اعتراض نمبر ۷۳: اگر کسی چور نے بکری چرائی لیکن وہیں اسے ذبح کر ڈالا پھر نکال لے گیا تو اس کا ہاتھ بھی نہ کاٹنا چاہیے۔
اعتراض نمبر ۷۳:
إن سرق شاة فذبحها ثم أخرجها لم يقطع.
(ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۲۹ باب ما يحدث السارق)
یعنی اگر کسی چور نے بکری چرائی لیکن وہیں اسے ذبح کر ڈالا پھر نکال لے گیا تو اس کا ہاتھ بھی نہ کاٹنا چاہیے۔
(درایت محمدی ص ۱۰۴، ہدایت محمدی ص ۱۲)
جواب:
اس کے آگے ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ لکھی تھی، وہ جوناگڑھی نے نقل نہیں کی۔
اس کے آگے لکھا ہے:
اس لیے کہ گوشت پر چوری واقع ہوئی اور گوشت سے ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ہے۔
(اثمار الہدایہ، ج ۷، ص ۸۱)
مسئلہ کی وضاحت:
کوئی چور کسی کے ایسے گھر میں داخل ہوا جہاں پر بکریاں ہوں یا ایک بکری ہو اور اس نے اس گھر کی بکری چوری کر کے اسی کے گھر میں اس کو ذبح کر کے گوشت بنالیا اور اس گوشت کو لے کر اس کے گھر سے باہر نکلا۔ اب اس چور کو گوشت چور کہیں گے نہ کہ بکری چور۔ اگر بکری اس کے گھر سے زندہ لے کر نکلتا تو بکری چور ہوتا، اور اگر اس بکری کی قیمت دس درہم تک ہوگی تو اس صورت میں اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا۔
شارح ہدایہ مولانا میر الدین قاسمی حنفی اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں۔
تشریح:
یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ گوشت کی چوری کی تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور یہاں گھر سے جو باہر نکالا وہ گوشت ہے اس لیے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
(اثمار الہدایہ، ج ۷، ص ۸۱)
حدیث:
حسن بصری سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کھانے کی چوری کرنے میں ہاتھ نہ کاٹوں گا۔
(مراسیل ابی داؤد، بحوالہ اعلاء السنن مترجم ج ۳ ص ۵۹۶)
حدیث:
حسن بصری سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے آدمی کو لایا گیا جس نے کھانا چوری کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ نہ کاٹا۔
(مصنف ابن ابی شیبہ بحوالہ اعلاء السنن مترجم، ج ۳ ص ۵۹۷)
اور مصنف عبدالرزاق کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ اس سے وہ کھانا مراد ہے جو اسی دن خراب ہو جائے جیسے ثرید اور گوشت وغیرہ۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں