نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اگست, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

امام سفیان ثوریؒ اور امام اوزاعیؒ سے منقول امام ابو حنیفہؒ پر جرح: "منحوس" قرار دینے والی روایات کا تحقیقی جائزہ

امام سفیان ثوریؒ اور امام اوزاعیؒ سے منقول امام ابو حنیفہؒ پر جرح: "منحوس" قرار دینے والی روایات کا تحقیقی جائزہ امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں بعض کتبِ تاریخ و رجال میں امام اوزاعیؒ اور امام سفیان ثوریؒ کی طرف نہایت سخت اور شدید الفاظ منسوب کیے گئے ہیں۔ ان میں بعض روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے اسلام کے "کڑے" ایک ایک کر کے توڑ دیے، بعض میں انہیں اہلِ اسلام کے لیے "سب سے منحوس" یا "سب سے زیادہ نقصان دہ" قرار دیا گیا، اور بعض روایات میں امام اوزاعیؒ اور امام سفیان ثوریؒ دونوں کی طرف اس نوعیت کے اقوال منسوب کیے گئے ہیں۔ ان اقوال کو بعض اہلِ قلم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے خلاف بطورِ جرح پیش کرتے ہیں اور ان سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اکابر ائمۂ سلف کے نزدیک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی شخصیت ناقابلِ اعتماد اور اسلام کے لیے مضر تھی۔ پہلی روایت: امام اوزاعیؒ کا قول خطیب بغدادی نے نقل کیا ہے:  «أخبرنا ابن رزق البرقاني قالا: أخبرنا محمد بن جعفر بن الهيثم الأنباري، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا رجاء بن السندي قال: سمعت سل...