نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۷۵ : اگر ذمی کافر جزیہ ادا کرنے سے انکار کر دے یا کسی مسلمان کو قتل کر ڈالے یا نبی علیہ السلام کو گالیاں دے یا کسی مسلمان عورت سے زنا کرے پھر بھی اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا۔

 


اعتراض نمبر ۷۵


من امتنع من الجزية أو قتل مسلمًا أو سب النبي عليه السلام أو زنى بمسلمة لم ينقض عهده.


(ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۷۵ فصل فيما ينافي الذمي)


یعنی اگر ذمی کافر جزیہ ادا کرنے سے انکار کر دے یا کسی مسلمان کو قتل کر ڈالے یا نبی علیہ السلام کو گالیاں دے یا کسی مسلمان عورت سے زنا کرے پھر بھی اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا۔


جواب نمبر ۱:


(درایت محمدی ص ۱۰۴، ہدایت محمدی ص ۱۲)


شارح ہدایہ مولانا جمیل احمد صاحب اس کی شرح میں لکھتے ہیں:


تشریح:


وَمَنِ امْتَنَعَ مِنَ الْجِزْيَةِ ...... الخ


ذکورہ باتوں سے ذمی کا معاہد ختم نہیں ہوگا اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اس سے معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہنے سے جس طرح ایک مسلمان کا ایمان ختم ہو جاتا ہے اسی طرح ذمی کا امان بھی ختم ہو جاتا ہے کیونکہ امان کا عہد، عہدِ ایمان کے قائم مقام ہوتا ہے۔ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہنا اس کی جانب سے کفر ہے، اور ذمی بنانے کے وقت جو کفر اس کے اندر لگا تھا وہ ذمی بننے کے لیے مانع نہیں ہوا تو یہ کفر جو بعد میں اس پر طاری ہوا ہے وہ ذمی کے معاہدہ کو ختم نہیں کرے گا۔


میں مترجم کہتا ہوں کہ ذمی کا معاہدہ کرتے وقت جو کفر تھا وہ اس کے اعتقاد کی وجہ سے تھا مگر موجودہ کفر مسلمانوں کے اعتقاد کی توہین کرنے سے ہے۔ لہٰذا ایسے موذی شخص کو قتل کرنا ہی اولیٰ ہے۔ اور در المنتقیٰ میں ہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق برے کلمات اعلانیہ نہ کہے۔ کیونکہ اگر اس نے اعلانیہ کہا یا اس کی عادت بنا لی تو اسے قتل کر دینا چاہیے اگرچہ وہ عورت ہی ہو۔ اس حکم پر اس زمانہ میں فتویٰ دیا جائے گا جیسا کہ رد المحتار میں ہے۔


اور حدیث میں ہے کہ جب کعب بن اشرف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی، جو کہ مدینہ کا یہودی تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کعب بن اشرف کے واسطے کون ہے؟ یہ سن کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے میں کافی ہوں۔ بالآخر اسے قتل کر دیا، جیسا کہ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔ اسی طرح ابو رافع کے قتل کا قصہ بھی بخاری نے روایت کیا ہے۔ اسی طرح ابن خطل کو اس کے ہجو کرنے کے جرم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کرا دیا۔ اسی طرح ایک زبردست شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کرتا پھرتا تھا تو اسے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا۔ اور عبدالرزاق نے روایت کی ہے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کرتا تھا، اسے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی و زبیر رضی اللہ عنہما کو ایک ہجو کرنے والے کی طرف بھیجا، انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ اور ابن سعد و ابن عساکر نے روایت کی ہے کہ مہاجر بن ابی امیہ جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے یمن کا حاکم تھا، اسے خبر ملی کہ یہاں ایک عورت ایسی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کا گیت گاتی ہے۔ اس پر مہاجر نے اسے پکڑ کر اس کا ہاتھ کاٹ لیا اور اس کے دانت توڑ دیے۔ جب یہ خبر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو فرمایا کہ اگر تم ایسا کر کے نہ آتے تو میں تم کو یہ حکم دیتا کہ اس عورت کو قتل کر دو۔


اور ابوداؤد و نسائی نے ابو برزہ اسلمی سے روایت کی ہے کہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ اس وقت آپ نے ایک شخص سے کچھ سخت کلامی کی تھی۔ اس نے جواب میں آپ کو برا بھلا کہا تو میں نے عرض کیا اے خلیفہ رسول اللہ! آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں، تو فرمایا کہ تم بیٹھ جاؤ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی دوسرے کو اس کا حق نہیں ہے۔ اور بیہقی نے اس کی روایت کی اور اس کی تصحیح بھی کی ہے۔


اور معینی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بدگوئی کرے میں اس کے قتل کا فتویٰ دوں گا۔ اور اس کے قریب ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور یہی قول امام مالک، احمد، شافعی و غیرہم رحمہم اللہ کا ہے۔ اور ابن المنذر نے کہا ہے کہ عامہ علماء کا یہی قول ہے۔


شیخ ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ ذمی سے جزیہ لے کر اس کا قتل اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک کہ وہ عاجزی کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ اور جیسے ہی وہ برائی اور بدگوئی کرے گا تو اس کا یہ عمل مسلمانوں کے خلاف سرکشی و تکبر ہوگا۔ اس لیے اس کا قتل مباح ہو جائے گا۔


وهذا هو الحق والله تعالى أعلم

(اشرف الہدایہ ج ۷، ص ۱۱۹، ۱۲۰)


----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...