نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام ابو یوسفؒ کی وفات پر ایک شاعر کی طرف سے ہجو اور اس کا علمی جائزہ




امام ابو یوسفؒ کی وفات پر ایک شاعر کی طرف سے ہجو اور اس کا علمی جائزہ

دینِ اسلام کے درخشندہ ستارے  قاضی القضاۃ امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری رحمہ اللہ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ وہ جلیل القدر فقیہ ہیں جنہوں نے تدوینِ فقہ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، تاریخ کے اوراق میں بعض ایسی روایات بھی در آئی ہیں جن میں حاسدین یا معاندین کی زبان درازیوں کو جگہ ملی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم ان اشعار اور ان سے متعلقہ روایات کا اصولِ جرح و تعدیل کی روشنی میں محاکمہ کریں گے۔

روایت کا متن اور اس کا ادبی و فکری پس منظر

ابن ابی کثیر (مولیٰ بنی الحارث) نامی شاعر کی جانب منسوب یہ اشعار امام ابو یوسفؒ کی وفات پر کہے گئے:

أخبرنا القاضي أبو عبد الله الصيمري، أخبرنا محمّد بن عمران المرزباني، أخبرنا محمّد بن الحسن بن دريد، أخبرنا السّكن بن سعيد عن أبيه عن هشام بن محمّد الكلبيّ قال: قال ابن أبي كثير، مولى بني الحارث بن كعب- من أهل البصرة- يرثي أبا يوسف القاضي:

سقي جدثا به يعقوب أضحى … رهينا للبلى هزج ركام

تلطف بالقياس لنا فأضحت … حلالا بعد شيعتها المدام

فلولا أن قصدن له المنايا … وأعجله عن الفطر الحمام

لأعمل في القياس الرأى حتى … يعز على ذوي الريب الحرام

شاعر قاضی ابو یوسفؒ پر طنز (ہجو) کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس قبر پر موسلا دھار بارش برسے جہاں یعقوب (ابو یوسف) مٹی میں دبے پڑے ہیں۔ انہوں نے اپنی فقہی باریک بینی اور قیاس کے ذریعے (نبیذ جیسی) پینے والی چیزوں کو اپنے پیروکاروں کے لیے حلال کر دیا تھا۔ اچھا ہوا کہ موت نے انہیں جلدی آ لیا، ورنہ اگر وہ کچھ دیر اور زندہ رہتے تو قیاس اور اپنی رائے کا استعمال اس حد تک بڑھا دیتے کہ پھر شک کرنے والوں کے لیے بھی کسی حرام چیز کو "حرام" ثابت کرنا ناممکن ہو جاتا۔یعنی شاعر کے نزدیک قاضی صاحب نے عقلی دلائل اور قیاس کے ذریعے دین کی پابندیوں کو (معاذ اللہ) ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔

(أخبار أبي حنيفة وأصحابه ١/‏١٠٧ ، تاريخ بغداد - ط العلمية ١٤/‏٢٦٣)


جواب:  

سندِ روایت

جب ہم اس روایت کی اسناد کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو علمی دیانت کا خون ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس روایت کی بنیاد ہی ایسے راویوں پر ہے جو فنِ حدیث اور نقدِ رجال میں "متروک" یا "ضعیف" کہلائے گئے۔ سند میں  موجود محمد بن الحسن بن درید ابو بکر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: قال الدارقطني: تكلموا فيه۔ [المغني في الضعفاء (٢/ ٢٨٦)]

اسی طرح السَّكَن بن سعيد مجہول ہیں۔ 
السَّكَن بن سعيد شيخُ البزَّار؛ وقال الهيثمي: «لم أعرفْه» (المجمع ١١٨٠٥). وكذا قال الألباني في (الضعيفة ١١/ ٨٠٦).

مزید برآں اس سند میں ہشام بن محمد بن السائب الکلبی بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں محدثین نے نہایت سخت کلام کیا ہے۔ ان کے بارے میں اقوال ملاحظہ ہوں:
قال ابن معين: غير ثقة، وليس عن مثله يُروى الحديث،
وقال أحمد بن حنبل: إنما كان صاحب سمر ونسب، ما ظننت أن أحدًا يحدث عنه،
وقال الدارقطني وغيره: متروك،
وقال ابن عساكر: رافضي ليس بثقة،
وذكره العقيلي، وابن الجارود، وابن السكن، وغيرهم في الضعفاء۔
اہـ۔ من الكامل (٧/ ٢٥٦٨)، والميزان (٤/ ٣٠٤ رقم ٩٢٣٧)، واللسان (٦/ ١٩٦ - ١٩٧ رقم ٧٠٠)۔

معلمی اور امام زاہد الکوثریؒ کے نتائجِ تحقیق کا تقابل

 معلمی یمانی، جو بالعموم احناف کے تئیں اپنے قلم کی تیزی اور نقد و جرح میں شدت کے لیے معروف ہیں، انہوں نے بھی اپنی کتاب 'التنکیل' میں ہشام بن محمد الکلبی پر کلام کرتے ہوئے ایک مکمل صفحہ سیاہ کر دیا ، معلمی یمانی کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ مسائل کو طول دے کر ایسی بحثیں چھیڑتے ہیں جو بسا اوقات غیر ضروری معلوم ہوتی ہیں، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طویل مسافت اور گردِ راہ کے بعد وہ جس نتیجے پر پہنچے، وہ حرف بہ حرف وہی تھا جو محدثِ عصر امام زاہد الکوثریؒ پہلے ہی بیان فرما چکے تھے۔ معلمی یمانی نے بالآخر اپنی طویل بحث کا اختتام ان الفاظ پر کیا: "الکلبی ویسا ہی ہے جیسا اس کے بارے میں کہا گیا ہے۔" (التنکیل - ضمن «آثار المعلمی» ۱۰/ ۸۴۳)

 یہ ایک لطیف تضاد ہے کہ معلمی صاحب اتنے طویل علمی سفر اور بحث و تکرار کے بعد اسی سنگِ میل پر کھڑے نظر آتے ہیں جہاں امام کوثریؒ پہلے سے موجود تھے۔ گویا حق کی قوت مخالف کو بھی گھوم پھر کر اسی مرکز پر آنے پر مجبور کر دیتی ہے جس کی نشان دہی ایک بیدار مغز حنفی عالم پہلے ہی کر چکا ہو۔

لسان المیزان اور محققِ عصر شیخ عبد الفتاح ابو غدہؒ کی جاندار تنقید

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے اپنی کتاب ’لسان المیزان‘ میں ابراہیم بن سیار النظام (جو ایک بدنامِ زمانہ معتزلی اور متہم بالزندقہ تھا) کے اشعار نقل کیے۔ اس پر جلیل القدر محقق شیخ عبد الفتاح ابو غدہ رحمہ اللہ نے جو گرفت فرمائی ہے، وہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔

وقال الشيرازي في «الألقاب»: سمعت عبد الملك بن محمد الرَّامُشِي يقول: لما دُفن أبو يوسف، وقف النظام على قبره فقال:

سقى جَدَثًا به يعقوبُ أمسى … من الوَسْمِيِّ مُنْبَجِسٌ رُكامُ

تلطَّف في القياس لنا فأضحت … حلالًا بعد حُرمتها المُدَامُ

ولولا أن مُدَّته تقضَّت … وعاجَلَه بميتته الحِمَامُ

لأَعْمل في القِياس الفِكْرَ حتى … تَحِلُّ لنا الخريدةُ والغلامُ (١)

(١) غريبٌ جدًّا من مثل الحافظ ابن حجر رحمه الله تعالى أن يَستَرْوِحَ إلى ذكر أشعار إبراهيم بن سيّار النظّام الباهتة، في الطعن على إمام من أئمة المسلمين وقاضي قضاتهم، وابنُ حجر نفسُه ترجم للنظام مُستدرِكًا على الذهبي في الجزء الأول من هذا الكتاب برقم [١٦٠]، وقال: «من رُؤوس المعتزلة، مُتَّهمٌ بالزندقة» ونَقَل عن ابن قتيبة قولَه في النظّام: «كان شاطرًا من الشُّطّار، مشهورًا بالفسق»، وأنه "عَابَ على أبي بكر وعلي وابن مسعود -رضي الله تعالى عنهم- الفتوى بالرأي مع ثبوت النقل عنهم في ذمِّ القول بالرأي«، ونَقَل عن أبي العباس ابنِ القاصِّ:»كان -أي النطام- أشدَّ الناس إزراءً على أصحاب الحديث«.

وترجم للنظام هذا الإِمامُ أبو منصور البغدادي في»الفَرْق بين الفِرَق«ص ٧٩ - ٨٠، وقال:»وقد قال بتكفيره أكثرُ شيوخ المعتزلة، منهم: أبو الهُذَيل -بنُ العلَّاف خالهُ- فإنه قال بتكفيره في كتابه المعروف بـ«الردّ على النظام»، ومنهم الجُبَّائي …، ومنهم الإِسكافي …، وأما كتُبُ أهل السنّةِ والجماعة في تكفيره فالله يُحصيها …«. انتهى.

فطعنُ مثل هذا لا يُقبَل في أقلّ الناس وأفسدِهم، ولكنّ الحافظ ابن حجر غفر الله له ينقلُ هِجاءَه في ترجمة قاضي قضاة المسلمين وإمامٍ جليل من أئمة الدين!! فهل هذا مقتَضَى استيفاءِ كُلِّ ما قيل في الرجل، ولو كان قائلُه متهَمًا بالزندقة ومكفَّرًا على لسان أهل طائفتِهِ وأقربِ الناس إليه من أهل نحلته، أم هذا هو أسلوب علم الجرح والتعديل الذي أسِّس لحفظ الدين لا للطعن في أئمة الدين وحُمَاتِه؟؟!!

وأضِفْ إلى ذلك أن الشِّيرازيَّ صاحبَ»الألقاب«المتوفى سنة ٤٠٧، والمولود في حدود سنة ٣٤٠ - كما يظهر بالنظر في طبقة شيوخه- شيخُه عبدُ الملك بن محمد الرَّامُشِي- ولم أجد له ترجمة فيما رجعتُ إليه -لا يمكن أن يُدرِكَ وفاةَ القاضي أبي يوسف ودَفْنَه إلَّا إذا عُفَر مئتي سنةٍ فأكثرَ، إذ توفي القاضي أبو يوسف رحمه الله تعالى ببغداد عاصمة الخلافة سنة ١٨٢، ولم يُذكَر في الرواة غيرِ الصحابة والمخضرمين مَنْ عُمِّر مِئتَيْ سنة، على أنه لو عُمِّر الرامُشِي هذا التعميرَ المدهش لكان معروفًا ومشهورًا، لا مغمورًا لا توجد له ترجمة، فالرامُشي لم يدرك الواقعة بتاتًا، وإنما أرسلها إرسالًا، وكَفَى بذلك ضعفًا للخبر. 

بل إن النظّام أيضًا لم يُدرك وفاةَ القاضي أبي يوسف ودَفْنَه، على ما قاله ابن نُباتَة في»سَرْح العيون في شرح رسالة ابن زيدون" ص ٢٩٩ من أن النظام توفي سنة ٢٢١ عن ٣٦ سنة، فمولدُه إذًا سنة ١٨٥ بعد وفاة القاضي أبي يوسف

بثلاث سنوات، فكيف يصحّ خَبَرُ الرَّامُشِي أنه لمّا دُفِن أبو يوسف قام النظّام على قبره؟

نعم رجَّح الدكتور محمد عبد الهادي أبو رِيْدَة في كتابه «إبراهيم بن سيّار النظّام وآراؤه الكلامية الفلسفية» ص ٣ - ٦ أن يكون مولدُه في حدود سنة ١٦٠، فلو صحّ هذا لكان النظّام عند وفاة أبي يوسف ابنَ نحو ٢٠ سنة، فمن الممكن عقلًا أنه كان وقتئذٍ ببغداد -علمًا أن النطام بَصْرِيّ- وأدرك دفن أبي يوسف (؟) فقال تلك الأبيات الفاجرة، ولكن شاهدَ العادة يُكذّب الخَبَرَ.

فإنّ أبا يوسف إمام من أئمة الدين، وقاضي قضاةِ المسلمين، قاضي الخليفة هارون الرشيد، ولمّا أخرجت جنازته جعل الناس يقولون: مات الفقه، مات الفقه. كما رواه الإمام الطحاوي بسنده، فلو أن النطام -وهو حَدَث بعدُ- خالَفَ الناسَ وهجا قاضي الخليفة هارون الرشيد، قاضي قُضاة المسلمين في عاصمة الخلافة قائمًا على قبرِه، من غير أن يَعتَبِرَ من ذلك الموقف الرهيب الذي يَحُضُّ الناسَ على أن يفكّروا في أمرِهم وفيما قدّموا لغَدِهم، وأنهم يومًا صائرون إلى هذا المصير: لما تركه الناس يَهرِفُ بهذا الهُراء، بل نالوه بالتأديب والقَمْع، ورفعُوا أمره إلى الخليفة وعُزِّر تعزيرًا عنيفًا.

فهذا مما يؤكّدُ وَهْنَ الخَبَر ووَهَاءَه زيادةً إلى انقطاعه، والحافظ ابنُ حجر رحمه الله تعالى غَفَل من جميع عِلَّاتِ الخَبَر وأدخله في كتابه، وجعله خاتمةً لترجمة إمام من أئمة المسلمين، فبئست الخاتمة هي!!

وليس من شأن ابن حجر حَشْدُ كلِّ تالفٍ ومنكَرِ من القول بدون نقده، فانظر ترجمة كلّ من أحمد بن طارق الكَرَكي، ورِزْقِ الله بن الأسود، وعثمان بن أحمد الدقّاقِ أبي عَمْرو بنِ السَّمَّاك، وعلي بن صالح الأنماطي، ومحمد بن إسماعيل بن سعد بن أبي وقاص، وغيرِهم، تراه ينتقدُ على أمور هيِّنة جدًّا نظرًا إلى ما ساقه هنا عن مثل النطام في قاضي قضاة المسلمين في تلك العصور الزّاهرة، فهل السكوتُ هنا عن إنكار هذا الخبر المنكر الباطل لكون المُتَرْجَم حنفيًّا؟ الله أعلم.

وأين صنيعُه هذا من عمل شيخ شيوخه الحافِظ الذهبي الذي شهِدَ له هو بأنه

من أهل الاستقراء التامّ في نقد الرجال؟! فقد أفرد الذهبيُّ في مناقب الإِمام أبي يوسف «جزءًا»، وترجم له في «تذكرة الحفاظ» وطوَّل ترجمتَه في «السِّير» ووصفه بالامام المجتَهد، العلّامة المحدِّث، قاضي القضاة …، وشحن الترجمة بنقلِ ثناءِ الأئمة عليه، ولم ينقل من الجَرْح حَرْفًا، وترجم له في «الميزان» -وقد ألّفه قبل «السِّير»- وعقبَ الجرح بالثناء والتوثيق، ولن تراه يمرُّ على مثل هذا الهُرَاء ولا يَهتِكُه.

فهذا ما يليق بحافظٍ أن يتجمَّل به، ويُنَزِّه نفسَه عن الاستِرْواح بنقل كلِّ منكرٍ وتالفٍ، سيّما إذا كان فيه غَمْز بأئمةِ الدّين، ولكن لله في خلقه شؤون!!

(١) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر محدث سے یہ بات نہایت عجیب محسوس ہوتی ہے کہ انہوں نے ابراہیم بن سیار النظام جیسے شخص کے بے ہودہ اشعار کو ایک ایسے امام کے خلاف نقل کیا جو ائمۂ مسلمین میں سے ہیں اور قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز رہے۔ حالانکہ خود ابن حجرؒ نے اسی کتاب کے پہلے حصے میں (رقم ١٦٠) النظام کا ترجمہ کرتے ہوئے اسے معتزلہ کے سرکردہ لوگوں میں شمار کیا اور یہ بھی کہا کہ وہ زندقہ کا متہم ہے۔

مزید یہ کہ انہوں نے ابن قتیبہ کا قول بھی نقل کیا کہ: “وہ ایک شاطر اور بدکردار شخص تھا، فسق میں مشہور تھا”، اور یہ بھی ذکر کیا کہ اس نے حضرت ابو بکر، حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم پر رائے سے فتویٰ دینے کی وجہ سے اعتراض کیا، حالانکہ ان سے رائے کی مذمت بھی منقول ہے۔ اسی طرح ابو العباس ابن القاص کا قول بھی نقل کیا کہ: “وہ (نظام) اصحابِ حدیث پر سب سے زیادہ طعن کرنے والا تھا۔”

امام ابو منصور بغدادی نے بھی الفرق بين الفرق (ص ٧٩-٨٠) میں النظام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ معتزلہ کے اکثر مشائخ نے اسے کافر قرار دیا، جن میں اس کا ماموں ابو الہذیل بن العلاف بھی شامل ہے، جس نے اپنی کتاب “الرد على النظام” میں اس کی تکفیر کی۔ اسی طرح جبائی اور اسکافی وغیرہ نے بھی اس کی تکفیر کی، اور اہلِ سنت کی کتابوں میں اس کی تکفیر کے اقوال بے شمار ہیں۔

ایسے شخص کا طعن تو کسی ادنیٰ انسان کے بارے میں بھی قابلِ قبول نہیں، چہ جائیکہ ایک جلیل القدر امام اور قاضی القضاۃ کے بارے میں ہو۔ لیکن افسوس کہ حافظ ابن حجرؒ نے اس کے ہجویہ اشعار کو امام ابو یوسفؒ کے ترجمہ کے آخر میں نقل کر دیا۔ کیا یہ ہر قول کو جمع کرنے کا تقاضا ہے، چاہے کہنے والا زندقہ کا متہم اور اپنی ہی جماعت کے نزدیک مردود ہو؟ یا یہ جرح و تعدیل کا وہ منہج ہے جو دین کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا؟

مزید برآں، اس روایت کی سند میں بھی سخت اشکالات ہیں۔ شیرازی (متوفی ٤٠٧ھ) اپنے شیخ عبد الملک بن محمد الرامشی سے نقل کرتے ہیں، مگر رامشی کا کوئی واضح تعارف نہیں ملتا، اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ وہ امام ابو یوسفؒ (وفات ١٨٢ھ) کی تدفین کے وقت موجود ہوں، کیونکہ اس کے لیے دو سو سال سے زائد عمر درکار ہوگی، جبکہ ایسے طویل العمر افراد کا ثبوت عام رواۃ میں نہیں ملتا۔ لہٰذا یہ روایت منقطع ہے، جو اس کے ضعف کے لیے کافی ہے۔

مزید یہ کہ خود ابراہیم بن سیار النظام بھی امام ابو یوسفؒ کی وفات کے وقت موجود نہیں تھا۔ ابن نباتہ کے مطابق (سرح العيون ص ٢٩٩) النظام ٢٢١ھ میں ٣٦ سال کی عمر میں فوت ہوا، جس سے اس کی پیدائش ١٨٥ھ بنتی ہے، یعنی امام ابو یوسفؒ کی وفات کے تین سال بعد۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ان کی تدفین کے وقت قبر پر کھڑا ہو کر اشعار پڑھے؟

اگرچہ بعض معاصرین نے اس کی پیدائش کو ١٦٠ھ کے قریب ماننے کی کوشش کی ہے، تب بھی یہ واقعہ قرائن کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے کہ امام ابو یوسفؒ ایک عظیم امام، قاضی القضاۃ، اور خلیفہ ہارون الرشید کے قاضی تھے۔ ان کے جنازہ کے وقت لوگوں کی کثرت تھی اور وہ کہہ رہے تھے: “آج فقہ مر گئی، آج فقہ مر گئی” جیسا کہ امام طحاوی نے روایت کیا۔ ایسے موقع پر اگر کوئی نوجوان کھڑا ہو کر اس طرح کی ہجو کرتا تو لوگ اسے ہرگز نہ چھوڑتے بلکہ اسے سخت سزا دی جاتی اور خلیفہ تک اس کی شکایت پہنچتی۔

یہ تمام قرائن اس بات کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ یہ روایت نہایت کمزور بلکہ بے بنیاد ہے۔ اس کے باوجود حافظ ابن حجرؒ کا اسے نقل کرنا محلِ تعجب ہے، خصوصاً جبکہ انہوں نے دیگر مقامات پر معمولی باتوں پر بھی نقد کیا ہے۔

اس کے برعکس ان کے استاذِ بزرگ حافظ ذہبیؒ کا طرزِ عمل دیکھنے کے لائق ہے، جنہوں نے امام ابو یوسفؒ کے مناقب پر مستقل جزء لکھا، تذكرة الحفاظ اور سیر أعلام النبلاء میں ان کا تفصیلی تذکرہ کیا، انہیں امام، مجتہد، علامہ اور محدث کہا، اور ان کے فضائل و مناقب سے ترجمہ کو مزین کیا، مگر ایسی کسی بے اصل اور منکر بات کو نقل تک نہیں کیا۔

یہی وہ طرزِ عمل ہے جو ایک محدث اور ناقدِ رجال کے شایانِ شان ہے کہ وہ ہر منکر اور بے بنیاد بات کو نقل کرنے سے اپنے آپ کو پاک رکھے، خصوصاً جب اس میں ائمۂ دین کی تنقیص کا پہلو نکلتا ہو۔ والله أعلم۔ (لسان الميزان - ت أبي غدة ٨/‏٥١٩)

حاصلِ بحث

یہ تمام روایات اور اشعار محض حسد، تعصب اور باطل فرقوں (جیسے معتزلہ اور غالی اہل تشیع) کی من گھڑت کہانیاں ہیں۔ امام ابو یوسفؒ کا مقام و مرتبہ ان بے ہودہ ہجوؤں سے کہیں بلند ہے۔ حافظ ابن حجرؒ جیسے اکابر سے ایسے مقامات پر تسامح ہوا ہے، جسے محققین نے واضح کر دیا ہے۔

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...