نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سلسلہ دفاعِ قاضی ابو یوسفؒ قسط نمبر 10 : قاضی ابو یوسفؒ سے منسوب ایک واقعے کی تحقیق: ایک شخص نے قسم کھا رکھی تھی کہ وہ لونڈی کو نہ بیچے گا اور نہ ہبہ کرے گا۔

 

سلسلہ دفاعِ قاضی ابو یوسفؒ قسط نمبر 10 :

  قاضی ابو یوسفؒ سے منسوب ایک واقعے کی تحقیق:

 ایک شخص نے قسم کھا رکھی تھی کہ وہ لونڈی کو نہ بیچے گا اور نہ ہبہ کرے گا۔


أخبرنا أحمد بن عمر بن روح النهرواني ومحمّد بن الحسين بن محمّد الجازري- قال أحمد أخبرنا وقال محمّد حدثنا- المعافى بن زكريّا الجريري، حدثنا محمّد بن أبي الأزهر، حدثنا حمّاد بن إسحاق الموصليّ، حدثني أبي قال: حدثني بشر بن الوليد وسألته من أين جاء؟ قال: كنت عند أبي يوسف يعقوب بن إبراهيم القاضي وكنا في حديث ظريف، قال: فقلت له: حدثني به. فقال: قال لي يعقوب: بينا أنا البارحة قد أويت إلى فراشي، وإذا داق يدق الباب دقا شديدا، فأخذت عليّ إزاري وخرجت فإذا هو هرثمة بن أعين، فسلمت عليه فقال: أجب أمير المؤمنين، فقلت: يا أبا حاتم لي بك حرمة، وهذا وقت كما ترى ولست آمن أن يكون أمير المؤمنين دعاني لأمر من الأمور، فإن أمكنك أن تدفع بذلك إلى غد؟ فلعله أن يحدث له رأي فقال: ما إلى ذلك سبيل. قلت: كيف كان السبب؟ قال: خرج إليّ مسرور الخادم فأمرني أن آتي بك أمير المؤمنين، فقلت: تأذن لي أصب على ماء وأتحنط فإن كان أمر من الأمور كنت قد أحكمت شأني، وإن رزق الله العافية فلن يضر فأذن لي، فدخلت فلبست ثيابا جددا، وتطيبت بما أمكن من الطيب، ثم خرجنا، فمضينا حتى أتينا دار أمير المؤمنينالرّشيد، فإذا مسرور واقف فقال له هرثمة: قد جئت به؟ فقلت

لمسرور: يا أبا هاشم خدمتي وحرمتي وميلي، وهذا وقت ضيق فتدري لم طلبني أمير المؤمنين؟ قال: لا. قلت: فمن عنده؟ قال: عيسى بن جعفر. قلت: ومن؟ قال: ما عنده ثالث. قال: مر وإذا صرت إلى الصحن فإنه في الرواق وهو ذاك جالس، فحرك رجلك بالأرض، فإنه سيسألك، فقل أنا فجئت ففعلت فقال: من هذا؟ قلت:يعقوب، قال: ادخل، فدخلت فإذا هو جالس وعن يمينه عيسى بن جعفر، فسلمت فرد عليّ السلام وقال: أظننا روعناك قلت: إي والله وكذلك من خلفي. قال:اجلس، فجلست حتى سكن روعي، ثم التفت إليّ فقال: يا يعقوب تدري لم دعوتك؟ قلت: لا. قال: دعوتك لأشهدك على هذا أن عنده جارية سألته أن يهبها لي فامتنع، وسألته أن يبيعها فأبى. والله لئن لم يفعل لأقتلنه. قال: فالتفت إلى عيسى، وقلت: ما بلغ الله بجارية تمنعها أمير المؤمنين وتنزل نفسك هذه المنزلة؟ قال: فقال لي:عجلت على في القول قبل أن تعرف ما عندي؟ قلت: وما في هذا من الجواب؟ قال:

إن عليّ يمينا بالطلاق والعتاق وصدقة ما أملك أن لا أبيع هذه الجارية ولا أهبها.فالتفت إليّ الرّشيد فقال: هل له في ذلك من مخرج؟ قلت: نعم! قال: وما هو؟ قلت:يهب لك نصفها ويبيعك نصفها. فتكون لم تبع ولم تهب، قال عيسى: ويجوز ذلك؟قلت: نعم! قال: فأشهد أني قد وهبت له نصفها وبعته النصف الباقي بمائة ألف دينار، فقال: الجارية، فأتى بالجارية وبالمال، فقال: خذها يا أمير المؤمنين بارك الله لك فيها.قال: يا يعقوب بقيت واحدة، قلت: ما هي؟ قال: هي مملوكة ولا بد أن تستبرأ وو الله إن لم أبت معها ليلتي إني أظن أن نفسي ستخرج، قلت: يا أمير المؤمنين تعتقها وتتزوجها فإن الحرة لا تستبرأ. قال: فإني قد أعتقتها فمن يزوجنيها؟ قلت: أنا، فدعا بمسرور وحسين، فخطبت وحمدت الله ثم زوجته على عشرين ألف دينار، ودعا بالمال فدفعه إليها. ثم قال لي: يا يعقوب انصرف، ورفع رأسه إلى مسرور فقال يا مسرور قال: لبيك أمير المؤمنين، قال: احمل إلى يعقوب مائتي ألف درهموعشرين تختا ثيابا، فحمل ذلك معي. قال: فقال بشر بن الوليد: فالتفت إلى يعقوب فقال: هل رأيت بأسا فيما فعلت؟ قلت: لا قال: فخذ منها حقك قلت: وما حقي؟ قال: العشر قال: فشكرته ودعوت له وذهبت لأقوم وإذا بعجوز قد دخلت فقالت: يا أبا يوسف بنتك تقرئك السلام وتقول لك: والله ما وصل إلى في ليلتي هذه من أمير المؤمنين إلا المهر الذي قد عرفته، وقد حملت إليك النصف منه وخلفت الباقي لما أحتاج إليه.

فقال: رديه، فو الله لا قبلتها، أخرجتها من الرق، وزوجتها أمير المؤمنين وترضى لي بهذا. فلم نزل نطلب إليه أنا وعمومتي حتى قبلها، وأمر لي بألف دينار.


قاضی ابو یوسفؒ سے منسوب واقعے کا پس منظر  : ہمیں احمد بن عمر بن روح النہروانی اور محمد بن حسین بن محمد الجازری نے خبر دی — احمد نے کہا: ہمیں خبر دی، اور محمد نے کہا: ہمیں بیان کیا — (کہ) ہمیں معافیٰ بن زکریا الجریری نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن ابی الأزہر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں حماد بن اسحاق الموصلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے بشر بن ولید نے یہ واقعہ بیان کیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کہاں سے آیا؟ انہوں نے کہا: میں قاضی ابو یوسف، یعقوب بن ابراہیم کے پاس تھا، اور ہم کسی لطیف (دلچسپ) گفتگو میں مشغول تھے۔ میں نے ان سے کہا: یہ واقعہ مجھے بیان کیجیے۔ تو ابو یوسف نے کہا: کل رات میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا کہ اچانک کسی نے دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا۔ میں نے اپنا ازار (چادر) اوڑھی اور باہر نکلا، تو دیکھا کہ ہرثمہ بن اعین ہے۔ میں نے اسے سلام کیا۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین کی طلب ہے۔ میں نے کہا: اے ابو حاتم! میرا تم پر حق ہے، اور یہ وقت جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو (رات کا وقت ہے)، اور میں نہیں جانتا کہ امیر المؤمنین نے مجھے کسی کس کام کے لیے بلایا ہے، اگر ممکن ہو تو اس معاملے کو کل تک مؤخر کر دو، شاید ان کی رائے بدل جائے۔ اس نے کہا: اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ میں نے کہا: سبب کیا ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس مسرور خادم آیا اور اس نے حکم دیا کہ میں تمہیں امیر المؤمنین کے پاس لے آؤں۔ میں نے کہا: مجھے اجازت دو کہ میں پانی ڈال لوں (وضو وغیرہ کر لوں) اور خوشبو لگا لوں، اگر کوئی سخت معاملہ ہو تو میں تیار ہوں، اور اگر اللہ عافیت دے تو اس میں کوئی نقصان نہیں۔ اس نے مجھے اجازت دے دی۔ میں اندر گیا، نئے کپڑے پہنے، جتنی ممکن ہو سکی خوشبو لگائی، پھر ہم روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ ہم امیر المؤمنین ہارون الرشید کے محل پہنچے۔ وہاں مسرور کھڑا تھا۔ ہرثمہ نے اس سے کہا: کیا تم اسے لے آئے ہو؟ میں نے مسرور سے کہا: اے ابو ہاشم! میری خدمت، میری حرمت اور میرا حال دیکھو، وقت تنگ ہے، کیا تم جانتے ہو کہ امیر المؤمنین نے مجھے کیوں بلایا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: ان کے پاس کون ہے؟ اس نے کہا: عیسیٰ بن جعفر۔ میں نے کہا: اور کوئی؟ اس نے کہا: ان کے پاس تیسرا کوئی نہیں۔ اس نے کہا: آگے بڑھو، جب صحن میں پہنچو گے تو وہ رواق میں بیٹھے ہوں گے، زمین پر پاؤں رگڑ دینا، وہ پوچھیں گے، تو کہنا: میں ہوں۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ امیر المؤمنین نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: یعقوب۔ انہوں نے کہا: اندر آؤ۔ میں اندر داخل ہوا، دیکھا کہ وہ بیٹھے ہیں اور ان کے دائیں جانب عیسیٰ بن جعفر بیٹھا ہے۔ میں نے سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا: لگتا ہے ہم نے تمہیں ڈرا دیا؟ میں نے کہا: جی ہاں، اور میرے پیچھے والوں کو بھی۔ انہوں نے کہا: بیٹھو۔ میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ میرا خوف جاتا رہا۔

پھر انہوں نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے یعقوب! جانتے ہو میں نے تمہیں کیوں بلایا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے تمہیں اس لیے بلایا ہے کہ تم اس بات پر گواہ بنو کہ اس شخص (عیسیٰ بن جعفر) کے پاس ایک لونڈی ہے، میں نے اس سے کہا کہ وہ مجھے ہبہ کر دے، اس نے انکار کیا؛ میں نے کہا کہ وہ اسے بیچ دے، اس نے یہ بھی انکار کر دیا۔ اللہ کی قسم! اگر اس نے ایسا نہ کیا تو میں اسے قتل کر دوں گا۔ میں نے عیسیٰ کی طرف متوجہ ہو کر کہا: کیا ایک لونڈی کے سبب اللہ نے تمہیں اس حال تک پہنچا دیا ہے کہ تم امیر المؤمنین کو منع کرو اور اپنے آپ کو اس مقام پر لے آؤ؟ اس نے کہا: کیا تم نے میرے پاس جو بات ہے اسے جانے بغیر جلدی فیصلہ نہیں کر لیا؟ میں نے کہا: اس کا جواب کیا ہو سکتا ہے؟
اس نے کہا: مجھ پر طلاق، غلام آزاد کرنے اور اپنے مال کی صدقہ دینے کی قسم ہے کہ میں اس لونڈی کو نہ بیچوں گا اور نہ ہبہ کروں گا۔ تب ہارون الرشید میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
کیا اس کے لیے کوئی راستہ نکل سکتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: کیا؟ میں نے کہا: وہ آپ کو اس کا آدھا حصہ ہبہ کر دے اور آدھا حصہ آپ کو بیچ دے، اس طرح نہ اس نے پورا بیچا ہوگا اور نہ پورا ہبہ کیا ہوگا۔ عیسیٰ نے کہا: کیا یہ جائز ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: میں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے آدھی لونڈی امیر المؤمنین کو ہبہ کر دی اور باقی آدھی ایک لاکھ دینار کے بدلے بیچ دی۔ لونڈی اور مال لایا گیا۔ امیر المؤمنین نے کہا: اسے لے لو، اللہ تمہیں اس میں برکت دے۔ پھر انہوں نے کہا: اے یعقوب! ایک بات باقی ہے۔ میں نے کہا: وہ کیا؟ انہوں نے کہا: یہ لونڈی ہے اور اس کا استبراء ضروری ہے، اور اللہ کی قسم! اگر میں آج رات اس کے ساتھ نہ رہا تو مجھے ڈر ہے کہ میری جان نکل جائے گی۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! اسے آزاد کر دیں اور اس سے نکاح کر لیں، کیونکہ آزاد عورت کا استبراء نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا: میں نے اسے آزاد کر دیا، اب کون اس کا نکاح کرے گا؟ میں نے کہا: میں۔ پھر مسرور اور حسین کو بلایا گیا، میں نے خطبہ پڑھا، اللہ کی حمد بیان کی، اور بیس ہزار دینار مہر پر ان کا نکاح کر دیا۔ مال لایا گیا اور اس عورت کو دے دیا گیا۔ پھر انہوں نے مجھ سے کہا: اے یعقوب! اب واپس جاؤ۔ اور مسرور سے فرمایا: یعقوب کو دو لاکھ درہم اور بیس جوڑے کپڑے دے دو۔ یہ سب میرے ساتھ بھیج دیا گیا۔ بشر بن ولید کہتے ہیں: پھر میں نے یعقوب سے پوچھا: کیا تمہیں اپنے کیے میں کوئی قباحت نظر آئی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر اس میں سے اپنا حق لے لو۔ میں نے کہا: میرا حق کیا ہے؟ اس نے کہا: دسواں حصہ۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا، دعا دی اور اٹھنے لگا کہ ایک بوڑھی عورت اندر داخل ہوئی اور کہا:
اے ابو یوسف! آپ کی بیٹی آپ کو سلام کہتی ہے اور کہتی ہے: اللہ کی قسم! آج رات امیر المؤمنین کی طرف سے مجھے مہر کے سوا کچھ بھی نہیں ملا، اور میں نے اس کا آدھا حصہ آپ کی طرف بھیج دیا ہے، باقی آدھا میں نے اپنی ضرورت کے لیے رکھ لیا ہے۔ ابو یوسف نے کہا:
اسے واپس لوٹا دو، اللہ کی قسم! میں اسے قبول نہیں کروں گا۔ میں نے اسے غلامی سے آزاد کیا، امیر المؤمنین سے اس کا نکاح کرایا، اور کیا وہ میرے لیے یہی پسند کرتی ہے؟ ہم برابر اصرار کرتے رہے — میں اور میرے رشتہ دار — یہاں تک کہ انہوں نے قبول کر لیا، اور مجھے ایک ہزار دینار دینے کا حکم دیا۔


خلاصہ : قاضی ابو یوسفؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات انہیں خلیفہ ہارون الرشید کے پاس بلایا گیا۔ وہاں ایک لونڈی کے معاملے پر شدید نزاع تھا، کیونکہ مالک نے قسم کھا رکھی تھی کہ نہ وہ لونڈی بیچے گا اور نہ ہبہ کرے گا۔ قاضی ابو یوسفؒ نے شرعی حل بتایا کہ آدھی لونڈی ہبہ کر دی جائے اور آدھی فروخت، اس طرح قسم بھی نہ ٹوٹے۔ بعد میں لونڈی کو آزاد کر کے خلیفہ سے نکاح کرایا گیا۔ (تاريخ بغداد - ط العلمية ١٤/‏٢٥٤)

جواب :  یہ واقعہ متعدد کتب میں منقول ہے اور سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ تاریخِ بغداد میں  ہے، تاہم سند کے اعتبار سے یہ روایت قابلِ اعتماد ثابت نہیں ہوتی۔

1. تاریخِ بغداد کی سند میں محمد بن أحمد بن مزيد بن محمود أبي بكر الخزاعي البوشنجي ابن أبي الأزهر شامل ہے، جن پر ائمۂ نے سخت کلام کیا ہے اور ان پر ثقہ راویوں سے جھوٹ منسوب کرنے کا الزام ہے۔

قال الدارقطني: ضعيف، كتبنا عنه مناكير، وله شعر كثير. وقال أبو الفتح عبيد الله بن أحمد النحوي: كذبوه في السماع من أبي كريب، وغيره. وقال الخطيب: يضع الحديث على الثقات. قلت: وضع في حديث: «لا نبي بعدي» -ولو كان لكنته يا علي. (سير أعلام النبلاء - ط الحديث ١١/‏٣٦٩ )

 اسی طرح اس سند میں حماد بن إسحاق الموصلي بھی موجود ہیں جو مجہول ہیں، حتیٰ کہ غیر مقلد محقق معلمی یمانی کو بھی ان کی کوئی معتبر توثیق نہیں مل سکی (التنكيل - ضمن «آثار المعلمي» ١٠/‏٣٤١) ۔ لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔

اس واقعے کی چند مزید اسانید بھی ملاحظہ ہوں۔

2. أنا الْجَوْهَرِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْمَكِّيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ خَلَّادٍ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ الرَّشِيدُ يَوْمًا لِأَبِي يُوسُفَ الْقَاضِي: عِنْدَ عِيسَى بْنِ جَعْفَرٍ جَارِيَةٌ، وَهِيَ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَقَدْ عَرَفَ ذَاكَ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَبِيعَ وَلَا يَهَبَ وَلَا يَعْتِقَ وَهُوَ الْآنَ يَطْلُبُ حِلَّ يَمِينِهِ فَهَلْ عِنْدَكَ فِي ذَلِكَ حِيلَةٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، «يَهَبُ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ نِصْفَ رَقَبَتِهَا وَيَبِيعُهُ النِّصْفَ، فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ» الفقيه والمتفقه - الخطيب البغدادي ٢/‏٤١٤ 

3. حَدثنَا ابو عبيد الله المرزباني قَالَ ثَنَا احْمَد بن كَامِل قَالَ ثَنَا ابو العيناء قَالَ ثَنَا اسحاق بن ابراهيم الْموصِلِي قَالَ قَالَ الرشيد يَوْمًا لأبي يُوسُف القَاضِي عِنْد عِيسَى ابْن جَعْفَر جَارِيَة هِيَ احب النَّاس الي وَقد عرف ذَلِك فَحلف ان لَا يَبِيع وَلَا يهب وَلَا يعْتق وَهُوَ الْآن يطْلب حل يَمِينه فَهَل عنْدك فِي ذَلِك حِيلَة قَالَ نعم يهب لأمير الْمُؤمنِينَ نصف رقبَتهَا ويبيعه النّصْف فَلَا حنث عَلَيْهِ فِي ذَلِك

(أخبار أبي حنيفة وأصحابه ١/‏١٠٥)


اس میں مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ خَلِّادٍ أَبُو الْعَيْنَاءِ الْبَصْرِيُّ الضَّرِيرُ الشَّاعِرُ  راوی ہے امام دارقطنی نے فرمایا: یہ قوی نہیں ہیں (سیر أعلام النبلاء: 13/308–309) ۔خطیب بغدادی نے «تاریخ بغداد» (۳/ ۱۷۰–۱۷۹) میں اور امام ابنِ اثیر جامع الأصول (12/888) میں لکھتے ہیں: اس نے مسند احادیث بہت کم روایت کیں، اور اس پر زیادہ تر خبریں اور حکایات غالب ہیں۔ابن حجر عسقلانی نے «لسان المیزان» (۵/ ۳۴۴–۳۴۶) میں یہ بات ذکر کی ہے کہ حاکم نے اپنی سند کے ساتھ ابو العَیناء سے نقل کیا ہے، وہ کہتا ہے: “میں اور جاحظ نے حدیثِ فدک گھڑی تھی۔” اسی طرح امام دارقطنی کے حوالے سے لکھا ہے: “وہ شعر کہنے میں اچھا تھا، گفتگو اور حاضر جوابی میں مضبوط، لکھنے اور خط و کتابت میں نفیس تھا، مگر زبان کا خبیث، اور لوگوں کی مذمت میں بہت زیادہ کنایہ اور تعریض کرنے والا تھا۔”

 اسی طرح غیر مقلد محقق مختار احمد الندوی (ت 1428ھ) نے بھی اس سے مروی ایک حدیث کی تحقیق میں صاف لکھا ہے: 

[٤١١٠] إسناده: ليس بالقوي. • أبو العيناء محمد بن القاسم بن خلاد النحوي، ليس بالقوي

 اس کی سند قوی نہیں ہے؛ کیونکہ ابو العیناء محمد بن القاسم بن خلاد قوی راوی نہیں ہے(شعب الإيمان - ط الرشد ٦/‏٢٤٤)۔ 

یہ واقعہ اگرچہ تاریخی کتب میں منقول ہے مگر اس کی تمام اسانید ضعیف ہیں۔

اور اگر کوئی یہ کہے کہ یہ واقعہ سند کے اعتبار سے ثابت ہے، تو بھی ہمارا جواب یہ ہے کہ اس میں اس شرعی مسئلے کے اندر کوئی قباحت لازم نہیں آتی۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ مادی اشیاء کی ملکیت ایک سے زائد افراد میں مشترک ہو سکتی ہے، جیسے کسی کمپنی کے حصص متعدد لوگوں کی ملکیت ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک لونڈی بھی دو افراد کی مشترکہ ملکیت میں ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ لونڈی کسی ایک کے ساتھ بھی ازدواجی تعلق قائم نہیں کرے گی، بلکہ مقررہ اوقات میں دونوں مالکان کے گھریلو کام کاج کے لیے مختص رہے گی۔

لہٰذا جس فقہی حل کا انتساب قاضی ابو یوسفؒ کی طرف کیا جاتا ہے، اس پر اصولی طور پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ اور اگر بالفرض کسی درجے کا اعتراض مان بھی لیا جائے، تو بھی وہ قابلِ اعتنا نہیں، کیونکہ مجتہد اگر اجتہاد میں خطا کرے تب بھی وہ اجر سے محروم نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ واقعہ سنداً ثابت ہو یا نہ ہو، ہر صورت میں قاضی ابو یوسفؒ پر کسی بھی قسم کا اعتراض قائم نہیں کیا جا سکتا۔


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...