اعتراض نمبر ۶۷ : مہمان اپنے میزبان کے گھر سے چوری کرے تو اس پر بھی حد نہیں، یعنی اس کا ہاتھ بھی نہ کاٹا جائے۔
اعتراض نمبر ۶۷
لا قطع على الضيف إذا سرق ممن أضافه.
(ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۲۳ فصل فی الحرز)
یعنی مہمان اپنے میزبان کے گھر سے چوری کرے تو اس پر بھی حد نہیں، یعنی اس کا ہاتھ بھی نہ کاٹا جائے۔
(درایت محمدی ص ۱۰۲، ہدایت محمدی ص ۱۲)
جواب:
ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ اس عبارت کے آگے لکھی تھی جو جوناگڑھی نے نقل نہیں کی۔ پوری عبارت اس طرح تھی:
اور اس مہمان چور پر قطع نہیں ہے جو میزبان کا مال چرالے، کیوں کہ مہمان کے مأذون فی الدخول ہونے کی وجہ سے میزبان کا گھر اس کے حق میں محرز نہیں ہے، اور اس لیے کہ مہمان گھر میں رہنے والوں کے درجے میں ہے، لہٰذا اس کا فعل خیانت ہوگا، سرقہ نہیں ہوگا۔
(احسن الہدایہ ج ۶، ص ۳۴۰)
شارح ہدایہ مولانا میر الدین قاسمی حنفی اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں:
تشریح:
مہمان نے میزبان کی چیز چرالی تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
وجہ:
سئل الزهري عن رجل ضاف قوما فاختانهم فلم ير عليه قطعا.
ترجمہ: امام زہری سے پوچھا گیا کہ اس آدمی کا کیا حکم ہے جس نے کسی قوم کی ضیافت کی اور ان کے ساتھ خیانت کی (ان کی چیزیں چرالیں) تو امام زہری نے اس پر ہاتھ کاٹنے کا حکم نہیں لگایا۔
(مصنف عبدالرزاق باب الخيانة، ج ۹، ص ۵۰۲، حدیث نمبر ۱۹۱۳۷)
(۱) اس قولِ تابعی سے معلوم ہوا کہ مہمان میزبان کے گھر سے چرائے تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
(۲) مہمان کے لیے میزبان کا گھر حرز نہیں رہا، کیوں کہ اس میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔
(اثمار الہدایہ، ج ۷، ص ۴۵)
----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں