غیرمقلدین کے دعویٰ عمل بالقرآن کی حقیقت رب نواز بھٹی صاحب (قسط:۱۱) (بہ سلسلہ غیرمقلدین قرآن وسنت کی کسوٹی پر ) غیرمقلدین کے دعویٰ عمل بالقرآن کی حقیقت مأخوذ مجلّہ راہِ ہدایت شُمارہ نمبر 36 بھینس بھیمیةالانعام میں شامل ہے اور نہیں بھی خرم شہزاد محمدی غیرمقلد لکھتے ہیں: ’’مذکورہ آیت سے معلوم ہوا کہ ’ ’ بھیمیةالانعام‘‘ سے مراد اونٹ(نرو مادہ ) ، گائے (نرو مادہ ) ، بکری (نر و مادہ ) اور بھیڑ ( نر و مادہ ) ہیں اور انہیں کی قربانی کرنی چاہیے اور بھینس ان چار قسم کے جانور وں میں سے نہیں ہے ۔‘‘ ( کیا خصی جانور کی قربانی سنت ہے ؟ صفحہ ۶۲ ، ناشر:مکتبۃ التحقیق والتخریج ، اشاعت اول جنوری ؍۲۰۱۷ء) خرم صاحب نے یہاں صراحۃً کہا کہ بھینسیں ’ ’ بھیمیةالانعام ‘‘میں شامل نہیں ہے ۔ مگر اسی ہی صفحہ پر جب بھینس کے حلال ماننے کی بات آئی تو اسے ’ ’ بھیمیةالانعام ‘‘ میں شامل مان لیا۔چنانچہ انہوں نے لکھا: ’’ بعض الناس کا یہ کہنا کہ (جاموس ) بھینس کو صرف فقہ حنفیہ نے حلال قرار دیا ہے ۔ اُن کا یہ قول باطل ہے ۔ ’ ’ بھیمیةالانعام‘‘ کے عموم می...