کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 11 : دوامِ رفع یدین کے قائلین کی طرف سے عوام میں پھیلائے گئے چند اہم شبہات کا ازالہ
کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 11 :
دوامِ رفع یدین کے قائلین کی طرف سے عوام میں پھیلائے گئے چند اہم شبہات کا ازالہ
چند شبہات کا ازالہ:
اب آخر میں دوامِ رفع یدین کے قائلین کی طرف سے عوام میں پھیلائے گئے چند اہم شبہات (جن کو وہ اپنے بزعم بہت وزنی دلائل سمجھتے ہیں)کے جوابات ملاحظہ ہوں۔
شبہ نمبر۱: ﴿حدیث ابن عمر ؓسے دوام پر استدلال﴾
غیر مقلدین کی طرف سے دوامِ رفع یدین پر بطور دلیل درج ذیل روایت پیش کی جاتی ہے :
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالیٰ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ کَانَ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلوٰۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ وَاِذَا رَکَعَ وَاِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ وَکَانَ لَایَفْعَلُ ذٰلِکَ فِیْ السُّجُوْدِ فَمَازَالَتْ تِلْکَ صَلوٰتُہُ حَتّٰی لَقِیَ اللَّہَ تَعَالیٰ ۔رَوَاہُ الْبَیْہَقِیُّ ۔(آثار السنن : ۳۹۴)
٭٭ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے (ٍتو بھی رفع یدین کرتے)،اور سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔اسے بیہقی (مختصر الخلافیات:ص۷۶)نے روایت کیا ہے ۔
الجواب:
علامہ زیلعی رحمہ اللہ نے اس روایت کی سند اس طرح ذکر کی ہے :
عن ابی عبداللہ الحافظ عن جعفر بن محمد بن نصر عن عبدالرحمن بن قریش الہروی عن عبداللہ بن احمد الدمجی عن الحسن بن عبداللہ بن حمدان الرقی ثنا عصمۃ بن محمد الانصاری ثنا موسی بن عقبۃ عن نافع عن ابن عمر ۔۔۔۔الخ۔(نصب الرایۃ :ج۱ص۴۱۰)
یہ روایت موضوع ومن گھڑت ہے ،اس کے راویوں کا مختصرساتعارف درج ذیل ہے :
(۱)۔۔۔۔اس کے پہلے راوی امام بیہقی رحمہ اللہ ہیں جوکہ عبدالرشید غیر مقلد کے بقول امام شافعی رحمہ اللہ کے مقلد تھے۔(ملخصاً:کاروان حدیث:ص۱۸۹)اور غیر مقلدین کے نزدیک تقلیدناجائز ،حرام وبدعت وضلالت وشرک وکفر ہے ۔(دیکھئے: مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ :ص۸۲۱)تو بتایا جائے کہ غیر مقلدین کے متحققین (بزعم خود)اس مشرک کی نقل کردہ روایت کو کس طرح قبول کررہے ہیں؟مزید برآں غالی غیر مقلد رئیس ندوی صاحب کے نزدیک تو اختلافی مسائل میں مقلدین کی نقل سرے سے قابل اعتبارہی نہیں ہے ۔(مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ :ص۵۳۸)
(۲)۔۔۔۔بطور الزام کے عرض ہے کہ اس روایت کے دوسر ے راوی امام ابو عبداللہ الحافظ (یعنی امام حاکم رحمہ اللہ)بھی غیر مقلد ین کے نزدیک قابل اعتماد نہیں ہیں۔چنانچہ مشہور غیر مقلد نواب صدیق حسن نے انہیں غالی شیعہ قرار دیا ہے ۔(ہدایۃ السائل :ص۵۲۵مطبوعہ بھوپال ۱۲۹۲ء)اور حکیم فیض عالم صدیقی نے ایک مقام پر لکھا ہے کہ :
اس قسم کی تمام خرافات کا جامع حاکم ہے جس کے متعلق میں اپنی متعد د تالیفات میں بدلائل وشواہد واضح کرچکا ہوں کہ وا غالی رافضی تھا۔(صدیقہ کائنات:ص ۲۲۱)
غالی غیر مقلد زبیر علی زئی نے لکھا ہے کہ :
مستدرک کی تصنیف کے وقت امام حاکم تغیر حفظ کا شکار ہوگئے تھے۔(ملخصاً:ماہنامہ الحدیث :ش ۱۰۹ص۴۰)
رئیس ندوی نے بھی امام موصوف کو کثیر الغلط قرار دیا ہے ۔(رسول اکرم ﷺ کا صحیح طریقہ نماز:۱۳۲)
(۳)۔۔۔۔اس روایت کی سند کے تیسرے راوی ‘‘ جعفر بن محمد بن نصر ’’ کی بھی توثیق وتعدیل مطلوب ہے ۔
(۴)۔۔۔۔چوتھا راوی ‘‘ عبدالرحمن بن قریش بن خزیمہ الہروی ’’ کذاب ہے ،چنانچہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ م۷۴۸ھلکھتے ہیں:
اتہمہ السلیمانی بوضع الحدیث ۔محدث سلیمانی رحمہ اللہ نے اسے حدیثیں گھڑنے والا قرار دیا ہے ۔
(میزان الاعتدال :۴۹۴۱)
علامہ برہان الدین الحلبی رحمہ اللہ م۸۴۱ھاور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ م۸۵۲ھنے بھی نقل کیا ہے کہ:
یہ حدیثیں گھڑتا تھا۔(الکشف الحثیث عمن رمی بوضع الحدیث : ۴۳۰،لسان المیزان : ۱۶۷۱)
مشہور غالی غیر مقلد ناصرالدین البانی نے ایک روایت کی سند کے بارے میں لکھا ہے کہ:
یہ سند موصوع ہے کیونکہ اس سند کاراوی( عبدالرحمن )بن قریش حدیثیں گھڑتا تھا،ذہبی نے کہا ہے کہ سلیمانی نے اسے متہم بالوضع کہا ہے۔(سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ :۸۲۸)
غالی غیر مقلد زبیر علی زئی نے بھی عبدالرحمن بن قریش کو سخت مجروح قرار دیا ہے۔
(تسہیل الوصول:۲۵۰)
(۵)۔۔۔۔پانچویں نمبر عبداللہ بن احمد الدمجی ہے اس کے عدل وضبط کے متعلق کتب اسماء الرجال ساکت ہیں۔
(۶)۔۔۔۔چھٹے راوی حسن بن عبداللہ بن حمدان الرقی کے عدل وضبط کے متعلق بھی کتب رجال خاموش ہیں۔
(۷)۔۔۔۔ساتویں راوی عصمہ بن محمد الانصاری المدینی بھی مجروح ہیں مثلاً۔۔۔۔
۱۔امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ م۲۷۷ھفرماتے ہیں :
لیس بالقوی ۔کہ یہ (روایت حدیث میں)مضبوط نہیں ہے ۔(الجرح والتعدیل :۱۰۶)
۲۔امام ابو احمد بن عدی الجرجانی رحمہ اللہ م۳۶۵ھفرماتے ہیں:
وکل حدیثہ غیر محفوظۃ وہو منکر الحدیث ۔کہ اس کی تمام احادیث غیر محفوظ ہیں اور یہ منکر الحدیث ہے ۔
(الکامل :۱۵۳۵)
منکر الحدیث راوی غیر مقلدین کے نزدیک کونسا ہوتا ہے ؟اس کی بابت مشہور غالی غیر مقلد ارشاد الحق اثری صاحب حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں :
جس کی غلطیاں زیادہ ہوں یا غفلت باکثرت ہو یا فسق ظاہر ہو ، اس کی حدیث منکر ہے ۔
(توضیح الکلام : ۶۲۸/۲)
غالی غیر مقلد عبدالرحمن مبارکپوری صاحب لکھتے ہیں :
حتی تکثر المناکیر فی روایتِہ وینتہی الی ان یقال فی منکر الحدیث لان منکر الحدیث وصف الرجل یستحق بہ الترک بحدیثہ ۔
(ابکارالمنن: ص۱۹۹)
(منکر الحدیث وہ راوی ہے )جو منکر روایتیں ایسی کثرت سے بیان کرے کہ بالآخر اس کو منکر الحدیث کہا جانے لگے، کیونکہ منکر الحدیث راوی میں ایسا وصف ہے کہ اس کی وجہ سے وہ اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی حدیث ترک کردی جائے ۔
ارشادالحق اثری صاحب لکھتے ہیں :
البتہ منکر الحدیث کے الفاظ راوی کے ضعف پر دلالت کرتے ہیں ۔
(توضیح الکلام : ۴۹۹/۱)
اثری صاحب ہی ‘‘ الرفع والتکمیل ’’ سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
پہلے الفاظ قابل اعتبار جرح نہیں برعکس دوسرے منکر الحدیث کے کہ وہ راوی پر ایسی جرح ہے جس کا اعتبار کیا جاتا ہے ۔
(ایضاً:ص۴۹۸)
غالی غیر مقلد محمد گوندلوی صاحب لکھتے ہیں :
دوسری عبارت یعنی منکر الحدیث سے قابل اعتبار جرح ثابت ہوتی ہے ۔
(خیر الکلام : ص۱۶۰)
محمد اسحاق صاحب غیر مقلد ایک حدیث کی تحقیق میں لکھتے ہیں :
ان دونوں راویوں کے ضعیف بلکہ اول الذکر کے منکر الحدیث ہونے کی بناء پر کہا جاسکتا ہے کہ حدیث ضعیف جدًا یا منکر کے درجہ تک پہنچی ہوئی ہے ۔(ہفت روزہ الاعتصام (ص۲۰)۱۷اگست ۱۹۹۲ء)
سخت غالی غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں :
سوار منکر الحدیث یعنی سخت ضعیف ہے ۔
(ماہنامہ الحدیث ص۱۵، ستمبر ۲۰۰۴ء)
ان اقتباسات سے واضح ہوگیا کہ لفظ منکر الحدیث غیر مقلدین کے ہاں انتہائی سخت، قابل اعتبار اور مفسر جرح ہے ۔
۳۔امام ابو زکریا یحییٰ بن معین رحمہ اللہ م۲۳۳ھفرماتے ہیں:
ہٰذا کذاب یضع الحدیث ۔کہ عصمہ بن محمد بہت بڑا جھوٹا ہے اور حدیثیں گھڑتا ہے ۔
(تاریخ بغداد:۶۷۲۶)
ْ۴۔حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو ضعیف اور متروک راویوں میں ذکر کرکے لکھا ہے:
ترکوہ ۔کہ محدثین نے اسے ترک کردیا تھا ۔
(دیوان الضعفاء والمتروکین:۲۸۱۸)
نیز حافظ ذہبی رحمہ اللہ اس کی بیان کردہ ایک روایت کے بارے میں لکھتے ہیں :
ہذا موضوع ۔۔۔۔الخ۔کہ یہ روایت موضوع ہے ۔
(تاریخ اسلام :۲۰۵)
۵۔امام ابو جعفر عقیلی رحمہ اللہ م ۳۲۲ھفرماتے ہیں:
یحدث بالبواطیل عن الثقات ۔کہ عصمہ ثقہ راویوں سے باطل حدیثیں بیان کرتا ہے ۔
(الضعفاء الکبیر للعقیلی :۱۳۶۶)
۶۔امام حافظ حافظ ابن جوزی رحمہ اللہ م۵۹۷ھنے اس کو ضعیف ومتروک راویوں میں ذکر کرکے اس کا کذاب وضاع اور متروک ہونا نقل کیا ہے ۔
(الضعفاء والمتروکون: ج۲ص۱۷۶،برقم:۲۳۰۳)
۷۔قاضی شوکانی غیر مقلد لکھتا ہے :
عصمۃ بن محمد وہو کذاب ۔کہ عصمہ بن محمد کذاب ہے ۔
(الفوائد المجموعۃ :ص۶۷،۱۸۱)
۸۔ناصرالدین البانی غیر مقلد لکھتا ہے :
عصمۃ بن محمد کل حدیثہ غیر محفوظ وہو منکر الحدیث۔کہ عصمہ بن محمد کی تمام حدیثیں غیر محفوظ ہیں اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
(سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ :ج۱ص۲۶۵)
۹۔غالی غیر مقلد زبیر علی زئی نے بھی عصمہ کو سخت مجروح قرار دیا ہے ۔
(تسہیل الوصول:ص۲۵۰)
الغرض عصمہ بن محمد الانصاری کذاب ومتروک الحدیث راوی ہے ،اب کذاب اور متروک راوی کے متعلق علمائے غیر مقلدین کے فیصلے ملاحظہ ہوں:
ارشاد الحق اثری غیر مقلد لکھتا ہے :
کذاب،متروک،لیس بثقۃکے الفاظ شدید جرح میں شمار ہوتے ہیں ۔
(توضیح الکلام :ج۲ص۶۰۸)
عبداللہ روپڑی غیر مقلد لکھتا ہے :
متروک وہ راوی ہے جس کی روایت بالکل ردی ہو ۔
(فتاوی اہلحدیث:ج۱ص۶۶۲)
محمد گوندلوی غیر مقلد لکھتا ہے :
جس (حدیث)کو کسی شحص وضاع یا کذاب نے بیان کیاوہ موضوع ہے ۔
(التحقیق الراسخ :ص۱۲)
سلطان محمود ضیاء غیر مقلد لکھتا ہے :
موضوع (اس حدیث کو کہتے ہیں)جس حدیث کا راوی کذاب ہو ۔
(اصطلاحات المحدثین :ص۱۳)
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ غیر مقلدین کے اصول وضوابط کی روشنی میں بھی یہ روایت باطل وموضوع ہے ۔محقق نیموی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
قلت العجب منہم کیف اوردوا فی تصانیفہم وسکتوا عنہ مع ان بعض رجالہ اتہم بوضع الحدیث
(التعلیق الحسن :ص۲۰۱)
میں کہتا ہوں تعجب ہے کہ ان لوگوں نے اس روایت کو اپنی تصانیف میں درج کرکے خاموشی اختیار کرلی ہے حالانکہ اس کے بعض راویوں پر حدیث گھڑنے کی تہمت ہے۔
عبدالرؤف سندھو غیر مقلد لکھتا ہے کہ :
اس حدیث میں ‘‘ فمازالت تلک صلوٰتہ ۔۔۔۔’’کا اضافہ سخت ضعیف ہے بلکہ باطل ہے ،کیونکہ اس کی سند میں دوراوی متہم ہیں۔(القول المقبول :ص۴۱۴)
غالی غیر مقلد زبیر علی زئی نے بھی اس روایت کا موضوع ہونا تسلیم کیا ہے ۔
(دیکھئے: نور العینین :ص۳۲۷)
ہر چند کہ اپنوں اور بیگانوں کے اعتراف سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب یہ روایت جھوٹی ومن گھڑت ہے ۔
شبہ نمبر ۲: ﴿حدیث ابی ہریرۃ ؓسے دوام پر استدلال﴾
غیر مقلدین کی طرف سے دوامِ رفع یدین پر بطور دلیل درج ذیل روایت بھی بڑے طمطراق انداز میں پیش کی جاتی ہے :
ابن الاعرابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
نا محمد بن عصمۃ نا سوار بن عمارۃ نا ردیح بن عطیۃ عن ابی زرعۃ بن ابی عبدالجبار بن معج قال رأیت ابا ہریرۃ فقال لاصلین بکم صلاۃ رسول اللہ ﷺ لا ازید فیہا ولا انقص فاقسم باللہ ان کانت ہی صلوٰتہ حتی فارق الدنیا قال فقمت عن یمینہ لانظر کیف یصنع فابتدء فکبر ورفع یدیہ ثم رکع فکبر ورفع یدیہ ثم سجد ثم کبر ٹم سجد وکبر حتیٰ فرغ من صلاتہ قال اقسم باللہ ان کانت لہی صلاتہ حتی فارق الدنیا۔
(المعجم لابن الاعرابی)
(سیدنا) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (سے منسوب ہے کہ انہوں )نے فرمایا کہ میں ضرور تمہیں نبی مکرم ﷺ والی نماز پڑھاؤں گانہ کچھ کم کروں گانہ زیادہ ۔پھر انہوں نے قسم اٹھاکر کہا کہ آپ ﷺ یہی نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ دنیا چھوڑ گئے۔راوی نے کہا پس میں آپ کی دائیں طرف کھڑا ہوگیاتاکہ دیکھوں کہ آپ کیا کرتے ہیں پس انہوں نے نماز کی ابتداء کی اللہ اکبر کہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے پھر کوع کیاپس آپ نے اللہ اکبر کہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے پھر سجدہ کیا پھر اللہ اکبر کہا پھر سجدہ کیا اور اللہ اکبر کہا حتیٰ کہ آپ اپنی نماز سے فارغ ہوگئے ۔سیدناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں آپ ﷺ کی یہی نماز تھی حتیٰ کہ آپ ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے۔
الجواب:
یہ روایت بھی جھوٹی ومن گھڑت ہے ،آئیے اس کی سند کی سیر کراتے ہیں:
(۱)۔۔۔۔اس کی سند کے پہلے راوی امام ابو سعید ابن الاعرابی احمد بن محمد بن زیاد بن بشر بن درہم البصری رحمہ اللہ ہیں جوکہ ایک صوفی منش بزرگ ہیں تصوف اور زہد ان پر تھا ۔(ملخصاً:تذکرۃ الحفاظ :۸۳۰،سیر اعلام النبلاء :۳۰۷۶،تاریخ اسلام :۳۰۷۶)اور غیر مقلدین عموماً تصوف کو کفروشرک کہتے رہتے ہیں ،اور ابن الاعرابی رحمہ اللہ جمع وفنا(یعنی مسئلہ وحدت الوجود )کو بالکل حقیقت سمجھتے تھے ۔(ایضاً)اور غیر مقلدین میں سے خصوصاً زبیر علی زئی اور طالب الرحمن کے نزدیک وحدت الوجود کو حقائق میں سے ماننے والے بدترین کافر اور مشرک ہیں۔(فتاوی علمیہ :۶۲،دیوبندیت تاریخ وعقائد :ص۱۹۶)الغرض غیر مقلدین ایک طرف تو صوفیاء اور وحدت الوجود کے قائلین کیلئے کفروشرک کی گردان پڑھتے نہیں تھکتے جبکہ دوسری طرف نماز کی اہم سنت کیلئے ایک صوفی منش وحدت الوجود کے قائل بزرگ کی چوکھٹ پر کاسہ گدائی رکھے سجدہ ریز ہیں کسی نے خوب کہا ہے :
آنچہ شیراں راکند روباہ مزاج احتیاج ست واحتیاج ست واحتیاج
(۲)۔۔۔۔اس کی سند کے دوسرے راوی ابو عبیداللہ محمد بن احمد بن عصمہ الرملی القاضی الاطروش کے بارے میں غالی غیر مقلد زبیر علی زئی نے لکھا ہے کہ:مجھے اس کے حالات نہیں ملے۔(نورالعینین :ص۳۳۸)اس کے عدل وضبط کے متعلق کتب اسماء الرجال خاموش ہیں ۔واضح رہے کہ ایسے روات کو غیر مقلدین مجہول شمارکرتے ہوئے ان کی نقل کردہ روایات کو موضوع ومن گھڑت قرار دیا کرتے ہیں ۔چنانچہ مبشر ربانی غیر مقلد ایک مقام پر لکھتا ہے کہ:
یہ اور اس کے دیگر روات بھی مجاہیل قسم کے ہیں علم رجال کی معروف کتب میں ان کا ذکر نہیں ملتا ،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت موضوع ومن گھڑت ہے ۔(ملخصاً:مجلہ الدعوۃ :ص۴۱مارچ ۲۰۰۱ء)
رئیس ندوی غیر مقلد ایک جگہ لکھتا ہے :
ان کی توثیق وتجریح میں کوئی بات منقول نہیں یعنی کہ موصوف مجہول ہیں ان کا ترجمہ مجھے دیکر کسی کتاب رجال میں نہیں مل سکا اور اس مجہول کا بہت بڑا کذاب ہونا بھی ممکن ہے ۔(مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ :ص۱۸۴)
اعتراض :
زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
ابو عبیداللہ کی متابعت مسند الشامیین میں مروی ہے ۔(نورالعینین :ص۳۳۸)
الجواب:
مسند الشامیین کی روایت کو ابو عبیداللہ القاضی کی متابعت میں پیش کرنا غلط اور سراسر دھوکاہے کیونکہ مسند الشامیین کی روایت میں ‘‘ حتی فارق الدنیا ’’ کے الفاظ ہی سرے موجود نہیں ہیں ۔علاوہ ازیں مسند الشامیین کی روایت بھی شدید ضعیف ہے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ موضوع ہو ۔اس کی سند میں موجود امام طبرانی رحمہ اللہ کا شیخ حصین بن وہب الارسوفی مجہول ہے حتیٰ کہ زبیر علی زئی صاحب نے بھی لکھا ہے کہ :حصین بن وہب کے حالات مجھے نہیں ملے۔(نورالعینین :ص۳۳۹)دوسرے راوی زکریا بن نافع الارسوفی کا بھی تقریباً یہی حال ہے ۔اور پانچویں راوی ابو عبدالجبار بھی مجہول ہے ۔
(۳)۔۔۔۔مذکورہ بالا روایت کی سند کے تیسرے راوی ابو عمارہ سوار بن عمارہ بھی معیاری ثقہ نہیں ہیں ،تہذیب التہذیب (۳۱۴۸)میں ہے کہ اکثر اوقات( ثقہ راویوں)کے خلاف روایات بیان کرتا ہے ۔نیز راقم الحروف کو اس کے اساتذہ میں ردیح بن عطیہ کا تذکرہ نہیں ملا اور نہ ہی آج تک زبیر علی زئی پارٹی یہ قرض اتار سکی ہے۔
(۴)۔۔۔۔چوتھے راوی ردیح بن عطیہ کا بھی معیاری ثقہ ہونا ثابت نہیں ہے ۔
(۵)۔۔۔۔پانچویں راوی ابو زرعہ ابن ابی عبدالجبار بن مصبح کی توثیق ثابت نہیں۔
اعتراض:
غالی غیر مقلد زبیر علی زئی لکھتا ہے کہ:
ابو عبدالجبار عبداللہ بن معج الفلسطینی کا ذکر امام بخاری کی التأریخ الکبیر اور امام ابن ابی حاتم کی الجرح والتعدیل میں موجود ہے ،ابن حبان نے اسے ثقات میں ذکر کیا ہے ۔(بلفظہ نورالعینین:ص۳۳۷)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔ہمارے پاس موجود معجم کے مطبوعہ نسخہ میں زیربحث روایت کی سند میں راوی ‘‘ابو زرعۃ بن ابی عبدالجبار بن معج’’ ہے نہ کہ‘‘ ابو عبدالجبار عبداللہ بن معج’’۔کسی قوی دلیل کے بغیر ہی زبیر صاحب کا ‘‘ ابوزرعۃ بن ابی عبدالجبار بن معج ’’ کو ‘‘ ابو زرعۃعن ابی عبدالجبار بن معج ’’ بنادینا غلط ہے ۔
ثانیاً۔۔۔۔اگر بالفرض معجم ابن الاعرابی میں غلطی سے ‘‘ عن ابی زرعۃ بن ابی عبدالجبار بن معج ’’ چھپ گیا ہو اور صحیح ‘‘ عن ابی زرعۃ عن ابی عبدالجبار بن معج ’’ ہی ہو جیسا کہ زبیر صاحب نے لکھا ہے تو تب بھی علی زئی پارٹی کو اس کا کچھ فائدہ نہیں۔کیونکہ ابو عبدالجبار عبداللہ بن معج فلسطینی بھی مجہول ہے ۔
ثالثاً۔۔۔۔باقی التاریخ الکبیر للبخاری اور الجرح والتعدیل للرازی میں ‘‘ ابو عبدالجبار عبداللہ بن معج الفلسطینی ’’ کا بلاجرح وتعدیل ذکر ہوناخود علمائے غیر مقلدین کے نزدیک بھی اس کی توثیق کو مستلزم نہیں،کیونکہ اما م بخاری رحمہ اللہ نے تاریخ کبیر میں اور امام ابن ابی حاتم رازی رحمہ اللہ نے الجرح والتعدیل میں روات کی ایک بڑی کاتعداد کا تذکرہ بلاجرح وتعدیل کیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ روات غیر مقلدین کے نزدیک مجہول ہیں ،اسی طرح ابن حبان کا کسی راوی کو ثقات میں ذکر کرنا بھی غیر مقلدین کے نزدیک غیر معتبر ہے۔چند عبارات ملاحظہ ہوں:
ارشاد الحق اثری ایک روایت کے ذیل میں لکھتا ہے کہ:
ابن بجاد ،محمد بن بجاد ہے اور وہ موسی بن سعد کا پوتا ہے جبکہ بجاد موسی کے صاحبزادے ہیں ۔ان کا امام بخاری نے ‘‘ التاریخ الکبیر ’’ میں اور امام ابن ابی حاتم نے الجرح والتعدیل میں ذکر کیا ہے مگر کوئی جملہ توثیق وتوصیف کا نقل نہیں کیا۔۔۔۔۔۔محمد بن بجاد اور موسیٰ بن سعد دونوں مجہول ومستور ہیں لہٰذا اس کی سند کو صحیح کہنا درست نہیں۔
(توضیح الکلام :۲ص۷۴۱،۷۴۳)
غالی غیر مقلد عبدالرؤف سندھو صاحب ایک مقام پر لکھتے ہیں:
ابو مسلم کو بخاری نے الکنی میں اور ابن ابی حاتم نے الجرح والتعدیل میں ذکر کیا ہے مگر دونوں میں سے کسی نے بھی اس کے بارے میں کوئی جرح وتعدیل ذکر نہیں کی ہے ۔احمد البناء نے اس کی سند کو جید کہا ہے ۔قلت (میں کہتا ہوں)اسکی سند کو جید قرار دینے کے لیے ابو مسلم کی ثقاہت کا علم ضروری ہے ورنہ سند ضعیف ہے ۔
(القول المقبول:ص۱۷۰)
غالی غیر مقلدارشاد الحق اثری صاحب لکھتے ہیں:
بعض حضرات نے جو یہ کہا ہے کہ امام ابن ابی حاتم جس راوی پر سکوت کریں وہ ثقہ ہوتا ہے تویہ قاعدہ بھی صحیح نہیں خود امام ابن ابی حاتم نے صراحت کردی ہے کہ جس راوی کے متعلق کوئی جرح یا تعدیل نقل نہیں کی گئی تو ان کا ذکر محض تکمیلاً ہے اگر کوئی کلمہ (اپنے والد ابو حاتم وغیرہ سے )مل گیا تو بالآخر اس کو نقل کردیں گے۔
(حاشیہ توضیح الکلام :ج۲ص۷۴۱)
غالی غیر مقلد محب اللہ شاہ آف پیر جھنڈا صاحب لکھتے ہیں:
اور امام ابن ابی حاتم اور ابن حبان کے متعلق جو فرمایایہ بھی صحیح نہیں کیونکہ اس کا مقتضی تو یہ ہوا کہ جس راوی کا بھی امام ابن ابی حاتم اپنی ‘‘ الجرح والتعدیل ’’ میں ذکر کریں اور اس پر کچھ بھی حکم جرحاً وتعدیلاً نہ لگائیں اس کے متعلق یہی کہنا چاہیے کہ اس میں طعن یا عیب ہوتا تو امام ابن ابی حاتم سے پوشیدہ نہ رہتا۔حالانکہ کسی طعن یا توثیق کے عدم ذکر سے یہی عیاں ہوتا ہے کہ امام موصوف کو ان کے متعلق (اپنے والد ابو حاتم یا دیکر ائمہ ناقدین سے ۔ن)کچھ معلوم نہ ہوسکا،یہی وجہ ہے کہ ایسی حالت میں علمائے حدیث یہی فرماتے ہیں کہ یہ راوی مجہول الحال غیر معروف اور مستور ہے ۔
(ہفت روزہ الاعتصام :ص۱۱،۲۵نومبر۱۹۹۴ء)
غالی غیر مقلد زبیر علی زئی نے بھی اس اصول کہ امام بخاری اور امام ابو حاتم کا کسی راوی کو بلاجرح وتعدیل ذکر کرنا اسکی توثیق ہے کو مرجوح قرار دیا ہے ۔(نورالعینین:ص۱۸۹)
محمد گوندلوی غیر مقلد ایک راوی کے بارے میں لکھتا ہے :
ابن حبان نے اس کو ثقات میں شمار کیا ہے مگر ابن حبان کا تساہل مشہور ہے ۔
(خیر الکلام :ص۲۵۲)
عبداللہ روپڑی غیر مقلد لکھتا ہے :
ابن حبان کا تساہل مشہور ہے ذراسے سہارے پر ثقوں میں شمار کرلیتے ہیں۔
(فتاوی اہلحدیث :ج۲ص۵۰۸)
رفیق سلفی غیر مقلد لکھتا ہے :
ابن حبان کی توثیق کو ائمہ رجال کچھ وقعت نہیں دیتے۔
(ہفت روزہ الاعتصام :ص۱۸،۹ستمبر ۱۹۹۴ء)
عبدالرؤف سندھو غیر مقلد ایک مقام پر لکھتا ہے :
واضح رہے کہ ابن حبان کا اس کو ثقات میں ذکر کرنا معتبر نہیں کیونکہ وہ مجاہیل کو ثقات میں شمار کرتے ہیں۔
(القول المقبول :ص۳۲۵)
زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے :
مجہول اور مستور راویوں کی توثیق میں امام ابن حبان متساہل تھے لہٰذا ایسے مقام پر اگر وہ منفرد ہوں تو ان کی توثیق مقبول نہیں ہے ۔
(بلفظہ فتاوی علمیہ :ج۱ص۵۸۲)
صرف ان چند عبارات کو ہی سامنے رکھنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خود غیر مقلدین کے نزدیک بھی امام بخاری رحمہ اللہ کے تاریخ کبیر میں ،ابن ابی حاتم رحمہ اللہ کے جرح وتعدیل میں اور حافظ ابن حبان رحمہ اللہ کے کتاب الثقات میں محض ذکر کرنے سے ‘‘ ابو عبدالجبار عبداللہ بن معج’’ کا ثقہ ہونا لازم نہیں لازم آتا۔
شبہ نمبر۳: ﴿کَانَ سے دوام پر استدلال﴾
غیر مقلدین کا کہنا ہے کہ اثبات رفع یدین والی روایات میں ‘‘ کان یرفع یدیہ ’’ کے الفاظ ہیں یعنی فعل مضارع پر کان داخل ہے اور جب کان فعل مضارع پر داخل ہو تو دوام کا فائدہ دیتا ہے ۔ملاحظہ ہو :
حاشیہ بخاری از داود راز:ج۱ص۶۷۵
صلوٰۃ الرسول ازصادق سیالکوٹی: ص۲۴۱
تسہیل الوصول :ص۲۰۲وفی طبعۃ :ص۲۶۱
الجواب:
اولاً۔۔۔۔امام نووی رحمہ اللہ م۶۷۶ھ فرماتے ہیں کہ :محققین اہل اصول کے نزدیک کان دوام کا فائدہ نہیں دیتا،اصل وضع کے اعتبار سے یہ صرف ایک دفعہ کے فعل پر دلالت کرتا ہے ۔(شرح مسلم للنووی:ج۱ص۲۵۴)امام شاطبی رحمہ اللہ نے بھی لکھا ہے کہ محدثین کے نزدیک کان ایک دفعہ کے فعل پر دلالت کرنے کیلئے آتا ہے ۔(الاعتصام :ج۱ص۲۹۰)مزید برآں غالی غیر مقلد ابو سعید شرف الدین دہلوی صاحب لکھتے ہیں کہ:باقی رہا استدلال دوام پر کان یفعل کذا سے تو یہ صحیح نہیں یہ حکم اکثری ہے کلی نہیں بلکہ بعض مقام میں اکثری بھی نہیں ۔آپ مشکوٰۃ باب القراء ۃ فی الصلوٰۃ یا نیل الاوطار وغیرہ بلکہ احادیث منقولہ دریں تحریر ہی کو ملاحظہ کرکے تمام حدیثوں کے کان یفعل کذاکو آپس میں تطبیق دیجئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دوام نہیں ورنہ تناقض معلوم ہوگا۔(فتاوی ثنائیہ :ج۱ص۴۹۹)
ثانیاً۔۔۔۔متعدد احادیث میں کان فعل مضارع پر داخل ہے نہ معلوم غیر مقلدین کی یہ منطق وہاں کیسے چلے گی؟مثلاً۔۔۔۔
ایک حدیث میں ہے ‘‘ ان رسول اللہ ﷺ کان یصلی وہو حامل امامۃ بنت زینب بنت رسول اللہ ۔۔۔۔الخ۔کہ رسول اللہ ﷺ امامہ بنت زینب بنت رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے وقت اٹھائے ہوتے تھے۔(صحیح البخاری :۵۱۶)
اس حدیث میں کان فعل مضارع پر داخل ہے حالانکہ بالاتفاق آپ کا یہ عمل دائمی نہ تھا۔
ایک دوسری حدیث میں ہے :‘‘ ان رسول اللہ ﷺ کان یباشر وہوصائم ’’ کہ آپ روزہ کی حالت میں مباشرت کرلیا کرتے تھے ۔(صحیح مسلم :۱۱۰۶)
اس حدیث میں بھی کان فعل مضارع پر داخل ہے حالانکہ یہ عمل بھی بالاتفاق دائمی نہ تھا۔مختصر یہ کہ لفظ کان اصل وضع کے اعتبار سے دوام کا فائدہ نہیں دیتااور نہ ہی محض کان کے فعل مضارع پر داخل ہونے سے ہمیشگی ثابت ہوتی ہے وگرنہ احادیث کے معانی میں فساد برپا ہوجائے گا۔
شبہ نمبر۴: ﴿اذاسے دوام پر استدلال ﴾
ایک شوشا یہ بھی چھوڑا جاتا ہے کہ اثبات رفع یدین کی بعض روایات میں اذا ماضی پر داخل ہے اورلفظ اذا جب ماضی پر داخل ہو تو ہمیشگی کا معنی دیتا ہے ۔
الجواب:
اولاً۔۔۔۔اذا سے دوام کشید کرنا صحیح نہیں کیونکہ صرف ایک مرتبہ کئے گئے کام کو بھی اذا کے ذریعہ سے بیان کردیا جاتا ہے ،قران کریم میں ہے :
واذا راواتجارۃ او لہون انفضوا الیہا وترکوک قائما۔( قدسمع اللہ : ۲۸،سورۃ الجمعۃ : ۱۰)
اور جب کچھ لوگوں نے کوئی تجارت یا کوئی کھیل دیکھا تو اُس کی طرف ٹوٹ پڑے ،اور تمہیں کھڑا ہوا چھوڑ دیا۔
اس آیت مبارکہ میں اذا ماضی پر داخل ہے اورجو واقعہ ذکر کیا گیا ہے وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا ہمیشہ کا معمول نہیں بلکہ صرف ایک دفعہ واقعہ پیش آیا تھاجس پر اللہ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو تنبیہ کرکے ان کی اصلاح فرمادی ۔چنانچہ مشہورغیر مقلد صلاح الدین یوسف نے اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ:
ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ جمعے کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک قافلہ آگیالوگوں کو پتہ چلا تو خطبہ چھوڑ کر باہر خریدوفروخت کیلئے چلے گئے کہ کہیں سامان فروخت ختم نہ ہوجائے ،صرف بارہ آدمی مسجد میں رہ گئے جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(تفسیر احسن البیان :ص۱۵۷۹)
ثانیاً۔۔۔۔سجدوں کے متعلقہ رفع یدین کی روایات میں بھی اذا ماضی پر داخل ہے ۔(مثلاً دیکھئے: سنن النسائی :ج۱ص۱۶۵،باب رفع الیدین للسجود)مگراس کے باوجود غیر مقلدین سجدوں میں رفع یدین کے دوام کے قائل نہیں ۔لہٰذا جوجواب سجدوں کی روایات میں اذا کے فعل ماضی پر داخل ہونے کا غیر مقلدین دیں گے وہی جواب ہماری طرف سے رکوع والی روایات کا ہوگا۔
شبہ نمبر۵: ﴿کان اور اذا کے مجموعہ سے دوام پر استدلال﴾
اثبات رفع یدین کی بعض روایات میں ‘‘ کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلوٰۃ واذا رکع واذا رفع رأسہ ۔۔۔الخ۔’’کے الفاظ آئے ہیں ،بعض غالی غیر مقلدین ان الفاظ کو لے کر ‘‘ کان ’’ اور ‘‘ اذا ’’کے مجموعہ سے ہمیشگی کا معنی کشید کرنا شروع کردیتے ہیں۔
الجواب:
‘‘ کان ’’ اور ‘‘ اذا ’’ کے مجموعہ سے بھی ہمیشگی والا معنی کشید کرنا غلط ہے اس مجموعہ بھی سے دوام ثابت نہیں ہوتا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ :
ان رسول اللہ ﷺ کان اذاسلم سلم ثلاثا واذا تکلم بکلمۃ اعادہا ثلاثا۔
(صحیح البخاری : ۶۲۴۴)
کہ نبی کریم ﷺ جب لوگوں کو سلام کہتے تو تین مرتبہ فرماتے اور جب آپ ﷺ کوئی بات فرماتے تو تین مرتبہ دھراتے۔
اس حدیث میں ‘‘اذا’’ اور‘‘ کان ’’کا مجموعہ موجود ہے مگر اس میں جو عمل ذکر کیا گیا ہے وہ دائمی نہیں ہے ۔چنانچہ امام غیر مقلدیت وحید الزمان صاحب اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ:
تین بار اس حالت میں ہے جب کوئی کسی کے دروازے پر جائے اور اندر آنے کی اجازت چاہے امام بخاری نے اس حدیث کو کتاب الاستیذان میں بیان کیا ہے اس سے بھی یہی نکلتا ہے ،ورنہ ہمیشہ آپ کی عادت یہ ثابت نہیں ہوتی کہ ہر مسلمان کو تین بار سلام کرتے۔(تیسیر الباری :ج۱ص۸۲)
شبہ نمبر۶: ﴿راوی حدیث کے متاخر الاسلام ہونے سے دوام پر استدلال﴾
غیرمقلدین کا کہنا ہے کہ رفع یدین کی حدیث کے راوی سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ۹ھمیں اسلام لانے والے متاخر الاسلام صحابی ہیں اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ تاحیات ہمیشہ رفع یدین کرتے رہے ہیں۔
الجواب:
اولاً۔۔۔۔ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے منسوب حدیث کو صحیح کہنے کا غیر مقلدین کو حق حاصل نہیں ہے کیونکہ اس حدیث کے مرکزی راوی دو ہیں ۔(۱)۔نصر بن عاصم ۔(۲)۔ ابو قلابہ ۔
نصر بن عاصم کے بارے میں امام ابوداود رحمہ اللہ فرماتے ہیں :کان خارجیاً۔کہ یہ خارجی تھا۔
اور اسی طرح علامہ مرزبانی بھی معجم الشعراء میں فرماتے ہیں کہ :
کان علی رأی الخوارج ۔یہ خارجی مذہب کا تھا۔
(تہذیب التہذیب:ج۵ص۵۳۶،۵۳۷)
اوردوسرے راوی ابو قلابہ بصری کے بارے میں امام ابو الحسن احمد بن عبداللہ عجلی رحمہ اللہ م۲۶۱ھفرماتے ہیں کہ:
وکان یحمل علی علی ۔۔۔وفیہ نصب یسیر ۔(تہذیب التہذیب:ج۳ص۱۴۸)
یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان اقدس میں کلام کرتا تھا اور ناصبی تھا ۔
اور غیر مقلدین ضرورت پڑنے پر اس طرح کے روات کی سند سے مروی احادیث کو قبول نہیں کرتے ۔چنانچہ مشہور غالی غیر مقلد زبیر علی زئی نے صحیح بخاری کے راوی علی بن الجعد کی کی مسئلہ تراویح کے متعلقہ ایک حدیث کو محض اس وجہ سے ناقابل اعتبار قرار دیا ہے کہ علی بن الجعد صحابہ کرام کی شان میں کلام تھا(دیکھئے:تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ:ص۲۸،امین اوکاڑوی کا تعاقب :ص۶۵)۔لہٰذا غیر مقلدین کو سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے منسوب حدیث سے استدلال کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔
ثانیاً۔۔۔۔غیر مقلدین نے فی الحال سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے ۹ھ میں مسلمان ہونے پر کوئی متصل صحیح السند روایت پیش نہیں کی،باقی تاریخی، غیر متصل، منقطع السند حوالے ضرورت پڑنے پر غیر مقلدین قبول نہیں کیا کرتے توپھرایسے حوالے ہمارے خلاف آخر کیوں پیش کررہے ہیں؟
ثالثاً۔۔۔۔اتفاقی اصول وضابطہ ہے کہ کسی راوی کے متاخر الاسلام ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس راوی کا نقل کردہ عمل آپ ﷺ نے ضرور آخری ایام ہی کیا ہوگا۔چنانچہ مشہور غالی غیر مقلد عبدالرحمن مبارکپوری صاحب لکھتے ہیں:
متاخر الاسلام ہونے سے دلیل لانا اسی کا کام ہے جو اصول حدیث اور اصول فقہ سے ناواقف ہے ۔۔۔۔ان تاخر اسلام الراوی لا یدل علی تأخیر ورود المروی ۔(بلا شبہ راوی کا آخری ایام میں مسلمان ہونا اس کی بیان کردہ روایت کے آخری ہونے پر دلیل نہیں ہے ۔ن)۔(تحقیق الکلام :ص۷۵،۷۶)
رابعاً۔۔۔۔سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ایک صحیح صریح حدیث میں تو نبی کریم ﷺ سے سجدوں کے رفع یدین کا ثبوت بھی موجود ہے ۔(ملاحظہ ہو :سنن النسائی :ج۱ص۱۶۵،۱۷۲)اگر سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی روایت سے بوقت رکوع رفع یدین کی ہمیشگی ثابت ہوتی ہے تو پھر انہی کی روایت سے سجدوں کی رفع یدین کی ہمیشگی آخر کیوں نہیں ثابت ہوتی؟ اور غیر مقلدین سجدوں میں رفع یدین کو آخر کیوں نہیں اپناتے؟
خامساً۔۔۔۔یہ بھی واضح رہے کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیس دن رات نبی کریم ﷺ کے پاس رہ کر اپنے وطن واپس تشریف لے گئے تھے۔(کما فی البخاری :ج۱ص۸۷،۸۸،فتح الباری :ج۲ص۱۴۵،ج۳ص۱۳۸)وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مسلسل رہے ہی نہیں ہیں۔جب کہ ان کے مقابلے میں آپ ﷺ کے ساتھ مسلسل رہنے والے صحابہ جیسے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما،سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ وغیرہ کی صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ بعد الافتتاح رفع یدین چھوڑ گئے تھے۔
سادساً۔۔۔۔اگر بالفرض مان لیا جائے کہ رفع یدین کا عمل ۹ھتک باقی رہا ہے تو تب بھی اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ تاوفات رفع یدین کیا ہے کیونکہ ۹ھکے بعد بھی ترک ونسخ کا سلسلہ جاری تھا۔چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
فاذا صلی قائما فصلوا قیاما۔۔۔۔۔۔واذا صلی جالسا فصلوا جلوسا اجمعون۔(صحیح البخاری :ج۱ص۹۶)
کہ جب امام کھڑے ہوکر نماز پڑھائے تو مقتدی بھی اس کی اتباع میں کھڑے ہوکر نماز پڑھیں اور جب امام (کسی عدر کی وجہ سے )بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تمام مقتدی بھی اس کی اتباع میں بیٹھ کر کر نماز ادا کریں۔
لیکن آپ ﷺ نے اپنی وفات سے چندروز پہلے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز ادا کی۔آپ ﷺ نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس عمل پر سکوت کیا۔(ملا حظہ ہو :بخاری ج۱ص۹۶)
علماء نے آپکے اس عمل کو ناسخ اور ‘‘ فصلوا جلوسا ’’کو منسوخ قرار دیا ہے حتیٰ کہ خود امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے استاذ امام حمیدی رحمہ اللہ سے ‘‘ فصلوا جلوسا’’ کا منسوخ ہونا نقل کیا ہے ۔
لہٰذا ۹ھتک باقی رہنے کی صورت میں بھی رفع یدین کا تاوفات ہونا ثابت نہیں ہوتاکیونکہ ۹ھکے بعد بھی نسخ وترک کا سلسلہ جای تھا۔آپ ﷺ کے ساتھ مسلسل رہنے والے صحابہ جیسے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما،سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ وغیرہ کی صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ بعد الافتتاح رفع یدین چھوڑ گئے تھے۔چنانچہ ثقہ بالاجماع محدث وتابعی امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے سامنے جب متاخر الاسلام صحابی وائل بن حجررضی اللہ عنہ کی اثبات ِ رفع یدین والی حدیث کا تذکرہ ہوااور کہنے والے نے کہا کہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے تو جلیل القدر تابعی امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ :
ان کان و ائل راٰہ مرۃ یفعل ذالک فقد راٰہ عبداللہ خمسین مرۃ لا یفعل ذالک۔(شرح معانی الاثار ،وسند ہ صحیح)
اگر وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو ایک بار رفع یدین کرتے دیکھاتھا(تو پھر کیا ہواٰ؟)عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پچاس بار دیکھا ہے کہ آپ ﷺ رفع یدین نہیں کرتے تھے(یعنی چھوڑ گئے تھے)۔
ملاحظہ فرمائیں !اما م ابراہیم نخعی تابعی رحمہ اللہ جیسا بلند پایہ محدث وفقیہ بھی متاخر الاسلام صحابی کی روایت کے مقابلے میں آپ ﷺ کے ساتھ مسلسل رہنے والے صحابی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کو عمل کیلئے لے رہا ہے ۔
قارئین کرام!آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعدالافتتاح رفع یدین چھوڑ گئے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں بے شمار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہرضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما بھی صرف شروع نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت ہی رفع یدین کرتے تھے اور بے شمار جلیل القدر حضرات تابعین واتباع تابعین اور بڑے بڑے محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم بھی بعد الافتتاح ترک رفع یدین پر ہی عامل تھے۔اور آپ یہ بھی ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ ترک رفع یدین جمہوراہل اسلام کا محقق قول اور عمل ہے نہ کہ صرف احناف کا۔ اور آپ یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ ہماری مستدل روایات کے کم و بیش ننانوے فی صدی راوی وہ ہیں جو ثقہ ثبت حافظ اور حجت ہونے کے علاوہ بخاری و مسلم کے مرکزی روات ہیں، لطف کی بات یہ ہے کہ جن روات پر فریق ثانی نے کلام کیا ہے ان میں سے بھی اکثر راویوں کی ثقاہت اور عدالت فریق ثانی کے نزدیک بھی مسلم ہے، صرف ان پر جمہور محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کے مقرر کردہ اصولوں سے اعلان بغاوت کرتے ہوئے تدلیس، تخلیط ، تغییر یسیر، وہم اور تفرد وغیرہ کے الزامات لگائے ہیں۔ مگر ان تمام اعتراضات کے جوابات اپنے اپنے مقام پر ہم نے خود فریق ثانی کی کتب اور جمہور محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق عرض کردیئے ہیں ان جوابات کے بعد کسی اور وضاحت اور جواب کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ‘‘ فیہ کفایۃ لمن لہ ھدایۃ ’’
آخری التماس!
مجھے اس کا پورا احساس ہے کہ جس طرح جمہور اہل اسلام کے دلائل و براہین پیش کرنے کا صحیح حق تھا میں ادا نہیں کر سکا، اہل علم حضرات سے التماس اور التجاء ہے کہ وہ مجھے میری کوتاہیوں اور لغزشوں پر مطلع فرماتے رہیں کیونکہ ایک نہایت ہی کم علم آدمی سے جسے اپنی بے بضاعتی اور کم علمی کا بھی بھرپور احساس اور قرار ہو اور ایسے اہم مسئلہ میں جس میں جلیل القدر ائمہ حدیث وفقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم نے خامہ فرسائی کی ہو لغزشوں کا صادر ہوجانا کچھ بعید نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے نہایت اخلاص اور صدق دل سے دعا ہے کہ وہ حقیر کو جملہ جسمانی وروحانی ظاہری وباطنی بیماریوں سے محفوظ رکھے ۔
اور کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محدثین عظام ، فقہا کرام رحمت اللہ علیہم اور جمہور اہل اسلام کی محبت اور اطاعت کا صحیح جذبہ عطا ء فرمائے، جن کا ذکر موجب رحمت خداوندی ہے۔
پینے میں آگیا کہاں لپٹی ہیں اڑ کے مستیاں
اتنی ہے تندمَے یہاں مست ہوں اور پی نہیں
وھذا آخرمااردتہ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم ، وتب علینا انک انت التواب الرحیم وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد و علٰی اٰلہ واصحابہ اجمعین ۔
نیاز احمد غفرلہ
ڈاکخانہ بھومن شاہ تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ بروز بدھ ۲۱ صفر المظفر ۱۴۳۵ھ مطابق ۲۵ دسمبر ۲۰۱۳ء
مسئلۂ ترکِ رفع یدین پر یہ ایک نہایت معروف اور مستند کتاب ہے۔ کتاب تسکین العینین کو ہم یونی کوڈ متن کی صورت میں، قسط وار (ہر پوسٹ کی شکل میں) آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، تاکہ مطالعہ مزید آسان ہو سکے۔
اگر قارئین اس کتاب کو PDF کی صورت میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں تو یہ کتاب ہماری موبائل ایپلیکیشن دفاعِ احناف لائبریری میں دستیاب ہے۔
مسئلۂ ترکِ رفع یدین سے متعلق تمام قسطیں ایک ہی لنک کے تحت پوسٹ وائز ترتیب کے ساتھ دستیاب ہیں، جہاں سے آپ آسانی سے مکمل سلسلہ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
---------------------------------------------------------------------------
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں