نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

غیرمقلدین کے دعویٰ عمل بالقرآن کی حقیقت


غیرمقلدین کے دعویٰ عمل بالقرآن کی حقیقت 


رب نواز بھٹی صاحب (قسط:۱۱)

(بہ سلسلہ غیرمقلدین قرآن وسنت کی کسوٹی پر )

غیرمقلدین کے دعویٰ عمل بالقرآن کی حقیقت 


مأخوذ مجلّہ راہِ ہدایت

شُمارہ نمبر 36

 بھینس بھیمیةالانعام میں شامل ہے اور نہیں بھی  

خرم شہزاد محمدی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

  ’’مذکورہ آیت سے معلوم ہوا کہ ’ ’ بھیمیةالانعام‘‘ سے مراد اونٹ(نرو مادہ ) ، گائے (نرو مادہ ) ، بکری (نر و مادہ ) اور بھیڑ ( نر و مادہ ) ہیں اور انہیں کی قربانی کرنی چاہیے اور بھینس ان چار قسم کے جانور وں میں سے نہیں ہے ۔‘‘

 ( کیا خصی جانور کی قربانی سنت ہے ؟ صفحہ ۶۲ ، ناشر:مکتبۃ التحقیق والتخریج ، اشاعت اول جنوری ؍۲۰۱۷ء) 

خرم صاحب نے یہاں صراحۃً کہا کہ بھینسیں ’ ’ بھیمیةالانعام ‘‘میں شامل نہیں ہے ۔ مگر اسی ہی صفحہ پر جب بھینس کے حلال ماننے کی بات آئی تو اسے ’ ’ بھیمیةالانعام ‘‘ میں شامل مان لیا۔چنانچہ انہوں نے لکھا: 

’’ بعض الناس کا یہ کہنا کہ (جاموس ) بھینس کو صرف فقہ حنفیہ نے حلال قرار دیا ہے ۔ اُن کا یہ قول باطل ہے ۔ ’ ’ بھیمیةالانعام‘‘ کے عموم میں سے جاموس ( بھینس ) حلال ہے ۔ مگر قربانی نہیں کی جا سکتی ۔ ‘‘ 

( حوالہ مذکورہ ) 

بھینس کی قربانی کے عدم جواز کو قرآنی نص قرار دینے کی جسارت

شیخ خرم شہزاد غیرمقلد لکھتے ہیں: 

  ’’ جو لوگ بھینس کی قربانی کے جواز کے قائل ہیں ان کے ہاں دلیل یہ ہے کہ لفظ’ ’بقر ‘‘ میں یہ بھی شامل ہے یا پھر اس کو بقر پر قیاس کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کی یہ دونوں باتیں غلط ہیں ، ایک یہ کہ بقر میں شامل ہونے کی دلیل نہیں ، اللہ کے نبی علیہ السلام اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس کی قربانی ثابت نہیں ۔ دوسرا بقر پر قیاس کرنا تو قرآن وسنت کی واضح نص کے مقابلے میں یہ قیاس باطل ومردود ہے ، نیز بعض الناس کا بھینس کی قربانی کے متعلق بزرگوں کے اقوال پیش کرنا ، تو یہ اقوال بھی قرآن و سنت کی واضح نص کے مقابلے میں باطل و مردود ہیں۔‘‘

 ( کیا خصی جانور کی قربانی سنت ہے ؟ صفحہ ۶۲، ناشر:مکتبۃ التحقیق والتخریج ، اشاعت اول جنوری ؍۲۰۱۷ء) 

جب کہ قرآن میں ایسی کوئی نص نہیں جس میں ہو کہ بھینس کی قربانی جائز نہیں ، یا بھینس کی قربانی نہ کرو۔

 غیرمتعلقہ دلائل سے استدلال 

 مولانا عبد القدوس گوڑ گانوی غیرمقلد لکھتے ہیں:

  ’’مجھے قوی اُمیدہے کہ آئندہ سے ہمارے بھائی جماعت غرباء اہلِ حدیث والے آیت کریمہ یایھا الذین آمنوا اطیعوا اللہ وا طیعوا الرسول و اولی الامر منکم اور حدیث شریف من مات ولیس فی عنقہ بیعة فمات میتة جاھلیة کو اپنی امارت کے ثبوت میں پیش نہیں کریں ۔ اور کسی موحد متبع سنت مسلمان کی موت کو جاہلیت کی موت قرار نہیں دیں گے ۔ ‘‘

( ہفت روزہ الاعتصام لاہور ۲۹ ؍دسمبر ۱۹۶۷ء صفحہ۲۸)

 سیدنا عیسی علیہ السلام کو بن باپ نہ ماننا نصوص کی مخالفت ہے 

الاعتصام میں لکھاہے :

’’حال ہی میں کہوٹہ سے دفتر ’’ الاعتصام ‘‘ میں ایک استفتاء آیا ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ نہ ہونے کے بارے میں کوئی حدیث طلب کی گئی ہے ۔ حالاں کہ قرآن مجید کی نصوص صریحہ کی موجودگی میں حدیث کا مطالبہ سراسر بے معنی ہے ۔ ‘‘

( الاعتصام لاہور ۴؍ستمبر۱۹۷۰ صفحہ ۴)

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ نہ ماننے والے کا حکم 

الاعتصام میں لکھا:

’’باپ ماننے والے کے متعلق حکم شرعی دریافت کیا گیا ہے ۔ سو گزارش ہے کہ اس کا حکم ظاہر ہے کہ وہی ہے جو نصوص قرآنی کے نہ ماننے والے کاہے ۔ اس کا حکم وہی ہے جو نزول حقیقی مسیح علیہ السلام کے منکر کا ہے۔ اس کا حکم وہی ہے جو اس شخص کا ہے جس نے قرآن کی تیس آیات آیتوں سے وفات مسیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی تھی ۔ ‘‘ 

( الاعتصام لاہور ۴؍ستمبر۱۹۷۰ صفحہ ۴)

عنایت اللہ وزیر آبادی گجراتی کا سیدنا عیسی علیہ السلام کا با پ بنانا 

 الاعتصام میں لکھا:

’’اسلام کی تیرہ سو سالہ تاریخ میں مسیح کا باپ بنانے کا شوق سب سے پہلے جس شخص کو چرایا تھا وہ سر سید احمد خاں علی گڈھی تھے ۔بعد محمد علی لاہوری مرزائی ، پھرگجرات کے من چلے [ عنایت اللہ اثری (ناقل)] نے اس پر ایک رسالہ [ عیون زمزم فی میلاد عیسی بن مریم ( ناقل )] ہی لکھ ماراتھا۔ ‘‘ 

( الاعتصام لاہور ۴ ؍ ستمبر ۱۹۷۰ صفحہ ۴)

عنایت اللہ گجراتی بے باک ملحد ومحرف 

مولانا محمد اسماعیل سلفی لکھتے ہیں:

’’یہ عقیدہ کہ حضرت مسیح ؑ کا با پ تھا اس قدر غلط اور جہالت آمیز ہے کہ پرانے ملحدین کو بھی اس کے اظہار کی جرآت نہیں ہوئی تھی ۔میری دانست میں سر سید احمد خاں سے پہلے کسی بڑے سے بڑے بے دین کو بھی قرآن عزیز کی آیات متعلقہ کی تحریف میں یہ جرأت نہیں ہوئی جو گجراتی ملحد کو ہوئی،اس نوع کی تحریف بے باک ملحد ہی کر سکتا ہے !۔ ‘‘

( الاعتصام لاہور ۴؍ستمبر۱۹۷۰ صفحہ ۴)

عنایت اللہ اثری کا تعارف 

 راجہ غلام احمد مدرس شاہد ولی دروازہ گجرات نے عنایت اللہ اثری کے متعلق کچھ سوالات کئے جن کا جواب مولانا محمد اسماعیل سلفی نے ایک مکتوب میں دیا ۔ الاعتصام میں اس مکتوب کو درج ذیل اعتراف کے ساتھ شائع کیا: 

’’ اس مکتوب کے وہ حصے ترک کر دئیے گئے ہیں جو خالص نجی قسم کے تھے مولانا رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مکتوب بہت محتاط ہے ۔ ‘‘ 

( الاعتصام لاہور ۴؍ ستمبر ۱۹۷۰ ء صفحہ ۴)

اب وہ محتاط مکتوب ملاحظہ فرمائیں۔ 

مولانا محمد اسماعیل سلفی لکھتے ہیں:

’’میں اس عالم صاحب کو مدت سے جانتا ہوں ۔ یہ مولوی فضل الہی ؒ وزیر آبادی کے عقیدت مند تھے اور سید احمد بریلوی ؒ شہید کی زندگی اور رجعت کے قائل تھے ۔مجاہدین چمڑ قند کے مال پر خوب گلشرے اڑائے ، پہلی دفعہ غالبا ۱۹۱۴ء کی جنگ کے بعدچند دن گرفتار ہوئے ، پولیس کی گرفت سے گھبراکر تائب ہوئے ۔ جماعت مجاہدین کو چھوڑ کر مولوی عبد الوہاب ؒ دہلوی صدر جماعت غرباء اہلِ حدیث کے مرید ہوئے۔ ان کے مدرسہ میں مدرس ہوئے ۔ ان کی قیادت میں وعظیں کہتے رہے ۔ نزاع کی وجہ سے وہاں سے بھی الگ ہوگئے ۔ مولانا عبد الوہاب ؒ کی حمایت میں مولانا محمد صاحب جوناگڈھی ؒ اور باقی بعض علماء اہلِ حدیث سے ذلت آمیز شکست کے بعد دہلی چھوڑنے کافیصلہ کر لیا ۔ ان ایام میں حافظ محمد رمضان کا انتقال ہوا تھا، جماعت کو آدمی کی تلاش تھی۔ یہ میرا گناہ ہے کہ ان عالم صاحب کی اقامت کے لیے معاملہ طے کیا ۔ راستہ ہموار کیا او ر یہ کڑوے پانی کا چشمہ یہاں سے بہنے لگا۔ اباء میں چند رسالے بعض جزوی مسائل کے متعلق لکھے، قلم صاف نہ تھا ، نہ ہی زبان اچھی تھی۔اس سے وہ شہرت خاص نہ ہو سکی جس کے وہ خواہش مند تھے ۔ اس کے بعد انہوں نے معجزات کا انکار کرنا شروع کردیا، اس پر متعدد رسائل لکھے ۔خیال یہ تھا کہ علماء رد کریں گے تحریری سوال وجواب کا سلسلہ چل نکلے گا اس میں بھی کوئی علمی مواد نہ تھا۔ کسی نے رد کی طرف توجہ ہی نہ دی ، مسئلہ جوں کا توں رہ گیا ۔اب اس نے ولادت مسیح کی اعجازی نوعیت کا انکار کیا ہے ...ملحد اور بے دین کی اقتدا درست نہیں اورعالم صاحب [ عنایت اللہ اثری ( ناقل ) ] کے متعلق علماء نے کفر کا فتوی دیا ہے ...حضرت مسیح کو ایسے شخص کی طرف منسوب کرنا جو اُن فی الحقیقت باپ نہیں،ماں اور بیٹے دونوں کی توہین اور ان پر بدکاری کی تہمت ہے آپ کے عالم صاحب ( عنایت اللہ( ناقل ) یہودی معلوم ہوتے ہیں ۔ یہودی حضرت مریم کے متعلق یہی کہتے ہیں ...اگر عالم صاحب کو کوئی کہے کہ آپ کی اہلیہ نے فلاں آدمی سے بچہ جنا ہے ۔یہ کہاں تک خوش ہوں گے۔ صرف باپ ہونا خوبی نہیں ، صحیح باپ ہونا خوبی ہے ۔ اگر عالم صاحب کی اہلیہ کوئی ایسی غلطی کرکے ان کو کہتی کہ آپ نہ سہی ،بہرطور اس بچے کا باپ تو ہے تو کیا فتویٰ ہوتا؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسے شخص کی اقتداء بے دین اور ملحد ہی کر سکتا ہے ۔ ‘‘

( الاعتصام لاہور ۴؍ستمبر۱۹۷۰ صفحہ ۴)

قرآن کی تفسیر خواہش کے مطابق کرنے کی جسارت 

مولانا عبد القادر حصاری غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’آج ملحد لوگ اور گمراہ فرقوں کے علماء اور کئی اہلِ حدیث آزاد شاہ اور اہلِ بدعت گمراہ کتاب و سنت کی تفسیر اپنی رائے اور قیاس اور خواہشات کے مطابق کر رہے ہیں جو شرعی محاورہ کے خلاف ہونے کے علاوہ دیگر اصول شریعہ بلکہ قرآن و حدیث و اقوالِ صحابہ ؓ و تابعین و تبع تابعین و ائمہ محدثین رحمہم اللہ تعالیٰ کی تشریحات کے بھی خلاف ہے سو ایسے لوگ گمراہ اور جہنمی ہیں اور جو اہلِ سنت سے خارج ہیں ۔ ‘‘

( اصلی اہل سنت کی پہچان صفحہ۱۷۵ ، ناشر:مکتبہ اصحاب الحدیث اردو بازار لاہور ، سن طباعت: فروری ؍۲۰۰۲ء)

مولانا عبد القادر حصاری غیرمقلد عنوان قائم کرتے ہیں: 

’’ کتاب و سنت کی اپنی رائے و قیاس سے تفسیر کرنے والے اہلِ سنت سے خارج ہیں ۔‘‘

( اصلی اہل سنت کی پہچان صفحہ۱۷۴ ، ناشر:مکتبہ اصحاب الحدیث اردو بازار لاہور ، سن طباعت: فروری ؍۲۰۰۲ء)

تفسیر میں طریقہ سلف سے انحراف 

حافظہ مریم مدنی نے لکھا: 

’’مولانا امرتسری نے ……بعض مقامات پر تفسیر کرتے ہوئے سلف کے طریق کار سے انحراف کیا۔ اس وقت کے علماء مثلاً امام عبد الجبار غزنوی ، مولانا عبد الواحد غزنوی ، مولانا احمد اللہ امرتسری ؒ اور دیگر معاصر علماء نے اس روش پر شدید احتجاج کیا ۔ ‘‘

(محدث روپڑی اور تفسیری درایت کے اصول ، مقالہ برائے ایم فل علامہ اسلامیہ صفحہ ۸)

 تفسیر میں گمراہوں کی تائید کرنے کی جسارت 

حافظہ مریم مدنی نے مولانا عبد القادر روپڑی غیرمقلد سے نقل کیا : 

’’تفسیر القرآن بکلام الرحمن کے مقامات مذکورہ بلاشبہ ایسے ہیں کہ فرق ضالہ کے خیالات کو تائید پہنچا سکتے ہیں اور اہل السنت اور اہلِ حدیث کے مخالف اس سے خوش ہوں اور عند المقابلۃ اس تفسیر سے تمسک کریں ۔ ‘‘ 

(محدث روپڑی اور تفسیری درایت کے اصول ، مقالہ برائے ایم فل علامہ اسلامیہ صفحہ ۱۴)

 تفسیر میں من مانی کرکے معجزات کا انکار کرنا

حافظہ مریم مدنی نے مولانا عبد اللہ روپڑی کی کتاب ’’ درایت تفسیری ‘‘ کے تعارف میں لکھا: 

’’اس کتاب کی وجہ تالیف محدث روپڑی ؒ نے اس کے مقدمہ میں یوں بیان کی ہے !مولوی ثناء اللہ (امرتسری ) نے بعنوان ’’ اجتہادو تقلید ‘‘ ایک رسالہ لکھا ہے ۔اس میں انہوں نے نصاب ِ اجتہاد اور نصاب ِ تفسیر پر بحث کی ہے اوریہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن مجید کا سمجھنا صرف عربی زبان جاننے پر موقوف ہے یعنی نصاب تفسیر علوم عربیہ ہیں اور اس کے ثبوت کے طور پر عربی زبان میں ایک تفسیر لکھی ہے جو ’’ تفسیر القرآن بکلام الرحمن ‘‘ کے نام سے مشہور ہے ۔ اس میں انہوں نے علوم عربیہ (محاورہ عرب ) کی بنیاد پر اکثر معجزات اور خرق عادات کا انکار کیا ہے اور فرق ضالہ (معتزلہ نیچیریہ وغیرہ کی موافقت کی ہے ۔ ‘‘ 

(محدث روپڑی اور تفسیری درایت کے اصول ، مقالہ برائے ایم فل علامہ اسلامیہ صفحہ۴۹)

آیت کی غلط تفسیرکرنا 

مولانا ثناء اللہ امرتسری غیرمقلد نے رسالہ ’’ اجتہاد و تقلید ‘‘ کی ساتویں فصل میں لکھا: 

’’ آیت کریمہ ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین له الھدی و یتبع غیر سبیل المؤمنین نوله ماتولی ونصله جھنم سے اجماع ثابت نہیں ہوتا کیوں کہ اس آیت میں ……‘‘ 

(محدث روپڑی اور تفسیری درایت کے اصول ، حافظہ مریم مدنی کا مقالہ برائے ایم فل علامہ اسلامیہ صفحہ ۱۹۳)

حالا ں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس آیت سے اجماع کی حجیت پر استدلال کیا اور بعد کے علماء نے اس استدلال کو سراہاہے ۔

قرآنی احکام کو تبدیل کر دینے کی ترغیب 

غیرمقلدین کے رسالہ’’ الاعتصام ‘‘ میں لکھا ہے : 

’’ مسئلہ اجتہاد کے مصنف اور ادارہ ثقافت کے اہم رکن مولانا محمد حنیف صاحب ندوی نے دائرہ اجتہاد کی وسعتوں پرمشہور کمیونسٹ ’’اخبار امروز ‘‘ کے دہ سالہ نمبر مجریہ ۳؍ مارچ ۵۸ء میں ایک مضمون شائع کرایا ہے جسکی پیچ در پیچ عبارت میں مصداق لیا بالسنتھم فرمایا یہ گیا ہے کہ ’’ مسئلہ وراثت اور عورتوں سے متعلقہ قرآن و حدیث کے صریح حکم تک کو آج کے ارتقائی دَور میں تبدیل کر دینے کی ضرورت ہے ۔ ‘‘ پھر تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ ’’ ایسا کرنا ہوگا ورنہ زمانہ کا مفتی علمائے کرام کے فتوے کا انتظار نہیں کرے گا ۔ نئی تبدیلیاں ، نئی فقہ اور نئے قانون کی تدوین بہر حال کرکے رہے گا۔‘‘ ( ص ۱۳۲)واضح رہے کہ مضمون نگار جمعیت اہلِ حدیث کی مجلس عاملہ کے رکن ہیں ۔‘‘ 

( الاعتصام لاہور ، اشاعتِ خاص بیاد مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی صفحہ ۹۳۶)

بھوجیانی صاحب کی یہی عبارت مذکورہ کتاب کے صفحہ ۷۷۲پہ بھی منقول ہیں۔ 

 قرآنی احکام پر درانتی چلانے کی مذموم حرکت 

غیرمقلدین کے رسالہ’’ الاعتصام ‘‘ میں لکھا ہے : 

’’ ادارہ ثقافت نے ’’ مسئلہ اجتہاد ‘‘ مستقل کتاب بھی شائع کی جس میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ تبدیلی احوال کی بنا پر اجتہاد جدید کی درانتی سے قرآن وحدیث کے ہر صریح حکم (نص) کو کاٹا جا سکتا ہے ۔‘‘

 ( الاعتصام لاہور ، اشاعتِ خاص بیاد مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی صفحہ ۹۳۶) 

بھوجیانی صاحب کی یہی عبارت مذکورہ کتاب کے صفحہ ۷۷۲پہ بھی منقول ہیں۔یاد رہے کہ ’’مسئلہ اجتہاد ‘‘ مولانا حنیف ندوی غیرمقلد کی کتاب ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے ۔ ان شاء اللہ 

سورۃ فاتحہ قرآن کا حصہ ہے تو ؟

مولانا عبد الغفار خیری اپنے مضمون ’’ سورۃ الفاتحہ‘‘ میں لکھتے ہیں :

’’اکثر کتابوں میں پیش لفظ یا دیباچہ یا تقریظ شروع میں ہوتی ہے۔یہ پیش لفظ یا دیباچہ یا تقریظ اگرچہ کتاب کے شروع میں ہوتی ہے پھر بھی اس کو کتاب نہیں کہا جاتا۔ اسی طرح قرآن عظیم کی شروعات ’’ الم‘‘ سے ہوتی ہے ۔ بغرض آسانی قرآن عظیم کے تیس پارہ کئے گئے ہیں جس مسلمان سے پوچھا جائے تیس ہی بتائے گا۔ دریافت کرکے دیکھ لو ، ہر ایک ’’ الم ‘‘ کو پہلا پارہ اور ” عم یتساء لون ‘‘ کو آخری یعنی تیسیواں پارہ بتائے گا۔ قرآن عظیم پہلے پارہ ’’ الم ‘‘ سے شروع ’’ عم یتساء لون ‘‘ تیسویں پارہ پر ختم ہوتا ہے تو سوال یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کس پارہ میں ہے ۔ ہرمسلمان کے گھر میں قرآن عظیم موجود ہے ۔ اس میں دیکھو کہ یہ سورۃ فاتحہ قرآن عظیم کے کون سے پارے میں ہے ۔ پہلا پارہ کون سا ہے اور آخری پارہ کون سا ہے ۔ یہ مانا کہ قرآن مبین میں سورہ فاتحہ ہے تو کس طرح ہے اور کون سے پارہ میں ہے ۔ ‘‘ 

( صحیفہ اہلِ حدیث کراچی یکم و ۱۶؍جمادی الثانی۱۳۸۱ھ صفحہ۱۵)

خیری صاحب اس عبارت میں’’یہ پیش لفظ یا دیباچہ یا تقریظ اگرچہ کتاب کے شروع میں ہوتی ہے پھر بھی اس کو کتاب نہیں کہا جاتا۔‘‘ لکھ کر کیا تاثر دینا چاہتے ہیں ؟ یہی کہ جس طرح تقریظ کو کتاب نہیں کہا جاتا ہے اسی طرح فاتحہ بھی قرآن نہیں ؟ اگر کچھ اور مطلب ہے تو واضح کریں۔ 

سورہ فاتحہ سے لے کر سورۃ الناس تک سب سورتیں قرآن ہے ۔ اس لئے فاتحہ بھی قرآن میں شامل ہے 

اور بخاری میں حدیث نبوی ہے : ھی اعظم سورۃ من القرآن ، یہ قرآن کی بہت عظمت والی سورت ہے ۔ باقی رہی سپاروں کی تقسیم تو اس کی بابت خود خیری صاحب نے یوں ’’ بغرض آسانی قرآن عظیم کے تیس پارہ کئے گئے ہیں‘‘ لکھ دیا ہے ۔خیر ی صاحب سے یہ سوال بھی بجا ہے کہ سب کے ہاں یہ بات مسلّم ہے کہ قرآن کی ۱۱۴ سورتیں ہیں اگر سورت فاتحہ قرآن کا حصہ نہیں تو پھر ۱۱۴ سورتیں کیسے ہیں؟ 


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...