نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۶۸ : چور نقب لگا کر کسی کے گھر میں گیا اور وہاں سے مال لے کر ایک دوسرے چور کو دے دیا جو گھر کے باہر کھڑا تھا تو نہ اس کے ہاتھ کاٹے جائیں نہ اس کے۔

 


اعتراض نمبر ۶۸


إذا نقب اللص البيت فدخل وأخذ المال وناوله آخر خارج البيت فلا قطع عليهما.


(ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۲۴ فصل فی الحرز)


یعنی چور نقب لگا کر کسی کے گھر میں گیا اور وہاں سے مال لے کر ایک دوسرے چور کو دے دیا جو گھر کے باہر کھڑا تھا تو نہ اس کے ہاتھ کاٹے جائیں نہ اس کے۔


جواب:


(درایت محمدی ص ۱۰۳، ہدایت محمدی ص ۱۲)


ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ اس عبارت سے آگے لکھی ہوئی تھی جو جوناگڑھی نے نقل نہیں کی۔ وہ ہم یہاں پر نقل کرتے ہیں:


کیونکہ اول یعنی داخل ہونے والے نے وہ مال گھر سے نکالا نہیں ہے اور اس مال پر مالک کا قبضہ برقرار ہے، اور ثانی یعنی جس نے باہر سے مال لیا ہے اس کی طرف سے حرز اور حفاظت کو توڑنا نہیں پایا گیا کیونکہ اس نے غیر محرز مال لیا ہے، لہٰذا کسی طرف سے بھی سرقہ تام نہیں ہوا، اس لیے دونوں میں سے کسی پر بھی قطع نہیں ہوگا۔


(احسن الہدایہ ج ۶، ص ۳۴۴)


اشرف الہدایہ میں ہے:


اور اگر کسی چور نے کسی مکان میں کہیں سے سوراخ کر کے اس میں داخل ہو کر اس میں سے کچھ مال لیا اور ہاتھ بڑھا کر اپنے اس ساتھی کو دے دیا جو اس گھر کے باہر کھڑا ہو تو ان دونوں میں سے کسی کا ہاتھ کاٹنا واجب نہیں ہے، کیونکہ اس میں داخل ہونے والے سے مکان کا مال و سامان باہر نکال لینا ثابت نہیں ہوتا ہے کیونکہ اس شخص کے اس گھر سے نکلنے تک پہلے مالک کا معتبر قبضہ ختم نہیں ہوا بلکہ موجود ہے۔


اور باہر سے اس مال کو جس شخص نے لیا ہے اس پر یہ صادق نہیں ہے کہ اس نے مالِ محفوظ نکالا ہے، لہٰذا ان دونوں میں سے کسی ایک پر بھی چوری کی پوری تعریف نہیں پائی گئی۔


(اشرف الہدایہ، ج ۶ ص ۲۳۷)


شارح ہدایہ مولانا شمیر الدین قاسمی حنفی اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں:


تشریح:


چور نے گھر میں سوراخ کیا جس کو نقب لگانا کہتے ہیں، پھر اندر داخل ہو کر مال اٹھایا اور خود گھر سے باہر نہیں لایا بلکہ گھر سے باہر دوسرا چور تھا، اس کو پھینک کر دیا، وہ لے کر گیا، تو نہ گھر میں داخل ہونے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ باہر سے اچکنے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔


وجہ:


(۱) یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ چوری اس کو کہتے ہیں کہ گھر کے اندر جا کر خود مال ساتھ لے کر باہر آئے، تب اس کو چوری کہتے ہیں۔ یہ خود مال ساتھ لے کر باہر نہیں آیا ہے بلکہ دوسرے کو پھینک کر دیا، اور باہر والے نے اچک لیا، اس لیے چوری کا معنی کسی میں نہیں پایا گیا، اس لیے کسی کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ نہ داخل ہونے والے کا کہ مال ساتھ لے کر باہر نہیں آیا، اور نہ باہر والے کا کیونکہ وہ گھر کے اندر سے نہیں لایا بلکہ سڑک پر سے مال اٹھایا ہے جو غیر محفوظ جگہ ہے۔


یہ بات بعض آثار سے ثابت ہے، ملاحظہ فرمائیں:


عن الشعبي قال: لا يقطع السارق حتى يخرج بالمتاع من البيت.


ترجمہ: شعبی فرماتے ہیں کہ چور کا ہاتھ اس وقت تک نہیں کاٹا جائے گا جب تک وہ سامان لے کر گھر سے نہ نکلے۔


(مصنف عبدالرزاق باب السارق يوجد في البيت ولم يخرج بسرقته، ج ۹، ص ۴۹۱، حدیث نمبر ۱۹۰۸۶، مصنف ابن أبي شيبة ص ۱۵۰، في القوم ينقب عليهم فيستغيثون فيجدون قوما يسرقون فيؤخذون معهم، ج ۴، ص ۵۴۹، حدیث نمبر ۲۸۹۱۱)


اس اثر سے معلوم ہوا کہ سامان ساتھ لے کر باہر آیا ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔ یہاں ساتھ لے کر باہر نہیں آیا اور دوسرے نے گھر کے اندر یعنی مقام محفوظ سے مال نہیں اٹھایا بلکہ دوسرے کے ہاتھ سے لیا ہے، اس لیے اس کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔


(اثمار الہدایہ، ج ۷، ص ۴۶-۴۷)


نوٹ: یہاں پر یہ بات یاد رہے کہ اس مسئلہ میں صرف حد کی نفی ہو رہی ہے۔ باقی دوسری سزائیں جو اس جرم کی ہوں گی وہ لگیں گی۔ حاکم یا قاضی اپنی مرضی سے ادلہ اربعہ کی روشنی میں لگائے گا۔


----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...