نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۷۱: ایک چور نے چوری کی۔ دو گواہوں نے گواہی دی لیکن بلا دلیل جھوٹ موٹ اس نے کہہ دیا کہ یہ میرا مال ہے تو بھی اس کا ہاتھ نہ کاٹنا چاہیے۔

 


اعتراض نمبر ۷۱:


إذا ادعى السارق أن العين المسروقة ملكه سقط القطع عنه وإن لم يكن بينة، معناه بعد ما شهد الشاهدان بالسرقة.


(ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۲۹ فصل فی كيفية القطع)


یعنی ایک چور نے چوری کی۔ دو گواہوں نے گواہی دی لیکن بلا دلیل جھوٹ موٹ اس نے کہہ دیا کہ یہ میرا مال ہے تو بھی اس کا ہاتھ نہ کاٹنا چاہیے۔

(درایت محمدی ص ۱۰۳، ہدایت محمدی ص ۱۲)

جواب:


شارح ہدایہ مولانا شمیر الدین قاسمی حنفی اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں۔


تشریح:


دو گواہوں نے گواہی دی کہ اس نے چوری کی ہے۔ اس کے بعد چور نے دعویٰ کیا کہ یہ چیز میری ہے۔ تو چاہیے اس کی چیز ہونے پر گواہی پیش نہ بھی کی ہو، لیکن یہ شبہ ہو گیا کہ یہ چیز اس کی ہے، اس لیے اب چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔


وجہ:


اس کی وجہ یہ ہے کہ اوپر گزرا کہ چوری کے مال میں چور کا حصہ ہو جائے یا حصے کا شبہ ہو جائے تب بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ یہاں ملکیت کے دعویٰ کے بعد حق کا شبہ ہو گیا، اس لیے حد ساقط ہو جائے گی۔


(۲) قولِ تابعی میں اس کا ثبوت ہے کہ خریدنے کا صرف دعویٰ کیا تو حد ساقط ہو جائے گی۔

قال عطاء: إن وجدت سرقة مع رجل سوء يتهم فقال ابتعتها فلم ينفذ ممن ابتاعها منه أو قال وجدتها لم يقطع ولم يعاقب.


(مصنف ابن أبي شيبة، باب في الرجل المتهم يوجد معه المتاع، ج ۵، ص ۵۵۰، حدیث نمبر ۲۸۹۱۳، مصنف عبدالرزاق باب التهمة، ج ۹، ص ۵۰۹، حدیث نمبر ۱۹۱۶۶)

حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی برے اور متہم آدمی کے پاس چوری کا مال پایا گیا تو اس نے کہا یہ میں نے خریدا ہے تو حد نافذ نہیں ہوگی اس پر جس سے اس نے خریدا ہو، یا اس نے کہا کہ مجھے یہ ملا ہے تو بھی نہ ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ دوسری سزا ہوگی۔


اس قولِ تابعی سے معلوم ہوا کہ خریدنے کا دعویٰ کرے پھر بھی حد ساقط ہو جائے گی، چاہے بیّنہ پیش نہ کیا ہو۔ کیونکہ اس اثر میں خریدنے پر بیّنہ پیش نہیں کیا پھر بھی حد ساقط ہو گئی۔

(اثمار الہدایہ، ج ۷، ص ۶۹)


----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین : سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ

 *مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین*  صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرنے کی احادیث کا مجموعہ مرفوع موقوف اور آثار کتب احادیث سے *✍️۔۔ ابو محمد آصف بن یوسف ۔۔🔸*  *(النعمان سوشل میڈیا سروسز)* *🌹سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ 🌹* سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ *♦️ حدیث نمبر... 1️⃣♦️* 🔹۔۔۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ۔۔۔  🔹۔۔۔ سیدناجابربن سمرہ رضہ نےفرمایا رسول اقدسﷺ ھم پرداخل ھوئےاور لوگ(صحابہ) رضہ نماز کے اندر رفع الیدین کررہے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ھے کہ میں تمہیں دی...