نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام سفیان ثوریؒ اور امام اوزاعیؒ سے منقول امام ابو حنیفہؒ پر جرح: "منحوس" قرار دینے والی روایات کا تحقیقی جائزہ



امام سفیان ثوریؒ اور امام اوزاعیؒ سے منقول امام ابو حنیفہؒ پر جرح: "منحوس" قرار دینے والی روایات کا تحقیقی جائزہ

امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں بعض کتبِ تاریخ و رجال میں امام اوزاعیؒ اور امام سفیان ثوریؒ کی طرف نہایت سخت اور شدید الفاظ منسوب کیے گئے ہیں۔ ان میں بعض روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے اسلام کے "کڑے" ایک ایک کر کے توڑ دیے، بعض میں انہیں اہلِ اسلام کے لیے "سب سے منحوس" یا "سب سے زیادہ نقصان دہ" قرار دیا گیا، اور بعض روایات میں امام اوزاعیؒ اور امام سفیان ثوریؒ دونوں کی طرف اس نوعیت کے اقوال منسوب کیے گئے ہیں۔ان اقوال کو بعض اہلِ قلم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے خلاف بطورِ جرح پیش کرتے ہیں اور ان سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اکابر ائمۂ سلف کے نزدیک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی شخصیت ناقابلِ اعتماد اور اسلام کے لیے مضر تھی۔

پہلی روایت: امام اوزاعیؒ کا قول

خطیب بغدادی نے نقل کیا ہے: «أخبرنا ابن رزق البرقاني قالا: أخبرنا محمد بن جعفر بن الهيثم الأنباري، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا رجاء بن السندي قال: سمعت سليمان بن حسان الحلبي يقول: سمعت الأوزاعي - مالا أحصيه - يقول: عمد أبو حنيفة إلى عرى الإسلام فنقضها عروة عروة.» (تاريخ بغداد، 15/547)

"سلیمان بن حسان حلبی کہتے ہیں: میں نے امام اوزاعیؒ کو بے شمار مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ ابو حنیفہ نے اسلام کے کڑوں کو پکڑا اور ایک ایک حلقہ توڑ دیا۔"

اس سند میں بنیادی راوی سلیمان بن حسان الحلبي  کے بارے میں امام ابو حاتمؒ سے منقول ہے کہ انہوں نے ابن ابی غالب سے ان کے متعلق پوچھا تو جواب ملا: «لا أعرفه، ولا رأيت البغداديين أخذوا عنه.» (الجرح والتعديل، 4/107) "میں اسے نہیں جانتا اور میں نے بغداد والوں کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے اس سے روایت لی ہو۔" یہ کلام راوی کے معروف و مشہور ثقہ راویوں میں شامل نہ ہونے کی طرف واضح اشارہ ہے۔

مزید برآں امام عقیلیؒ نے بھی اس راوی کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ اس کی حدیث میں کوئی متابع نہیں: «ليس له متابع في الحديث.» (الضعفاء الكبير للعقيلي، 2/125)

مزید قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ سلیمان بن حسان سے امام اوزاعیؒ کے متعلق اس نوعیت کی روایت کے علاوہ کوئی معروف مرویات سامنے نہیں آتیں۔ اگر ایک ایسا راوی جس کے بارے میں ائمۂ رجال نے واضح معرفت و شہرت ظاہر نہ کی ہو، کسی جلیل القدر امام سے بنیادی طور پر ایک ہی انتہائی سخت اور تنقیصی قول نقل کرے، تو اس منفرد روایت کے بارے میں مزید تحقیق ناگزیر ہو جاتی ہے۔

دوسری روایت: وفاتِ امام ابو حنیفہؒ پر امام اوزاعیؒ کا منسوب تبصرہ

ایک دوسری روایت میں ہے: «وأخبرنا ابن رزق، قال: أخبرنا ابن سلم، قال: حدثنا الأبار، قال: حدثنا الحسن بن علي، قال: حدثنا أبو توبة، قال: حدثنا سلمة بن كلثوم، وكان من العابدين، ولم يكن في أصحاب الأوزاعي أهيأ منه، قال: قال الأوزاعي لما مات أبو حنيفة: الحمد لله إن كان لينقض الإسلام عروة عروة.»

(تاريخ بغداد، 15/548)

یعنی: "جب ابو حنیفہؒ کا انتقال ہوا تو امام اوزاعیؒ نے کہا: اللہ کا شکر ہے، اگر یہ شخص اسلام کا ایک ایک حلقہ توڑ رہا تھا۔"

اس روایت کے ایک اہم راوی سلمہ بن کلثوم ہیں۔ امام دارقطنیؒ نے ان کے بارے میں فرمایا: «كثير الوهم.» (العلل للدارقطني، 8/24) یعنی وہ کثرتِ وہم کے حامل تھے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ روایت میں امام اوزاعی رحمہ اللہ سے سماع کی صراحت موجود نہیں۔

تیسری روایت: امام سفیان ثوریؒ کا منسوب قول

ایک اور روایت میں منقول ہے: «129. وأخبرنا ابن حسنويه، قال: أخبرنا الخشاب، قال: حدثنا أحمد بن مهدي، قال: حدثنا أحمد بن إبراهيم، قال: حدثني سليمان بن عبد الله، قال: حدثنا جرير، عن ثعلبة، قال: سمعت سفيان الثوري، يقول: ما ولد في الإسلام مولود أشأم على أهل الإسلام منه.» (تاريخ بغداد، 15/548) یعنی: "سفیان ثوریؒ نے فرمایا: اہلِ اسلام پر اس سے زیادہ منحوس بچہ اسلام میں پیدا نہیں ہوا۔"

اس سند میں جریر بن عبد الحمید موجود ہیں۔ ائمۂ رجال نے ان کے آخری زمانے میں اختلاطِ حفظ اور ضعفِ حافظہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔امام ذہبیؒ نے  نے امام ابو حاتمؒ اور امام بیہقیؒ وغیرہ سے اس سلسلے میں کلام نقل کیا ہے۔ (ميزان الاعتدال، 1/394)

چوتھی روایت: امام اوزاعیؒ اور سفیان ثوریؒ کی طرف مشترکہ قول کی نسبت

ایک اور روایت میں امام اوزاعیؒ اور امام سفیان ثوریؒ کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ سے زیادہ منحوس اور شریر شخص اسلام میں پیدا نہیں ہوا۔ یہاں سند کے راوی ابو اسحاق الفزاری ہیں۔ان کے بارے میں یہ بات بھی نقل کی گئی ہے کہ وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ایک خاص نوعیت کے اختلاف اور ذاتی رنجش کے پس منظر میں ان کے خلاف سخت کلام کرتے تھے۔  مزید برآں ابن سعد نے ان کے بارے میں کثیر الخطا ہونے کا ذکر کیا ہے۔ (طبقات ابن سعد، ص494)

پانچویں روایت: سفیان ثوریؒ کا دوسرا منسوب قول «وأخبرنا أبو نعيم الحافظ، قال: حدثنا محمد بن أحمد بن الحسن الصواف، قال: حدثنا بشر بن موسى، قالا: حدثنا الحميدي، قال: سمعت سفيان، يقول: ما ولد في الإسلام مولود أضر على الإسلام من أبي حنيفة.» (تاريخ بغداد، 15/549)

یعنی: "سفیان ثوریؒ نے فرمایا: اسلام کے لیے ابو حنیفہؒ سے زیادہ نقصان دہ کوئی بچہ اسلام میں پیدا نہیں ہوا۔"

اس روایت کی سند میں امام حمیدی رحمہ اللہ موجود ہیں۔امام حمیدی رحمہ اللہ کا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں سخت موقف معروف ہے (التنكيل - ط المكتب الإسلامي ٢/‏٥١٦)۔ 

اسانید کا مجموعی حکم

اب تک کی بحث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کے خلاف امام اوزاعیؒ اور امام سفیان ثوریؒ کی طرف منسوب یہ شدید اقوال ایک ہی مضبوط، واضح اور بے علت سند سے ثابت نہیں ہوتے۔بالفرض ہم ان روایات کو سند کے اعتبار سے ثابت مان بھی لیں، تب بھی یہ سوال اپنی جگہ باقی رہے گا کہ کیا یہ جرح مفسر ہے؟ مثلاً یہ کہا گیا: «عمد أبو حنيفة إلى عرى الإسلام فنقضها عروة عروة.»

لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ:

  • کون سا اسلامی عقیدہ امام ابو حنیفہؒ نے توڑا؟

  • کون سا حکم انہوں نے منہدم کیا؟

  • کون سا اصولِ اسلام انہوں نے ختم کیا؟

  • کون سی ایسی بدعت یا گمراہی اختیار کی جس کی بنا پر انہیں "اسلام کے کڑے توڑنے والا" قرار دیا گیا؟ اسی طرح: «ما ولد في الإسلام مولود أشأم على أهل الإسلام منه»  یا: «ما ولد في الإسلام مولود أضر على الإسلام من أبي حنيفة»

جیسے اقوال انتہائی شدید الفاظ ضرور رکھتے ہیں، لیکن سببِ جرح بیان نہیں کرتے۔

یہاں ایک نہایت بنیادی اصول بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے۔امام اوزاعیؒ اور امام سفیان ثوریؒ دونوں امام ابو حنیفہؒ کے معاصر تھے۔ ان کے درمیان فقہی اور علمی مسائل میں اختلافات معروف تھے۔اگر کوئی شخص کسی امام پر انتہائی شدید حکم لگائے، مگر اس حکم کی علت اور تفصیل بیان نہ کرے، تو محقق کے لیے لازم ہے کہ وہ اس جرح کے پس منظر، سیاق، دیگر اقوال اور ناقد کی علمی حیثیت کو سامنے رکھے۔خصوصاً ائمۂ مجتہدین کے باہمی اختلافات میں یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ہر اختلافِ رائے گمراہی نہیں ہوتا اور ہر فقہی خطا اسلام دشمنی نہیں ہوتی۔

جو لوگ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں یہ انتہائی سخت جرح پیش کرتے ہیں، کیا ان کے نزدیک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ یزید، عبیداللہ بن زیاد اور حجاج بن یوسف جیسے معروف ظالم حکمرانوں سے بھی زیادہ اسلام کے لیے نقصان دہ تھے؟

 اگر تاریخ میں ایسے ظالم حکمرانوں کے بارے میں بھی اس نوعیت کے قطعی الفاظ استعمال کرنے میں احتیاط کی جاتی ہے، تو ایک ایسے جلیل القدر امام کے بارے میں، جن کے علم، دیانت اور عبادت کے شواہد کثرت سے موجود ہیں، محض چند غیر واضح اقوال کی بنیاد پر "اسلام کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ" یا "منحوس" جیسے الفاظ استعمال کرنا کس قدر محلِ نظر ہوگا۔

ایک الزامی مثال: اہلِ مکہ کے بارے میں امام زہریؒ کا قول

بطورِ اصولی مثال امام زہری رحمہ اللہ کی طرف منقول ایک قول قابلِ غور ہے: «ما رأيت قوماً أهل مكة أعظم كسراً لعرى الإسلام منهم» "میں نے اہلِ مکہ سے بڑھ کر کسی قوم کو اسلام کے حلقے توڑنے والا نہیں دیکھا۔" (جامع بيان العلم، رقم 1098، سند صحیح)

اب اس قول کا جو جواب امام زہری رحمہ اللہ کی بات کے سلسلے میں دیا جائے گا، وہی جواب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں بھی سمجھ لیا جائے۔ یعنی جس طرح اہلِ مکہ کے متعلق اس سخت قول کے باوجود کوئی صاحبِ عقل انہیں فی الواقع "اسلام کا کڑا توڑنے والے" قرار نہیں دیتا، بلکہ اسے مبالغہ آمیز طرزِ کلام پر محمول کرتا ہے، بعینہٖ یہی اصول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں منقول اقوال پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

قرآن کا اصول: ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (البقرة: 134) 

"یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی؛ اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا، اور تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے کمایا، اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔"

اس لیے سابقین کے باہمی اختلافات کو بنیاد بنا کر بعد کے لوگ اپنے لیے ایسی دشمنی اختیار نہ کریں جو تحقیق، انصاف اور حسنِ ظن کے تقاضوں سے تجاوز کر جائے۔

وفات یافتہ مسلمانوں کے بارے میں نبوی ہدایت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «إِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ وَلَا تَقَعُوا فِيهِ.» (سنن أبي داود، حدیث 4900، سند صحیح)

ترجمہ: "جب تمہارا ساتھی فوت ہو جائے تو اسے چھوڑ دو اور اس کے بارے میں بدگوئی نہ کرو۔"

ایک دوسری روایت میں ہے: «لا تسبوا الأموات فإنهم أفضوا إلى ما قدموا.»

یعنی: "مردوں کو برا نہ کہو، کیونکہ وہ اپنے ان اعمال تک پہنچ چکے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجے تھے۔" (صحيح ابن حبان، حدیث 3021)

اس نبوی تعلیم کا کم از کم یہ تقاضا ضرور ہے کہ کسی متوفی مسلمان کے بارے میں منقول انتہائی سخت اقوال کو نقل کرتے ہوئے غیر معمولی احتیاط برتی جائے، خصوصاً جب ان کے ثبوت، سند یا مراد میں کلام موجود ہو۔

"نحوست" کے تصور کے بارے میں نبوی تعلیم

احادیثِ نبویہ میں نحوست اور بدشگونی کے تصور کی واضح تردید آئی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ»

"کوئی بیماری بذاتِ خود متعدی نہیں، نہ بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے، نہ اُلو کے بارے میں جاہلی نحوست کا تصور درست ہے اور نہ ماہِ صفر میں کوئی نحوست ہے۔"
(صحیح بخاری: 5757)

اسی طرح سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، الطِّيَرَةُ شِرْكٌ» "بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا۔ پھر وضاحت فرمائی کہ ہم میں سے بعض کے دل میں اس طرح کے اوہام پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ توکل کے ذریعے انہیں دور فرما دیتا ہے۔

(سنن ابی داود: 3910)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں اور چیزوں میں نحوست کے تصور کی نفی فرمائی ہے،  تو یہاں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو منحوس کہا جانا خود احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے۔ لہٰذا یہ بات حجت نہیں۔


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین : سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ

 *مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین*  صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرنے کی احادیث کا مجموعہ مرفوع موقوف اور آثار کتب احادیث سے *✍️۔۔ ابو محمد آصف بن یوسف ۔۔🔸*  *(النعمان سوشل میڈیا سروسز)* *🌹سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ 🌹* سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ *♦️ حدیث نمبر... 1️⃣♦️* 🔹۔۔۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ۔۔۔  🔹۔۔۔ سیدناجابربن سمرہ رضہ نےفرمایا رسول اقدسﷺ ھم پرداخل ھوئےاور لوگ(صحابہ) رضہ نماز کے اندر رفع الیدین کررہے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ھے کہ میں تمہیں دی...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...