اعتراض نمبر ۶۵: اگر کسی غیر شخص کی چیز اپنے ذی محرم رشتہ دار کے گھر سے کوئی چرائے پھر بھی اس پر حد نہیں۔
اعتراض نمبر ۶۵:
لو سرق من بيت ذي رحم محرم متاع غيره ينبغي أن لا يقطع.
(ہدایہ جلد ۲ ص ۵۲۲ فصل فی الحرز)
یعنی اگر کسی غیر شخص کی چیز اپنے ذی محرم رشتہ دار کے گھر سے کوئی چرائے پھر بھی اس پر حد نہیں۔
(درایت محمدی ص ۱۰۲، ہدایت محمدی ص ۱۲)
جواب:
جوناگڑھی نے مسئلہ مکمل نقل نہیں کیا۔ ہم پہلے مکمل عبارت نقل کرتے ہیں۔
مسئلے کی مکمل عبارت کا ترجمہ اس طرح ہے:
اور اگر کسی نے ذی رحم محرم کے کمرے سے دوسرے کا سامان چرالیا تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جانا چاہیے، اور اگر دوسرے کے گھر سے ذی رحم محرم کا مال چرالے تو اس کا ہاتھ کاٹا جانا چاہیے، حرز اور عدمِ حرز کا اعتبار کرتے ہوئے۔
(احسن الہدایہ، ج ۶ ص ۳۳۵)
شارح ہدایہ مولانا میر الدین قاسمی حنفی اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں۔
تشریح:
ذی رحم محرم کا گھر محفوظ جگہ نہیں ہے، اس لیے وہاں سے کسی اجنبی کا سامان چرائے تو قاعدہ کے اعتبار سے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جانا چاہیے۔
(اثمار الہدایہ ج ۷ ص ۳۸)
اس سے معلوم ہوا کہ ایک جگہ حرز ہے اور ایک جگہ حرز نہیں۔ جہاں حرز نہیں وہاں حد نہیں، جہاں حرز ہے وہاں حد بھی ہے۔
نوٹ: یہاں پر یہ بات ضرور یاد رہے کہ اس جگہ صرف حد کی نفی ہو رہی ہے، باقی رہی تعزیر وغیرہ یا دوسری سزائیں، ان کا مسئلہ الگ ہے، وہ قاضی کی مرضی پر ہے۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں