امام عبداللہ بن مبارک اور امام ابو حنیفہ رحمھم اللہ : متعصبیں کی جانب سے پیش کردہ امام اعظم پر چند متفرق اعتراضات
امام عبداللہ بن مبارک اور امام ابو حنیفہ رحمھم اللہ : متعصبیں کی جانب سے پیش کردہ امام اعظم پر چند متفرق اعتراضات
متعصبیں کی جانب سے پیش کردہ امام اعظم پر چند متفرق اعتراضات :
1.اعتراض : کتاب الحیل ، امام ابو حنیفہ کی تصنیف ہے ۔
2.ابو حنیفہ حدیث میں مسکین تھا۔
3.امام عبداللہ ابن مبارک رحمہ اللہ نے آخری عمر میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ترک کر دیا تھا
4.ابن المبارک نے ایک شاگرد نے پوچھا کیا ابو حنیفہ میں کوئی بدعت تھی، تو جواب دیا ہاں وہ مرجئی تھا۔
5.ابو حنیفہ عالم نہیں تھا
6." عبداللہ بن المبارک اور رفع الیدین کے واقعہ پر ایک نظر "
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اعتراض : کتاب الحیل ، امام ابو حنیفہ کی تصنیف ہے ۔
لایعنی اور فرسودہ اعتراضات میں سے ایک بڑا اعتراض "کتاب الحیل" کی امامِ اعظم رحمہ اللہ کی طرف نسبت ہے۔ معترضین امام عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ کے ایک ایسے قول کو بنیاد بناتے ہیں جس کی علمی اور جرحی حیثیت خود پاش پاش ہے۔ ذیل کی معروضات میں ہم اس اعتراض کے تارِ عنکبوت کو دلائلِ قاطعہ اور اسلوبِ علم کے ساتھ تار تار کریں گے، وباللہ التوفيق۔
۱۔ اعتراض کا خاکہ اور معترضین کا استدلال
معترضین امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ کی کتاب 'تاریخ بغداد' سے امامِ اہل سنت عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ (متوفی ۱۸۱ھ) کا یہ قول پیش کرتے ہیں:
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحِنَّائِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: "مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ الْحِيَلِ لِأَبِي حَنِيفَةَ أَحَلَّ مَا حَرَّمَ اللَّهُ، وَحَرَّمَ مَا أَحَلَّ اللَّهُ"
(جو شخص ابوحنیفہ کی طرف منسوب کتاب الحیل کو پڑھے گا، وہ گویا حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دے گا)۔
۲۔ حقیقتِ حال - تمہیدی معروضات
اس سے پہلے کہ ہم روایتی اسناد کا تانا بانا بکھیریں، چند اصولی اور عقلی باتیں ذہن نشین کر لیجئے، جو اس اعتراض کی بنیادیں اکھاڑنے کے لیے کافی ہیں:
کتاب کا عدمِ ثبوت: سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ "کتاب الحیل" نامی کوئی کتاب نہ تو امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تصنیف ہے اور نہ ہی ان سے کسی صحیح یا حسن سند سے ثابت ہے۔
امام ابن المبارک کے قول کا درست مفہوم: بالفرضِ محال اگر امام ابن المبارک رحمہ اللہ کا یہ قول ثابت مان بھی لیا جائے، تو اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ یہ کتاب امام صاحب نے خود لکھی تھی۔ بلکہ یہ امام ابن المبارک رحمہ اللہ کا بطورِ تعجب اور تاسف ایک اظہارِ خیال تھا کہ جو شخص بھی امام صاحب کی طرف جھوٹ موٹ منسوب اس کتاب کو پڑھے گا، وہ اسی گمراہی کا شکار ہوگا کہ گویا حلال کو حرام اور حرام کو حلال کیا جا رہا ہے۔
وفات کے بعد کا فتنہ: تاریخی قرائن گواہی دیتے ہیں کہ یہ واقعہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے وصال کے بہت بعد کا ہے۔ امام ابن المبارک سے یہ قول نقل کرنے والے راوی ابو توبہ ربیع بن نافع رحمہ اللہ ہیں، جن کی پیدائش ۱۵۰ ہجری کے لگ بھگ کی ہے (سیر اعلام النبلاء: ۱۰/۶۵۳)۔ اگر ربیع بن نافع نے اپنی سنِ شعور یعنی ۲۰ سال کی عمر میں بھی یہ قول امام ابن المبارک سے سنا ہو، تو یہ دور ۱۷۰ ہجری کا بنتا ہے؛ یعنی امامِ اعظم کی وفات کے پورے ۲۰ سال بعد کا فتنہ! اگر یہ کتاب امام صاحب کی زندگی میں موجود ہوتی، تو امام ابن المبارک رحمہ اللہ (جو امام صاحب کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں) بلا واسطہ خود امام صاحب سے اس کی حقیقت دریافت فرماتے، مگر تاریخ ایسی کسی مراجعت سے بالکل خاموش ہے۔
معاصرین کا سکوت: اگر یہ کتاب امام صاحب کی تصنیف ہوتی، تو ان کے معاصرین اور علمی مخالفت کرنے والے اس سنہری موقع کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے اور ملامت کا طوفان کھڑا کر دیتے، مگر تاریخ کے صفحات میں ایسا کوئی تذکرہ نہیں ملتا، جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ امام صاحب کی زندگی میں اس نام نہاد کتاب کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔
۳۔ اصحابِ ابی حنیفہ کی گواہی اور صریح تردید
کسی بھی بانیِ مکتبہ فکر کی طرف منسوب کتاب کا اعتبار تب ہی ہوسکتا ہے جب اس کے مخلص تلامذہ اور اصحاب اس کی روایت کریں۔ یہاں صورتحال یہ ہے کہ امام ابو یوسف، امام زفر اور امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمہم اللہ میں سے کسی ایک سے بھی اس کتاب کی روایت تو دور، تائید تک ثابت نہیں۔ بلکہ اس کے برعکس ائمہِ احناف سے اس کی شدید تردید منقول ہے:
الف) امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہ کا اعلانِ برائت:
امام حافظ ابو جعفر الطحاوی رحمہ اللہ نے اپنی سندِ صحیح کے ساتھ امام محمد بن الحسن سے نقل فرمایا:
الطَّحَاوِيُّ، سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ أَبِي عِمْرَانَ، يَقُولُ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَمَاعَةَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ: «هَذَا الْكِتَابُ يَعْنِي كِتَابَ الْحِيَلِ لَيْسَ مِنْ كُتُبِنَا، إِنَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا» (مناقب أبي حنيفة وصاحبيه للذهبي: ص ۸۵)
امام محمد بن الحسن الشیبانی نے واشگاف الفاظ میں فرمایا: "یہ کتاب، یعنی کتاب الحیل، ہماری کتب میں سے نہیں ہے، بلکہ یہ زبردستی ہماری کتب میں ڈال دی گئی ہے (یعنی خلط ملط کر دی گئی ہے)۔"
نکتہ: امام محمد رحمہ اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ "یہ میری کتاب نہیں"، بلکہ فرمایا "یہ ہماری کتاب نہیں"۔ یعنی انہوں نے صیغہِ جمع استعمال کر کے امامِ اعظم اور دیگر تمام اصحابِ حنفیت کی طرف سے اس الحاقی فتنے کی نفی فرما دی۔ رہا امام ابن ابی عمران کا یہ دعویٰ کہ یہ اسماعیل بن حماد بن ابی حنیفہ کی تصنیف ہے، تو یہ بات بھی محدثانہ نقطہ نظر سے محلِ نظر ہے کیونکہ یہ کتاب ان سے بھی ثابت نہیں ہے۔
ب) امام ابو سلیمان جوزجانی رحمہ اللہ کی گواہی:
امام عبدالقادر القرشی رحمہ اللہ نے امام محمد کے مایہ ناز شاگرد امام ابو سلیمان الجوزجانی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے:
"لوگ امام محمد پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ کتاب الحیل ان کی کتاب نہیں ہے، یہ تو کسی وراق (نقل نویس یا کتابیں بیچنے والے) کی کارستانی ہے جس نے اسے تیار کیا!" (الجوهر المضيئة: ۳/۵۷۶)
جب ائمہِ احناف خود پکار پکار کر اس کتاب سے برائت کا اظہار کر رہے ہیں، تو کسی تیسرے شخص کے اصرار کی علمی حیثیت پر کاہ تسبیح سے زیادہ کچھ نہیں رہ جاتی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے باطل فرقوں نے ہزاروں جھوٹی احادیث وضع کر کے حضور ﷺ کی طرف منسوب کر دیں، تو کیا (معاذ اللہ) ان احادیث کا گناہ ذاتِ رسالت مآب ﷺ پر ہوگا؟ ہرگز نہیں!
۴۔ "کتاب الحیل" کے راویوں کا تذکرہ اور اسناد کا پوسٹ مارٹم
آئیے اب اس سند کا علمی جائزہ لیتے ہیں جس کے بل بوتے پر اس کتاب کو امامِ اعظم رحمہ اللہ کے گلے مڑھنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔ خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے 'تاریخ بغداد' میں اس کتاب کی جو سند نقل کی ہے، وہ درج ذیل ہے:
محمد بن بشر، أبو عبد الله الرقى: حدث عن خلف بن بيان كتاب الحيل في الفقه لأبي حنيفة، رواه عنه أبو الطيب مُحَمَّد بْن الحسين بْن حميد بْن الربيع الكوفي، وذكر أنه سمعه منه في سنة ثمان ووكان ومائتين بسر من رأى۔ (تاريخ بغداد: ۲/۴۴۰)
فنِ رجال کی روشنی میں اسناد کا جائزہ:
محمد بن بشر ابو عبداللہ الرقی اور ان کے استاد خلف بن بیان، یہ دونوں کے دونوں فنِ رجال کی رو سے مجہول الحال ہیں۔ محدثین کا اصول ہے کہ مجہول کی روایت حجت نہیں ہوتی۔
ابو الطیب محمد بن الحسین بن حمید (جو خود محلِ کلام ہیں) کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ کتاب ۲۵۸ ہجری میں محمد بن بشر سے سنی۔ اگر ہم ریاضی کے اصولوں پر بھی غور کریں: اگر محمد بن بشر نے یہ کتاب ۵۰ سال پہلے یعنی ۲۰۸ ہجری میں خلف بن بیان سے سنی ہو، اور خلف بن بیان نے اس سے ۵۰ سال پہلے یعنی ۱۵۸ ہجری میں اسے امام صاحب سے روایت کیا ہو، تو جناب! امامِ اعظم کا وصال تو ۱۵۰ ہجری میں ہو چکا تھا! گویا امام صاحب کی وفات کے بعد مرنے والے سے یہ کتاب روایت کی جا رہی ہے؟ سبحان اللہ! اس سے بڑھ کر اس کتاب کے بطلان پر اور کیا دلیل ہوگی؟
۵۔ دیگر روایات کی جرح اور حقیقت
معترضین اپنی تسلی کے لیے خطیب بغدادی کے چند دیگر اقوال بھی پیش کرتے ہیں، آئیے ان کا بھی ناطقہ بند کرتے ہیں:
پہلی روایت:
حدثني الأزهري، أخبرنا محمد بن العباس قال: حدثنا عبد الله بن إسحاق المدائني، حدثنا أحمد بن موسى الحزامي، حدثنا هدبة - وهو ابن عبد الوهاب - حدثنا أبو إسحاق الطالقاني قال: سمعت عبد الله بن المبارك يقول: من كان عنده كتاب حيل أبي حنيفة يستعمله... فقد بطل حجه، وبانت منه امرأته... فقال ابن المبارك: الذي وضع كتاب الحيل أشر من الشيطان۔
دوسری روایت:
أخبارنا إبراهيم بن عمر البرمكي... حدثنا أبو بکر الأثرم قال: حدثني زكريا بن سهل المروزي قال: سمعت الطالقاني أبا إسحاق يقول: سمعت ابن المبارك يقول: من كان كتاب الحيل في بيته يفتي به، أو يعمل بما فيه، فهو كافر بانت امرأته، وبطل حجه... فقال له خاقان المؤذن: ما وضعه إلا إبليس. قال الذي وضعه عندي أبلس من إبليس۔ (تاريخ بغداد: ۱۵/۵۵۶)
جرح و جواب:
عللِ اسناد: پہلی سند میں احمد بن موسیٰ الحزامی نامی راوی بالکل مجہول ہے، جبکہ دوسری سند میں موجود راوی عمر بن محمد الجوہری سخت ضعیف ہے۔ جیسا کہ خود امام خطیب بغدادی کے حوالے سے حافظ علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے 'تاريخ الإسلام' (۷/۳۹۱) میں نقل فرمایا ہے۔
متن کا تضاد اور علمی نکتہ: اگر بفرضِ محال ان روایات کو تسلیم بھی کر لیا جائے، تو معترضین کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل جائے گی۔ غور فرمائیے! روایت کے الفاظ ہیں کہ جب ابن المبارک کے سامنے اس کتاب کے گھناؤنے مسائل (جیسے عورت کا شوہر سے خلع کے لیے مرتد ہونا معاذ اللہ) بیان کیے گئے، تو سائل نے پوچھا: "ما وضعه إلا إبليس" (اسے تو ابلیس نے وضع کیا ہے؟) تو امام ابن المبارک نے جواب دیا: "الذي وضعه عندي أبلس من إبليس" (جس نے اسے وضع کیا وہ میرے نزدیک ابلیس سے بڑا ابلیس ہے)۔ اب عقل کے ناخن لیجئے! اگر یہ کتاب واقعی امام ابوحنیفہ کی ہوتی، تو سائل یہ بچگانہ سوال کیوں کرتا کہ اسے کس نے لکھا ہے؟ اور امام ابن المبارک (جو امام صاحب کے شاگردِ خاص اور ان کے مداح تھے) وہ ابلیس اور کافر کہنے کے بجائے سیدھا امام صاحب کا نام نہ لیتے؟ امام ابن المبارک کا نام الٹ کر یہ کہنا کہ "جس نے بھی اسے وضع کیا ہے وہ شیطان ہے" صاف بتا رہا ہے کہ خود امام ابن المبارک بھی اس کتاب کو کسی گمراہ وضاع اور کذاب کی کارستانی سمجھتے تھے، امامِ اعظم کی تصنیف ہرگز نہیں مانتے تھے۔
تاریخی ثبوت: اس قول کے راوی ابو اسحاق الطالقانی رحمہ اللہ ہیں جن کی وفات ۲۱۵ ہجری میں ہوئی (تاريخ الإسلام: ۵/۲۶۴)۔ اگر ان کی عمر ۷۰ سال بھی مانیں تو پیدائش ۱۴۵ھ کی بنتی ہے۔ ۲۵ سال کی عمر میں سماع مانیں تو یہ واقعہ ۱۷۰ ہجری کا بنتا ہے۔ یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ امام صاحب کی زندگی میں اس کتاب کا کوئی نام و نشان نہ تھا، ان کی وفات کے بعد کسی بدطینت نے اسے وضع کر کے احناف کے سر تھوپنے کی کوشش کی تھی۔
نضر بن شمیل کے قول کا جواب:
خطیب نے نضر بن شمیل رحمہ اللہ سے نقل کیا کہ انہوں نے کتاب الحیل کے مسائل کو کفر کہا: سمعت النضر بن شميل يقول: في كتاب الحيل كذا كذا مسألة كلها كفر۔
جواب: اولاً: اس کی سند میں خطیب کے استاد محمد بن علی المقری (أبو العلاء الواسطي القاضي) سخت ضعیف ہیں، ان کے حفظ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ حافظ ابن حجر نے 'لسان الميزان' (۵/۲۹۴) میں فرمایا ہے، اور خطیب نے خود ان پر دو احادیث وضع کرنے کا اجمالی الزام لگایا ہے (تاريخ بغداد: ۳/۳۱۰)۔
أبا العلاء القاضي الواسطي شيخ الخطيب، واسمه محمد بن علي بن أحمد بن يعقوب بن مروان، فهو ضيف لا يُعتمد على حفظه كما قال الحافظ في «اللسان» (٥/ ٢٩٤). واتَّهمه الخطيب بوضع حديثين. «تاريخ بغداد» (٣/ ٣١٠، ٣١٤) ۔
ثانیاً: اس قول میں بھی کہیں یہ صراحت نہیں کہ یہ امام ابوحنیفہ کی کتاب ہے۔ ثالثاً: نضر بن شمیل سے یہ قول نقل کرنے والے احمد بن سعید الدارمی ۱۸۰ ہجری کے بعد پیدا ہوئے (سير أعلام النبلاء: ۱۲/۲۳۳)۔ اگر ۲۰ سال کی عمر میں سماع مانیں تو یہ روایت ۲۰۰ ہجری کی بنتی ہے، یعنی امام صاحب کی وفات کے پورے ۵۰ سال بعد یہ کتاب مارکیٹ میں اچھالی گئی!
۶۔ غیر مقلدین کی عدالت میں ابن تیمیہ کا فیصلہ
جو لوگ احناف کے دلائل کو یکسر مسترد کرتے ہیں، وہ اپنے مقتدا اور شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ کا یہ فیصلہ تو پڑھیں، جنہوں نے اس کذبِ بیانی کا پردہ چاک کرتے ہوئے لکھا:
"وَلا يَجُوزُ أَنْ يُنْسَبَ إلَى أَحَدٍ مِنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ أَنَّهُ جَوَّزَ الْحِيَلَ الْمُحَرَّمَةَ فِي نَفْسِ الأَمْرِ... وَمَنْ نَسَبَ إلَى إمَامٍ مِنْ الأَئِمَّةِ أَنَّهُ يَسْتَحِلُّ مِثْلَ هَذِهِ الْحِيَلِ فَهُوَ خَطَّاءٌ جَاهِلٌ بِمَذَاهِبِ الأَئِمَّةِ... وَفِيهِ نِسْبَةُ التَّكْفِيرِ أَوْ التَّفْسِيقِ إلَى بَعْضِ الأَئِمَّةِ وَهَذَا لا يَجُوزُ" (الفتاوى الكبرى: ۶/۸۵، الدليل على بطلان التحليل: ص ۱۷۰)
ترجمہ: "اور یہ کسی طرح جائز نہیں کہ مسلمانوں کے ائمہ میں سے کسی کی طرف ایسے حیلوں کی نسبت کی جائے جو فی نفسہ حرام یا کفریہ ہیں۔ اور جو کوئی بھی کسی امام کی طرف ان حیلوں کی نسبت کرتا ہے، وہ سخت خطا کار ہے اور فقہاء کے اصول و مذاہب سے بالکل جاہل ہے... علاوہ ازیں اس میں ائمہِ دین کی طرف تکفیر و تفسیق کی نسبت لازم آتی ہے جو کہ قطعاً ناجائز ہے۔"
اسی طرح کا دوٹوک موقف حافظ ابن قیم نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف 'إعلام الموقعين' (۳/۲۳۳) میں بھی اختیار کیا ہے۔
حاصلِ کلام اور تصفیہ
اوہامِ معترضین کے غبار کو چھاننے کے بعد یہ حقیقت آفتابِ نیم روز کی طرح روشن ہو جاتی ہے کہ: "کتاب الحیل" نہ تو امامِ اعظم ابوحنیفہ کی تصنیف ہے، نہ ان کے جلیل القدر تلامذہ (امام ابو یوسف و امام محمد) کی، بلکہ یہ کسی کذاب، وراق یا باطل فرقے کے بانی کی الحاقی سازش تھی جسے ائمہِ احناف نے اپنے وقت میں ہی رد کر دیا تھا۔ آج یہ کتاب دنیا میں کہیں موجود نہیں، لیکن فقہِ حنفی اپنے متقن اصولوں کے ساتھ چودہ صدیوں سے قائم و دائم ہے۔ معترضین اگر سچے ہیں تو فقہِ حنفی کی مستند کتب (جیسے الہدایہ، المبسوط، بدائع الصنائع) سے کوئی ایک بھی ایسا مسئلہ دکھا دیں جو صریح کفر یا تحلیلِ حرام پر مبنی ہو!
مزید تفصیلی مطالعہ کے لیے رجوع فرمائیں:
تبشير الناس في شرح قال بعض الناس — مؤلفہ: قاضی باقی باللہ زاہد صاحب (مدرس جامعہ اشرفیہ، لاہور)
الأصل — امام محمد بن الحسن الشیبانی (ت ۱۸۹ھ)، مقدمہ ص ۶۳ (تحقیق: بوينوكالن)
كشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون — ۱/۶۹۵
الأبواب والتراجم لصحيح البخاري — شیخ الحدیث زکریا کاندھلوی، ۶/۶۱۸
هدية العارفين — إسماعيل باشا (ت ۱۳۳۹ھ)، ۱/۴۹
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اعتراض : امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ حدیث میں یتیم یا مسکین تھے
آج کل ایک نیا شوشہ یہ چھوڑا جاتا ہے کہ معاذ اللہ امام صاحب حدیث کے میدان میں "یتیم" یا "مسکین" تھے۔ اپنے اس لغو اور بے بنیاد دعوے پر وہ امامِ اہل سنت عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ کے بعض اقوال کو بطورِ جرح پیش کرتے ہیں۔ ذیل کی محققانہ معروضات میں ہم اصولِ جرح و تعدیل اور لغتِ عرب کے میزان پر اس اعتراض کا وہ پوسٹ مارٹم کریں گے کہ معترضین کے وہم و گمان کے بت پاش پاش ہو جائیں گے، وباللہ التوفيق۔
۱۔ معترضین کا استدلال
مخالفینِ احناف امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ کی 'الجرح والتعديل' اور خطیب بغدادی کی 'تاریخ بغداد' وغیرہ سے درج ذیل روایات پیش کر کے عام سادہ لوح مسلمانوں کو مغالطہ دیتے ہیں:
روایتِ اول (لفظ "مسکین"):
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: نَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: "كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ مِسْكِينًا فِي الْحَدِيثِ" [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم]
روایاتِ ثانی (لفظ "یتیم"):
أَخْبَرَنَا ابْنُ دُومَا، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَبَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ إِسْحَاقَ التِّرْمِذِيِّ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: "كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ يَتِيمًا فِي الْحَدِيثِ"
أَخْبَرَنَا الْبَرْقَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عُمَرَ بْنِ بِشْرَانَ، وَأَنَا أَسْمَعُ: حَدَّثَكُمْ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ حِبَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَهْبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدُ اللَّهِ ـ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ـ يَقُولُ: "كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ يَتِيمًا فِي الْحَدِيثِ" [تاريخ بغداد ت بشار: ١٥/٥٧٤]
سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: "كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ يَتِيمًا فِي الْحَدِيثِ" [مختصر قيام الليل وقيام رمضان وكتاب الوتر: ۱/۲۹۶]
وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنِ مَحْمُودٍ النَّسَائِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنِ خَشْرَمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنِ إِسْحَاقَ السَّمَرْقَنْدِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: "كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ فِي الْحَدِيثِ يَتِيمًا" [المجروحين لابن حبان ت زايد: ٣/٧١]
۲۔ "یتیم فی الحدیث": جرح یا حدِ کمالِ مدح؟
محدثینِ عظام کی اصطلاحات سے ناواقف معترضین نے یہ سمجھ لیا کہ "یتیم" کا مطلب یہاں وہی ہے جو عرفِ عام میں بے سہارا بچے کے لیے بولا جاتا ہے۔ حالانکہ علمِ حدیث کے ائمہ جب اپنے کسی جلیل القدر شیخ یا ہم عصر کی بے پناہ اور غیر معمولی مہارت کا تذکرہ کرتے ہیں، تو وہ ایسے بلیغ کلمات استعمال کرتے ہیں جو عام فہم لوگوں کی عقلوں سے ماورا ہوتے ہیں۔
فنِ جرح و تعدیل کی مستند کتب گواہ ہیں کہ "یتیم فی الحدیث" کا لفظ کلماتِ جرح (تضعیف کے کلمات) میں سے ہرگز نہیں ہے۔ لغتِ عرب کے ائمہ کے نزدیک اس کا مفہوم کچھ اور ہی ہے:
بے نظیر اور یکتا: عربی لغت میں "یتیم" ہر اس منفرد، اکیلی اور نایاب چیز کو کہا جاتا ہے جس کا کوئی ثانی، مثل یا نظیر موجود نہ ہو۔ اسی لیے عرب بہترین اور انمول موتی کو "الدرة اليتيمة" کہتے ہیں۔
امام اسماعیل بن حماد الجوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"وَكُلُّ شَيْءٍ فَرْدٍ بِغَيْرِ نَظِيرٍ فَهُوَ يَتِيمٌ كَالدُّرَّةِ الْيَتِيمَةِ" (الصحاح للجوهري: ص ٢٠٦٤)
امام ابن منظور مصری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"عرب کے ہاں ہر منفرد اور اکیلی چیز کو یتیم کہتے ہیں، یہاں تک کہ ریت کے اکیلے ذرے کو بھی یتیم کہا جاتا ہے" (لسان العرب: ١٢/٤٦٤)
اس لغوی تحقیق سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ امام ابن المبارک رحمہ اللہ کا یہ جملہ دراصل امامِ اعظم کی تضعیف نہیں، بلکہ ان کی بے نظیری، انفرادیت اور غایتِ مہارت پر دال ہے۔ گویا وہ یہ فرما رہے ہیں کہ حدیث کے فہم و معرفت میں امام ابوحنیفہ کا اپنے دور میں کوئی ثانی اور مثل نہ تھا، وہ حدیث کے میدان میں "درِ یتیم" تھے۔
۳۔ ابن المبارک کے دیگر اقوال کی روشنی میں تصفیہ
اگر بالفرضِ محال معترضین کی کج فہمی کو مان لیا جائے، تو امام ابن المبارک کے دیگر روایتی اور صحیح اقوال اس کی تکذیب کر دیں گے۔ جو امام ابن المبارک امام صاحب کے علمِ حدیث کے اتنے بڑے اسیر ہوں کہ ان کے اقوال کو احادیث کی شرح قرار دیں، وہ ان پر جرح کیسے کر سکتے ہیں؟
قولِ اول (اثرِ صحابی کی مانند): امام ابن المبارک سے صحیح سند کے ساتھ منقول ہے کہ: "امام ابوحنیفہ کا قول (جب کوئی صریح حدیث موجود نہ ہو) اثرِ صحابی رضی اللہ عنہ کی طرح ہے" [فضائل أبي حنيفة]
قولِ ثانی (حدیث کی تفسیر): امام موفق بن احمد المکی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں کہ امام ابن المبارک نے فرمایا: "یہ نہ کہو کہ یہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے، بلکہ یہ کہو کہ یہ حدیث کی تفسیر ہے!" (مناقب موفق: ص ٣٠٧)
تیسرا ناطق نکتہ (لفظ "یقیم"): حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسی روایت کے ناقل حضرت علی بن اسحاق رحمہ اللہ سے ایک دوسری سند میں "یتیماً فی الحدیث" کے بجائے "يقِيم فِي الْحَدِيثِ" (حدیث میں مضبوط اور قائم) کے الفاظ مروی ہیں۔ چنانچہ امام ابن عدی الجرجانی (متوفی ۳۶۵ھ) اپنی کتاب 'الکامل' میں نقل کرتے ہیں: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرَبْرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: "كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ فِي الْحَدِيثِ يُقِيمُ" (الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: ٨/٢٣٧) امام ابن المبارک فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ حدیث کے معاملے میں بالکل سیدھے، پختہ اور مضبوط طریقے پر قائم تھے۔ تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
ان تمام شواہد سے ثابت ہوا کہ امام ابن المبارک کے دل میں امام صاحب کی علمی جلالت کا کتنا احترام تھا، لہذا ان کے کلام کو جرح پر محمول کرنا جہالت کی انتہا ہے۔
۴۔ لفظ "مسکین" کی سند اور معنوی توجیہ
اب آئیے امام ابن ابی حاتم کی اس روایت کی طرف جس میں "مسکیناً فی الحدیث" کے الفاظ ہیں۔
مقامِ ترجیح: محدثانہ اصول کے مطابق، "یتیماً فی الحدیث" نقل کرنے والی اسناد اپنے راویوں کی کثرت اور جلالت کے باعث صحیح ہیں، جبکہ "مسکیناً" والی سند کا درجہ حسن ہے۔ جب الفاظ میں بظاہر تعارض ہو، تو ترجیح صحیح اور اوثق اسناد کو دی جاتی ہے۔ یہ قوی احتمال ہے کہ ابن ابی حاتم کی سند کے کسی راوی نے "یتیماً" کے لفظ کو (معترضین کی طرح) جرح سمجھا اور روایت بالمعنی کرتے ہوئے اپنی طرف سے "مسکین" کا لفظ جڑ دیا۔ کیونکہ یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ راویوں میں جو غایت درجے کا ضبط احادیثِ رسول ﷺ کی نقل میں پایا جاتا تھا، وہ دیگر عام اقوال اور حکایات کی نقل میں نہیں ہوتا تھا۔
لغوی توجیہ (عاجزی و فرمانبرداری): اگر ہم اس لفظ کو من و عن تسلیم بھی کر لیں، تب بھی احناف کے موقف پر کوئی آنچ نہیں آتی۔ لغتِ عرب میں "مسکین" کے ایک معنی "الخاضع" (عاجزی کرنے والا، فرمانبردار اور تابع دار) کے بھی آتے ہیں۔ جیسا کہ لسان العرب (۱۳/۲۱۶) میں صراحت ہے۔ اس رو سے اس کا مطلب یہ بنے گا کہ امامِ اعظم حدیثِ رسول ﷺ کے سامنے انتہائی عاجزی اختیار کرنے والے اور اس کے کامل تابع دار تھے۔
۵۔ قلتِ اسناد اور کثرتِ استنباط: فقیہ کا اصل منصب
اگر معترضین اپنی ضد پر اڑے رہیں کہ "یتیم" سے مراد احادیث کی کمی ہے، تو ہم کہیں گے کہ چلو! تمہاری تسلی کے لیے مان لیتے ہیں کہ امامِ اعظم کثرت سے اسناد کو جمع کرنے کے شائق نہ تھے (جیسا کہ محدثین کا طریقہ تھا کہ وہ ایک ایک حدیث کی سو سو اسناد جمع کرتے تھے)۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اسناد کی کثرت نہ ہونا کوئی عیب یا تضعیف ہے؟ ہرگز نہیں!
فقیہ اور مجتہد کا اصل کام احادیث کی اسناد کے انبار لگانا نہیں، بلکہ متنِ حدیث سے موتی رولنا، مسائل کا استخراج کرنا اور امت کے لیے اجتہادی حل پیش کرنا ہوتا ہے۔
امامِ شافعی رحمہ اللہ کی مثالِ عادل:
میدانِ اجتہاد کے شہسوار امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ کے مرتبہِ امامت سے کون انکار کر سکتا ہے؟ مگر اس کے باوجود وہ محدثین کی اصطلاح میں "قلیل الحدیث" (کم حدیثیں بیان کرنے والے) تھے۔ چنانچہ امام خطیب بغدادی اپنی سند کے ساتھ ثقہ امام ابو قدامہ رحمہ اللہ کا یہ تاریخی قول نقل کرتے ہیں:
أخبرني محمد بن أحمد بن يعقوب أخبرنا محمد بن نعيم قال سمعت أبا زكريا يحيى بن محمد العنبري يقول سمعت إبراهيم بن أبى طالب يقول سألت أبا قدامة عن الشافعي وأحمد بن حنبل وإسحاق وأبى عبيد فقال اما افهم فالشافعى الا انه قليل الحديث واما اورعهم فاحمد بن حنبل واما احفظهم فاسحاق واما أعلمهم بلغات العرب فأبو عبيد (تاریخ بغداد 400/14)۔
خود امام شافعی رحمہ اللہ نے جبلِ علم امام اسحاق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ سے مناظرے کے بعد ان کی کثرتِ حفظ کا اعتراف کرتے ہوئے عاجزی سے فرمایا تھا: "لَوْ كُنْتُ أَحْفَظُ كَمَا تَحْفَظُ لَغَلَبْتُ أَهْلَ الدُّنْيَا" (مناقب الشافعي للبيهقي: ٢/١٥٣) (اگر مجھے بھی احادیث کی اسناد اسی طرح کثرت سے یاد ہوتیں جیسے تمہیں یاد ہیں، تو میں پوری دنیا کے لوگوں پر غالب آ جاتا)۔
تو کیا امام شافعی کے اس اعتراف سے ان کی جلالتِ قدر اور فقہ میں ان کی امامت پر کوئی حرف آتا ہے؟ بالکل نہیں!
ابراہیم بن سعید الجوہری کا قول:
محدثین کے ہاں اسناد کی کثرت کا کیا معیار تھا، اس کا اندازہ امام ابراہیم بن سعید الجوہری رحمہ اللہ کے اس قول سے لگائیے:أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بن عبد الله الكاتب، أخبرنا إبراهيم بن محمّد ابن يحيى المزكيّ، حدّثنا محمّد بن عبد الرّحمن الدغولي، حدّثنا عبد الله بن جعفر ابن خاقان الْمَرْوَزِيُّ السلمي قَالَ: سألت إِبْرَاهِيم بْن سَعِيد الجوهري عَن حَدِيث لأبي بكر الصديق فقال لجاريته: أخرجي إليّ الجزء الثالث وَالعشرين من مسند أَبِي بكر. فقلت له: لا يصح لأبي بكر خمسون حَدِيثا، من أين ثلاثة وعشرون جزءا؟ فَقَالَ: كل حَدِيث لم يكن عندي من مائة وجه فأَنَا فِيهِ يتيم . (تاریخ بغداد 618/8)۔
(ہر وہ حدیث جو میرے پاس سو اسناد (طرق) سے نہ ہو، تو میں اس حدیث کے معاملے میں خود کو "یتیم" یعنی تہی دامن سمجھتا ہوں)۔
جب ایک محدث سو اسناد نہ ہونے پر خود کو یتیم کہہ رہا ہے، تو اگر امامِ اعظم نے بھی احادیث کے طرق اور اسناد کے جنگل جمع کرنے کے بجائے صرف احادیث کے متون اور ان کے فقہی فہم پر توجہ دی، تو یہ ان کا کمال ہے، کوئی عیب نہیں۔
۶۔ فہمِ حدیث بمقابلہ حفظِ حدیث: ائمہِ سلف کا منہج
ائمہِ کبار کے نزدیک اصل علم احادیث کو محض طوطے کی طرح یاد کر لینا نہیں، بلکہ اس کے فہم اور تفقہ کو حاصل کرنا ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا زریں اصول: ابن تیمیہ نقل کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل نے فرمایا: "مَعْرِفَةُ الْحَدِيثِ وَالْفِقْهُ فِيهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حِفْظِهِ" (منهاج السنة النبوية: ٧/٤٢٨) (حدیث کی معرفت حاصل کرنا اور اس میں تفقہ (سمجھ) پیدا کرنا مجھے حدیث کو محض یاد کر لینے سے زیادہ محبوب ہے)۔
امام علی بن المدینی رحمہ اللہ کا فیصلہ: امامِ جرح و تعدیل علی بن المدینی فرماتے ہیں: "أَشْرَفُ الْعِلْمِ الْفِقْهُ فِي مُتُونِ الْأَحَادِيثِ، وَمَعْرِفَةُ أَحْوَالِ الرُّوَاةِ" (منهاج السنة النبوية: ٧/٤٢٨) (سب سے اشرف اور اعلیٰ علم احادیث کے متون میں تفقہ پیدا کرنا اور راویوں کے احوال کو جاننا ہے)۔
حاصلِ کلام
ان تمام دلائلِ قاطعہ اور براہینِ ساطعہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ امام ابن المبارک رحمہ اللہ کے کلام "يتيحاً في الحديث" سے مراد امامِ اعظم کی تضعیف یا توہین ہرگز نہیں، بلکہ لغتِ عرب کے مطابق ان کی بے نظیری اور یکتائی مراد ہے۔ اور اگر اس سے مراد طرقِ حدیث اور اسناد کی کثرت کا نہ ہونا لیا جائے، تب بھی یہ فنِ فقہ و اجتہاد میں کوئی عیب نہیں، کیونکہ فقیہ کا منصب استنباطِ احکام ہے نہ کہ محض اسناد کا جمع کرنا۔
یہی جوابات رومن اردو میں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
........................................
Kya Imam Abu Hanifa r.a Hadees me Yateem the?
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اعتراض : امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے آخری عمر میں امام ابو حنیفہ کو ترک کر دیا تھا ۔
جواب :
اعتراض نمبر29 : امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے آخری عمر میں امام ابو حنیفہ کو ترک کر دیا تھا ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
04:-امام اہلسنت عبداللہ ابن المبارک(متوفی 181ھ) نے فرمایا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ- وَذَكَرَ أَبَا حَنِيفَةَ- فَقَالَ رَجُلٌ: هَلْ كَانَ فِيهِ مِنَ الْهَوَى شَيْءٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، الْأَرْجَاءُ
(المعرفة والتاريخ، يعقوب بن سفيان بن جوان الفارسي الفسوي، أبو يوسف (المتوفى: 277هـ))
امام یعقوب فسوی (م 277ھ) اپنی کتاب المعرفة والتاريخ میں نقل کرتے ہیں ابن المبارک کے ایک شاگرد نے پوچھا کیا ان یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ میں کوئی ذاتی پسند نا پسند تھی؟ تو کہا: جی ہاں، ارجاء تھا۔
جواب :
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مرجئہ اہل بدعت سے ذرا بھی تعلق نہ تھا۔
اس موضوع پر تفصیل سے پڑھنے کیلئے یہ مضامین دیکھیں۔
لنک نمبر 1 :
لنک نمبر 2 :
امام اعظم رحمہ اللہ اور الزام ارجاء!
لنک نمبر 3 :
امام ابوحنیفہ " عقیده اِرجاء " رکهتے تهے
درج بالا مضامین سے یہ بات بخوبی معلوم ہو جاتی ہیکہ امام صاحب باطل فرقہ مرجئہ سے نہ تھے ، اور مرجئہ اہل السنت میں اہل السنت کے بڑے بڑے اہل علم تھے جیسا کہ امام ذہبی نے لکھا ہے
مسعر بن كدام حجة إمام، ولا عبرة بقول السليماني: كان من المرجئة مسعر وحماد بن أبي سليمان والنعمان وعمرو بن مرة وعبد العزيز بن أبي رواد وأبو معاوية وعمرو بن ذر...، وسرد جماعة.
قلت: الارجاء مذهب لعدة من جلة العلماء لا ينبغي التحامل على قائله
( میزان 4/99 )
یہاں سے معلوم ہوا کہ مرجئہ اہل السنت بالکل قابل حجت ہیں ، ان پر اعتراض باطل ہے۔
امام ابن مبارک کا یہ قول انکا امام ابو حنیفہ پر جرح نہیں بلکہ ان دونوں کے نظریات میں اختلاف کو دکھاتا ہے لیکن اس کے باوجود امام ابن مبارک نے امام ابو حنیفہ کا عزت و احترام کرنا نہیں چھوڑا اور انکی خوب تعریف و اکرام کرتے تھے
مزید یہ کہ اگر ارجاء اتنی ہی بری چیز ہے تو خود امام بخاری نے مرجئہ رواہ سے بخاری شریف میں روایات کیوں نقل کیں ہیں ؟ اگر خود امام بخاری نے مرجئہ سے صحیح بخاری میں روایات لی ہیں تو معلوم ہوا کہ ارجاء کی وجہ سے راوی کی عدالت اور توثیق پر کوئی حرف نہیں آتا
__________
اعتراض : ابو حنیفہ عالم نہیں تھا
05 :-امام اہلسنت عبداللہ ابن المبارک(متوفی 181ھ) سے انکے شاگرد نے پوچھا:
کیا ابو حنیفہ عالم تھا، ابن المبارک نےجواب دیا:
سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاق الثَّقَفِيّ يَقُول سَمِعت أَبَا قُدَامَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ سُلَيْمَانَ يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ لابْنِ الْمُبَارَكِ أَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ عَالِمًا قَالَ مَا كَانَ بِخَلِيقٍ لِذَاكَ تَرَكَ عَطَاءً وَأَقْبَلَ عَلَى أَبِي الْعَطُوفِ
(المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين)
نہیں! وہ عالم ہوتا تو عطاء بن ابی رباع (ثقہ تابعی) کو چھوڑکر ابو العطوف(جرح بن منھال متروک الحدیث، منکر الحدیث اور شرابی) کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔(وسند صحیح)
جواب :
سمعت محمد بن إسحاق الثقفي، يقول: سمعت أبا قدامة، يقول: سمعت سلمة بن سليمان، يقول: قال رجل لابن المبارك: أكان أبو حنيفة عالمًا؟ قال: ما كان بخليق لذاك، ترك عطاءً وأقبل على أبي العطوف.
( المجروحين لابن حبان ت حمدي ٥/٢٥٩ )
وسمعت أبا قدامة، يقول: سمعت سلمة بن سليمان، يقول: قال رجل لابن المبارك: أكان أَبُو حنيفة عالما؟ قال: لا، ما كان بخليق لذاك، ترك عطاء وأقبل على أبي العطوف.
(تاريخ بغداد ت بشار ١٥/٥٥٨ )
سلمة بن سليمان کہتے ہیں: ایک شخص نے ابن مبارک سے پوچھا کیا امام ابوحنیفه عالم تھے؟ تو ابن مبارک نے کہا: نہیں وہ عالم نہیں تھے۔ اگر وہ عالم ہوتے تو عطاء بن ابي رباح (تابعی) کو چھوڑ کر ابي العطوف (کذاب) کی طرف متوجہ ہوتے؟؟
جواب :
● اس روایت کی سند صحیح ہے لیکن متن صحیح نہیں ہے ، کیونکہ
1۔امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کبھی بھی امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کو مکمل یا جزوی طور پر ہرگز ترک نہیں فرمایا ، نہ ہی اس متروک راوی سے باقاعدہ شاگردی اختیار کی ، جبکہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ امام صاحب امام عطاء رحمہ اللہ کے باقاعدہ شاگردوں میں سے تھے ، اور مکمل یا جزوی طور پر عطاء رحمہ اللہ کو ترک کرنا یہ دلیل سے خالی ہے ، امام صاحب تو واشگاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے افضل کسی کو نہیں دیکھا ، لہذا یہ دعوی کہ عطاء کو ترک کر دیا تھا، بے بنیاد ہے ، مزید تفصیل کیلئے دیکھیں النعمان سوشل میڈیا سروسز کی ویب سائٹ پر موجود تانیب الخطیب : امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراض نمبر 88۔
2۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ عالم بلکہ فقیہوں کے فقیہ اور عالموں کے عالم مانتے تھے جو کہ صحیح سندوں سے ثابت ہے جیسا کہ آپ فرماتے ہیں
میں نے سب سے زیادہ فقاہت والا ابو حنیفہ کو دیکھا ہے ، میں نے ان جیسا فقیہ کوئی اور نہیں دیکھا(حالانکہ انہوں نے امام مالک ، سفیان ثوری ، عیینہ وغیرہ کو دیکھا ہوا تھا پھر بھی یہ کہنا کہ امام صاحب جیسا فقیہ کوئی نہیں دیکھا ، یہ انتہائی تعریفی اقوال ہیں ، جو جرح و تعدیل میں رائج ہیں)۔
(تاریخ بغداد ت بشار 15/469 اسنادہ صحیح)
اس کے علاوہ بھی امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ ، امام صاحب کی بہت عزت و تکریم کرتے تھے جیسا کہ ہم آخر میں روایات نقل کریں گے ، لہذا یہ بات کہ ابو حنیفہ عالم نہیں ہیں ، یہ بالکل مردود ہے۔
3۔ امام عطاء بن ابی رباح کی وفات 114ھ میں ہوئی ہے
(تذکرہ الحفاظ 1/98 )
جبکہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کی پیدائش ہی 118ھ میں ہوئی ہے (سیر أعلام النبلاء 8/381 ) ، اور انہوں نے تحصیل علم 20 برس کی عمر سے شروع کیا یعنی 138ھ
(سير أعلام النبلاء 8/ 379 ، 381) ، اس حساب سے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا حضرت عطاء رحمہ اللہ کو ترک کرنے کی روایت ہی مشکوک معلوم ہوتی ہے کہ کیسے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ اپنی پیدائش سے 4 سال قبل وقات پانے والے کے شاگرد کے بارے میں ایسا دعوی کر سکتے ہیں ؟
4۔ امام عطاء رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ، کثرت سے روایات نقل کرتے ہیں جو کہ کتاب الآثار اور امام صاحب کی مسانید میں موجود ہیں جبکہ ابو العطوف سے گنتی کی روایتیں ہیں۔ تو اس لحاظ سے یہ دعوی کہ امام صاحب نے امام عطاء بن ابی رباح کو ترک کر دیا تھا ، یہ دعوی اور بھی مشکوک ہو جاتا ہے۔ اور سونے پہ سہاگا یہ کہ خود حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ کے واسطہ سے عطاء بن ابی رباح سے روایت کر رہے ہیں (مسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم ١/١٣٦ ) تو اگر ترک کر دیا تھا تو ، عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے خود اسی سند سے روایت کیوں بیان کی ؟
5۔ ابو العطوف سے روایت کرنے سے امام صاحب کا عطاء بن ابی رباح کو ترک کرنا لازم نہیں آتا ، نہ ہی ان پر کوئی تنقیص بنتی ہے ، کیونکہ امام مالک ، شافعی رحمھم اللہ نے بھی متکلم فیہ اور مجروح رواة سے روایت لیں ہیں ، جب ان پر تنقیص نہیں ہے تو ابو حنیفہ پر کیوں ؟
امام حاکم رحمہ اللہ نے اس مسئلہ پر تمام آئمہ کا زبردست دفاع کیا ہے ۔ امام حاکم لکھتے ہیں
وَهَذَا مَالِكُ بن أنس أَهْلِ الْحِجَازِ بِلَا مُدَافَعَةٍ رَوَى عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ الْبَصْرِيِّ وَغَيْرِهِ مِمَّنْ تَكَلَّمُوا فِيهِمْ ثُمَّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ وَهُوَ الْإِمَامُ لِأَهْلِ الْحِجَازِ بَعْدَ مَالِكٍ رَوَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أبى يحى الْأَسْلَمِيِّ وَأَبِي دَاوُدَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو النَّخَعِيِّ وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْمَجْرُوحِينَ
وَهَذَا أَبُو حَنِيفَةَ إِمَامُ أَهْلِ الْكُوفَةِ رَوَى عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ وَأَبِي الْعَطُوفِ الْجَرَّاحِ بْنِ الْمِنْهَالِ الْجَزَرِيِّ وَغَيْرِهِمَا مِنَ الجروحين ثُمَّ بَعْدَهُ أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاضِي وَأَبُو عَبْدِ الله محمد بن الحسن الشيبنى حدثا جَمِيعًا عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُحَرَّرِ وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْمَجْرُوحِينَ وَكَذَلِكَ مِنْ بَعْدِهِمَا أَئِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ وَعَصْرًا بَعْدَ عَصْرٍ إِلَى عَصْرِنَا هَذَا لَمْ يَخْلُ حَدِيثُ إِمَامٍ مِنْ أَئِمَّةِ الْفَرِيقَيْنِ عَنْ مَطْعُونٍ فِيهِ مِنَ الْمُحدثينَ وَلِلْأَئِمَّةِ فِي ذَلِكَ غَرَضٌ ظَاهِرٌ وَهُوَ أَنْ يَعْرِفُوا الْحَدِيثَ مِنْ أَيْنَ مَخْرَجُهُ وَالْمُنْفَرِدُ به عدل أو مجروح
خلاصہ :
امام مالک ، شافعی ، ابو حنیفہ رحمھم اللہ سب نے مجروح رواة سے روایات لیں ہیں ، اور ایسا کام ہر صدی میں ہوتا رہا ہے ہر دور کے علماء کرتے رہے ہیں ، غرض یہ تھی ان آئمہ کی کہ وہ جان سکیں منفرد روایات میں کونسا راوی عادل ہے کونسا مجروح ہے اور یہ حدیث آئی کہاں سے ہے۔
(المدخل إلى كتاب الإكليل ١/٣١)
قارئین کرام ، غیر مقلدین کا تعصب دیکھیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے معاملے میں وہ اتنا اچھلتے ہیں کہ امام صاحب نے مجروح راوی سے روایت لی ہے اور احناف پر طعن کرتے ہیں کہ ابو حنیفہ حدیث میں کچھ نہ تھے تبھی مجروح رواہ سے روایات لیں ، جیسا کہ غیر مقلد ارشاد الحق اثری نے اپنی کتاب اعلاء السنن فی المیزان میں لکھا ہے ۔
امام صاحب کے شیوخ میں ایک نام ابو العطوف جراح بن منہال ہے۔ جسے امام نسائی، دولابی ابو حاتم،دارقطنی رحمۃ اللہ علیہم نے متروک ،امام یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ اور ابن الجارود رحمۃ اللہ علیہ نے لیس بشیء ابن المدینی نے لایکتب حدیثہ، ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے ضعیف کہا ہے ۔۔۔۔ آگے لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ یہاں یہ بات بھی اشارۃ عرض کئے دیتا ہوں کہ علامہ کوثری رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا جراح سے روایت لینے پر اپنے روایتی انداز میں دفاع کیا ہے شائقین اس کی حقیقت التنکیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ ان شاء اللہ علامہ کوثری کی تلبیسات کا پردہ چاک ہو جائے گا۔یہاں وہ تفصیل طویل کا باعث بنے گی
(اعلاء السنن فی المیزان ،1/ ، 109 108) .
جبکہ باقی آئمہ جب مجروح رواہ کا دفاع بھی کرتے ہیں تو ، یہ منافق غیر مقلد نام نہاد اہکحدیث فرقہ چپ ہو جاتے ہیں ، ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے ، زبانوں کو تالا لگ جاتا ہے ۔
المجروحین لابن حبان کی جس صحیح سند والی روایت کو لیکر غیر مقلدین نے امام صاحب پر جس طرح سے اعتراض کیا ، اسی کتاب میں امام شافعی رحمہ اللہ کے استاد کا حال بھی دیکھ لیں ۔
إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى الأسلمي
مولى أسلم من أهل المدينة، واسم أبي يحيى سمعان، كان مالك وابن المبارك ينهيان عنه، وتركه يحيى القطان وابن مهدي، وكان الشافعي يروي عنه، وكان إبراهيم يرى القدر ويذهب إلى كلام جهم، ويكذب مع ذلك في الحديث.
( المجروحين لابن حبان ت حمدي ٢/١٠٢ )
امام شافعی رحمہ اللہ کے اس استاد پر کذاب ، رافضی ، قدری ، متروک کی جروحات ہیں ، کئی آئمہ نے ان کو ترک کیا ہے (جیسا کہ ارشاد الحق اثری نے جراح بن منہال کے بارے میں لکھا ، تقریبا وہی جروحات اسی راوی پر ہیں)
(التقريب ٢٤١، فقه الإسلام = شرح بلوغ المرام ٨/١٦٨ )
لیکن غیر مقلدین یہاں خاموش ہیں ۔ یہ دوہرا معیار کیوں ؟
دواری بات امام کوثری نے جراح بن منہال سے روایت لینے پر دفاع کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کذاب استاد کا دفاع ضرور کیا ہے ۔ملاحظہ ہو۔
دکتور قلعہ جی لکھتے ہیں
قال ابن حبان: «وأما الشافعي فإنه كان يجالسه في حداثته، ويحفظ منه حفظ الصبي، والحفظ في الصغر كالنقش في الحجر، فلما دخل مصر في آخر عمره فأخذ يصنف الكتب المبسوطة احتاج إلى الأخبار ولم تكن معه كتبه فأكثر ما أودع الكتب من حفظه، فمن أجله ما روى عنه، وربما كنى عنه ولا يسميه. المجروحين»١: ١٠٧«.
وقال الذهبي في الميزان»١/ ٥٨«: قال الربيع: سمعت الشافعي يقول: كان قدريًّا، قال يحيى بن زكريا ابن حيويه، فقلت للربيع: فما حمل الشافعي على الرواية عنه؟ قال: كان يقول: لأن يخر من السماء أحب إليه من أن يكذب. وكان ثقة في الحديث.
وقال الربيع: كان الشافعي إذا قال: حدثنا من لا أتهم، يريد به إبراهيم بن أبي يحيى.
وقال ابن عدي:»ليس بمنكر الحديث، وقد حدث عنه الثوري، وابن جريج، والكبار«، عقب الذهبي بعد ذلك فقال:»الجرح مقدم«.
مفہوم : امام شافعی نے ایک ایسے شخص (إِبراهيم بن أَبي يحيى الاسلمی) سے روایت کیوں لی جس کے بارے میں ان کے نزدیک کچھ کلام کیا گیا تھا تھا۔ ابن حبان کہتے ہیں کہ الشافعی نے اپنی جوانی میں اس شخص کے ساتھ وقت گزارا اور بچپن میں حاصل کردہ علم کے اثرات کی طرح یہ یادیں ان کے ذہن میں نقش ہوگئیں۔ جب الشافعی مصر میں آئے تو انہیں کتب کی ضرورت پیش آئی اور انہوں نے اپنی یادداشت سے بہت کچھ بیان کیا، جس کی وجہ سے بعض اوقات وہ اس شخص کا نام لیے بغیر اس کا حوالہ دیتے تھے۔
امام ذهبی کے مطابق، الشافعی نے اس شخص کو ایک ایسے راوی کے طور پر جانا جو کہ جھوٹ نہیں بولتا تھا۔ ربیع نے ذکر کیا کہ الشافعی کہتے تھے کہ "آسمان سے گرے جانے کو ترجیح دوں گا، بجائے اس کے کہ میں جھوٹ بولوں" ، اور وہ اس راوی کی صداقت پر یقین رکھتے تھے۔ ابن عدی نے بھی کہا کہ وہ حدیث میں ناپسندیدہ نہیں تھے، اور کئی بڑے حضرات نے ان سے روایت کی ہے۔
امام ذهبی نے ابن عدی کی اس بات پر تعاقب کیا اور کہا کہ اس راوی پر "جرح" مقدم ہے(یعنی ابن عدی کا صرف امام شافعی کی وجہ سے تاویل کر کہ اس راوی پر سے جروحات کو کم کرنا ، قابل قبول نہیں)
(الثقات للعجلي ت قلعجي ١/٥٦ )
ذیل کے اقتباس میں بھی یہی بحث کی گئی ہے۔
وفيه إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى الأسلمي كذاب. فقد كذبه بشر بن المفضل ويحيى بن سعيد وابن معين والنسائي وعلي بن المديني والدارقطني وابن حبان حتى قال فيه ابن معين:» كان فيه ثلاث خصال، كان كذابًا، وكان قدريًا، وكان رافضيًا إلا أن الإمام الشافعي كان يدافع عنه ويقول: لأن يخر من السماء أحب إليه من أن يكذب وكان ثقة في الحديث.
(تحية المسجد ١/٤٣ — محمد ضياء الرحمن الأعظمي ت ١٤٤١)
امام شافعی نے جو اس کذاب راوی کا دفاع کیا ہے ، یہاں غیر مقلدین کیوں کچھ نہیں کہتے ، کیا تنقید کیلئے صرف احناف اور ابو حنیفہ ہی باقی ہیں ، شوافع ، محدث ابن عدی اور امام شافعی پر تنقید غیر مقلد کیوں نہیں کرتے ؟
اسی طرح امام احمد نے عامر بْن صالح الزبيري مديني سے روایت لی ہے (الكامل في
ضعفاء الرجال ٦/١٥٥ ) جبکہ اسی راوی کو حافظ ابن حجر نے متروک الحدیث کہا ہے (التقریب ص٢٨٧ ) ، جبکہ (المجروحين ٢/ ١٨٨) میں ابن حبان نے کہا کہ یہ موضوع روایت بیان کرتا ہے ، امام یحیی بن معین نے کہا کہ یہ کذاب ہے۔
(المجروحين لابن حبان ت حمدي ١٤/١٧٩) امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل پاگل ہو گئے ہیں جو عامر بن صالح سے روایت کرتے ہیں ( الکامل 5 / 83 ) ۔
کیا غیر مقلدین اور خصوصا ارشاد الحق اثری امام احمد کے خلاف بھی وہی کچھ طعن کرے گیں جو امام صاحب اور احناف کے خلاف کیا ؟ امام احمد پر تنقید سے سعودی عرب سے وظیفہ و روزی روٹی بند ہونے کا ڈر ہے ، کہ پھر کون غیر مقلدوں کی کتب کو عربی میں ترجمہ کروا کہ سعودیہ میں پھیلائے گا ، آئے دن ریال کہاں سے آئیں گے .
أخبرنا البرقاني، أخبرنا أبو يحيى زنجويه بن حامد بن حمدان النصري الإسفراييني - إملاء - حدثنا أبو العباس السراج قال: سمعت أبا قدامة يقول: سمعت سلمة بن سليمان قال: قال رجل لابن المبارك: كان أبو حنيفة مجتهدا، قال: ما كان بخليق لذاك، كان يصبح نشيطا في الخوض إلى الظهر، ومن الظهر إلى العصر، ومن العصر إلى المغرب، ومن المغرب إلى العشاء، فمتى كان مجتهدا؟.
سند میں برقانی رحمہ اللہ کے شیخ مجہول ہیں لہذا سند ضعیف ہے ۔
(2) ۔ مذکورہ اعتراض کے بر عکس امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فقیہ
اور مجتہد مانتے تھے (تاریخ بغداد 15/469 سند : صحیح)
مزید تفصیل قارئین " النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود ( تانیب الخطیب ) امام ابو حنیفہ ؒ پر اعتراض نمبر 89 ، 96 میں دیکھ سکتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
06 :-امام اہلسنت عبداللہ ابن المبارک(متوفی 181ھ) نے
فرمایا:
أَخْبَرَنِي الخلال، قَالَ: حَدَّثَنِي عبد الواحد بن علي الفامي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سالم مُحَمَّد بن سعيد بن حماد، قال: قال أَبُو داود سليمان بن الأشعث السجستاني، قال ابن المبارك: ما مجلس ما رأيت ذكر فيه النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قط ولا يصلى عليه إلا مجلس أبي حنيفة،(تاريخ بغداد)
میں نے ایسی کوئی مجلس نہیں دیکھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم، کا ذکر کیا جائے اور ان پر درود نہیں پڑھا جائے ماسوائے ابو حنیفہ کی مجلس (وسند صحیح)۔
جواب :
یہ روایت منقطع ہے ۔ کیونکہ امام ابو داود (202ھ-275ھ)کی ابن مبارک(متوفی 181ھ) سے ملاقات ثابت ہی نہیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنِ بْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ: كُنْتُ إِذَا شِئْتُ رَأَيْتُ سُفْيَانَ مُصَلِّيًا وَإِنْ شِئْتُ رَأَيْتُهُ مُحَدِّثًا وَإِنْ شِئْتُ رَأَيْتُهُ فِي غَامِضِ الْفِقْهِ وَمَجْلِسٌ آخَرُ شَهِدْتُهُ مَا صُلِّيَ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي النُّعْمَانَ (التاريخ الأوسط ٢/١٥١ , التاريخ الكبير للبخاري - ت الدباسي والنحال ٥/١٠٥ )
حَدَثَنَا عَبْدُ اللَّهِ نا الْحَسَنُ نا يَعْقُوبُ نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: كَانَ يُعْجِبُنِي مُجَالَسَةُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَكُنْتُ إِذَا شِئْتُ رَأَيْتُهُ مُصَلِيًا وَإِذَا شِئْتُ رَأَيْتُهُ فِي الزُّهْدِ وَإِذَا شِئْتُ رَأَيْتُهُ فِي الْغَامِضِ مِنَ الْفِقْهِ وَرُبَّ مَجْلِسٍ شَهِدْتُهُ مَا صُلِّيَ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ " قَالَ عَبْدَانُ: كَأَنَّهُ عَرَّضَ بِمَجْلِسِ أَبِي حَنِيفَةَ۔ (جامع بيان العلم وفضله 2/1086)
ترجمہ:
"ابنِ مبارک فرماتے ہیں: مجھے سفیان ثوری کی مجالس بہت پسند تھیں۔ میں جب چاہتا انہیں زہد و ورع میں پاتا، جب چاہتا نماز پڑھتے دیکھتا اور جب چاہتا فقه کے غامض (پیچیدہ) مسائل میں غواصی کرتے دیکھتا۔ لیکن ایک اور مجلس جس میں، میں حاضر ہوا، میں نہیں جانتا کہ انہوں نے نبی ﷺ پر درود پڑھا ہو یہاں تک کہ وہ شور و غوغا پر اٹھے— یعنی ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کی مجلس۔"
اس روایت کا اصولی، فقهی اور علمی محاکمہ
قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
وقال زكريا: سمعت عبدان وعلي بن شقيق كليهما يقولان.
سند میں محمد بن عمر الجوہری ضعیف ہیں۔ عمر بن محمد بن عيسى الجوهري کے بارے میں خود خطیب نے لکھا ہے اس کی روایتوں میں نکارت ہوتی ہے ، لہذا اعتراض باطل ہے۔
عمر بن محمد بن عيسى الجوهري هو عمر بن محمد بن عيسى بن سعيد المعروف بالسذابي قال الخطيب في بعض حديثه نكرة
(تاريخ بغداد ت بشار ج13/ص74)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
07 :-امام اہلسنت عبداللہ ابن المبارک(متوفی 181ھ) سے ابوحنیفہ نے کہا:
امام ابو محمد ابن قتیبہ دینوری(متوفی276ھ) نے فرمایا:
قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، وَهُوَ ابْنُ رَاهَوَيْه )المتوفى 238ه)، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ (وكيع بن الجراح (المتوفى 196 ه)ـ أَنَّ أَبَا حَنِيفَةَ قَالَ: مَا بَالُهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ كُلِّ رَفْعٍ وَخَفْضٍ؟ أَيُرِيدُ أَنْ يَطِيرَ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ4: إِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَطِيرَ إِذَا افْتَتَحَ، فَإِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَطِيرَ إِذا خفض وَرفع. (تأويل مختلف الحديث)
یعنی حدیث بیان کی اسحاق بن راہویہ(متوفی 238ھ) نے، ان سے انکے شیخ وکیع بن جراح(متوفی 196ھ) سے انہونے فرمایا: ابو حنیفہ نے مزاق اڑاتے ہوئے ابن المبارک سے کہا تجھے کیا ہے کہ نماز میں رکوع کرتے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے ہاتھوں کو اٹھاتا ہے یعنی رفع یدین کرتا ہے کیا اڑنے کا ارادہ ہے۔
امام عبداللہ ابن المبارک نے جواب دیا:اگر تو نماز شروع کرتے وقت جو ہاتھوں کو رفع یدین کرتا ہے ایسا اڑنے کے ارادہ سے کرتا ہے تو میں بھی رکوع کرتے اور رکوع سے اٹھتے وقت ایسا اڑنے کے ارادے سے کرتا ہوں
جواب :
" عبداللہ بن المبارک اور رفع الیدین کے واقعہ پر ایک نظر "
رفع یدین کا مسئلہ اگرچہ جزئی اور فروعی مسئلہ ہے لیکن بعض محدثین نے اس مسئلہ میں حد سے زیادہ تشدد اختیار کیا اوراس کو فرائض و واجبات تک کی جگہ دے کر رفع یدین نہ کرنے والوں کی نماز تک باطل قراردے دی ، جیسا کہ حمیدی اور بعض دیگر روات سے منقول ہے۔
وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَذَهَبَ إِلَى ذَلِكَ الْحُمَيْدِيُّ فِيمَنْ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ عَلَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الصَّلَاةَ فَاسِدَةٌ أَوْ نَاقِصَةٌ وَرَأَى بَعْضُهُمْ عَلَيْهِ الْإِعَادَةَ
(التمہید لابن عبدالبر 9/226)
اوزاعی سے منقول ہے اورحمیدی کا بھی قول ہے کہ جس نے ابن عمر کی حدیث پر رفع یدین نہیں کیا اس کی نماز فاسد یا ناقص ہے اوربعض نے نماز لوٹانے کی بھی بات کہی ہے۔
لیکن ظاہر ہے کہ یہ قول دلیل سے عاری اور خالی ہے کسی چیز کا مسنون ہونا الگ شے ہے اور کسی چیز کا فرض و واجب ہونا الگ بات ہے۔ مخالف کے زعم اور زور میں سنت کو فرض و واجب قرار دے دینا علمی منہج نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ ابن عبدالبر ان حضرات کی رائے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
وَلَيْسَ هَذَا بِصَحِيحٍ عِنْدَنَا لِمَا ذَكَرْنَا لِأَنَّ إِيجَابَ الْإِعَادَةِ إِيجَابُ فَرْضٍ وَالْفَرَائِضُ لَا تَثْبُتُ إِلَّا بِحُجَّةٍ أَوْ سُنَّةٍ لَا مُعَارِضَ لَهَا أَوْ إِجْمَاعٍ مِنَ الْأُمَّةِ۔
اوریہ چیز ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے جیساکہ ہم نے اس کے دلائل ماقبل میں ذکر کئے۔ اس لئے اعادہ کو واجب قرار دینا کسی چیز کو فرض قراردینا ہے اور فرائض دلیل قطعی یا پھر ایسی سنت سے ثابت ہوتے ہیں جس کا کوئی معارض نہ ہو یا اس پر امت کا اجماع ہو ۔
اوزاعی تو اس مسئلہ میں اتنے گرم ہو گئے کہ سفیان ثوری کو ملاعنہ یعنی ایک دوسرے پر لعنت کرنے تک کی دعوت دے ڈالی ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمَيْحٍ ثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّبَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ: اجْتَمَعَ الْأَوْزَاعِيُّ وَالثَّوْرِيُّ بِمِنًى، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ لِلثَّوْرِيِّ " لِمَ لَا تَرْفَعُ يَدَيْكَ فِي خَفْضِ الرُّكُوعِ وَرَفْعِهِ؟ " فَقَالَ الثَّوْرِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ " أَرْوِي لَكَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:118] عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُعَارِضُنِي بِيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَيَزِيدُ رَجُلٌ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ وَحَدِيثُهُ مُخَالِفٌ لِلسُّنَّةِ " قَالَ: فَاحْمَارَّ وَجْهُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: " كَأَنَّكَ كَرِهْتَ مَا قُلْتُ " قَالَ الثَّوْرِيُّ: نَعَمْ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: " قُمْ بِنَا إِلَى الْمَقَامِ نَلْتَعِنُ أَيُّنَا عَلَى الْحَقِّ " قَالَ: فَتَبَسَّمَ الثَّوْرِيُّ لَمَّا رَأَى الْأَوْزَاعِيَّ قَدِ احْتَدَّ "
سنن بیہقی 2/117
اس کے ساتھ امام بخاری نے جزء رفع الیدین میں ترک رفع والوں پرجس غیظ وغضب کا اظہار کیا ہے اس کو نرم لفظوں میں بھی کہیں تو حدود سے متجاوز ہے جب کہ یہ بات واضح ہے کہ رفع یدین اورترک رفع یدین پر صحابہ ایک دوسرے کی نکتہ چینی نہیں کرتے تھے ۔ اورنہ یہ عمومی طور پر علماء فقہاء اورمحدثین کا شیوہ اور طریقہ کار رہاہے کہ وہ ترک رفع کرنے والوں کو مخالف سنت کے نام سے یاد کریں یامخالفت سنت کا طعنہ دیں۔ ابن عبدالبر لکھتے ہیں۔
وَقَدْ أَكْثَرَ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْكَلَامِ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَفَرَطَ بَعْضُهُمْ فِي عَيْبِ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ وَلَا وَجْهَ لِلْإِكْثَارِ فِيهِ
التمہید لابن عبدالبر 9/228
اہل علم نے اس باب میں بہت زیادہ کلام کیا ہے اوران میں سے بعض نے ترک رفع کرنے والوں کے خلاف حد سے تجاوز کیا ہے جب کہ اس کی کوئی ضرورت اوروجہ نہیں ہے۔
اس تعلق سے عمومی طور پر ایک قصہ اور واقعہ ابن المبارک اور امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ والرضوان کا بھی بیان کیاجاتا ہے ۔ دور حاضر کے غیر مقلدین اس واقعہ کو خوب اچھالتے اور نمایاں کرتے ہیں اورایسا سمجھتے ہیں کہ یہ حضرت عبداللہ بن المبارک کی جانب سے امام ابوحنیفہ پر کوئی طنز ،طعن اور تعریض تھا حالانکہ اس واقعہ کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ یہ استاد و شاگرد کے درمیان ایک قسم کی خوش طبعی تھی اوربس !
واقعہ کیا ہے؟
اس واقعہ کو متعدد محدثین نے نقل کیا ہے ذرا ذیل میں ان تمام پر ایک نگاہ ڈالی جائے واقعہ کی جزئیات میں اختلاف ہے۔ ہم اس اختلاف کو ذرا واضح کرتے ہیں کہ کس نے کیسے اور کس طور پر نقل کیاہے۔
امام بخاری نقل کرتے ہیں۔
وَلَقَدْ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: كُنْتُ أُصَلِّي إِلَى جَنْبِ النُّعْمَانِ بْنِ ثَابِتٍ فَرَفَعْتُ يَدَيَّ فَقَالَ: مَا خَشِيتَ أَنْ تَطِيرَ؟ فَقُلْتُ إِنْ لَمْ أَطِرْ فِي الْأُولَى لَمْ أَطِرْ فِي الثَّانِيَةِ قَالَ وَكِيعٌ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى ابْنِ الْمُبَارَكِ كَانَ حَاضِرَ الْجَوَابِ فَتَحَيَّرَ الْآخَرُ
قرۃ العینین برفع الیدین فی الصلاۃ ص 37
عبداللہ بن احمد بن حنبل نقل کرتے ہیں
حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْعَطَّارِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَعْنِي ابْنَ شَبُّوَيْهِ، قَالَ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: " قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ لِابْنِ الْمُبَارَكِ: تَرْفَعُ يَدَيْكَ فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ كَأَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَطِيرَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ: إِنْ كُنْتَ أَنْتَ تَطِيرُ فِي الْأُولَى فَإِنِّي أَطِيرُ فِيمَا سِوَاهَا، قَالَ وَكِيعٌ جَادَّ مَا حَاجَّهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ "
السنہ لعبداللہ بن احمد بن حنبل ص 276
ابن قتیبہ لکھتے ہیں۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، وَهُوَ ابْنُ رَاهَوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ أَنَّ أَبَا حَنِيفَةَ قَالَ: مَا بَالُهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ كُلِّ رَفْعٍ وَخَفْضٍ؟ أَيُرِيدُ أَنْ يَطِيرَ؟
فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: إِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَطِيرَ إِذَا افْتَتَحَ، فَإِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَطِيرَ إِذا خفض وَرفع.
تاویل مختلف الحدیث 1/106
ابن حبان نقل کرتے ہیں
- أَحْمد بن الْوَلِيد الْكَرْخِي من أهل سامرا يروي عَن أبي نعيم والعراقيين حَدَّثنا عَنهُ حَاجِب بن أركين وَغَيره ثَنَا مُحَمَّد بن إِسْحَاق الثَّقَفِيّ ثَنَا أَحْمد بن الْوَلِيد الْكَرْخِي ثَنَا أَبُو هِشَام الرِّفَاعِي قَالَ سَمِعت وكيعا يَقُول سَأَلَ بن الْمُبَارك أَبَا حنيفَة عَن رجل يرفع يَدَيْهِ فَقَالَ يُرِيد أَن يطير فَأَجَابَهُ بن الْمُبَارك إِن يطر فِي الثَّانِيَة فَهُوَ يُرِيد أَن يطير فِي الأولى
الثقات لابن حبان 8/45
امام بیہقی سنن کبری میں نقل کرتے ہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الصَّائِغُ، بِمَرْوَ ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْخَطَّابِ السُّلَمِيُّ، وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ يُونُسَ، ثنا وَكِيعٌ قَالَ: " صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَإِذَا أَبُو حَنِيفَةَ قَائِمٌ يُصَلِّي، وَابْنُ الْمُبَارَكِ إِلَى جَنْبِهِ يُصَلِّي، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا رَكَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَأَبُو حَنِيفَةَ لَا يَرْفَعُ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ لِعَبْدِ اللهِ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تُكْثِرُ رَفْعَ الْيَدَيْنِ، أَرَدْتَ أَنْ تَطِيرَ؟ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: يَا أَبَا حَنِيفَةَ قَدْ رَأَيْتُكَ تَرْفَعُ يَدَيْكَ حِينَ افْتَتَحْتَ الصَّلَاةَ فَأَرَدْتَ أَنْ تَطِيرَ؟ فَسَكَتَ أَبُو حَنِيفَةَ " قَالَ وَكِيعٌ فَمَا رَأَيْتُ جَوَابًا أَحْضَرَ مِنْ جَوَابِ عَبْدِ اللهِ، لِأَبِي حَنِيفَةَ
سنن بیہقی 2/117
خطیب بغدادی لکھتے ہیں
أَخْبَرَنَا الخلال، قَالَ: حَدَّثَنَا عبد الله بن عثمان الصفار، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بن مخلد، قَالَ: حَدَّثَنَا العباس بن مُحَمَّد، قَالَ: حَدَّثَنَا إبراهيم بن شماس، قال: سمعت وكيعا، يقول: سأل ابن المبارك أبا حنيفة عن رفع اليدين في الركوع، فقال أَبُو حنيفة: يريد أن يطير فيرفع يديه؟ قال وكيع: وكان ابن المبارك رجلا عاقلا، فقال ابن المبارك: إن كان طار في الأولى فإنه يطير في الثانية، فسكت أَبُو حنيفة ولم يقل شيئا
15/530تاریخ بغداد
ابن عبدالبر لکھتے ہیں۔
وَرُوِي عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي حَنِيفَةَ فَرَفَعْتُ يَدَيَّ عِنْدَ الرُّكُوعِ وَعِنْدَ الرَّفْعِ مِنْهُ فَلَمَّا انْقَضَتْ صَلَاتِي قَالَ لِي أَرَدْتَ أَنْ تَطِيرَ فَقُلْتُ لَهُ وَهَلْ مَنْ رَفَعَ فِي الْأُولَى يُرِيدُ أَنْ يَطِيرَ فَسَكَتَ
التمہید لابن عبدالبر9/299
ان کتابوں سے نقل کردہ اقتباس سے یہ بات ظاہر ہے کہ جس نے بھی نقل کیاہے روایت بالمعنی کیا ہے اور ہر ایک نے اپنے اپنے اعتبار سے نقل کیاہے۔
واقعہ کا قدر مشترک امر یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ نے رفع یدین کو اڑنے سے تعبیر کیا اورامام عبداللہ بن المبارک نے تکبیر تحریمہ میں رفع یدین کو بقیہ رفع یدین کے مماثل قراردے کر کہا کہ اگر وہ اڑنا ہے تویہ بھی اڑنا ہے اوراگر وہ اڑنا نہیں ہے تو یہ بھی اڑنا نہیں ہے.
" اختلاف کہاں کہاں پر ہے؟"
1. "پہلا اختلاف"
عبداللہ بن المبارک کو نماز پڑھتے دیکھ کر امام ابوحنیفہ نے یہ بات کہی تھی یاعبداللہ بن المبارک نے رفع یدین فی الرکوع کے بارے میں سوال کیا تھا تب یہ بات کہی تھی!
تاریخ بغداد اور ثقات ابن حبان میں مذکور ہے کہ ابن مبارک نے رفع یدین کے تعلق سے امام ابوحنیفہ سے سوال کیا تھا۔جس پر امام ابوحنیفہ نے یہ بات کہی ۔
سمعت وكيعا، يقول: سأل ابن المبارك أبا حنيفة عن رفع اليدين في الركوع
15/530تاریخ بغداد
سَمِعت وكيعا يَقُول سَأَلَ بن الْمُبَارك أَبَا حنيفَة عَن رجل يرفع يَدَيْهِ
الثقات لابن حبان8/45
2. "دوسرا اختلاف"
یہ ہے کہ عبداللہ بن المبارک کے جواب پر امام ابوحنیفہ کا ردعمل کیا رہا۔
بخاری کی جزء رفع الیدین اور عبداللہ بن احمد بن حنبل وکیع سے عبداللہ بن المبارک کے جواب کی تحسین نقل کرتے ہیں۔ابن قتیبہ اور ابن حبان کی روایت میں نہ جواب کی تحسین ہے اورنہ سکوت کاذکر ہے۔بیہقی کی روایت میں سکوت کا بھی ذکر ہے اورجواب کی تحسین بھی ہے۔خطیب کی روایت میں فسکت کے بعد ولم یقل شیئا کا اضافہ ہے۔ابن عبدالبر نے صرف سکوت کا ذکر کیا ہے۔
3. تیسرا اختلاف
یہ ہے کہ عبداللہ بن المبارک نے کیا بات کہی تھی کہ 《ان کنت انت تصیر》 یاپھر 《ان لم اطر》
یعنی جواب میں امام ابوحنیفہ کو مخاطب کیا یا اپنے تعلق سے بات کہی۔ یعنی جواب میں انہوں نے یہ کہا
إِنْ لَمْ أَطِرْ فِي الْأُولَى لَمْ أَطِرْ فِي الثَّانِيَةِ
جزء رفع الیدین للبخاری
یاپھر یہ کہا
إِنْ كُنْتَ أَنْتَ تَطِيرُ فِي الْأُولَى فَإِنِّي أَطِيرُ فِيمَا سِوَاهَا
(کتاب السنۃ )
اب قبل اس کے کہ اصل موضوع پر بات کی جائے ۔فورم پر ایک صاحب نے اس واقعہ کا جو ترجمہ یاترجمانی کی ہے وہ دیکھ لیں
( ایک بار مسجد کوفہ میں امام ابن المبارک رحمہ اللہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ۔ ابن المبارک رحمہ اللہ رفع الیدین کرتے تھے ۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے نماز سے فارغ ہو کر ابن المبارک رحمہ اللہ سے کہا :
ترفع یدیک فی کل تکبیرۃ کانک ترید ان تطیر
” آپ نماز کی ہر تکبیر ( اس میں تسمیع بھی شامل ہے یعنی رکوع سے اٹھتے وقت ) میں رفع الیدین کرتے ہیں گویا اڑنا اور پرواز کرنا چاہتے ہیں ۔ “
امام ابن المبارک رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے جواب میں کہا :
ان کنت انت تطیر فی الاولیٰ فانی اطیر فیما سواھا
اگر آپ تحریمہ کے وقت رفع الیدین کرتے ہوئے ارادہ پرواز و اڑان رکھتے ہوں تو میں آپ ہی کی طرح باقی مواقع میں نماز میں پرواز کرنا چاہتا ہوں ۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ امام ابن المبارک رحمہ اللہ کے اس جواب سے اس طرح کی بات رفع الیدین کی بابت کہنے سے ہمیشہ کے لیے خاموش رہے ۔ امام وکیع نے امام ابن المبارک رحمہ اللہ کے اس جواب کی بڑی تحسین و تعریف کی ۔
عبارت تو انہوں نے صرف کتاب السنۃ لعبد اللہ بن احمد بن حنبل کا نقل کیاہے اور ترجمہ میں اپنی جانب سے یہ بڑھادیا ہے کہ
اس جواب اسے طرح کی بات رفع الیدین کی بابت کہنے سے ہمیشہ کیلئے خاموش رہے۔ خاص طور پر یہ لفظ ہمیشہ تو کسی بھی روایت میں نہیں ہے۔جس کی بناء پر یہ بات کہا جائے کہ موصوف نے کسی دوسری کتاب جس کا حوالہ دیاگیاہے اس سے نقل کیا ہو گا۔
قابل ترجیح روایت
اب سوال یہ ہے کہ ان تمام روایات میں سب سے زیادہ قابل قبول روایت کون سی ہوسکتی ہے۔
ایک بات تو یہ ہے کہ ہم امام بخاری کی روایت کو ترجیح دیں لیکن امام بخاری کی عبداللہ بن المبارک سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔لہذا انہوں نے وکیع یا پھر اسحاق بن راہویہ یا پھر کسی دوسرے سے یہ بات سنی ہوگی۔اگر وہ اپنے ماخذ اور مصدر کی صراحت کر دیتے تو ہمارے لئے اندازہ کرناآسان تھا۔
دوسرے طرف اس کے علاوہ بقیہ دیگر محدثین ہیں عبداللہ بن احمد بن حنبل تین واسطوں سے یہ واقعہ نقل کرتے ہیں۔خطیب ابن حبان ،ابن عبدالبر اورزیادہ چار پانچ چھ واسطوں سے یہ روایت نقل کرتے ہیں۔
ہاں صرف ابن قتیبہ ایسے ہیں جو اس کو صرف دو واسطوں یعنی ابن اسحاق اور وکیع سے روایت کرتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے کم واسطوں والی روایت ابن قتیبہ کی ہی ہے۔اور واسطے جتنے زیادہ کم ہوتے ہیں اتنے ہی اس میں غلطیوں کا امکان کم ہوتاہے ورنہ واسطے جتنے زیادہ ہوتے ہیں اس میں حذف و اضافہ کا امکان مزید بڑھ جاتاہے۔اس لحاظ سے دیکھیں تو سب سے کم واسطوں والی روایت ابن قتیبہ کی روایت ہے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، وَهُوَ ابْنُ رَاهَوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ أَنَّ أَبَا حَنِيفَةَ قَالَ: مَا بَالُهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ كُلِّ رَفْعٍ وَخَفْضٍ؟ أَيُرِيدُ أَنْ يَطِيرَ؟
فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: إِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَطِيرَ إِذَا افْتَتَحَ، فَإِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَطِيرَ إِذا خفض وَرفع.
تاویل مختلف الحدیث 1/106
وکیع کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ نے کہا اس شخص کا کیاحال ہے جو ہر اٹھک بیٹھک کے وقت رفع یدین کرتا ہے کیا وہ اڑناچاہتاہے توعبداللہ بن المبارک نے کہاکہ اگر وہ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرتے ہوئے اڑناچاہتا ہے تووہ دیگر مواقع رفع یدین میں بھی اڑنا چاہتا ہے۔
اس روایت میں نہ امام ابوحنیفہ کی خاموشی کا ذکر ہے ۔ نہ حیرانی کا ذکر ہے اور نہ ولم یقل شیئا مذکور ہے۔ اسی طرح اس روایت میں اس کا بھی اضافہ ہے کہ عبداللہ بن المبارک کی نماز کو دیکھ کر انہوں نے نہیں بلکہ کسی دوسرے فرد کی نماز کو دیکھ کر یہ بات کہی تھی۔
اس طرح اس باب میں تین باتیں ہوگئیں۔
1:عبد اللہ بن المبارک کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھ کر امام ابوحنیفہ نے یہ بات کہی
2:عبداللہ بن المبارک نے امام ابوحنیفہ سے رفع یدین کے تعلق سے سوال کیا تب انہوں نے یہ بات کہی
3:کسی دوسرے شخص کو نماز پڑھتے ہوئے رفع یدین کرتے دیکھ کر امام ابوحنیفہ نے یہ بات کہی
اب بات صرف اتنی ہی رہ جاتی ہے کہ قتیبہ پر جرح وغیرہ کیا گیا ہے لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ اسی کے ساتھ ان کی توثیق بھی ہوئی ہے اور خاص طورپر اس صورت میں جب کہ وہ اس کو ابن اسحق سے روایت کرتے ہیں اور ابن اسحاق سے ان کو خصوصی تعلق تھا۔اور یہ روایت بھی انہوں نے ابن اسحاق سے ہی بیان کیا ہے۔
امام ابوحنیفہ کا رفع یدین کو طیر سے تعبیر کا مقصد کیا تھا؟
دوسری بات یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ نے یہ بات کس طور پر کہی تھی کیا مقصد سنت کا استخفاف تھا یا پھر محض ابن مبارک سے خوش طبعی اوردل لگی تھی جس میں مذاق میں یہ بات کہی گئی۔ہمارے نزدیک امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کی یہ بات محض خوش طبعی کے طور پر تھی۔ اور عبداللہ بن المبارک نے بھی اس کو خوش طبعی سمجھ کر ہی ویساجواب دیا اورپھر عبداللہ بن المبارک کی حاضر جوابی کی تعریف کی۔
ہمارے یہ سمجھنے کی کچھ جوہات ہیں۔
عبد اللہ بن المبارک ابتداء سے ہی امام ابوحنیفہ سے وابستہ تھے اور وہی ان کی ہدایت اور ارتفاع حال کا ذریعہ اورشریک ذریعہ بنے۔
وَعَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: لَوْلا أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَدْرَكَنِي بِأَبِي حَنِيفَةَ وَسُفْيَانَ لَكُنْتُ بِدْعِيًّا "
(مناقب الامام ابی حنیفۃ 30)
عبد اللہ بن المبارک اساتذہ کاحد درجہ ادب و احترام کرتے تھے اوراس کے متعدد واقعات کتابوں میں درج ہیں کہ کس طرح انہوں نے حماد بن زید کی محفل میں طلاب حدیث کی درخواست پر جب حدیث سنائی تو تمام احادیث حماد بن زید کے واسطے سے ہی سنائی۔ اسی طرح سفیان بن عیینہ کی مجلس میں یہ کہہ کر جواب دینے سے منع کردیا کہ ہم کو اکابر کی موجودگی میں کلام کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت امام مالک کی مجلس میں آئے تو اپنے ادب کے ذریعہ ان کو بھی اپنا مداح بنالیا۔
اس کے علاوہ عبداللہ بن المبارک رفع یدین کے سلسلے میں کسی سخت نظریہ کے حامل اور قائل نہ تھے بلکہ عبداللہ بن المبارک تو سفیان ثوری کے شاگردی کے زمانہ میں بھی ترک رفع پر ہی عامل تھے اور وہ رفع یدین کرناچاہتے تھے لیکن ان کو خدشہ لگا رہتا تھا کہ کہیں سفیان منع نہ کردیں لہذا وہ اپنے ارادے سے باز آجاتے لیکن ایک مرتبہ پکا ارادہ کر لیاکہ اب جس چیز کو حق سمجھتا ہوں اس کو کیوں نہ کروں پھر وہ رفع یدین کرنے لگے جس پر سفیان ثوری نے ان کو منع نہیں کیا۔
عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ سُفْيَانَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَرْفَعَ يَدَيَّ إِذَا رَكَعْتُ وَإِذَا رَفَعْتُ فَهَمَمْتُ بِتَرْكِهِ وَقُلْتُ يَنْهَانِي سُفْيَانُ ثُمَّ قُلْتُ شَيْءٌ أَدِينُ اللَّهَ بِهِ لَا أَدَعُهُ فَفَعَلْتُ فَلَمْ يَنْهَنِي
(التمہید لابن عبدالبر)
دوسرے یہ غور کیجئے کہ کوفہ وہ شہر ہے جہاں کے تمام افراد ترک رفع پر عامل تھے۔چاہے سفیان ثوری ہوں امام ابوحنیفہ ہوں یاپھر وکیع بن الجراح اس واقعہ کے راوی ہوں سب کے سب ترک رفع یدین پر عامل تھے۔
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ مِنَ الْكِتَابِ الْكَبِيرِ لَا نَعْلَمُ مِصْرًا مِنَ الْأَمْصَارِ يُنْسَبُ إِلَى أَهْلِهِ الْعِلْمُ قَدِيمًا تَرَكُوا بِإِجْمَاعِهِمْ رَفْعَ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الْخَفْضِ وَالرَّفْعِ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا أَهْلَ الْكُوفَةِ ۔(تمہید9/213)
لہذا ابن مبارک جن کا علماء و مشائخ کا احترام ضرب المثل ہے وہ اپنے استاد کو جواب دینے میں برابری کا انداز نہیں اپنا سکتے ۔ استاد و شاگرد میں یامعاصرین میں خوش طبعی کی اس طرح کی مثالیں کتابوں میں بہت مل جاتی ہیں۔
قَالَ سَعِيْدُ بنُ مَنْصُوْرٍ: قَدِمَ وَكِيْعٌ مَكَّةَ، وَكَانَ سَمِيْناً، فَقَالَ لَهُ الفُضَيْلُ بنُ عِيَاضٍ: مَا هَذَا السِّمَنُ وَأَنْتَ رَاهِبُ العِرَاقِ?! قَالَ: هَذَا مِنْ فَرَحِي بِالإِسْلاَمِ، فَأَفَحَمَهُ.
سیراعلام النبلاء7/568
سعید بن منصور کہتے ہیں کہ وکیع مکہ آئے (وکیع موٹے تھے) توان سے فضیل بن عیاض نے کہا آپ کو عراق کا راہب(عبادت گزار) کہاجاتا ہے اس کے باوجود یہ موٹاپا (تعجب کی بات ہے)وکیع نے جواب دیا کہ یہ موٹاپن میرے اسلام کی خوشی کی وجہ سے ہے۔تو وکیع نے یہ کہہ کر فضیل بن عیاض کو لاجواب کردیا۔
نوٹ: ہوسکتا ہے کہ محض ترجمہ سے بات دوسروں کی سمجھ میں نہ آئے ۔لہذا اس جملہ کی مزید وضاحت کردوں
غم موٹاپا کا دشمن ہے چاہے وہ دین کا غم ہو یا دنیا کا غم ۔تو فضیل بن عیاض کاکہنا یہ تھا کہ آپ کو عراق کا راہب عبادت گزار کہاجاتاہے(اور وکیع تھے بھی ایسے ہی ہمیشہ روزہ رکھتے اورایک رات میں پورا قرآن ختم کرتے تھے) یعنی فکر آخرت آپ پر بہت زیادہ ہے اس کے باوجود یہ موٹاپا کیوں تو وکیع نے جواب دیا کہ فکر آخرت اپنی جگہ لیکن اللہ نے اسلام کی دولت سے نوازا ہے اس کی خوشی ہی اتنی زیادہ ہے کہ دیگر افکار و حزن اس خوشی کے سامنے پھیکے پڑگئے ہیں اوراسی وجہ سے یہ موٹاپا ہے۔
اس میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ کوئی علمی طور پر بات نہیں کی گئی ہے محض خوش طبعی سے فضیل بن عیاض نے ایک بات کہی اور اسی خوش طبعی سے اور ازراہ مزاح وکیع نے جواب دیا اورفضیل بن عیاض کو خاموش کردیا۔
ہمارا کہنا بھی یہی ہے کہ یہی خوش طبعی امام ابوحنیفہ اورعبد اللہ بن المبارک کے سوال جواب میں بھی موجود ہے۔ اوراس کی شہادت اس سے ملتی ہے کہ نہ امام ابوحنیفہ نے ترک رفع کے حق میں دلیل سے بات کہی اورنہ ہی ابن المبارک نے۔ امام ابوحنیفہ نے کثرت رفع یدین کو پرواز سے تعبیر کیا کہ بار بار ہاتھوں کو اٹھا رہے ہیں ایسالگتاہے کہ پرواز کی کوشش کی جارہی ہے اس پر ابن مبارک نے جواب دیاکہ پرواز کی کوشش تو اول مرتبہ کے رفع یدین سے ہی شروع ہوجاتی ہے اور بقیہ رفع یدین اسی پہلے رفع یدین کے اتمام کی کوشش اور تتمہ ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جو بات خوش طبعی اورمزاح کے طورپر کہی گئی تھی اورجس میں دلیل نام کی کوئی شے خوردبین سے بھی ڈھونڈی نہیں جاسکتی اس میں کفایت اللہ صاحب ترک رفع کے تمام دلائل کا توڑ دیکھ رہے ہیں۔ ویسے انسان جب دل میں ایک خیال قائم کر لے تو ہر چیز اسی کے مطابق دکھنے لگتی ہے۔اگر واقعتا یہ بات ہوتی کہ عبداللہ بن المبارک کے جواب میں ترک رفع کے تمام دلائل کا توڑ موجود ہوتا توپھر خود وکیع کیوں رفع یدین پر عامل نہیں ہوگئے۔ کیاکسی بھی سیرت اور ترجمہ کی کتاب میں اس کا اشارہ ملتاہے کہ وکیع نے کبھی رفع یدین کیاہو ۔اورجب یہ بات ثابت ہے کہ وکیع ترک رفع پر ہی عامل تھے جیساکہ دیگر کوفی حضرات تو پھر وکیع نے ترک رفع کے تمام دلائل کا توڑ ملنے کے باوجود کیوں رفع یدین شروع نہیں کردیا۔ کیا اس بات سے ان کی ثقاہت وعدالت مشتبہ نہیں ہو جائے گی۔
"امام ابو حنیفہ نے یہ بات کس کے متعلق کہی تھی؟"
امام ابوحنیفہ نے رفع یدین کو پرواز سے تعبیر کیا اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ سوال صرف اتنا تشنہ رہ جاتا ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن المبارک کو رفع یدین کرتے دیکھ کر اس کو پرواز سے تعبیر کیایا پھر کسی تیسرے شخص کو رفع یدین کرتے دیکھ کر اس کو پرواز سے تعبیر کیا۔
اگرکسی تیسرے شخص کی بات ہے تو یہ واضح ہے کہ بسا اوقات عوام الناس حدود شرعی کا خیال نہیں رکھتے۔اور جس چیز کی جتنی حد ہے اس سے بڑھا کر اس کو کرتے ہیں۔ جیساکہ ہم آج بھی دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو کان سے لگاناضروری سمجھتے ہیں کچھ لوگ کاندھوں سے سر تک اونچا کر لیتے ہیں۔ہاتھ باندھنے میں بھی اسی قسم کی بے اعتدالی دیکھنے کو ملتی ہے کچھ لوگ ناف کے نیچے کو مزید نیچے کر دیتے ہیں اورکچھ سیدھے سینے پر ہاتھ باندھتے ہیں اورکچھ لوگ وفور جوش میں سینے سے آگے بھی پہنچ جاتے ہیں تواس قسم کی تمام باتیں حدود شرعی سے متجاوز ہیں اگرکوئی سینے پر ہاتھ باندھنے والے کو یا پھر سینے سے بھی اوپر ہاتھ باندھنے کو کسی چیز سے تعبیر کرتا ہے تویہ تعبیر حدود شرعی سے تجاوز کی ہوگی نہ کہ حدود شرعی کی۔ مثلا ایک شخص انتہائی جلدی جلدی نماز پڑھا رہاہے تواس کو نماز چور کہا جا سکتا ہے تویہ جملہ نماز چور نماز کی توہین نہیں ہے بلکہ نمازی نے غیرشرعی طریقہ پر جو نماز پڑھی ہے اس کو بیان کرنے کیلئے ہے۔
اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ نے اشعار کو مثلہ کہاہے اس کی توجیہہ امام طحاوی نے یہ کی ہے کہ امام ابوحنیفہ نے نفس اشعار کو مثلہ کرنا نہیں کہا ہے کیونکہ وہ تو سنت ہے لیکن لوگوں نے اس میں جو بے اعتدالیاں شروع کردی تھیں اس کو انہوں نے مثلہ سے تعبیر کیاہے۔
یہی توجیہہ ہم یہاں بھی کرنا چاہیں گے کہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ والرضوان نے مذکورہ شخص کو جب رفع یدین میں بے اعتدالی کرتے دیکھا تو اس کو طیر یعنی پرواز سے تعبیر کیا۔عبداللہ بن المبارک نے اس پر کہا کہ یہ پرواز تو اس نے تکبیر تحریمہ سے ہی شروع کررکھا ہے۔ اگراس تناظر میں اس کو دیکھا جائے تو نہ کسی طنز کی بات ہے نہ تعریض کی بات ہے اور نہ ہی کسی چھینٹا کشی کی بات ہے بلکہ عبداللہ بن المبارک کی یہ بات امام ابوحنیفہ کی محض تائید و توثیق ہی ثابت ہوتی ہے۔
اوراگر بات یہ ہو کہ امام ابوحنیفہ نے عبد اللہ بن المبارک کو رفع یدین کرتے دیکھ کر یہ بات کہی تھی جیسا کہ کچھ روایات میں مذکور ہے توبھی اس سلسلے میں یہ واضح رہے عبداللہ بن المبارک ابتداء میں رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔رفع یدین کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا تھا لیکن اس خوف سے کہ سفیان ثوری منع کریں گے وہ رک جاتے تھے لیکن بعد میں یہ سوچ کر کہ جس چیز کو میں حق سمجھتا ہوں اس کو کیوں نہ کروں۔ انہوں نے رفع یدین کرنا شروع کردیا۔ اورسفیان ثوری نے ان کو منع نہیں کیا کیونکہ ظاہر سی بات ہے کہ رفع یدین کرنا نہ کرنا افضیلت کی بات ہے ۔ کفر و اسلام کا معرکہ تو نہیں ہے۔ہو سکتا ہے کہ اسی رفع یدین کے ابتداء کے بعد انہوں نے پہلی مرتبہ امام ابوحنیفہ کے سامنے نماز پڑھ کررفع یدین کیاہو اور جب انسان کسی چیز کو ابتداء میں کرتا ہے تو اس کی حدود کو ملحوظ نہیں رکھ پاتا۔اوراکثر و بیشتر اس سے بے اعتدالی اس سے ہوجاتی ہے۔
کبھی بے اعتدالی کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ہاتھوں کو جتنا اورجیسا اٹھانا چاہئے اس سے کم یا زیادہ اٹھاتاہے اور کبھی بے اعتدالی کی صورت یہ ہوتی ہے کہ رفع یدین جتنے اورجیسے مقامات پر کرنے چاہئے اس سے بھی زیادہ مقامات پر رفع یدین کرناشروع کردے۔
اس مقام پر کون سی بات ہوئی تھی ۔جہاں تک مجھے لگتاہے کہ انہوں نے تکبیر تحریمہ رکوع میں جاتے ہوئے اوررکوع سے اٹھتے ہوئے کے علاوہ دیگر تکبرات کے مواقع پر بھی رفع یدین شروع کیا تھا جیسا کہ اس کا اشارہ امام ابوحنیفہ کے جملہ
ترفع یدیک فی کل تکبیرۃ کانک ترید ان تطیر
(کتاب السنۃ)
تَرْفَعُ يَدَيْكَ فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ
(جزء رفع الیدین)
مَا بَالُهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ كُلِّ رَفْعٍ وَخَفْضٍ
(تاویل مختلف الحدیث)
سے بھی ملتا ہے کہ انہوں نے مطلقا رفع یدین نہیں بلکہ رفع یدین کی کثرت کی جانب بات کی ہے کہ ہر تکبیر کے ساتھ رفع کیا جا رہا ہے اور ہر اٹھتے بیٹھے وقت رفع یدین ہو رہا ہے اسی کو انہوں نے شاید طیر سے تعبیر کیاہے۔ ہر اٹھتے بیٹھے وقت رفع یدین کرنا بعض محدثین کا مسلک بھی رہاہے۔ ایسالگتا ہے کہ ابتداء میں عبداللہ بن المبارک نے ہر مقام پر رفع یدین شروع کیا تھا جس کو دیکھ کر امام ابوحنیفہ نے طیر سے تعبیر کیا۔
واضح رہے کہ رفع یدین میں بے اعتدالی اورمستحقہ مقام کے علاوہ رفع یدین کو حدیث میں اذناب خیل شموس سے بھی تعبیر کیا گیا ہے یعنی سرکش گھوڑوں کی دم سے۔ ابن عبدالبر اس سلسلے میں لکھتے ہیں۔
وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ الْمُتَأَخِّرِينَ لِلْكُوفِيِّينَ وَمَنْ ذَهَبَ مَذْهَبَهُمْ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ بِمَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بن عُلَيَّةَ الْقَاضِي بِدِمَشْقَ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَسِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم مالي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيَكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلِ شَمْسٍ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ وَهَذَا لَا حُجَّةَ فِيهِ لِأَنَّ الَّذِي نَهَاهُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ الَّذِي كَانَ يَفْعَلُهُ لِأَنَّهُ مُحَالٌ أَنْ يَنْهَاهُمْ عَمَّا سَنَّ لَهُمْ وَإِنَّمَا رَأَى أَقْوَامًا يَعْبَثُونَ بِأَيْدِيهِمْ وَيَرْفَعُونَهَا فِي غَيْرِ مَوَاضِعِ الرَّفْعِ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ وَكَانَ فِي الْعَرَبِ الْقَادِمِينَ وَالْأَعْرَابِ مَنْ لَا يَعْرِفُ حُدُودَ دِينِهِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا وَبَعَثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلِّمًا فَلَمَّا رَآهُمْ يَعْبَثُونَ بِأَيْدِيهِمْ فِي الصَّلَاةِ نَهَاهُمْ وَأَمَرَهُمْ بِالسُّكُونِ فِيهَا
(التمہید 9/222)
لہذا اگر امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ والرضوان نے رفع یدین میں بے اعتدالی کو دیکھ کر اس کو طیر سے تعبیر کیا تو یہ بھی ایک لحاظ سے حدیث کی ہی موافقت ہوئی ہے۔جیساکہ حدیث میں رفع یدین میں بے اعتدالی کو" سرکش گھوڑوں کی دموں" سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یہ بھی واضح رہنا چاہئے کہ امام ابوحنیفہ نے جس چیز کو طیر سے تعبیر کیاہے وہ نفس رفع یدین نہیں بلکہ کثرت رفع یدین ہے۔ جس کو بیشتر محدثین حضرات منسوخ یا حدیث ابن عمر سے مرجوح مانتے ہیں لہذا اگر منسوخ چیز پر عمل کرنے کو امام ابوحنیفہ نے طیر سے تعبیر کر دیا تواس میں شور مچانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
یہاں تک تو ہماری بحث اس بات پر تھی کہ اس روایت کا کیا مطلب نکل سکتا ہے اور امام ابوحنیفہ کے قول کا کیا محمل اور پہلو ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــ۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
08: قاضی عیاض مالکی (القاضي عياض بن موسى اليحصبي (المتوفى: 544هـ) ) نے لکھا ہے:
من أهل المشرق -عبد الله بن المبارك
قال الشيرازي(أبو اسحاق إبراهيم الشيرازي المتوفى476 هـ.
) تفقه بمالك والثوري، وكان أولاً من أصحاب أبي حنيفة ثم تركه ورجع عن مذهبه. قال ابن وضاح: ضرب آخراً في كتبه على أبي حنيفة ولم يقرأه للناس.
(ترتيب المدارك وتقريب المسالك)
سب یعنی شافعیوں کے شیخ ابو اسحاق شیرازی نے فرمایا ہے امام عبداللہ ابن المبارک نے امام مالک اور ثوری سے فقہ حاصل کیا اور ابتداء میں ابو حنیفہ کے اصحاب میں سے تھے، اور پھر انہیں چھوڑ دیا اور انکے مذہب سے رجوع کرلیا ، محمد بن وضاع قرطبی نے کہا ا نہوں نے اپنی کتابوں میں سے ابو حنیفہ کی روایات قلم زر کردیا تھا اور انہیں لوگوں کو سناتے بھی نہیں تھے۔
جواب :
شافعی مقلد کا بے سند قول خصوصا غیر مقلدوں کیلئے کس طرح حجت بن سکتا ہے ، ہاں چونکہ کوئی صحیح روایت غیر مقلدوں کے پاس تھی ہی نہیں ، اس لئے انہوں نے قاضی عیاض کے حوالے سے لکھا۔
گر قول مقلد ہی کا ماننا ہے تو امام ابو الولید باجی رحمہ اللہ نے تو امام عبداللہ بن مبارک کو اصحاب ابو حنیفہ کے تعلق سے لکھا ہے
قَالَ الْقَاضِي أَبُو الْوَلِيدِ وَعِنْدِي أَنَّ هَذِهِ الرِّوَايَةَ غَيْرُ صَحِيحَةٍ عَنْ مَالِكٍ؛ لِأَنَّ مَالِكًا عَلَى مَا يُعْرَفُ مِنْ عَقْلِهِ وَعِلْمِهِ وَفَضْلِهِ وَدِينِهِ وَإِمْسَاكِهِ عَنْ الْقَوْلِ فِي النَّاسِ إلَّا بِمَا يَصِحُّ عِنْدَهُ وَثَبَتَ لَمْ يَكُنْ لِيُطْلِقَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ مَا لَمْ يَتَحَقَّقْهُ وَمِنْ أَصْحَابِ أَبِي حَنِيفَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَقَدْ شُهِرَ إكْرَامُ مَالِكٍ لَهُ وَتَفْضِيلُهُ إيَّاهُ،
المنتقى شرح الموطإ ، أبو الوليد الباجي جلد 7 صفحہ 300
جب کہ عبداللہ بن مبارک سے ترک والے موضوع پر اوپر بیان ہو چکا ہے
قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود


















تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں