اعتراض نمبر ۷۲: ایک شخص نے کئی چوریاں کیں۔ ایک میں پکڑا گیا اور ہاتھ کاٹا گیا تو اب کل چوری کے مال کا وہ ضامن نہیں، یعنی مال کا واپس کرنا اس کے ذمہ نہیں۔ امام ابوحنیفہ کا قیاس یہی ہے اور نہ دوبارہ اس پر کوئی حد ہے۔
اعتراض نمبر ۷۲:
من سرق سرقات فقطع في إحداها فهو لجميعها ولا يضمن شيئًا عند أبي حنيفة.
(ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۲۹ فصل في كيفية القطع)
یعنی ایک شخص نے کئی چوریاں کیں۔ ایک میں پکڑا گیا اور ہاتھ کاٹا گیا تو اب کل چوری کے مال کا وہ ضامن نہیں، یعنی مال کا واپس کرنا اس کے ذمہ نہیں۔ امام ابوحنیفہ کا قیاس یہی ہے اور نہ دوبارہ اس پر کوئی حد ہے۔
(درایت محمدی ص ۱۰۳، ہدایت محمدی ص ۱۲)
جواب:
جوناگڑھی نے ہدایہ کی عبارت کا ترجمہ بھی غلط کیا ہے اور مسئلہ بھی مکمل نہیں لکھا۔ صاحبِ ہدایہ نے اس عبارت کے آگے اس مسئلہ کی وجہ بھی لکھی تھی۔ ہم پہلے ہدایہ کی عبارت کا مکمل ترجمہ نقل کرتے ہیں جس سے مسئلہ خود بخود صاف ہو جائے گا۔
ہدایہ کی مکمل عبارت کا ترجمہ:
ترجمہ: اگر کسی نے کئی چوریاں کر لیں اور ان میں سے کسی ایک کے بارے میں اس کا ہاتھ کاٹا گیا تو یہی ایک سزا سب کی طرف سے ہو جائے گی۔ یہاں تک تمام ائمہ کا اتفاق ہے، لیکن تاوان لازم ہونے کے بارے میں تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک کسی بھی چوری کیے ہوئے مال کا وہ شخص ضامن نہ ہوگا، اور صاحبین (امام ابو یوسف اور امام محمد) کے نزدیک وہ شخص چوری کے تمام مال کا ضامن ہوگا سوائے اس مال کی چوری کے جس کے بارے میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے۔
اس مسئلہ کے معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں کے مال چوری ہوئے ان میں سے صرف ایک شخص ہی حاضر ہوا تو وہ صاحبین کے نزدیک باقی لوگوں کے مال کا ضامن ہوگا۔ اور اگر وہ سب کے سب حاضر ہو گئے ہوں اور ان سب کی شکایت پر چور کا ہاتھ کاٹا گیا ہو تو بالاتفاق تمام چوریوں میں سے کسی کا بھی ضامن نہ ہوگا۔
پھر اس اختلافی صورت میں صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ مال کا جو مالک حاضر ہوا وہ دوسرے غائب رہ جانے والوں کی طرف سے نائب نہیں مانا جائے گا، حالانکہ شکایت اور مقدمہ پیش کرنا چوری ظاہر ہونے کے لیے ضروری ہے۔ لہٰذا جو لوگ غائب رہ گئے ان کی طرف سے چوری کا معاملہ پیش نہیں ہوا، اس لیے چور کا ہاتھ کاٹا جانا ان کی چوریوں کے واسطے نہیں ہوا ہے، اس لیے ان کے مال کا احترام باقی رہے گا، یعنی چور ان کے مال کا ضامن ہوگا۔
اور امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ تمام چوریوں کی طرف سے ایک ہی بار ہاتھ کاٹا جانا حقِ الٰہی کی بنا پر واجب ہے کیونکہ حدود میں تداخل ہو جاتا ہے، یعنی کئی حدود کو ایک حد میں داخل کر لیا جاتا ہے۔ اور مطالبہ کرنا اس لیے شرط ہے کہ قاضی کے نزدیک بھی چوری کا ہونا ثابت ہو اور ہاتھ اس لیے کاٹا جاتا ہے کہ چوری جرم ہے۔ پھر جب ایک بار ہاتھ کاٹ لیا گیا تو سزا پورے طور پر یہی تھی جو پوری کر دی گئی۔ کیا نہیں دیکھتے اس کا نفع کل کو پہنچے گا یعنی چور کو اس کی تمام چوریوں پر تنبیہ ہو جائے گی، اس لیے یہی سزا سب کی طرف سے واقع ہوئی، یعنی وہ اب کسی چوری کا ذمہ دار اور ضامن نہ ہوگا۔
اس طرح اگر ہر بار کی چوری کا مال جو دس درہم سے کم نہیں ہے سب ایک ہی شخص کی ملک ہوں اور اس نے ایک بار کی چوری کے سلسلہ میں بھی مطالبہ کر کے اس کا ہاتھ کٹوا دیا تو بھی ایسا ہی اختلاف ہوگا، یعنی صاحبین کے نزدیک ایک بار کے سوا جس کے بارے میں اس کا ہاتھ کاٹا گیا ہے باقی چوریوں کا وہ ضامن ہوگا اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ضامن نہیں ہوگا۔
اس عبارت میں دو مسئلے ہیں:
(۱) حدود میں تداخل کا ہونا۔
(۲) چور کا چوری کے مال کا ضامن ہونا۔
پہلے مسئلہ کی دلیل یہ ہے کہ یہ اتفاقی مسئلہ ہے۔
(اشرف الہدایہ ج ۶، ص ۲۵۸-۲۵۹)
دوسرے مسئلہ کی دلیل یہ حدیث ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: جب چور پر حد قائم کر دی جائے تو اس پر کوئی جرمانہ نہیں۔
(نسائی شریف کتاب قطع السارق باب تعليق يد السارق في عنقه)
----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں