قاضی القضاۃ امام یعقوب بن ابراہیم ابو یوسف الأنصاریؒ (متوفی ۱۸۲ھ) کی تعریف ، توثیق و تحسین
1.شیخ النقاد امام یحییٰ بن معینؒ کے زریں اقوال
اور امام ابویوسفؒ کی غیر متزلزل ثقاہت
سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ امام یحییٰ بن معینؒ علمِ جرح و تعدیل میں “متشدد” شمار ہوتے ہیں۔
متشدد ناقدین کی توثیق کی علمی حیثیت
محدثین کے نزدیک متشدد ناقد کی توثیق غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، جب متشدد جارح کسی راوی کی توثیق کریں تو اس کی ثقاہت مزید واضح ہو جاتی ہے۔جیسا کہ خود غیر مقلدین بھی اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ: "متشدد کی توثیق بہت اہمیت رکھتی ہے" (جرح و تعدیل، صفحہ 25، از غیر مقلد محمد ابراہیم بن بشیر الحسنوی)۔ چنانچہ جب امام یحییٰ بن معینؒ کسی راوی کی توثیق کریں تو یہ اس کے علمی مقام اور دیانت پر ایک مضبوط دلیل بن جاتی ہے۔ اسی تناظر میں خطیب بغدادیؒ (م ۴۶۳ھ) امام یحییٰ بن معینؒ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: أخبرنا عبيد الله بن عمر الواعظ، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن يونس الأزرق، حدثنا جعفر بن أبي عثمان قال: سمعت يحيى- وسألته عن أبي يوسف وأبي حنيفة- فقال: أبو يوسف أوثق منه في الحديث. قلت: فكان أبو حنيفة يكذب؟ قال: كان أنبل في نفسه من أن يكذب.
جعفر بن محمد بن ابی عثمان الطیالسیؒ کہتے ہیں کہ میں نے امام یحییٰ بن معین سے سنا اورمیں نے ان سے ابو یوسف اورابو حنیفہ کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے کہا : ابو یوسف حدیث میں ابوحنیفہ سے زیادہ ثقہ ہیں ، میں نے عرض کیا ، کیا ابوحنیفہ جھوٹ بولتے تھے ؟ فرمایا ، وہ جھوٹ بولنے سے پاک تھے ۔ (تاریخ بغداد وذیولہ:جلد ۱۳: صفحہ۴۲۱۔ وسندہ صحیح، طبع علمیۃ)
حدثنا أبي قال: ثنا أبي قال: ثنا أحمد بن محمد بن هارون الجسري قال: ثنا أيوب بن إسحاق بن سافري قال: سمعت يحيى بن معين يقول: أبو يوسف القاضي وأسد بن عمرو ثقتان یحییٰ بن معین نے فرمایا : ابو یوسف اور أسد بن عمرو ثقہ ہیں (فضائل ابی حنیفہ لابن ابی العوام رقم 813 ، اسنادہ حسن )
694 - حدثنا أبي قال: ثنا أبي قال: حدثني محمد بن نوح الجند يسابوري قال: سمعت عباساً الدوري قال: سمعت يحيى بن معين يقول: أبو يوسف صاحب حديث وصاحب سنة. یحییٰ بن معین نے فرمایا : “ابو یوسف صاحب حدیث اور صاحب سنت ہیں۔” (فضائل أبي حنيفة وأخباره لابن أبي العوام ، اسنادہ صحیح )
یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ امام یحییٰ بن معینؒ اصولاً صرف ثقہ رواۃ سے ہی روایت لیتے تھے، اور یہ حقیقت ثابت ہے کہ انہوں نے امام ابو یوسفؒ سے روایت لی ہے۔ اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امام ابو یوسفؒ امام یحییٰ بن معینؒ کے نزدیک ثقہ تھے۔ امام عباس الدُّوریؒ (م ۲۷۱ھ) بیان کرتے ہیں: ’’سمعت يحيى يقول كان أبو يوسف القاضي يميل إلى أصحاب الحديث وكتبت عنه وقد حدثنا يحيى عنه‘‘ ۔
میں نے امام یحییٰ بن معین ؒ کو کہتے ہوئے سنا کہ قاضی ابو یوسف ؒ کا میلان اصحاب حدیث کی طرف تھا، میں نے ان سے حدیث لی ہے، اور یحیٰ نے ان کے واسطہ سے ہمیں حدیث بیان کی ہے) (تاریخ ابن معین :روایۃ الدوری :جلد ۴:صفحہ ۴۷۴:رقم ٥٣٥٣)
اسی مضمون کی روایت امام ابن ابی حاتمؒ بھی نقل کرتے ہیں: نا عبد الرحمن قال قرئ على العباس بن محمد الدوري قال سمعت يحيى بن معين يقول: كان أبو يوسف القاضى يميل إلى اصحاب الحديث كثيرا وكتبنا عنه ولم يزل الناس يكتبون عنه.
امام یحییٰ بن معینؒ فرماتے ہیں: “قاضی ابو یوسفؒ اہلِ حدیث کی طرف بہت زیادہ میلان رکھتے تھے۔ ہم نے خود ان سے احادیث لکھیں، اور لوگ ہمیشہ ان سے احادیث لکھتے رہے ہیں۔” (الجرح والتعديل – ابن أبي حاتم ٩/٢٠٢)
یہ بیان اس بات کی روشن دلیل ہے کہ امام ابو یوسفؒ نہ صرف حدیث سے محبت رکھنے والے تھے بلکہ محدثین کے نزدیک اس درجے معتبر تھے کہ خود ناقدینِ حدیث نے ان سے روایت لی۔
٦٩٠ - حدثنا أبي قال : ثنا أبي قال : حدثني أبو معمر وأبو بشر محمد بن أحمد بن حماد قالا : ثنا عباس بن محمد بن حاتم الدوري قال : ثنا يحيى ابن معين قال : ثنا أبو يوسف القاضي يعقوب ، عن يزيد بن أبي زياد ، عن يحنس ، عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو على رعل و ذكوان . (فضائل ابی حنیفہ لابن ابی العوام : ص 310 ، سند امام ابو یوسف تک صحیح ہے)
میں نے یحییٰ بن معینؒ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اصحاب الرائے میں ابو یوسفؒ سے زیادہ حدیث رکھنے والا اور ان سے زیادہ مضبوط کوئی نہیں۔” (صحیح سند:الكامل ٨/٤٦٦)
أخبرني عبد الله بن يحيى السّكّري، أخبرنا محمّد بن عبد الله الشّافعيّ، حدثنا جعفر بن محمّد بن الأزهر، حدثنا ابن الغلابي قال: قال يحيى بن معين: أبو يوسف القاضي لم يكن يعرف الحديث وهو ثقة.
ان تمام صحیح اور حسن اسناد کے ساتھ منقول اقوال سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ امام یحییٰ بن معینؒ جیسے متشدد ناقدِ حدیث نے امام ابو یوسفؒ کی ثقاہت کو تسلیم کیا، ان کی کثرتِ حدیث، حدیث سے قربت اور علم کی واضح گواہی دی۔ لہٰذا جو لوگ امام ابو یوسفؒ کے مقام کو گھٹانے یا ان پر بے بنیاد اعتراضات قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ درحقیقت اسلافِ امت کے روشن اور واضح فیصلوں سے دانستہ یا نادانستہ آنکھیں بند کرتے ہیں۔
2 ۔ امام نسائیؒ کی صریح شہادت: قاضی ابو یوسفؒ ثقہ ہیں
امام احمد بن شعیب نسائیؒ علمِ حدیث کے ان جلیل القدر ائمہ میں سے ہیں جن کی جرح و تعدیل میں سختی اور احتیاط ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے۔ امام نسائیؒ متشدّد ناقد شمار کیے جاتے ہیں، اور یہ بات خود غیر مقلد کی تصریحات سے بھی ثابت ہے۔ چنانچہ اس امر کو غیر مقلد مصنفین نے اپنی کتب میں تسلیم کیا ہے، جیسا کہ مقالات مبارکپوری (ص 220)، خیر الکلام (ص 46) اور انوار المصابیح (ص 113) میں صراحت موجود ہے ، ایسے امام کی توثیق محض ایک رسمی جملہ نہیں ہوتی، بلکہ وہ گہرے علمی غور و فکر، طویل تجربے اور سخت معیار کے بعد صادر ہوتی ہے۔ لہٰذا جب امام نسائیؒ کسی راوی کے بارے میں صراحت کے ساتھ کلمۂ توثیق ادا کریں تو وہ اس کی ثقاہت اور علمی اعتماد پر ایک نہایت قوی دلیل بن جاتی ہے۔ اسی اصول کے مطابق امام نسائیؒ نے امام ابو یوسفؒ کے بارے فیصلہ کن الفاظ میں فرمایا:
3 ۔ امام ابنِ حبانؒ کا فیصلہ: شیخٌ متقن
ائمۂ جرح و تعدیل میں امام ابنِ حبانؒ کا مقام محتاجِ تعارف نہیں۔ امام ابنِ حبانؒ نے امام ابو یوسفؒ کو اپنی کتاب الثقات میں باقاعدہ ذکر فرمایا اور ان کے بارے میں یوں لکھا: أَبُو يُوسُف يَعْقُوب بْن إِبْرَاهِيم بْن حبيب بْن سعد بْن حبتة من أهل الْكُوفَة يروي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ روى عَنْهُ بشر بْن الْوَلِيد وَأهل الْعرَاق وَكَانَ شَيخا متقنا
یعنی ابو یوسف، یعقوب بن ابراہیم بن حبیب بن سعد بن حبتہ، اہلِ کوفہ میں سے تھے۔ وہ یحییٰ بن سعید انصاریؒ سے روایت بیان کرتے ہیں، اور ان سے بشر بن ولید اور اہلِ عراق کے علماء نے روایت لی۔ اور وہ ایک پختہ، متقن شیخ تھے۔ (مشاهير علماء الأمصار ١/٢٧٠ - الثقات لابن حبان ٧/٦٤٥)
4 ۔ امام احمد بن حنبلؒ
امام احمد بن حنبلؒ حدیث کے اُن جلیل القدر ائمہ میں سے ہیں جو اہلِ رائے کے بارے میں غیر معمولی حد تک نہایت متشدد سمجھے جاتے ہیں۔ یہ بات اہلِ علم سے مخفی نہیں کہ امام احمدؒ عام طور پر اہلِ رائے کے رواۃ سے حدیث لینے کے قائل نہ تھے ، قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
اعتراض نمبر 35 : امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جرح
ایسے سخت معیار رکھنے والے امام کی جانب سے اگر کسی اہلِ رائے عالم کی حدیثی حیثیت کی تعریف کی جائے تو وہ محض ایک معمولی بات نہیں رہتی، بلکہ نہایت وزن اور اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ نے قاضی ابو یوسفؒ کو حدیث کے باب میں ﺻﺪﻭﻕ سمجھا ( الجامع لعلوم الإمام أحمد - الرجال ١٩/٥٦٠- «العلل» رواية عبد اللَّه (٥٣٣٢).- الجرح والتعديل ٩/ ٢٠١ - تاريخ بغداد - ط العلمية ١٤/٢٦١) ، بلکہ عملاً اور قولاً ان سے حدیث حاصل کی۔ ایک ایسے امام کی طرف سے، جو اہلِ رائے پر شدید نقد کے لیے معروف ہوں، قاضی ابو یوسفؒ کی یہ قبولیت اور اعتماد دراصل ان کی حدیثی ثقاہت اور علمی استحکام کی زبردست دلیل ہے۔ مزید برآں یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ خود امام احمد بن حنبلؒ نے اپنے حدیثی سفر کی ابتدا قاضی ابو یوسفؒ ہی سے کی۔ وہ اس حقیقت کا اقرار نہایت واضح الفاظ میں کرتے ہیں۔
چنانچہ خطیب بغدادیؒ روایت کرتے ہیں: سمعت أحمد بن حنبل يقول: أول ما طلبت الحديث ذهبت على أبو يوسف القاضي، ثم طلبنا بعد فكتبنا عن الناس. امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں: “میں نے جب سب سے پہلے حدیث طلب کی تو میں قاضی ابو یوسف کے پاس گیا، پھر اس کے بعد ہم نے حدیث کی طلب جاری رکھی اور لوگوں سے لکھنا شروع کیا۔” (تاريخ بغداد 14/255)
یہ اقرار اس حقیقت پر نہایت روشن دلیل ہے کہ امام احمدؒ جیسے عظیم محدث نے اپنے حدیثی سفر کی بنیاد جس شخصیت سے رکھی، وہ امام ابو یوسفؒ تھے۔ اگر امام ابو یوسفؒ حدیث میں قابلِ اعتماد، مضبوط اور معتبر نہ ہوتے تو امام احمد بن حنبلؒ جیسا محتاط اور متشدد امام نہ تو ان سے ابتدا کرتا، نہ ان سے حدیث حاصل کرتا، اور نہ اس بات کا برملا اعلان کرتا۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ قاضی ابو یوسفؒ کی حدیثی حیثیت نہ صرف اہلِ رائے کے دائرے میں مسلم تھی، بلکہ اکابر محدثین اور ناقدینِ حدیث کے نزدیک بھی قابلِ اعتماد اور معتمد تھی۔
امامِ جرح و تعدیل امام علی بن مدینیؒ قاضی ابو یوسفؒ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ
أخبرني الأزهري، وعلي بن محمد بن الحسن المالكي قالا: أخبرنا عبد الله بن عثمان الصفار، قال: أخبرنا محمد بن عمران بن موسى الصيرفي، قال: حدثنا عبد الله بن علي بن عبد الله المديني قال: سمعت أبي يقول: قدم أبو يوسف يعني القاضي البصرة مرتين؛ أولا سنة ست وسبعين فلم آته، والثانية سنة ثمانين فكنا نأتيه فكان يحدث بعشرة أحاديث وعشرة رأي، وأراه قال: ما أجد على أبي يوسف شيء إلا حديث هشام في الحجر، وكان صدوقا ولم يرو عن هشام غيره يعني هذا الحديث
قاضی ابو یوسفؒ دو مرتبہ بصرہ آئے؛ پہلی مرتبہ 176ھ میں، اس وقت میں ان کے پاس نہ گیا۔ دوسری مرتبہ 180ھ میں آئے تو ہم ان کے پاس جاتے تھے۔ وہ دس احادیث اور دس مسائلِ رائے بیان کرتے تھے۔ اور (امام علی بن مدینیؒ کہتے ہیں) مجھے ابو یوسفؒ پر صرف ایک بات ہی قابلِ گرفت نظر آئی، وہ ہشام کے حجر (کعبہ) سے متعلق ایک حدیث ہے۔ اس کے باوجود ابو یوسفؒ صدوق تھے، اور ہشام سے اس ایک حدیث کے سوا انہوں نے کوئی روایت نہیں کی۔
(تاريخ بغداد - ت بشار ١٦/٣٧٤- اس روایت کی سند حسن ہے، اور امام علی بن مدینیؒ کے صاحبزادے عبد اللہ بن علی کو ایک نہیں بلکہ دو غیر مقلد نے ثقہ اور معتبر قرار دیا ہے، جس کی تفصیل غیر مقلدین کے اسی مضمون میں دیکھی جا سکتی ہے، اس لنک پر)
یہ گواہی اس امر کو واضح کرتی ہے کہ امام علی بن مدینیؒ جیسے جلیل القدر متشدد ناقد ( الجرح والتعديل ٧/ ٧٣) کے نزدیک بھی قاضی ابو یوسفؒ کا درجہ صدق، دیانت اور اعتماد کا تھا، اور ان پر کوئی ایسی جرح نہیں جو ان کی مجموعی ثقاہت کو متاثر کرے۔
6. ۔ امام بیہقیؒ
امام ابو بکر بیہقیؒ، جو فقہِ شافعی اور علمِ حدیث کے عظیم امام ہیں، انہوں نے بھی امام ابو یوسفؒ کی ثقاہت کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
اسی طرح امام ابنِ شاہینؒ، جو اسماءُ الرجال اور رواۃ کے مراتب پر گہری نظر رکھتے تھے، انہوں نے بھی امام ابو یوسفؒ کے حدیثی مقام کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے۔ امام ابن شاہین کے نزدیک امام ابو یوسف ثِقَة تھے۔
١٦٢٩ - وَقَالَ بن معِين أَبُو يُوسُف ثِقَة إِذا حدث عَن الثِّقَات (تاريخ أسماء الثقات ١/٢٦٤)
١٤٧٧ - وَأَبُو يُوسُف أوثق من أبي حنيفَة فِي الحَدِيث وَكَانَ أَبُو حنيفَة أنبل فِي نَفسه من أَن يكذب وَاسم أبي حنيفَة النُّعْمَان بن ثَابت یعنی ابو یوسف حدیث کے معاملے میں ابو حنیفہ سے زیادہ ثقہ تھے، اور ابو حنیفہ اپنی ذات میں اس سے کہیں زیادہ بلند تھے کہ جھوٹ بولیں، اور ابو حنیفہ کا نام نعمان بن ثابت ہے۔ (تاريخ أسماء الثقات ١/٢٤١)
امام ابن عبد البرؒ نے عظیم فقیہ، مفسر اور مؤرخ امام محمد بن جریر طبریؒ سے یہ نہایت اہم اور وزنی شہادت حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے۔ امام طبریؒ قاضی ابو یوسفؒ کے بارے میں فرماتے ہیں:
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ قَالَ نَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الطبرى قَالَ كَانَ ابو يُوسُف يَعْقُوب ابْن إِبْرَاهِيمَ الْقَاضِي فَقِيهًا عَالِمًا حَافِظًا ذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ يُعْرَفُ بِحِفْظِ الْحَدِيثِ وَأَنَّهُ كَانَ يَحْضُرُ الْمُحَدِّثِ فَيَحْفَظُ خَمْسِينَ وَسِتِّينَ حَدِيثًا ثُمَّ يَقُومُ فَيُمْلِيهَا عَلَى النَّاسِ وَكَانَ كَثِيرَ الْحَدِيثِ وَكَانَ قد جَالس مُحَمَّد بن عبد الرحمن بن ابى لَيْلَي ثُمَّ جَالَسَ أَبَا حَنِيفَةَ وَكَانَ الْغَالِبُ عَلَيْهِ مَذْهَبَ أَبِي حَنِيفَةَ وَكَانَ رُبَّمَا خَالفه احيانا فى المسئلة بعد المسئلة
ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم القاضیؒ فقیہ، عالم اور حافظ تھے۔ وہ حفظِ حدیث کی وجہ سے خاص طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کا یہ حال تھا کہ جب کسی محدث کی مجلس میں حاضر ہوتے تو پچاس یا ساٹھ احادیث سن کر فوراً یاد کر لیتے، پھر کھڑے ہو کر وہی احادیث لوگوں کو املا کروا دیتے تھے۔ وہ کثرت سے حدیث روایت کرنے والے تھے۔ انہوں نے ابتدا میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰؒ کی صحبت اختیار کی، پھر امام ابو حنیفہؒ کی مجلس میں بیٹھے، اور بالآخر ان پر امام ابو حنیفہؒ کا مذہب غالب ہو گیا، اگرچہ بعض اوقات ایک مسئلے کے بعد دوسرے مسئلے میں اپنے استاد سے اختلاف بھی کر لیا کرتے تھے۔ (الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء ١/١٧٣)
10. امام الحافظ الحجہ عمرو بن محمد بن بکیر الناقد 232ھ کی گواہی: قاضی ابو یوسفؒ بطور صاحبِ سنت
سمعت أَبَا يعلي يَقُول: سَمعتُ عَمْرو الناقد يَقُول لا أرى أن أروي عن أحد من أصحاب الرأي إلاَّ أَبُو يُوسُف فإنه كَانَ صاحب سنة. اور میں نے ابو یعلیٰ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عمرو ناقدؒ کو یہ کہتے سنا: “میں اصحابِ رائے میں سے کسی سے روایت کرنا پسند نہیں کرتا، سوائے ابو یوسفؒ کے، کیونکہ وہ صاحبِ سنت تھے۔” (الكامل في ضعفاء الرجال ٨/٤٦٦صحیح سند:)
11. شعيب بن إسحاق الأموي الدمشقي کی شہادت: قاضی ابو یوسفؒ کا علمِ آثار میں امتیاز
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ، حَدَّثَنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ سَمِعت شُعَيب بْن إِسْحَاق يَقُول وذكر أَبُو يُوسُف عنده فَقَالَ لأبي يُوسُف أن يأخذ على الأمة وليس على الأمة أن يأخذوا على أَبِي يُوسُف لعلمه بالآثار. جعفر بن احمد بن عاصم روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہمیں ہشام بن عمار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے شعیب بن اسحاق کو یہ کہتے ہوئے سنا—اور ان کے سامنے ابو یوسفؒ کا ذکر کیا گیا—تو انہوں نے کہا: “امت پر لازم ہے کہ وہ ابو یوسفؒ کی بات کو اختیار کرے، نہ کہ ابو یوسفؒ اس بات کے پابند ہوں کہ امت کی پیروی کریں؛ اس لیے کہ وہ آثارِ نبویہ کے علم میں کامل دسترس رکھتے تھے۔” (الكامل في ضعفاء الرجال ٨/٤٦٦صحیح سند:)
ثقہ امام شعیب بن اسحاقؒ—جنہیں امام احمد بن حنبلؒ، ابو داودؒ، یحییٰ بن معینؒ، نسائیؒ اور ابو حاتم رازیؒ نے ثقہ و صدوق قرار دیا— کا یہ بیان کہ امت کو ابو یوسفؒ کی پیروی کرنی چاہیے اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ قاضی ابو یوسفؒ کو آثارِ نبویہ میں غیر معمولی مہارت حاصل تھی، اور وہ سنت و آثار کی بنیاد پر امت کی صحیح رہنمائی کرنے کی کامل صلاحیت رکھتے تھے۔
12. دبستانِ کوفہ کی علمی تربیت:
امام وکیع بن جراحؒ کا دفاع: امام اعظمؒ کی مجلس اور رفقاء کا علمی توازن۔ امام وکیعؒ کی گواہی: ابو یوسفؒ کا قیاس اور علمی ماحولامام وکیعؒ جیسے جلیل القدر محدث کی زبان سے قاضی ابو یوسفؒ کے قیاس اور علمی مرتبے کی جو تعریف منقول ہے، وہ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
حدثنا ابن كرامة، قال: كنا عند وكيع يوماً فقال رجل: أخطأ أبو حنيفة، فقال وكيع: كيف يقدر أبو حنيفة يخطئ ومعه مثل أبي يوسف، وزفر في قياسهما، ومثل يحيى بن أبي زائدة، وحفص بن غياث، وحبان، ومندل في حفظهم الحديث، والقاسم بن معن في معرفته باللغة العربية، وداود الطائي، وفضيل بن عياض في زهدهما وورعهما؟ من كان هؤلاء جلساؤه لم يكد يخطئ؛ لأنه إن أخطأ ردوه (تاريخ بغداد ت بشار 16/365 )أخبار أبي حنيفة وأصحابه ص158 ، وهذا إسناد صحیح
ایک مجلس میں جب کسی شخص نے امام ابو حنیفہؒ پر خطا کا الزام لگایا تو امام وکیعؒ نے فوراً جواب دیا کہ ابو حنیفہؒ سے خطا کیسے ممکن ہے، جبکہ ان کے ساتھ ابو یوسفؒ اور زفرؒ جیسے لوگ موجود ہوں، جن کا قیاس مضبوط تھا، اور حدیث کے حفظ میں یحییٰ بن ابی زائدہ، حفص بن غیاث، حبان اور مندل جیسے حفاظ ہوں، زبان میں قاسم بن معن جیسے ماہر ہوں، اور زہد و ورع میں داؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسے بزرگ شریک ہوں۔ امام وکیعؒ نے واضح کیا کہ جس مجلس میں ایسے لوگ ہوں، وہاں خطا باقی نہیں رہتی، کیونکہ اگر کوئی لغزش ہو بھی جائے تو فوراً اس کی اصلاح کر دی جاتی ہے۔ اس شہادت میں خاص طور پر قاضی ابو یوسفؒ کے قیاس کی قوت اور علمی وزن کی صریح تعریف موجود ہے۔ مزید تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
قاضی القضاۃ: سیادت و قیادت: پہلا "قاضی القضاۃ" اور اصولِ فقہ کی تدوین۔
10. امام الحافظ الحجہ عمرو بن محمد بن بکیر الناقد 232ھ کی گواہی: قاضی ابو یوسفؒ بطور صاحبِ سنت
سمعت أَبَا يعلي يَقُول: سَمعتُ عَمْرو الناقد يَقُول لا أرى أن أروي عن أحد من أصحاب الرأي إلاَّ أَبُو يُوسُف فإنه كَانَ صاحب سنة. اور میں نے ابو یعلیٰ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عمرو ناقدؒ کو یہ کہتے سنا: “میں اصحابِ رائے میں سے کسی سے روایت کرنا پسند نہیں کرتا، سوائے ابو یوسفؒ کے، کیونکہ وہ صاحبِ سنت تھے۔” (الكامل في ضعفاء الرجال ٨/٤٦٦صحیح سند:)
11. شعيب بن إسحاق الأموي الدمشقي کی شہادت: قاضی ابو یوسفؒ کا علمِ آثار میں امتیاز
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ، حَدَّثَنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ سَمِعت شُعَيب بْن إِسْحَاق يَقُول وذكر أَبُو يُوسُف عنده فَقَالَ لأبي يُوسُف أن يأخذ على الأمة وليس على الأمة أن يأخذوا على أَبِي يُوسُف لعلمه بالآثار. جعفر بن احمد بن عاصم روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہمیں ہشام بن عمار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے شعیب بن اسحاق کو یہ کہتے ہوئے سنا—اور ان کے سامنے ابو یوسفؒ کا ذکر کیا گیا—تو انہوں نے کہا: “امت پر لازم ہے کہ وہ ابو یوسفؒ کی بات کو اختیار کرے، نہ کہ ابو یوسفؒ اس بات کے پابند ہوں کہ امت کی پیروی کریں؛ اس لیے کہ وہ آثارِ نبویہ کے علم میں کامل دسترس رکھتے تھے۔” (الكامل في ضعفاء الرجال ٨/٤٦٦صحیح سند:)
ثقہ امام شعیب بن اسحاقؒ—جنہیں امام احمد بن حنبلؒ، ابو داودؒ، یحییٰ بن معینؒ، نسائیؒ اور ابو حاتم رازیؒ نے ثقہ و صدوق قرار دیا— کا یہ بیان کہ امت کو ابو یوسفؒ کی پیروی کرنی چاہیے اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ قاضی ابو یوسفؒ کو آثارِ نبویہ میں غیر معمولی مہارت حاصل تھی، اور وہ سنت و آثار کی بنیاد پر امت کی صحیح رہنمائی کرنے کی کامل صلاحیت رکھتے تھے۔
امام وکیعؒ جیسے جلیل القدر محدث کی زبان سے قاضی ابو یوسفؒ کے قیاس اور علمی مرتبے کی جو تعریف منقول ہے، وہ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
حدثنا ابن كرامة، قال: كنا عند وكيع يوماً فقال رجل: أخطأ أبو حنيفة، فقال وكيع: كيف يقدر أبو حنيفة يخطئ ومعه مثل أبي يوسف، وزفر في قياسهما، ومثل يحيى بن أبي زائدة، وحفص بن غياث، وحبان، ومندل في حفظهم الحديث، والقاسم بن معن في معرفته باللغة العربية، وداود الطائي، وفضيل بن عياض في زهدهما وورعهما؟ من كان هؤلاء جلساؤه لم يكد يخطئ؛ لأنه إن أخطأ ردوه (تاريخ بغداد ت بشار 16/365 )أخبار أبي حنيفة وأصحابه ص158 ، وهذا إسناد صحیح
ایک مجلس میں جب کسی شخص نے امام ابو حنیفہؒ پر خطا کا الزام لگایا تو امام وکیعؒ نے فوراً جواب دیا کہ ابو حنیفہؒ سے خطا کیسے ممکن ہے، جبکہ ان کے ساتھ ابو یوسفؒ اور زفرؒ جیسے لوگ موجود ہوں، جن کا قیاس مضبوط تھا، اور حدیث کے حفظ میں یحییٰ بن ابی زائدہ، حفص بن غیاث، حبان اور مندل جیسے حفاظ ہوں، زبان میں قاسم بن معن جیسے ماہر ہوں، اور زہد و ورع میں داؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسے بزرگ شریک ہوں۔ امام وکیعؒ نے واضح کیا کہ جس مجلس میں ایسے لوگ ہوں، وہاں خطا باقی نہیں رہتی، کیونکہ اگر کوئی لغزش ہو بھی جائے تو فوراً اس کی اصلاح کر دی جاتی ہے۔ اس شہادت میں خاص طور پر قاضی ابو یوسفؒ کے قیاس کی قوت اور علمی وزن کی صریح تعریف موجود ہے۔ مزید تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
قاضی القضاۃ: سیادت و قیادت: پہلا "قاضی القضاۃ" اور اصولِ فقہ کی تدوین۔
13. امام طلحہ بن محمد بن جعفرؒ کی جامع شہادت
امام طلحہ بن محمد بن جعفرؒ قاضی ابو یوسفؒ کے مقام و مرتبہ پر نہایت جامع اور فیصلہ کن کلمات ادا کرتے ہیں۔
أخبرنا التنوخي، قال: أخبرنا طلحة بن محمد بن جعفر قال: وأبو يوسف مشهور الأمر، ظاهر الفضل، وهو صاحب أبي حنيفة، وأفقه أهل عصره، ولم يتقدمه أحد في زمانه، وكان النهاية في العلم والحكم، والرياسة والقدر، وأول من وضع الكتب في أصول الفقه على مذهب أبي حنيفة، وأملى المسائل ونشرها، وبث علم أبي حنيفة في أقطار الأرض. (تاريخ بغداد - ت بشار ١٦/٣٦٣- اسنادہ حسن)
وہ فرماتے ہیں کہ قاضی ابو یوسفؒ اپنے زمانے میں نہایت مشہور، واضح فضل و کمال کے حامل اور امام اعظم ابو حنیفہؒ کے ممتاز شاگرد تھے۔ وہ اپنے عہد کے سب سے بڑے فقیہ تھے، ان پر اس زمانے میں کوئی سبقت نہ لے سکا۔ علم، قضاء، قیادت اور وقار—ہر میدان میں وہ انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔ مزید یہ کہ فقہِ حنفی کے اصول پر سب سے پہلے باقاعدہ تصانیف مرتب کرنے والے بھی وہی تھے، انہوں نے مسائل کو املا کروایا، انہیں پھیلایا اور امام ابو حنیفہؒ کے علم کو زمین کے گوشے گوشے تک پہنچایا۔
14.قاضی احمد بن کاملؒ کی جامع توصیف
قاضی احمد بن کاملؒ نے امام ابو یوسفؒ کی عظمت اور ثقاہت پر نہایت جامع اور فیصلہ کن گواہی دی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ
أخبرنا الصيمري، قال: أخبرنا أبو عبيد الله محمد بن عمران المرزباني، قال: حدثنا أحمد بن كامل، قال: حدثنا أحمد بن القاسم البرتي، قال: حدثنا بشر بن الوليد قال: سمعت أبا يوسف يعقوب بن إبراهيم بن سعد ابن حبتة القاضي قال: ابن كامل هو قاضي موسى الهادي، وهارون الرشيد ببغداد، وقال: ولم يختلف يحيى بن معين، وأحمد بن حنبل، وعلي ابن المديني في ثقته في النقل قال: وهو أول من خوطب بقاضي القضاة،
امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیمؒ نہ صرف اپنے زمانے کے ممتاز قاضی تھے بلکہ خلافتِ عباسیہ میں موسیٰ الہادی اور ہارون الرشید کے عہد میں بغداد کے مرکزی قاضی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ امام یحییٰ بن معینؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام علی بن مدینیؒ—یہ تینوں اکابر ائمۂ جرح و تعدیل—نقلِ حدیث میں امام ابو یوسفؒ کی ثقاہت پر متفق تھے، اور اس باب میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ مزید یہ کہ امام ابو یوسفؒ وہ پہلی شخصیت تھے جنہیں باقاعدہ طور پر “قاضی القضاۃ” کا لقب دیا گیا۔ (تاريخ بغداد - ت بشار ١٦/٣٦١ - حسن)
امام طلحہ بن محمد بن جعفرؒ قاضی ابو یوسفؒ کے مقام و مرتبہ پر نہایت جامع اور فیصلہ کن کلمات ادا کرتے ہیں۔
أخبرنا التنوخي، قال: أخبرنا طلحة بن محمد بن جعفر قال: وأبو يوسف مشهور الأمر، ظاهر الفضل، وهو صاحب أبي حنيفة، وأفقه أهل عصره، ولم يتقدمه أحد في زمانه، وكان النهاية في العلم والحكم، والرياسة والقدر، وأول من وضع الكتب في أصول الفقه على مذهب أبي حنيفة، وأملى المسائل ونشرها، وبث علم أبي حنيفة في أقطار الأرض. (تاريخ بغداد - ت بشار ١٦/٣٦٣- اسنادہ حسن)
وہ فرماتے ہیں کہ قاضی ابو یوسفؒ اپنے زمانے میں نہایت مشہور، واضح فضل و کمال کے حامل اور امام اعظم ابو حنیفہؒ کے ممتاز شاگرد تھے۔ وہ اپنے عہد کے سب سے بڑے فقیہ تھے، ان پر اس زمانے میں کوئی سبقت نہ لے سکا۔ علم، قضاء، قیادت اور وقار—ہر میدان میں وہ انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔ مزید یہ کہ فقہِ حنفی کے اصول پر سب سے پہلے باقاعدہ تصانیف مرتب کرنے والے بھی وہی تھے، انہوں نے مسائل کو املا کروایا، انہیں پھیلایا اور امام ابو حنیفہؒ کے علم کو زمین کے گوشے گوشے تک پہنچایا۔
14.قاضی احمد بن کاملؒ کی جامع توصیف
قاضی احمد بن کاملؒ نے امام ابو یوسفؒ کی عظمت اور ثقاہت پر نہایت جامع اور فیصلہ کن گواہی دی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ
أخبرنا الصيمري، قال: أخبرنا أبو عبيد الله محمد بن عمران المرزباني، قال: حدثنا أحمد بن كامل، قال: حدثنا أحمد بن القاسم البرتي، قال: حدثنا بشر بن الوليد قال: سمعت أبا يوسف يعقوب بن إبراهيم بن سعد ابن حبتة القاضي قال: ابن كامل هو قاضي موسى الهادي، وهارون الرشيد ببغداد، وقال: ولم يختلف يحيى بن معين، وأحمد بن حنبل، وعلي ابن المديني في ثقته في النقل قال: وهو أول من خوطب بقاضي القضاة،
امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیمؒ نہ صرف اپنے زمانے کے ممتاز قاضی تھے بلکہ خلافتِ عباسیہ میں موسیٰ الہادی اور ہارون الرشید کے عہد میں بغداد کے مرکزی قاضی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ امام یحییٰ بن معینؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام علی بن مدینیؒ—یہ تینوں اکابر ائمۂ جرح و تعدیل—نقلِ حدیث میں امام ابو یوسفؒ کی ثقاہت پر متفق تھے، اور اس باب میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ مزید یہ کہ امام ابو یوسفؒ وہ پہلی شخصیت تھے جنہیں باقاعدہ طور پر “قاضی القضاۃ” کا لقب دیا گیا۔ (تاريخ بغداد - ت بشار ١٦/٣٦١ - حسن)
15. امام السمعانی کی تصریح: علمی اور فقہی قائد
امام السمعانیؒ فرماتے ہیں : ولم يختلف يحيى بن معين، وأحمد بن حنبل، وعلي بن المدين، في ثقته في النقل، ولم يتقدمه أحدٌ في زمانه، وكان النهاية في العلم والحكم والرياسة والقدر، وأول من وضع الكتب في أصول الفقه على مذهب أبي حنيفة، وأملى المسائل ونشرها، وبث علم أبي حنيفة في أقطار الأرض.
یعنی امام یحییٰ بن معینؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام علی بن مدینیؒ سب نے امام ابو یوسفؒ کی ثقاہت اور اعتماد پر اتفاق کیا، اور ان کے زمانے میں ان سے آگے کسی نے علمی، فقہی اور قیادی مقام حاصل نہیں کیا۔ مزید یہ کہ قاضی ابو یوسفؒ نے اصول فقہ کو کتابی شکل میں مرتب کیا، مسائل املا کئے اور فقہ ابو حنیفہؒ کو دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلایا (الأنساب - السمعاني - ط الجنان والفكر ٤/٤٣٢)
امام ذہبیؒ نے قاضی ابو یوسفؒ کو بڑے احترام اور تعظیم کے ساتھ یاد کیا، اور انہیں متعدد القابات سے نوازا: «الإمام المجتهد العلامة المحدِّث قاضي القضاة» «السير» (٨/ ٥٣٥)۔ اس کے ساتھ، امام ذہبیؒ نے امام ابو یوسفؒ سے منقول ایک روایت کی سند کو عالی سند قرار دیا، جو ان کے علمی اعتبار کو مزید مضبوط کرتی ہے: أنا أبو يوسف القاضي ثنا أبو حنيفة عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال: أتى ماعز بن مالك رسول الله ﵌ فأقر بالزنا فرده، ثم عاد فأقر بالزنا فرده، ثم عاد فأقر بالزنا فرده، فلما كان في الرابعة سأل عنه قومه: هل تنكرون من عقله شيئا؟ قالوا: لا، فأمر به فرجم في موضع قليل الحجارة فأبطأ عليه الموت فانطلق يسعى إلى موضع كثير الحجارة واتبعه الناس فرجموه حتى قتلوه، ثم ذكروا شأنه لرسول الله ﵌ واستأذنوه في دفنه والصلاة عليه فأذن لهم في ذلك فقال: «لقد تاب توبة لو تابها فئام من الناس قبل منهم». هذا إسناده متصل عال. (تذكرة الحفاظ = طبقات الحفاظ للذهبي ١/٢١٥)
٣٩١٨ - حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ﵄، فِي قَوْلِهِ ﷿: ﴿يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ﴾ [الطارق: ٧] قَالَ: " ﴿الصُّلْبُ﴾ [الطارق: ٧] هُوَ الصُّلْبُ، ﴿وَالتَّرَائِبُ﴾ [الطارق: ٧] أَرْبَعَةُ أَضْلَاعٍ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ مِنْ أَسْفَلِ الْأَضْلَاعِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ٣٩١٨ - صحيح
(المستدرك على الصحيحين - ط العلمية ٢/٥٦٥ )
امام ذہبیؒ نے امام ابو یوسفؒ کے مناقب پر کتاب بھی لکھی: مناقب الامام ابی حنیفہ و صاحبیہ، جو ان کی علمی اور عملی شخصیت کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔
18. امام ضیاء الدین مقدسی کی تصریح
امام ضیاء الدین مقدسی نے بھی ان کی حدیث کو اپنی الأحاديث المختارة میں نقل کیا ہے اور غیر مقلدین کے مطابق الأحاديث المختارة میں امام ضیاء الدین وہی روایتیں لاتے ہیں جو صحیح ہوتی ہیں۔غیر مقلد علی زئی کے نزدیک ضیاء مقدسی کا کسی حدیث کی تخریج کرنا اس حدیث کی صحت کی دلیل ہے۔ (تعداد رکعت قیام رمضان ص23)
٢١٥٨ - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ الْفَاخِرِ - بِأَصْبَهَانَ - أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الرَّجَاءِ الصَّيْرَفِيَّ أَخْبَرَهُمْ، أَبْنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمَدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبْنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، أَبْنَا جَدِّي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَمِيلٍ، أَبْنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ أَنَّهُ «كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى مِائَةِ آيَةٍ». قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاضِي. لَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَرْزَةَ. (الأحاديث المختارة ٦/١٥٩ — ضياء الدين المقدسي )
لہٰذا ثابت ہوتا ہے کہ امام ضیاء الدین کے نزدیک قاضی ابو یوسف ثقہ تھے۔
19. ابن حزم کی تصریح: امام ابو یوسفؒ کی ثقاہت
ابن حزم نے اپنی کتاب حجة الوداع میں امام ابو یوسف سے حدیث لی ہے اور اس کتاب میں ابن حزم صرف صحیح روایت لیتے ہیں جیسا کہ اس کتاب کے مقدمہ میں صراحت ہے ۔ "ثُمَّ نُثَنِّي إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى بِذِكْرِ الْأَحَادِيثِ الْوَارِدَةِ بِكَيْفِيَّةِ مَا ذَكَرْنَاهُ نَحْنُ بِالْأَسَانِيدِ الْمُتَّصِلَةِ الصِّحَاحِ" (1/112)
٤٨٦ - حَدَّثَنَا حُمَامٌ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ أَصْبَغَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَيْمَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى بْنُ مَسَرَّةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: «لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا» (حجة الوداع لابن حزم ١/٤١٦ )
20. امام الهيثمي کی تصریح: امام ابو یوسفؒ کی ثقاہت
امام الهيثمي نے قاضی ابو یوسفؒ سے سند کے ساتھ مروی ایک روایت کی سند کو حسن قرار دیا ہے، اور یہ بات اس امر کی صریح دلیل ہے کہ ان کے نزدیک قاضی ابو یوسفؒ حدیث میں معتبر، قابلِ اعتماد اور حجت تھے۔
رواه الطبراني في «الكبير» ١١/ ١٣٩ (١١٤٠٣) قال: حدثنا أحمد بن القاسم الطائي، حدثنا بشر بن الوليد، حدثنا أبو يوسف القاضي حدثني نافع بن عمر قال: سمعت عطاء بن أبي رباح يحدث عن ابن عباس: أن رسول الله - ﷺ -: صلى على قتلى أحد فكبر عليهم تسعًا تسعًا ثم سبعًا سبعًا ثم أربعًا أربعًا حتى لحق بالله ﷿.
قال الهيثمي في «مجمع الزوائد» ٣/ ٣٥ إسناده حسن. اهـ.
21. ۔ محمد بن الصباحؒ کی شہادت
الإمام الحافظ الحجة أبو جعفر محمد بن الصباح الدولابي المزني جو صحاحِ ستہ کے معروف راوی ہیں، ائمۂ جرح و تعدیل کے نزدیک وہ ثقہ، مأمون اور حافظِ حدیث تھے۔ امام احمد بن حنبلؒ، امام حاکمؒ، ابو حاتم رازیؒ، ابن حبانؒ، یحییٰ بن معینؒ، ابن حجر عسقلانیؒ اور امام ذہبیؒ سمیت متعدد ائمہ نے ان کی ثقاہت کی تصریح کی ہے۔
محمد بن الصباحؒ کے نزدیک قاضی ابو یوسفؒ حدیث میں قابلِ اعتماد تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پر انہوں نے ہشیمؒ کی مجلس ترک کر کے ابو یوسفؒ کی صحبت اختیار کی، کیونکہ ابو یوسفؒ نہ صرف علمی طور پر مضبوط تھے بلکہ نیک، صالح اور کثرت سے نفلی روزے رکھنے والے تھے۔
سَمِعت بْن قَحْطَبَةَ يَقُول سَمِعت مُحَمَّد بْن الصَّباح يَقُول وَقيل لَهُ لم لم تكْتب عَنْ هشيم قَالَ لِأَنِّي انصرفت يَوْمًا من مجْلِس هشيم فَسَأَلت مَسْأَلَة فَلم أحْسنهَا فَتركت هشيما ولزمت أَبَا يُوسُف فَكَانَ أَبُو يُوسُف رجلا صَالحا وَكَانَ يسْرد الصَّوْم
یہ نہ صرف امام ابو یوسفؒ کے علمی مقام پر روشنی ڈالتی ہے بلکہ ان کے تقویٰ، دیانت اور عملی دینداری کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
22. امام ابن سعدؒ کی تصریح: حفظِ حدیث اور کثرتِ روایت
امام ابن سعدؒ قاضی ابو یوسفؒ کی حدیثی حیثیت کو نہایت روشن الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ
وكان عند أبي يوسف حديث كثير عن أبي خصيف والمغيرة وحصين ومطرف وهشام بن عروة والأعمش وغيرهم من الكوفيين، وكان يعرف بالحفظ للحديث، وكان يحضر المحدث فيحفظ خمسين وستين حديثا فيقوم فيمليها على الناس
امام ابو یوسفؒ کے پاس ابو خصیف، مغیرہ، حصین، مطرف، ہشام بن عروہ، اعمش اور دیگر کوفی محدثین سے مروی بکثرت احادیث موجود تھیں۔
وہ حفظِ حدیث میں خاص شہرت رکھتے تھے، یہاں تک کہ کسی محدث کی مجلس میں حاضر ہوتے، تو پچاس یا ساٹھ احادیث سن کر یاد کر لیتے، پھر کھڑے ہو کر وہی احادیث لوگوں کو املا کروا دیتے تھے۔ ( الطبقات الكبرى - ط العلمية ٧/٢٣٩ — ابن سعد ) یہ بیان اس غلط فہمی کو بالکل ختم کر دیتا ہے کہ قاضی ابو یوسفؒ حدیث سے ناآشنا تھے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ حفظ، روایت اور املا—تینوں میدانوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔
23. امام ابن خلکانؒ کی مختصر مگر وزنی توصیف
امام ابن خلکانؒ نے قاضی ابو یوسفؒ کی شخصیت کو نہایت جامع انداز میں سمیٹتے ہوئے انہیں فقیہ، عالم اور حافظ قرار دیا ہے(وفيات الأعيان 6/379 )۔
26. مورخ امام جلال الدین یوسف بن تغری بردی رحمہ اللہ نے انہیں شیخ الاسلام کا لقب دیا اور اپنی کتاب میں ان کی تعریف و توصیف نقل کی ہے (النجوم الزاهرة فى ملوك مصر والقاهرة ٢/١٠٨)
27. جلال الدین السیوطي کی شہادت
امام جلال الدین السیوطي نے بھی امام ابو یوسفؒ کو الإمام العلامة سے یاد کیا ہے۔ ٢٦٠ - أَبُو يُوسُف القَاضِي الإِمَام الْعَلامَة فَقِيه العراقين يَعْقُوب بن إِبْرَاهِيم الْأنْصَارِيّ الْكُوفِي (طبقات الحفاظ للسيوطي ١/١٢٧)
28. طبقاتِ محدثین میں مقامِ بلند: امام ابن عبد الہادیؒ کی تصریح:
امام ابن عبد الہادیؒ نے بھی قاضی ابو یوسفؒ کو طبقاتِ علماء الحديث میں شمار کیا ہے
٢٥٤ - القاضي أبو يوسف * الإمام العلّامة، فقيهُ العِراقَين، يعقوبُ بن إبراهيم الأنصاريُّ الكوفي، صاحبُ أبي حنيفة. (طبقات علماء الحديث ١/٤٢١ — ابن عبد الهادي)
29. وسعتِ علمی کی آفاقی تعبیر: امام شافعیؒ کا نادر خراجِ تحسین
أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: «كَانَ أَبُو يُوسُفَ قَلاسًا»
آداب الشافعي ومناقبه ١/١٣١
لغت میں "قَلّاس" اس شخص یا شے کے لیے بولا جاتا ہے جو بحرِ قلّاس یعنی علم و حکمت کے ان گہرے اور وسیع سمندروں سے نسبت رکھتا ہو، جن کی وسعت و عمق کا اندازہ لگانا ممکن نہ ہو۔
اسی لفظ کے ذریعے امام شافعیؒ نے اپنے سے بڑے امام، امام ابو یوسفؒ کو خراجِ تحسین پیش کیا اور فرمایا: «كَانَ أَبُو يُوسُفَ قَلّاسًا» (آداب الشافعي ومناقبه ١/١٣١)
یعنی امام ابو یوسفؒ علم و فضل کا سمندر تھے، بحرِ معرفت تھے، ایک ایسا علمی خزانہ جن سے علما و فقہا نے صدیوں تک فیض پایا۔
امام ابو یوسفؒ کی شخصیت میں علم کا وقار، فکر کی گہرائی، اجتہاد کی جرأت، اور بصیرت کی روشنی جمع تھی۔ وہ محض ایک فقیہ نہیں بلکہ فقہ و حدیث کے ایسے امام تھے جنہوں نے امام ابو حنیفہؒ کی علمی میراث کو آگے بڑھایا، اس کو منظم کیا اور اس میں اپنی طرف سے اجتہاد و بصیرت کے گہرے رنگ بھرے۔ ان کی علمی کاوشیں دراصل امت کے لیے سمندر کی مانند تھیں — جس طرح سمندر اپنی موجوں کے ذریعے موتی اور خزانے عطا کرتا ہے، اسی طرح امام ابو یوسفؒ اپنی محافل و دروس سے شاگردوں اور علما کو علومِ فقہ و حدیث کے جواہر تقسیم کرتے رہے۔
امام شافعیؒ جیسے امام کا یہ کہنا کہ "ابو یوسف قَلّاس تھے"، دراصل اس بات کی دلیل ہے کہ امام ابو یوسفؒ کا علم و فضل ایک ایسے بلند درجہ پر فائز تھا جسے دوسرے بڑے ائمہ بھی تسلیم کرتے تھے۔ وہ صرف ایک فقیہ نہیں بلکہ بحرِ علوم تھے، ایک ایسا علمی سمندر جس کی وسعت سے ہر صاحبِ علم نے اپنی پیاس بجھائی اور اپنی علمی پیاس کے لیے وہی سرچشمہ بنے۔ پس "قَلّاس" کا لفظ دراصل امام ابو یوسفؒ کی علمی سرفرازی، فقہی عظمت اور حدیثی مہارت کی جامع تعبیر ہے۔ یہ ان کی وہ صفت ہے جو آج بھی ان کے ذکر کو زندہ رکھتی ہے اور ان کی علمی جدوجہد کو ائمہ و محدثین کی تاریخ میں ایک لازوال شان عطا کرتی ہے۔
30. درایتِ حدیث اور فہمِ سلف: امام سلیمان الاعمشؒ کا تاریخی اعتراف:
696 - حدثنا أبي قال: ثنا أبي قال: سمعت أحمد بن محمد بن سلامة يقول: سمعت أحمد بن أبي عمران يقول: سمعت بشر بن الوليد يقول: سمعت أبا يوسف يقول: سألني سليمان الأعمش عن مسألة فأجبته عنها فقال لي: من أين قلت هذا؟ قال: قلت له: لحديث حدثتناه أنت، ثم ذكرت له الحديث، فقال لي: يا يعقوب، إني لأحفظ هذا الحديث قبل أن يجتمع أبواك فما عرفت تأويله إلا الآن
بشر بن ولید کہتے ہیں میں نے امام ابو یوسف کو کہتے ہوئے سنا:
مجھ سے امام سلیمان الاعمش نے ایک مسئلہ پوچھا، میں نے اس کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا: تم نے یہ بات کہاں سے کہی؟ میں نے کہا: اس حدیث سے جو آپ ہی نے ہمیں بیان کی ہے۔ پھر میں نے وہ حدیث انہیں یاد دلائی۔ اس پر الاعمش نے کہا: اے یعقوب! میں تو اس حدیث کو اس وقت سے یاد رکھتا ہوں جب تمہارے والدین بھی اکٹھے نہیں ہوئے تھے، مگر اس حدیث کا صحیح مفہوم (تأویل) مجھے آج سمجھ آیا ہے۔ (فضائل أبي حنيفة وأخباره لابن أبي العوام ، اسنادہ صحیح )
امام الاعمش (جو خود کوفی محدثین کے امام ہیں) کا یہ اعتراف کہ: “حدیث تو مجھے پہلے سے یاد تھی، مگر اس کا صحیح مفہوم آج سمجھ آیا” یہ بات واضح کرتی ہے کہ حدیث کا اصل کمال صرف روایت نہیں بلکہ درایت (فقہی فہم) ہے اور یہی امام ابو یوسفؒ کا امتیاز تھا۔ امام ابو یوسفؒ نے نہ صرف حدیث لی، بلکہ اس کی صحیح تأویل اور عملی تطبیق بھی پیش کی، جس پر خود حدیث کے امام نے داد دی ہے۔
31. امام خلیلیؒ کی شہادت
امام خلیلیؒ فرماتے ہیں: أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاضِي، صَاحِبُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَوَى عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ فَأَكْثَرَ، وَهُوَ صَحِيحُ الْمَذْهَبِ، وَكَانَ شَدِيدًا عَلَى الْجَهْمِيَّةِ (الإرشاد في معرفة علماء الحديث للخليلي ١/٤٠٢)
اس عبارت میں امام خلیلیؒ نے متعدد اہم امور کی صراحت کی ہے۔
اوّل یہ کہ قاضی ابو یوسفؒ امام اعظم ابو حنیفہؒ کے خاص شاگرد اور معتمد رفیق تھے۔
دوم یہ کہ انہوں نے امام لیث بن سعدؒ جیسے جلیل القدر محدث سے کثرت سے روایت کی، جو ان کے حدیثی ذوق اور علمی وسعت کی دلیل ہے۔
سوم یہ کہ امام خلیلیؒ نے صاف الفاظ میں انہیں «صحیح المذہب» قرار دیا، یعنی عقیدہ و منہج کے اعتبار سے بالکل درست، معتدل اور اہلِ سنت کے مطابق۔
اور چہارم یہ کہ وہ جہمیہ جیسے گمراہ فرقے کے خلاف نہایت سخت موقف رکھتے تھے، جو ان کی عقیدۂ اہلِ سنت پر مضبوطی کی واضح دلیل ہے۔امام خلیلیؒ نے ایک دوسرے مقام پر قاضی ابو یوسفؒ کے بارے میں مزید وضاحت کے ساتھ ان کے علمی مرتبے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاضِي الْأَنْصَارِيُّ صَدُوقٌ فِي الْحَدِيثِ، وَمَحِلُّهُ فِي الْفِقْهِ كَبِيرٌ (الإرشاد في معرفة علماء الحديث للخليلي ٢/٥٦٩)
یعنی قاضی ابو یوسفؒ حدیث میں صدوق تھے، یعنی روایت میں قابلِ اعتماد۔
دوسری یہ کہ فقہ میں ان کا مقام نہایت بلند تھا، یعنی فقہی بصیرت، اجتہادی قوت اور علمی وزن کے اعتبار سے وہ اپنے زمانے کی نمایاں ترین شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔
32. ۔ امام ابو حاتم رازیؒ
33. تاریخ کی عظیم ترین علمی گواہی: امام ابو حنیفہؒ کی تاریخی شہادت:
أخبرنا علي بن أبي علي البصريّ، حدثنا أبو ذر أحمد بن علي بن محمّد الأستراباذي، حدثنا أبو بكر أحمد بن محمّد بن منصور الدامغاني الفقيه، حدثنا أبو جعفر أحمد بن محمّد بن سلامة الأزديّ الطحاوي، حدثنا محمّد بن عبد الله بن أبي ثور الرعيني- المعروف بابن عبدون قاضي إفريقية- قال: حدثني سليمان بن عمران قال: حدثني أسد بن فرات قال: سمعت محمّد بن الحسن يقول: مرض أبو يوسف في زمن أبي حنيفة مرضا خيف عليه منه، قال: فعاده أبو حنيفة ونحن معه، فلما خرج من عنده وضع يديه على عتبة بابه. وقال: إن يمت هذا الفتى فإنه أعلم من عليها.
امام محمد بن حسن الشیبانی فرماتے ہیں کہ : امام ابو یوسفؒ، امام ابو حنیفہؒ کے زمانے میں ایک مرتبہ شدید بیمار ہو گئے، یہاں تک کہ ان کی جان کا خطرہ محسوس کیا جانے لگا۔ چنانچہ امام ابو حنیفہؒ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ جب امام ابو حنیفہؒ ان کے گھر سے باہر نکلے تو دروازے کی چوکھٹ پر دونوں ہاتھ رکھے اور فرمایا: "اگر یہ نوجوان وفات پا گیا تو روئے زمین پر موجود سب لوگوں سے زیادہ علم والا ختم ہو جائے گا"
(تاريخ بغداد - ت بشار ١٦/٣٦٣ ، اسنادہ حسن ۔ مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه ١/٦٢ ، الأنساب - السمعاني - ط الهندية ١٠/٣٠٧)
یہ امام ابو یوسفؒ کی نہایت عظیم اور غیر معمولی توثیق ہے کہ خود امام ابو حنیفہؒ جیسے مجتہدِ اعظم نے ان کے بارے میں یہ گواہی دی کہ “یہ روئے زمین پر موجود تمام لوگوں سے بڑھ کر علم رکھنے والے ہیں”۔ امام ابو حنیفہؒ نے ان کی فضیلت کو صرف فقہ کے دائرے تک محدود نہیں فرمایا، بلکہ "أعلم من عليها" کہہ کر ان کے علم کو مطلق اور ہمہ گیر قرار دیا۔ اس ایک جملے سے امام ابو یوسفؒ کی جامع علمی شان پوری طرح نمایاں ہو جاتی ہے کہ وہ حدیث، فقہ، قضاء اور فہمِ دین ہر میدان میں ممتاز اور اپنے زمانے کے اہلِ علم پر فائق تھے۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
یہ عبارت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سلاطین سے تعلق کو بنیاد بنا کر قاضی ابو یوسفؒ پر طعن کرنا اہلِ علم کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے، کیونکہ ایسے تعلقات بہت سے متفق علیہ ائمہ کے ہاں پائے جاتے ہیں۔
35. شمسُ الدین ابنُ الغَزّیؒ کی نظر میں قاضی ابو یوسفؒ کی علمی عظمت
شمسُ الدین ابنُ الغَزّیؒ نے قاضی ابو یوسفؒ کو نہایت بلند اور معزز القابات کے ساتھ یاد کیا ہے۔
أبو يوسف: يعقوب بن إبراهيم بن حبيب. الإمام الحبر البحر الفقيه الحافظ قاضي القضاة الكوفي البغدادي. صاحب أبي حنيفة وخليفته في حلقته من بعده. توفي سنة١٨٢. (ديوان الإسلام ٤/٤٠٠ — شمس الدين ابن الغزي)
انہوں نے آپ کو امام، حبر، بحرِ علم، جلیل القدر فقیہ، حافظِ حدیث اور قاضی القضاۃ قرار دیا، اور واضح کیا کہ آپ امام ابو حنیفہؒ کے خاص شاگرد اور ان کے بعد ان کی علمی مجلس کے جانشین
تھے۔
36. امام ابراہیم حربیؒ کی نظر میں امام ابو یوسفؒ : لوگوں میں سے نہایت عقل مند شخصیت
أخبرنا العتيقي، حدثنا محمّد بن العبّاس، أخبرنا أبو أيّوب سليمان بن إسحاق الجلاب قال: قال لي إبراهيم الحربيّ: تدري أيش قال أبو يوسف- وكان من عقلاء الناس-؟ قال: لا تطلب الحديث بكثرة الرواية فترمى بالكذب، ولا تطلب الدنيا بالكيمياء فتفلس، ولا تحصل بيدك شيء، ولا تطلب العلم بالكلام فإنك تحتاج تعتذر كل ساعة إلى واحد. (تاريخ بغداد - ط العلمية ١٤/٢٥٥)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابراہیم حربیؒ نے امام ابو یوسفؒ کو لوگوں میں سے نہایت عقل مند قرار دیا اور ان کی دانائی و بصیرت کا اعتراف کیا ہے۔
جدید دور کے محققین کی توثیق: شیخ شعیب الارنؤوطؒ کی تحقیقی تصریح
37. ماضی قریب کے محدث و محقق شیخ شعيب الأرنؤوط [ت ١٤٣٨ هـ] لکھتے ہیں : يعقوب بن إبراهيم بن حبيب بن حبش الأنصاري الكوفي أبو يوسف الإمام المجتهد العلامة المحدث كبير القضاة، وذكره المؤلف في «الثقات» ٧/٦٤٥ - ٦٤٦، ووثقه النسائي، وابن شاهين، وقال ابن عدي: لابأس به، وقال ابن معين: ليس في أصحاب الرأي أكثر حديثًا ولا أثبت من أبي يوسف ووصفه السمعاني في «الأنساب» ٢/٨٦ بالإتقان، وترجم له الذهبي في «تذكرة الحفاظ»
(الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان ١١/٣٢٦ )
سلفی و غیر مقلدین کے نزدیک امام ابو یوسفؒ کی توثیق
اختتامی کلمات
الحاصل، امام یحییٰ بن معینؒ کے متشددانہ معیارِ ثقاہت سے لے کر امام ابن الوزیرؒ کے جبالُ العِلم (علم کا پہاڑ) جیسے القابات تک، یہ طویل فہرست اس بات کی شاہدِ عادل ہے کہ امام ابویوسفؒ کی ذاتِ گرامی فقہ و حدیث کا وہ حسین سنگم ہے جہاں سے علم کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ آپ کی ثقاہت پر ائمہ کا اتفاق، آپ کے علمی مرتبے کی وہ مہرِ تصدیق ہے جسے تاریخ کا کوئی جھونکا مٹا نہیں سکتا۔ ہم نے اس مضمون میں معترضین کے فراہم کردہ اصولوں ہی سے ان کی کج فہمی کا پردہ چاک کیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں اسلافِ امت کے نقشِ قدم پر چلنے اور علمِ نافع کو بصیرت کے ساتھ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وما علینا الا البلاغ۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
سلسلہ دفاع علمائے احناف : سلسلہ دفاع قاضی ابو یوسف ؒ
امام ابو یوسف ؒ(م۱۸۲ھ) ثقہ، امام ،فقیہ،حافظ الحدیث اور ثبت،متقن ہیں۔ ماخوذ : الاجماع شمارہ نمبر19
نوٹ:
ہم نے اس مضمون کی تیاری میں مولانا ظہور الحُسینی صاحب کی کتاب سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔
لنک : تلامذہ امام اعظم کا محدثانہ مقام
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں