اعتراض نمبر ۷۴ : اگر چور نے کپڑا چرایا اور سرخ رنگ رنگ لیا تو ہاتھ تو کاٹا جائے گا لیکن کپڑا اسی کا ہو گیا، نہ تو واپس لیا جائے نہ وہ اس کپڑے کی قیمت کا ضامن ہے۔ امام ابو حنیفہ کی فقہ یہی ہے اور قاضی ابو یوسف کی قضا بھی یہی ہے۔
اعتراض نمبر ۷۴
(نصب الرایہ ج ۲، ص ۱۰۴، بحوالہ اعلاء السنن مترجم ج ۴، ص ۵۹۷)
فإن سرق ثوبا فصبغه أحمر قطع ولم يؤخذ منه الثوب ولم يضمن قيمة الثوب وهذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف.
(ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۲۹ باب ما يحدث السارق)
یعنی اگر چور نے کپڑا چرایا اور سرخ رنگ رنگ لیا تو ہاتھ تو کاٹا جائے گا لیکن کپڑا اسی کا ہو گیا، نہ تو واپس لیا جائے نہ وہ اس کپڑے کی قیمت کا ضامن ہے۔ امام ابو حنیفہ کی فقہ یہی ہے اور قاضی ابو یوسف کی قضا بھی یہی ہے۔
(درایت محمدی ص ۱۰۴، ہدایت محمدی ص ۱۲)
جواب:
جوناگڑھی نے مسئلہ پورا نقل نہیں کیا۔ ہم پہلے ہدایہ کی مکمل عبارت کا ترجمہ نقل کرتے ہیں جس سے مسئلہ صاف ہو جائے گا۔
ہدایہ کی مکمل عبارت کا ترجمہ:
اگر کسی نے ایک کپڑا چرا کر اسے لال رنگ سے رنگ دیا تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور وہ کپڑا اس سے نہیں لیا جائے گا۔ ساتھ ہی وہ اس کپڑے کی قیمت کا ضامن بھی نہ ہوگا۔ یہ قول امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کا ہے۔ اور امام محمد نے کہا ہے کہ اس سے کپڑا لے لیا جائے گا اور رنگ دینے سے اس کی قیمت میں جو زیادتی ہوئی ہے وہ اسے دے دی جائے گی۔
(اشرف الہدایہ، ج ۶ ص ۲۶۱)
آگے مزید لکھا ہے:
اور اگر چور نے اس کپڑے کو سیاہ رنگ سے رنگ دیا ہو تو دونوں اماموں یعنی امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک اس سے لے لیا جائے گا۔
لیکن امام ابو یوسف کے نزدیک دونوں رنگ یعنی سرخ ہو یا سیاہ کی صورتیں یکساں ہیں، کیونکہ ابو یوسف کے نزدیک سیاہ رنگ سے کپڑے میں اس طرح کی زیادتی ہو جاتی ہے جس طرح سرخ رنگ کے رنگنے سے ہوتی ہے۔ اور امام محمد کے نزدیک بھی اگرچہ سیاہی میں بھی سرخی کی طرح ہی زیادتی ہوتی ہے لیکن رنگ چونکہ کپڑے کے تابع ہوتا ہے اس لیے کپڑے سے اصل مالک کا حق ختم نہیں ہوسکتا ہے۔ اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک سیاہی سے کپڑے میں نقصان آجاتا ہے، اس لیے یہ رنگ مالک کے حق کو ختم نہیں کر سکتا۔
(اشرف الہدایہ، ج ۶ ص ۲۶۲)
ہم نے ہدایہ کا مکمل مسئلہ نقل کر دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ بھی۔
رنگ والے کپڑے کی واپسی کے قائل ہیں۔
سرخ اور سیاہ رنگ کے فرق کا مسئلہ:
مولانا جمیل احمد سکروڈھوی لکھتے ہیں:
فائدہ: محققین نے کہا ہے کہ امام صاحب اور صاحبین کا یہ اختلاف اصلی نہیں ہے بلکہ اپنے اپنے زمانہ کی حالت ہے کیونکہ امام اعظم کے زمانہ میں بنی امیہ کی حکومت میں سرخ رنگ کی قدر اور اہمیت تھی اور سیاہ رنگ ایک قسم کا عیب شمار ہوتا تھا۔ لیکن صاحبین کے زمانہ میں عباسیہ کی سلطنت میں سیاہ رنگ کی قدر ہو گئی، اسی لیے یہ اختلاف زمانہ کے اعتبار سے ہے۔
(اشرف الہدایہ، ج ۶ ص ۲۶۲)
چیز واپس کرنے کے بارے میں بھی روایتیں دونوں قسم کی ہیں اس لیے اختلاف ہوا ہے۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں