نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، جلیل القدر محدث و فقیہ امیر المومنین فی الحدیث امام عبد اللہ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں


امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، جلیل القدر محدث و فقیہ امیر المومنین فی الحدیث امام عبد اللہ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

امام عبد اللہ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ جو خود امیر المومنین فی الحدیث ہیں، جو خود جلیل القدر محدث و فقیہ ہیں، لیکن اس کے باوجود امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی بہت زیادہ تعریف کرنے والے ہیں۔ آپ کی شان دنیا کے سامنے لانے والے ہیں، آپ کی تعریف بھی کرتے ہیں اور اعتراض کرنے والوں کو جواب بھی دیتے ہیں.  یہاں آپ لوگوں کی خدمت میں کچھ حوالہ جات پیش کر رہے ہیں، جس سے امام عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ کی نظر میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی حیثیت واضح ہو جاتی ہے۔

عداوتِ امامِ اعظم پر مقتِ الٰہی کا انذار اور ابن المبارک کی قلبی اذیت

امام عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

1:- حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّادٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي رَزْمَةَ، عَنْ عَبْدَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ أَبَا حَنِيفَةَ بِسُوءٍ سَاءَنِي ذَلِكَ، وَأَخَافُ عَلَيْهِمُ الْمَقْتَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

ترجمہ: جب یہ لوگ (جو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر اعتراض کرتے ہیں) امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ برائی سے کرتے ہیں تو مجھے تکلیف ہوتی ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ امام صاحب رحمہ اللّٰہ کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ان لوگوں پر کہیں اللہ کا عذاب نازل ہی نا جائے (فضائل ابی حنیفہ رحمہ اللہ 76 سند صحیح)

سند کی تحقیق:

  • 1:- محمد بن احمد بن حماد یعنی ابو بشر دولابی رحمہ اللّٰہ ثقہ ہیں ۔ جیسا کہ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کے قول سے واضح ہوتا ہے...

  • 2:- احمد بن قاسم البرطی بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام خطائب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا (تاریخ بغداد 575/5)

  • 3:- (محمد) ابن ابی رزمہ بھی ثقہ ہے جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔ (الکاشف 216)

  • 4:- عبدان یعنی عبد اللہ ابن عثمان رحمہ اللّٰہ بھی ثقہ ہے جیسا کہ امام ذہبی نے کہا ہے (تاریخ الاسلام 605/5)۔

نتیجہ: معلوم ہوا اس کی سند صحیح ہے

  وادئ اجتہاد میں امام صاحب کی انفرادی سیادت اور صوابدید کا استحقاق

2:-أخبرنا أبو نعيم الحافظ، حدثنا محمد بن إبراهيم بن علي، حدثنا أبو عروبة الحراني قال: سمعت سلمة بن شبيب يقول: سمعت عبد الرزاق يقول: سمعت ابن المبارك يقول: إن كان أحد ينبغي له أن يقول برأيه، فأبو حنيفة ينبغي له أن يقول برأيه.

ترجمہ: اگر کسی مسئلہ میں اپنی رائے سے کچھ کہنے کا حق (اگر کسی کو ہو تو) تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ اس کے اہل (حقدار) ہیں ۔ (تاريخ بغداد - ت بشار ١٥/‏٤٧١)

سند کی تحقیق:-

  • 1:- امام ابو نعیم اصبہانی رحمۃ اللہ علیہ ثقہ ہیں ۔ جیسا کہ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا (سیراعلام النبلاء 453/17)

  • 2:- محمد بن ابراہیم بن علی رحمہ اللّٰہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ابو نعیم رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے (تاریخ اصبہان 267/2)

  • 3:- ابو عروبہ الحرانی رحمہ اللّٰہ نے بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا (تاریخ الاسلام 339/7)

  • 4:- سلمہ بن شبیب رحمہ اللّٰہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللّٰہ نے فرمایا ہے (سیراعلام النبلاء 256/12)

  • 5:- امام عبد الرزاق رحمہ اللہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا (تقریب التہذیب 607)

نتیجہ: معلوم ہوا کہ اس کی سند صحیح ہے۔

فکرِ حنیفہ کی پختگی اور معاصرین پر برتری کا اعتراف

3:- حدثني أبي قال: حدثني أبي قال: حدثني محمد بن جعفر بن أعين قال: سمعت يعقوب بن شيبة يقول: حدثني إسحاق بن أبي إسرائيل قال: سمعت عبد الرزاق يقول: قال عبد الله بن المبارك: إن كان إلى الرأي فهو أشهدهم رأياً يعني: النعمان بن ثابت.

ترجمہ: اگر رائے (اجتہاد) کی بات ہو تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سب سے مضبوط رائے والے ہیں۔ (فضائل ابی حنیفہ رح , صفحہ 84 , سندہ صحیح)

سند کی تحقیق:

  • 1:- محمد بن جعفر بن اعین ثقہ ہے جیسا کہ امام ذہبی نے بیان کیا ہے (تاریخ الاسلام 1018/6)۔

  • 2:- یعقوب بن شیبہ رحمہ اللّٰہ ثقہ ہیں جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللّٰہ نے فرمایا (تاریخ الاسلام 451/6)

  • 3:- اسحاق بن ابی اسرائیل رحمہ اللہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے (تاریخ الاسلام 1084/5)

  • 4:- امام عبد الرزاق بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا (تقریب التہذیب صفحہ 607)

نتیجہ: معلوم ہوا کہ اس کی سند صحیح ہے۔

  

 

عدمِ نصوص کی صورت میں فتواے حنیفہ کی "حجت بمرتبہ اثر" کا بیان

4:- حدثني أبي قال: حدثني أبي قال: حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال: حدثني أحمد بن القاسم البرتي قال: حدثني أبو حفص المروزي قال: سمعت علي بن الحسن بن شقيق يقول: قال عبد الله بن المبارك: قول أبي حنيفة عندنا أثر إذا لم يكن فيه أثر

ترجمہ: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول (اثر) ہمارے ہاں (صحابی رضی اللہ عنہم کے) اثر کی طرح ہے (جب کوئی حدیث یا صحابی رضی اللہ عنہ کا اثر نہ ہو) (فضائل ابی حنیفہ رحمہ اللہ, صفحہ 84, اسنادہ صحیح)

 


سند کی تحقیق:

  • 1:- ابوبشر دولابی رحمہ اللہ کی توثیق گزر چکی ہے۔

  • 2:- احمد بن قاسم البرطی رحمۃ اللہ علیہ کا توثیق بھی گزر چکی ہے۔

  • 3:- ابو حفص مروزی رحمہ اللہ سے یہاں مراد اگر عمر بن احمد بن علی رحمہ اللّٰہ ہیں تو یہ ثقہ ہیں جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللّٰہ نے فرمایا (سیراعلام النبلاء 243/15)۔ اور اگر ابو حفص مروازی رحمہ اللّٰہ سے یہاں مراد عمرو بن صالح رحمہ اللّٰہ ہیں تو یہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ابن حبان رحمہ اللّٰہ نے ثقات میں نقل کرنے کے ساتھ اپنی صحیح میں روایات لی ہیں اور امام شعیب الارناوط رحمۃ اللہ علیہ اور البانی رحمہ اللہ نے بھی ان کی احادیث کو صحیح کہا ہے جو ان کے ثقہ ہونے کی دلیل ہے۔

  • 4:- علی بن حسن بن شقیق رحمہ اللّٰہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ابن حجر رحمہ اللّٰہ نے فرمایا (تقریب التہذیب صفحہ 692)

نتیجہ: معلوم ہوا کہ سند صحیح ہے


 زہد و عزیمت

5:-حدثني أبي قال: حدثني أبي قال: حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال: حدثني أحمد بن القاسم البرتي قال: حدثني ابن أبي رزمة قال: سمعت أبا الوزير محمد بن أعين قال: سمعت عبد الله بن المبارك يقول: قرب أبو حنيفة للدنيا، وعرضت عليه خزائن الأرض فأبى، فطلب على القضاء حتى ضُرب أحد عشر أو اثني عشر سوطاً فأبى.

ترجمہ: امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو دنیا کے نزدیک لے جایا گیا اور ان پر زمین کے خزانے پیش کیے گئے اور ان کو (منصب) قضاء (قاضی بننے) کے لئے طلب کیا گیا۔ حتی کہ ان کو گیارہ 11 یا بارہ 12 کوڑے لگائے گئے ۔لیکن انھوں نے (ان سب کے لئے ) انکار کر دیا. (فضائل ابی حنیفہ رحمہ اللّٰہ , صفحہ 70)

سند کی تحقیق:

  • 1:- امام ابو بشر دولابی رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق گزر چکی۔

  • 2:- احمد بن قاسم البرطی رحمۃ اللہ علیہ کا توثیق بھی گزر چکی ہے

  • 3:- ابن ابی رزمہ رحمہ اللّٰہ کی توثیق بھی بیان کر چکے ہیں۔

  • 4:- محمد بن اعین رحمہ اللّٰہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ابن حجر رحمہ اللّٰہ نے فرمایا ہے (تقریب التہذیب صفحہ 827)

نتیجہ: معلوم ہوا کہ سند صحیح ہے ۔


 

 

معلوم ہوا کہ سند صحیح ہے ۔


اِجماعِ کوفہ


6:نَا عبد الوارث بْنُ سُفْيَانَ قَالَ نَا قَاسِمُ بْنُ أَصْبَغَ قَالَ نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ 

قَالَ نَا الْوَلِيدُ بْنُ  شُجَاعٍ قَالَ نَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ كَانَ عبد الله بْنُ الْمُبَارَكِ يَقُولُ إِذَا اجْتَمَعَ هَذَانِ عَلَى  شئ فَتَمَسَّكْ بِهِ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ وَأَبَا حَنِيفَةَ

ترجمہ: جب دو آدمی کسی بات پر متفق ہو جائیں تو اسے مضبوطی سے تھام لو .. امام ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کی مراد امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تھے… (الانتقاء سندہ صحیح, صفحہ 206)

 

تحقیق سند:-

  • 1:- عبدالوارث بن سفیان رحمہ اللّٰہ ثقہ ہیں جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا ہے (سیر اعلام النبلاء 84/17)

  • 2:- قاسم بن اصبغ رحمہ اللّٰہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ابن عماد حنبلی رحمہ اللّٰہ نے کہا ہے (شذرات الذھب 220/4)

  • 3:- ابوبکر بن ابی خیثمہ رحمہ اللّٰہ یعنی احمد بن زہیر بن حرب رحمہ اللّٰہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا (تاریخ الاسلام 481/6)۔

  • 4:- ولید بن شجاع بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا (تقریب التہذیب صفحہ 1038)۔

  • 5:- علی بن حسن بن شقیق رحمہ اللہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے۔ (تقریب التہذیب صفحہ 692)

نتیجہ: معلوم ہوا کہ سند صحیح ہے ۔


 

 


 بحرِ علمِ حنیفہ کی طغیانی اور ابن المبارک کا منظوم خراجِ عقیدت

7:- أخبرني أبو القاسم الأزهري، حدّثنا عَبْد الرَّحْمَن بْن عُمَر الخلال، حَدَّثَنَا مُحَمَّد ابن أحمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا جدي قال: أملى علي بعض أصحابنا أبياتا مدح بها عبد الله بن المبارك أبا حنيفة:

رأيت أبا حنيفة كل يوم ... يزيد نبالة ويزيد خيرا

وينطق بالصواب ويصطفيه ... إذا ما قال أهل الجور جورا

يقايس من يقايسه بلب ... فمن ذا يجعلون له نظيرا

كفانا فقد حماد وكانت ... مصيبتنا به أمرا كبيرا

فرد شماتة الأعداء عنا ... وأبدى بعده علما كثيرا

رأيت أبا حنيفة حين يؤتى ... ويطلب علمه بحرا غزيرا

إذا ما المشكلات تدافعتها ... رجال العلم كان بها بصيرا


ترجمہ: میں نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا ہے کہ روزانہ ان کی سمجھ داری اور بھلائی میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے، وہ ثواب والی باتیں کرتے ہیں۔ آگے فرماتے ہیں کہ جب امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ کو ان کے استاد امام حماد رحمہ اللہ کے منصب پر لایا گیا تھا تو ان کے علم کو ٹھاٹھیں مارتا سمندر سمجھا گیا (تاریخ بغداد سندہ صحیح 15/479)

 

تحقیق سند:-

  • 1:- ابوالقاسم الازہری رحمہ اللہ ثقہ ہیں جیسا کہ امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے (تاریخ بغداد 120/12)

  • 2:- عبدالرحمٰن بن عمر الخلال رحمہ اللہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے فرمایا (تاریخ بغداد 608/11)

  • 3:- محمد بن احمد بن یعقوب رحمہ اللہ ثقہ ہیں جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نقل فرمایا (تاریخ الاسلام 648/6 )

  • 4:- یعقوب بن شیبہ رحمہ اللہ کی توثیق گزر چکی ہے۔

وضاحتِ سند: اگرچہ اس سند میں امام ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے اصحاب (اساتذہ) کا نام نہیں لیا گیا لیکن امام ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے اصحاب ثقہ اور صدوق ہیں جیسے حسن بن ربیع رحمہ اللہ ، علی بن حسن بن شقیق رحمہ اللہ ، عمر بن بشر رحمہ اللہ ، عبدالرحمٰن بن علقمہ رحمہ اللہ ، حاتم بن یوسف رحمہ اللہ وغیرہ… اس کے علاوہ الانتقاء میں بھی شاگرد کی وضاحت ہے، جہاں امام ابن مبارک رحمہ اللہ سے یہ قول حسن بن ربیعہ رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں جو ثقہ ہیں۔ اگرچہ اس سند کے محمد بن محمد بن شبور کےحالات ہمیں نہیں ملے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ محمد بن احمد بن یعقوب رحمہ اللہ کی متابعت کر رکھی ہے ۔

نتیجہ: غرض یہ سند صحیح ہے ۔

 

 

 

اَفقہُ النَّاس

 

8:-أخبرنا الخلال، أخبرنا الحريري أن النخعي حدثهم قال: حدثنا محمد بن علي بن عفان، حدثنا أبو كريب قال: سمعت عبد الله بن المبارك يقول:

وأخبرني محمد بن أحمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن نعيم الضبي، حدثنا أبو سعيد محمد بن الفضل المذكر، حدثنا أبو عبد الله محمد محمد بن سعيد المروزي، حدثنا أبو حمزة - يعني ابن حمزة - قال: سمعت أبا وهب محمد بن مزاحم يقول: سمعت عبد الله بن المبارك يقول: رأيت أعبد الناس، ورأيت أورع الناس، ورأيت أعلم الناس، ورأيت أفقه الناس، فأما أعبد الناس فعبد العزيز بن أبي رواد، وأما أورع الناس فالفضيل بن عياض، وأما أعلم الناس فسفيان الثوري، وأما أفقه الناس فأبو حنيفة، ثم قال: ما رأيت في الفقه مثله.

ترجمہ: میں نے سب سے زیادہ فقاہت رکھنے والا دیکھا ہے، سب سے زیادہ فقاہت رکھنے والے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ہیں .. میں نے ان جیسا فقاہت والا نہیں دیکھا... (تاریخ بغداد 469/15)

سند کی تحقیق:-

  • 1:- امام حسن بن محمد الخلال رحمہ اللہ ثقہ ہیں جیساکے امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ فمیہ (تاریخ بغداد 453/8 )

  • 2:- علی بن عمرو الحریری رحمہ اللہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے پڑھایا ہے (تاریخ بغداد 470/13 )

  • 3:- علی بن محمد بن الحسن رحمہ اللہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاہے (تاریخ بغداد 540/13 )

  • 4:- محمد بن علی بن عفان رحمہ اللہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے (سیر اعلام النبلاء 27/13 )

  • 5:- ابو کریب رحمہ اللہ بھی ثقہ ہیں جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا (سیر اعلام النبلاء 394/11)

نتیجہ: معلوم ہوا سند صحیح ہے۔

 


 معلوم ہوا سند صحیح ہے۔

 

 عظمتِ امامِ اعظم کے سامنے منکرین کی ہیبت زدہ خاموشی اور عجز کا تذکرہ

9:-قَالَ أَبُو يَعْقُوبَ وَأنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ إِجَازَةً قَالَ نَا جَدِّي قَالَ نَا مُحَمَّد بن مُسلم قَالَ سَمِعت اسماعيل ابْن دَاوُد يَقُول كَانَ ابْن الْمُبَارك يذكر عَن أَبى حنيفَة كل خير ويزكيه ويقرضه ويثنى عَلَيْهِ وَكَانَ أَبُو الْحسن الفزازى يَكْرَهُ أَبَا حَنِيفَةَ وَكَانُوا إِذَا اجْتَمَعُوا لَمْ يجترىء ابو اسحق أَنْ يَذْكُرَ أَبَا حَنِيفَةَ بِحَضْرَةِ ابْنِ الْمُبَارَكِ بشئ

ترجمہ: امام ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ جب امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ کرتے ذکر آپکی ہر خوبی کا ذکر کرتے اور آپکی خوب توثیق اور تعریف کرتے جبکہ ابو اسحاق فزاری رحمۃ اللہ علیہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو پسند نہیں کرتے تھے ۔ لیکن جب یہ لوگ اکھٹے ہوتے تو ابو اسحاق فزاری کی جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی کوئی برائی بیان کریں ۔ (الانتقاء۔ سند میں کوئی خرابی نہیں ہے )

سند کی تحقیق:-

  • 1:- محمد بن احمد بن یعقوب رحمہ اللہ کی توثیق بیان کی جا چکی ہے .

  • 2:- یعقوب بن شیبہ رحمہ اللہ کی توثیق بیان کی جا چکی ہے ۔

  • 3:- محمد بن مسلم رحمہ اللہ ثقہ ہیں جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے نقل فرمایا۔ (تاریخ الاسلام 423/6 )

  • 4:- اسماعیل بن داؤد الجوزی رحمہ اللہ بھی مقبول درجہ کے عالم ہیں، جماعت ثقہ نے ان سے روایت کی ہے اور امام ابن عدی رحمہ اللہ نے ان کا علم ہوتے ہوئے بھی ان کا تذکرہ اپنی کتاب الکامل میں نہیں کیا، جو امام ابن عدی رحمہ اللہ کے نزدیک ان کے ثقہ ہونے کی دلیل ہے ۔

نتیجہ: معلوم ہوا سند صحیح ہے۔

امام ابن المبارکؒ کی نظر میں امام ابو حنیفہؒ کی فقہی بصیرت

10. "وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيِّ الَّذِي جَمَعَ فِيهِ أَخْبَارَ أَصْحَابِنَا الَّذِي أَخْبَرَنَا بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَسَدِيُّ  الْقَاضِي إِجَازَةً أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الدَّامَغَانِيَّ الْفَقِيهَ أَخْبَرَهُمْ قَالَ ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا خَازِمٍ الْقَاضِيَ يَقُولُ ثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَدَثَانِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ قَالَ:كُنَّا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ فَقَالَ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ كَانَ يَطْبُخُ قِدْرًا لَهُ فَوَقَعَ فِيهَا طَائِرٌ فَمَاتَ؟فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ لِأَصْحَابِهِ: مَا تَرَوْنَ فِيهَا؟ فَرَقَوْا لَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ يُهْرَاقُ الْمَرَقُ وَيُغْسَلُ اللَّحْمُ وَيُؤْكَلُ.فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: هَكَذَا نَقُولُ إِلَّا أَنَّ فِي ذَلِكَ شَرِيطَةً؛ إِنْ كَانَ وَقَعَ فِي حَالِ غَلَيَانِهَا أُلْقِيَ اللَّحْمُ وَأُهْرِيقَ الْمَرَقُ، وَإِنْ كَانَ وَقَعَ فِيهَا فِي حَالِ سُكُونِهَا غُسِلَ اللَّحْمُ وَأُهْرِيقَ الْمَرَقُ.قَالَ لَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ: مِنْ أَيْنِ قُلْتَ هَذَا؟فَقَالَ: لِأَنَّهُ إِذا وَقَعَ فِيهَا فِي حَالِ غَلَيَانِهَا فَقَدْ وَصَلَ مِنَ اللَّحْمِ إِلَى حَيْثُ يَصِلُ مِنْهُ الْخَلُّ وَالتَّوَابِلُ، وَإِذَا وَقَعَ فِيهَا فِي حَالِ سُكُونِهَا فَإِنَّمَا لَطِخَ اللَّحْمُ وَلَمْ يُدَاخِلْهُ.فَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: هَذَا رَزِينٌ - يَعْنِي الْمَذْهَبَ بِالْفَارِسِيَّةِ - وَعَقَدَ بِيَدِهِ ثَلَاثِينَ." 

"میں نے (امام) ابو جعفر الطحاوی کی کتاب میں لکھا ہوا پایا جس میں انہوں نے ہمارے اصحاب (احناف) کے حالات و اخبار جمع کیے ہیں، جس کی ہمیں قاضی عبداللہ بن محمد الاسدی نے اجازت کے ساتھ خبر دی کہ ابو بکر الدامغانی الفقیہ نے انہیں بتایا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابو جعفر (الطحاوی) نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے قاضی ابو خازم کو کہتے سنا کہ ہم سے سوید بن سعید الحدثانی نے بیان کیا، انہوں نے علی بن مسہر سے روایت کیا، انہوں نے کہا:ہم (امام) ابو حنیفہؒ کے پاس موجود تھے کہ ان کے پاس (امام) عبداللہ بن المبارک آئے اور ان سے پوچھا: 'آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو اپنی ہانڈی پکا رہا ہو اور اس میں کوئی پرندہ گر کر مر جائے؟'امام ابو حنیفہؒ نے اپنے اصحاب (شاگردوں) سے پوچھا: 'تمہاری اس بارے میں کیا رائے ہے؟' تو انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت پیش کی کہ: 'شوربہ بہا دیا جائے گا، گوشت کو دھو کر کھا لیا جائے گا۔'امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا: 'ہم بھی یہی کہتے ہیں، لیکن اس میں ایک شرط ہے؛ اگر وہ پرندہ ہانڈی کے ابلنے (جوش مارنے) کی حالت میں گرا ہو تو گوشت بھی پھینک دیا جائے گا اور شوربہ بھی بہا دیا جائے گا، اور اگر وہ پرندہ ہانڈی کے پرسکون ہونے (یعنی جوش نہ مارنے) کی حالت میں گرا ہو، تو گوشت کو دھو لیا جائے گا اور شوربہ بہا دیا جائے گا۔'اس پر (امام) ابن المبارکؒ نے ان سے پوچھا: 'آپ نے یہ بات کہاں سے (کس بنیاد پر) کہی؟'امام ابو حنیفہؒ نے جواب دیا: 'کیونکہ جب پرندہ ہانڈی کے ابلنے کی حالت میں گرتا ہے، تو (نجاست) گوشت کے اندر تک اس جگہ تک پہنچ جاتی ہے جہاں تک سرکہ اور مصالحے پہنچتے ہیں۔ لیکن جب وہ ہانڈی کے پرسکون ہونے کی حالت میں گرتا ہے، تو نجاست صرف گوشت کے اوپر لگتی ہے (آلودہ کرتی ہے)، اس کے اندر سرایت نہیں کرتی۔'یہ سن کر ابن المبارکؒ نے فرمایا: 'ھذا رزین' یعنی فارسی زبان میں (اس کا مطلب ہے) 'یہ مضبوط/پائیدار موقف ہے'، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے تیس (30) کا عدد بنا کر (داد دی)۔"  (أخبار أبي حنيفة وأصحابه ١/‏٣٧ )

اس روایت کی سند حسن درجے کی ہے۔

امام عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ اپنے زمانے کے عظیم محدث، فقیہ اور حافظِ حدیث تھے، لیکن جب کوئی پیچیدہ فقہی مسئلہ پیش آتا تو وہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے رجوع کرتے تھے۔ یہ بات خود اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ اس دور کے بڑے بڑے محدثین امام صاحب کے علم، فقاہت اور فہمِ دین کے معترف تھے۔ امام ابو حنیفہؒ  احادیث کے معانی، مقاصد اور ان سے احکام اخذ کرنے میں بھی غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔

یہ واقعہ ان لوگوں کے دعوے کی بھی تردید کرتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو احادیث کا علم کم تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو امام عبداللہ بن المبارکؒ جیسے جلیل القدر محدث ان سے فقہی مسائل نہ پوچھتے اور نہ ہی ان کے جواب کو "ہٰذا رزین" کہہ کر سراہتے۔ حقیقت یہ ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا مقام صرف فقہ میں ہی نہیں بلکہ فہمِ حدیث اور استنباطِ احکام میں بھی نہایت بلند تھا، جس کا اعتراف ان کے اپنے دور کے اکابر علماء اور محدثین نے کیا۔

 

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...