اعتراض نمبر ۶۶: حمام میں سے یا ایسے گھر میں سے جس میں اسے جانے کی اجازت ہو کوئی چیز چرالائے تو اس پر بھی حد نہیں۔
اعتراض نمبر ۶۶
لا قطع على من سرق مالا من حمام أو من بيت أذن للناس في الدخول فيه.
(ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۲۲ فصل فی الحرز)
یعنی حمام میں سے یا ایسے گھر میں سے جس میں اسے جانے کی اجازت ہو کوئی چیز چرالائے تو اس پر بھی حد نہیں۔
(درایت محمدی ص ۱۰۲، ہدایت محمدی ص ۱۲)
جواب:
اس کے آگے ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ بھی لکھی تھی جو جوناگڑھی نے نقل نہیں کی۔ اس کے آگے لکھا تھا:
کیونکہ (حمام میں) عادۃً دخول کی اجازت ہوتی ہے یا دخول کی حقیقتاً اذن حاصل ہے، لہٰذا حرز مختل ہو گیا، اور اس میں تجارتی دکانیں اور سرائے خانے شامل ہیں۔ لیکن اگر ان مقامات سے رات میں چوری کی تو قطع ہوگا، کیونکہ یہ اموال کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں اور (دخول کی) اجازت دن کے ساتھ مختص ہے۔
(احسن الہدایہ ج ۶، ص ۳۴۰)
شارح ہدایہ مولانا میر الدین قاسمی حنفی اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں۔
تشریح:
پچھلے زمانے میں غسل کرنے کے لیے حمام بناتے تھے جس میں ہر آدمی داخل ہو سکتا تھا، اس لیے وہ مقام محفوظ نہیں رہا۔ اسی طرح ہر وہ مقام جس میں آدمی کو داخل ہونے کی اذنِ عام ہو، جیسے مسجد، سرائے خانہ، وہ مقامات حرز نہیں ہیں، تو ان مقامات سے چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
(اثمار الہدایہ، ج ۷، ص ۴۴)
اس مسئلہ کا ثبوت احادیث میں بھی موجود ہے۔
حدیث:
جبیر بن نفیر سے مروی ہے کہ ابو الدرداء سے حمام سے چوری کرنے والے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس پر قطعِ ید نہیں ہے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ)
مسئلہ کی وضاحت:
امام طحاوی فرماتے ہیں کہ چور اگر اس حمام سے چوری کرے جس میں داخل ہونے کی اسے اجازت ہے تو اس پر قطعِ ید نہیں ہے، بشرطیکہ وہ مال غیر محفوظ ہو، چونکہ حمام میں عام آنے جانے کی اجازت ہے لہٰذا مال غیر محفوظ ہے اور غیر محفوظ مال کی چوری میں قطعِ ید نہیں ہوتا۔ ہاں اگر مالک اس کے پاس ہو تو پھر یہ مال محفوظ ہے، اس وقت چوری کرنے میں قطعِ ید ہوگا۔
بلال بن سعد سے مروی ہے کہ ابو الدرداء کے پاس حمام سے چوری کرنے والا چور لایا گیا تو آپ نے اس کا ہاتھ نہ کاٹا۔
ابن حزم یہ حدیث “ابو الدرداء باب السرقة من الحمام” کے تحت وکیع عن سعید کے واسطے سے لائے ہیں۔ اس میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ راوی کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے کوئی بھی اس مسئلہ میں ابو الدرداء کا مخالف نہیں پایا جاتا۔
(الجوہر النقی)
جوہر النقی میں یہ بھی ہے کہ یہ تمام سندیں عمدہ ہیں۔
(اعلاء السنن مترجم ج ۳ ص ۲۰۴)
اثمار الہدایہ، ج ۷، ص ۴۴ میں ہے:
عن أبي الدرداء قال: ليس على سارق الحمام قطع.
(سنن للبيهقي باب القطع في كل ما له ثمن إذا سرق من حرز وبلغت قيمته ربع دينار ج ۸ ص ۴۵۸، حدیث نمبر ۱۷۲۰۶ / مصنف عبد الرزاق باب سارق الحمام وما لا يقطع فيه، ج ۹، ص ۵۱۱، حدیث نمبر ۱۸۱۸۷)
اس قولِ صحابی سے معلوم ہوا کہ حمام یعنی غسل خانہ سے چرائے تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اور ایسے گھر کا حکم بھی یہی ہے کیونکہ وہاں بھی حرز نہیں پایا گیا۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں