امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر امام مالک رحمہ اللہ کے اعتراض کی حقیقت
تمہید
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امتِ مسلمہ پر یہ عظیم احسان فرمایا کہ اسے ایسے جلیل القدر ائمہ و فقہاء عطا کیے جنہوں نے دین کی خدمت میں اپنی پوری زندگیاں وقف کر دیں۔ انہی بزرگوں میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے عظیم شاگرد، قاضی الائمہ، امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری رحمہ اللہ کا نامِ مبارک بھی آتا ہے، جنہوں نے فقہِ حنفی کی ترویج و اشاعت میں وہ خدمات سرانجام دیں جو تاریخ میں ہمیشہ زریں حروف سے لکھی جائیں گی۔ ان کی علمی عظمت اور فقہی بصیرت پر تاریخ کا ہر باخبر طالبِ علم شاہد ہے۔
تاہم بعض حلقوں کی طرف سے، خصوصاً غیر مقلدین کی جانب سے، یہ کوشش کی جاتی ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی شان میں کسی نہ کسی روایت کو پیش کر کے ان کی تنقیص کی جائے اور عوام الناس کے دلوں میں ان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں۔ انہی روایات میں سے ایک روایت امام مالک رحمہ اللہ سے منسوب کی جاتی ہے، جسے اعتراض کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ذیل میں اس روایت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور اس کی حقیقت واضح کی جائے گی۔
زیرِ بحث روایت
بعض لوگ امام مالک رحمہ اللہ سے یہ روایت پیش کرتے ہیں: حَدَّثَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ يَذْكُرُ عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَى قَالَ: دَخَلَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ هَارُونَ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ أَبُو يُوسُفَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ هَذَا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، قَالَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ، فَقُلْتُ نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَمْ أَلْتَفِتْ إِلَيْهِ، قَالَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، قَالَ أَبُو يُوسُفَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي مَسْأَلَةِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا هَذَا، إِذَا رَأَيْتَنِي جَلَسْتُ مَجْلِسَ أَهْلِ الْبَاطِلِ، فَتَعَالَ فَاسْأَلْنِي.
اس روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ امیر المومنین ہارون الرشید کے دربار میں امام مالک رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ دونوں حاضر تھے۔ خلیفہ نے امام مالک کو امام ابو یوسف سے متعارف کرایا، لیکن امام مالک نے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی، اور جب امام ابو یوسف نے ایک مسئلہ دریافت کیا تو امام مالک نے کہا: جب تم مجھے اہلِ باطل کی مجالس میں بیٹھا دیکھو تو آ کر مجھ سے پوچھنا۔ (الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/٤٣٨)
پہلا جواب: سند میں انقطاع
اس روایت کے بارے میں سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ اس کی سند منقطع اور ناقابلِ اعتماد ہے۔ روایت کی سند پر غور کیجیے۔ اس میں آیا ہے کہ ابورجاء قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ معن بن عیسیٰ کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کر رہے ہیں۔ اب یہاں یہ سوال بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ آیا قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ نے یہ بات خود معن بن عیسیٰ سے براہِ راست سنی تھی، یا کسی واسطے سے انہیں یہ بات پہنچی؟ سند کے الفاظ اس بارے میں صراحت سے خاموش ہیں۔ عام طور پر ان دونوں راویوں کے درمیان سماع کا تعلق ثابت ہے، لیکن جس طرح سند میں "یَذْکُرُ عَنْ" کے الفاظ آئے ہیں، اس سے یہ ابہام پیدا ہوتا ہے کہ شاید قتیبہ رحمہ اللہ نے یہ بات کسی اور ذریعے سے نقل کی ہو۔ اس ابہام کی وجہ سے سند میں انقطاع آ جاتا ہے، اور منقطع روایت محدثین کے اصولوں کے مطابق ضعیف اور ناقابلِ حجت ہوتی ہے۔
دوسرا جواب: روایت میں امام ابو یوسف پر کوئی علمی اعتراض نہیں
دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس پوری روایت میں چاہے اسے کسی بھی زاویے سے دیکھا جائے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی فقاہت، حدیث فہمی، استدلال کی قوت یا حافظے پر کوئی جرح نہیں کی گئی۔ ہمارے مخالفین جرح و تعدیل کے میدان میں اس روایت سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ جرح معتبر اسی وقت ہوتی ہے جب وہ علمی بنیادوں پر ہو، نہ کہ محض ایک ملاقات کی کیفیت سے۔
تیسرا جواب: بالفرض سند صحیح مان لیں تو بھی اعتراض بے معنی ہے
بالفرض اگر اس روایت کی سند کو صحیح تسلیم بھی کر لیا جائے تو بھی جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اس سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی فقاہت یا حدیث پر کوئی حرف نہیں آتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی طرف خلیفہ کے سامنے توجہ نہ فرمائی۔
اور اس کی وجہ بھی تاریخ میں واضح ہے وہ یہ کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ کے بعض مسائل کی تردید میں ایک کتاب الرد على مالك بن أنس تصنیف فرمائی تھی (الفهرست - ت أيمن السيد ٢/٢٠ — ابن النديم)۔ یہ علمی اختلاف تھا جو دونوں اماموں کے درمیان موجود تھا۔ ایسی صورتحال میں اگر بالفرض امام مالک رحمہ اللہ کی طرف سے کوئی ناراضگی کا اظہار ہوا بھی ہو تو یہ معاصرانہ چشمک کے دائرے میں آتا ہے، جو ائمہ کے مابین اجتہادی اختلافات کے نتیجے میں پیدا ہوتی رہی ہے اور جس کا جرح و تعدیل کے علم سے کوئی تعلق نہیں۔
علمائے جرح و تعدیل کا یہ متفق علیہ اصول ہے کہ معاصر کی جرح معتبر نہیں ہوتی جب تک کہ اس کے پیچھے واضح علمی سبب نہ ہو۔ چنانچہ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہ روایت ہمارے مخالفین کے لیے کسی بھی پہلو سے مفید نہیں، بلکہ یہ ان کے ہاتھ میں ایک بے دھار تلوار ہے جس سے وہ خود کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
چوتھا جواب: روایت کو صحیح ماننے کا ایک ناگزیر لازمہ
اس روایت کے سلسلے میں ایک اور نہایت اہم پہلو قابلِ غور ہے جسے ہمارے مخالفین نظرانداز کر دیتے ہیں۔ روایت میں امام مالک رحمہ اللہ کے یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں: "جب تم مجھے اہلِ باطل کی مجلس میں بیٹھا دیکھو تو آ کر مجھ سے پوچھنا۔"
اگر یہ روایت صحیح مان لی جائے تو اس سے ایک نہایت سنگین لازمہ نکلتا ہے وہ یہ کہ امام مالک رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر امام کے ہاں دو قسم کی مجالس ہوا کرتی تھیں: ایک حق کی مجلس اور دوسری اہلِ باطل کی مجلس! یہ بات واضح طور پر ان کے مقام و مرتبے کے خلاف اور ان کی عظمت کے منافی ہے۔اس طرح ہمارے وہ مخالفین جو اس روایت کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے خلاف پیش کرتے ہیں، درحقیقت خود امام مالک رحمہ اللہ کی توہین اور گستاخی کے مرتکب ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اس عظیم امام کے ہاں باطل اہل کی محفلیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ یہ نتیجہ سراسر باطل اور امامِ دارالہجرہ کی شانِ رفیعہ کے قطعاً منافی ہے۔ لہٰذا یہ روایت اپنے مفہوم اور مضمون کے اعتبار سے بھی ناقابلِ قبول ہے۔
خاتمہ
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے خلاف جو روایت پیش کی جاتی ہے وہ ہر پہلو سے ناقابلِ اعتماد ہے۔ سند کے لحاظ سے منقطع اور ضعیف ہے۔ مضمون کے لحاظ سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی علمی شخصیت پر کوئی زد نہیں ڈالتی۔ اصولِ جرح و تعدیل کے لحاظ سے معاصرت کی وجہ سے ناقابلِ حجت ہے۔ اور منطقی لحاظ سے اسے صحیح ماننے پر خود امام مالک رحمہ اللہ کی عظمت مجروح ہوتی ہے۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مقام و مرتبہ اس سے کہیں بلند و بالا ہے کہ اس قسم کی بے بنیاد روایات ان کی شان کو چھو بھی سکیں۔ وہ وہی ہستی ہیں جن کی تعریف خود ان کے معاصر اہلِ علم نے فرمائی، جنہوں نے فقہِ اسلامی کو ایک منظم شکل دینے میں اپنی تمام صلاحیتیں صرف کیں، اور جن کا علمی ورثہ آج بھی ملتِ اسلامیہ کی رہنمائی کر رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ائمہ کرام کی صحیح قدر و منزلت پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے، ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کا شرف بخشے، اور ہمیں ہر اس فتنے سے محفوظ رکھے جو ان عظیم ہستیوں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ آمین یا رب العالمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں