اعتراض نمبر ۷۰:
من نقب البيت وأدخل يده فيه وأخذ شيئًا لم يقطع.
(ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۲۴ فصل فی الحرز)
یعنی چور نے اگر نقب لگا کر اور اس میں سے ہاتھ بڑھا کر چوری کی تو ہاتھ نہ کاٹا چاہیے۔
جواب:
(درایت محمدی ص ۱۰۳، ہدایت محمدی ص ۱۲)
اس عبارت کی شرح کرتے ہوئے مولانا شمیر الدین لکھتے ہیں۔
تشریح:
کسی نے کمرے میں سوراخ کر کے ہاتھ ڈالا، خود داخل نہیں ہوا اور اندر سے کچھ نکال لیا تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
وجہ:
(۱) کمرہ خود حرز ہے۔ اس سے چرانے کا طریقہ یہ ہے کہ خود آدمی کمرے میں داخل ہو اور وہاں سے ساتھ سامان لائے تب چوری ہوگی۔ اور یہاں خود کمرے میں داخل نہیں ہوا بلکہ ہاتھ ڈال کر نکالا ہے، اس لیے چوری نہیں پائی گئی، اس لیے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
(۲) اس قولِ صحابی میں ہے:
أتي علي رضي الله عنه برجل نقب بيتا فلم يقطعه وعذره لسؤاله.
حضرت علیؓ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے گھر میں نقب لگایا تھا تو آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا اور اس کے سوال کی وجہ سے اس کے عذر کو قبول کیا۔
(مصنف عبدالرزاق باب في الرجل ينقب البيت ويؤخذ منه المتاع، ج ۹، ص ۴۹۳، حدیث نمبر ۱۹۰۹۲)
اس قولِ صحابی سے معلوم ہوا کہ اس طرح نقب لگانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
مزید آگے لکھتے ہیں:
ہماری دلیل یہ ہے کہ حرز کو توڑنے میں کمال ہونا چاہیے، اور کمال اس وقت ہوگا جب کہ صرف ہاتھ داخل نہ کرے بلکہ جسم کے ساتھ داخل ہو جائے۔ اس کمال کا اعتبار کرنا ممکن ہے اور عادت میں بھی ایسا ہے کہ چور کمرے میں جسم کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔ اس لیے کمرے میں داخل ہو کر چرائے گا تو ہاتھ کاٹا جائے گا، ورنہ نہیں۔
(اثمار الہدایہ، ج ۷، ص ۵۰)
نوٹ: حد کے علاوہ دوسری سزا دی جائے گی۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں