جمہور علماء اور فقہائے احناف کے نزدیک سجدہ کرتے وقت پہلے زمین پر گھٹنے پھر ہاتھ رکھنے کی صحیح حدیث اور غیر مقلدین کی غلط فہمی ازالہ
جمہور علماء اور فقہائے احناف کے نزدیک سجدہ کرتے وقت پہلے زمین پر گھٹنے پھر ہاتھ رکھنے کی صحیح حدیث اور غیر مقلدین کی غلط فہمی ازالہ مفتی محمد مجاہد فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز النعمان میڈیا سروسز جمہور علماء کرام اور فقہائے احناف کا متفقہ مؤقف ہے کہ سجدے میں جاتے وقت پہلے گھٹنے زمین پر رکھے جائیں، پھر ہاتھ، اور جب سجدے سے اٹھا جائے تو پہلے ہاتھ اٹھائے جائیں اور پھر گھٹنے۔ اس مسئلے میں صحیح احادیث بھی جمہور کے موقف کی تائید کرتی ہیں، جیسا کہ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے وقت پہلے اپنے گھٹنے زمین پر رکھتے، پھر ہاتھ، اور سجدے سے اٹھتے وقت پہلے ہاتھ اٹھاتے اور پھر گھٹنے۔ اسی طرح حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی یہ صراحت موجود ہے کہ پہلے ہاتھ رکھنے کا طریقہ بعد میں تبدیل کر دیا گیا اور گھٹنے پہلے رکھنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے مقابلے میں غیر مقلدین کے پاس کوئی ایسی مضبوط اور واضح دلیل نہیں جو ان کے برعکس مؤقف کو ثابت کر سکے، یہی وجہ ہے کہ وہ اس معاملے میں بے بسی کا شکار نظر آتے ہیں۔...