کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 11 : دوامِ رفع یدین کے قائلین کی طرف سے عوام میں پھیلائے گئے چند اہم شبہات کا ازالہ
کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 11 : دوامِ رفع یدین کے قائلین کی طرف سے عوام میں پھیلائے گئے چند اہم شبہات کا ازالہ چند شبہات کا ازالہ: اب آخر میں دوامِ رفع یدین کے قائلین کی طرف سے عوام میں پھیلائے گئے چند اہم شبہات (جن کو وہ اپنے بزعم بہت وزنی دلائل سمجھتے ہیں)کے جوابات ملاحظہ ہوں۔ شبہ نمبر۱: ﴿حدیث ابن عمر ؓسے دوام پر استدلال﴾ غیر مقلدین کی طرف سے دوامِ رفع یدین پر بطور دلیل درج ذیل روایت پیش کی جاتی ہے : عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالیٰ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ کَانَ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلوٰۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ وَاِذَا رَکَعَ وَاِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ وَکَانَ لَایَفْعَلُ ذٰلِکَ فِیْ السُّجُوْدِ فَمَازَالَتْ تِلْکَ صَلوٰتُہُ حَتّٰی لَقِیَ اللَّہَ تَعَالیٰ ۔رَوَاہُ الْبَیْہَقِیُّ ۔(آثار السنن : ۳۹۴) ٭٭ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے (ٍتو بھی رفع یدین کرتے)،اور سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔اسے بیہقی (مختصر الخلافیات:ص۷۶)نے روایت کیا ہے ...