نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اپریل, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

جوزجانی ناصبی کی ائمہ احناف رحمہم اللہ پر جرح کا علمی رد

  جوزجانی ناصبی کی ائمہ احناف    رحمہم اللہ  پر جرح کا علمی رد ابو اسحاق جوزجانی کا شمار ان نقادین میں ہوتا ہے جن کے قلم سے کوفہ کے ائمہ کے حق میں صرف زہر ہی نکلا ہے۔ اس نے اپنی کتاب "احوال الرجال" میں ائمہ احناف رحمہم اللہ کے متعلق جو یہ نازیبا کلمات کہے کہ «قد فرغ الله منهم» (اللہ ان سے فارغ ہو چکا ہے)، یہ جرح علمِ اسماء الرجال کے میزان پر قطعی مردود اور باطل ہے۔ ٩٦ - أسد بن عمرو ٩٧ - وأبو يوسف ٩٨ - ومحمد بن الحسن ٩٩ - واللؤلؤي قد فرغ الله منهم   (أحوال الرجال ص ١٢٠ ، الكامل في ضعفاء الرجال ٢/‏٨٣) جواب :    امام ابن حجر عسقلانیؒ   نے صراحت فرمائی ہے کہ جوزجانی کا دل اہل کوفہ اور حبِ علیؓ رکھنے والوں کے خلاف بغض و عصبیت سے لبریز تھا، لہٰذا اس کی ایسی جرح  ناقابلِ قبول ہے  (لسان الميزان 1/16) ۔  قارئین دیکھیں :    "النعمان سوشل میڈیا سروسز"    کی ویب سائٹ پر موجود اعتراض نمبر 20 : محمد بن جابر اليمامى نے کہا کہ ابو حنیفہ نے مجھ سے حماد کی کتابیں چوری کیں ۔ اعتراض نمبر 21 : ابو حنیفہ ج...

امام ابو یوسفؒ کی وفات پر ایک شاعر کی طرف سے ہجو اور اس کا علمی جائزہ

امام ابو یوسفؒ کی وفات پر ایک شاعر کی طرف سے ہجو اور اس کا علمی جائزہ دینِ اسلام کے درخشندہ ستارے  قاضی القضاۃ امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری رحمہ اللہ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ وہ جلیل القدر فقیہ ہیں جنہوں نے تدوینِ فقہ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، تاریخ کے اوراق میں بعض ایسی روایات بھی در آئی ہیں جن میں حاسدین یا معاندین کی زبان درازیوں کو جگہ ملی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم ان اشعار اور ان سے متعلقہ روایات کا اصولِ جرح و تعدیل کی روشنی میں محاکمہ کریں گے۔ روایت کا متن اور اس کا ادبی و فکری پس منظر ابن ابی کثیر (مولیٰ بنی الحارث) نامی شاعر کی جانب منسوب یہ اشعار امام ابو یوسفؒ کی وفات پر کہے گئے: أخبرنا القاضي أبو عبد الله الصيمري، أخبرنا محمّد بن عمران المرزباني، أخبرنا محمّد بن الحسن بن دريد ، أخبرنا السّكن بن سعيد عن أبيه عن هشام بن محمّد الكلبيّ قال: قال ابن أبي كثير، مولى بني الحارث بن كعب- من أهل البصرة- يرثي أبا يوسف القاضي: سقي جدثا به يعقوب أضحى … رهينا للبلى هزج ركام تلطف بالقياس لنا فأضحت … حلالا بعد شيعتها المدام فلولا أن قصدن له المنايا … وأعجله عن...

القولُ الحَسَنُ في الذَّبِّ عن إمامِ الزَّمَنِ عمّا أورده الإمامُ أبو الحسن صاحبُ السُّنَن : دفاعِ امام ابو یوسف رحمہ اللہ: امام دارقطنی کی جرح کا علمی و تحقیقی محاکمہ

القولُ الحَسَنُ في الذَّبِّ عن إمامِ الزَّمَنِ عمّا أورده الإمامُ أبو الحسن صاحبُ السُّنَن دفاعِ امام ابو یوسف رحمہ اللہ: امام دارقطنی کی جرح کا علمی و تحقیقی محاکمہ الحمد للّٰہ ربّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ امامِ اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ   کے گلستانِ علم کے خوشہ چینوں میں امام قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ وہ آفتابِ نیم روز ہیں جنہوں نے فقہِ حنفی کی تدوین و ترویج میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کی ثقاہت اور عظمتِ کردار پر امت کا سوادِ اعظم متفق ہے، مگر افسوس کہ بعض ناقدین کی کج فہمی یا مسلکی تصلب کی بنا پر ان کی ذات پر رکیک حملے کیے جاتے ہیں۔ امام دارقطنی کے اقوال  ذیل میں امام دارقطنی رحمہ اللہ کی جانب سے کی گئی تنقید کا علمی، منصفانہ اور مدلل جائزہ پیش کیا جاتا ہے  : • قال البَرْقانِيّ: سألت الدَّارَقُطْنِيّ عن أبي يوسف، صاحب أبي حنيفة. فقال: هو أقوى من محمد بن الحسن. (٥٦٧) برقانی کہتے ہیں کہ میں نے دارقطنی سے امام ابو حنیفہ کے صاحب (شاگرد) ابو یوسف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: "وہ محمد بن حسن سے قوی ہیں۔" • وقال ا...