نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

دفاعِ امام ابو یوسف رحمہ اللہ: قاضی شریک کی جرح کا علمی محاکمہ اور حقیقتِ ارجاء


دفاعِ امام ابو یوسف رحمہ اللہ: قاضی شریک کی جرح کا علمی محاکمہ اور حقیقتِ ارجاء


امامِ اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے لائق و فائق اصحاب کی پوری زندگی اعتدال، حلم،  علم و تقویٰ، فقہی بصیرت اور حق گوئی کا ایسا حسین سنگم ہیں جس کی نظیر تاریخِ اسلام میں کم ہی ملتی ہے۔ فقہِ حنفی کے ان جلیل القدر ائمہ نے دین کی جو خدمت کی، اس نے چودہ صدیوں سے امت کی رہنمائی کی ہے۔ تاہم، یہ ایک انسانی پہلو ہے کہ معاصرانہ چشمک یا فکری نزاعات کی بنا پر بعض اوقات جلیل القدر شخصیات کے درمیان سخت کلامی یا غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے متعلق پیش کی جاتی ہے جس کی حقیقت کو سمجھنا ایک طالبِ علمِ حق کے لیے نہایت ضروری ہے۔

روایت کا متن 

زیرِ بحث روایت میں آتا ہے: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ آدَمَ يَقُولُ: شَهِدَ أَبُو يُوسُفَ عِنْدَ شَرِيكٍ فَرَدَّ شَهَادَتَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: رَدَدْتَ شَهَادَةَ أَبِي يُوسُفَ؟، قَالَ: لَا، أَرُدُّ شَهَادَةَ مَنْ يَزْعُمُ أَنَّ الصَّلَاةَ لَيْسَتْ مِنَ الْإِيمَانِ؟

یحییٰ بن آدم بیان کرتے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے قاضی شریک کے سامنے گواہی دی، تو انہوں نے ان کی گواہی رد کر دی۔ میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے ابو یوسف کی گواہی رد کر دی؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں اس شخص کی گواہی رد کرتا ہوں جو یہ گمان رکھتا ہے کہ نماز ایمان کا حصہ نہیں ہے۔ (الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/‏٤٣٨)

جواب: 

 اس روایت میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی شہادت (گواہی) رد کرنے کی جو وجہ قاضی شریک بن عبداللہ النخعی نے بیان کی، وہ ان کا "زعمِ ارجاء" تھا۔  اسی نوع کی روایات ہمیں امام محمد بن حسن الشیبانی کے بارے میں بھی ملتی ہیں کہ قاضی شریک نے ان کی گواہی بھی رد کی (الطيوريات ١/‏٢٤٣ )، بلکہ وہ ہر اس شخص کی گواہی رد کر دیتے تھے جس کے بارے میں وہ یہ سمجھتے کہ وہ “ارجاء” کا قائل ہے، جیسا کہ ہمارے مخالفین خود بھی اس قسم کی روایات پیش کرتے ہیں (الثقات لابن حبان ٩/‏١٣٨ , (٥) السنة لعبد الله (٩٣) ۔ لیکن یہ جرح قابلِ قبول نہیں ہے، اس کی چند اہم وجوہات ہیں:

قاضی شریک کا عناد اور مسلکی تصلب

اولاً یہ بات ملحوظ رہے کہ قاضی شریک بن عبداللہ النخعی، احناف کے معاملے میں ان کا رویہ نہایت سخت اور متعصبانہ تھا (تاريخ ابن معين - رواية الدوري ٣/‏٣٠٤ )  مزید تفصیل کیلئے دیکھیں  "النعمان سوشل میڈیا سروسز "  کی ویب سائٹ پر موجود

 وہ منصبِ قضا پر فائز تھے اور اس دور میں کوفہ کے فقہاء کے درمیان فروعی و اصولی اختلافات بعض اوقات علمی حدوں کو پار کر جاتے تھے۔ قاضی شریک نہ صرف امام ابو یوسف بلکہ امام محمد بن حسن الشیبانی کی گواہی بھی اسی بنیاد پر رد کر دیتے تھے۔ کسی کی گواہی رد کر دینا اس کے غیر ثقہ ہونے کی دلیل نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات قاضی کے اپنے "اجتہاد" یا "ذاتی میلان" کا نتیجہ ہوتا ہے، جو یہاں واضح طور پر نظر آتا ہے۔

"ارجاء" کی حقیقت اور لغوی مغالطہ

قاضی شریک نے گواہی رد کرنے کی وجہ "ارجاء" کو قرار دیا۔ یہاں یہ نکتہ سمجھنا ایمان کا حصہ ہے کہ ارجاء کی دو قسمیں ہیں:

  • ارجاء اہلِ بدعت: یہ وہ باطل عقیدہ ہے جس میں عمل کو کلی طور پر ایمان سے خارج کر کے اسے بے فائدہ سمجھا جاتا ہے (یعنی گناہ سے ایمان کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا)۔ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف اس سے کوسوں دور تھے۔

  • ارجاء اہلِ سنت : اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ "ایمان" لغوی طور پر تصدیق اور اقرار کا نام ہے، اور اعمال اس کے کمال کا حصہ ہیں، نفسِ ایمان کا نہیں۔ امامِ اعظم اور ان کے تلامذہ اسی موقف پر تھے تاکہ مسلمانوں کی تکفیر کے دروازے بند کیے جا سکیں۔

 مزید مکمل تفصیل کیلئے ، اس لنک پر کلک کریں۔



اعتراض نمبر 40 : مرجئہ اہل سنت اور مرجئہ اہل بدعت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر جرح: ایک تحقیقی جائزہ


اعتراض نمبر5 :امام اعظم ابو حنیفہ سے عقیدہ خلق قرآن کی تردید اور فرقہ جھمیہ کی تردید کا ثبوت


اعتراض نمبر 21: کہ ابو مسہر نے کہا کہ ابو حنیفہؒ مرجٸہ کے سردار ہیں


اعتراض نمبر 22: کہ امام ابو حنیفہ دوسروں کو مرجئہ بننے کی دعوت دیتے تھے۔


اعتراض نمبر 23: کہ امام ابو یوسف نے کہا کہ ابو حنیفہ مرجئہ اور جہمیہ میں سے تھے


درج بالا مضامین سے یہ بات بخوبی معلوم ہو جاتی ہیکہ امام صاحب باطل فرقہ مرجئہ سے نہ تھے ، اور مرجئہ اہل السنت میں اہل السنت کے بڑے بڑے اہل علم تھے جیسا کہ امام ذہبی نے لکھا ہے  مسعر بن كدام حجة إمام، ولا عبرة بقول السليماني: كان من المرجئة مسعر وحماد بن أبي سليمان والنعمان وعمرو بن مرة وعبد العزيز بن أبي رواد وأبو معاوية وعمرو بن ذر...، وسرد جماعة. قلت: الارجاء مذهب لعدة من جلة العلماء لا ينبغي التحامل على قائله  ( میزان 4/99 )  یہی وہ بنیادی فرق ہے جسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ 

شاگردوں کی عدمِ فہم اور تعصب کا اثر

جب یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے تو ایک اور پہلو سامنے آتا ہے کہ خود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے زمانے میں بھی ان کے بعض قریبی اصحاب اس مسئلے کی پوری گہرائی کو نہ سمجھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں عبد اللہ بن مبارک اور وکیع بن جراح جیسے جلیل القدر اہلِ علم کی طرف سے اس باب میں کچھ ناگواری کے آثار ملتے ہیں، حالانکہ وہ فقہ میں امام ابو حنیفہ کے شاگرد تھے۔ جب قریبی تلامذہ ہی اس دقیق مسئلے کو مکمل طور پر نہ سمجھ سکے، تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو پہلے ہی تعصب رکھتے تھے، جیسے ابن ادریس یا قاضی شریک۔  ابن ادریس یا قاضی شریک نے اس "لفظی نزاع" کو  گمراہی سمجھ لیا، جو ان کی علمی خطا تھی۔

علمِ جرح و تعدیل کے مسلمہ اصولوں کے مطابق، محض “ارجاء” کے الزام کی بنیاد پر کسی کی روایت یا عدالت کو ساقط قرار دینا درست نہیں، جب تک کہ وہ بدعت مکفرہ یا صریح گمراہی تک نہ پہنچے۔ اسی لیے امام ذہبی رحمہ اللہ نے واضح کیا کہ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب پر اس بنیاد پر کیا جانے والا کلام باطل اور مردود ہے۔

منصبِ الہیٰ اور اللہ کی تائید

مزید برآں، اللہ تعالیٰ نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو ایسی عزت و رفعت عطا فرمائی کہ جن لوگوں کے نزدیک ان کی گواہی بھی قابلِ قبول نہ تھی، اللہ نے انہی کے اوپر انہیں “قاضی القضاۃ” کے منصب پر فائز فرما دیا۔ یہ محض اللہ کا فضل اور اس کی حکمت ہے، ورنہ خلیفۂ وقت کسی اور کو بھی اس منصب پر مقرر کر سکتا تھا۔ مگر اس نے علم، فقہ اور اہلیت کی بنیاد پر امام ابو یوسف کو اس منصب کے لیے منتخب کیا۔ یہی نہیں بلکہ ان کے بعد یہی منصب امام محمد بن حسن الشیبانی کو بھی پیش کیا گیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان حضرات کی علمی عظمت اور قابلیت کو سرکاری اور علمی دونوں سطحوں پر تسلیم کیا گیا۔

ایک فیصلہ کن سوال

ہمارے ناقدین (خصوصاً غیر مقلدین) سے سوال ہے کہ: امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی صحیحین میں درجنوں ایسے راویوں سے احادیث لی ہیں جو "مرجئہ" مشہور تھے۔ اگر ارجاء کی نسبت سے حدیثِ رسول ﷺ لی جا سکتی ہے، تو اسی ارجاء (اہلِ سنت) کی نسبت رکھنے والے امام ابو یوسف کی دنیاوی معاملات میں گواہی کیوں رد کی گئی؟ کیا یہ کھلا تعصب نہیں کہ حدیث قبول ہے مگر گواہی قبول نہیں؟

خلاصہ کلام

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جہمی ہونے یا باطل مرجئہ ہونے کے تمام الزامات کذبِ صریح اور تاریخ کا ملبہ ہیں۔ امام صاحب نے خود فرقہ جہمیہ کی تردید فرمائی۔ قاضی شریک کی جرح محض ایک فکری جمود اور مسلکی غصے کا اظہار تھی جس کی حیثیت اصولِ جرح و تعدیل میں "صفر" ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حقائق کو مسلکی چشمے کے بجائے انصاف کی نظر سے دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...