مفتی رب نواز حفظہ اللہ ، احمد پور شرقیہ
محدثین کرام ’’مقلد ‘‘ تھے ،مدعیان اہلِ حدیث کی گواہیاں
"ماخوذ از مجلہ رہِ ہدایت، شمار نمبر 43"
حدیث کی خدمت کرنے والے محدثین میں سے کچھ تو مجتہدین تھے اور کچھ ائمہ اربعہ میں سے کسی کے مقلد ۔ مگر کچھ لوگوں نے دعوی کیا کہ محدثین تقلید کے قائل نہ تھے مثلاً
شیخ زبیر علی زئی نے دعویٰ کیا:
’’ایک محدث بھی مقلد نہ تھا۔ ‘‘
(اوکاڑوی کا تعاقب صفحہ۵۲ )
مولاناعبد الصمدلکھتے ہیں:
’’یاد رہے کہ محدثین سے مراد وہی محدثین ہیں جو اَہلِ علم کے ہاں تسلیم شدہ ہیں ، ان میں تین خوبیاں لازماً ہوتی ہیں : فن پر مکمل عبور ہو۔ احادیث ِنبوی سے دلی محبت ہو ۔ تقلید کے ہاتھوں مجبور نہ ہو ، بلکہ حق واضح ہو جانے پر اسے کھلے دل سے تسلیم کرے۔اگر ان میں سے ایک خوبی بھی ختم ہو جائے تو ایسا شخص احادیث نبویہ کے ساتھ صحیح انصاف نہیں کر سکتا ، تب بہتر ہے کہ وہ محدثین کرام کی صف سے پرے کسی او رعلمی حلقے میں بیٹھ جائے۔‘‘
( اشاعۃ الحدیث حضرو ،اشاعتِ خاص بیاد شیخ زبیر علی زئی صفحہ ۳۲۵)
یہ عبارتیں پڑھنے کے بعد اَب مدعیان ِ اہلِ حدیث کی گواہیاں پڑھیں ۔انہوں نے کھلے لفظوں میں تسلیم کیا کہ واقعۃً محدثین کرام ’’مقلد ‘‘ تھے ۔
شوافع اور احناف نے فن حدیث میں تصنیفات کیں
مولانا محمد اسماعیل سلفی نے اپنے مضمون ’’ تحریک اہلِ حدیث کا مد وجزر اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ؒکی تجدیدی مساعی کے اثرات ‘‘ میں شاہ ولی اللہ کی عبارت نقل کرکے ترجمہ کیا :
’’ملاء اعلیٰ کی طرف سے میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ امام ابوحنیفہ ؒ اور امام شافعی ؒ دونوں ائمہ کے مذاہب امت میں مشہور ہیں اورکثر ت اتباع اور کثرت تصنیف کے لحاظ سے مشہور ہیں اور جمہور فقہاء ، محدث ، مفسر اور متکلم اور صوفی شافعی مذہب کے پابند تھے ، او راکثر بادشاہ اوریونان کے رہنے والے حنفی مسلک کے پابند تھے ...معلوم رہے کہ دونوں مذاہب کے اہلِ علم نے فن حدیث میں تصنیفات کی ہیں ۔‘‘
( ہفت روزہ الاعتصام لاہور۲۶؍جنوری ،۱۹۶۲ء صفحہ۵)
علامہ شاطبی رحمہ اللہ وغیرہ محدثین
علامہ شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ فتاوی المجتهدین بالنسبة الی العوام کالادلة الشرعیة بالنسبة الی المجتهدین والدلیل علیه ان وجود الادلة بالنسبة الی المقلدین وعدمها سواء اذ کانوا لا یستفیدون منها شیئا فلیس النظر فی الادلة والاستنباط من شانهم ولا یجوز ذلک لهم البتة وقد قال تعالی فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون والمقلد غیر عالم فلایصح له الا سوال اهل الذکر والیهم مرجعه فی احکام الدین علی الاطلاق فهم اذا القائمون له مقام الشرع واقوالهم قائمة مقام الشرع ‘‘
( الموافقات :۴؍۲۹۲)
یعنی مجتہدین کے فتاوی جات عام لوگوں کی بہ نسبت شرعی دلائل کی مانند ہیں ، اس کی دلیل یہ ہے کہ مقلدین کے لیے دلائل کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے ،کیونکہ وہ اس سے مستفید نہیں ہو سکتے ، کیونکہ دلائل کو دیکھنا اور ان سے مسائل کا استنباط کرنا ان پڑھ لوں لوگوں کا کام نہیں اور ان کے لیے بالکل یہ جائز نہیں اور پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے :’’ اگر تمہیں علم نہیں تو تم اہلِ علم سے دریافت کر لیا کرو ‘‘اور مقلد چونکہ عالم نہیں ہے، اس لیے اس کے لیے اہلِ علم سے دریافت کرنے کے علاوہ کچھ صحیح نہیں اور مطلقا اہلِ علم ہی احکام دین میں مرجع ہیں، کیونکہ وہ شارع کے قائم مقام ہیں اور ان کے اقوال شرع کے قائم مقام ہیں ۔
مولانا محمد اسماعیل سلفی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ علامہ مرغینانی صاحبِ ہدایہ ، کاسانی مولف بدائع والصنائع اور علامہ سرخسی، قاضی خان، نسفی ابن قدامہ، ابن تیمیہ، علامہ ابو اسحاق، ابراہیم بن علی بن یوسف صاحب مہذب، اسی طرح زرقانی اور باجی، ابن رشد، شاطبی وغیرہم سب اپنے ائمہ کے مذاہب کو روایت اور درایت کی روشنی میں ثابت کرتے ہیں ان کے طریق استدلال سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کے محقق ہونے میں شبہ نہیں کیاجا سکتا ۔‘‘
( تحریک آزادئ فکر صفحہ ۱۹۸)
محدثین کی تقلید ی ذہنیت
حکیم فیض عالم صدیقی نے احادیث بخاری کا رد کرتے ہوئے لکھا:
’’ ان محدثین، ان شارحین ِ حدیث، ان سیرت نویس اور ان مفسرین کی تقلیدی ذہنیت پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے جو اتنی بات کا تجزیہ یا تحقیق کرنے سے بھی عاری تھے کہ یہ واقعہ سرے سے ہی غلط ہے لیکن اس دینی و تحقیقی جرأت کے فقدان نے ہزاروں المیے پیدا کئے اور پیدا ہوتے رہیں گے۔ ہمارے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح بخاری میں جو کچھ درج فرما دیا وہ صحیح اور لاریب ہے خواہ اس سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت،انبیاء کرام کی عصمت، ازواج مطہرات کی طہارت کی فضائے بسیط میں دھجیاں بکھرتی چلی جائیں کیا یہ امام بخاری کی اسی طرح تقلید جامد نہیں جس طرح مقلدین ائمہ اربعہ کی کرتے ہیں۔ ‘‘
(صدیقۂ کائنات صفحہ ۱۰۵)
حنفیہ محدثین
امام وکیع رحمہ اللہ
ابو معاویہ حافظ عبد الغفور غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’امام وکیع حنفی ۔‘‘
( البیان المحکم صفحہ۶۰، ناشر: مسجد محمدی اہل ِ حدیث فاروقہ تحصیل ساہیوال ضلع
سرگودھا، سن اشاعت: مارچ ۲۰۱۸ء )
امام طحاوی رحمہ اللہ
مولانا ابوالاشبال شاغف لکھتے ہیں:
’’ بیہقی کی تصنیفات اور طحاوی کی تصنیفات خاص اپنے اپنے مذہب کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں ۔گویا خدمت ِ حدیث کی بجائے مذہب و مسلک کی خدمت کو مقدم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگرچہ ان کی کتابوں میں احادیث ِصحیحہ بھی موجود ہیں گویا ان کی تبویب اور تصحیح و تضعیف پر کامل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ۔ ‘‘
( مقالاتِ شاغف صفحہ۱۵۵)
امام طحاوی رحمہ اللہ پر مسلک کو احادیث پر ترجیح کا الزام غلط ہے ۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ وہ حنفی المسلک محدث ہیں ۔اس غرض سے ہم نے مذکورہ عبارت نقل کی ہے ۔
امام زیلعی رحمہ اللہ
علامہ عبد الرشید عراقی غیرمقلد نے مولانا ضیاء الدین اصلاحی کے حوالہ سے امام زیلعی رحمہ اللہ کی کتاب نصب الرایہ کے تعارف میں لکھا:
’’ مصنف نے جہاں اس میں حنفی ائمہ کے امہات کتب سے معلومات و مسائل نقل کئے ہیں وہیں شوافع میں بیہقی،نووی اورابن دقیق العید ، مالکیہ میں ابن عبد البر اور حنابلہ میں ابن جوزی اور ابن عبد الہادی وغیرہ اساطین مذہب کی کتابوں کے مباحث و مندرجات کا بھی منتخب حصہ شامل کر دیا ہے ۔‘‘
(کاروان حدیث صفحہ ۳۳۰)
امام عینی رحمہ اللہ
صحیفہ میں لکھا ہے :
’’ حافظ ابن ِ حجر ، علامہ عینی ، علامہ قسطلانی ، علامہ کرمانی وغیرھم جیسے خدام محدثین جن کا فہرست شارحین حدیث کی صف اول میں شمار ہوتا ہے ۔
(نصرۃ الباری کتاب الصلح دسواں پارہ عکس صحیفہ اہل حدیث ۱۳۹۰ھ یکم رجب المرجب )
شیخ زبیر علی زئی نے ابن الترکمانی اور علامہ عینی رحمہما اللہ تعالی کو ’’ائمہ حدیث‘‘ کی فہرست میں شامل کیا ہے۔(علمی مقالات جلد ۱ صفحہ ۲۶۵)
ائمہ حدیث تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ان دونوں کو حنفی بھی لکھا ہے۔ (توضیح الاحکام جلد ۲صفحہ ۳۲۴)
ملا علی قاری رحمہ اللہ
شیخ خلیل الرحمن چشتی لکھتے ہیں:
’’ملاعلی قاری ؒ (م ۱۰۱۴ھ) اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ (م ۱۰۵۲ھ) ……نے مشکوۃ کی شرحیں لکھی۔ ‘‘
( حدیث کی ضرورت و اہمیت صفحہ۲۵۲)
حافظ بلال اشرف اعظمی غیرمقلدنے ’’علمائے احناف ‘‘ عنوان کے تحت لکھا :
’’محمد ظہیر احسن بن علی النیموی الحنفی ……علی بن سلطان محمد المعروف ملاعلی القاری ……عبد اللہ بن یوسف زیلعی حنفی ۔‘‘
(دو ماہی مجلہ نور الحدیث لاہور،مارچ و اپریل ۲۰۲۴ء ،شمارہ:۳۶ صفحہ ۷۵،۷۶)
مالکیہ محدثین
امام ابن عبدالبررحمہ اللہ مالکی محدث تھے
امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ فَاِنَّ الْعَامَةَ لَا بُدَّ مِنْ تَقْلِیْدِ عُلَمَاءِ هَا عِنْدَ النَّازِلةَ ، رہے عوام تو ان پر پیش آمدہ مسئلہ میں ان کے علماء کی تقلید ضروری ہے ۔ ‘‘
(جامع بیان العلم وفضلہ :۲؍۱۱۴)
آگے فرماتے ہیں:
’’ وَلَمْ تَخْتَلِفِ الْعُلَمَاءُ اَنَّ الْعَامةَّ عَلَیَْها تَقْلِیْدُ عُلَمَاءِ هَا وَاَنَّهُمْ الْمُرَادُوْنَ بِقَوْلِ اللّٰهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَاسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ علماء کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عوام پر اپنے علماء کی تقلید (ضروری ) ہے اور وہ اللہ عزو جل کے قول ’’ پس تم پوچھو اہلِ ذکر سے اگر تم نہیں جانتے ‘‘ کی مراد ہیں۔‘‘
(جامع بیان العلم وفضلہ :۲؍۱۱۵)
انہوں نے یوں بھی اعتراف کیا:
’’ لِاَنَّا قَلَّدْنَا فِیْهَا عُمَرَ ، ہم نے اس مسئلہ میں عمر کی تقلید کی ہے ۔‘‘
( الکافی فی فقہ اہلِ المدینۃ کتاب النکاح باب العقود )
عبدالرشید عراقی لکھتے ہیں :
’’حافظ ابن عبدالبر فقہی مسلک میں امام مالک بن انس سے وابستہ تھے اور ان کا شمار فقہ مالکیہ کے اکابر فقہا میں ہوتا ہے لیکن وہ جامد مقلد نہ تھے۔ ‘‘
(کاروان حدیث صفحہ ۱۹۹)
عراقی صاحب اگلے صفحہ پر امام ابن عبد البر کی کتاب ’’ التمھید ‘‘ کے تعارف میں لکھتے ہیں:
’’یہ مؤطا امام مالک کی عظیم الشان اور شہرۂ آفاق شرح ہے۔ اس کتاب کو حدیث کی عمدہ اور بہترین شروح میں خیال کیا جاتا ہے۔ اسی کی بدولت حافظ ابن عبد البر کو ممتاز محدث اور مالکیہ میں سب سے بلند پایہ محدث اور شارح حدیث قرار دیا گیا ہے ۔ ‘‘
(کاروان حدیث صفحہ ۲۰۰)
عراقی صاحب نے ان کی کتاب ’’التمہید ‘‘کے متعلق لکھتے ہیں :
’’مذہب مالکی کی متعلق تنہا یہی کتاب کافی ہے۔ ‘‘
(کاروان حدیث صفحہ ۲۰۱)
مولانا ثناء اللہ مدنی لکھتے ہیں :
’’حافظ ابن عبدالبر کے دعوٰی اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم کی کوئی حیثیت نہیں، یہ محض مالکی مسلک کی حمایت میں ان کی ایک کوشش ہے اس کے سوا عملاًاس کا وجود نہیں۔ ‘‘
(مقالات اثری جلد ۲ صفحہ ۳۱۸)
شیخ فاروق اصغر صارم لکھتے ہیں:
’’ حافظ ابو عمر بن عبد البر یوسف بن عبد اللہ القرطبی (۳۶۸ھ ، ۴۶۳ھ) آپ کبار مالکی فقہاء سے ہیں۔‘‘
( تفہیم المواریث صفحہ ۱۰۱)
مولانا عبد الرووف جھنڈا نگری غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ ابن عبد البر کا اسم گرامی یوسف بن عبد اللہ ہے ، قرطبہ کے رہنے والے مالکی مسلک کے محدث ہیں اندلس میں ۴۶۳ھ میں انتقال فرما گئے۔ ’’ استیعاب ‘‘ آپ کی مشہور ترین کتاب ہے ۔ ‘‘
( حاشیہ نصرة البخاری فی بیان صحة البخاری صفحہ ۱۴۳)
مولانا ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں:
’’مالکیہ میں امام ابن عبد البر ؒ اور حنفیہ میں ابو بکر رازی ؒ فرماتے ہیں کہ ...‘‘
( توضیح الکلام صفحہ ۵۴۶)
اثری صاحب نے لکھا:
’’ یہی قول شافعیہ کا ہے اور اسی کو قاضی اسماعیل اور حافظ ابن عبد البر ؒ نے مالکیہ میں سے اختیار کیا ہے۔ ‘‘
( توضیح الکلام صفحہ ۸۶۴)
شیخ خلیل الرحمن چشتی لکھتے ہیں:
’’ابن عبد البر مشہور محدث ہیں ۔ مؤطا امام مالک کی شرح التھمید لکھی مالکی ہے تھے لیکن اندھے مقلد نہ تھے۔ ‘‘
( حدیث کی ضرورت و اہمیت صفحہ۲۴۹)
علامہ ابن العربی رحمہ اللہ
مولانا محمد اسماعیل سلفی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ میرا تو تجربہ ہے جب تک دنیا میں تقلید شخصی موجود ہے اہلِ علم کی آبرو محفوظ نہیں رہ سکتی ۔ آپ حافظ ابن العربی کی احکام القرآن ملاحظہ فرمائیے خود مالکی ہیں لیکن امام شافعی کا تذکرہ کس حقارت کے ساتھ کر جاتے ہیں ۔ ‘‘
( تحریک آزادی فکر صفحہ ۲۶۶)
ہم نے اس عبارت کو صرف اس غرض سے نقل کیا کہ حافظ ابن العربی رحمہ اللہ ’’مالکی مقلد ‘‘ہیں ۔
علامہ عبد الرشید عراقی غیرمقلد نے ابن العربی کے حالات میں ’’ فقہی مذہب ‘‘عنوان قائم کرکے لکھتے ہیں:
’’ امام ابن العربی امام مالک کے فقہی مسلک سے وابستہ تھے ۔ ‘‘
(کاروان حدیث صفحہ ۲۳۰)
خود اثری صاحب لکھتے ہیں:
’’علامہ ابن العربی ؒ اور قرطبی ؒ فقہ مالکی کے امام ہیں۔ ‘‘
( توضیح الکلام صفحہ ۸۸طبع جدید )
شافعیہ محدثین
امام ابو عوانہ رحمہ اللہ
شیخ خلیل الرحمن چشتی لکھتے ہیں:
’’ حضرت ابو عوانہ یعقوب بن اسحاق اسفرائنی ( المتوفی ۳۱۶ھ ) مؤلف مسند صحیح ابو عوانہ ۔ یہ کتاب صحیح مسلم کا استخراج ہے ۔ ابو حاتم ، ابو زرعہ اور امام مسلم کے شاگرد ہیں۔ شافعی ہیں ۔ تحصیل علم کے لئے بے شمار سفر کئے۔ ‘‘
( حدیث کی ضرورت و اہمیت صفحہ۲۴۸)
امام ابونعیم اصفہانی رحمہ اللہ
شیخ خلیل الرحمن چشتی لکھتے ہیں:
’’ حضرت ابو نعیم اصفہائی (پیدائش ۳۳۶ھ المتوفی ۴۳۰ھ ) ابو نعیم اصفہائی ؒ کے شاگرد ِ خاص خطیب بغدادی ؒ ہیں ۔ مؤلف حلیۃ الاولیاء، دلائل النبوۃ۔ فقہ میں شافعی اورکلام میں اشعری ہیں ۔ ‘‘
( حدیث کی ضرورت و اہمیت صفحہ۲۴۹)
امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ
شیخ خلیل الرحمن چشتی لکھتے ہیں:
’’خطیب بغدادی (پیدائش ۳۹۲ھ المتوفی ۴۶۳ھ ) خطیب بغدادی ؒ ابو نعیم اصفہانی کے شاگرد ہیں ۔ مؤلف الکفایۃ فی علوم الروایۃ شافعی اور اشعری تھے ۔ تاریخ بغداد ان کی مشہور کتاب ہے ۔ ‘‘
( حدیث کی ضرورت و اہمیت صفحہ۲۴۹)
مولانا ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں:
’’ خطیب بغدادی ؒسے لے کر حافظ ابن حجر ؒ تک بعض علمائے شافعیہ پر ان کی تنقید بھی اہلِ علم کے ہاں معلوم و معروف ہے ۔ ‘‘
( مقالات اثری :۱؍ ۱۶۳)
اثری صاحب نے مزید لکھا:
’’ حافظ ابن حجر ؒ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ شافعی ہیں۔ ‘‘
( مقالات اثری :۲؍۳۷)
عبدالرشید عراقی غیر مقلدنے خطیب بغدادی کے حالات میں ’’فقہی مسلک‘‘ عنوان قائم کرکے لکھا :
’’خطیب شافعی المذہب تھے اور ان کا شمار اکابر شافعیہ میں ہوتا تھا ‘‘
(کاروان حدیث صفحہ ۲۱۰)
عراقی صاحب نے مزید لکھا:
’’امام ابو بکر خطیب ؒ کو اپنی فقہی عصبیت کی وجہ سے ابتلاء و محن سے دو چار ہونا پڑا۔وہ شافعی المذہب تھے……‘‘
(کاروان حدیث صفحہ ۲۱۰)
علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے خطیب کے متعلق لکھا:
’’ وکان من کبار الشافعیة،وہ کبار شافعیہ میں سے تھے۔ ‘‘
(تذکرہ جلد ۳ صفحہ ۳۱۴ بحوالہ طائفہ منصورہ صفحہ ۱۲۷)
شیخ خلیل الرحمن چشتی لکھتے ہیں:
’’امام بیہقی ؒ امام حاکم ؒ کے شاگرد ہیں ۔ شافعی تھے ۔ نیشاپور میں انتقال کیا ۔ ‘‘
( حدیث کی ضرورت و اہمیت صفحہ۲۴۹)
امام مروزی رحمہ اللہ
علامہ عبد الرشید عراقی غیر مقلد نے امام مروزی رحمہ اللہ کے متعلق لکھا:
’’ فقہی مسلک میں امام شافعی کے مذہب سے وابستہ تھے ۔‘‘
( سیرت امام بخاری صفحہ ۴۴)
عراقی صاحب نے امام مروزی کے بارے میں یہ بھی لکھا:
’’ مستجاب الدعوات اور صاحب کرامات تھے ۔ ‘‘
( سیرت امام بخاری صفحہ ۴۴)
امام ابن الصلاح رحمہ اللہ
شیخ زبیر علی زئی نے محدث ابن الصلاح رحمہ اللہ کو تقلیدی ……اور……غالی شافعی …… کہا۔
چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’ غالی شافعی حافظ ابن الصلاح۔ ‘‘
( علمی مقالات:۴؍۱۷۳)
دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
’’ ابن الصلاح (تقلیدی )نے عامی (مقلد )کے بارے میں لکھا ہے ’’فان کان شافعیا لم یکن له ان یستفتی حنفیا ولا یخالف امامه ‘‘ پس اگر وہ شافعی ہے تو اسے حنفی سے مسئلہ نہیں پوچھنا چاہیے اور اپنے امام کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے ۔ (ادب المفتی و المستفتی: ۸۷ ، مکتبہ شاملہ )ابن الصلاح کے بارے میں اور بھی کئی باتیں ہیں ۔‘‘
(علمی مقالات: ۶؍۱۵۴)
مزید لکھتے ہیں :
’’کیا وہ ابن الصلاح (تقلیدی )کے منہج پرہیں۔ ‘‘
(علمی مقالات :۶؍۴۰۷)
دونوں جگہ قوسین میں ’’تقلیدی‘‘ لفظ بھی علی زئی صاحب کا تحریر شدہ ہے ۔
شیخ کفایت اللہ سنابلی لکھتے ہیں :
’’یہاں پر زبیر علی زئی صاحب نے امام ابنِ الصلاح رحمہ اللہ کو ’تقلیدی‘ کہا ہے جب کہ بعض مقامات پر خود موصوف نے امام ابنِ الصلاح رحمہ اللہ کی اندھی تقلید کی ہے جیسا کہ ہم نے زیادتِ ثقہ والے مضمون میں وضاحت کردی ہے ۔ ‘‘
(حدیث ِ یزید محدثین کی نظر میں صفحہ۷)
شیخ القراء والمحدثین محمد بن جزری رحمہ اللہ
قاری صہیب احمدمیر محمدی غیرمقلد نے ’’ شیخ القراء والمحدثین محمد بن جزری رحمہ اللہ ‘‘ مضمون میں لکھتے ہیں :
’’قاری محمد سلیمان اپنی کتاب فوائد مرضیہ میں لکھتے ہیں: ……صحیح بات یہی ہے کہ یہ مذہبی انتساب ہے ، چنانچہ ابن جزری کے صاحب زادے نے بھی اس کی تصریح کی ہے کہ: ’’تاریخ کی اس مشہور حقیقت کا کون انکار کر سکتا ہے کہ ابن جزری جلیل القدر علماء شافعیہ میں سے ہوئے ہیں ۔ قیاس یہ چاہتا تھا کہ نسبت کو ملاکر مقلد کو شافعی ’’الشافعی ‘‘ کہا جاتا ، لیکن اختصار کے پیش نظر ایک نسبت کو حذف کر دیتے ہیں ۔‘‘
( ماہ نامہ رشد لاہور، اشاعتِ خاص قرا ء ات نمبر ، حصہ اول، جون ۲۰۰۹ء صفحہ۶۳۵)
علامہ منذری رحمہ اللہ
علامہ عبد الرشید عراقی غیرمقلد نے علامہ منذری رحمہ اللہ کے حالات میں لکھا:
’’ فقہی اعتبار سے امام شافعی کے مذہب سے وابستہ تھے ۔ ‘‘
( کاروان حدیث صفحہ ۲۴۸)
امام دارقطنی رحمہ اللہ
شیخ ابو الاشبال شاغف لکھتے ہیں:
’’ بیہقی اور دار قطنی وغیرہ جو امام شافعی کے مقلدین شمار ہوتے ہیں، ان کی تصانیف میں اپنے مقلَّد امام کی ترجمانی کو مقدم رکھا گیا ہے لہذا ان سے فائدہ اُٹھانا آسان نہیں ہے۔ ‘‘
( مقالاتِ شاغف صفحہ ۱۶۲)
امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ
محمد عارف اثری غیرمقلد (مدرس جامعۃ بحرالعلوم السلفیه میر پور خاص )نے شیخ بدیع الدین راشدی کے تذکرہ میں لکھا :
’’شاہ صاحب نے اس کتاب میں شوافع کے تین بڑے قابلِ اعتبار اشخاص :(۱)علامہ جلال الدین السیوطی (۲) علامہ حموی شافعی ( ۳) امام بیہقی کے رموزات بھی نقل فرمائے ہیں ۔‘‘
(مجلہ بحرا لعلوم میر پور خاص شیخ العرب و العجم نمبر سلسلہ اشاعت نمبر ۹ ۲۰۰۷ء صفحہ ۴۳۹، ۴۴۰)
امام بیہقی رحمہ اللہ
مولانا بدیع الدین راشدی نے امام بیہقی رحمہ اللہ کے متعلق لکھا:
’’شافعی مذہب کے اس چوٹی کے عالم ...‘‘
( تصحیح آٹھ رکعت تراویح صفحہ ۵۳)
علامہ عبد الرشید عراقی نے امام بیہقی رحمہ اللہ کے حالات میں ’’ فقہی مذہب ‘‘ عنوان قائم کرکے لکھا :
’’امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی کا شمار شافعی مذہب کے اکابر ائمہ میں ہوتا ہے۔ ان کو اس مذہب سے غیر معمولی شغف تھا اور اس مذہب کی نشرو اشاعت اور اس کی تہذیب و تنقیح میں انہوں نے اہم اور نمایاں کارنامے انجام دئیے۔ شافعی مذہب کو امام بیہقی کی ذات سے بڑا فائدہ پہنچا۔ علمائے فن، ارباب سیر اور تذکرہ نگاروں نے مذہب شافعی کی ترقی و ترویج میں امام بیہقی کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے ۔ چنانچہ علامہ ابن سبکی فرماتے ہیں کہ کوئی شافعی المذہب ان کی تصنیفات سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔علامہ ابن خلکان نے اپنی تاریخ میں امام الحرمین ابو المعالی جوینی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ : امام بیہقی ؒ کے علاوہ کوئی ایسا شافعی المذہب نہیں ہے جس پر امام شافعیؒ کے احسانات نہ ہوں لیکن امام بیہقی کا خود امام شافعی پر احسان ہے ، کیوں کہ ان کی تصنیفات سے ان کے مذہب و مسلک کی بڑی تائید و اشاعت ہوئی ہے ، وہ تمام شوافع میں اس مذہب کے اصول و فروع کی حمایت میں پیش پیش رہے ہیں اور اس کی تفریع و تخریج اور توضیح و تشریح کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ ‘‘
(کاروان حدیث صفحہ ۱۸۹)
ایک کتاب میں لکھا ہے :
’’ امام بیہقی جو اصحاب شافعی علیہما الرحمہ سے تھے کے حق میں کہا گیا...امام شافعی کے اصحاب میں سوا احمد بیہقی کے ایک بھی ایسا نہیں جس پر امام شافعی کا احسان ( علم ) نہ ہو مگر امام شافعی خود بیہقی کے ممنون کرم ہیں ۔‘‘
( حاشیہ تراجم علمائے حدیث ہند صفحہ ۲۰۶)
مولانا ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں :
’’امام بیہقی م ۴۵۸ھ جنہیں حامل لواء الشافعی ؒ کہتے ہیں نے بھی صراحت کی ہے کہ امام شافعی ؒ کے دو قول ہیں۔ ‘‘
( توضیح الکلام صفحہ ۹۳)
امام بیہقی رحمہ اللہ اشعری اور شافعی
میمونہ اسلام ( لیکچرز ڈگری کامرس کالج فاروومن سرگودھا ) نے ’’ امام بیہقی رحمہ اللہ کا عقیدہ و فقہی مسلک ‘‘ عنوان قائم کرکے لکھا:
’’ امام بیہقی رحمہ اللہ اشعری عقیدہ رکھتے تھے ……فروع میں امام بیہقی رحمہ اللہ امام شافعی کے مسلک پر تھے ۔ ان کایہ مسلک شاید اپنے شیخ حاکم رحمہ اللہ کے زیر اَثر تھا ۔ کیوں کہ وہ اپنے زمانہ کے بلند پایہ شافعی امام تھے ۔ انہوں نے امام شافعی رحمہ اللہ کا مسلک طویل عرصہ غور وخوض کے بعد اختیار کیا ۔ ‘‘
(السنن الکبری کی تدوین میں امام بیہقی رحمہ اللہ کا منہج صفحہ ۹ مقالہ برائے ایم فل علوم اسلامیہ )
میمونہ اسلام نے امام ابو المعالی الجوینی رحمہ اللہ سے نقل کیا:
’’ کوئی بھی شافعی فقیہ نہیں ہے جس پر امام شافعی رحمہ اللہ کے احسانات نہیں سوائے ابو بکر بیہقی کے ان کے امام شافعی رحمہ اللہ پر احسانات ہیں کہ انہوں نے اپنی تصانیف کے ذریعے ان کے مذہب کی مدد کی ۔ ‘‘
( حوالہ مذکورہ صفحہ ۲۰)
امام نووی رحمہ اللہ
علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ فَعَلٰی هَذَا یَلْزَمَهٗ اَنْ یَّجْتَهِدَ فِیْ اخْتِیَارِمَذْهَبٍ یُّقَلِّدُہٗ عَلَی التَّعْیِیْنِ۔
(المجموع شرح المہذب للنووی : ۱؍۹۱)
اسی وجہ سے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ کوشش کرکے کوئی ایک مذہب اختیار کر لے پھر معین طور پر اُسی کی تقلید کرے ۔ ‘‘
امام نووی رحمہ اللہ نے حدیث کے جملہ’’ ائمہ کے ساتھ خیر خواہی‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا:
’’ وَاِنَّ مِنْ نَّصِیْحَتِهِمْ قُبُوْلَ مَا رَوَوْہٗ وَتَقْلِیْدَهُمْ فِی الْاَحْکَامِ وَاِحْسَانَ الظَّنِّ بهِِمْ ،ان کی خیر خواہی یہ ہے کہ جسے انہوں نے روایت کیا ہے اسے قبول کیا جائے، احکام میں ان کی تقلید کی جائے اور ان کے ساتھ حسن ظن رکھا جائے۔
( شرح مسلم :۱؍۵۴،قدیمی کتب خانہ کراچی)
علامہ عبد الرشید عراقی غیر مقلدنے امام نووی رحمہ اللہ کے حالات میں ’’ فقہی مسلک ‘‘ کا عنوان قائم کرکے لکھا:
’’ امام نووی ؒ امام محمد بن ادریس شافعیؒ کے مسلک سے وابستہ تھے اور ان کا شمار اکابر فقہاء اور شوافع کے شیوخ میں ہوتا تھا۔ انہوں نے شافعی مذہب کی گوناگوں خدمات سر انجام دیں۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں:’’ شافعی مذہب کی تحقیق و تصحیح ،ضبط و تنقیح ، تحریر و تدوین اور ترتیب و تہذیب میں ان کا بڑا حصہ ہے اور وہ اس مذہب کے چوٹی کے علماء میں سے تھے ۔ ‘‘
( کاروان حدیث صفحہ ۲۵۳)
عراقی صاحب آگے لکھتے ہیں:
’’ علمائے طبقات و تراجم نے لکھا ہے کہ: ’’ حدیث کی طرح فقہ و افتاء میں ان کو امتیاز حاصل تھا ۔ وہ شافعی مذہب کے معتمد اور لائق اعتبار مفتی اور صاحب کمال امام تھے۔ شافعی مذہب کی ترقی و ترویج میں ان کا بڑا حصہ ہے اور اس مذہب کے چوٹی کے علماء میں ان کا شمار ہوتا تھا ۔‘‘
( کاروان حدیث صفحہ ۲۵۴)
عراقی صاحب آگے لکھتے ہیں:
’’ حافظ ابن کثیر نے محی الدین، علامہ وقت ، مذہب شافعی کے شیخ، جلیل القدر فقیہ و محدث کے الفاظ سے یاد کیا ہے ۔ ‘‘
( کاروان حدیث صفحہ ۲۵۶)
عراقی صاحب اسی صفحہ میں آگے لکھتے ہیں:
’’ امام نووی شافعی المذہب تھے اور ان کا شمار اس مذہب کے اساطین میں ہوتا تھا ‘‘
( کاروان حدیث صفحہ ۲۵۶)
عبد الغنی قاضی لکھتے ہیں:
’’نامور شافعی فقیہ اور عالم امام نووی کا قول ہے ...‘‘
(محدث ، شمارہ : ۳۲۰صفحہ ۴۰)
مولانا عبد الرشید اظہر غیرمقلد (مدرس مدرسہ سعیدیہ خانیوال ) لکھتے ہیں:
’’ آپ نہایت منصف مزاج اور ششته قلم مصنف تھے۔ اپنی تصانیف میں شافعی المسلک ہونے کے باوجود امام ابوحنیفہ کے اقوال نقل کرتے تھے ۔ ‘‘
( فتاویٰ علمائے حدیث :۴؍۵۷، ناشر مکتبہ اصحاب الحدیث لاہور، طباعت دوم جنوری ۲۰۱۱ء)
مولانا عبد الرووف سندھو لکھتے ہیں:
’’ امام نووی کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں ( مذہب شافعیہ میں )صحیح یہ ہے کہ ہر رکعت میں تعوذ مستحب ہے ۔ ‘‘
( القول المقبول صفحہ ۴۴۵طبع چہارم ، مقام اشاعت شارجہ متحدہ عرب امارات،تاریخ اشاعت اگست؍۲۰۰۰ء)
قوسین میں درج ’’ مذہب شافعیہ میں ‘‘الفاظ بھی سندھو صاحب کے ہیں۔
سندھو صاحب دوسری کتاب لکھتے ہیں:
’’امام نووی معروف شافعی ہیں شافعی مذہب میں ان کی کتب ہیں مثال کے طور پر ’’المهذب ‘‘ جو شافعی فقہ کی معتبر کتاب ہے اس کی شرح ’’ المجموع ‘‘ انہی کی ہے ۔ ‘‘
( احناف کی چند کتب پر ایک نظر صفحہ۱۵۴)
شیخ فاروق رفیع نے امام نووی رحمہ اللہ کی عبارت نقل کی :
’’ ہمار ے اصحاب ( شافعیہ ) کی ایک جماعت اور دیگر علماء کاموقف ہے ۔ ‘‘
( داڑھی اور خضاب:حقیقت کیا ؟ افسانہ کیا ؟ صفحہ ۶۶ )
قوسین میں ’’ شافعیہ ‘‘لفظ فاروق رفیع صاحب کا ہے ۔
امام مزنی ؒ ، امام بویطی،امام شیرازی رحمہم اللہ
مولانا ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں:
’’پھر کیا امام مزنی ؒ ، امام بویطی،امام شیرازی ؒ ، امام نووی اور اکثر شافعیہ ؒ حذاق شافعیہ میں شمار نہیں ہوتے ؟‘‘
( توضیح الکلام صفحہ ۹۸)
امام ابن حجر رحمہ اللہ
مولانا ابو الاشبال شاغف نے بخاری کی شروحات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا:
’’ اس کی سب سے مشہور ومعروف شرح حافظ ابن حجر عسقلانی کی ’’ فتح الباری ‘‘ ہے۔ یہ شرح سب سے زیادہ مفید اور کام کی ہے۔ البتہ حافظ نے جہاں کہیں اشعریت اور شافعیت و صوفیت کو ترجیح دینے کی کوشش کی ہے اسے چھوڑ کر اس شرح سے خاطر خواہ فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے ۔ ‘‘
( مقالاتِ شاغف صفحہ ۱۲۷)
شاغف صاحب آگے لکھتے ہیں:
’’ حافظ ابن حجر نے کافی حد تک اس بات کا خیال رکھا کہ وہ اس کتاب[ صحیح بخاری( ناقل)] کی ترجمانی کا حق ادا کر سکیں،لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہو سکے بلکہ اشعریت و شافعیت اور تقلید کی راہ میں وہ بھی غرق ہونے سے نہ بچ سکے ۔ ‘‘
( مقالاتِ شاغف صفحہ ۱۶۰)
شاغف صاحب نے ایک شافعی المسلک شخص سے بات کرتے ہوئے کہا:
’’ آپ کے ایک بہت بڑے امام حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں مختلف مسلکوں کا ذکر کیا ہے ۔ ‘‘
( مقالاتِ شاغف صفحہ ۳۱۵)
شاغف صاحب نے فتح الباری میں درج فقہ شافعی کو اپنے خلاف پایا تو اپنے غیرمقلدین کو اک نئی شرح لکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے لکھا:
’’ فتح الباری کی تلخیص کریں جو مسائل اہلِ حدیث مسلک کے خلاف ہیں اسے حذف کریں‘‘
( مقالاتِ شاغف صفحہ ۳۹۵)
علامہ عبد الرشید عراقی لکھتے ہیں:
’’ حافظ ابن ِحجر کے اکابر شیوخ اور تلامذہ کی غالب تعداد شوافع کی نظر آتی ہے ۔ طبعی طور پر حافظ صاحب بھی متشدد تھے ، بلکہ ان کا تشدد تعصب کی حدوں میں داخل تھا ۔ ‘‘
( کاروان ِ حدیث صفحہ ۳۳۹)
عراقی صاحب دوسری کتاب میں لکھتے ہیں:
’’حافظ ابن حجرؒ شافعی مذہب سے وابستہ ہیں۔‘‘
( چالیس علمائے اہلِ حدیث صفحہ ۳۴۹)
حافظ زبیر علی زئی لکھتے ہیں:
’’ شوافع بذات خود اس طبقاتی تقسیم کے مخالف ہیں مثلاً : ۱ حافظ ابن حجر نے اپنے نزدیک طبقہ ثانیہ کے مدلس سلیمان الاعمش کی معنعن روایت کو معلول ( ضعیف ) قرار دیا ۔ ‘‘
( علمی مقالات : ۶؍۲۲۸)
نواب صدیق حسن خان غیر مقلد نے بھی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کو ’’ شافعی المذہب‘‘ کہا ۔حوالہ آگے علامہ سیوطی کے تذکرہ میں میں آ رہا ہے، ان شاء اللہ ۔
مولانا ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں:
’’ حافظ ابن حجر ؒ جو شافعی معروف ہیں۔ ‘‘
( مقالات اثری :۱؍۹۴)
اثری صاحب اپنے بزرگ مولانا محمد اسماعیل سلفی غیرمقلد کی عبارت نقل کرتے ہیں:
’’ حافظ ابن حجر ؒ تو شافعی ہیں لیکن حافظ زیلعی ؒ بڑے پختہ کار حنفی محدث ہیں ۔ ‘‘
( مقالات اثری :۲؍۴۰)
شیخ خلیل الرحمن چشتی لکھتے ہیں:
’’ حضرت ابن حجر عسقلانی (پیدائش ۷۷۳ھ ، المتوفی ۸۵۲ھ ) امیر المؤمنین فی الحدیث کہلاتے ہیں ۔ فقہ میں شافعی تھے ۔ امام سخاوی ؒ ان کے شاگرد ہیں ۔ مؤلف فتح الباری شرح صحیح بخاری ، بلوغ المرام وغیرہ وغیرہ ۔ ‘‘
( حدیث کی ضرورت و اہمیت صفحہ۲۵۳)
علامہ سیوطی رحمہ اللہ
علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی کتاب ’’ الاکلیل ‘‘ میں فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون کے متعلق مذکور ہے:
’’ انه استدل بها علی جواز تقلید العامی فی الفروع، اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ عام آدمیوں کے لیے فروعی مسائل میں تقلید جائز ہے ۔ ‘‘
(الاکلیل بحوالہ احکام القرآن للجصاص : ۲؍۲۶۲)
غیرمقلدین کے ’’مجدد ‘‘ نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں:
’’حافظ ابن عبد السلامؒ اور ان کے تلمیذحافظ ابن دقیق العید ؒ اور ان کے شاگردعلامہ ابن سید الناسؒ اور ان کے شاگرد حافظ زین الدین العراقی ؒ اور ان کے شاگرد حافظ ابن حجر عسقلانیؒ اور ان کے شاگرد امام جلال الدین سیوطی ؒ تمام اکابرشافعی المذہب تھے ۔ ‘‘
( الجنۃ صفحہ ۲۳ بحوالہ الکلام المفید صفحہ ۱۲۶)
مولانا بدیع الدین راشدی غیرمقلد نے ’’ شوافع کا مذہب ‘‘ عنوان قائم کرکے درج ذیل علماء کے حوالے دئیے:
’’ علامہ جلال الدین سیوطی ... علامہ حموی شافعی... امام بیہقی۔ ‘‘
( تصحیح آٹھ رکعت تراویح صفحہ ۵۳)
مولانا ارشاد الحق اثری نے لکھا:
’’ شافعیہ مثلاً علامہ حسن چلپی ؒ، علامہ سیوطی اور علامہ الکفوی ؒ ۔‘‘
( توضیح الکلام صفحہ ۶۲۲)
امام آجری رحمہ اللہ
ایک صاحب لکھتے ہیں:
’’اس کتاب کے مصنف ابو بکر محمد بن حسین بن عبد اللہ آجری ہیں۔ بغداد کے مضافات میں ایک قصبہ آجر ہے ، اس کی نسبت سے آج کہلاتے ہیں۔ علوم اسلامیہ میں کمال حاصل کیا ۔مشہور محدث ابو نعیم صاحب الحلیہ ان کے شاگردوں میں سے ہیں ۔ ۲۶۴ھ میں پیدا ہوئے ۔ ۳۳۰ھ تک بغداد ہی میں تعلیم و تعلم کا سلسلہ رہا۔ اس کے بعد مکمہ مکرمہ کی طرف ہجرت کی تیس سال تک مکہ مکرمہ میں تعلیم دیتے رہے اور یکم محرم بروز جمعہ ۳۶۰ھ میں وفات پائی۔ خطیب بغدادی ، ابن جوزی، ابن خلکان ، تاج سبکی ، ذہبی وغیرہ نے ان کا تعارف کراتے ہوئے بہت تعریف کی ہے کہ آپ ثقہ ، راست باز ،دین دار،نیک ، عبادت گزار، محدث اور فقیہ تھے ۔ آپ کی تصانیف تو بہت زیادہ تھیں جو آج کل نایاب ہوچکی ہیں ۔اس وقت آپ کی بیس تصانیف مختلف موضوعات پر دستیاب ہیں ۔ اور سبھی اپنے مضمون میں بہترین کتابیں ہیں۔ مشہور یہی ہے کہ آپ شافعی المذہب تھے ، لیکن بعض نے ان کو علماء حنابلہ میں شمار کیا ہے ۔ بہر حال جو بھی تھے ، خوب تھے ۔آپ کی کتاب ’’ اخلاق العلماء ‘‘جس کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے ۔مبلغین اور علماء کرام کے لئے بے حد مفید ہے ۔‘‘
(تصدیر اخلاق العلماء صفحہ ۳،ترجمہ :محمد بن سلیمان کیلانی ناشر: ادارہ احیاء السنۃ گھرجاکھ گرجرانوالہ )
امام ابن اثیر جزری رحمہ اللہ
شیخ خلیل الرحمن چشتی لکھتے ہیں:
’’ابن اثیر ؒ شافعی ہیں ۔ موصل میں انتقال کیا ۔ النھایۃ فی غریب الحدیث کے علاوہ جامع الاصول ان کی مشہور کتب ہیں ۔ صحاح ستہ کو جمع کیا ۔ ‘‘
( حدیث کی ضرورت و اہمیت صفحہ۲۵۱)
صاحب ِ مشکوۃ شافعی تھے
شیخ خلیل الرحمن چشتی لکھتے ہیں:
’’حضرت ولی الدین خطیب بغدادی التبریزی (المتوفی ۷۳۷ھ ) مؤلف مشکوۃ المصابیح امام بغوی ؒ کی کتاب المصابیح السنۃ میں تیسری فصل کا اضافہ کیا ۔ شافعی ہیں۔ ‘‘
( حدیث کی ضرورت و اہمیت صفحہ۲۵۲)
حنابلہ محدثین
امام ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ
شیخ خلیل الرحمن چشتی لکھتے ہیں:
’’امام منذری ؒ ابن قدامہ حنبلی کے شاگرد ہیں۔ ‘‘
( حدیث کی ضرورت و اہمیت صفحہ۲۴۹)
امام ابن مندہ رحمہ اللہ
شیخ بدیع الدین راشدی لکھتے ہیں:
’’ مذاہب اربعہ کے علماء کرام سے بھی اس بارے میں ثبوت موجود ہیں مثلاً……حنبلی مذہب کے مشہور عالم ابو القاسم عبد الرحمن بن محمد بن اسحاق بن مندہ ( ۴۷۰ھ) بسم اللہ الرحمن الرحیم جہر سے پڑھنے کے قائل تھے ۔ ‘‘
( احکام البسملة صفحہ ۱۳۹،ناشر: دعوت اہلِ حدیث پبلی کیشنز حیدرآباد ، اشاعت اول ۲۰۰۵ء )
امام ابن الجوزی رحمہ اللہ
شیخ خلیل الرحمن چشتی لکھتے ہیں:
’’امام ابن الجوزی ؒ حنبلی تھے ۔ واعظِ بغداد اور بے شمار کتابوں کے مصنف ہیں ۔جرح و تعدیل کے امام ہیں ۔ ‘‘
( حدیث کی ضرورت و اہمیت صفحہ۲۵۰)
علامہ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ
غازی عزیزنے لکھا:
’’ صاحب التنقیح والتحقیق علامه ابن عبد الهادی حنبلی ؒ ۔ ‘‘
( روزہ : احکام ومسائل صفحہ ۱۷۳،تالیف:مولانا محمد امین اثری غیرمقلد ،کلیۃ البنات للدراسات الاسلامیۃ خیابان روڈ ڈیرہ غازی خاں )
ایک شبہ اور اس کا ازالہ
ہوسکتا ہے کہ ان محدثین میں سے کسی محدث کی بابت یہ بات مل جائے کہ انہوں نے کچھ مسئلوں میں اپنے امام سے اختلاف کیا ہے ۔پھر اس کو بنیاد بنا کر کوئی کہنے لگے کہ وہ مقلد نہ تھے ۔ اس لئے ہم اس کا جواب بھی نقل کردیتے ہیں۔
مولانا ارشاد الحق اثری نے لکھا:
’’ بعض مسائل میں ان کا رجحان اگر حنفی موقف کے خلاف ہے تو یہ ان کے ’’ غیر مقلد ‘‘ ہونے کی دلیل نہیں ‘‘
( تنقیح الکلام صفحہ ۳۶۷)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں