امام ابو یوسفؒ پر امام سعید بن منصور سے منقول جرح کا تحقیقی جائزہ:
«سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ مَنْصُورٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِأَبِي يُوسُفَ: رَجُلٌ صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ فِي مَسْجِدِ عَرَفَةَ ثُمَّ وقف حتى (٢٥١ أ) دُفِعَ بِدَفْعِ الْإِمَامِ قَالَ: مَا لَهُ؟ قَالَ: لا بأس به. قال فقال: سبحان اللَّهِ قَدْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَنْ أَفَاضَ مِنْ عَرَنةَ فَلَا حَجَّ لَهُ مَسْجِدُ عَرَفَةَ فِي بَطْنِ عَرْنَةَ . فَقَالَ: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِالْإِعْلَامِ وَنَحْنُ بِالْفِقْهِ. قَالَ: إِذَا لَمْ تَعْرِفِ الْأَصْلَ فَكَيْفَ تَكُونُ فَقِيهًا»
-
بعض کے نزدیک مسجد نمرہ عرفات میں شامل ہے۔
-
بعض کے نزدیک وہ عرفات میں شامل نہیں۔
-
بعض کے نزدیک مسجد کا کچھ حصہ عرفات میں ہے اور کچھ حصہ نہیں۔
اسی اختلاف کی وجہ سے اس مسئلے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
الموّازیۃ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ: جو شخص مسجد میں وقوف کرے وہ بطنِ عُرَنہ سے باہر شمار ہوگا، لیکن زیادہ فضیلت امام کے قریب کھڑے ہونے میں ہے۔ (المنتقى شرح الموطإ ٣/١٧ — أبو الوليد الباجي)
اسی طرح ابن عبد البرؒ فرماتے ہیں:
قَالَ أَبُو عُمَرَ قَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ لبطن عرنة من عرفة لم يجيء مَجِيئًا تَلْزَمُ حُجَّتُهُ لَا مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ وَلَا مِنْ جِهَةِ الْإِجْمَاعِ
وادیِ عُرَنہ کو عرفات سے مستثنیٰ قرار دینے کی روایت اس درجے کی مضبوط نہیں کہ اس سے قطعی حجت قائم کی جا سکے، نہ نقل کے اعتبار سے اور نہ اجماع کے اعتبار سے۔ (التمهيد - ابن عبد البر - ت بشار ١٦/٣٧٤)
قال أبو إسحاقَ بنُ شَعبانَ: عُرَنةُ مَوضعُ المَمرِّ من عَرفةَ، ثم ذلك الوادي من فِناءِ المَسجدِ إلى مكةَ إلى العَلم المَوضوعِ للحَرمِ، قال: وعَرفةُ كلُّ سَهلٍ وجَبلٍ أقبَل على المَوقفِ فيما بينَ التِّلعةِ إلى أنْ يُفْضوا إلى طَريقِ نُعمانَ وما أقبَل من كبكَبٍ من عَرفةَ.
ابو اسحاق بن شعبان کہتے ہیں کہ عُرَنہ وہ جگہ ہے جو عرفات کے راستے میں واقع ہے اور مسجد عرفہ کے صحن سے مکہ کی طرف اس نشان تک پھیلی ہوئی ہے جو حدِ حرم کے لیے نصب کیا گیا ہے۔ (التمهيد - ابن عبد البر - ت بشار ١٦/٣٧٤)
اس اختلاف کا نتیجہ
اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض علماء کے نزدیک مسجدِ نمرہ کا کچھ حصہ عرفات میں شامل ہے۔ لہٰذا واضح ہوا کہ امام ابو یوسفؒ کا جواب کوئی انوکھا یا منفرد قول نہیں تھا ، کیونکہ مسجد کا کون سا حصہ عرفات میں داخل ہے اور کون سا نہیں، یہ خود ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ اس اختلاف میں امام مالکؒ جیسے جلیل القدر امام بھی شامل ہیں۔ لہٰذا ایسے اختلافی مسئلے میں کسی امام پر طعن کرنا درست نہیں۔ البتہ جس حصے کے بارے میں احادیث میں صراحت موجود ہے کہ وہ وادیِ عُرَنہ ہے، وہاں وقوف نہ کرنے پر علماء کا اجماع ہے۔
وادیِ عُرَنہ میں وقوف نہ کرنے پر علماء کا اجماع ہے۔
ابن عبد البرؒ فرماتے ہیں کہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص وادیِ عُرَنہ ہی میں وقوف کرے اس کا وقوف معتبر نہیں۔ (التمهيد - ابن عبد البر - ت بشار ١٦/٣٧٤)
فقہ حنفی کے ائمہ کا بھی یہی موقف ہے۔
لہٰذا اس حصے میں کسی کا اختلاف نہیں۔
اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ مسجدِ نمرہ کا کون سا حصہ وادیِ عُرَنہ میں آتا ہے اور کون سا عرفات میں۔
لیکن چونکہ اس بات میں اختلاف ہے کہ مسجدِ نمرہ وادیِ عُرَنہ میں شامل ہے یا نہیں ، اس لیے ایسے اختلافی مسائل میں کسی مجتہد پر طعن کرنا درست نہیں۔
امام ابو یوسفؒ کا اصولی جواب
امام ابو یوسفؒ کا موقف اصولی تھا۔ ان کے نزدیک مسجدِ نمرہ کا وہ حصہ عرفات میں شامل تھا، اس لیے اگر کسی نے وہاں وقوف کیا تو اس کا وقوف عرفات میں شمار ہوگا اور حج صحیح ہوگا۔
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ کسی مقام کی جغرافیائی حدیں متعین کرنا فقہاء کا کام نہیں ہوتا۔ فقہاء کا کام حکم اور اصول بیان کرنا ہوتا ہے، جبکہ زمین کی پیمائش اور حدود کا تعین کرنا اہلِ فن کا کام ہوتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھی جا سکتی ہے کہ ایک فقیہ یہ بتاتا ہے کہ اگر کوئی شخص نماز میں قبلہ کی طرف رخ کرے تو نماز صحیح ہے۔ لیکن قبلہ کی درست سمت متعین کرنا یا اس کی پیمائش کرنا فقیہ کا کام نہیں بلکہ ماہرینِ سمت اور آلات کے ذریعے یہ کام کیا جاتا ہے۔
جیسا کہ حدیث میں ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «انتم اعلم بامردنياكم»" “تم اپنے دنیاوی معاملات کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔” اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی فقیہ کے لیے ضروری نہیں کہ وہ زمین کی تمام جغرافیائی معلومات بھی جانتا ہو۔ اس لیے امام ابو یوسف نے بالکل درست فرمایا کہ: "تم لوگ نشانیوں اور حدودِ مقامات کو زیادہ جانتے ہو، اور ہم فقہ کو زیادہ جانتے ہیں۔" فقیہ کا کام صرف یہ بتانا ہے کہ یہ مقامات ہیں، لیکن اصل میں یہ مقامات کہاں واقع ہیں، یہ تو وہاں کا ماہرِ جغرافیہ ہی بہتر طور پر بتا سکتا ہے۔
الموسوعة الفقهية الكويتية میں لکھا ہے:
وَقَدْ تَكَرَّرَ تَوْسِيعُ الْمَسْجِدِ كَثِيرًا فِي عَصْرِنَا، وَفِي دَاخِل الْمَسْجِدِ عَلاَمَاتٌ تُبَيِّنُ لِلْحُجَّاجِ مَا هُوَ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَمَا لَيْسَ مِنْهَا يَنْبَغِي النَّظَرُ إِلَيْهَا
مسجد کے اندر ایسی علامات موجود ہیں جو حجاج کو بتاتی ہیں کہ کون سا حصہ عرفات میں ہے اور کون سا نہیں، لہٰذا ان نشانات کو دیکھنا چاہیے۔ (الموسوعة الفقهية الكويتية ٣٠/٦١)
جیسے آج کے دور میں غیرمقلّدین سعودی ریال کی خاطر ان حاجیوں پر اعتراض نہیں کرتے، جو مسجدِ نمرة کے اس حصے میں قیام کرتے ہیں، تو امام ابو یوسفؒ کے زمانے میں اسی بات کو کہنے پر اعتراض کرنا درست نہیں۔
قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
سلسلہ دفاع علمائے احناف : سلسلہ دفاع قاضی ابو یوسف ؒ

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں