کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 10 : باب سوم تابعین و تبع تابعین اور دیگر ائمہ محدثین و فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اور ترک رفع یدین
بسم اللہ الرحمنٰ الرحیم
کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 10 :
باب سوم
تابعین و تبع تابعین اور دیگر ائمہ محدثین و فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اور ترک رفع یدین
رئیس ندوی جھوٹ نمبر ۲۸:
قارئین کرام!الامام الثقہ حبیب الرحمن اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مقالہ‘‘تحقیق رفع یدین’’ میں لکھا تھا کہ: متعدد تابعین عظام اور اتباع تابعین صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ (ملخصاً: مجموعہ مقالات ج۳،ص۸۴) اس کے جواب میں اٰل غیرمقلدیت کا مفتی رئیس ندوی لکھتا ہے کہ:
‘‘ہم کہتے ہیں کہ دیو بند یہ اپنے اس بیان میں جھوٹے ہیں’’۔ (سلفی تحقیقی جائزہ:ص۲۹۲)
الجواب:
قارئین ! آپ وہ روایات ملاحظہ فرمائیں جن میں تابعین و تبع تابعین رحمہم اللہ کے صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی رفع الیدین کرنے کا ذکر ہے۔ جس سے فرقہ غیرمقلدیت کے متحقق رئیس ندوی صاحب کا جھوٹا ہونا اور محدث عظیم حبیب الرحمان اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کا سچا ہونا خود بخود واضح ہو جائے گا۔ ہاں البتہ باب کے عنوان کے پیش نظر تابعین و تبع تابعین کے علاوہ دیگر ائمہ محدثین و فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم کا بھی تذکرہ کیا جائے گا۔
(ثقہ تابعی) امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۶ھ اور ترک رفع یدین
امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ: مشہور فقیہ ، تابعی اور اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم تھے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۷۶ھ فرماتے ہیں:کہ ان کی توثیق، جلالت شان اور فقہی کمالات پر سب کا اتفاق ہے۔ (تہذیب الاسماء واللغات: ج ۴ ص ۴۰۱)حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ لکھتے ہیں:امام نخعی رحمۃ اللہ علیہ فقیہ العراق ، صاحب اخلاص اور بلند مرتبت علماء میں سے تھے۔ اور وہ حدیث کو جاننے میں صراف اور نقاد تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ: ج۱،ص۵۹)
امام عجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ فرماتے ہیں کہ :ا نہوں نے اگرچہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان نہیں کی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے ملاقات ضرور کی ہے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہماکی بھی زیارت کی تھی۔ (سیراعلام النبلاء: ج۵،ص۴۲۹)
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱ھ فرماتے ہیں کہ:ابراہیم ذکی (ذہین) ، حافظ اور صاحب سنۃ تھے۔ (سیر اعلام النبلاء : ج ۵ص ۴۲۷)حافظ ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۰ھ فرماتے ہیں کہ:ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ بچپن میں حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی زیات سے مشرف ہوئے تھے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سماعت حدیث بھی کی تھی۔ (ایضاً)حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں کہ:تمام محدثین (خواہ انہوں نے ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سماعت حدیث کا انکار کیا ہو یا اقرار) سب کے سب نے ان کو تابعین میں شمار کیا ہے۔ (ایضاً)علامہ ابن حزم ظاہری رحمۃ اللہ علیہ م ۴۵۶ھ لکھتے ہیں کہ:‘‘ وابراہیم تابع ، ادرک اکابر التابعین وصغارالصحابۃ رضی اللہ عنھم’’ ابراہیم نخعی تابعی ہیں، انہوں نے اکابرتابعین اور صغار صحابہ رضی اللہ عنہم کو پایاہے۔(المحلیٰ: ج ۲ص ۴۷) نیز قاضی محمد شوکانی غیر مقلد، رئیس ندوی غیر مقلد اور محمد گوندلوی غیر مقلد نے بھی ان کو تابعین میں شمار کیا ہے۔ (نیل الاوطار ج۳ ص ۳۲۰۔۳۴۳،تحقیقی جائزہ ص ۵۹۲ ،التحقیق الراسخ ص ۱۵۵) اس جلیل القدر تابعی کا رفع الیدین کے متعلق فرمان ملاحظہ فرمائیں۔
(۱)‘‘حدثنا ھشیم قال اخبرنا حصین و مغیرۃ عن ابراہیم انہ کان یقول اذاکبرت فی فاتحۃ الصلاۃ فارفع یدیک ثم لاترفعھما فیما بقی ’’(مصنف ابن ابی شیبہ :ج۱، ص۲۶۷)
ترجمہ:امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کہ تم ابتدائے نماز (یعنی تکبیر تحریمہ) کے علاوہ نماز کے کسی حصہ میں بھی رفع الیدین نہ کرو۔
(ف): اس روایت کے تمام راویوں کی توثیق ماقبل میں ہم پیش کر چکے ہیں، یہ روایت بالکل صحیح و ثابت ہے ، حتیٰ کہ غالی غیر مقلد زبیر علی زئی نے بھی اسے بلحاظ سند صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے: نورالعینین ص ۳۱۴)
(۲)‘‘حدثنا ابوبکر بن عیاش عن حصین و مغیرۃعن ابراہیم قال لاترفع یدیک فی شء من الصلاۃ الافی افتتاحۃالاوٰلی’’ (مصنف ابن ابی شیبہ: ج۱، ص ۲۶۷)
ترجمہ:امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تم ابتدائے نماز (یعنی تکبیر تحریمہ) کے علاوہ نماز کے کسی حصہ میں بھی رفع الیدین نہ کرو۔
(ف):
اس روایت کے تمام راویوں کا بھی تذکرہ گزر چکا ہے، اس کی سند بھی صحیح ہے۔ نیز عادت سے مجبوری رئیس ندوی صاحب کا اس روایت پر ابوبکر بن عیاش اور حصین بن عبدالرحمان کے اختلاط کا اعتراض کرنا بھی غلط ہے، کیونکہ یہ روایت امام عبداللہ بن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ سے اور امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ نے امام حصین بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کی ہے، اور آثار صحابہ میں سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کے اثر کے ذیل میں گزر چکا ہے کہ امام عبداللہ بن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ کا سماع ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ سے اور امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ کا سماع حصین بن عبدالرحمان رحمۃ اللہ علیہ سے زمانہ اختلاط سے پہلے کا ہے، لہذا یہ روایت امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ اور امام حصین بن عبدالرحمان رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے خرابی حافظ اور عارضہ اختلاط میں مبتلا ہونے سے پہلے بیان کی ہے۔ اور ندوی صاحب کا اعتراض باطل و مردود ہے۔ مزید یہ کہ امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ اور امام حصین بن عبدالرحمان رحمۃ اللہ علیہ یہ روایت نقل کرنے میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ کی امام ہشیم بن بشیر رحمۃ اللہ علیہ نے اور امام حصین بن عبدالرحمان رحمۃ اللہ علیہ کی امام مغیرہ بن مقسم رحمۃ اللہ علیہ نے متابعت تامہ کر رکھی ہے۔ (دیکھئے سابقہ روایت)
(جلیل القدر )تابعی امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۴ھ اور ترک رفع یدین
‘‘حدثنا یحیی بن آدم عن حسن بن عیاش عن عبدالملک بن ابجز۔۔۔۔قال عبدالملک و رایت الشعبی وابراہیم وابا اسحاق لایرفعون ایدیھم الاحین یفتتحون الصلاۃ ’’
ترجمہ:امام عبدالملک بن ابجز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ ، امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابواسحاق السبیعی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھایہ ائمہ حدیث شروع نماز کے علاوہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبہ ،ج۱،ص۲۶۸)
(ف):
اس روایت کے تمام راویوں کے تراجم آثار صحابہ میں میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اثر کے ذیل میں گزر چکے ہیں،اس کے تمام راوی ثقہ و ثبت ہیں، اور اس کی سند بلاغبار مسلم کی شرط پر صحیح ہے، غالی غیر مقلدزبیر علی زئی نے بھی اسے بلحاظ سند صحیح کہا ہے۔ (دیکھئے: نور العینین: ص ۳۱۴) اس صحیح السند روایت سے ثابت ہو گیا کہ امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔نیز امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں پیدا ہوئے تھے اور آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ نے بڑی تعداد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو منور فرمایا۔ خود فرماتے ہیں:‘‘ ادرکت خمسمائۃ من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ’’(تذکرۃ الحفاظ ج۱،ص۶۴)میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پانچ سو صحابہ رضی اللہ عنہم سے ملاقات کی ہے۔امام موصوف نے ان پانچ سو صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی صحابہ رضی اللہ عنہم مثلاً خلیفہ راشد حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ،حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ وغیرہ سے احادیث بھی روایت کی ہیں، اور ان کے شاگرد ہیں۔تابعین میں آپ کا مقام اتنا بلند تھا کہ آپ ‘‘علامۃ التابعین’’ کے لقب سے مشہور تھے۔ امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ م ۱۱۰ھ نے اپنے شاگرد سے فرمایا، امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کو لازم پکڑو، اس لیے کہ میں نے ان کو بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں فتویٰ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ (تذکرۃ الحفاظ:ج۱،ص۶۴)
تابعی سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ م ۹۴ھ اور ترک رفع یدین
‘‘ فی کتاب الصلوٰۃلابی نعیم الفضل ثناحسن بن صالح عن وفاء وکان سعید لایرفع یدیہ فی الرکوع ’’ (شرح سنن ابن ماجہ:ص ۱۴۷۱، ج ۱)
ترجمہ:حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ رکوع میں رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔
(ف): اس روایت کی سند کے تمام راوی (ابونعیم فضل بن دکین رحمۃ اللہ علیہ، حسن بن صالح رحمۃ اللہ علیہ، وفاء رحمۃ اللہ علیہ ) ثقہ ہیں۔(دیکھئے: تقریب برقم ۵۴۰۱۔ ۱۲۵۰۔ الطبقات الکبری ج ۶،ص ۳۵۴)اور سیدنا سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ جلیل القدرثقہ تابعی ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہما ، سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہما، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر اصحاب پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم سے علمی استفادہ کیا ہے۔(تہذیب التہذیب ج۴،ص۱۱، ابن خلکان ج۱،ص۲۰۴)
(تابعی) امام ابواسحاق السبیعی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۲۶ھ اور ترک رفع یدین
‘‘حدثنا یحیی بن آدم عن حسن بن عیاش عن عبدالملک بن ابجز۔۔۔۔قال عبدالملک ورایت الشعبی وابراھیم وابا اسحاق لایرفعون ایدیھم الاحین یفتتحون الصلاۃ ’’ (مصنف ابی شیبہ:ج۱،ص۲۶۸)
ترجمہ: امام عبدالملک بن ابجز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ، امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابواسحاق السبیعی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا، یہ ائمہ حدیث شروع نماز کے علاوہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ (غالی غیرمقلد زبیر علی زئی نے وضاحت کر رکھی ہے کہ یہ روایت بلحاظ سند صحیح ہے۔ نور العینین: ص ۳۱۴)
(ف):
امام ابواسحاق عمروبن عبداللہ السبیعی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۲۶ھ جلیل القدر تابعی ہیں۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۷ھفرماتے ہیں کہ: امام ابواسحاق رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا علی لمرتضیٰ رضی اللہ عنہ، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے اور کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مثلاً سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہا اور سیدنا جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ وغیرھم سے احادیث سنی ہیں، ان کے شاگرد ہیں۔ (تہذیب الاسماء : برقم ۷۱۳) امام عجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھفرماتے ہیں کہ: آپ نے اڑتیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے احادیث روایت کی ہیں۔(تاریخ الثقات: برقم۱۲۷۲)
(عظیم تابعی) امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ م ۹۸ھاور ترک رفع یدین
‘‘حدثنا یحیی بن سعید عن اسماعیل قال کان قیس یرفع یدیہ اول ماید خل فی الصلٰوۃ ثم لایرفعھما ’(مصنف ابن ابی شیبہ:ج۱،ص۷۶۲)
ترجمہ: (ثقہ تابعی) اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہی کہ (میرے استاذ) امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ شروع نماز کے علاوہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔
سند کی تحقیق: اس روایت کے راویوں کی مختصر توثیق ملاحظہ فرمائیں۔
(۱)۔۔۔۔امام یحییٰ بن سعید القطان رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۸ھ : ‘‘ ثقۃ ثبت مرضی ’’ (تہذیب التہذیب :ج۷ص۴۴)
(۲)۔۔۔۔امام اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ م ۱۴۶ھ : ‘‘ ثقہ ثبت ’’ (تقریب: برقم ۵۵۶۶)
(۳)۔۔۔۔امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ م ۹۸ھ : ‘‘ ثقۃ حجۃ ’’(میزان الاعتدال: برقم ۶۹۰۸)
اس تحقیق سے معلوم ہوا اس روایت کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہونے کے علاوہ کتب صحاح ستہ کے مرکزی راوی ہیں، اور اس کی سند بلاغبار بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ نیز رئیس ندوی غیر مقلد اور زبیر علی زئی غیر مقلد کا امام اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ کے مدلس ہونے کا بہانہ بنا کر اس روایت سے جان چھڑانا مردود ہے۔ کیونکہ امام اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ طبقہ ثانیہ کے مدلس ہیں، اور طبقہ ثانیہ کے مدلسین کی روایات صحیح و قابل حجت ہیں۔ (النکت :ص۲۵۷، جامع التحصیل ص ۱۱۳ وغیرھما) مزید یہ کہ خصوصاً زیر بحث روایت کی سند میں تو امام اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس کا راگ الاپنا بالکل ہی غلط اور باطل و مردود ہے، وہ اس لیے کہ تدلیس روایت مروی کرنے کے ساتھ خاص ہوتی ہے، جبکہ زیر بحث روایت میں تو امام اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ اپنے استاذ امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ کا عمل اور مشاہدہ پیش فرمارہے ہیں لہٰذا یہ روایت تدلیس سے محفوظ ہے اور بلاشک و شبہ بخاری، مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
(ف):
امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ جلیل القدر اکابر تابعین عظام میں سے ہیں۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لیے تشریف لا رہے تھے، مگر ابھی راستہ میں ہی تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو پھر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔(تاریخ بغداد: برقم ۶۹۳۶) نیز امام موصوف نے عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم ، سیدنا صدیق کبررضی اللہ عنہ، سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ، سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ،سیدنا سعد رضی اللہ عنہ،سیدنا سعیدرضی اللہ عنہ، سیدنا زبیررضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ، سیدنا ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ، ام المؤمنین امی عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہم جلیل القدر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایت کی ہیں ور ان کے شاگرد ہیں۔ (ایضاً) اور آپ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی تابعی نے بھی عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم سے احادیث نقل نہیں کی ہیں۔ (تہذیب الاسماء واللغات للنووی: ج ۲ص ۶۲ برقم ۵۱۲) مزید یہ کہ بعض روایات کے مطاق حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ اور علامہ ابن الکیال رحمۃ اللہ علیہ م ۹۲۹ھ کے بقول ممکن ہے کہ امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ صحابی رضی اللہ عنہ ہوں۔ (میزان الاعتدال : ج ۳ ص ۳۹۲ والکواکب النیرات ج۱، ص ۳۷۹)
سید انورشاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کا ایک سنہری فرمان:
حضرت کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ اکابرتابعین عظام رحمۃ اللہ علیہم میں سے ہیں، بقول بعض ان کے سواء کسی تابعی نے بھی حضرات عشرہ مبشرہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو نہیں دیکھا ہے۔ اور یہ قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ اگر ترک رفع یدین بالکل معدوم ہوتا اور اس کا کوئی ثبوت نہ ہوتا (جیسا کہ فرقہ غیر مقلدیت کے متحققین کہتے ہیں) تو یہ بڑی ہستی جس نے اجلہ صحابہ رضی اللہ عنہم (حتیٰ کہ عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم) کو بھی دیکھا ہے، ہرگز ترک رفع یدین کو پسندنہ کرتی۔ لہٰذا یہی حق ہے، اور اس کا مٹانا قیامت تک ممکن نہیں، اگرچہ منکرین ایڑی چوٹی کازور لگائیں ، کیونکہ یہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو انشاء اللہ قیامت تک زندہ رہے گی۔ (نورالصباح: ج۱ص۴۶۔۴۷)
اعتراض:
غیر مقلد رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:ہو سکتا ہے کہ جب قیس بن ابی حازم ارذل العمر کو پہنچ گئے تھے تو عارضہ اختلاط والتغیرمیں مبتلا ہونے کی بدولت حالت حواس باختگی میں غیر شعوری طور پر ترک رفع یدین کرنے لگے ہوں۔ (ملخصاً: سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۵۹۷)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔تو عرض ہے کہ فرقہ غیر مقلدیت کے متحققین ذرایہ بتائیں کہ اگر سیدنا قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ نے شروع نماز کے علاوہ عارضہ اختلاط میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حالت حواس باختی میں رفع یدین کرنا چھوڑ دیا تھا تو پھر اختلاط میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حالت حواس باختی میں شروع نماز والا رفع یدین آخر کیوں نہ چھوڑا۔؟
ثانیاً۔۔۔۔سیدنا قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ کا عمل ترک رفع یدین پیش فرمانے والے امام اسماعیل بن بی خالد رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اور امام اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ کا امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ سے سماع بالتحقیق امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہکے عارضہ اختلاط میں مبتلا ہونے سے پہلے کا ہے۔ جس پر دلیل یہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں متعدد ایسی احادیث موجود ہیں، جن کو امام قیس رحمۃ اللہ علیہ سے نقل وروایت کرنے والے امام قیس رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد امام اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اور سابقہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ جوراوی اختلاط کا شکار ہو گئے ہوں تو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ان کے ایسے شاگردوں سے احادیث تخریج کرتے ہیں جن کا سماع قبل الاختلاط والتغیر ہوتا ہے۔ (تہذیب الاسماء واللغات للنووی:ج۱ ،ص۲۴۲) اس سے معلوم ہوا کہ امام اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ کا امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ سے سماع امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ کے عارضہ اختلاط والتغیر میں مبتلا ہونے سے پہلے کا ہے۔جس سے ثابت ہو گیا کہ امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ (سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل میں) عارضہ اختلاط والتغیر میں مبتلا ہونے سے پہلے حالت شعور میں پورے ہوش وہواس کے ساتھ شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے، کیونکہ امام قیس رحمۃ اللہ علیہ کا یہ عمل پیش فرمانے والے ان کے قدیمی شاگرد امام اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ ہیں جن کا قیس رحمۃ اللہ علیہ سے سماع بالتحقیق قیس رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ اختلاط والتغیر سے پہلے کا ہے۔اب اختصار کے پیش نظر چند ایسی روایات صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے حاضر خدمت ہیں جن کو امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ سے نقل وروایت کرنے والے امام اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ ہیں ملاحظہ فرمائیں:
نمبر۱: حدثنا الحمیدی قال حدثنا مروان بن معاویہ قال حدثنا اسماعیل عن قیس عن جریر بن عبداللہ قال کنا-85الخ (الحدیث)،(صحیح بخاری ،ص ۱۱۵، رقم ۵۵۴،باب فضل صلاۃ الفجر)
نمبر۲: حدثنا شھاب بن عباد قال حدثنا ابراھیم بن حمید عن اسماعیلعن قیس قال سمعت ابامسعودرضی اللہ عنہ-85الخ(صحیح بخاری ، رقم ۱۰۴۱،باب الصلوٰۃ فی کسوف الشمس)
نمبر۳: حدثنا ابن نمیر قال حدثنی ابی حدثنا اسماعیل عن قیس قال قال جریر-85الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری ، رقم ۱۴۰۱،باب البیعۃ علی ایتاء الزکوٰۃ)
نمبر۴: حدثنا محمد بن عبداللہ بن نمیرعن محمد بن بشر عن اسماعیل عن قیس عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ-85الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری ، رقم ۲۵۳۰،باب اذاقال رجل لعبدہ ھو ۔۔۔۔الخ)
نمبر۵: حدثنی محمد بن عبداللہ بن نمیر حدثنا ابن ادریس عن اسماعیل عن قیس عن جریر رضی اللہ عنہ-85۔۔۔ الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری ، رقم۳۰۳۵ ،باب من لایثبت علی الخیل)
نمبر۶: حدثنا عمروبن عون حدثنا خالدبن عبداللہ عن اسماعیل عن قیس قال سمعت سعدا-85۔۔۔ الخ (الحدیث)،(صحیح بخاری ، رقم۳۷۲۸، باب مناقب سعدبن وقاص)
نمبر۷: حدثنا ابن نمیر عن محمد بن عبیدحدثنا اسماعیل عن قیس ان بلالا-85الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری ، رقم ۳۷۵۵،باب مناقب بلال بن رباح)
نمبر۸: حدثنا قتیبۃ بن سعید حدثنا سفیان عن اسماعیل عن قیس قال سمعت سعید-85الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری ، رقم۳۸۶۲، باب اسلام سعیدبن زیدرضی اللہ عنہ)
نمبر۹: حدثنی عبداللہ بن ابی شیبۃ حدثنا وکیع عن اسماعیل عن قیس قال-85الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری ، رقم۴۰۶۳، باب اذھمت طائفتان منکم-85الخ)
نمبر۱۰: حدثنا ابراھیم بن موسیٰ اخبرنا عیسیٰ عن اسماعیل عن قیس انہ سمع-85الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری ، رقم ۴۱۵۶،باب غزوۃ الحدیبیۃ)
نمبر۱۱: حدثنی محمد بن عبداللہ بن نمیر حدثنا ابی حدثنا اسماعیل عن قیس عن عقبۃ بن عامر-85الخ(الحدیث)،(صحیح مسلم ،رقم۲۶۵،باب فضل قراء ۃ المعوذتین)
نمبر۱۲: حدثنایحیی بن یحییٰ اخبرنا ھشیم عن اسماعیل عن قیس بن ابی حازم عن ابی مسعود -85الخ(الحدیث)،(صحیح مسلم ، رقم۲۱ باب ذکر النداء بصلاۃ)
نمبر۱۳: وحدثنا عبیداللہ بن معاذ العنبری ویحیی بن حبیب قالاحدثنا معتمر عن اسماعیل عن قیس عن ابی مسعود-85الخ (الحدیث)،(صحیح مسلم: رقم۲۲، باب ذکرالنداء بصلاۃ)
نمبر۱۴: حدثنا محمد بن عبداللہ بن نمیر الھمدانی حدثنا ابی ووکیع وبن بشر عن اسماعیل عن قیس قال سمعت-85الخ (الحدیث)،(صحیح مسلم ، رقم۱۱، باب نکاح المتعۃ)
نمبر۱۵: وحدثنا ابوبکر بن ابی شیبۃ حدثنا وکیع ح و حدثنا ابن عمیر حدثنا وکیع وعبداللہ کلاھما عن اسماعیل بن ابی خالدح وحدثنا ابن ابی عمرو اللفظ لہ حدثنا مروان یعنی الفزاری عن اسماعیل عن قیس عن المغیرۃ(الحدیث)،(صحیح مسلم ، رقم ۱۷۱ باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم لاتزال طائفۃ من امتی ظاہرین علی الحق-85الخ)
نمبر۱۶: وحدثنیہ محمد بن رافع حدثنا ابواسامۃ حدثنی اسماعیل عن قیس قال-85 الخ(الحدیث)،(صحیح مسلم ، رقم، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم لاتزال طائفۃمن امتی ظاہرین-85الخ)
نمبر۱۷: وحدثنا ابوبکر بن ابی شیۃ حدثنا وکیع وعبداللہ بن نمیر عن اسماعیل عن قیس عن جریر-85الخ(الحدیث)،(صحیح مسلم ، رقم ۶۶ ،باب رحمتہ صلی اللہ علیہ وسلم الصبیان والعیال وتواضعہ۔۔۔۔الخ)
نمبر۱۸: حدثنا سریج بن یونس حدثنا ھشیم عن اسماعیل عن قیس عن المغیرۃ۔۔۔۔الخ(الحدیث)،(صحیح مسلم ، رقم۱۱۵، باب فی الدجال واھون علی اللہ عزوجل)
نمبر۱۹: وحدثنا محمد بن عبداللہ بن نمیرحدثنا ابی وابن بشرقال حدثنا اسماعیل عن قیس-85الخ(الحدیث)،(صحیح مسلم:۱۲،کتاب الزھدوالرقائق)
نمبر۲۰: وحدثنا ابن نمیر حدثنا عبداللہ بن ادریس حدثنا اسماعیل عن قیس عن جریر-85الخ(الحدیث)،(صحیح مسلم ، رقم۱۳۵، باب من فضائل جریربن عبداللہ)
(ثقہ تابعی) عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ م ۸۳ھ اور ترک رفع یدین
‘‘حدثنا معاویۃ بن ہشام، عن سفیان عن مسلم الجھنی قال کان ابن ابی لیلٰی یرفع یدیہ اول شئ اذاکبر ’’(مصنف ابن ابی شیبہ برقم ۲۴۶۶ وفی نسخۃبرقم ۲۴۶۳)
ترجمہ: حضرت مسلم بن سالم الجھنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امام عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ صرف شروع نماز میں جب تکبیر کہتے تو ہی رفع الیدین کرتے۔
تنبیہ: مصنف ابن ابی شیبہ کے بعض نسخوں میں تصحیف کے سبب اس روایت کی سند ‘‘ عن سفیان بن مسلم الجھنی ’’ لکھی گئی ہے، دراصل سفیان کے بعد لفظ ‘‘عن’’ ہے جو تصحیف کے سبب‘‘ابن’’ ہو گیا ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ کا جو نسخہ الشیخ المحقق الثقہ محمد عوامہ المدنی کی تحقیق کے ساتھ شائع ہوا ہے اس میں اس روایت کی سند‘‘ معاویۃ بن ہشام عن سفیان عن مسلم الجھنی ’’ لکھی ہوئی ہے (دیکھئے: ج۱۲، ص ۴۱۷، برقم ۲۴۶۶) نیز حمدبن عبداللہ الجمعہ اور محمد بن ابراہیم اللحیدان کی تحقیق کے ساتھ شائع ہونے والے مصنف کے نسخہ میں بھی اسی طرح ہی سند ہے۔ (دیکھئے: ص ۶۶ برقم ۲۴۶۳) اور صحیح بھی یوں ہی ہے۔ مزید یہ کہ غالی غیر مقلد رئیس ندوی نے بھی تسلیم کیا ہے کہ سفیان کے بعد لفظ ‘‘عن’’ ہے جو تصحیف کے سبب بعض نسحوں میں ‘‘ابن’’ ہو گیا ہے، صحیح سند ‘‘معاویۃبن ہشام عن سفیان عن مسلم الجھنی ’’ ہی ہے۔ (ملخصاً: سلفی تحقیقی جائزہ ص ۲۸۶۔۲۸۷)
سند کی تحقیق: اس روایت کے راویوں کی مختصر توثیق ملاحظہ کیجیے۔
(۱)۔۔۔۔ابوالحسن معاویہ بن ہشام القصار رحمۃ اللہ علیہ م ۲۰۵ھ: ‘‘ ثقۃ ’’(تاریخ الثقات للعجلی: برقم ۱۵۹۸)
(۲)۔۔۔۔امام سفیان بن سعید ثوری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱ھ :‘‘ ثقۃ حافظ فقیہ ’’ (تقریب: برقم۲۴۴۵)
(۳)۔۔۔۔ابوفروہ مسلم بن سالم الجھنی رحمۃ اللہ علیہ : ‘‘ ثقۃ ’’ (الجرح والتعدیل : برقم ۸۰۸)
(۴)۔۔۔۔عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ م ۸۳ھ : ‘‘ ثقۃ ’’ (تقریب: برقم ۳۹۹۳)
اس تحقیق سے معلوم ہوا اس روایت کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں اور اس کی سند بلاغبار مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
(ف):
امام عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ ممتاز ترین تابعین عظام میں سے تھے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے وسط عہد خلافت میں پیدا ہوئے اور آپ کے والد محترم ابو لیلیٰ رضی اللہ عنہ صحابی تھے۔ امام عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ، سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہما، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ، سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ وغیرہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے حدیثیں نقل کی ہیں ان کے شاگرد ہیں۔ (تہذیب برقم ۵۱۸، تذکرۃ الحفاظ برقم ۴۲، سیر اعلام النبلاء:برقم ۴۶۴)
رئیس ندوی جھوٹ نمبر ۲۹:
غیر مقلدرئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں: دراصل اس روایت کی سند مجہول ہے، اس کا کوئی راوی معروف نہیں۔(بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۵۹۷)
الجواب:
اس روایت کے پہلے راوی امام ابوالحسن معاویہ بن ہشام القصاررحمۃ اللہ علیہ صحیح مسلم، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ سنن ابی داؤد، تعلیقاً صحیح بخاری کے، دوسرے راوی امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کتب صحاح ستہ کے، تیسرے راوی ابوفروہ مسلم بن سالم الجھنی رحمۃ اللہ علیہ صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، سنن النسائی کے اور چوتھے راوی عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ کتب صحاح ستہ کے ثقہ بالا جماع راوی ہیں ان چاروں میں سے کوئی ایک راوی بھی مجھول وغیر معروف نہیں ہے۔ الغرض ندوی صاحب نے اس صحیح السند روایت کے مشہور و معروف چار ثقہ بالا جماع راویوں کو مجھول وغیرمعروف قرار دے کر بضابطہ غیر مقلدیت بیک وقت چار جھوٹ بولے ہیں۔ کیونکہ فرقہ غیرمقلدیت کے متحققین کے ہاں اس طرح کی غلطیاں جھوٹ شمار ہوتی ہیں۔
لطیفہ: قارئین کرام ! ائمہ دین اور اسلاف امت پر تنقید و تنقیص ایسا گناہ ہے کہ اس کی اور نحوستوں کے ساتھ عقل و فہم کی صلاحیتیں بھی سلب ہو جاتی ہیں۔ فکری آزادی نے فرقہ غیرمقلدیت کے ہر اعلیٰ درجے کے کذاب وجاہل علم و عمل سے تہی دامن آدمی کومحقق اور امام وقت بنایا ہوا ہے۔ اور فرقہ غیر مقلدیت کے ان کذاب علم و عمل سے تہی دامن متحققین میں رئیس ندوی صاحب بھی شامل ہیں۔ آپ ماقبل میں ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ رئیس ندوی صاحب کو اسماء الرجال کی مشہور و معروف کتب حتی کہ تقریب التہذیب اور تہذیب التہذیب بھی دیکھنی نہیں آتی ہیں، امام ابومعشر زیادبن کلیب جیسے صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی اور سنن النسائی کے مشہور و معروف راویوں کا تعین کرنا نہیں آتا اور ازروئے جہالت بخاری، مسلم اور سنن اربعہ کے مشہور و معروف ثقہ بالاجماع راویوں کو بھی غیر معروف اور مجہول کہہ دیتا ہے مگر اس کے باوجود غیرمقلد صلاح الدین مقبول احمد صاحب رئیس ندوی صاحب کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
مولانا (رئیس ندوی) وہ پہلے مدرس ہیں جنہیں میں نے درس میں حدیث اور روات حدیث پر محدثانہ و محققانہ کلام کرتے ہوئے سنا مجھے یاد ہے کہ انہوں نے ایک بار فرمایا کہ کوئی بھی سند لاؤ میں انشاء اللہ تین منٹ میں اس کی اسنادی کیفیت و وحیثیت واضح کردوں گا۔ (اللمحات: ج۱،ص۶۴)
اسی طرح ایک اورغیر مقلد عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی صاحب ندوی صاحب کی تعریف میں ڈونگرے برساتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
‘‘معلمی دوران رئیس العلماء الاحرام مولانا محمد رئیس سلفی ندوی۔۔۔۔ ہندوستان کی مشہور درسگاہ جامعہ سلفیہ بنا رس کے شیخ الحدیث مفتی اور برصغیر کے مشہور محقق عالم دین مولانا رئیس ندوی۔(ایضاً:ص۶۷)
فریوائی صاحب مزید لکھتے ہیں:
مولانا ندوی جہاں ایک فاضل استاذ تھے وہیں ایک ماہر اور مشہور محقق بھی تھے۔(ایضاً:ص۷۹)
(تابعی عظیم ) امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۵۰ھ اور ترک رفع یدین
امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۹ھ فرماتے ہیں کہ:‘‘ وھذا کلہ قول ابی حنیفۃ وفی ذالک آثار کثیرۃ ’’امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی فرمان ہے کہ: نمازی شروع نماز کے علاوہ رفع الیدین نہ کرے۔ (مؤطا امام محمد ص ۹۲، سندہ صحیح)
(ف):
سراج الامہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۵۰ھ کی جلالت شان، علم، فقاہت، تقویٰ، اور ثقاہت بیان کرنے میں ائمہ محدثین و فقہاء اور مورخین رطب اللسان ہیں۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ: تمام لوگ فقہ میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے عیال ہیں۔ (تاریخ بغداد : ج۱۳، ص۳۴۶)
حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: سبحان اللہ! امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تو علم، ورع، زہد و تقویٰ اور دارآخرت کو دنیا پر ترجیح دینے میں اس مقام کو حاصل کر چکے ہیں جس کو کوئی نہیں پاسکتا۔ (مناقب الامام ابی حنیفہ للذھبی: ص۲۷)
حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ایسے شخص ہیں کہ اگر تم سے اس ستون کے متعلق گفتگو کریں کہ یہ سونے کا ہے تو وہ یقینا ایک مضبوط دلیل سے ثابت کر دکھائیں گے۔ (اکمال فی اسماء الرجال: ص ۲۷)
مشہور محدث امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میری آنکھ نے ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرح کوئی نہیں دیکھا۔ (ایضاً)
امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے نہ ملایا ہوتا تو میں بدعتی ہوتا۔ (مناقب الامام ابی حنیفہ للذھبی :ص۱۸)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ الاستاذ امام یزیدبن ہارون رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے کے سب سے بڑے حافظ حدیث تھے۔ (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ:ص۴۸) امام الرجال یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ا مام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نہایت عادل اور ثقہ ہیں، ایسے شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جس کی ابن المبارک اور وکیع نے توثیق کی ہے۔ (مناقب ابی حنیفہ للکردری:ص۱۰۱)
حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام اعظم ، فقیہ العراق، امام متورع ، عالم، عامل اور کبیر الشان تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ: ج۱،ص ۱۵۸)
مشہور غیر مقلد نواب صدیق حسن خان بھی آپ کو امام اعظم کے نام سے یاد کرتے تھے۔ (دیکھئے: تقصار جیووالا حرار ص ۹۳)
غیر مقلد عبدالرحمن مبارکپوری اپنی کتاب ‘‘تحقیق الکلام’’ اور غیر مقلد صادق سیالکوٹی صاحب ‘‘صلوٰۃ الرسول’’ میں جابجا امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو امام اعظم کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ (مثلاً دیکھئے تحقیق الکلام ج۱،ص۵۔۱۱۰، وصلوٰۃ الرسول ص ۱۲۰۔ ۱۹۷۔ ۴۴۳)
غیر مقلد عزیز شمس صاحب لکھتے ہیں کہ: ہم دیکھتے ہیں کہ چھٹی صدی ہجری بعد سارے علماء و محدثین امام صاحب کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتے ہیں ان کے فضائل و مناقب نقل کرتے ہیں۔(اللمحات:ص۲۳)
غیر مقلد عزیز شمس صاحب مزید کہتے ہیں کہ: امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ وہ تمام احادیث جوان کے تلامذہ ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد بن حسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں نقل کی ہیں یادوسرے مؤلفین کی صحیح سندوں سے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تک ان کا سلسلہ اسناد پہنچتا ہے قابل اعتماد ہیں۔ (ایضاً : ص ۲۸)
مشہور مؤرخ اور محقق علامہ ابن الندیم رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تابعین میں سے ہیں کیونکہ انہوں نے کئی صحابہ رضی اللہ عنہم سے ملاقات کی ہے۔ (الفہرست: ج۱،ص۲۹۸)
علامہ خوارزمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ: علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایات نقل کی ہیں لیکن ان کی تعداد میں اختلاف ہے۔(تنسیق النظام:ص۱۰)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ہے۔ (ایضاً)
علامہ خطیب رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ مزی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی تصریح کی ہے کہ امام صاحب کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے شرف ملاقات حاصل ہے۔ (تاریخ بغداد ج۱۳، ص ۳۲۵ ، تہذیب الکمال ج ۱۹، ص۱۰۲)
حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ فرماتے ہیں کہ:امام صاحب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کئی بار ملاقات کی تھی۔(تذکرۃ الحفاظ، ج۱، ص ۱۲۶)
حافظ عراقی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی آپ کو تابعین میں شمار کیا ہے۔ (التقییدوالایضاح: ص ۳۳۲)
ان محققین کے علاوہ دیگر محققین مثلاً علامہ ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ ، امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ اور امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے بھی امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے تابعی ہونے کی تصریح کی ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۹ھ اور دیگر مالکی حضرات اور ترک رفع یدین
امام مالک بن انس المدنی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۹ھ بھی سب سے زیادہ معتبر اور مشہور روایات کے مطابق بعدالافتتاح ترک رفع یدین کے قائل تھے۔چنانچہ ‘‘المدونۃ الکبرٰی’’ میں بسند صحیح مروی ہے کہ:
‘‘قال مالک لااعرف رفع الیدین فی شء من تکبیر الصلاۃ لافی خفض ولافی رفع الافی افتتاح الصلوٰۃ ’’ (المدونۃ الکبریٰ: ج ۱، ص۱۱۸)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نماز کے شروع والے رفع الیدین کے علاوہ نماز میں کسی مقام پر رفع الیدین کو (معمول بہ) نہیں جانتا۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے تلمیذخاص امام عبدالرحمن بن القاسم العتقی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۱ھ فرماتے ہیں کہ:‘‘ وکان رفع الیدین عندمالک ضعیفاً الافی التکبیرۃ الاحرام ’’امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نماز کی پہلی تکبیر کے بعد نماز کے اندر رفع الیدین کرنا بالکل ضعیف تھا۔ (المدونۃ الکبریٰ: ج۱، ص۱۱۸ سندہ صحیح ورواتہ ثقات)
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۷۶ھ ابن قاسم رحمۃ اللہ علیہ کی روایت ترک رفع الیدین کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ: ‘‘وھو اشھرالروایات عن مالک’’امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے سب سے زیادہ مشہور ترک رفع یدین والی ہی روایت ہے۔ (مشرح مسلم للنووی :ج۱،ص۱۶۸)
علامہ کرمانی رحمۃ اللہ علیہ اور قاضی شوکانی غیر مقلد نے بھی یہی بات کہی ہے۔ (شرح بخاری ج ۵، ص ۱۰۷، نیل الاوطار ج ۱، ص۲۰۱)
قاضی ابوبکر ابن العربی المالکی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۴۳ھفرماتے ہیں کہ:
‘‘الثانی انہ یرفع یدیہ فی تکبیرۃ الاحرام قالہ مالک فی مشہور روایۃ البصریین ’’
دوسرا مسلک یہ ہے کہ رفع یدین صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی کیا جائے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے بصریین کی مشہور روایت میں یہی کہا ہے۔ (عارضۃالاحوذی: ص ج۲ ص ۵۸)
امام علاؤ الدین علی بن عثمان الماردینی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۰ھ فرماتے ہیں کہ:
‘‘وفی شرح مسلم للقرطبی وھو مشھور مذہب مالک’’(الجوہرالنقی: ج۱،ص ۱۳۶)کہ علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ شرح مسلم میں فرماتے ہیں کہ ترک رفع یدین امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور مذہب ہے۔
محمد صدیق نجیب آبادی صاحب لکھتے ہیں کہ:
‘‘وھو الشھور’’ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور مذہب ترک رفع یدین ہے۔(شرح سنن ابی داؤد، ص ۲۵۸)
امام ابن دقیق العید المالکی رحمۃ اللہ علیہ م۷۰۲ھ فرماتے ہیں کہ:
‘‘ وابوحنیفۃ لایری الرفع فی غیر الافتتاح وھو المشہور عند اصحاب مالک والمعمول بہ عندالمتاخرین ’’
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بعد الافتتاح رفع الیدین کے قائل نہیں اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے متقدمین اصحاب میں بھی ترک رفع یدین ہی مشہور ہے اور متاخرین کا تو یہ معمول بن چکا ہے۔(احکام الاحکام: ج۱، ص ۲۲۰)
امام ابوعمر احمد بن عبدالملک بن ہشام المالکی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۱ھ سے پوچھا گیا کہ آپ رفع یدین کیوں نہیں کرتے تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
‘‘ لا اخالف روایۃ ابن القاسم لان الجماعۃ عندنا الیوم علیھا ’’
کہ امام ابن القاسم رحمۃ اللہ علیہ نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے ترک رفع یدین نقل کیا ہے اور میں ابن القاسم رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کی قطعاً مخالفت نہیں کروں گا اور اس وقت ہماری جماعت (مالکیہ) کا عمل ابن القاسم رحمۃ اللہ علیہ کی روایت پر ہے۔ (التمہید لابن عبدالبر ج ۵، ص ۶۳ و الاستذکار ج۴، ص ۱۰۳)
امام ابن رشد المالکی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۹۵ھ فرماتے ہیں کہ:
سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ترک رفع یدین کی حدیث کی وجہ سے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے صرف شروع نماز میں ہی رفع یدین کو اپنایا ہے تاکہ اہل مدینہ کے عمل کی موافقت ہو جائے۔ (بدایۃ المجتھد:ج۱، ص ۱۳۶) (کیونکہ امام مالک-03 کے دور میں اہل مدینہ ترک رفع یدین پر عامل تھے)
علامہ عبدالرحمن الجزائری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ:
‘‘مالکیوں کے نزدیک شروع نماز میں رفع الیدین کرنا مستحب ہے اور شروع نماز کے علاوہ رفع الیدین کرنا مکروہ ہے’’۔(الفقہ علی المذاہب الاربعہ ج۱،ص ۲۵۰)
مالکی مذہب کے معتبر ناقل ابن خویز منداد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
‘‘والذی علیہ اصحابنا الرفع عندالاحرام’’ ہمارے اصحاب (یعنی مالکی حضرات) صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی رفع الیدین کرنے کے مسلک پر ہیں۔ (الاستذکار ج۴، ص ۱۰۰، التمہید ج۵، ص ۵۶)
امام ابن عبدالبرالمالکی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ فرماتے ہیں کہ:
‘‘ وتعلق بھذہ الروایۃ عن مالک اکثر المالکیین ’’ اکثر مالکی حضرات نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے اسی صرف شروع نماز میں ہی رفع یدین کرنے والی روایت کو اختیار کیا ہے۔ (التمہید:ج۵، ص ۵۶)
علامہ ابوالبرکات محمد بن احمدالدردیر المالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
رفع الیدین صرف شروع نماز میں ہی مستحب ہے۔ (الشرح الصغیر:ج۱،ص۳۲۴)
امام ابن دقیق العید رحمۃ اللہ علیہ م ۷۰۲ھ لکھتے ہیں کہ:
‘‘ وھو المشہورعند اصحاب مالک ’’ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے احباب سے بھی یہی مؤقف مشہور ہے۔(شرح عمدۃ الاحکام:ج۲،ص۲۹۶)
مزید نقل کرتے ہیں ہیں کہ:
‘‘ الاان فی بلاد نا ھذہ یستحب للعالم ترکہ’’ ہمارے علاقوں میں عالم کے لیے ترک رفع یدین مستحب ہے۔ (ج۲،ص۲۹۷)
اس کے حاشیہ میں امیریمانی صاحب لکھتے ہیں کہ:
‘‘ یرید بلادالمغرب فانھم مالکیۃ لایعرفون الرفع الافی اول تکبیرۃ ’’ اس سے مراد مغرب کے ممالک ہیں کیونکہ وہاں مالکی لوگ آباد ہیں جو پہلی تکبیر کے علاوہ رفع الیدین کے قائل نہیں ہیں۔
الغرض! مذکورہ بالا حوالوں سے واضح ہو گیا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بھی مشہور و معروف روایات کے مطابق ترک رفع یدین کے ہی قائل تھے۔ اور آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ترک رفع یدین کو ترجیح اس لئے دی کہ تاکہ اہل مدینہ کے عمل کی موافقت ہو جائے، کیونکہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں اہل مدینہ بھی عموماً ترک رفع یدین پر ہی عامل تھے۔ حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی صراحت فرما رکھی ہے کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا اصول یہ ہے کہ وہ اہل مدینہ کے عمل کی اتباع کرتے ہیں۔ (بدائع الفوائد ، ج۴، ص۳۲) اور مالک رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید میں مالکی حضرات نے بھی ترک رفع یدین کو ہی اختیار کیا ہے۔
﴿دیگر ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم اور ترک رفع یدین﴾
قارئین! اگر ان تما م ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کا تذکرہ کیا جائے جو ترک رفع یدین کے قائل تھے تو اس سے یقینا کتاب کی ضخامت کئی سو صفحات تک چلی جائے گی اور ویسے بھی تمام تارکین رفع الیدین کاا ستیعاب کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے، اس لیے ‘‘مشتہ نمونہ از خروارے’’ کے طور پر چند ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کے نام درج کر دیے جاتے ہیں جو ترک رفع یدین کے قائل ہیں ملاحظہ فرمائیں:
(۱)امام ربیع بن حبیب رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۰ھ :(مسند الامام الربیع بحوالہ شرح الجامع الصحیح ص ۳۱۷)
(۲)امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۹ھ: (مؤطا محمد ص ۹۰۔۹۱ کتاب الآثارص۳۲)
(۳)امام اسحاق بن ابی اسرائیل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۶ھ: (سنن دارقطنی: ج۱،ص۴۰۰)
(۴)امام سفیان بن سعید الثوری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱ھ: (اختلاف العلماء ص ۴۸ حلیۃ الاولیاء ج۲، ص۹۶)
(۵)امام ابوعمرابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ: (التمہید: ج۵ص۶۳)
(۶)امام ابوعمر احمد بن عبدالملک رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۱ھ: (ایضاً)
(۷)ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۳ھ:(سنن النسائی ، ج۱، ص ۱۵۸،۱۶۱)
(۸)امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۲ھ:(شرح معانی الآثار ج۱،ص۱۶۲)
(۹)امام حسن بن زیاد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۰۴ھ: انوارالمحمود ج ۱، ص ۲۵۸)
(۱۰)امام زفر بن ہذیل رحمۃ اللہ علیہ م ۱۵۸ھ: (ایضاً)
(۱۱)امام حسن بن صالح بن حیی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱ھ: (التمہید:ج۵، ص۵۶)
(۱۲)امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۸ھ:(العلل و معرفۃ الرجال برقم ۵۱۳۱ واعلم ان سفیان ربما لم یرفع)
(۱۳)امام ابومحمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵ھ (شرح سنن ابی داؤد، عمدۃ القاری وغیرہ)
(۱۴)امام علاؤ الدین ابوبکر بن مسعود بن احمد الکاسانی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۸۷ھ: (بدائع الصنائع ج۱ ص ۲۰۷)
(۱۵)حافظ قاسم ابن قطلوبغا رحمۃ اللہ علیہ م ۸۷۹ھ :(التعریف والاخبار وغیرہ)
(۱۶)عثمان بن علی بن محجن البارعی فخر الدین الزیلعی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۳ھ: (تبیین الحقائق شرح کنزالحقائق ج۱،ص۱۲۰)
(۱۷)محمد بن احمد بن ابی سہل السرخسی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۸۳ھ: (المبسوط ج۱،ص ۱۴)
(۱۸)ابوالمعالی برہان الدین محمود بن احمد البخاری رحمۃ اللہ علیہ م ۶۱۶ھ: (المحیط البرھانی ج۱، ص۳۷۶)
(۱۹)جمال الدین ابومحمد علی بن ابی یحییٰ زکریا بن مسعود الانصاری رحمۃ اللہ علیہ م ۶۸۶ھ: (اللباب فی الجمع بین السنۃ والکتاب ج۱ ص ۲۵۶)
(۲۰)احمد بن محمد بن اسماعیل الطحطاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۲۳۱ھ: (حاشیہ الطحطاوی، ج۱، ص۲۵۷)
(۲۱)ابوالعباس شہاب الدین القرافی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۸۴ھ: (الذخیرہ للقرافی، ج۲،ص۲۲۰)
(۲۲)امام ابوالحسین احمد بن محمد بن احمد البغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۲۸ھ:(التجرید للقدوری ، ج۲،ص۵۱۸،۵۱۹)
(۲۳)الامام المعتدل الناقد الحجہ علاؤالدین علی بن عثمان رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۰ھ: (الجوہرالنقی)
(۲۴)الامام الحافظ الحجہ ابوعبداللہ المغلطائی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ:(شرح سنن ابن ماجہ)
(۲۵)الامام المحدث المعتدل الناقد الحجہ الحافظ الثقہ ابوجعفر احمد بن محمد الازدی المصری رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھ:( شرح معانی الاثار وغیرہ)
(۲۶)محدث شہیر ظفر احمد العثمانی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۹۴ھ:(اعلاء السنن)
(۲۷)محدث نیموی رحمۃ اللہ علیہ،م ۱۳۲۲ھ: (آثار السنن)
(۲۸)محدث بکیربن جعفر الجرجانی السلمی رحمۃ اللہ علیہ (الکامل ج۲، ص ۲۱۴، رقم ۲۷۸)
(۲۹)محدث ابراہیم بن یوسف بن میمون بن قدامہ البلخی الماکیانی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۹ھ: (الجواہر المضیہ ج۱، ص ۵۲ رقم ۶۱)
(۳۰)محمد بن احمد بن ابی احمد السمرقندی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۴۰ھ: (تحفۃالفقہاء:ج۱،ص ۱۳۲)
(۳۱)امام ابوالحسن برہان الدین رحمۃ اللہ علیہ م ۵۹۳ھ:(الہدایہ،ج ۱،ص۵۲)
(۳۲)زین الدین ابوعبداللہ محمد بن ابی بکربن عبدالقادر الرازی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۶۶ھ (تحفہ الملوک ج۱ص۶۸)
(۳۳)محمد بن محمد بن محمود البابرتی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۸۶ھ:(العنایہ شرح ہدایہ ، ج۱،ص ۳۰۹)
(۳۴)ابوبکر بن علی بن محمد الحدادی الزبیدی الیمنی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰۰ھ :(ملخصاً الجوہر النیرہ، ج۱،ص۵۸)
(۳۵)حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی المصری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۶۹ھ:(ملخصاً مراقی الفلاح ج۱ص۱۰۷)
(۳۶)زین الدین ابراہیم بن محمد المصری رحمۃ اللہ علیہ م ۹۷۰ھ:(ملحضاً البحرالرائق ج۱،ص ۳۴۱)
(۳۷)امام ملاعلی القاری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۱۴ھ:(مرقات ج۲ص۲۷۵)
﴿ابواب محدثین اور ترک رفع یدین﴾
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں یہ بھی عرض کر دیا جائے کہ ائمہ محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کا اصول ہے کہ وہ عموماً منسوخ و متروک احادیث وباب پہلے لاتے ہیں اور نسخ و ترک کا باب واحادیث بعد میں لاتے ہیں چنانچہ امام ابوزکریا یحی بن شرف الدین النووی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۷۶ھ فرماتے ہیں:
‘‘ وھذہ عادۃ مسلم وغیرہ من ائمۃ الحدیث یزکرون الاحادیث التی یرونھا منسوخۃ ثم یعقبونھا بالناسخ’’ کہ یہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کی (عمومی) عادت ہے کہ وہ منسوخ احادیث کو پہلے ذکر فرماتے ہیں اور ناسخ احادیث کو بعد میں ذکر فرماتے ہیں۔(شرح مسلم للنووی ج۱،ص۱۵۶)
درج ذیل ائمہ فقہاء و محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم نے رفع الیدین کرنے کی احادیث کو پہلے ذکر کیا ہے اس کے بعد ترک رفع یدین کی احادیث کو ذکر و بیان فرمایا ہے فلہذا محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کے (عمومی) اصول کے مطابق بھی رفع یدین متروک ہے۔
(۱)امام فقیہ محدث حافظ محمد بن الحسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۹ھ:(مؤطا امام محمد ص ۸۹،۹۰)
(۲)امام حافظ محدث ابوبکر عبدالرزاق بن ھمام رحمۃ اللہ علیہ م ۲۱۱ھ: (دیکھئے : مصنف عبدالرزاق ج ۲، ۴۳تا۴۶)
(۳)امام حافظ محدث ابوبکر بن ابی شیبہ الکوفی رحمۃ اللہ علیہ ۲۳۵ھ: (دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ ص ۲۱۵ تا ۲۲۷)
(۴)محدث ابوداؤد السجستانی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۵ھ: (دیکھئے ابوداؤد ج۱ ص ۱۱۱ تا ۱۱۶)
(۵)محدث ابوعیسی الترمذی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۹ھ: (دیکھئے ترمذی ج۱ ص ۵۹تا ۷۱،ط۔ دارالسلام)
(۶)محدث ابوعبدالرحمن النسائی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۳ھ:(دیکھئے: سنن النسائی ص ۱۵۸تا ۱۶۱)
(۷)حافظ ابوعلی الطوسی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھ :(دیکھئے: مختصر الاحکام للطوسی ص ۱۰۸۔۱۰۹)
(۸)امام المحدثین ابوجعفر الطحاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھ: (دیکھئے: شرح معانی الاثار ، ج۱،ص۱۶۱ تا ۱۶۵)
(۹)امام ابوبکر احمد بن حسین البیھقی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۵۸ھ: (دیکھئے: السنن الکبری ج۲، ص۶۸تا۷۶)
(۱۰)محدث ابوعبدالرحمن ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۹۷ھ:(دیکھئے: التحقیق فی الاحادیث الخلاف ج۱،ص۳۲۰تا۳۳۶)
﴿قرون اولیٰ کے فقہا ء کرام رحمۃ اللہ علیہم اور ترک رفع یدین﴾
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتباع میں قرون اولیٰ کے فقہائع کرام رحمۃ اللہ علیہم بھی ترک رفع یدین پر عامل تھے۔ چنانچہ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھ فرماتے ہیں:
‘‘ حدثنی ابن ابی داؤد قال ثنا احمد بن یونس قال ثنا ابوبکر بن عیاش قال مارایت فقیھاً قط یفعلہ یرفع یدیہ فی غیر التکبیرۃ الاولی ’’ (شرح معانی الاٰثار ج۱ ص ۱۶۵)
ترجمہ: امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ (م۱۹۳ھ) فرماتے ہیں کہ میں نے کسی فقیہ کو بھی تکبیر اولیٰ کے سواء رفع الیدین کرتے نہیں دیکھا۔
(ف):
اس روایت کے تمام راویوں کی توثیق آثار صحابہ رضی اللہ عنہم میں سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کے اثر کے ذیل میں پیش کی جا چکی ہے، اس کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں اور اس کی سند بلاغبار صحیح ہے۔ اس صحیح السند روایت سے واضح ہو گیا کہ اسلام کے عہدزریں قرون اولیٰ کے فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم عام طور پر ترک رفع یدین پر ہی عامل تھے۔
رئیس ندوی جھوٹ نمبر ۳۰:
غیر مقلد رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ
ہم کہتے ہیں کہ ابن ابی داؤد کا حال ہم بیان کر آئے ہیں کہ دیو بندیہ کے امام کوثری نے اسے کذاب کہا ہے پھر اس سند کو دیو بندیہ نے کیسے جید السند کہہ دیا ہے؟ کیا یہ دیوبندیہ کی اکاذیب پرستی نہیں ہے؟ ابوبکر بن عیاش خالص سنی تھے انہیں مرجیہ وجہمیہ سے شدید نفرت تھی۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۲۹۰)
الجواب :
اولاً۔۔۔۔ہماری طرف سے پیش کردہ مذکورہ روایت کی سند میں موجود ابن ابی داؤد سے امام ابواسحاق ابراہیم بن ابی داؤد سلیمان بن داؤد البرلسی الاسدی رحمۃ اللہ علیہ مراد ہیں جو کہ امام ابوجعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ اور امام احمد بن یونس رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں اور یہ بالاتفاق ثقہ و صدوق راوی ہیں۔ امام محمد بن عبدالغنی رحمۃ اللہ علیہ اسے ‘‘ثقہ متقن’’ کہتے ہیں۔امام ابن العماد الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ثبت’’ قرار دیتے ہیں، امام ابوسعید عبدالرحمن بن احمد بن یونس رحمۃ اللہ علیہ ‘‘احدالحفاظ المجودین الاثبات الثقات’’ کہتے ہیں۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ‘‘الامام الحافظ المتقن’’ قرار دیتے ہیں، یا قوت حموی رحمۃ اللہ علیہ ثقہ اور حافظ کہتے ہیں، امام سمعانی رحمۃ اللہ علیہ ثقہ کہتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔تکملۃ الاکمال: برقم ۸۷۸
(۲)۔۔۔۔شذرات الذھب: ج۲،ص ۱۶۱
(۳)۔۔۔۔تاریخ اسلام: ج۶،ص۲۸۵، برقم ۹۲
(۴)۔۔۔۔اکمال الاکمال : ج۱ص ۵۰۲، برقم ۸۷۸
(۵)۔۔۔۔سیراعلام النبلاء: ج۶، ص ۶۱۲ برقم ۲۳۷
ان ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کے مقابلے میں مذکور راوی ابواسحاق ابراہیم بن ابی داؤد البرسی رحمۃ اللہ علیہ کو شیخ کوثری رحمۃ اللہ علیہ سمیت کسی ایک محدث نے بھی ‘‘کذاب’’ نہیں کہا، اور نہ ہی کتب اسماء الرجال میں اس پر کوئی مفسرمبین السبب جرح موجود ہے۔ (فیما اعلم) لہٰذا یہ راوی بالا تفاق ثقہ و صدوق ہے اور بضابطہ غیر مقلدیت رئیس ندوی صاحب کا مذکورہ بالا بیان سفید جھوٹ ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔جب مذکورہ روایت کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں، اور یہ روایت بالکل صحیح و محفوظ ہے تو اس روایت کو جید السند کہنے میں اہلسنّت و الجماعت (دیوبند) بالکل سچے اور حق بجانب ہیں اور فرقہ غیر مقلدیت کے متحققین سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
ثالثاً۔۔۔۔بلاشک وشبہ امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ خالص سنی ہی تھے اور ترک رفع یدین کے قائل تھے مگر اس خالص سنی امام کی بھی فرقہ غیر مقلدیت کے متحققین بات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
رابعاً۔۔۔۔اس مقام پر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ فقہاء کرام کا عمل ترک رفع یدین بتانے میں امام ابوبکربن عیاش رحمۃ اللہ علیہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ دیگرائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے بھی فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم کا عمل ترک رفع یدین ہی بتایا ہے مثلاً۔۔۔۔
امام ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ فرماتے ہیں کہ:
اکثر مالکی حضرات، محدث سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب اور امام حسن بن صالح بن حیی رحمۃ اللہ علیہ اور تمام متقدمین فقہاء کوفہ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہم) اور تمام متاخرین فقہاء کوفہ ترک رفع یدین کے ہی قائل ہیں۔ (التمہید ج۵،ص۵۶)
امام ابن رشد المالکی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۹۵ھ فرماتے ہیں کہ:
اہل کوفہ، حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور تمام فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم اس بات کی طرف گئے ہیں کہ نمازی تکبیر اولیٰ کے علاوہ رفع الیدین نہ کرے۔ (بدایۃالمجتہد:ج۱ص ۷۸)
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۹ھ فرماتے ہیں کہ:
اہل علم بے شمار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بے شمار تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہم اور امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور تمام اہل کوفہ بھی یہی کہتے ہیں کہ شروع نماز کے علاوہ رفع الیدین نہ کیا جائے۔ (سنن ترمذی: ج۱ص ۳۵)
امام محمد بن نصر المروزی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۹۴ھ فرماتے ہیں کہ:
تمام قدیم اہل کوفہ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہم) نے بالاجماع رفع یدین چھوڑدیا تھا۔ (التمہید ج۴ ص ۱۸۷ ،الاستذکار ج۱ص ۴۰۸)
نیز آگے آرہا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے تمام شاگرد بھی ترک رفع یدین پر ہی عامل تھے۔
کذاب کون؟
قارئین ! رئیس ندوی صاحب نے اپنی کتاب میں کذاب کذاب کی رٹ لگا رکھی ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا کہ کذاب کون ہیں علماء اہلسنت والجماعت دیوبند یا فرقہ غیر مقلدیت کے متحققین ؟ اس بات کا فیصلہ بھی کرہی دیا جائے۔
علماء اہلسنت والجماعت دیوبند کی صفائی کے لیے ہم فرقہ غیرمقلدیت کے ہی ‘‘امام العصر’’ اسماعیل سلفی صاحب کی گواہی نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں فرقہ غیر مقلدیت کے ‘‘امام العصر’’ اسماعیل سلفی صاحب لکھتے ہیں:
‘‘حضرات دیوبند پہلی دو بیماریوں سے قریباً محفوظ ہیں گالیاں نہیں دیتے جھوٹ نہیں بولتے۔’’
(حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ص ۷۱)
اس کے برعکس فرقہ غیر مقلدیت کے متحققین کا جھوٹا ہونا ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کا اقرار خود انہی کو بھی ہے چند دلائل ملاحظہ ہوں۔
(۱)غیر مقلد زبیر علی زئی ڈاکٹر شریف غیر مقلد کے متعلق لکھتا ہے:
‘‘انہوں نے کذب و افتراء اور تہمت و بہتان کے راستوں پر گامزن لوگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صریح غلط بیان جھوٹ اور بہتان سے کام لیا ہے’’۔(علمی مقالات ج۴ص ۳۴۴)
(۲)علی زئی صاحب محمد افضل اثری غیر مقلد کے متعلق لکھتے ہیں:
‘‘اس بیان میں افضل اثری صاحب نے غلط بیانی کرتے ہوئے حافظ ابن حجر عسقلانی کی طرف وہ قول منسوب کر دیا ہے جس سے حافظ ابن حجر بالکل بری ہیں-85 اس صریح غلط بیانی کا دوسرا نام کذب وافتراء ہے۔ (علمی مقالات: ج۲ص ۱۷۶)
لطیفہ:یادر رہے غیر مقلد افضل اثری صاحب وہ بزرگ ہیں جنہوں نے زبیر علی زئی صاحب کی ہی کتاب ‘‘ہدیۃ المسلمین طبع کراچی’’ شائع کی ہے۔
(۳)غیر مقلد محمد اسحاق بھٹی صاحب نماز کے بعد اجتماعی دعا نہ مانگنے والے غیرمقلدوں کے متعلق لکھتے ہیں:
‘‘پھر یہ بات بھی ان کے نزدیک متحقق ہو گئی ہے کہ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کی روایت کے راوی ضعیف ہیں اس تحقیق کے بارے میں اس فقیر پر تقصیر کی مؤدبانہ گزارش ہے کہ کیاوہ راوی ہم سے بھی ضعیف ہیں جو بات بات پر غلط بیانی کرتے قدم قدم پر جھوٹ بولتے اور ہر معاملے میں دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں۔(نقوش عظمت رفتہ ص ۲۴)
(۴)عبدالعزیز رحیم آبادی غیر مقلد وکیل غیر مقلدیت محمد حسین بٹالوی کے ایک خط پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
‘‘اس خط میں اس قدر جھوٹ ہے کہ پناہ بخدا، اور مزہ یہ ہے کہ خود ان کا کلام مکذب ہے تکذیب کے لیے خارج سے استدلال کی ضرورت نہیں ہے (اخبار اہلحدیث امر تسر ۸ ستمبر۱۹۱۶ء بحوالہ تاریخ ختم نبوۃ ص ۴۰۹)
رحیم آبادی صاحب مزید لکھتے ہیں:
بٹالوی صاحب ‘‘من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ’’ کاوعظ لوگوں کو سناتے ہیں اور خود کذب وبہتان اور انکار حق کا اشتہار چھپوا کر فرض و واجب جانتے ہیں’’ (اخبار اہلحدیث امرتسری ۳۰،اپریل ۱۹۱۵ء بحوالہ تاریخ ختم نبوت از مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی ص ۴۱۰)
(۵)امام غیر مقلدیت وحید الزمان اپنے ہی غیر مقلد وں کے متعلق لکھتے ہیں:
سخت حیرت ہوتی ہے کہ تقلید کو جس غایت درجہ یہ ہے کہ مکروہ اور بدعت اور گناہ صغیرہ ہو گی چھوڑ کر کبیرہ گناہوں میں یعنی جھوٹ اور خیانت اور دغا بازی میں مبتلا ہو گئے۔ (لغات الحدیث ج۲، ص ۶۱ )
(۶)محمد حسین بٹالوی غیر مقلد ثنا ء اللہ امرتسری غیر مقلد کے متعلق لکھتا ہے:
‘‘مولوی امرتسری اسی کذب و نفاق پر ایسے جمے ہوئے ہیں کہ گویا یہ کذب و نفاق ان کی گھٹی میں داخل ہے۔ (اشاعۃالسنہ ج ۲۳، ص ۱۶۵)
(۷)غیر مقلد عبدالرحمن مدنی نے احسان الٰہی ظہر غیر مقلد کو مباہلہ کا چیلنج دیتے ہوئے آخر میں لکھا :
‘‘ہمیں یقین ہے کہ ان شاء اللہ اس مباہلہ کے ذریعے ہم سرخرو ہوں گے اور اس کے جھوٹوں بہتانوں نیز اس کے اپنے کردار پر ایک عظیم اجتماع جمع ہو سکے گا۔( ہفت روزہ اہلحدیث لاہور ۵ ذیعقدہ ۱۴۰۴ھ ص ۷)
(۸)غیر مقلدین کی کتاب میں جمعیۃ اہلحدیث کے بڑوں کے متعلق واشگاف الفاظ میں لکھا ہواکہ:
‘‘جماعتی چند ے سے حاصل کردہ جائیدادوں کو اپنے نام لگاتے ہوئے اور بے شگاف جھوٹ بولتے ہوئے (انہیں ) کوئی شرم نہیں آتی۔ (کچھ واقعات اور حقائق ص ۲۱ مشمولہ رسائل اہلحدیث جلد اول)
(۹)اخبار محمدی کے ایڈیٹر غیر مقلد محمد صاحب اپنی جماعت کے غیر مقلد بزرگ عبداللہ روپڑی کے متعلق لکھتے ہیں۔
‘‘یہ مولوی صاحب جھوٹے ہیں’’۔(مظالم روپڑی ص ۴۸ مشمولہ رسائل اہلحدیث جلد اول)
(۱۰)غیر مقلد حاجی محمد انور صاحب غیر مقلدیت کی طرف سے شائع کردہ ایک پمفلٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
مولانا لکھوی کے متعلق جوزہریلا پمفلٹ انہوں نے شائع کیا وہ جھوٹ کا پلندہ ہے ان کی قیادت کو جھوٹ بولنے میں شرم بھی محسوس نہیں ہوتی-85 یہ لوگ سب کچھ جانتے ہوئے بھی جھوٹ بولتے ہیں شرماتے نہیں (ذرا آئینہ تو دیکھو یہ آپ کا منہ ہے ص ۵ مشمولہ رسائل اہلحدیث جلد دوم)
(ماخوذ از مجلہ صفدر مضمون حضرت مفتی ب نواز صاحب حفظہ اللہ)
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اصحاب و تلامذہ اور ترک رفع یدین
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرح ان کے تمام شاگرد بھی ترک رفع یدین پر عمل پیرا تھے،چنانچہ امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
‘‘حدثنا وکیع وابواسامۃ عن شعبۃ عن ابی اسحاق قال کان اصحاب عبداللہ واصحاب علی لایرفعون ایدیھم الافی افتتاح الصلٰوۃ ’’
ترجمہ: (ثقہ تابعی) ابواسحاق (عمرو بن عبداللہ السبیعی رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی شروع نماز کے علاوہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔
سند کی تحقیق: اس روایت کی سند کے تمام راویوں کی مختصر توثیق ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔امام ابوبکر عبداللہ بن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۰ھ: ‘‘ ثقۃ حافظ ’’(تقریب : برقم ۳۵۷۵)
(۲)۔۔۔۔امام وکیع بن الجراح رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۷ھ :‘‘ ثقۃ حافظ ’’ (ایضاً:برقم ۷۴۱۴)
(۳)۔۔۔۔امام ابواسامہ حماد بن اسامہ القرشی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۰۱ھ :‘‘ ثقۃ ثبت ’’ (ایضاً:برقم۱۴۸۷)
(۴)۔۔۔۔امام شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۰ھ:‘‘ ثقۃ حافظ متقن ’’(ایضاً:برقم۲۷۹۰)
(۵)۔۔۔۔ابواسحاق عمرو بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۲۶ھ:‘‘ ثقۃ ’’(ایضاً:برقم ۴۰۱)
(ف): اس تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ اس روایت کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں، اور روایت کی سندڈنکے کی چوٹ پر بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح و ثابت ہے۔ جب اس صحیح السند روایت سے ثابت ہو گیا کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے تمام اصحاب اور تلامذہ ابتدائے نماز (یعنی تکبیر تحریمہ) کے علاوہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہما کے ہزاروں سے بھی متجاوز شاگردوں و اصحاب میں سے ‘‘مشتہ نمونہ از خروارے’’ کے طور پر بعض اصحاب و تلامذہ کی مختصر سی فہرست بھی پیش کر دی جائے ملاحظہ فرمائیں:
﴿سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے اصحاب و شاگردوں کی مختصر فہرست﴾
(۱) عبیدہ السلمانی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۲ھ: (الکاشف ج۱،ص۶۹۴رقم ۳۶۴۷)
(۲) عمروبن میمون الاودی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۴ھ: (تذکرۃ الحفاظ ج۱،ص۵۱ رقم ۵۵)
(۳) زربن حبیش رحمۃ اللہ علیہ م۸۲ھ: (تاریخ الثقات للعجلی ج۱،ص۱۶۵رقم۴۵۸)
(۴) ابوعبدالرحمن عبید اللہ بن حبیب السلمی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴ھ: (تذکرۃ الحفاظ ج۱،ص۱۶۵ رقم ۴۵۸)
(۵) سویدبن غفلہ رحمۃ اللہ علیہ ۸۲ھ: (تہذیب الاسماء واللغات ، ج۱، ص ۲۴۰،رقم۲۴۱)
(۶) علقمہ بن قیس النحعی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۲ھ : (تذکرۃ الحفاظ ج۱،ص۳۹، رقم ۲۴)
(۷) مسردق بن الاجدع رحمۃ اللہ علیہ م ۶۳ھ: (تہذیب الاسماء واللغات ج۲، ص۸۸)
(۸) اسود بن یزید النخعی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴ھ: (تاریخ الثقات للعجلی رقم ۱۰۰)
(۹) شریح بن الحارث رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰ھ:(تہذیب الاسماء واللغات رقم ۲۴۹)
(۱۰) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ م ۸۳ھ:(تاریخ الثقات للعجلی:رقم ۹۷۸)
(۱۱) عمرو بن شرجیل الھمدانی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۳ھ:(تہذیب الکمال للمزی ج۲۲ ص ۶۰، رقم ۴۳۸۳)
(۱۲) مرہ بن شراحیل رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶ھ:(ایضاً ص۲۷،ص۳۷۹، رقم ۵۸۶۵)
(۱۳) مخضرم زیدبن صوحان بن حجر العبدی رحمۃ اللہ علیہ :(سیراعلام النبلاء ج۳، ص ۵۳۵ رقم۱۳۳)
(۱۴) حارث بن قیس الجعفی رحمۃ اللہ علیہ :(تہذیب الکمال للمزی رقم ۱۰۳۸، الکاشف رقم ۸۷۰)
(۱۵) خیثمہ بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ م ۸۱ھ:(ایضاً رقم ۱۷۴۷)
(۱۶) سلمہ بن صہیب رحمۃ اللہ علیہ:(تہذیب الکمال رقم ۲۴۵۸)
(۱۷) عبداللہ بن سنجرہ الازدی رحمۃ اللہ علیہ:(تہذیب الکمال للمزی رقم ۳۲۹۱)
(۱۸) خلاس بن عمرو الھجری البصری رحمۃ اللہ علیہ: (تہذیب الکمال للمزی رقم ۱۷۴۴)
(۱۹) ابووائل شقیق بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ م ۸۲ھ:(تذکرۃالحفاظ رقم ۴۶)
(۲۰) حارث بن سوید التمیمی رحمۃ اللہ علیہ ۷۱ھ:(تہذیب الکمال للمزی رقم ۱۰۲۲)
(۲۱) زاذان ابوعمر الکندی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۲ھ:(تذکرۃالحفاظ رقم ۴۶)
(۲۲) زید بن وہب الجھنی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۶ھ :(ایضاً رقم ۲۱۳۱)
(۲۳) عبداللہ بن بدیل الخراعی رحمۃ اللہ علیہ:(تہذیب الکمال رقم ۳۱۷۷)
(۲۴) بکربن قرواش رحمۃ اللہ علیہ:( تاریخ الثقات للعجلی برقم ۱۶۳)
(۲۵) ظالم بن عمرو بن سفیان رحمۃ اللہ علیہ :(ایضاً رقم۷۳۳)
(۲۶) ابوالعالیہ عبداللہ بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم۸۱۹)
(۲۷) ابوصالح الحنفی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم۱۹۶۹)
(۲۸) عبدالرحمن بن قیس رحمۃ اللہ علیہ: (معرفۃالثقات للعجلی رقم ۸۰۴)
(۲۹) صحعۃ بن صوحان رحمۃ اللہ علیہ: (الطبقات الکبرٰی رقم ج۶،ص۲۲۱)
(۳۰) عبدخیربن یزید رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً ج۶،ص۲۲۱)
(۳۱) عاصم بن ضمرہ رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً ج۶،ص۲۲۲)
(۳۲) زید بن یشبع رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً ج،۶ص۲۲۳)
(۳۳) شریح بن نعمان رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً ج،۶ص۲۲۲)
(۳۴) عبیدبن عمرو الخازمی رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً ج۶،ص۲۲۳)
(۳۵) شریح بن ہانی رحمۃ اللہ علیہ: (تہذیب التہذیب رقم ۵۷۸)
(۳۶) عاصم بن ضمرہ رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً رقم ۷۷)
(۳۷) عمروبن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ: (سیر اعلام النبلاء : ج۳،ص۵۲۴)
(۳۸) عبداللہ بن الخلیل رحمۃ اللہ علیہ:(الکاشف رقم ۲۷۰۵)
(۳۹) ابوبردہ بن ابی موسیٰ الاشعری رحمۃ اللہ علیہ:(تذکرۃ الحفاظ رقم۸۶)
(۴۰) ربعی بن حراش رحمۃ اللہ علیہ:(سیر اعلام النبلاء رقم ۵۰۷)
(۴۱) جاریہ بن قدامہ بن زہیر رحمۃ اللہ علیہ:(تہذیب التہذیب رقم ۸۳)
(۴۲) صہیب ابوالصہاء رحمۃ اللہ علیہ:(تہذیب التہذیب رقم ۷۷۱)
(۴۳) عروۃ بن زبیر بن عوام رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً رقم ۳۸۱)
(۴۴) علی بن ربیعہ بن نضلہ الوالبی الاسدی رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً رقم ۵۴۱)
(۴۵) ابواسحاق عمروبن عبداللہ السبیعی رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً رقم ۱۰۰)
(۴۶) محمد بن کعب القرظی رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً رقم ۶۹۱)
(۴۷) ابوزرین مسعود بن مالک رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً رقم ۲۱۵)
(۴۸) ابونضرہ منذربن مالک رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً رقم ۵۲۷)
(۴۹) ابوعیسیٰ موسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً رقم۶۲۵)
(۵۰) ابومحمد نافع بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم۷۲۷)
(۵۱) نعمان بن مرہ الانصاری رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً رقم ۸۲۵)
(۵۲) ابوراشدالحبرانی الحمیری رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۴۰۲)
﴿سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے اصحاب و شاگردوں کی مختصر فہرست﴾
(۱) عبیدہ السلمانی رحمۃ اللہ علیہ:( الکاشف رقم ۳۶۴۷ ،الطبقات الکبری ج۶ص۱۰)
(۲) عمروبن میمون الاودی رحمۃ اللہ علیہ: (تذکرۃالحفاظ رقم ۵۵)
(۳) زربن حبیش رحمۃ اللہ علیہ:(تاریخ الثقات للعجلی رقم ۴۵۸)
(۴) ابو عبدالرحمن عبید اللہ بن حبیب السلمی رحمۃ اللہ علیہ:(تذکرۃ الحفاظ رقم ۴۳)
(۵) سوید بن غفلہ رحمۃ اللہ علیہ:(تہذیب الاسماء واللغات (رقم ۲۴۱)
(۶) علقمہ بن قیس النخعی رحمۃ اللہ علیہ:(لطبقات الکبری، ج۶،ص۱۰، تذکرۃ الحفاظ رقم۲۴)
(۷) مسروق بن الاجدع رحمۃ اللہ علیہ:(الطبقات الکبرٰی، ج۶،ص۱۰،تہذیب الاسماء واللغات رقم ۵۶۷)
(۸) اسودبن یزید لنخعی رحمۃ اللہ علیہ:(الطبقات الکبری، ج۶،ص۱۰، تاریخ الثقات للعجلی رقم ۱۰۰)
(۹) شریح بن الحارث رحمۃ اللہ علیہ:(تہذیب الاسماء واللغات رقم ۲۴۹، تاریخ بغداد ج ۲ ،ص ۲۹۹)
(۱۰) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ:(تاریخ الثقات للعجلی رقم ۹۷۸)
(۱۱) عمروبن شرحبیل الہمدانی رحمۃ اللہ علیہ :(الطبقات الکبری، ج۶،ص۱۰، تہذیب الکمال للمزی رقم ۴۳۸۳)
(۱۲) مرہ بن شراحیل رحمۃ اللہ علیہ:(تہذیب الکمال للمزی رقم ۵۸۶۵)
(۱۳) حارث بن قیس الجعفی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۱۰۳۸ والکاشف رقم۸۷۰)
(۱۴) سلمہ بن صھیب رحمۃ اللہ علیہ:(تہذیب الکمال للمزی رقم ۲۴۵۸)
( ۱۵ ) عبداللہ بن سنجرہ الازدی رحمۃ اللہ علیہ: (تہذیب الکمال للمزی رقم ۳۲۹۱ تاریخ الثقات للعجلی رقم ۸۱۰)
(۱۶) ابووائل شقیق بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ:(تاریخ الثقات للعجلی رقم ۶۷۳تذکرۃ الحفاظ رقم ۴۶)
(۱۷) حارث بن سوید التمیمی رحمۃ اللہ علیہ:
(تاریخ الثقات للعجلی رقم ۲۳۱ ،تہذیب الکمال للمزی رقم ۱۰۲۲)
(۱۸) زاذان ابوعمرالکندی رحمۃ اللہ علیہ:(تاریخ الثقات للعجلی رقم ۴۵۰، تہذیب الکمال للمزی رقم ۱۹۴۵)
(۱۹) زیدبن وہب الجھنی رحمۃ اللہ علیہ:(تاریخ الثقات للعجلی رقم ۴۹۰ ،تہذیب الکمال للمزی رقم ۲۱۳۱)
(۲۰) ابوعطیہ مالک بن عامر الوداعی الہمدانی رحمۃ اللہ علیہ:(تہذیب الکمال للمزی رقم ۷۵۱۶)
(۲۱) عبید بن نضلۃ الخزاعی رحمۃ اللہ علیہ:(تہذیب التہذیب رقم ۱۶۴)
(۲۲ ) ہمام بن الحارث النخعی رحمۃ اللہ علیہ:(تاریخ الثقات للعجلی رقم ۱۷۴۹)
(۲۳) عبداللہ بن سلمہ المرادی رحمۃ اللہ علیہ:(الکاشف رقم ۲۷۶۰)
(۲۴) ارقم بن شرحبیل رحمۃ اللہ علیہ:(الکاشف رقم ۲۴۹)
(۲۵) الاسودبن ہلال المحاربی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۴۲۶)
(۲۶) الحارث بن عبداللہ الاعورالہمدانی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۸۵۹)
(۲۷) حارثہ بن مضرب رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۸۸۶)
(۲۸) ابومریم ربعی بن حراش رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۱۵۲۱)
(۲۹) ابویزید ربیع بن خثیم رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۱۵۲۹)
(۳۰) ابوالمثنی ریاح بن حارث رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم :۱۵۹۹)
(۳۱) زیاد بن حدیر رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۱۶۷۸)
(۳۲) سعید بن وہب الحیوانی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم: ۱۱۹۷)
(۳۳) سلیم بن اسود المحاربی رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً رقم ۲۰۶۲)
(۳۴) شتیربن شکل العبسی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۲۲۴۲)
(۳۵) صفوان بن محرز البصری رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۲۴۰۵)
(۳۶) ابوالصھباء صھیب رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۲۴۱۷)
(۳۷) ابومریم عبداللہ بن زیاد الاسدی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۲۷۲۸)
(۳۸) عبداللہ بن معقل المزنی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم :۲۹۹۸)
(۳۹) عبدلرحمن بن حجیرہ الخولانی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۳۱۷۳)
(۴۰) عبدالرحمن بن عبدرب الکعبہ رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۳۲۵۲)
(۴۱) ابوصالح عبدالرحمن بن قیس رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم۳۲۹۵ )
(۴۲) عبدالرحمن بن یزید النخعی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۳۳۴۴)
(۴۳) عبیدبن نضلۃ الخزاعی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۳۶۳۴)
(۴۴) عتی بن ضمرہ السعدی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۳۶۷۵)
(۴۵) عمیربن سعید النخعی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم۴۲۸۴ )
(۴۶) ابوالاحوص عوف بن مالک الجشمی رحمۃ اللہ علیہ :(ایضاً رقم ۴۳۱۲)
(۴۷) محمد بن کعب القرظی رحمۃ اللہ علیہ: (ایضاً رقم ۵۱۲۹)
(۴۸) مسعود بن مالک الاسدی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۵۴۰۱)
(۴۹) معروربن سوید الاسدی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً رقم ۵۵۵۰)
(۵۰) ہذیل بن شرحبیل الاودی رحمۃ اللہ علیہ:(ایضا ً رقم ۵۹۵۴)
قارئین کرام:مندرجہ بالا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کی محض بطور تبرک کے مختصر سی فہرست پیش کئی گئی ہے وگرنہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کی تعداد تو ہزاروں سے بھی متجاوز ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے اکثر شاگردوں کا شمار جلیل القدر اکابر تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہم میں ہوتا ہے ان کا اتفاقی طور پر ترک رفع یدین پر عمل پیرا ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان جلیل القدر تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (خصوصاً سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ اور سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ) کو نماز میں رفع یدین کرتے نہیں دیکھا اور اسی وجہ سے خود بھی ترک رفع یدین پر ہی عمل پیرا ہوئے مگر اس کے باوجود فرقہ غیر مقلدیت کے فتوی باز قسم کے جاہل متحققین بعض شاد منقطع السندوغیر ثابت اقوال کا سہارا لیکر ترک رفع یدین پر عمل پیرا حضرات کو بدعتی اور ان کی نمازوں کو ناقص باطل و مردود کہنے سے بھی باز نہیں آتے ہیں اللہ پاک ان کے شر سے امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔(آمین)
اعتراض:
غیر مقلدرئیس ندوی صاحب مذکورہ بالاروایت پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
زیر نظر مستدل روایت کا مکذوب ہونا واضح ہے۔ اس بات کاانتساب ابواسحاق عمرو بن عبداللہ السبیعی کی طرف کیا گیا ہے جو آخری عمر میں اختلاط و تغیر کے شکار ہو گئے تھے۔ بس اسی حواس باختگی میں ان کی زبان سے غیر شعوری طور پر یہ بات نکل گئی۔(بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ:ص۵۹۶)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔تو عرض ہے کہ مذکورہ بالا روایت ‘‘شعبۃ عن ابی اسحاق’’ کے طریق سے مروی ہے اور اسی طریق کے ساتھ امام ابواسحاق عمر وبن عبداللہ السبیعی رحمۃ اللہ علیہ کی متعدد احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی موجود ہیں تو کیا فرقہ غیر مقلدیت کے متحققین صحیح بخاری و مسلم کی ان احادیث کے بارے میں بھی یہی فیصلہ دیں گے کہ بخاری و مسلم کی یہ احادیث جھوٹی و جعلی ہیں ابو اسحاق عمرو بن عبداللہ السبیعی رحمۃ اللہ علیہ کی زبان سے حالت حواس باختگی میں غیر شعوری طور پر نکل گئیں تھیں؟ لاحول ولاقوۃ الابااللہ العلی العظیم۔
ثانیاً۔۔۔۔مذکورہ بالا روایت امام ابواسحاق عمروبن عبداللہ السبیعی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرنے والے امام شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ اور امام شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ کا امام ابواسحاق السبیعی رحمۃ اللہ علیہ سے سماع بالتحقیق امام ابو اسحاق عمرو بن عبداللہ السبیعی رحمۃ اللہ علیہ کے عارضہ اختلاط والتغیر میں مبتلا ہونے سے پہلے کا ہے۔ جس پر دلیل یہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں متعدد ایسی احادیث موجود ہیں، جن کو امام ابواسحاق رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرنے والے امام ابواسحاق رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اور بارہا عرض کیا جا چکا ہے کہ علم حدیث کا مشہور ضابطہ ہے کہ جو راوی اختلاط کا شکار ہو گئے ہوں تو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ان کے ایسے شاگردوں سے احادیث تخریج کرتے ہیں جن کا سماع قبل الاختلاط و التغیر ہوتا ہے۔ (تہذیب الاسماء واللغات للنووی: ج۱، ص ۲۴۲)اس سے معلوم ہوا کہ امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کا امام ابواسحاق رحمۃ اللہ علیہ سے سماع امام ابواسحق رحمۃ اللہ علیہ کے عارضہ اختلاط و التغیرمیں مبتلا ہونے سے پہلے کا ہے۔جس سے ثابت ہو گیا کہ مذکورہ بالا روایت امام ابواسحاق عمروبن عبداللہ السبیعی رحمۃ اللہ علیہ نے عارضہ اختلاط والتغیر میں مبتلا ہونے سے پہلے حالت شعور میں پورے ہوش و ہواس کے ساتھ بیان کی ہے، کیونکہ امام ابواسحاق رحمۃ اللہ علیہ سے یہ روایت نقل کرنے والے ان کے قدیمی شاگرد امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ ہیں جن کا ابواسحاق رحمۃ اللہ علیہ سے سماع بالتحقیق ابواسحاق رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ اختلاط والتغیرسے پہلے کا ہے۔
اب اختصار کے پیش نظر چند ایسی روایات صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے حاضر خدمت ہیں جن کو امام ابواسحاق السبیعی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرنے والے امام شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ ہیں ملاحظہ فرمائیں:
(۱)حدثنا حفص بن عمر قال حدثنا شعبۃ عن ابی اسحاق عن الاسود-85۔۔۔الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری ،رقم ۱۰۷۰ باب سجدۃ النجم)
(۲)وحدثنی سلیمان قال حدثنا شعبۃ عن ابی اسحاق عن الاسود قال-85۔۔الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری ،رقم ۱۱۴۶ باب من نام اول اللیل واحیا آخرہ)
(۳)حدثنا ابوالولید حدثنا شعبۃ عن ابی اسحاق قال سمعت البراء-04 -85الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری ،رقم ۱۸۰۳ باب قول اللہ تعالیٰ واتوا البیوت من ابوابھا)
(۴)حدثنا محمد بن بشار حدثنا غندر حدثنا شعبۃعن ابی اسحاق قال سمعت البراء۔۔۔-85الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری ،رقم ۲۶۹۸ باب کیف یکتب ھذا -85 فلان بن فلاں-85الخ۔)
(۵)حدثنا ابوالولید حدثنا شعبۃ عن ابی اسحاق قال سمعت البراء۔۔ -85الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری،رقم ۲۸۳۱، باب قول اللہ تعالیٰ لایستوی القاعدون من المومنین -85الخ)
(۶)حدثنا ابوالولید حدثنا شعبۃ عن ابی اسحاق سمعت البراء۔۔ -85الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری ،رقم ۶۸۳۴ باب حفرالخندق)
(۷)حدثناحفص بن عمر حدثنا شعبۃعن ابی اسحاق عن البراء بن عاذب-85۔۔الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری ، رقم ۲۸۳۷ باب حفرالخندق )
(۸)حدثنا حفص بن عمر حدثنا شعبۃعن ابی اسحاق عن البراء بن عاذب-85۔۔الخ(الحدیث)،(صحیح بخاری ،رقم ۳۵۵۱ باب صفۃ النبیﷺ)
مزید دیکھئے بخاری کی حدیث نمبر ۳۶۱۴۔۳۸۰۲۔ ۳۸۵۳۔ ۳۹۰۸۔ ۳۹۲۵۔ ۳۹۵۵۔ ۳۹۵۶۔ ۳۹۷۲۔ ۴۳۱۶۔ ۴۳۱۷۔ ۴۵۹۳۔ وغیرہ۔
(۹)حدثنا محمد بن المثنی و محمد بن بشار قال حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبۃ عن ابی اسحاق قال سمعت الاسود-85۔۔الخ(الحدیث)،(مسلم رقم ۱۰۵باب سجود التلاوۃ)
(۱۰)حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبۃ عن ابی اسحاق قال سمعت البراء۔۔-85الخ(الحدیث)،(مسلم رقم ۲۴۱، باب نزول السکینۃ لقراء ۃ القرآن)
(۱۱)قالا حدثنا شعبۃعن ابی سحاق قال سمعت البراء۔۔۔ -85الخ(الحدیث)،(مسلم ایضاً)
(۱۲)حدثنامحمد بن جعفرحدثنا شعبۃعن ابی اسحاق عن الاسود -85الخ(الحدیث)،(مسلم برقم ۲۸۱، باب مایتعلق بالقرا ء ۃ)
(۱۳)حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبۃ عن ابی اسحاق عن الاسود ومسروق -85الخ(الحدیث)،(مسلم ۳۰۱، باب معرفۃ الرکعتین اللتین کان یصیلھما النبیﷺ)
(۱۴)حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبۃعن ابی اسحاق قال سمعت البراء۔۔۔ -85الخ(الحدیث)،(صحیح مسلم برقم: ۱۱ باب آخر آیۃ انزلت آیۃ الکلالۃ)
(۱۵)حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبۃ عن ابی اسحاق قال سمعت البراء۔۔۔۔-85الخ(الحدیث)،(مسلم برقم ۸۰، باب فی غزوۃ حنین)
(۱۶)حدثنا ابی حدثنا شعبۃعن ابی اسحاق قال سمعت البراء۔۔۔ -85الخ(الحدیث)،(مسلم۹۰باب صلح الحدیبیۃ فی الحدیبیۃ)
(۱۷) حدثنا شعبۃ عن ابی اسحاق قال سمعت البراء۔۔ -85الخ (الحدیث)،(مسلم رقم ۹۱ باب ایضاً)
(۱۸)حدثنا محمد بن جعفر حدثناشعبۃعن ابی اسحاق قال سمعت البراء۔۔۔ -85الخ (الحدیث)،(مسلم رقم ۱۲۵، باب غزوۃ حزاب وہی الخندق)
نیاز احمد غفرلہ
ڈاکخانہ بھومن شاہ تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ
مسئلۂ ترکِ رفع یدین پر یہ ایک نہایت معروف اور مستند کتاب ہے۔ کتاب تسکین العینین کو ہم یونی کوڈ متن کی صورت میں، قسط وار (ہر پوسٹ کی شکل میں) آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، تاکہ مطالعہ مزید آسان ہو سکے۔
اگر قارئین اس کتاب کو PDF کی صورت میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں تو یہ کتاب ہماری موبائل ایپلیکیشن دفاعِ احناف لائبریری میں دستیاب ہے۔
مسئلۂ ترکِ رفع یدین سے متعلق تمام قسطیں ایک ہی لنک کے تحت پوسٹ وائز ترتیب کے ساتھ دستیاب ہیں، جہاں سے آپ آسانی سے مکمل سلسلہ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
---------------------------------------------------------------------------
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں