تذھیب ص ۴۳۱) موصوف یزید کا اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں مکہ میں قیام پزیر ہونا ہی ثابت نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ مکہ میں سفیان نے ان سے حدیث سنی ہو گی۔
(۲)۔۔۔۔امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کوفہ ۱۰۷ھ میں پیدا ہوئے، (دیکھئے: تہذیب التہذیب ج۲، ص۷۲۱ برقم ۲۸۷۸، تاریخ ابن ابی خیثمہ برقم ۹۴۰، تہذیب الکمال ص ۱۸۸، طبقات الکبریٰ) جبکہ یزید بن ابی زیاد ۴۷ھ میں پیدا ہوا اوربعمر۸۹ سال کوفہ ۱۳۶ھ میں فوت ہوا۔ اس سے معلوم ہوا سفیان کی ولادت کے وقت یزید کی عمر ساٹھ (۶۰) سال کی تھی، اور سفیان کو یزید کی زندگی کے انتیس (۲۹) سال ملے، اور اس مدت میں دونوں (یزید اور سفیان) کوفہ ہی میں سکونت پذیر تھے، اس تاریخی شہادت کے مطابق یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ یزید کی عمر کے ابتدائی زمانہ میں سفیان نے ان سے مکہ میں حدیثیں سنی ہوں (جبکہ سفیان کی ولادت کے وقت یزید کی عمر ساٹھ سال کی ہو چکی تھی، اور ظاہر بات ہے کہ سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ نے کچھ بڑے ہونے کے بعد ہی علم حاصل کرنا شروع کیا ہو گا) لہٰذا تاریخی لحاظ سے یزید کی عمر کے ابتدائی دور میں سفیان کا ان سے مکہ میں حدیث سننا ممکن ہی نہیں ہے۔
(۳)۔۔۔۔ماقبل میں عرض کیا جا چکا ہے کہ امام سفیان کوفہ ۱۰۷ھ میں پیدا ہوئے، اور امام سفیان رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۶۳ھ میں کوفہ کو چھوڑ کر مکہ معظمہ کو وطن بنایا اور مکہ میں ہی ۱۹۸ھ میں بعمر(۹۱) اکانوے سال فوت ہوئے۔ (تہذیب التہذیب برقم ۲۸۷۳) جس سے ثابت ہوا کہ جب امام سفیان بن عیینہ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو اس وقت موصوف یزید بن ابی زیاد رحمۃ اللہ علیہ کو فوت ہوئے تقریباً ستائیس (۲۷) سال ہو چکے تھے۔ اب فریق مخالف ہی بتائے کہ کیا محدث یزید رحمۃ اللہ علیہ اپنی وفات کے ستائیس سال بعد اپنی قبر سے اٹھ کر مکہ میں امام سفیان رحمۃ اللہ علیہ کو حدیث سنانے آگئے تھے؟ یا پھر امام سفیان رحمۃ اللہ علیہ یزید کی وفات کے ستائیس سال بعد ان کی قبر میں ان سے حدیث سننے چلے گئے تھے؟ اگر کوئی یہ کہے کہ ہو سکتا ہے کہ دونوں کی یہ ملاقات مکہ میں دوران حج ہوئی ہو تو اس ‘‘ہوسکنے’’ پر بھی عدم دلیل سے قطع نظر کرتے ہوئے عرض ہے کہ مذکورہ بالا تحقیق کے مطابق اس وقت بھی لازمی طور پر ماننا پڑے گا کہ یہ ملاقات یزید کی عمر کے اوائل میں نہیں بلکہ آخری زمانہ میں ہوئی ہو گی، جب کہ یزید موصوف ائمہ محدثین کے بقول اس وقت خرابی حافظہ کا شکار ہو چکا تھا۔
اور سفیان نے یزید سے خرابی حافظہ کے بعد ہی مکہ میں حدیث سنی ہو گی، اور اس صورت میں سفیان کی روایت (جس میں ثم لایعود یعنی رفع یدین نہ کرنے کا جملہ موجود نہیں) پر یزید القرشی الھاشمی رحمۃ اللہ علیہ کے قدیمی شاگردوں ھشیم بن بشیر، عبداللہ بن ادریس، سفیان ثوری، زھیر بن معاویہ، محمدبن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ، اسرائیل بن یونس، اسماعیل بن زکریا الخلقانی، شریک بن عبداللہ وغیرھم کی یزید سے نقل کردہ روایت (جس میں ثم لایعود یعنی رفع یدین نہ کرنے کا جملہ موجود ہے) راجح ہو گی اور صحیح و محفوظ شمار ہو گی، کیونکہ مذکورہ یزید کے قدیمی شاگردوں نے یزید سے حدیث اس وقت سنی ہے، جب موصوف یزید اختلاط کا شکار نہیں ہوا تھا، اور سفیان نے اس وقت سنی ہو گی جب یہ اختلاط کا شکار ہو چکا تھا۔ اور عام طلباء بھی جانتے ہیں کہ مختلط راوی کی اختلاط سے پہلے کی بیان کردہ حدیث صحیح شمار ہوتی ہے اور اختلاط کے بعد کی بیان کردہ ضعیف۔
الغرض : مذکورہ تحقیق سے واضح ہو گیا کہ امام یزید کی زندگی کے ابتدائی دور میں ان سے مکہ میں سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کا حدیث سننا ممکن ہی نہیں ہے۔ اور مذکورہ بالا امام سفیان بن عیینہ سے منسوب اعتراض ابراہیم بن بشارالرمادی نے امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف غلطی سے یاعمدًا منسوب کر دیا ہے۔ ابراہیم بن بشارالرمادی کے علاوہ کسی نے بھی یہ اعتراض امام سفیان رحمۃ اللہ علیہ سے نقل نہیں کیا، اور ابراہیم رمادی سفیان کے ذمہ ایسی باتیں بھی لگا دیتا تھا جو سفیان بن عیینہ نے بیان نہیں کی ہوتی تھیں۔
چنانچہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱ھفرماتے ہیں کہ:
ابراہیم بن بشار ہمارے ساتھ ہی سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں شریک ہوتا تھا، پھر لوگوں کو امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب کر کے ایسی باتیں بھی بتا دیتا جو امام سفیان رحمۃ اللہ علیہ نے نہیں فرمائی ہوتی تھیں، الفاظ حدیث کو متغیر کر دیتا اور حدیث میں الفاظ کی زیادتی کر دیتا جو کہ حدیث کا حصہ نہیں ہوتے تھے، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ کیا تجھے اللہ سے ڈر نہیں لگتا کہ تو امام سفیان رحمۃ اللہ علیہ کے ذمہ ایسی باتیں لگا دیتا ہے جو انہوں نے نہیں کہیں، اور امام احمد اس معاملہ میں اس کی شدید مذمت فرمایا کرتے تھے۔(ملخصاً الجرح والتعدیل ص۳۳۰ برقم ۲۲۵)
امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ فرماتے ہیں کہ:
ابراہیم مذکور تو محض ہیچ ہے، میں نے اس کے ہاتھ میں کبھی بھی قلم نہیں دیکھا، اور نہ ہی امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس کچھ لکھتا تھا، اور بعد میں ان کی طرف منسوب کر کے لوگوں کو ایسی باتیں بھی املاء کروا دیتا جو سرے سے امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی ہی نہیں ہوتی تھیں۔
(شرح سنن ابی داؤد للعینی: ج۳،ص۳۵۱، برقم ۷۳۲)
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۳ھ کہتے ہیں کہ:
‘‘ لیس بالقوی ’’ کہ یہ پختہ نہیں ہے۔ (الضعفاء و المتروکون ص ۳۶ برقم ۱۷)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۵۶ھ ،امام ابن الجارود رحمۃ اللہ علیہ اور امام عینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵ھ کہتے ہیں کہ یہ اوہامات میں مبتلا ہو جایا کرتا تھا۔ (ملخصاً تاریخ کبیر برقم ۸۹۰ مغانی الاخیار برقم ۱۴ شرح سنن ابن ماجہ ج۱،۱۴۷۰)
حافظ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۹۷ھ نے اسے ضعیف اور متروک راویوں میں ذکر کیا ہے۔(دیکھئے: الضعفاء والمتروکون برقم ۳۴)
لہٰذا بالتحقیق مذکورہ بالا اعتراض ابراہیم بن بشار نے غلطی سے یا عمدًا امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کے ذمہ لگا دیا ہے امام موصوف نے ایسا کوئی اعتراض نہیں کیا۔
ثانیاً۔۔۔۔ ہم ماقبل میں بھی عرض کر چکے ہیں کہ جس طرح یزیدبن ابی زیاد نے اپنے استاد عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اس حدیث میں ‘‘ثم لایعود’’ رفع یدین نہ کرنے کے الفاظ نقل کیے ہیں، اسی طرح عبدالرحمن مذکور کے مزید دوشاگردوں عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اور حکم بن عتیبہ نے بھی اپنے اسی استاد (عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ) سے اس حدیث میں ‘‘ثم لایعود’’ رفع یدین نہ کرنے کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ (دیکھئے: شرح معانی الاثار ج۱،ص۲۲۴ مسند الرؤیانی ج۱،ص۴۰۴، مصنف ابن ابی شیبہ ج۱،ص۲۶۷) جو اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ مذکورہ بالایزیدبن ابی زیاد کے خلاف افسانہ غلط ہے۔
جواب ثانی:
اولاً۔۔۔۔ مذکورہ بالا تحقیق سے قطع نظر کرتے ہوئے اگر بالفرض مذکورہ بالا افسانہ کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو عرض ہے کہ تب بھی امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ سے منسوب اس اعتراض کی دوشقیں ہیں:
(۱)۔۔۔۔یزید بن ابی زیاد خرابی حافظہ کے عارضہ میں مبتلا ہو گیا تھا۔
(۲)۔۔۔۔اس نے ترک رفع یدین کی حدیث خرابی حافظہ کے بعد بیان کی ہے۔
آئیے! اس اعترض کی دونوں شقوں کا اصول حدیث کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں، مختلط راوی کے متعلق علماء غیر مقلدین کے فیصلے ملاحظہ ہوں:
سلطان محمود غیرمقلد لکھتا ہے کہ:
سوء الحفظ طاری جو کسی حادثہ یا بڑھاپے کے سبب سے عارض ہو اسے اختلاط کہتے ہیں ، اور ایسے راوی کو مختلط، ایسے راوی کی وہ روایت جو اختلاط کے بعد کی ہو غیر مقبول ہے۔
(بلفظہ اصطلاحات المحدثین ص۱۵)
غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
اختلاط کے بارے میں یہ اصول ہے کہ جس ثقہ و صدوق راوی کی روایتیں اختلاط سے پہلے کی ہوں تو وہ صحیح ہوتی ہیں۔ (مقالات ج۱، ص۴۰۸)
اسی طرح علیزئی صاحب ایک اور جگہ اپنے بزعم ایک مختلط راوی کے متعلق لکھتے ہیں کہ: ان کی روایت دو شرطوں سے صحیح ہوتی ہے، ۱:اختلاط سے پہلے ہو۔(مقالات ج۴،ص۳۶۴)
غیر مقلدعبدالجلیل اثری صاحب لکھتے ہیں کہ:
مختلط سوء حفظ کسی عارض کے سبب طاری ہو جیسے کبرسنی، بینائی کے جاتے رہنے یا کتابوں کے ضائع ہو جانے کے سبب حافظہ میں خلل پیدا ہو جائے تو اسے مختلط کہتے ہیں۔ (ملخصاً تحفہ اہل نظر ص ۱۵۵) مختلط کی قبل الاختلاط والی روایت مقبول ہوگی۔ (ایضاً: ص ۱۱۶)
مختلط سوء حفظ کسی عارض کے سبب طاری ہو جیسے کبر سنی، بینائی کے جاتے رہنے یا کتابوں کے ضائع ہو جانے کے سبب حافظہ میں خلل پیدا ہو جائے تو اسے مختلط کہتے ہیں۔ (ملخصاً تحفہ اہل نظر ص ۱۱۵) مختلط کی قبل الاختلاط والی روایت مقبول ہو گی۔ (ایضاً ص ۱۱۶)
نیز ائمہ محدثین و فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم نے بھی صراحت فرما رکھی ہے کہ (اگر تلامذہ کے متقدم و متاخر وغیرہ ہونے کے اعتبار سے مختلط راوی کی قبل الاختلاط وبعد الاختلاط والی روایات میں تمیز ممکن ہو تو) مختلط راوی کی قبل الاختلاط بیان کردہ روایات بالکل صحیح و قابل حجت ہیں مثلاً دیکھئے۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔شرح نخبۃ الفکر:ص۹۱
(۲)۔۔۔۔مقدمہ ابن صلاح:ص۱۹۵
(۳)۔۔۔۔الباعث الحثیث: ص ۲۴۴
(۴)۔۔۔۔الکفایہ فی علم الروایہ:ج۱،ص۳۹۲
(۵)۔۔۔۔التقریب والتیسیر:ج۱،ص۱۲۰
(۶)۔۔۔۔المنھل الروی فی مختصر علوم الحدیث النبوی:ج۱، ص ۱۳۷
(۷)۔۔۔۔شرح علل الترمذی : ج۱،ص۱۰۶
(۸)۔۔۔۔الشذالفیاح:ج۲،ص۷۴۴
(۹)۔۔۔۔المقنع فی علوم الحدیث: ج۲،ص۶۶۳
(۱۰)۔۔۔۔التقیید والایضاح شرح مقدمہ ابن صلاح: ج۱،ص۴۴۲
(۱۱)۔۔۔۔شرح التبصرۃ والتذکرۃ: ج۱ص۳۲۹
(۱۲)۔۔۔۔النکت علی کتاب ابن صلاح: ج۱،ص۳۱۵
(۱۳)۔۔۔۔نزہۃ النظر: ج۱،ص۱۲۹
(۱۴)۔۔۔۔شرح الفیۃ العراقی: ج۱،ص۳۱۵
(۱۵)۔۔۔۔تدریب الراوی:ج۱،ص۷۲
مندرجہ بالا اصول کی روشنی میں اب اس بات کی تحقیق کی جاتی ہے کہ محدثین عظام رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک کن کن راویوں نے یزید بن ابی زیاد سے اس کا حافظہ خراب ہونے سے پہلے احادیث سنی ہیں۔
(۱)۔۔۔۔امام ابوبکر احمد بن حسین شافعی بیہقی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۵۸ھ کے نزدیک درج ذیل راویوں نے یزید بن ابی زیاد القرشی الھاشمی رحمۃ اللہ علیہ کے عارضہ اختلاط میں مبتلا ہونے سے پہلے اس سے احادیث کا سماع کیا ہے:
۱۔۔۔۔امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱ھ
۲۔۔۔۔امام شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۰ھ
۳۔۔۔۔امام ہشیم بن بشیررحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۳ھ
۴۔۔۔۔امام زہیر بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ م۱۷۳ھ
۵۔۔۔۔خالد بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۹ھ
۶۔۔۔۔امام عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۲ھ وغیرہم
(معرفۃالسنن والآثار: ج۲، ص۴۱۸ برقم ۳۲۶۷، سنن الکبری: ج۲،ص ۷۶)
(۲)۔۔۔۔حاظ ابوبکر احمد بن علی الخطیب البغددی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۴ھ? کے نزدیک درج ذیل حضرات نے یزید مذکور سے قبل از اختلاط احادیث کا سماع کیا ہے:
۱۔۔۔۔امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱ھ
۲۔۔۔۔امام شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۰ھ
۳۔۔۔۔امام ہشیم بن بشیررحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۳ھ
۴۔۔۔۔امام اسباط بن محمدرحمۃ اللہ علیہ
۵۔۔۔۔امام خالد بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۹ھوغیرہم ۔
(الفصل للوصل ج۳، ص۳۶۷)
(۳)۔۔۔۔حافظ ابن عبدالبررحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مذکورہ بالا راویوں کے علاوہ موسی بن محمد الانصاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یزید سے قبل از اختلاط سماع کیا ہے۔ (التمہید ج۹،ص۲۱۵)نیز مذکورہ بالا قدیم السماع راویوں میں سے ہشیم بن بشیررحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۳ھ عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۲ھ، خالد بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۸ھ سے بھی درج ذیل راوی متقدم اور کبیر ہیں، جس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ درج ذیل راویوں نے بھی یزید سے قبل الاختلاط احادیث سنی ہیں:
۱۔۔۔۔محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۴۸ھ
۲۔۔۔۔اسرائیل بن یونس رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۲ھ
۳۔۔۔۔اسماعیل بن زکریارحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۳ھ
۴۔۔۔۔شریک بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م۱۷۷ھ
الغرض : مذکورہ بالا تحقیق سے ثابت ہوا کہ درج ذیل راویوں نے یزید مذکور کے عارضہ اختلاط میں مبتلا ہونے سے پہلے اس سے احادیث سنی ہیں۔
(۱)۔۔۔۔ہشیم بن بشیررحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۳ھ
(۲)۔۔۔۔عبداللہ بن ادیس رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۲ھ
(۳)۔۔۔۔موسیٰ بن محمد الانصاری رحمۃ اللہ علیہ
(۴)۔۔۔۔زہیربن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۳ھ
(۵)۔۔۔۔خالد بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م۱۷۹ھ
(۶)۔۔۔۔سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱ھ
(۷)۔۔۔۔محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۴۸ھ
(۸)۔۔۔۔اسرائیل بن یونس رحمۃ اللہ علیہ م۱۶۲ھ
(۹)۔۔۔۔اسماعیل بن زکریارحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۳ھ
(۱۰)۔۔۔۔شریک بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م ۷۷۱ھ?
(۱۱)۔۔۔۔امام شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۰ھ
(۱۲)۔۔۔۔امام اسباط بن محمدرحمۃ اللہ علیہ
مذکورہ یزید بن ابی زیاد القرشی الھاشمی رحمۃ اللہ علیہ کے قدیمی وصحیح السماع شاگردوں میں سے درج ذیل حضرات نے یزید سے مذکورہ بالا سیدنابراء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ترک رفع یدین والی حدیث نقل کی ہے، اور اس میں صراحتاً ‘‘ثم لایعود’’ رفع یدین نہ کرنے کا جملہ بھی روایت کیا ہے۔
(۱)۔۔۔۔امام ہشیم بن بشیررحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۳ھ: (دیکھئے: مسند ابی یعلی الموصلی ج ۲،ص۹۰، برقم ۱۶۹۱)
(۲)۔۔۔۔عبداللہ بن ادیس رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۲ھ:(دیکھئے: ایضاًج ۲،ص۹۰۔۹۱ برقم ۱۶۹۲)
(۳)۔۔۔۔سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱ھ:(دیکھئے: شرح معانی الاثارج۱ ،ص۱۶۲)
(۴)۔۔۔۔محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۴۸ھ:(دیکھئے: معجم ابن الاعرابی برقم ۵۸۵)
(۵)۔۔۔۔اسرائیل بن یونس رحمۃ اللہ علیہ م۱۶۲ھ:(دیکھئے: الجوہرالنقی ج۲ ،ص۷۶ وشرح سنن ابن ماجہ ص: ۱۴۶۹)
(۶)۔۔۔۔اسماعیل بن زکریارحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۳ھ:(دیکھئے: سنن دارقطنی ج ۱،ص۱۹۳ ، الفصل للوصل ج۱، ص ۳۷۳)
(۷)۔۔۔۔شریک بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۷ھ:(دیکھئے: مسند الرویانی برقم: ۳۴۱)
اس تحقیق سے ثابت ہوگیا کہ یزید موصوف نے مذکورہ بالا اپنے قدیمی اور صحیح السماع شاگردوں کو زیربحث ترک رفع یدین کی حدیث عارضہ اختلاط میں مبتلا ہونے سے پہلے بیان کی تھی، اور ماقبل میں مستندعلماء غیر مقلدین کے اقتباسات اور ائمہ محدثین و فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم کے حوالہ سے عرض کیا جا چکا ہے کہ مختلط راوی کی قبل الاختلاط بیان کردہ حدیث صحیح و قابل حجت ہوتی ہے، لہٰذا محدثین عظام رحمۃ اللہ علیہم کے مقرر کردہ اصولوں کی روشنی میں زیربحث حدیث بالکل صحیح و قابل حجت ہے۔
نیز یزید موصوف کے شاگرد موسیٰ بن محمد الانصاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ‘‘ فرفع یدیہ حتیٰ حاذی اذنیہ فی اول مرۃ ’’کے الفاظ کے ساتھ اور شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘ یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ’’ کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے (دیکھئے: التمہیدج۵، ص۵۷سنن دارقطنی ج۱، ص ۲۹۳، الفصل للوصل برقم ۳۰۲) اور علیزئی کے بقول حدیث حدیث کی تشریح کرتی ہے، (نور العینین :ص ۱۲۵) لہٰذا دیگر روایات کی روشنی میں ‘‘ یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ’’ کا مطلب واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین صرف تکبیر اولیٰ کے وقت کیااور پھر پوری نماز میں نہیں کیا۔ پس موسیٰ بن محمد الانصاری اور امام شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ(جو کہ یزیدمذکور کے قدیمی اور صحیح السماع شاگرد ہیں )کی روایت بھی ترک رفع یدین کی دلیل ہیں۔
ثانیاً۔۔۔۔اگر بالفرض یزید موصوف نے یہ حدیث اختلاط کے بعد ہی بیان کی ہوتو بھی اس حدیث پر یزید کے اختلاط کا اعتراض خود علماء غیر مقلدین کی ہی تحریرات کی روشنی میں غلط باطل اور مردود ہے، کیونکہ یزید موصوف یہ حدیث عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے نقل کرنے میں اکیلا نہیں ہے، بلکہ عبدلرحمن سے یہ حدیث نقل کرنے میں دوثقہ راویوں عیسیٰ بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ اور حکم بن عتیبہ نے بھی اس کی متابعت تامہ کر رکھی ہے، اور ابوالحکم نے اس کی متابعت قاصرہ کررکھی ہے۔ (کمامر) اور متعدد علماء غیرمقلدین نے صراحت کر رکھی ہے کہ اگر مختلط راوی کا کوئی متابع مل جائے تو پھر اس مخصوص روایت میں اختلاط کا الزام رفع ہو جاتا ہے، اور مختلط راوی سے مروی حدیث صحیح وقابل حجت شمار ہوتی ہے۔ مثلاً۔۔۔۔
(۱)ایک جگہ مختلط راوی کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے مشہور غیر مقلد عبدالرحمان مبارکپوری لکھتا ہے کہ:
‘‘ واما اختلاطہ، قبل موتہ بقلیل کما قالہ الحافظ فی التقریب فیقتضی ان یکون حدیثہ ضعیفاً مالم یثبت انہ رواہ قبل اختلاطہ لکنہ قد شھدہ حدیث وائل بن حجر وھلب الطائی ’’
رہا اس کا موت سے تھوڑا عرصہ پہلے عارضہ اختلاط میں مبتلا ہونا جیسا کہ حافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ نے تقریب میں فرمایا ہے، تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی حدیث ضعیف ہو جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ اس نے یہ حدیث اختلاط سے پہلے بیان کی ہے، لیکن اس کے لیے وائل بن حجر اور ھلب طائی کی حدیث شاہد ہے۔ (ابکارالمنن ص۱۱۵)
ارشاد الحق اثری غیر مقلد صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:
مبارکپوری صاحب ابواسحاق کو مختلط لکھتے ہیں، لیکن طحاوی میں ابواسحاق کا متابع موجود ہے لہٰذا ابواسحاق پر اعتراض فضول ہے۔ (توضیح الکلام ، ج۱، ص ۵۱۴۔۵۱۵)
غیر مقلد عبدالجلیل اثری لکھتا ہے کہ:
مختلط راوی کی مشتبہ روایات کے لیے متابعات و شواہد ہوں تو وہ روایات قبول ہوں گی۔(ملخصاً تحفہ اہل نظر :ص ۱۱۶)
رحمانی مبارکپوری غیر مقلد لکھتا ہے کہ: جب مختلف راوی کی متابعت ثابت ہو جائے تو ا س کی روایت معتبر سمجھی جائے گی۔ (تحفہ اہل الفکر :ص۳۳)
ایک مختلط راوی کی روایت کو صحیح قرار دیتے ہوئے ناصر الدین البانی غیرمقلد لکھتا ہے کہ:
‘‘ ان خلفاھذا کان اختلط لکنہ قدتوبع ’’ بے شک خلف بن خلیفہ عارضہ اختلاط میں مبتلا ہوچکا تھا، مگر (امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ) اس کا متابع موجود ہے، (لہٰذا یہ حدیث صحیح ہے)۔ (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: ج۴،ص۲۲۲)
خبیب احمد غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
سوء حفظ یعنی حافظہ کمزور، مختلط، مستور، کثیر الخطاء وغیرہ ایسے راویان یا حدیث کی متابعت ثابت ہو جائے تو ان کی حدیث قبول ہو گی ،اور اس راوی کی یا حدیث کی متابعت کا موجود ہونا اس بات کی دلیل ہو گی کہ اس راوی نے یہ حدیث درست طور پر حفظ کی ہے، اور اس کی کمزوریاں اس حدیث پر اثر انداز نہیں ہوئی ہیں۔(مقالات اثر یہ ص ۶۸۔۶۹)
پس متابعت کی بناء پر یزید بن ابی زیاد کی حدیث کا حجت وصحیح ہونا خود غیر مقلدین کی مذکورہ عبارات کی روشنی میں واضح ہے۔
اعتراض نمبر ۴:
یزیدبن ابی زیاد مدلس تھا اسے امام دارقطنی اور حاکم وغیرھما نے مدلس قرار دیا ہے۔
(نور العینین: ص ۱۴۸)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔تو عرض ہے کہ زیر بحث حدیث پر یزیدبن ابی زیاد کی تدلیس کا اعتراض متقدمین و متاخرین ائمہ محدثین میں سے کسی ایک محدث نے بھی نہیں کیا۔ (فیما اعلم) اگر زبیر صاحب کچھ علمی لیاقت رکھتے ہیں تو اپنے اس مؤقف پر کسی محدث کا حوالہ پیش کریں؟
ثانیاً۔۔۔۔ترک رفع یدین کی اس مخصوص حدیث پر یزید مذکور کی تدیس کا اعتراض خود علماء غیر مقلدین کی عبارات کی روشنی میں ہی غلط باطل و مردود ہے، اور علیزئی کی تدلیسی گاڑی یہاں نہیں چل سکتی، کیونکہ دوثقہ راویوں عیسیٰ بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ اور حکم بن عتیبہ نے اس حدیث میں یزید موصوف کی متابعت تامہ کررکھی ہے، اور متعدد علماء غیر مقلدین نے صراحت کر رکھی ہے کہ جب مدلس راوی کی کوئی ثقہ راوی متابعت کر دے تو تدیس کا الزام رفع ہو جاتا ہے اور اس کی عَن والی روایت صحیح و قابل حجت ہوتی ہے۔
چنانچہ معترض علی زئی صاحب ہی لکھتے ہیں کہ:
مدلس کی اگر معتبر متابعت ثابت ہو جائے تو اس کی روایت قوی ہو جاتی ہے۔ (نورالعینین: ص۱۳۹)
محمد گوندلوی صاحب غیر مقلد لکھتے ہیں کہ:
اور تدلیس کا نقص حدثنی اور متابعت سے رفع ہو جاتا ہے۔ (خیرالکلام ص:۱۶۱)
عبدالجلیل اثری غیر مقلد کہتا ہے کہ:
اگر مدلس کی متابع و شواہد ہوں تو روایت قبول ہو گی۔ (ملخصاً تحفۃ اہل نظر ص ۱۱۶)
محمد خبیب احمد غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
مدلس راوی کی متابعت کی صورت میں روایت قوی شمار ہو گی۔ (ملخصاً مقالات اثریہ ص ۶۸۔۶۹)
عبدالرحمن مبارکپوری غیر مقلد نے بھی یہی لکھا ہے۔ (تحفۃ الاحوذی: ص۱۹۳)
ثالثاً۔۔۔۔موصوف یزید بن ابی زیاد القرشی الھاشمی رحمۃ اللہ علیہ نے امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، اورجب مدلس راوی سماع کی تصریح کر دے تو تدیس کا الزام بالکلیہ رفع ہو جاتا ہے، لہٰذا ثبوت سماع کے بعد موصوف یزید پر تدیس کا اعتراض بالکلیہ مردود ہے۔
امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کی سند ملاحظہ ہو:
حدثنا احمد بن علی بن العلاء ثنا ابوالاشعث ثنا محمد بن بکرثنا شعبۃ عن یزید بن ابی زیاد قال سمعت ابن ابی لیلیٰ یقول سمعت البراء ۔۔۔۔الخ۔(سنن الدرقطنی ج ۱،ص۲۹۳ برقم ۱۱۲۷ الفصل للوصل برقم ۳۰۲)
نیز امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کی اس روایت کے متن میں ‘‘ یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ’’ کے الفاظ ہیں، اور ہم ماقبل میں عرض کر چکے ہیں کہ علیزئی صاحب کے بقول حدیث حدیث کی تشریح کرتی ہے، (نور العینین ص ۱۲۵) لہٰذا دیگر روایات کی روشنی میں ‘‘ یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ’’ کا مطلب بالکل واضح ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی رفع یدین کیا اور پھر نماز میں نہیں کیا۔
اعتراض نمبر۵:
زبیر صاحب لکھتے ہیں کہ:
کسی ایک محدث یا امام نے بھی اس حدیث کو صحیح یا حسن نہیں کہا۔ (نورالعینین :ص ۱۴۹)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔عرض ہے کہ جب کوئی حدیث ائمہ محدثین و فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم کے مقرر کردہ اصولوں کی روشنی میں صحیح ثابت ہو جائے تو وہ حدیث ہمیشہ صحیح ہی شمار ہوتی ہے، کسی حدیث کے صحیح و حسن ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ اسے کسی محدث نے ہی صحیح یا حسن قرار دیا ہو۔
چنانچہ ایک حدیث کو متقدمین محدثین کی ایک جماعت نے مردود کہا تو زبیر علی زئی صاحب نے اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا:
بعض علماء نے صحیح مسلم کی بعض روایات کو منقطع قرار دیا ہے تو کیا ہم ان روایات کو مردود قرار دینگے؟!ہرگز نہیں۔بلکہ اصول حدیث واصول محدثین کو ترجیح دیں گیاور اس طرح صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی کوئی حدیث ضعیف ومردود ثابت نہیں ہوتی،بلکہ صحیح یا حسن ہی رہتی ہے ۔(مقالات :ج۶ص۳۸۶)
زبیر صاحب مزید لکھتے ہیں:
اکر کوئی کہے کہ کیا سند کے تمام روات کا ثقہ ہونا سند کی صحت کے لئے کافی ہے ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر سند متصل ہو شاذ یا معلول نہ ہو تواس سند کے راویوں کا ثقہ وصدوق ہونا صحت کے لئے کافی ہے اور اسی پر اہلحدیث کا عمل ہے ۔(مقالات :ج۶ص۳۸۶)
کفایت اللہ سنابلی نامی ایک شخص نے ایک حدیث کے متعلق کہا کہ زبیر علی زئی سے پہلے کسی محدث نے بھی اس حدیث کو صحیح یا حسن نہیں کہا لہٰذا زبیر علی زئی کا اسے حسن یا صحیح قرار دینا درست نہیں تو زبیر علی زئی صاحب نے سنابلی کی تردید کرتے ہوئے لکھاہے کہ:
سنابلی صاحب کا یہ کہنا کہ زبیر علی زئی سے پہلے کسی نے بھی اس حدیث کو حسن یا صحیح نہیں کہا تو اس کا جواب یہ ہے کہ کیا وہ ابن الصلاح (تقلیدی)کے منہج پر ہیں جن کے نزدیک سابق مثال کے بغیر حدیث کو صحیح نہیں کہنا چاہیئے؟جب اصول حدیث کی رو سے یہ حدیث حسن لذاتہ یعنی صحیح ہے اور کسی نے بھی (کسی پختہ دلیل سے ۔ن)اسے ضعیف ،مردود،موضوع یا من گھڑت نہیں کہا تو ایسا فیصلہ کرنا کہ یہ صحیح یا حسن ہے ،کیونکر غلط ہوسکتا ہے ؟(مقالات:ج۶ص۴۰۷)
ثانیاً۔۔۔۔امام المحدثین ابوجعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھ نے شرح معانی الآثار میں اس حدیث سے ترک رفع یدین پر استدلال کیا ہے، (دیکھئے: شرح معانی الآثار ، ج۱، ص۱۶۲) اور امام موصوف اپنے نزدیک صرف صحیح حدیث سے ہی استدلال کرتے ہیں، (ایضاً ص۱۰) لہٰذا حافظ طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔ امام زیلعی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ، امام ابن ترکمانی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۵ھ، امام محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵ھ، امام مغلطائی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ امام ابن دقیق العیدرحمۃ اللہ علیہ ، اس حدیث کو قوی (صحیح مانتے ہیں) (ملخصاً: نصب الرایۃ: ص ۴۷۷ تا ۴۷۸ الجوھرالنقی ج۲ ص۷۶۔۷۷ البنایۃ شرح الھدایۃ ص ۲۵۴ تا ۲۵۵ عمدۃ القاری ج۵ ص ۳۹۸ شرح سنن ابن ماجہ ص ۱۴۶۹تا ۱۱۴۷) امام ابن عبدالبررحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ ‘‘ رفع یدیہ فی اول مرۃ ’’ کے الفاظ کے ساتھ اسے محفوظ (صحیح) قرار دیتے ہیں۔ (التمہید لابن عبدالبرج۵،ص۶۱) محدث ظفر احمد ‘‘حسن’’ کہتے ہیں، (اعلاء السنن ج۳، ص۸۵) محدث زبیدی صحیح قرار دیتے ہیں، (عقود الجواہر المنیفہ ص ۵۹) نیز امام عثمان بن علی البا رعی م ۷۴۳ھ، امام ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ م ۹۷۰ھ امام ابو محمد علی بن زکریا المنبجی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۸۶ھ، امام سحنون بن سعید المصری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۰ھ ،امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۵ھ، امام عبدالرزاق رحمۃ اللہ علیہ م ۲۱۱ھوغیرہم نے اس حدیث سے ترک رفع یدین پر استدلال کیا ہے۔ (دیکھئے تبیین الحقائق ج۱، ص۱۲۰ ،البحرالرائق ج۱، ص۳۴۱ ،اللباب فی الجمع بین السنۃ والکتاب ج۱،ص۲۳۲، المدونۃ الکبریٰ ج۱،ص۱۲۰، مصنف ابن ابی شیبہ ج۲،ص۲۶۷، مصنف عبدالرزاق ج۲،ص۷۰) جو کہ علماء غیر مقلدین کے بقول اِن ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک اس حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔
اعتراض نمبر۶:
اس حدیث میں ‘‘ثم لم یعد’’ کے الفاظ مدرج ہیں ۔(نورالعینین: ص ۱۴۹)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔جملہ ‘‘ثم لم یعد’’ کے مدرج ہونے کی کوئی عقلی اور نقلی صحیح دلیل موجود نہیں ہے، اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ نے تصریح فرمارکھی ہے کہ محض احتمال سے ادراج ثابت نہیں ہوا کرتا۔ (فتح الباری ج۱۱، ص ۴۲۵) اس جملہ کو مدرج قرار دینا اصول حدیث کی روشنی میں بالکل غلط ہے، کیونکہ موصوف یزیدبن بی زیاد یہ جملہ نقل کرنے میں اکیلا نہیں ہے، بلکہ دو ثقہ راویوں عیسیٰ بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ اور حکم بن عتیبہرحمۃ اللہ علیہ نے اس کی متابعت تامہ اور ابوالحکم نے متابعت قاصرہ کر رکھی ہے۔ (کمامر)
ثانیاً۔۔۔۔‘‘ثم لا یعود’’ کے الفاظ کو مدرج کہنے والوں نے ان الفاظ کے مدرج ہونے کی اپنے بزعم دلیل یہ دی ہے کہ یزید موصوف سے ان کے قدیمی شاگردوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے (مگر عرض ہے کہ علم محیط تفصیلی خاصہ خداوندی ہے اس کے علاوہ کوئی بھی علم محیط تفصیلی نہیں رکھتا ان حضرات نے یہ بات اپنے علم کے مطابق کہی تھی ان کے علم میں یہ بات نہیں تھی یا وہ اس طرف متوجہ ہی نہیں ہوئے تو یہ کوئی عیب یا عجیب بات نہیں ہے ایسی غلطی کا لگ جانا انسانی فطرت میں داخل ہے) ان کی یہ بات بالکل غلط باطل و مردود ہے، کیونکہ یزید مذکور کے درج ذیل قدیمی و صحیح السماع شاگردوں نے ان سے ‘‘ثم لایعود’’ اور اس کے روایت بالمعنیٰ الفاظ نقل کیے ہیں۔
(۱)۔۔۔۔امام ہشیم بن بشیررحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۳ھ: (دیکھئے: مسند ابی یعلی الموصلی ج ۲،ص۹۰، برقم ۱۶۹۱)
(۲)۔۔۔۔عبداللہ بن ادیس رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۲ھ:(دیکھئے: ایضاًج ۲،ص۹۰۔۹۱ برقم ۱۶۹۲)
(۳)۔۔۔۔سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱ھ:(دیکھئے: شرح معانی الاثارج۱ ،ص۱۶۲)
(۴)۔۔۔۔محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۴۸ھ:(دیکھئے: معجم ابن الاعرابی برقم ۵۸۵)
(۵)۔۔۔۔اسرائیل بن یونس رحمۃ اللہ علیہ م۱۶۲ھ:(دیکھئے: الجوہرالنقی ج۲ ،ص۷۶ وشرح سنن ابن ماجہ ص: ۱۴۶۹)
(۶)۔۔۔۔اسماعیل بن زکریارحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۳ھ:(دیکھئے: سنن دارقطنی ج ۱،ص۱۹۳ ، الفصل للوصل ج۱، ص ۳۷۳)
(۷)۔۔۔۔شریک بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۷ھ:(دیکھئے: مسند الرویانی برقم: ۳۴۱)
لہٰذا یزید موصوف کے قدیمی و صحیح السماع شاگردوں سے ‘‘ثم لایعود’’ اور اس کے روایت بالمعنیٰ الفاظ کے ثبوت کے بعد ادراج کا الزام خود بخود رفع ہو گیا۔
اعتراض نمبر۷:
فریق مخالف کے اس حدیث پر ساتویں اعتراض کی تین شقیں ہیں:
(۱)۔۔۔۔محمد بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے جواس حدیث کو ‘‘ عن اخیہ عیسیٰ عن الحکم عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلٰی عن البراء بن عازب رضی اللہ عنہ ’’ کے طریق سے بیان کیا ہے، یہ طریق صحیح نہیں ہے امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ اسے ‘‘ لیس بصحیح ’’ کہتے ہیں، صحیح طریق ‘‘ محمد بن ابی لیلی عن یزید بن ابی زیاد عن عبدالرحمن بن ابی لیلٰی عن البراء بن عازب رضی اللہ عنہ ’’ ہے۔
(۲)۔۔۔۔محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ خود ضعیف ہے، لہٰذا اس کی نقل کردہ متابعت مردود ہے، اصل مداریزید بن ابی زیاد پر ہی ہے۔
(۳)۔۔۔۔یہ حدیث اپنے مفہوم میں غیر صریح ہے۔ (ملخصاً نورالعینین ص ۱۵۰)
الجواب:
اس اعتراض کی تینوں شقوں کے بالترتیب جوابات حاضر ہیں۔
پہلی شق کا جواب:
اولاً۔۔۔۔ جس طرح محمد بن ابی لیلیٰ: ‘‘ عن یزید بن ابی زیاد عن عبدالرحمن بن ابی لیلٰی عن البراء بن عازب رضی اللہ عنہ ’’ کی سند کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے، اسی طرح غیر مقلدین کے اصول کے مطابق محمد بن ابی لیلیٰ:‘‘ عن اخیہ عیسیٰ عن الحکم عن عبدالرحمان بن ابی لیلی عن البراء بن عازب رضی اللہ عنہ ’’ کی سند کے ساتھ بھی یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ موصوف محمد بن ابی لیلیٰ نے جس طرح یزید بن ابی زیاد سے یہ حدیث لکھی و سنی ہے، اسی طرح عیسیٰ بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے بھی سنی ہے۔
غیر مقلد ارشاد الحق اثری صاحب ایک جگہ (ایک حدیث جس کو مکحول کبھی نافع کے واسطے سے اور کبھی محمود کے واسطے سے نقل کرتا ہے، کے متعلق)لکھتے ہیں کہ:
مکحول نے نافع اور محمود دونوں سے روایت لی ہے علامہ ابن حزم لکھتے ہیں مکحول نے کبھی اسے نافع سے اور کبھی اسے محمود سے بیان کیا ہے ‘‘فھذا قوۃ للحدیث لاوھن لان کلاھما ثقۃ ۔۔۔۔’’ تویہ حدیث کی قوت کا باعث ہے نہ کہ کمزوری کا۔۔۔۔الخ۔ (بلفظہ توضیح الکلام ج۱ص۳۲۶)
لیجئے علی زئی صاحب!آپ کے محقق العصر اثری صاحب کے اس مذکورہ اصول کی روشنی میں محمد بن ابی لیلیٰ کا ترک رفع یدین کی زیر بحث حدیث کو یزید بن ابی زیاد اور عیسیٰ بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ دوثقہ و صدوق راویوں سے نقل کرنا اس کی قوت کا باعث ہے نہ کہ کمزوری کا کیونکہ یہ دونوں راوی فی نفسہ ثقہ ہیں۔
ثانیاً۔۔۔۔امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ کی عیسیٰ بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ کی سند پر جرح غیر مفسر غیرمبین السبب ہے، اور متعدد علماء غیر مقلدین نے بھی صراحت کر رکھی ہے کہ غیر مفسر جرح مردود ہوتی ہے۔
چنانچہ محمد گوندلوی غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
اگر جرح مفسر نہ ہوتو مقبول نہیں ہوتی۔۔۔۔ اکثر فقہاء اور محدثین کا یہی مذہب ہے۔ (خیر الکلام ص: ۴۴)
عبدالرحمن مبارکپوری غیر مقلد لکھتا ہے:
جرح مبھم مضر نہیں ہے۔ (ابکار المنن ص ۸۰)
اثری غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
غیر مفسر جرح قبول نہیں۔ (توضیح الکلام ص ۴۳۸)
نزیر رحمانی غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
غیر مفسر اور مبھم جرحوں کا اعتبار نہ ہوگا۔(انوار المصابیح ص ۱۳۸)
لہٰذا غیر مقلدین کے مسلمہ اصول کی روشنی میں امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ کی غیر مفسر جرح مردود ہے۔
ثالثاً۔۔۔۔ پھریہ بھی یاد رہے کہ امام محمد بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کو ‘‘ عن الحکم عن عبدالرحمان بن ابی لیلٰی۔۔۔۔الخ۔ ’’ کی سند سے بیان کرنے میں اکیلا نہیں ہے، بلکہ امام المحدثین والفقھاء قاضی ابویوسف یعقوب بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے ‘‘ الحکم عن عبدالرحمان بن ابی لیلٰی۔۔۔۔الخ ’’ کی سند سے بیان کیا ہے اور اس کی متابعت کر رکھی ہے۔ (دیکھئے: اخبار اصبھان برقم ۱۱۹۶) لہٰذا یہ حدیث حکم بن عتیبہ کی سند کے ساتھ بھی صحیح ہے۔
دوسری شق کاجواب :
اولاً۔۔۔۔محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ فی نفسہ ثقہ و صدوق راوی ہے، اس کو مطلقاً ضعیف قرار دینا غلط ہے، اس کی تعدیل وثوثیق کے حوالے روایت نمبر۶ کے ذیل میں آرہے ہیں۔
ثانیاً۔۔۔۔اگر بالفرض محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف بھی ہو تو اس کے ضعف کی رٹ لگانا فضول ہے، کیونکہ یزید بن ابی زیاد سے یہ حدیث نقل کرنے میں اکیلا نہیں ہے بلکہ درج ذیل راویوں نے بھی اس حدیث کو اس سے نقل کیا ہے:
(۱)۔۔۔۔امام ہشیم بن بشیررحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۳ھ:(دیکھئے: مسند ابی یعلی الموصلی ج ۲،ص۹۰ ، برقم ۱۶۹۱)
(۲)۔۔۔۔امام عبداللہ بن ادیس رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۲ھ:(دیکھئے: مسند ابی یعلی الموصلی ج ۲،ص۹۰۔۹۱ برقم ۱۶۹۲)
(۳)۔۔۔۔امام سفیان بن سعیدرحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱ھ: (دیکھئے: شرح معانی الاثارج۱ ،ص۱۶۲)
(۴)۔۔۔۔امام سفیان بن بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ م۱۹۸ھ:(دیکھئے: مصنف عبدالرزاق ج۲ ،ص۷۰ برقم ۲۵۳۱)
(۵)۔۔۔۔امام اسرائیل بن یونس رحمۃ اللہ علیہ م۱۶۲ھ:(دیکھئے: شرح ابن ماجہ ص ۱۴۶۹،الجوہرالنقی ، ج۲، ص۷۶)
(۶)۔۔۔۔اسماعیل بن زکریا خلقانی م۱۷۳ھ:(دیکھئے: سنن دارقطنی ج ۱،ص۲۹۳، الفصل للوصل ج۱ص۳۷۳)
(۷)۔۔۔۔شریک بن عبداللہ النخعی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۷ھ:(دیکھئے: مسند الرویانی ج۱،ص۴۰۰)
(۸)۔۔۔۔امام موسیٰ بن محمد انصاری رحمۃ اللہ علیہ :(دیکھئے:التمہیدلابن عبدالبر ،ج۵، ص۵۷)
(۹)۔۔۔۔امام شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۰ھ: (دیکھئے:سنن دارقطنی `ج۱،ص۲۹۳،الفصل للوصل برقم ۳۰۲)
(۱۰)۔۔۔۔امام ابوعمر البزار: (دیکھئے: حدیث ابی الفضل الزھری برقم ۱۰۵)
اسی طرح محمد بن عبدالرحمن، امام حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ سے بھی اس حدیث کو نقل کرنے میں تنہا نہیں ہے، بلکہ اس کی طرح امام المحدثین والفقہاء قاضی ابویوسف یعقوب بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے امام حکم بن عتیبہرحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے۔(دیکھئے: اخباراصبہان برقم۱۱۹۶)
ثالثاً۔۔۔۔ ہمارا مرکزی استدلال ‘‘ یزید بن ابی زیاد عن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ۔۔۔۔ الخ۔’’ اور ‘‘ عن ابی یوسف عن الحکم عن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ۔۔۔۔ الخ۔’’ کی سند سے ہے جو کہ بالکل صحیح ہے، اور ‘‘محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ عن عیسیٰ بن عبدالرحمان بن ابی لیلی عن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ-85 الخ’’ کی سند کو تو ہم نے بطور متابعت کے پیش کیا ہے، اگر بالفرض یہ سند ضعیف بھی ہو تو زبیر علی نرئی صاحب کے شیخ الاسلام اور امام محمد گوندلوی غیر مقلد کے بقول ضعیف سند بطور متابعت کے پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(ملخصاً خیر الکلام ص ۳۱۶)
رابعاً۔۔۔۔پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ پر سء الحفظ، مضطرب الحدیث جیسی جروحات منقول ہیں، اور علماء غیر مقلدین کے بقول اس قسم کے راوی کے متابعات مل جائیں، یا اس نے کتاب سے حدیث بیان کی ہو تو وہ حدیث صحیح اور قابل قبول ہوتی ہے۔
چنانچہ محمد خبیب احمد غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
سیئ الحفظ یعنی حافظہ کمزور، مختلط، کثیر الخطاء وغیرہ راویان یاان کی بیان کردہ حدیث کی متابعت ثابت ہو جائے تو ان کی یہ حدیث قابل قبول ہو گی، اور ان کی حدیث کی متابعت کا موجود ہونا اس بات کی دلیل ہو گی کہ انہوں نے یہ حدیث درست طور پر حفظ کی ہے، اور ان کی کمزوریاں اس حدیث پر اثر انداز نہیں ہوئی ہیں۔ (ملخصاً مقالات اثریہ ص ۶۸۔۶۹)
اور ہم ماقبل میں عرض کر چکے ہیں کہ محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اس حدیث کو امام یزید بن ابی زیاد رحمۃ اللہ علیہ اور امام حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرنے میں تنہا نہیں بلکہ اس کی متابعت موجود ہے لہٰذا اس کی نقل کردہ متابعت بالکل صحیح ہے۔ مزید یہ کہ محمد موصوف نے یہ حدیث اپنی کتاب میں درج کی ہوئی تھی اور اسی سے بیان کی ہے جیسا کہ علی زئی صاحب نے خود نقل کیا ہے کہ:
امام احمد بن حنبل نے محمد بن عبداللہ بن نمیر (ثقہ امام) سے بیان کیا ہے کہ میں نے ابن ابی لیلیٰ کی کتاب میں دیکھاتو وہ اس حدیث کو یزید بن ابی زیاد سے روایت کر رہا تھا۔ (نورالعینین ص ۱۵۰) اور غیر مقلدین کے نزدیک معتبررسالہ جزء رفع یدین کے ص ۵۷ پر لکھا ہے کہ اہل علم کے نزدیک کتاب (میں درج شدہ روایت) زیادہ محفوظ (صحیح )ہوتی ہے۔الغرض:ابن ابی لیلیٰ کی روایت متابعات کی بناء پر بلاشک وشبہ صحیح ہے۔
تیسری شق کا جواب:
اولاً۔۔۔۔ اس حدیث میں صراحت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف شروع نماز میں ہی رفع یدین کیا پھر پوری نماز میں سلام پھیرنے تک نہ کیا۔ (مسند ابی یعلی الموصلی ج۲، ص۹۰) لہٰذا یہ حدیث ترک رفع یدین میں صریح ہے، اس کو غیر صریح کہنا محض دفع الوقتی ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔خود زبیر علی زئی صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ ‘‘ثم لایعود’’ اور اس کے روایت بالمعنیٰ الفاظ ترک رفع یدین میں صریح ہیں۔ (دیکھئے: تحقیقی مقالات ج۴،ص۲۷۳ ماہنامہ الحدیث ص ۳۲ش نمبر ۶۷، انوار الطریق ص ۸۶) ان الفاظ کو ترک رفع یدین میں صریح تسلیم کرنے کے باوجود علی زئی کا اس حدیث کو غیر صریح کہنا عجیب و غریب ہے۔
الحاصل:
ترک رفع یدین کی حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہ پر رئیس ندوی اور زبیر علی زئی صاحب کے تمام اعتراضات ائمہ محدثین وفقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم کے مقرر کردہ اصولوں کی روشنی میں باطل و مردود ہیں اور یہ حدیث بالکل صحیح اور ترک رفع یدین میں صریح ہے، اللہ پاک فریق مخالف کو تعصب اور ہٹ دھرمی کی دلدل سے نکل کر اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ (آمین)
حدیث نمبر۲: بحوالہ مسند ابی یعلیٰ الموصلی
‘‘حدثنا اسحاق حدثنا ھشیم عن یزید بن ابی زیاد عن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ عن البراء قال رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حین افتتح الصلوٰۃ کبرورفع یدیہ حتیٰ کا دتا تحاذیان اذنیہ ثم لم یعد ’’
ترجمہ:سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ا?صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ا?پ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز شروع کی تو تکبیر کہی اور رفع یدین کیا حتیٰ کہ دونوں ہاتھ کانوں کے برابر ہو گئے پھر پوری نماز میں رفع یدین نہیں کیا حتیٰ کہ دونوں ہاتھ کانوں کے برابر ہو گئے پھر پوری نماز میں رفع یدین نہیں کیا۔ (مسند ابی یعلیٰ الموصلی برقم ۱۶۹۱)
سندکی تحقیق:
امام ابو معاویہ ہشیم بن بشیر کے علاوہ اس روایت کے تمام راویوں کا تزکرہ گزرچکا ہے، اور امام ابومعاویہ ہشیم بن بشیر السلمی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۳ھ کتب صحاح ستہ کے ثقہ بالا جماع راوی ہیں، متعدد حضرات نے اس کی توثیق فرمائی ہے مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (الثقات ج۱ ص ۴۵۹ برقم ۱۷۴۵)
(۲)۔۔۔۔حافظ ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۰ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ثبت ’ ’ (الطبقات الکبری ج۷، ۳۱۳)
(۳)۔۔۔۔امام ابویعلی الخلیلی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۴۶ھ لکھتے ہیں : ‘‘ حافظ متقن ’’ (الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث:ج۱، ص۱۹۶)
(۴)۔۔۔۔امام ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (الجرح والتعدیل للرازی برقم ۴۸۶)
(۵)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھلکھتے ہیں: ‘‘ الحافظ الثقۃ۔ امام ثقۃ۔ الامام الشیخ الاسلام محدث بغدادوحافظھا۔ حافظ ثقۃ۔ الحافظ احد الاسلام ’’(الرواۃ الثقات المتکلم ج۱،ص۱۷۹، الکاشف برقم ۵۹۷۹، سیراعلام النبلاء:ج۸ ص ۲۸۸، من تکلم فیہ فھوموثق ج۱ ،ص ۱۸۸، میزان الاعتدال ج۴ص ۳۰۶)
خلاصۃالتحقیق:
اس روایت کے تمام راوی ثقہ وصدوق ہیں اور اس کی سند صحیح ہے۔
حدیث نمبر۳: بحوالہ التمہید
‘‘حدثنا عبدالوارث بن سفیان قال حدثنا قاسم بن اصبغ قال حدثنا احمد بن زھیر قال حدثنا ابونعیم قال حدثنا موسیٰ بن محمد الانصاری عن یزید بن ابی زیاد عن عبدالرحمان بن ابی لیلٰی عن البراء بن عازب قال صلیت خلف النبیﷺ فکبر فرفع یدیہ حتیٰ حاذٰی اذنیہ فی اول مرۃ لم یزدھا علیھا ’’
ترجمہ: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی آپﷺ نے تکبیر کہی توکانوں کے قریب تک رفع یدین کیا پہلی مرتبہ پھر پوری نماز میں رفع یدین نہ کیا۔
سند کی تحقیق:
عبدالوارث بن سفیان، قاسم بن اصبغ، احمد بن زھیر، ابونعیم، موسیٰ بن محمد الانصاری کی توثیق وتعدیل کے حوالے حاضر ہیں، بقیہ روات کا تذکرہ گزر چکا۔
(۱)عبدالوارث بن سفیان م ۳۹۵ھ
امام عبدالوارث بن سفیان بن جبرون المعروف بالجیب ابوالقاسم القرطبیرحمہ اللہ مشہور محدث ہیں۔
(۱)۔۔۔۔امام خلف بن عبدالملک بن بشکوال م ۵۷۸ھھ ان کے متعلق لکھتے ہیں ‘‘ کان اوثق الناس فیہ ’’ (الصلۃ فی تاریخ ائمۃ الاندلس :ج۱ ،ص۳۶۴)
(۲)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ وکان اوثق الناس فیہ۔ المحدث الثقہ العالم الزاہد ’’(تاریخ اسلام ج ۸ ص ۷۵۳ سیراعلام النبلاء:ج ۱۷، ص ۸۴ برقم ۴۹)
(۳)۔۔۔۔حافظ قاسم بن قطلوبغا رحمۃ اللہ علیہ م ۸۷۹ھ لکھتے ہیں: ‘‘ وکان اوثق الناس فیہ ’’ (الثقات :برقم ۷۳۴)
(۲) قاسم بن اصبغ رحمۃ اللہ علیہ م ۳۴۰ھ
(۱)۔۔۔۔امام حمیدی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۸۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ امام من ائمۃالحدیث حافظ مکثر مصنف ’’(جذوۃ المقتبس فی ذکرولاۃ الاندلس ج۱ ص ۳۳۰)
(۲)۔۔۔۔امام ابوجعفر الضبی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۹۹ھ فرماتے ہیں: ‘‘ امام من ائمۃ الحدیث حافظ مکثرمصنف ’’ (بغیۃ الملتمس فی تاریخ رجال اھل الاندلس برقم ۱۲۹۸)
(۳)۔۔۔۔علامہ شھاب الدین الحموی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۲۶ھ لکھتے ہیں: ‘‘ امام من ائمۃ العلم حافظ مکثر مصنف ’’(معجم الادباء ج۵ ص ۲۱۹۰)
(۴)۔۔۔۔حافظ ذھبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الامام الحافظ محدث الاندلس۔ الامام الحافظ العلامۃ محدث الاندلس ’’(تذکرۃ الحفاظ ج۳،ص۴۹ برقم ۸۳۱ ،سیر اعلام النبلاء:ج۱۲، ص۶۶ برقم ۳۱۱۳)
(۵)۔۔۔۔علامہ ابراہیم بن علی الیعمری رحمۃ اللہ علیہ م ۷۹۹ھ لکھتے ہیں: ‘‘ وکان ثبتاً صادقاً حلیماً مامورًابصیراً بالحدیث ’’(الدیباج المذہب:ج۲ص۱۴۵)
(۳) احمد بن زہیر البغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۹۸ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھلکھتے ہیں: ‘‘ وکان ثقۃ عالما متفننا حافظاً ’’(تاریخ بغداد ج۴، ص ۳۸۴ برقم ۲۱۵۶)
(۲)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الحافظ الکبیر ابن الحافظ ’’ (لسان المیزان برقم ۵۵۶)
(۳)۔۔۔۔علامہ صلاح الدین الصفدی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۴ھ لکھتے ہیں: ‘‘ کان ثقۃ عالماً متقناً حافظاً ’’(الوافی ج۶، ص ۲۳۲)
(۴)۔۔۔۔امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃمامون ’’ (تاریخ اسلام برقم ۱۵)
(۵)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں : ‘‘ الحافظ الحجۃ الامام ’’ (تذکرۃالحفاظ برقم ۲۱۹)
(۴) موسیٰ بن محمد الانصاری رحمۃ اللہ علیہ
(۱)۔۔۔۔امام ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھکہتے ہیں: ‘‘ لابأس بہ ’’ (الجرح والتعدیل ج ۸، ص ۱۶۰ برقم ۷۱۱)
(۲)۔۔۔۔امام ابوزکر یا یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (ایضاً)
(۳)۔۔۔۔حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۴ھ کہتے ہیں : ‘‘ ثقۃ ’’ (الثقات ج۷، ص ۴۵۶ برقم ۱۰۹۰۸)
(۵) امام ابونعیم فضل بن دکین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۱۹ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابولحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ثبت فی الحدیث ’’ (تاریخ الثقات برقم ۱۳۵۱)
(۲)۔۔۔۔امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۴ھ کہتے ہیں: ‘‘ ابونعیم من الثقات ’’(الجرح والتعدیل برقم ۳۵۳)
(۳)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (ایضاً)
(۴)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الحافظ الثبت الکوفی۔ الحافظ الکبیر شیخ الاسلام ’’(تذکرۃ الحفاظ برقم ۳۷۰ سیر اعلام النبلاء-04 برقم ۱۵۵۸)
(۵)۔۔۔۔امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۳ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ مامون ’’(تہذیب التہذیب ج۵،ص۲۵۳)
خلاصۃ التحقیق:
مذکورہ تحقیق سے معلوم ہوا اس روایت کے تمام راوی ثقہ وصدوق ہیں ، اور اس کی سند صحیح ہے۔
حدیث نمبر۴: بحوالہ سنن دارقطنی
‘‘حدثنا احمد بن علی بن العلاء ثنا ابو الاشعث ثنا محمد بن بکرثنا شعبۃ عن یزید بن ابی زیاد سمعت ابن ابی لیلی یقول سمعت البراء فی ھذا المجلس قوماً منھم کعب بن عجرۃ قال رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حین افتتح الصلوٰۃ یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ’’
ترجمہ:عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے خاص اسی مجلس میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، اہل مجلس میں سے ایک سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی رفع یدین کرتے۔ (سنن الدرقطنی ج۱، ص۲۹۳ و الفصل للوصل برقم ۳۰۲)
سند کی تحقیق:
اس روایت کے راویوں میں سے احمد بن علی بن العلاء الجوزجانی البغدادی، ابوالاشعث احمد بن المقدام العجلی البصری، ابوعبداللہ محمد بن بکربن عثمان البرسانی الازدی، شعبہ بن الحجاج کی تعدیل و توثیق کے حوالے حاضر ہیں، بقیہ راویوں کا تزکرہ گزر چکا۔
(۱)احمد بن علی بن العلاء رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۸ھ
(۱)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الشیخ المحدث الثقۃ القدوۃ۔ شیخ صالح بکاء خاشع ثقۃ ’’(سیر اعلام النبلاء برقم ۲۹۴۸، العبرج۲، ص ۲۹ ،تاریخ اسلام برقم ۳۶۴)
(۲)۔۔۔۔حافظ ابن العماد الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۸۹ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ صالح بکا ء ’’(شذرات الذھب ج۴ ص ۱۴۶)
(۳)۔۔۔۔امام درقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (سیراعلام النبلاء برقم ۲۴۹۸)
(۴)۔۔۔۔حافظ قاسم بن قطلوبغا م ۸۷۹ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (الثقات ،ج۱،ص۴۳۹برقم ۱۵۰)
(۲)بوالاشعث احمد بن مقدام رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۰ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی۲۷۷ھ کہتے ہیں:‘‘ صالح الحدیث محلہ الصدق ’’(الجرح والتعدیل برقم ۱۶۷)
(۲)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں:‘‘ ثقۃ۔ ثقۃ ثبت۔ الامام المتقن الحافظ ’’(الکاشف برقم ۸۹، المغنی برقم ۴۶۷، تاریخ اسلام ج۶، ص۳۶ سیراعلام النبلا ء برقم۷۵)
(۳)۔۔۔۔امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۳ھ کہتے ہیں:‘‘ لیس بہ باس ’’ (تہذیب الکمال برقم ۱۱۰)
(۴)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘‘ صدوق ’’ (تقریب التہذیب برقم ۱۱۰)
(۳)ابوعبداللہ محمد بن بکر رحمۃ اللہ علیہ م ۲۰۴ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(تاریخ اسماء الثقات برقم ۱۵۷۵)
(۲)۔۔۔۔ابن العماد الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۸۹ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (شذرات الذھب ج۳، ص۱۵)
(۳)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ۔الامام المحدث الثقۃ۔ صدوق ’’(الکاشف ج۲،ص۱۶۰، برقم ۴۷۴۶ سیر اعلام النبلاء برقم ۱۴۶۱ ،میزان برقم ۷۲۷۷)
(۴)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘‘ صدوق ’’ (تقریب برقم۵۷۶۰)
(۴)شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۰ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ تقی ’’(تاریخ اسماء الثقات برقم ۶۶۵)
(۲)۔۔۔۔امام ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (الجرح والتعدیل ج۴ص۳۷۰ برقم ۱۶۰۹)
(۳)۔۔۔۔حافظ نووی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۷۶ھ لکھتے ہیں : ‘‘ واجمعواعلی امامتہ فی الحدیث، وجلالتہ وتحریہ واحتیاطہ ’’(تہذیب الاسماء واللغات برقم ۲۵۳)
(۴)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الحافظ الکبیر عالم اہل البصرۃ فی زمانہ بل امیر المؤمنین فی الحدیث۔ الحجۃ الحافظ شیخ الاسلام۔ الامام الحافظ امیر المؤمنین ’’(تاریخ اسلام برقم ۸۹،تذکرۃ الحفاظ برقم ۱۸۷ ،سیر اعلام النبلاء برقم ۱۰۸۱)
(۴)۔۔۔۔ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ حافظ متقن ’’ (تقریب برقم ۲۷۹۰)
خلاصۃ التحقیق:
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور اس کی سند کے تمام راوی ثقہ وثبت ہیں۔
حدیث نمبر۵: بحوالہ سنن دارقطنی
حدثنا یحیی بن محمد بن صاعدنا محمد بن سلیمان لوین ثنا اسماعیل بن زکریا ثنایزید بن ابی زیاد عن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ عن البراء انہ رای رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حین افتتح الصلوۃ رفع یدیہ حتٰی حاذی بھما اذنیہ ثم لم یعدالی شء من ذالک حتی فرغ من صلا تہ۔
ترجمہ: سید نابراء بن عازب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی تورفع یدین کیا یہاں تک کہ آپ کے دونوں ہاتھ آپ کے کانوں کے مدمقابل ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری نماز میں رفع یدین نہیں کیا یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو گئے۔ (سنن الدارقطنی ج۱ ص ۲۹۳)
سند کی تحقیق:
اس روایت کے جن راویوں کا ماقبل میں تزکرہ نہیں گزرا ان کی تعدیل و توثیق کے حوالے حاضر ہیں۔
(۱)ابومحمد یحییٰ بن محمد بن صاعدالہا شمی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۱۸ھ
(۱)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الحافظ الامام الثقۃ۔ الامام الحافظ المجود محدث العراق۔ رحال جوال عالم بالعلل والرجال ’’ (تذکرۃ الحفاظ برقم ۷۷۱ ،سیر اعلام النبلاء برقم ۲۸۰۲)
(۲)۔۔۔۔امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ثبت حافظ ’’(ایضاً)
(۳)۔۔۔۔حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۱۱ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الحافظ الامام الثقۃ ’’(طبقات الحفاظ برقم ۷۴۲)
(۴)۔۔۔۔امام ابو یعلی الخلیلی رحمۃ اللہ م۴۴۶ھلکھتے ہیں :‘‘ ثقۃ امام یفوق فی الحفظ اہل زمانہ ’’ (ٍالارشاد :ج۲ص۶۱۱)
(۲)ابو جعفر محمد بن سلیمان لوین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۶ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ کہتے ہیں: ‘‘ صالح الحدیث صدوق ’’ (الجرح والتعدیل برقم ۱۴۶۸)
(۲)۔۔۔۔امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (تہذیب الکمال ص ۲۹۹برقم ۵۲۵۷)
(۳)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (تقریب التہذیب برقم ۵۹۲۵)
(۳)اسماعیل بن زکریارحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۳ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ کہتے ہیں:‘‘ ثقۃ ’’(تاریخ ابن معین برقم ۱۲۵۰)
(۲)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ کہتے ہیں ‘‘ صالح ’’ (الجرح والتعدیل برقم ۵۷۰)
(۳)۔۔۔۔امام ابن شاہین رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ نقل کرتے ہیں:‘‘ ثقۃ ’’ (تاریخ اسماء الثقات برقم ۱۳)
(۴)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ صدوق۔ المحدث الحافظ۔ثقۃ منصف ’’ (الرواۃ الثقات المتکلم برقم ۱۷ ،الکاشف برقم ۳۷۵ ،سیر برقم ۲۹۳، من تکلم برقم ۳۴)
خلاصۃ التحقیق:
اس روایت کی سند صحیح ہے اور اس کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر۶: بحوالہ مسند ابی یعلیٰ الموصلی
‘‘حدثنا اسحاق حدثنا وکیع حدثنا ابن ابی لیلی عن الحکم وعیسی عن عبدالرحمن بن ابی لیلٰی عن البراء ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا افتتح الصلوٰۃرفع یدیہ ثم لایرفع حتٰی ینصرف ’’
ترجمہ: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بلاشک وشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے پھر رفع یدین نہ کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاتے۔ (مسند ابی یعلیٰ الموصلی ج۲،ص۹۰ برقم ۱۶۸۹)
سند کی تحقیق:
اس روایت کے راویوں میں سے محمد بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ، حکم بن عتیبہ ، عیسیٰ بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ، کی تعدیل و ثوثیق اور مدح و ثناء کے حوالے حاضر ہیں، بقیہ رویوں کا تذکرہ گزرچکا۔
(۱)محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۴۸ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ لکھتے ہیں: ‘‘ صدوق ثقۃ۔ وکان فقیھاً صاحب سنۃ۔ صدوقاً جائزالحدیث۔ وکان قارئاً للقرآن عالماً بہ ’’(تاریخ الثقات برقم ۱۴۷۶)
(۲)۔۔۔۔حافظ ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۵ھ لکھتے ہیں ‘‘ مع سوء حفظہ یکتب حدیثہ ’’(الکامل برقم ۱۶۶۳)
تنبیہ:ارشاد الحق اثری اور عبدالرحمن مبارکپوری غیر مقلد نے ‘‘یکتب حدیثہ’’ کو الفاظ تعدیل میں شمار کیا ہے۔ (دیکھئے: توضیح الکلام ج۱ ص ۵۴۷ مقالات مبارکپوری ص
۲۱۹)
(۳)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ کہتے ہیں: ‘‘ محلہ الصدق۔۔۔۔الخ ’’(الجرح والتعدیل برقم ۱۷۳۹)
(۴)۔۔۔۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے استاد احمد بن یونس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ‘‘ افقہ اھل الدنیا ’’(تہذیب رقم ۵۰۳)
(۵)۔۔۔۔امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱ھکہتے ہیں: ‘‘ مات ابن ابی لیلٰی فقیھنا ومعلمنا ’’ (الکامل برقم ۱۶۶۹)
(۶)۔۔۔۔امام ابوزرعہ رازی رحمۃ اللہ علیہ م کہتے ہیں: ‘‘ رجل شریف ’’(اجوبۃ ابی زرعۃ ج۱،ص۷۲۷)
تنبیہ: اجوبۃ ابی زرعۃ کا حوالہ بطور الزام پیش کیا گیا ہے،کیونکہ فریق مخالف کے نزدیک یہ کتاب معتبر ہے۔
(۷)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں:‘‘ قاضی الکوفۃ وفقیھھا وعالمھا ومقرئھا فی زمانہ۔الامام العلم مفتی الکوفۃ وقاضیھا۔ الفقیہ المقرئ۔ العلامۃالامام مفتی الکوفۃ وقاضیھا۔ صدوق امام سئالحفظ۔ صدوق جائز الحدیث۔ صدوق امام سئ الحفظ۔ حدیثہ فی درجۃ الحسن۔ محلہ الصدق ’’(تاریخ اسلام برقم ۳۸۷ ،تذکرۃ الحفاظ برقم ۱۶۵ ،سیر برقم ۱۳۳، میزان برقم ۱۸۲۵ ،الکاشف ۱۰۰۰ ،العبر ج۱،ص ۱۶۲)
(۸)۔۔۔۔امام المحدثین قاضی ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ (تاریخ اسلام برقم ۳۸۷ میزان الاعتدال ج۳،ص۶۱۵)
(۹)۔۔۔۔امام عطاء رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ‘‘ ھواعلم منی ’’ (تذکرۃ الحفاظ برقم ۱۶۵ سیراعلام النبلاء برقم ۱۳۳)
(۱۰)۔۔۔۔منصور رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ‘‘(افقہ اھل الکوفۃ) قاضیھا ابن ابی لیلٰی ’’ (سیراعلام النبلاء برقم ۱۳۳)
(۱۱)۔۔۔۔علامہ صلاح الدین خلیل الصفدی کہتے ہیں: ‘‘ قاضی الکوفۃ وفقیھھا وعالمھا ومقرئھا فی زمانہ ’’(الوافی بالوفیات ج۳ ص۱۸)
(۱۲)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘‘ صدوق سئ الحفظ ’’ (تقریب برقم ۶۰۸۱)
(۱۳)۔۔۔۔شمس الدین ابوالمعالی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۱۶۷ھ لکھتے ہیں ‘‘ الامام المجتھدالقاضی الانصاری قاضی الکوفۃ ’’ (دیوان الاسلام ج۴ص۱۰۳)
(۱۴)۔۔۔۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۵۶ھ کہتے ہیں:‘‘ صدوق ’’(سنن ترمذی ج۱ ص ۴۴۔۲۰۵)
(۱۵)۔۔۔۔امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۹ھ کہتے ہیں: ‘‘ صدوق فقیہ ’’ (سنن ترمذی ج۱، ص ۲۰۵ برقم ۱۷۱۵)
(۱۶)۔۔۔۔حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۱ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ حافظ جلیل ’’ (ملخصاً زادالمعاد ج۵، ص ۱۳۷)
(۱۷)۔۔۔۔حافظ منذری رحمۃ اللہ علیہ م ۶۵۶ھلکھتے ہیں: ‘‘ صدوق امام ثقۃ ردئ الحفظ ’’ (الترغیب ج۵، ص۵۳۵)
(۱۸)۔۔۔۔امام ابوالحسن نور الدین الہیثمی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰۷ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ابن ابی لیلٰی سئ الحفظ وحدیثہ حسن انشاء اللہ۔ وھوسئ الحفظ ولکنہ ثقۃ ’’(مجمع الزوائد ج۳،ص ۲۳۸و ج۴، ص ۳۵)
(۱۹)۔۔۔۔حافظ ابن الملقن رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰۴ھ لکھتے ہیں: ‘‘ صدوق سئ الحفظ ’’ (البدرالمنیر ج۱۶،ص۴۲۳)
(۲۰)۔۔۔۔امام ابوعبداللہ الحافظ رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۵ھ لکھتے ہیں: ‘‘ وان کان ینسب الی سوء الحفظ فانہ احدفقھاء الاسلام وفضلتھم ومن اکابر اولاد الصحابۃ والتابعین من الانصار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھم ’’ (مستدرک ج۱ ص ۵۸ برقم۳۱) نیز امام موصوف نے ابن ابی لیلیٰ کی سند سے مروی حدیث کو صحیح بھی کہا ہے۔ (ایضاً ج۳، ص ۳۹، برقم ۴۳۳۸)
(۲۱)۔۔۔۔حافظ ابن رجب الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۹۵ھ کہتے ہیں:‘‘ صدوق ’’(شرح علل الترمذی ج۱، ص ۱۴۵)
(۲۲ تا ۲۵)۔۔۔۔۔ امام ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ م ۳۱۱ھ نے اپنی کتاب ‘‘ صحیح ابن خزیمہ ’’ میں امام ابوعوانہ یعقوب بن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ م ۳۱۶ھ نے ‘‘مستخرج ابی عوانہ’’ میں اور امام ضیاء الدین المقدسی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۴۳ھ نے ‘‘الاحادیث المختارۃ’’ میں امام ابن الجارود رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۷ھ نے ‘‘المنتقیٰ’’ میں ابن ابی لیلیٰ مذکور سے روایت لی ہے۔ دیکھئے۔۔
۱۔۔۔۔صحیح ابن خزیمہ :برقم: ۶۰۴۔ ۶۶۸۔۹۱۶
۲۔۔۔۔مستخرج ابی عوانہ: برقم: ۲۷۵۵
۳۔۔۔۔ الاحادیث المختارۃ برقم :۶۴۱۔۶۵۶
۴۔۔۔۔المنتقیٰ لابن الجارود برقم:۴۵۱
او ر زبیر علی زئی صاحب کے بقول ان حضرات کا اپنی مذکورہ کتب میں اس سے روایت لینا ہی ان کے نزدیک اس کے ثقہ و صحیح الحدیث ہونے کی دلیل ہے۔
(۲۶)۔۔۔۔امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۳ھ نے ‘‘سنن نسائی’’ میں اس کی متعدد روایات درج کی ہیں جو کہ ارشاد الحق اثری صاحب کے بقول امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے صحیح الحدیث یا حسن الحدیث ہونے کی دلیل ہے۔ (ملخصاً تو ضیح الکلام ص ۳۳۷)
علی زئی صاحب کے بقول درج ذیل ائمہ نے سنن نسائی کو صحیح کہا ہے (مسئلہ فاتحہ خلف الامام ص ۵۲) اور چونکہ سنن نسائی میں ابن ابی لیلیٰ موصوف کی روایات بھی موجود ہیں، جو کہ علیزئی اصول کی روشنی میں ان درج ذیل ائمہ کے نزدیک بھی موصوف ابن ابی لیلیٰ کے صحیح الحدیث ہونے کی دلیل ہے، لہٰذا بطور الزام کے ان ائمہ کو بھی موثقین میں شمار کیا جاتا ہے۔
(۲۷)۔۔۔۔امام ابوعلی نیسابوری رحمۃ اللہ علیہ م ۳۴۹ھ
(۲۸)۔۔۔۔حافظ ابن مندہ رحمۃ اللہ علیہ م ۳۹۵ھ
(۲۹)۔۔۔۔امام عبدالغنی بن سعید رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۹ھ
(۳۰)۔۔۔۔امام ابویعلی الخلیلی رحمۃ اللہ علیہ
(۳۱)۔۔۔۔امام ابوعلی ابن السکن رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۳ھ
(۳۲)۔۔۔۔امام ابوبکر خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ
حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے ابن ابی لیلیٰ کی سند سے مروی حدیث کو سنداً حسن قرار دیا ہے۔ اور علماء غیر مقلدین کے بقول اگر کوئی محدث کسی روایت یا اس کی سند کو حسن یا صحیح قرار دے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی سند کا ہر ہر راوی اس محدث کے نزدیک ثقہ یا صدوق ہے۔ (ماہنامہ الحدیث ص ۳۲ ش نمبر۱۴ ،نور العینین ص ۵۳، نصرالباری ص ۱۷۲، القول المتین ص ۲۰،مکالمات نور پوری ص ۳۴۰، تنقیح الکلا م ص ۲۹۰) ،لہٰذا علماء غیر مقلدین کے بقول حافظ ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی ابن ابی لیلیٰ ثقہ یا صدوق ہے۔
(۳۳)۔۔۔۔حافظ بن کثیر رحمۃ اللہ علیہ م۷۷۴ھ قال: ‘‘ اسنادہ حسن ’’ (البدایہ والنھایہ ج۳، ص ۲۳۴)
(۳۴)۔۔۔۔امام ابوالحسن الدرقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ فی حفظہ شیء ’’(سنن دارقطنی برقم ۴۴۷)
(۳۵)۔۔۔۔امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۵ھ نے ‘‘سنن ابی داؤد’’ میں مذکور ابن ابی لیلیٰ کی متعدد روایات پر سکوت اختیار کیا ہے۔ جو کہ علماء غیر مقلدین کے بقول امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے ‘‘صالح الحدیث’’ ہونے کی دلیل ہے۔ (ملخصاً نیل الاوطار ج۱،ص۲۲ ،رفع الیدین اور آمین ص ۲۱۱بحوالہ نور الصباح ج۱، ص ۱۲۲۰، تنقیح الکلام ص ۳۳۵)
محمد بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ علماء غیر مقلدین کی نظر میں:
(۳۶)۔۔۔۔احمد محمد شاکر غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
‘‘ ومثل ذا لایقل حدیثہ عن درجۃ الحسن المتحج بہ واذاتابعہ غیرہ کان الحدیث صحیحا ً ’’
کہ محمد بن عبدلرحمن بن ابی لیلیٰ جیسے راوی کی حدیث حسن درجہ سے کم نہیں ہوتی جو کہ قابل احتجاج ہے، اور جب کوئی حدیث اس کی روایت کی مؤید مل جائے تو پھر ا سکی حدیث بالکل صحیح ہو گی۔ (شرح ترمذی ج۲، ص ۱۵۷برقم ۳۶۴ ، دارالحدیث القاھرہ)
(۳۷)۔۔۔۔ارشاد الحق اثری غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
‘‘محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ جو صدوق مگر سیء الحفظ ہے ۔’’ (پرویزی تشکیک کا علمی محاسبہ ص ۷۸)
(۳۸)۔۔۔۔ناصرالدین البانی غیر مقلد نے اس کی متعدد روایات کو صحیح و حسن قرار دیا ہے۔
مثلاً دیکھئے: سنن ابن ماجہ بتحقیق الالبانی برقم: ۲۲۸۔۲۷۳۴۔۲۹۹۶
وسنن النسائی بتحقیق الالبانی برقم: ۴۷۷۲۔۴۹۰۰
وسنن الترمذی بتحقیق الالبانی برقم: ۲۰۷۲۔۳۵۵۳
(۳۹)۔۔۔۔عبداللہ روپڑی غیر مقلد موصوف محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی ایک روایت سے استدلال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
(محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے) ضعف کی وجہ حافظہ کی کمزوری ہے ویسے سچا ہے جھوٹ نہیں بولتا، پس یہ حدیث بھی کس قدر اچھی ہوئی اور دوسری حدیثوں سے مل کر نہایت قوی ہو گئی۔ (مسئلہ رفع الیدین اور آمین ص ۲۷ بحوالہ نور الصباح ج۱،۱۶۷)
(۴۰تا۴۲)۔۔۔۔ ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی غیر مقلد نے اپنی کتاب ‘‘الظفر المبین’’ میں اور صادق سیالکوٹی غیر مقلد نے ‘‘صلٰوۃ الرسول’’ میں مذکور محمد بن عبدالرحمن کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ دیکھئے:
نماز مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ص ۲۹۰ حدیث علی رضی اللہ عنہ
الظفرالمبین ج۱، ص ۹۹، حدیث نمبر۹
صلوٰۃ الرسول ص ۲۰۹ بعنوان حضرت علی رضی اللہ عنہ کا آمین سننا۔
تنبیہ: یاد رہے سیالکوٹی کی مذکورہ کتاب ‘‘صلوٰۃ الرسول’’ کو زبیر علی زئی غیرمقلد نے فرقہ غیر مقلدیت کی عصر حاضر میں نماز کی مشہور کتاب کہا ہے۔ (دیکھئے: فتاویٰ علمیہ ج۱، ص ۶۸۹)
(۲)امام حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۱۵ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ کہتے ہیں :‘‘ ثقۃ ثبت فی الحدیث ’’(تاریخ الثقات برقم ۳۱۵)
(۲)۔۔۔۔حافظ ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۰ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ فقیھاً عالماً عالیا رفیعاکثیرالحدیث ’’(الطبقات الکبریٰ ج۶ص ۳۲۴ برقم ۲۴۹۶)
(۳)۔۔۔۔امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (الجرح والتعدیل ج۳، ص۱۲۵برقم ۵۶۷)
(۴)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھلکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(ایضاً)
(۵)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ثبت فقیہ ’’ (تقریب برقم ۱۴۵۳)
(۳) عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ
(۱)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (تقریب التہذیب برقم ۵۳۰۷)
(۲)۔۔۔۔امام ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ کہتے ہیں : ‘‘ ثقۃ ’’(تاریخ ابن معین ج۱،ص۱۶۰ برقم ۵۶۶)
(۳)۔۔۔۔حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۴ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (الثقات ج۷، ص۲۳۰برقم ۹۸۱۵)
خلاصۃالتحقیق:
محمد بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ کے علاوہ اس حدیث کی سند کے تمام راوی بالاتفاق ثقہ و صدوق ہیں، اور محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے بارے میں معتدل رائے یہی ہے کہ یہ حسن درجہ کا راوی ہے اگر اس کا کوئی متابع مل جائے تو پھر اس کی حدیث بلاشک و شبہ صحیح و قابل حجت ہے، اور ہم ماقبل میں تفصیل سے عرض کر آئے ہیں کہ مذکورہ ترک رفع یدین کی حدیث میں اس کے متابع موجود ہیں لہٰذا یہ حدیث بلاشک و شبہ صحیح ہے۔
اعتراض:
محدث کبیر حافظ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مذکور محمد بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ کی روایات اپنے مقالہ میں تحریر کی تھیں، اس پر رئیس ندوی غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
فرقہ دیوبندیہ نے اپنے مذکورہ بالا بیانات کے نمبر۲۱ تا ۲۴ جو احادیث نقل کی ہیں صفحہ :۳۲ تا ۳۳ وہ براء بن عازب والی حدیث گزشتہ کے ہم معنی ہیں مگر ان سب کا دارومدار محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ پر ہے جو تبصریح ائمہ فن ساقط الاعتبار ہے۔ (تحقیقی جائزہ ص ۵۷۷)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔ محمد بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ ائمہ فن کے نزدیک بالکلیہ ہرگز ساقط الاعتبار نہیں ہے، اس کے بارے میں معتدل رائے یہی ہے کہ اس کی حدیث حسن درجہ کی ہوتی ہے، ہاں اگر اس کی روایت کی متابعت ثابت ہو جائے تو پھر اس کی بیان کردہ حدیث بلا شک وشبہ صحیح و قابل حجت ہے۔
چنانچہ حافظ دہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ لکھتے ہیں کہ:
‘‘حدیثہ فی وزن الحسن ’’ ا س کی حدیث حسن درجہ کی ہوتی ہے۔ (تذکرۃ الحفاظ ج ۱، ص ۱۲۹ برقم ۱۶۷)
امام ابوالحسن نورالدین الہیثمی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰۷ھ لکھتے ہیں کہ:
‘‘وحدیثہ حسن انشاء اللہ ’’ کہ اس کی حدیث انشاء اللہ حسن درجہ کی ہے۔ (مجمع الزوائد ج۳، ص ۲۳۸)
حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ م ۷۷۴ھ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:
‘‘ اسنادہ حسن ’’ کہ محمد بن عبدالرحمن کی بیان کردہ اس روایت کی سند حسن ہے۔ (البدایہ و النہایہ ج۳، ص۴۳۲)
احمد محمد شاکر غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
‘‘ ومثل ھذا لایقل حدیثہ عن درجۃ الحسن المحتج بہ واذاتا بعہ غیرہ کان الحدیث صحیحا ’’
محمد بن عبدالرحمن جیسے راوی کی حدیث حسن درجہ سے کم نہیں ہوتی جو قابل حجت ہے،اور جب اس کی روایت کی متابعت مل جائے تو پھر اس کی حدیث بالکل صحیح ہو گی۔ (شرح ترمذی ج۲ص۱۵۷)
لہٰذا موصوف محمد بن عبدالرحمن کو بالکلیہ ساقط الاعتبار کہنا غلط باطل و مردود ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔رئیس ندوی صاحب کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے ہم مسلک عبداللہ روپڑی غیر مقلد نے بھی صراحت کر رکھی ہے کہ محمد مذکور پر حضرات کی جرح کی وجہ صرف اس کے حافظہ کی کمزوری ہے، وگرنہ یہ فی نفسہ سچا ہے جھوٹ نہیں بولتا۔ (دیکھئے مسئلہ رفع الیدین اور آمین ص ۷۲) اور ماقبل میں گزر چکا ہے کہ خبیب احمد غیرمقلد صاحب کے بقول کمزور حافظے والے راوی کی بیان کردہ جس حدیث کی متابعت ثابت ہو جائے تو اس کی وہ حدیث قابل قبول ہو گی،اور اس حدیث کی متابعت کا موجود ہونا اس بات کی دلیل ہو گی کہ اس راوی نے یہ حدیث درست طور پر حفظ کی ہے، اور اس کے حافظے کی کمزوری اس مخصوص حدیث پر اثر انداز نہیں ہوئی ہے۔ (ملخصاً مقالات اثر یہ ص ۶۸۔۶۹) علی ھذا القیاس ترک رفع یدین کی مذکورہ حدیث محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے استاد حکم بن عتیبہ اور یزیدبن ابی زیاد القرشی الھاشمی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرنے میں اکیلا نہیں ہے، بلکہ اس کی متابعت ثابت ہے جیسا کہ اس پر تفصیلی بحث گزر چکی ہے، لہٰذا خبیب احمد غیر مقلد صاحب کے بقول ترک رفع یدین کی حدیث اس نے درست طور پر حفظ کی ہے اوراس کے حافظے کی کمزوری اس حدیث پر اثر انداز نہیں ہوئی، لہٰذا یہ حدیث بلاشک وشبہ صحیح و قابل حجت ہے اورندوی صاحب کا اعتراض باطل و مردودہے۔
ثالثاً۔۔۔۔حافظ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کی نقل کردہ روایات کا دارومدار موصوف محمد بن عبدالرحمن پر ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے علاوہ درج ذیل راویوں نے بھی یزید موصوف سے ترک رفع یدین کی حدیث نقل کی ہے۔
(۱)۔۔۔۔امام ہشیم بن بشیررحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۳ھ:(دیکھئے: مسندابی یعلی الموصلی ج۲، ص۹۰برقم ۱۶۹۱)
(۲)۔۔۔۔امام عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۲ھ:(دیکھئے: مسندابی یعلی الموصلی برقم ۱۶۹۲)
(۳)۔۔۔۔امام سفیان بن سعید رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱ھ :(دیکھئے: شرح معانی الآثار ،ج۱،ص۱۶۲)
(۴)۔۔۔۔امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۸ھ: (دیکھئے: مصنف عبدالرزاق برقم ۲۵۳۱)
(۵)۔۔۔۔امام اسرائیل بن یونس رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۲ھ: (دیکھئے: شرح ابن ماجہ ص ۱۴۶۹، الجوھرالنقی ج۲،ص ۷۶)
(۶)۔۔۔۔امام اسماعیل بن زکریارحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۳ھ: (دیکھئے:سنن دارقطنی ج۱،۲۹۳، الفصل للوصل ج۱ ص ۳۷۳)
(۷)۔۔۔۔شریک بن عبداللہ النخعی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۷ھ: (دیکھئے:مسند الرویانی ج۱،ص۴۰۰برقم ۳۴۱)
(۸)۔۔۔۔امام موسیٰ بن محمد الانصاری رحمۃ اللہ علیہ :(دیکھئے: التمہید لابن عبدالبر ج۵،ص۵۷)
(۹)۔۔۔۔امام شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۰ھ: (دیکھئے: سنن دارقطنی ج۱،ص۲۹۳ ،الفصل للوصل برقم ۳۰۲)
(۱۰)۔۔۔۔امام ابوعمرالبزار رحمہ اللہ تعالیٰ (دیکھئے: حدیث ابی الفضل الزھری برقم ۱۰۵)
اسی طرح موصوف محمد بن عبدالرحمان اپنے استاد امام حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ترک رفع یدین کی حدیث نقل کرنے میں اکیلا نہیں ہے، بلکہ اس کی طرح امام المحدثین و الفقہاء قاضی ابویوسف یعقوب بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے امام حکم رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے۔ (دیکھئے اخبار اصبھان برقم ۱۱۹۶) لہٰذا ان روایات کا محض محمد بن عبدالرحمان پر مدارہرگز نہیں ہے۔
حدیث نمبر۷: بحوالہ شرح معانی الآثار
حدثنا محمد بن نعمان قال ثنا یحییٰ بن یحییٰ قال ثناوکیع عن ابن ابی لیلٰی عن اخیہ عن ابن ابی لیلٰی عن البراء عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مثلہ (شرح معانی الآثار ج ۱،ص۱۶۲)
ترجمہ:سیدنا براء بن عارب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے حتیٰ کہ اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں کی لوتک لے جاتے ، پھر پوری نماز میں رفع یدین نہ کرتے۔
سند کی تحقیق:
اس روایت کی سند کے راوی محمد بن نعمان بن بشیر المقدسی رحمۃ اللہ علیہ اور یحییٰ بن یحییٰ بن بکربن عبدالرحمن ابوزکریا التمیمی الینسابوری رحمۃ اللہ علیہ بھی حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول ثقہ ہیں۔ (تقریب التہذیب برقم ۶۳۵۷۔۷۶۶۸) بقیہ روات کا ماقبل میں تذکرہ گزر چکا، لہٰذا اس روایت کی سند بھی صحیح ہے۔
حدیث نمبر۸: بحوالہ تاریخ بغداد
‘‘اخبرنا علی بن احمد بن عمر المقرئ حدثنا ابراہیم بن احمد القرمیسینی حدثنا بشربن موسیٰ الاسدی واخبرنا عبدالباقی بن محمد بن احمد الطحان اخبرنا محمد بن احمد بن الحسن الصواف حدثنا بشر بن موسیٰ، حدثنا موسیٰ بن داود حدثنا عافیۃبن یزید عن ابن ابی لیلیٰ عن الحکم عن البراء عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مثل حدیث قبلہ: انہ کان اذا افتتح الصلوٰۃ رفع یدیہ ثم لایعود ’’
ترجمہ: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے پھر پوری نماز میں نہ کرتے۔ (تاریخ بغداد ج۱۴، ص۲۵۴ برقم ۴۱۸۳)
سند کی تحقیق:
اس روایت کے دونوں طرق کے جن راویوں کاتذکرہ نہیں گزرا ان کی تعدیل وتوثیق کے حوالے حاضر خدمت ہیں۔
(۱)علی بن احمد رحمۃ اللہ علیہ م ۴۱۷ھ
امام ابوالحسن علی بن احمد بن عمر بن حفص المقرئ الحمامی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم سے توثیق ملاحظہ ہو:
(۱)۔۔۔۔امام ابوبکر خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ لکھتے ہیں: ‘‘ صادق دین فاضل حسن الاعتقاد ’’(تاریخ بغداد ج۱۳،۲۳۳ برقم ۶۱۰۹)
(۲)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الامام المحدث مقرئالعراق ’’ (سیر اعلام النبلاء برقم ۳۸۹۲)
(۳)۔۔۔۔حافظ شمس الدین ابوالخیر ابن الجزری رحمۃ اللہ علیہ۸۳۳ھ لکھتے ہیں : ‘‘ شیخ العراق و مسند الآفاق ثقۃ بارع ’’(غایۃ النھایۃ: ج۱،ص۵۲۱ برقم ۲۱۵۷)
(۲)امام ابراہیم بن احمد القرمیسینی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۸ھ
امام ابواسحاق ابراہیم بن احمد بن الحسن المقرء القرمیسینی رحمۃ اللہ علیہ کو متعدد ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے ثقہ کہا ہے مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔امام ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ صالح ’’ (تاریخ بغداد ج۶،ص ۵۰۳ برقم ۲۹۹۷)
(۲)۔۔۔۔حافظ قاسم بن قطلوبغارحمۃ اللہ علیہ م ۸۷۹ھ کہتے ہیں:‘‘ ثقۃ ’’(الثقات ممن لم یقع فی الکتب الستۃج۲،ص۱۴۴ برقم ۹۲۶)
(۳)بشربن موسیٰ الاسدی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۹۰ھ
امام ابوعلی بشربن موسیٰ بن صالح بن شیخ بن عمیرۃالاسدی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کی آراء ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔امام ابوبکر احمد بن علی الخطیب رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھلکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ امین عاقل ’’(تاریخ بغداد ج۷،ص۵۶۹ برقم ۳۴۷۶)
(۲)۔۔۔۔امام ابوالحسن دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ نبیل ’’(ایضاً)
(۳)۔۔۔۔امام ابوالحسین بن ابی یعلی محمد بن محمد رحمۃ اللہ علیہ م ۵۲۶ھ کہتے ہیں‘‘ ثقۃ امین عاقل ’’ (طبقات الحنابلہ ج۱، ص۱۲۱)
(۴)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (سیراعلام النبلاء:ج۱۳،ص۳۵۲ برقم ۱۷۰)
(۵)۔۔۔۔حافظ قاسم بن قطلوبغا رحمۃ اللہ علیہ م ۸۷۹ھ کہتے ہیں : ‘‘ ثقۃ ’’ (الثقات ج۳، ص۴۴ برقم ۱۹۹۳)
(۴)عبدالباقی بن محمد الطحان رحمۃ اللہ علیہ م ۴۳۲ھ
امام ابوالقاسم عبدالباقی بن محمد بن احمد بن زکریا الطحان رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کی آراء ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھلکھتے ہیں: ‘‘ بغدادی ثقۃ۔ الشیخ الثقۃ ’’ (تاریخ الاسلام برقم ۴۹،سیراعلام النبلاء برقم ۳۹۸۲)
(۲)۔۔۔۔امام ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ لکھتے ہیں: ‘‘ وکان ثقۃ ’’ (تاریخ بغداد ج۱۲،۳۷۸ برقم ۵۷۳۱)
(۵)محمد بن احمد الصواف رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۹ھ
امام ابوعلی محمد بن احمد بن الحسن بن اسحاق الصواف البغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق و تعدیل کے حوالے ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ کہتے ہیں: ‘‘ مارات عینای مثل ابی علی بن الصواف ’’ (تاریخ بغداد ج۱، ص۳۰۵ برقم ۱۴۰)
(۲)۔۔۔۔امام ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ لکھتے ہیں: ‘‘ وکان ثقۃ مامونا ’’ (ایضاً)
(۳)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ لکھتے ہیں:‘‘ محدث بغداد۔ الشیخ الامام المحدث الثقۃ الحجۃ ’’ (تاریخ الاسلام ج۸،۱۳۸، برقم ۳۰۶ ،سیراعلام النبلاء:ج۱۲،ص۲۴۵ برقم ۳۳۳۱)
(۴)۔۔۔۔حافظ قاسم بن قطلوبغا رحمۃ اللہ علیہ م ۸۷۹ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (الثقات ج۸،ص ۱۲۰برقم ۹۲۹۳)
(۶)ابوعبداللہ موسیٰ بن داود رحمۃ اللہ علیہ م ۲۱۷ھ
امام ابوعبداللہ موسیٰ بن داودالضبی الخلقانی رحمۃ اللہ علیہ صحیح مسلم، سنن الترمذی،سنن النسائی، سنن ابن ماجہ وغیرہ کے راوی ہیں، ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے ان کی توثیق بڑے واضح لفظوں میں کی ہے مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن احمد بن عبداللہ العجلی رحمۃ اللہ علیہ م۲۶۱ھ لکھتے ہیں : ‘‘ ثقۃ ’’(تاریخ الثقات برقم ۱۶۵۸)
(۲)۔۔۔۔امام ابن نمیر رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۴ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(الجرح والتعدیل برقم ۶۳۶)
(۳)۔۔۔۔امام ابوالحسن دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (تاریخ بغداد ج۱۳، ص۳۶ برقم ۶۹۹۰)
(۴)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں : ‘‘ ثقۃ زاھد مصنف۔ الشیخ الامام الثقۃ ’’(الکاشف برقم ۵۶۹۲سیراعلام النبلاء:بر قم ۱۵۵۵)
(۵)۔۔۔۔حافظ ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۰ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ صاحب حدیث ’’(تذکرہ الحفاظ برقم ۳۷۵)
(۷)عافیہ بن یزید رحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۰ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابوزکر یایحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ لکھتے ہیں: ‘‘ کان فقیھاً دیناً صالحاً ’’ (النجوم الزاھرۃ ج۲،ص۱۰۰)
(۲)۔۔۔۔امام ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ مامون ’’(تہذیب الکمال برقم ۳۰۳۳)
(۳)۔۔۔۔امام ابوبکر خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ کہتے ہیں:‘‘ کان عالماً زاھدً ا ’’(تاریخ بغداد برقم ۶۷۰۵)
(۴)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ کہتے ہیں: ‘‘ احدالاعلام۔کان من العلماء العاملین ومن قضاۃ العدل ’’(تاریخ الاسلام برقم ۱۸۸ ،سیر اعلام برقم ۱۴۵)
(۵)۔۔۔۔امام ابوعبدالرحمن نسائی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(عمل الیوم واللیلۃ برقم ۵۵۷)
(۶)۔۔۔۔امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ م ۷۷۴ھ کہتے ہیں: ‘‘ کان عافیۃ عابدًازاھدًا ورعاً ’’(البدایہ والنھایہ ج۱۰،ص۱۸۹)
(۸)امام ابوالحکم زید بن ابی الشعثاء رحمۃ اللہ علیہ
(۱)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(الکاشف ج۱،ص۴۱۷برقم ۱۷۴۱)
(۲)۔۔۔۔حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۴ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(کتاب الثقات برقم ۲۷۵۱)
تنبیہ:تاریخ بغداد (برقم ۶۷۵۲) کے مطبوعہ نسخہ میں اس حدیث کی سند میں ‘‘الحکم’’ لکھا ہوا ہے ، اور غالباً لفظ ‘‘ابو’’ سہوً ا چھوٹ گیا ہے، دراصل صحیح ‘‘ابوالحکم’’ ہی ہے۔
خلاصۃالتحقیق:
مذکورہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس روایت کی سند کے محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے علاوہ تمام راوی ثقہ وصدوق ہیں، اور محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ مختلف فیہ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ(جن کو زبیر علی زئی غیر مقلدنے التحقیق الراسخ کے حوالے سے جرح وتعدیل کا بہت بڑا امام قرار دیا ہے۔ نور العینین ص ۱۶۷) امام ابوالحسن نور الدین الہیثمی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰۷ھ، حافظ ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ م ۷۷۴ھ وغیرہم اور علماء غیر مقلدین کے بقول حسن درجہ کاراوی ہے، لہٰذا اس روایت کی سند حسن درجہ کی ہے۔
حدیث نمبر۹: بحوالہ تاریخ اصبہان
‘‘حدثنا القاضی ابواحمد محمد بن احمد بن ابراھیم، حدثنی محمد بن جعفربن محمد، ثنارجاء بن صھیب، سمعت الحسین بن حفص، عن ابی یوسف، وعن ابن ابی لیلی، عن الحکم، عن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ، عن البراء قال: رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حین افتتح الصلاۃ کبرحتیٰ رایت ابھامیہ حذاء اذنیہ، ثم لم یرفعھما حتیٰ سلم ’’
ترجمہ:سیدنا براء بن عازب (رضی اللہ عنہ)کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی تو ‘‘اللّٰہ اکبر’’ کہا حتیٰ کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے برابر کیا (یعنی رفع یدین کیا) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری نماز میں رفع یدین نہیں کیایہاں تک کہ سلام پھیر دیا۔ (تاریخ اصبھان۔ اخبار اصبھان ج۱، ۳۷۰)
سند کی تحقیق:
اس حدیث کی سند کے راویوں کی ثناء و مدح اور تعدیل وتوثیق کے حوالے حاضر ہیں۔
(۱)امام ابونعیم الاصبہانی رحمۃ اللہ علیہ م۴۳۰ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابوبکر احمدبن علی خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الزاھد من اھل اصبھان، تاج المحدثین واحد اعلام الدین ومن جمع اللہ لہ فی الراوایۃ والحفظ والفھم والدرایۃ۔۔۔۔الخ۔’’(تاریخ بغداد برقم۳۵)
(۲)۔۔۔۔علامہ ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ م ۶۸۱ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الحافظ المشھور۔۔۔۔ کان من الاعلام المحدثین واکابرالحفاظ الثقات ’’(وفیات الاعیان ج۱،۹۱ برقم ۳۳)
(۳)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ کہتے ہیں: ‘‘ الحافظ الکبیر محدث العصر۔ الامام الحافظ الثقۃالعلامۃ شیخ الاسلام ’’(تذکرۃ الحفاظ برقم ۹۹۳ ،سیراعلام النبلاء برقم ۳۹۳۲)
(۴)۔۔۔۔علامہ صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۴ھ لکھتے ہیں:‘‘تاج المحدثین واحد اعلام الدین لہ ’’(الوافی بالوفیات ج۷ ،ص ۵۲برقم ۳)
(۵)۔۔۔۔علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۷۱ھلکھتے ہیں:‘‘ الامام الجلیل الحافظ الجامع بین الفقہ -85 فی الحفظ والضبط ’’ (طبقات الشافعیۃ الکبری برقم ۲۵۴)
(۲)ابواحمد محمد بن احمد العسال رحمۃ اللہ علیہ م ۳۴۹ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابوعبداللہ ابن مندہ رحمۃ اللہ علیہ م ۳۹۵ھ کہتے ہیں: ‘‘ کتبت عن الف شیخ لم ارفیھم اتقن من ابی احمد العسال ’’(تاریخ بغداد ج۱،ص ۲۸۶، برقم ۱۰۶)
(۲)۔۔۔۔امام ابونعیم الاصبہانی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۳۰ھ کہتے ہیں:‘‘ کان من کبارالناس فی الحفظ والاتقان والمعرفۃ ’’ (تاریخ بغداد برقم ۱۰۶)
(۳)۔۔۔۔حافظ قاسم بن قطلوبغارحمۃ اللہ علیہ م۸۷۹ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(الثقات ممن لمیقع فی الکتب الستۃ برقم ۹۲۷۱)
(۴)۔۔۔۔امام ابومحمد عبداللہ بن محمد المعروف ابوالشیخ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ‘‘ من کبارالناس فی العلم والاتقان والحفظ والمعرفۃ ’’ (طبقات المحدثین باصبہان ج۴،ص۲۲۷)
(۳)ابوبکر محمد بن جعفر الاشعری القزاز الملحمی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۷ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابونعیم الاصبہانی رحمۃ اللہ علیہ م۴۳۰ھ لکھتے ہیں:‘‘ شیخ کثیر الحدیث ثقۃ ’’ (تاریخ اصبہان برقم ۱۵۳۵)
(۲)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ کثیرالحدیث ’’(تاریخ الاسلام برقم ۳۴۶)
(۴)رجاء بن صہیب رحمۃ اللہ علیہ الجرواء انی م ۲۵۱ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابونعیم الاصبہانی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۳۰ھ کہتے ہیں: ‘‘ کان من افاضل اصبھان مجاب الدعوۃ۔احدالمعرضین عن الدنیا الراحلین عنھا ’’(تاریخ اصبہان ج۱،ص ۳۷۰،حلیۃ الاولیاء ج۱۰،۳۹۲)
(۲)۔۔۔۔امام ابو محمد عبداللہ بن محمد ابوالشیخ الاصبھانی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۹ھ نقل کرتے ہیں:‘‘ انہ لم یکن باصبھان افضل منہ ’’(طبقات المحدثین باصبھان برقم۱۹۹)
(۳)۔۔۔۔حافظ ابن نقطہ الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۲۹ھ کہتے ہیں: ‘‘ انہ کان مستجاب الدعوۃ ’’(اکمال الاکمال ج۲،۶۸۳، برقم ۲۸۰۹)
(۴)۔۔۔۔امام اسماعیل ابن محمد القرشی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۳۵ھ کہتے ہیں: ‘‘ احدالزاھدین ’’(سیرالسلف الصالحین ج۱۔ص۱۱۳۱۳)
(۵)ابومحمد حسین بن حفص الہمدانی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۱۲ھ
(۱)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ نبیل۔ الامام الثقۃ الجلیل الفقیہ الاوحد ’’(تاریخ الاسلام برقم ۹۰، سیراعلام النبلاء برقم۹۰)
(۲)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ کہتے ہیں:‘‘ صالح محلہ الصدق ’’
(۳)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘‘ صدوق ’’(تقریب برقم ۱۳۱۹)
(۶)قاضی ابویوسف یعقوب بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۲ھ
(۱)۔۔۔۔امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ۔ ولااثبت من ابی یوسف۔ حسن الحدیث ولیس لہ بحث۔ صاحب حدیث وصاحب سنۃ ’’۔ (الانتقاء ص ۱۷۲، لسان المیزان ج۶ص۳۹۰، الکامل ج۸، ص۴۶۶، تاریخ بغداد ج۴ص۲۶۰، اخبار القضاۃ ص ۶۵۱، تذکرۃ الحفاظ ج۱،ص۲۱۴)
(۲)۔۔۔۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱ھ کہتے ہیں: ‘‘ صدوق۔ وکان منصفاً فی الحدیث ’’(الجرح والتعدیل ج۹ص۲۰۱ ،تاریخ بغداد ج۱۴،ص۲۶۱)
(۳)۔۔۔۔امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۰۴ھ کہتے ہیں: ‘‘ وکان صدوقا ’’(تاریخ بغداد ج۱۴،ص۲۵۷)
(۴)۔۔۔۔امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ ابویوسف ثقۃ ’’(لسان المیزان ج۶،ص۳۹۰)
(۵)۔۔۔۔حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۴ھ کہتے ہیں: ‘‘ وکان شیخا متقناً۔ من الفقھاء المتقنین ’’(لسان المیزان ج۶،ص۳۹۰ ،مشاہیر علماء الامصار ص ۲۷۰)
(۶)۔۔۔۔امام محمد بن صباح الجرحرائی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۰ھ کہتے ہیں: ‘‘ کان ابویوسف رجلاً صالحا ’’(لسان المیزان ج۶،ص۳۹۰)
(۷)۔۔۔۔امام عمروبن محمد الناقد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۲ھ کہتے ہیں: ‘‘ فانہ کان صاحب سنۃ ’’ (تاریخ بغداد ج۱۴،۲۵۵)
(۸)۔۔۔۔حافظ ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۶ھ لکھتے ہیں: ‘‘ فلاباس بہ ولابروایتِہ ’’ (لسان المیزان ص ۳۹۰، ج ۶)
(۹)۔۔۔۔امام ابوبکر بیہقی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۵۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ وابویوسف ثقۃ ’’ (السنن الکبریٰ ج۱ص۳۴۷)
(۱۰)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ کہتے ہیں: ‘‘ الامام المجتھدالعلامۃ المحدث۔ حسن الحدیث ’’(سیراعلام النبلاء ج۸،ص۵۳۸ حاشیۃ المستدرک ج۱،۵۳۳)
(۱۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م۳۸۵ھکہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ حافظ ’’(ملخصاً: نصب الرایہ ج۱، ص ۴۰۸)
(۱۲)۔۔۔۔امام علی بن صالح بن حئ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۵۴ھ کہتے ہیں: ‘‘ فقیہ الفقہاء وقاضی القضاۃوسیدالعلماء ’’(اخبارابی حنیفۃواصحابہ ص ۱۰۰)
(۱۳)۔۔۔۔امام ابن شاہین رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(تاریخ اسماء الثقات ص ۳۳ برقم ۱۶۵۷)
(۱۴)۔۔۔۔امام ابو سعد السمعانی رحمۃ اللہ علیہ م۵۲۶ھکہتے ہیں :‘‘ وکان متقناً ’’(کتاب الانساب :ج۱ص۱۹۹)
(۱۵)۔۔۔۔امام ابویعلی الخلیلی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۴۶ھ کہتے ہیں: ‘‘ صدوق فی الحدیث ’’ (الارشاد ص ۱۳۸)
نوٹ: مذکورہ حدیث کے باقی راویوں کا ماقبل میں تذکرہ گزر چکا ہے۔
خلاصۃ التحقیق:
مذکورہ تحقیق سے معلوم ہواکہ اس حدیث کی سند کے تمام راوی فی نفسہ ثقہ و صدوق ہیں اور اس کی سند بلاغبار صحیح ہے۔ اس سند میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ پر بھی اعتراضات کی مشین نہیں چل سکتی، کیونکہ امام المحدثین والفقھاء قاضی ابویوسف یعقوب بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ جیسے ثقہ بالا جماع محدث نے اس سند میں اس کی متابعت تامہ کر رکھی ہے، مزید یہ کہ اس سند میں یزید بن ابی زیاد القرشی الھاشمی رحمۃ اللہ علیہ بھی نہیں ہے، لہٰذا اس روایت کی سند بلاغبار صحیح ہے اور اس روایت نے فریق مخالف کے احادیث براء بن عازب رضی اللہ عنہ پر تمام اعتراضات کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔
الحاصل:
قارئین: مذکورہ تحقیق سے یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ ترک رفع یدین کے متعلقہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی احادیث اصول حدیث کی روشنی میں بالکل صحیح و قابل اعتبار ہیں اور ان پر تمام اعترضات اصول حدیث کی روشنی میں باطل و مردود اور محض مسلکی تعصب کی پیداوار ہیں۔اللہ تعالیٰ فریق مخالف کو حق بات بلاچوں و چراں قبول کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اور اللہ تعالیٰ ہماری اس کاوش کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین
‘‘ وصلی اللہ تعالیٰ علٰی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
برحمتک یا ارحم الراحمین۔
نیاز احمد غفرلہ
ڈاکخانہ بھومن شاہ تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ
---------------------------------------------------------------------------
مسئلۂ ترکِ رفع یدین پر یہ ایک نہایت معروف اور مستند کتاب ہے۔ کتاب تسکین العینین کو ہم یونی کوڈ متن کی صورت میں، قسط وار (ہر پوسٹ کی شکل میں) آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، تاکہ مطالعہ مزید آسان ہو سکے۔
اگر قارئین اس کتاب کو PDF کی صورت میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں تو یہ کتاب ہماری موبائل ایپلیکیشن دفاعِ احناف لائبریری میں دستیاب ہے۔
مسئلۂ ترکِ رفع یدین سے متعلق تمام قسطیں ایک ہی لنک کے تحت پوسٹ وائز ترتیب کے ساتھ دستیاب ہیں، جہاں سے آپ آسانی سے مکمل سلسلہ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
---------------------------------------------------------------------------
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں