نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں



الحمد للّٰہ ربّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔

امامِ اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  کے گلستانِ علم کے خوشہ چینوں میں امام قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ وہ آفتابِ نیم روز ہیں جنہوں نے فقہِ حنفی کی تدوین و ترویج میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کی ثقاہت اور عظمتِ کردار پر امت کا سوادِ اعظم متفق ہے، مگر افسوس کہ بعض ناقدین کی کج فہمی یا مسلکی تصلب کی بنا پر ان کی ذات پر رکیک حملے کیے جاتے ہیں۔

امام دارقطنی کے اقوال

 ذیل میں امام دارقطنی رحمہ اللہ کی جانب سے کی گئی تنقید کا علمی، منصفانہ اور مدلل جائزہ پیش کیا جاتا ہے :

• قال البَرْقانِيّ: سألت الدَّارَقُطْنِيّ عن أبي يوسف، صاحب أبي حنيفة. فقال: هو أقوى من محمد بن الحسن. (٥٦٧)

برقانی کہتے ہیں کہ میں نے دارقطنی سے امام ابو حنیفہ کے صاحب (شاگرد) ابو یوسف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: "وہ محمد بن حسن سے قوی ہیں۔"


• وقال السُّلَمِيُّ: قال الدَّارَقُطْنِيّ: أبو يوسف، ومحمد بن الحسن في حديثهما ضعف. (٣٠٢)

سلمی کی روایت ہے کہ دارقطنی نے فرمایا: "ابو یوسف اور محمد بن حسن، دونوں کی حدیث میں ضعف ہے۔"


• وقال القاضي أبو الطيب طاهر بن عبد الله الطبري: سَمِعْتُ أبا الحسن الدَّارَقُطْنِيّ سئل عن أبي يوسف القاضي، فقال: أعور بين عميان، وكان القاضي أبو عبد الله الصيمري حاضرًا فقام فانصرف، ولم يعد إلى مجلس الدَّارَقُطْنِيّ بعد ذلك۔ «تاريخ بغداد» ١٤/٢٦٠

قاضی ابو الطیب طبری بیان کرتے ہیں کہ امام دارقطنی سے امام ابو یوسف کے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے (نہایت سخت کلمہ استعمال کرتے ہوئے) کہا: "وہ اندھوں کے درمیان ایک آنکھ والے (اعور) کی مانند ہیں۔" اس مجلس میں قاضی ابو عبد اللہ صیمری موجود تھے، وہ اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ مجلس چھوڑ کر چلے گئے اور دوبارہ کبھی دارقطنی کی محفل میں شریک نہ ہوئے۔  (موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني في رجال الحديث وعلله ٢/‏٧٢٥)


مسلکی پس منظر 

ان تنقیدی کلمات کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ بنیادی نکتہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ فقہی طور پر مسلکِ شافعی سے وابستہ تھے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، بلکہ خود غیر مقلدین کے اکابر نے اس کا اعتراف کیا ہے۔، اور ہم یہاں صرف دو حوالے پیش کرتے ہیں۔  شیخ ابو الاشبال شاغف لکھتے ہیں: ’’ بیہقی اور دار قطنی وغیرہ جو امام شافعی کے مقلدین شمار ہوتے ہیں، ان کی تصانیف میں اپنے مقلَّد امام کی ترجمانی کو مقدم رکھا گیا ہے لہذا ان سے فائدہ اُٹھانا آسان نہیں ہے۔ ‘‘  ( مقالاتِ شاغف صفحہ ۱۶۲) 

اسی طرح غیر مقلد علامہ عراقی لکھتے ہیں: امام دارقطنی ؒ کا مسلک: امام دارقطنی ؒ شافعی المذہب تھے۔لیکن ان کا شمار اس مذہب کے صاحب وجوہ فقہاء میں ہوتا ہے۔اور صاحب وجوہ فقہاء وہ کہلاتے ہیں جنھوں نے اپنے ائمہ کے مذاہب کی تکمیل اور ان سے منسوب مختلف روایات کے درمیان تطبیق وترجیح اور اُن کے وجود علل واضح کئے ہون اس لئے مورخ ابن خلکان(م681ھ) آپ کو "فقيها على مذهب الشافعى" لکھا ہے۔ (شمارہ: محدّث، تذکرہ امام ابو الحسن دارقطنی ؒ اور اُن کی علمی خدمات، عبدالرشید عراقی، نومبر 1989ء)

 قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود



مسلکی تعصب اور جرح کی حیثیت

تاریخِ فقہ میں یہ بات مسلم ہے کہ مسلکی چشمک اور معاصرانہ رقابت کی بنا پر بعض اوقات اکابر کی زبان سے ایسے کلمات صادر جو ان کے مرتبے سے میل نہیں کھاتے۔ مسلکی عصبیت یا میلان کی بنا پر کی جانے والی ایسی جرح محدثین کے مسلمہ اصولوں کے مطابق "مردود" اور غیر مقبول ٹھہرتی ہے۔

غیر مقلدین کے تضادات

حیرت بالائے حیرت یہ ہے کہ وہ طبقہ جو تقلید کو بدعت، حرام اور (معاذ اللہ) شرک سے تعبیر کرتا ہے، وہی طبقہ امام ابو یوسف جیسے جبلِ استقامت پر جرح کے لیے ایک ایسے امام (دارقطنی) کا سہارا لیتا ہے جو خود ان کے بقول "مقلد" اور "صاحبِ وجوہ شافعی" تھے۔ اگر تقلید گمراہی ہے، تو ایک "مقلد" کی جرح کسی دوسرے کے خلاف حجت کیسے بن گئی؟

اصولِ جرح و تعدیل کی روشنی میں جرح کا محاکمہ

علمِ جرح و تعدیل کا یہ قاعدہ ہے کہ "جرحِ مبہم" یا "غیر مفسر جرح" توثیقِ جمہور کے مقابلے میں ہیچ ہے۔ امام دارقطنی نے امام ابو یوسف کو "ضعیف" تو کہا، مگر اس ضعف کی کوئی  وجہ یا علت بیان نہیں کی۔ دوسری طرف امام ابو یوسف کی ثقاہت پر یحییٰ بن معین، ابن حبان اور امام نسائی جیسے "متشدد" ناقدین کی مہرِ تصدیق ثبت ہے۔  خود غیر مقلدین  کا مسلم قاعدہ ہے کہ محض کسی کو “ضعیف” کہہ دینے سے وہ راوی فی الواقع ضعیف نہیں ہو جاتا، جب تک اس کی وجہ بیان نہ کی جائے۔ غیر مقلد اہلحدیثوں کے محقق زبیر علی زئی لکھتا ہے :

" صرف ضعیف یا متروک یا منکر الحدیث کہہ دینا جرح مفسر نہیں ہے۔ " ( رکعتِ قیامِ رمضان کا تحقیقی جائزہ: ص43 )
 اور جرح غیر مفسر ، راوی کی ثقاہت کو مضر نہیں۔ غیر مقلد عبدالرحمن مبارکپوری لکھتے ہیں : 
جرح مبہم مضر نہیں۔  (ملخصا ابکار المنن ص ۸۰)
غیر مقلد نذیر رحمانی لکھتے ہیں:
غیر مفسر اور مبہم جرحوں کا اعتبار نہ ہوگا۔ (انوار المصابیح ص ۱۳۸)
غیر مقلد ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں:
غیر مفسر جرح قابل قبول نہیں۔ (توضیح الکلام ص ۴۳۸)
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں
اس پر معمولی کلام ہے غیر مفسر ہونے کی بنیاد پر مردود ہے۔ (پرویزی تشکیک کا علمی محاسبہ ص ۱۸۸)
غالی غیر مقلد رئیس ندوی لکھتا ہے:
تجریح مبہم غیر مقبول ہے۔  (سلفی تحقیقی جائزہ ص ۲۳۱)

دلچسپ بات یہ ہے کہ خود غیر مقلدین کے نزدیک امام دارقطنی ایک "متشدد" ناقد ہیں(جرح وتعدیل : محمد ابراہیم بن بشیر الحسنوی ، ص 60  ، دار ابن بشیر للنشر والتوزیع) اور خود ان کا یہ اصول ہے کہ: "متشدد کی جرح غیر مقلدین کے نزدیک غیر مقبول ہے۔" (دین الحق: ج: 1، ص: 366جب امام ابو یوسف کی توثیق جمہور ائمہ سے ثابت ہو، تو ایک متشدد اور مسلکی حریف کی غیر مفسر جرح کی حیثیت پرکاہ کے برابر بھی نہیں رہتی۔

 قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


سلسلہ دفاع علمائے احناف : سلسلہ دفاع قاضی ابو یوسف ؒ


"اعور بین عمیان" کی حقیقت اور منطقی جواب

امام دارقطنی رحمہ اللہ کا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی شان میں یہ کہنا کہ وہ "اندھوں کے درمیان ایک آنکھ والے کی مانند تھے"، علمی تنقید کے پیمانے پر پورا اترنے کے بجائے ایک جذباتی اور منطقی تضادات سے بھرپور کلام معلوم ہوتا ہے۔ ذرا اس جملے کی گہرائی میں اتر کر دیکھیے کہ اس کی زد کہاں کہاں پڑتی ہے:

۱) امام شافعی رحمہ اللہ کی علمی بنیادوں پر زد: یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے امام محمد بن حسن الشیبانی رحمہ اللہ سے اس قدر علم حاصل کیا کہ وہ خود فرماتے تھے: "میں نے امام محمد سے اتنا علم حاصل کیا کہ اس سے ایک اونٹ کا بوجھ بھر جائے"۔ اب یہاں ایک نہایت دلچسپ اور عبرت ناک صورتحال پیدا ہوتی ہے:

  • امام دارقطنی، امام شافعی کے مقلد ہیں۔

  • امام شافعی، امام محمد بن حسن الشیبانی کے شاگرد ہیں۔

  • اور امام محمد بن حسن الشیبانی، امام ابو یوسف کے ساتھی اور امام اعظم کے شاگرد ہیں۔

اگر بقولِ دارقطنی، امام ابو یوسف اور امام محمد (نعوذ باللہ) "اندھوں" کی صف میں شامل ہیں، تو کیا امام دارقطنی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کے اپنے امام (امام شافعی) نے "اندھوں" سے علم حاصل کیا؟ اگر استاد اندھا ہو تو شاگرد کی بینائی کا کیا عالم ہوگا؟ یہ ایک ایسی منطقی خلیج ہے جسے کوئی بھی ذی شعور پار نہیں کر سکتا۔

۲) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی امامت کا استخفاف: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر محدث، امام ابو یوسف کے براہِ راست شاگرد ہیں۔ اگر امام ابو یوسف کو "اعور" (کانا) اور ان کے پورے علمی ماحول کو "عمیان" (اندھے) قرار دیا جائے، تو اس کا صاف مطلب یہ نکلتا ہے کہ امام احمد بن حنبل کی پوری علمی تربیت اسی (بقولِ دارقطنی) "نابینا گروہ" کے سائے میں ہوئی ہے۔ کیا دنیا کا کوئی منصف مزاج انسان یہ تسلیم کرنے کو تیار ہوگا کہ سنتِ نبوی کے اتنے بڑے پاسبان نے "اندھوں" سے بصیرت حاصل کی تھی؟

۳) ایک مضحکہ خیز تضاد: کتنی عجیب بات ہے کہ امام دارقطنی جس امام (شافعی) کی تقلید کا دم بھرتے ہیں، وہ امام خود احناف کی علمی جلالت کا معترف ہے، مگر ان کا مقلد (دارقطنی) اسی سرچشمہِ علم کی توہین کر رہا ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ شاگرد اپنے استاد کے اساتذہ کی آنکھیں گننے بیٹھ گیا ہے، جبکہ خود اسی کے علم کا خمیر ان کے فیضان سے اٹھا ہے۔

۴) علمی دیانت کا تقاضا: حقیقت یہ ہے کہ جب تعصب عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے، تو انسان ایسی غیر محتاط باتیں کر جاتا ہے جو خود اس کے اپنے مسلکی اصولوں اور اساتذہ کی تاریخ کو منہدم کر دیتی ہیں۔ امام دارقطنی کا یہ جملہ علمی نقد نہیں بلکہ ایک "جذباتی دھماکہ" ہے، جسے امام صیمری رحمہ اللہ جیسے اہل بصیرت نے اسی وقت مسترد کر دیا تھا۔ جس شخصیت (امام ابو یوسف) کے علم سے امام شافعی اور امام احمد جیسے ائمہ نے چراغ روشن کیے ہوں، انہیں "اعور" کہنا دراصل اپنی بصارت کے فقدان کا اعتراف کرنا ہے۔

تعبیر محض ایک مسلکی تساہل: یہ تعبیر محض ایک مسلکی تساہل ہے جسے تاریخ کبھی قبول نہیں کرے گی۔ امام ابو یوسف وہ مینارہِ نور ہیں جن کی روشنی سے امام شافعی اور امام احمد کے علمی ایوان آج بھی جگمگا رہے ہیں۔ امام دارقطنی کا یہ قول ان کے اپنے علم و تقویٰ کے لیے ایک بدنما داغ تو ہو سکتا ہے، مگر امامِ ممدوح کی جلالتِ شان کو اس سے ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔


 قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


سلسلہ دفاع امام محمد ، قسط نمبر1 : الفضل الربانی فی حیاۃ الامام محمد بن الحسن الشیبانی امام محمد بن الحسن الشیبانی ؒ (م۱۸۹؁ھ) کا مقام و مرتبہ ائمہ و علماء کی نظر میں (مکمل ) -حافظ ظہور احمد الحسینی حفظہ اللہ


پیش لفظ: سلسلۂ تعریف و توثیقِ امام ابو حنیفہؒ : علمِ حدیث کے اُفق پر چمکتا ستارہ: تابعی، ثقہ، ثبت، حافظ الحدیث، امام اعظم ابو حنیفہؒ


اعتراض نمبر 35 : امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جرح 


حاصلِ کلام

ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ائمہ محدثین بشر تھے، معصوم عن الخطا نہیں تھے۔ ان کے اقوال وحیِ الٰہی نہیں کہ جن پر تنقید نہ ہو سکے۔ تاریخ شاہد ہے کہ بڑے بڑے اکابر سے بشری تقاضوں کے تحت سخت کلمات صادر ہوئے، جنہیں بعد کے محققین نے ان کا "تساہل" قرار دے کر رد کر دیا۔

امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی ثقاہت، دیانت اور امانت پر امت کا اجماع ہے۔ ان کا فقہی ملکہ اور حدیث پر دسترس وہ حقیقت ہے جسے سورج کی طرح جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ امام دارقطنی کی جرح ان کے مخصوص مسلکی پس منظر اور تشددِ مزاج کا نتیجہ ہے، جو جمہور کی توثیق کے سامنے قطعی طور پر ناقابلِ التفات ہے۔

اللہ رب العزت ہمیں ائمہ حق کی سچی محبت اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں تعصب  سے محفوظ رکھے۔ آمین۔



تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...