جوزجانی ناصبی کی ائمہ احناف رحمہم اللہ پر جرح کا علمی رد
ابو اسحاق جوزجانی کا شمار ان نقادین میں ہوتا ہے جن کے قلم سے کوفہ کے ائمہ کے حق میں صرف زہر ہی نکلا ہے۔ اس نے اپنی کتاب "احوال الرجال" میں ائمہ احناف رحمہم اللہ کے متعلق جو یہ نازیبا کلمات کہے کہ «قد فرغ الله منهم» (اللہ ان سے فارغ ہو چکا ہے)، یہ جرح علمِ اسماء الرجال کے میزان پر قطعی مردود اور باطل ہے۔
٩٦ - أسد بن عمرو
٩٧ - وأبو يوسف
٩٨ - ومحمد بن الحسن
٩٩ - واللؤلؤي قد فرغ الله منهم (أحوال الرجال ص ١٢٠ ، الكامل في ضعفاء الرجال ٢/٨٣)
جواب : امام ابن حجر عسقلانیؒ نے صراحت فرمائی ہے کہ جوزجانی کا دل اہل کوفہ اور حبِ علیؓ رکھنے والوں کے خلاف بغض و عصبیت سے لبریز تھا، لہٰذا اس کی ایسی جرح ناقابلِ قبول ہے (لسان الميزان 1/16)۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
اعتراض نمبر 20 : محمد بن جابر اليمامى نے کہا کہ ابو حنیفہ نے مجھ سے حماد کی کتابیں چوری کیں ۔
جب ایک نقاد کا معیارِ جرح "تقویٰ و دیانت" کے بجائے "بغض و عصبیت" بن جائے، تو اس کی رائے ردی کے ٹوکرے کی نذر کر دی جاتی ہے۔ لہٰذا امام اسد بن عمرو اور قاضی ابو یوسف جو امام ابن معین کے نزدیک ثقہ، جبکہ امام احمد کے نزدیک صدوق درجہ کے ہیں، ان کی ثقاہت جوزجانی کی جرح سے مجروح نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح امام محمد بن حسن الشیبانی جن کی فصاحت و فقاہت پر امام شافعیؒ نے مہرِ تصدیق ثبت کی، ان کی توصیف پر جوزجانی جیسے ناصبی کی جرح سراسر ظلم ہے۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں