امام ابو یوسفؒ پر امام عبد اللہ بن المبارکؒ سے منقول جروحات کا تفصیلی تحقیقی و اسنادی جائزہ
امام ابو یوسفؒ، قاضی القضاۃ اور امام ابو حنیفہؒ کے مشہور شاگرد، پر بعض روایات میں اعتراضات منسوب کیے گئے ہیں جو امام عبد اللہ بن المبارکؒ سے روایت کیے جاتے ہیں۔اس مضمون میں ہم امام ابو یوسفؒ پر منسوب اعتراضات، ان کی سندوں اور راویوں کے حالات، اور فقہی و علمی پس منظر کے حوالے سے ایک جامع تجزیہ پیش کریں گے۔
1. أَخْبَرَنِي أَبُو الوليد الْحَسَن بْن محمّد الدينوري، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَافِظُ- ببخارى- حدثنا خلف بن محمّد، حدثنا سهل بن شاذويه، حدثنا مسلم بن سالم الباهليّ، حدثنا علي بن مهران الرّازيّ، حَدَّثَنَا ابن المبارك- بالري- قَالَ: فيما حَدَّثَنَا يعقوب قَالَ لَهُ رَجُل: يا أَبَا عَبْد الرَّحْمَن، يعقوب بْن إِبْرَاهِيم أَبُو يوسف؟ فقالابن المبارك: لأن أخِرَّ من السماء إلى الأرض فتخطفني الطير أو تهوي بي الريح فِي مكان سحيق أحبُّ إليَّ من أن أروي عن ذلك .
"ابن مبارک نے ہمیں ری میں کہا: ایک مرتبہ یعقوب (ابو یوسف) کا ذکر ہوا تو ایک شخص نے پوچھا: کیا آپ کا مطلب یعقوب بن ابراہیم ابو یوسف ہے؟ ابن مبارک نے کہا: میرے لیے یہ بہتر ہے کہ میں آسمان سے زمین پر گر جاؤں اور پرندے مجھے اچک لے جائیں یا ہوا مجھے کسی گہرے مقام پر پھینک دے، اس سے بہتر ہے کہ میں اس سے کوئی روایت کروں۔"
( تاريخ بغداد وذيوله ط العلمية ١٤/٢٥٨ )
جواب :- اس سند میں مسلم بن سالم باہلی مجہول ہے. اس کے علاوہ علی بن مہران کے بارے میں امام ابن عدی نے غیر ثقہ ہونا نقل کیا ہے. ١٣٥٣- علي بْن مهران الرازي. سمعتُ ابن حماد يقول: قال السعدي علي بْن مهران كَانَ رديء المذهب غير ثقة. قَالَ الكامل في ضعفاء الرجال ٦/٣٤٥
یعنی یہ سند ضعیف ہے
2. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: أَيُّ الرَّجُلَيْنِ أَفْقَهُ أَبُو يُوسُفَ أَوْ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ؟ فَقَالَ: لَا تَقُلْ كَانَ أَيُّهُمَا.
ترجمہ :- محمد بن زکریا البلخی بیان کرتے ہیں: ہم سے سعید بن یعقوب الطالقانی نے بیان کیا، انہوں نے ابن مبارک سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا: "ابو یوسف زیادہ فقیہ ہیں یا محمد بن حسن؟" انہوں نے کہا: "یوں مت کہو کہ کون زیادہ ہے۔"
(الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/٤٣٨ )
جواب :- محمد بن زکریا البلخی کو کسی امام نے ثقہ نہیں یعنی یہ راوی مجہول ہے اور سند ضعیف ہے.
3. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ الْهَرَوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ: مَا سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ ذَكَرَ أَنَّ أَبَا يُوسُفَ قَطُّ إِلَّا مَزَّقَهُ، وَذَكَرَهُ يَوْمًا فَقَالَ: إِنَّ بَعْضَ هَؤُلَاءِ هَوَى جَارِيَةً كَانَ وَطِئَهَا أَبُوهُ، فَاسْتَشَارَ أَبَا يُوسُفَ، فَقَالَ: لَا تُصْدِقُهَا، فَجَعَلَ يُقَطِّعُهُ.
ترجمہ :- ہم سے احمد بن جمیل ہروی نے روایت بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدہ بن سلیمان مروزی نے روایت بیان کی۔ انہوں نے کہا: "میں نے ابن المبارک کو کبھی بھی ابو یوسف کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا مگر یہ کہ وہ ان پر سخت تنقید کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے ان کا ذکر کیا اور کہا: ‘ان لوگوں میں سے ایک شخص کو ایک لونڈی سے محبت ہوگئی تھی جس کے ساتھ اس کے باپ نے پہلے تعلق قائم کیا تھا۔ اس نے اس معاملے میں ابو یوسف سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا: اس کے باپ کی بات کی تصدیق نہ کرو۔’ یہ کہتے ہوئے وہ (ابن المبارک) ان پر سخت ردّ کرتے اور ان کی بات کو کاٹتے رہے۔"
(الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/٤٣٨ )
جواب :- اس کی سند میں أحمد بن جمیل مجہول ہے اور سند ضعیف ہے.
غیر مقلدین کا اس راوی کو زبردستی احمد بن جمیل المروزی، ابو یوسف قرار دینا درست نہیں۔کیونکہ احمد بن جمیل کی وفات 230 ہجری ہے اور اس سند میں امام عقیلی جو ان سے روایت کر رہے ہیں، ان کی وفات 322 ہجری ہے، یعنی دونوں کے درمیان 92 سال کا فرق ہے۔ لہٰذا یہ راوی اس طبقے کا نہیں ہے جس سے عقیلی روایت کریں، اس لیے یہ تعین غلط ہے۔
بالفرضِ محال اگر اس روایت کو سندی طور پر درست بھی مان لیا جائے، تب بھی اس سے امام ابو یوسفؒ کی ذاتِ گرامی پر کوئی اعتراض لازم نہیں آتا بلکہ یہ ان کی فقہی بصیرت اور اصولِ قضا پر پختہ گرفت کی دلیل ہے۔ شریعتِ مطہرہ کوئی کھیل تماشہ نہیں کہ محض کسی کے زبانی دعوے سے حلال کو حرام کر دیا جائے؛ لہٰذا جب تک باپ اپنے دعوے پر دو عادل گواہ یا ٹھوس شرعی ثبوت پیش نہ کر دے، قاضی محض اس کے قول کو قانوناً تسلیم کرنے کا پابند نہیں ہے۔ امام ابو یوسفؒ کا یہ فرمانا کہ "اپنے باپ کی بات کی تصدیق نہ کرو" دراصل اس قانونی نکتے کی وضاحت تھی کہ بغیر ثبوت کے کسی کا حقِ نکاح محض ایک مشکوک تہمت کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا، ورنہ معاشرے میں حسد اور عناد کا ایسا دروازہ کھل جائے گا کہ کوئی بھی شخص کسی کا رشتہ تڑوانے کے لیے جھوٹے انتساب کا سہارا لینے لگے۔
رہا یہ کہ امام ابن المبارکؒ نے اس پر سخت ردّ کیا، تو اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ زہد و ورع کے مقام پر احتیاط کو ترجیح دیتے تھے۔ جبکہ امام ابو یوسفؒ منصبِ قضا پر فائز تھے، اور قاضی کا فیصلہ محض احتیاط یا جذبات پر نہیں بلکہ ظاہرِ شریعت اور شرعی ثبوت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ ابن المبارکؒ نے اسے ورع کے خلاف سمجھا ہو، مگر امام ابو یوسفؒ نے اسے قانونِ شریعت کے مطابق حل کیا۔
4. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُعَلَّى، قَالَ لَهُمَا قَدْرُ الدِّينِ، يَعْنِي أَبَا يُوسُفَ، وَجَعَلَ يُفْتِي فِي الصَّرْفِ، أَلْفُ دِرْهَمٍ وَدِينَارٌ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ وَمِائَةِ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا يُوسُفَ، لَيْسَ فِي قَلْبِكَ مِنْ ذَا شَيْءٌ، قَالَ: نَعَمْ، مِثْلُ هَذَا الْجَبَلِ، وَأَشَارَ إِلَى جَبَلِ قُعَيْرَانَ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: فَذُكِرَ هَذَا الْكَلَامُ لِابْنِ الْمُبَارَكِ، فَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: بَاطِلٌ لَوْ كَانَ فِي قَلْبِهِ شَيْءٌ لَمَا فَعَلَ
محمد بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو عبد اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ہم سے ابو المعلیٰ نے روایت کیا کہ ان دونوں کے ہاں دین کا کچھ وقار تھا، یعنی ابو یوسف۔ اور وہ صرف (کرنسی کے تبادلے) کے مسئلے میں فتویٰ دے رہے تھے کہ ایک ہزار درہم اور ایک دینار کو ایک ہزار ایک سو درہم کے بدلے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے ابو یوسف! کیا آپ کے دل میں اس بارے میں کچھ کھٹک نہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اس پہاڑ جتنا (کھٹک ہے)، اور انہوں نے جبلِ قعیران کی طرف اشارہ کیا۔ ابو عبد اللہ کہتے ہیں کہ یہ بات ابنِ مبارک تک پہنچی تو انہوں نے کہا: یہ باطل ہے؛ اگر ان کے دل میں کچھ (یعنی تردد یا کراہت) ہوتی تو وہ ایسا نہ کرتے۔ (الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/٤٣٨)
جواب :- اس کی سند میں مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَلْجِ الرَّازِيُّ مجہول ہے اور سند ضعیف ہے
5. حَدَّثَنِي أَحْمَدُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ بْنَ عُمَرَ الْبُزَيْعِيَّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ. قَالَ: فَأَفْتَاهُ فِيهَا، فَقَالَ: قَدْ سَأَلْتَ أَبَا يُوسُفَ فَخَالَفَكَ. فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ أَبِي يُوسُفَ صَلَوَاتٍ تَحْفَظُهَا فَأَعِدْهَا»
ترجمہ :- عبدالرازق بن عمر البزیعی کو کہتے سنا: "میں ابن مبارک کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص آیا اور ایک مسئلہ پوچھا۔ ابن مبارک نے فتویٰ دیا۔ اس نے کہا: میں نے یہی مسئلہ ابو یوسف سے پوچھا تھا تو انہوں نے اس کے برعکس کہا۔ ابن مبارک نے کہا: اگر تم نے ابو یوسف کے پیچھے کچھ نمازیں پڑھی ہیں اور انہیں یاد رکھتے ہو تو ان سب کو دوبارہ ادا کرو۔"
(المعرفة والتاريخ - ت العمري - ط العراق ٢/٧٨٩)
6. أخبرنا ابن الفضل، أخبرنا عبد الله بن جعفر، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثني أحمد- يعني ابن يحيى بن عثمان- قال: سمعت عبد الرزاق بن عمر البزيعي.
7. وحدثني محمّد بن يوسف القطّان النّيسابوريّ- واللفظ له- أخبرنا الخصيب بن عبد الله القاضي، أخبرنا عبد الكريم بن أحمد بن شعيب النّسائيّ، أخبرني أبي، أخبرنا أحمد بن عثمان بن حكيم قال: سمعت عبد الرزاق بن عمر يقول: كنت عند عبد الله بن المبارك فجاءه رجل فسأله عن مسألة فأفتاه فيها. فقال له: قد سألت أبا يوسف فخالفك، فقال له: إن كنت صليت خلف أبي يوسف صلوات تحفظها فأعدها (تاريخ بغداد - ت بشار ١٦/٣٧٦)
جواب :- تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
8. أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيم بْن عُمَر البرمكي، أخبرنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَلَفِ الدّقّاق، حدثنا عمر بن محمّد الجوهريّ، حدثنا أبو بكر الأثرم، حَدَّثَنَا نُعَيْم بْن حماد قَالَ: سمعتُ ابن المبارك- وذكروا عنده أَبَا يوسف- فقال: لا تفسدوا مجلسنا بذكر أبي يوسف.
ترجمہ :- "میں نے ابن مبارک کو سنا کہ جب ابو یوسف کا ذکر کیا گیا تو کہا: ہمارے اس مجلس کو ابو یوسف کا ذکر کر کے خراب مت کرو۔"
( تاريخ بغداد وذيوله ط العلمية ١٤/٢٥٨ )
جواب :- سند کے راوی عمر بن محمد الجوہری کے بارے میں خطیب بغدادی فرماتے ہیں کہ ان کی بعض أحاديث میں نکارت پائی جاتی ہے. اس کے علاوہ نعیم بن حماد کثرت سے خطأ کرنے والا ہے یعنی یہ سند ضعیف ہے
عُمَر بْن مُحَمَّد بْن عيسى بْن سعيد، أَبُو حفص الجوهري المعروف بالسذابي :
وفي بعض حديثه نكرة.
تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
9. أَخْبَرَنِي مُحَمَّد بْن أَحْمَد بْن يوسف، أَخْبَرَنَا محمد بن نعيم قال: سمعت أبا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ يَقُولُ: سمعتُ مُحَمَّد بْن إِسْمَاعِيل بْن مهران يَقُولُ: سمعتُ المسيب بْن واضح يَقُولُ: ما سمعتُ ابن المبارك ذكر أحدًا بسوء قط إلا أن رجلا قَالَ لَهُ: مات أَبُو يوسف قَالَ: مسكين يعقوب، ما أغنى عَنْهُ ما كان فيه.
مسیب بن واضح کو کہتے سنا: "میں نے کبھی ابن مبارک کو کسی کا برائی سے ذکر کرتے نہیں سنا، مگر ایک مرتبہ جب کسی نے کہا: ابو یوسف کا انتقال ہو گیا۔ ابن مبارک نے کہا: بیچارہ یعقوب! جو کچھ وہ کرتا رہا، اس نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا۔"
( تاريخ بغداد وذيوله ط العلمية ١٤/٢٥٨ )
جواب :- اس کی سند میں المسيب بن واضح السلمي التلمنسي الحمصي کثیر الخطأ ، كثير الوهم ہے ۔ امام ابو حاتمؒ فرماتے ہیں: «صدوقٌ يُخطئُ كثيرًا، فإذا قيلَ له لم يقبلْ» (الجرح والتعديل ٨/ ٢٩٤) ترجمہ: ’’وہ صدوق ہے مگر کثرت سے غلطیاں کرتا ہے، اور جب اسے غلطی بتائی جائے تو قبول نہیں کرتا۔‘‘ امام ابنِ حبانؒ نے اسے «الثقات» (٩/ ٢٠٤) میں ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا: «كان يُخطئُ» یعنی ’’وہ غلطی کیا کرتا تھا۔‘‘ مزید برآں امام دارقطنیؒ نے ایک روایت کے بعد تصریح کی: «تفرَّدَ به المسيب بن واضح عن حفص بن ميسرة، والمسيب ضعيفٌ» (السنن ٢٦١) ترجمہ: ’’اس روایت کو حفص بن میسرہ سے بیان کرنے میں مسیب بن واضح منفرد ہے، اور مسیب ضعیف ہے۔‘‘ امام بیہقیؒ نے بھی «السنن الكبرى» (٣٧٩) میں یہی فرمایا، اور اپنی کتاب «المعرفة» (١/ ٢٩٩) میں لکھا: «المسيب بن واضح غير محتج به، وروي من أوجه كلها ضعيف» یعنی ’’مسیب بن واضح حجت نہیں، اور یہ روایت مختلف طرق سے مروی ہے مگر سب کے سب ضعیف ہیں۔‘‘ اسی بنا پر حافظ ابو محمد الاصیلیؒ فرماتے ہیں: «ليسَ هذا بثابتٍ، والمسيب بن واضح ضعيفٌ، ليس يصحُّ عنِ ابنِ عمرَ حديث في الوُضوءِ» (تفسير الموطأ للقنازعي ١/ ١٣٦)۔ ترجمہ: ’’یہ روایت ثابت نہیں، اور مسیب بن واضح ضعیف ہے، ابن عمرؓ سے وضو کے بارے میں کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں۔ امام ابنِ حجر عسقلانیؒ نے بھی مسیّب بن واضح کو ضعیف قرار دیا ہے «إتحاف المهرة بالفوائد المبتكرة من أطراف العشرة» (١١/٦٢٣)۔ اسی طرح امام جمال الدین زیلعیؒ (متوفی ٧٦٢ھ) نے «نصب الراية» (١/١٤٨) میں صراحت کے ساتھ لکھا: «وَكَانَ الْمُسَيِّبُ ﵀ كَثِيرَ الْوَهْمِ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ» یعنی مسیّب کثرت سے وہم کرنے والے تھے، واللہ اعلم۔ «الطيوريات» (٢/٣٠١) کی تحقیق میں دسمان یحییٰ معالی اور عباس صخر الحسن نے ائمہ کے اقوال نقل کرتے ہوئے لکھا کہ ابن عدی نے ان کی مناکیر ذکر کرنے کے بعد کہا: «والمسيب بن واضح له حديث كثير عن شيوخه، وعامة ما خالف فيه الناس هو ما ذكرته، لا يتعمده، بل كان يشتبه عليه، وهو لا بأس به» یعنی ان کی مخالفتیں عموماً وہی ہیں جو ذکر کی گئیں، وہ قصداً نہیں کرتے تھے بلکہ اشتباہ ہو جاتا تھا، اور وہ ایسے ہیں کہ ان کی حدیث لکھی جاتی ہے۔ لیکن اس کے بالمقابل سخت جرح بھی منقول ہے۔ سُلَمی نے کہا کہ میں نے دارقطنی سے مسیّب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: «ضعيف»۔ ابو داؤد نے کہا: «كان يضع الحديث» یعنی وہ حدیث گھڑتے تھے۔ نباتی، دارقطنی اور عقیلی نے انہیں «متروك» کہا، جبکہ جوزجانی نے کہا: «كان كثير الخطأ والوهم» یعنی وہ بہت زیادہ خطا اور وہم کرنے والے تھے۔
ان تمام اقوال کا حاصل یہ ہے کہ مسیّب بن واضح ثقہ اور مضبوط راوی نہیں تھے بلکہ کثرتِ وہم اور خطا کی بنا پر محدثین کے نزدیک ضعیف شمار ہوتے ہیں، اور متعدد ائمہ نے ان پر شدید جرح بھی کی ہے۔
یعنی یہ سند بھی ضعیف ہے
10. حدثنا يعقوب القمي. أخبرني البرقانيّ قال: حدثني محمّد بن أحمد بن محمّد الأدمي، حدثنا محمّد بن علي الإيادي، حدثنا زكريّا الساجي قال: يعقوب بن إبراهيم أبو يوسف صاحب أبي حنيفة مذموم مرجئ.
11. حدثني أبو داود سليمان بن الأشعث، حدثنا عبدة بن عبد الله الخراسانيّ قال: قال رجل لابن المبارك: أيما أصدق أبو يوسف أو محمّد؟ قال: لا تقل أيهما أصدق، قل أيهما أكذب. قيل لعبد الله بن المبارك: أيما؟ قال أبو يوسف: قال: ما ترضى أن تسميه حتى تكنيه؟ قل قال يعقوب.
12. قال أبو داود: وسمعت المسيب بن واضح قال: قيل لابن المبارك مات أبو يوسف. فقال: الشقي يعقوب
یعقوب القمی نے ہم سے روایت کیا۔ برقانی نے مجھے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھ سے محمد بن احمد بن محمد الادمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن علی الإیادی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے زکریا الساجی نے بیان کیا کہ: "یعقوب بن ابراہیم ابو یوسف، جو ابو حنیفہ کے شاگرد تھے، مذموم (قابلِ مذمت) مرجئ تھے۔"
اور مجھ سے ابو داود سلیمان بن اشعث نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبدہ بن عبد اللہ الخراسانی نے بیان کیا کہ: ایک شخص نے عبد اللہ بن مبارک سے پوچھا: ابو یوسف اور محمد (بن حسن) میں سے کون زیادہ سچا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ نہ کہو کہ ان دونوں میں سے کون زیادہ سچا ہے، بلکہ یوں کہو کہ ان دونوں میں سے کون زیادہ جھوٹا ہے۔ عبد اللہ بن مبارک سے پوچھا گیا: کون؟ انہوں نے کہا: ابو یوسف۔ پھر فرمایا: کیا تم اسے اس کے نام سے پکارنے پر بھی راضی نہیں ہو کہ اسے کنیت سے پکارتے ہو؟ یوں کہو: یعقوب نے کہا۔
ابو داود کہتے ہیں: میں نے مسیب بن واضح کو کہتے ہوئے سنا کہ ابن مبارک سے کہا گیا: ابو یوسف کا انتقال ہو گیا ہے۔ تو انہوں نے کہا: "بدبخت یعقوب۔" (تاريخ بغداد - ت بشار ١٦/٣٧٧)
جواب :- تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
کیا ابنِ مبارک نے امام ابو یوسفؒ کو کذّاب کہا؟
13. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنا عَبد اللَّهِ بْنُ سَعِيد الأَشَج، حَدَّثَنا الحسن بْن الرَّبِيع قَالَ قيل لابن مبارك أَبُو يُوسُف أعلم أم مُحَمد؟ قَال: لاَ تقل أيهما أعلم ولكن قل أيهما اكذب.
ترجمہ :- حسن بن الربیع نے کہا کہ ابن مبارک سے پوچھا گیا: "ابو یوسف زیادہ علم رکھتے ہیں یا محمد بن حسن الشیبانی؟ " انہوں نے جواب دیا: "یوں نہ کہو کہ کون زیادہ علم والا ہے، بلکہ یوں کہو کہ کون زیادہ کذّاب ہے۔
(الكامل في ضعفاء الرجال ٨/٤٦٦)
جواب :-اوّل تو یہاں "قِيل" مجہول کا صیغہ استعمال ہوا ہے، جس سے یہ واضح نہیں کہ سوال کرنے والا کون تھا۔
مزید یہ کہ حسن بن الربیع نے اس روایت میں یہ تصریح نہیں کی کہ یہ بات انہوں نے خود امام ابن المبارکؒ سے براہِ راست سنی ہے یا کسی واسطے سے۔ نہ ہی یہ ذکر ہے کہ وہ اس مجلس میں موجود تھے یا نہیں۔ اس وجہ سے یہ روایت گو بظاہر سند صحیح دکھائی دیتی ہے، مگر اپنے اندر ایک مخفی علت رکھتی ہے جو اسے مشکوک بنا دیتی ہے۔
خطا اور وہم کی بنیاد پر کذب کی اصطلاح
دوم، متن کے اعتبار سے بھی یہ بات درست نہیں معلوم ہوتی، کیونکہ امام محمد بن حسن الشیبانیؒ خود امام ابو یوسفؒ کے شاگرد ہیں۔ کوئی صاحبِ علم اس دور میں استاد اور شاگرد کے درمیان اس طرح کا موازنہ کیوں کرے گا؟ اس زمانے میں — یعنی امام ابن المبارکؒ کے دور میں — فقہِ حنفی کے اَئمہ کی باہمی درجہ بندی یا "اجتہاد" کے مراتب بعد میں مرتب ہوئے تھے۔ اس وقت نہ یہ تقسیم موجود تھی کہ کون "مجتہدِ مطلق" ہے اور کون "مجتہد فی المذہب"، اور نہ ہی علمی ماحول میں استاد اور شاگرد کے درمیان اس انداز کا تقابل رائج تھا۔ چنانچہ امام محمدؒ جو امام ابو حنیفہؒ کے بھی شاگرد ہیں اور امام ابو یوسفؒ کے بھی، ان کا اپنے استاد سے اس نوع کا مقابلہ کروانا اس وقت کے علمی مزاج اور حقیقت دونوں کے خلاف ہے۔
14. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: إِنِّي لَأَكْرَهُ أَنْ أَجْلِسَ فِي مَجْلِسٍ يُذْكَرُ فِيهِ يَعْقُوبُ.
ترجمہ :- عبداللہ بن عثمان بیان کرتے ہیں:عبداللہ بن مبارک نے کہا: "مجھے ناگوار ہے کہ میں ایسی مجلس میں بیٹھوں جہاں یعقوب (ابو یوسف) کا ذکر ہو۔" (المعرفة والتاريخ - ت العمري - ط العراق ٢/٧٨٩)
15. أَخْبَرَنَا العتيقي، أخبرنا يوسف بن أحمد الصيدلاني- بمكة- حدثنا محمّد بن عمرو العقيلي، حدثنا محمّد بن حاتم، حَدَّثَنَا حبَّان بْن مُوسَى قَالَ: سمعتُ ابن المبارك يَقُولُ: إني لأستثقل مجلسًا فِيهِ ذكرُ أبي يوسف. "میں نے ابن مبارک کو کہتے سنا: مجھے وہ مجلس بوجھ لگتی ہے جس میں ابو یوسف کا ذکر ہو۔" ( تاريخ بغداد وذيوله ط العلمية ١٤/٢٥٨ )
16. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا حُسْبَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: إِنِّي لَأَسْتَثْقِلُ مَجْلِسًا فِيهِ ذِكْرُ أَبِي يُوسُفَ
(الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/٤٣٨)
17. حَدَّثَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ بِالرَّيِّ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ، قَالَ: لَا، وَلَا كَرَامَةَ، قُلْ يَعْقُوبُ رَے (شہر) میں عبداللہ بن مبارک سے کہا گیا: "ابو یوسف نے یہ کہا ہے۔" تو انہوں نے فرمایا: "نہیں، اور نہ ہی کوئی عزت! یعقوب کہو۔" (الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/٤٣٨)
جواب :- تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
سلسلہ دفاع علمائے احناف : سلسلہ دفاع قاضی ابو یوسف ؒ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں