اعتراض نمبر 20 : کہ امام ابو حنیفہ نے سعید بن جبیر کو مرجئہ اور طلق بن حبیب کو قدری کہا ہے
أخبرنا ابن الفضل، أخبرنا عبد الله بن جعفر، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا سليمان بن حرب.
وأخبرنا ابن الفضل أيضا، أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن موسى البربري، حدثنا ابن الغلابي عن سليمان ابن حرب قال: حدثنا حماد بن زيد قال: جلست إلى أبي حنيفة، فذكر سعيد بن جبير، فانتحله في الإرجاء. فقلت: يا أبا حنيفة من حدثك؟ قال: سالم الأفطس. قال: قلت له: سالم الأفطس كان مرجئا ولكن حدثني أيوب. قال: رآني سعيد بن جبير جلست إلى طلق، فقال: ألم أرك جلست إلى طلق؟ لا تجالسه. قال حماد: وكان طلق يرى الإرجاء. قال: فقال رجل لأبي حنيفة: يا أبا حنيفة ما كان رأى طلق؟ فأعرض عنه، ثم سأله فأعرض عنه ثم قال: ويحك كان يرى العدل - واللفظ لحديث ابن الغلابي.
الجواب :
میں کہتا ہوں کہ تینوں مطبوعہ نسخوں میں القدر کی جگہ العدل لکھا ہوا ہے اور یہ القدر سے مصحف (بدل کر ایسا کر دیا گیا ہے اور اس کی تصویب (صحیح لفظ) عبد القادر القرشی کی الجواہر المضئیہ میں ہے اور اس واقعہ کی سند میں عبد اللہ بن جعفر الدارہمی اور احمد بن کامل القاضی ہیں۔ اور اس کے بارہ میں دار قطنی نے کہا کہ اس کو تکبر نے برباد کر دیا۔ یہ روایت میں متساھل تھا۔ بعض اوقات یہ زبانی ان روایات کو بھی بیان کر دیتا تھا جو روایات اس کے پاس نہ ہوتی تھیں۔ جیسا کہ اس کو خطیب نے بھی بیان کیا ہے۔ اور رہا محمد بن موسی البربری تو بے شک اس کے بارہ میں دار قطنی نے کہا کہ یہ قوی نہ تھا اور اس کو دو حدیثوں کے علاوہ کچھ یاد نہ تھا اور ان دو میں سے بھی ایک حدیث اکثر محدثین کرام کے نزدیک موضوع تھی۔ اور اس کی سند میں جو ابن الغلابی ہے وہ المفضل بن حسان ہے جس نے التاریخ لکھی ہے۔ اور ابن ابی العوام نے ابوبکر محمد بن جعفر الامام ، ہارون بن عبد الله بن مردان الحمال ، سلیمان بن حرب ، حماد بن زید کی سند سے یوں لکھا ہے کہ حماد بن زید نے کہا کہ میں مکہ میں ابو حنیفہ کے پاس بیٹھا تھا تو میں نے اس سے کہا کہ ہمیں ایوب نے بیان کیا ہے اس نے کہا کہ مجھے سعید بن جبیر نے طلق بن جیب کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا تو اس نے مجھے کہا کہ میں نے تجھے طلق کے پاس بیٹھے ہوئے کیوں دیکھا ہے ؟ اس کے پاس مت بیٹھ۔ تو ابوحنیفہ نے کہا کہ طلق قدری نظریہ رکھتا تھا۔ الخ۔ [1]
اور اس روایت میں اور پہلی روایت میں فرق بالکل واضح ہے اور اس روایت میں الحمال راوی مسلم کا راوی ہے۔ اور اس سند کا مقابلہ وہ سند کیسے کر سکتی ہے جس میں ابن درستویہ یا ابن کامل اور البربری اور ان جیسے لوگ ہوں؟
اور بہرحال سالم الافلس تو وہ مشہور تابعی ہیں ان کی روایات ترمذی ، ابوداؤد اور نسائی نے بیان کی ہیں اور بہت سے حضرات نے ان کو ثقہ کہا ہے۔
اور پختہ بات ہے کہ ارجاء کی طرف ان کو منسوب کرنا اسی معنی میں ہے جس کے جمہور اہل حق ہیں۔ اور طلق بن حبیب بصری تو ابن عباس کے اصحاب میں سے ہے اور اس کی روایت مسلم اور سنن اربعہ میں لی گئی ہے۔[2] اور جس ارجاء کا وہ نظریہ رکھتا تھا وہ وہی ہے جس کا قول جمہور اہل حق کرتے ہیں۔
اور اس واقعہ کو ہالفرض مان بھی لیا جائے تو امام ابو حنیفہ نے تو بہت اچھا کام کیا که ناپسندیده بدعت کی جانب اس کی نسبت کرنے میں غور و فکر سے کام لیا۔ اس لیے کہ اس جیسی صورت میں اس جیسے آدمی پر جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرنا ہی ضروری ہے۔ اور جب سائل کے بار بار تکرار کے بعد جواب دینے میں مجبور ہوئے تو جواب دیا کہ بے شک وہ بصری تھے جو قدریہ کی جانب منسوب ہیں جیسا کہ اکثر اہل بصرہ تھے تو سعید بن جبیر کی اس بات کا سبب بھی یہی تھا جس کا پہلے ذکر ہوا ہے اس کا سبب ارجاء نہیں تھا کیونکہ وہ تو ان سب کا مشترکہ نظریہ تھا۔ اور ابو حنیفہ ، سعید بن جبیر کے نظریہ کو خوب جانتے تھے اس لیے کہ بے شک وہ بھی اہل کوفہ میں سے تھے۔ اور انہوں نے اس کا زمانہ بھی پایا ہے بخلاف حماد بن زید کے کہ وہ بصری ہیں اور سعید کے زمانہ سے متاثر ہیں۔ اور ارجاء کے جس معنی کے مطابق وہ نظریہ رکھتے تھے وہی خالص سنت ہے اور جو اس سے تجاوز کرتا ہے تو وہ لازما دانسته یا نادانسته خوارج یا معتزلہ کے مذہب میں جا گرتا ہے۔
اور یہ اس لیے تھا کہ بے شک ابو حنیفہ کے زمانہ میں اور ان کے بعد کچھ نیک لوگ یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ بے شک ایمان قول اور عمل کے مجموعہ کا نام ہے جو کہ گھٹتا بڑھتا ہے۔ اور ان لوگوں کو ارجاء کی طرف منسوب کرتے جو یہ نظریہ رکھتے تھے کہ ایمان یقین اور کلمہ کا نام ہے اور دلائل شرعیہ کو دیکھتے ہوئے خالص حق ان ہی لوگوں کے ساتھ ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے 《ولما يدخل الايمان في قلوبکم 》اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا[3]۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے 《الایمان ان تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر وتؤمن بالقدر خيره وشره 》 "ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لائے۔"[4] یہ روایت امام مسلم نے حضرت ابن عمر سے پیش کی ہے اور اسی پر جمہور اہل السنت کا عمل ہے۔ اور یہ نیک لوگ یقینا اپنے اس اعتقاد کے ساتھ معتزلہ اور خوارج کے موافق ہو گئے اگرچہ وہ اپنے اعتقاد کے خلاف نظریہ کو بدعت اور ضلالت کہتے ہیں۔ اس لیے کہ یقینا کسی عمل میں خلل جبکہ اس عمل کو ایمان کا رکن قرار دیا جائے تو وہ ایمان میں خلل ہو گا تو جو شخص عمل میں خلل کی وجہ سے ایمان سے خارج ہو گیا تو وہ یا تو کفر میں داخل ہوگا جیسا کہ خوارج کا نظریہ ہے اور یا وہ اس میں داخل نہیں ہوگا بلکہ کفر اور ایمان کے درمیان درجہ میں ہوگا جیسا کہ معتزلہ کا نظریہ ہے اور وہ لوگ تمام لوگوں میں ان دونوں فریقوں ( معتزلہ اور خوارج) سے سب سے زیادہ بیزار تھے۔ پس جب وہ ان سے بیزار تھے تو اگر وہ اس نظریہ سے بھی ہیزار تھے جس پر ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب اور اس شان کے باقی ائمہ ہیں تو ان لوگوں کا کلام بے ،سوچے سمجھے نا معقول ہوگا ۔ اور بہر حال جب وہ عمل کو صرف کمال ایمان سے شمار کریں تو شرم دلانے اور دشمنی کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی لیکن ان کا اس حد تک تشدد اس پر دلالت کرتا ہے کہ بے شک وہ عمل کو صرف کمال ایمان میں سے نہیں شمار کرتے بلکہ اس کو اس کا رکن اصلی شمار کرتے ہیں۔ اور اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں۔
تعجب کی بات ہے کہ ایسے لوگ جن کو حدیث میں امیر المومنین شمار کیا جاتا ہے ان میں سے ایک بڑے فخر سے کہتا ہے کہ میں نے اپنی کتاب میں اس شخص سے روایت درج نہیں کی جو یہ نظریہ نہیں رکھتا کہ ایمان قول اور عمل کا نام ہے اور گھٹتا بڑھتا ہے۔ حالانکہ اس نے حریز بن عثمان اور عمران بن حطان اور ان جیسے غالی خارجیوں سے اپنی کتاب میں روایات لی ہیں۔ اور وہ صاحب یہ بھی جانتے ہیں کہ بے شک وہ حدیث جس میں یہ ذکر ہے کہ ایمان قول اور عمل کا نام ہے اور گھٹتا بڑھتا ہے تو وہ حدیث ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک ثابت ہی نہیں ہے ۔ اور وہ حضرات جو دائیں بائیں کی پہچان نہیں رکھتے اور تساہل برتنے والے ہیں ان کی بات کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ پس دلیل ظاہر ہو جانے اور مسئلہ کی وضاحت ہو جانے کے بعد اس شخص پر کیا طعن ہے جو یہ نظریہ رکھتا ہے کہ عمل ایمان کا رکن اصلی نہیں ہے اور اسی پر کتاب و سنت اور جمہور صحابہ اور تمام علماء اہل السنت ہیں جو خوارج اور معتزلہ دونوں فریقوں کی تردید کرتے ہیں۔ تو عمل کو ایمان کا رکن اصلی نہ مانتا ہی سنت ہے۔ اور بہر حال وہ ارجاء جس کو بدعت شمار کیا جاتا ہے تو وہ ان لوگوں کا نظریہ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ایمان کے ہوتے ہوئے گناہ سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اور ہمارے اصحاب اس قسم کی کلام سے ایسے ہی بری ہیں جیسے بھیڑیا حضرت یوسف علیہ السلام کے خون سے بری تھا۔ اور اگر اس مسئلہ میں ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب یہ نظریہ نہ ہوتا جو ان کا ہے تو جمہور مسلمانوں کو کافر قرار دینا لازم آتا جو کہ گناہوں سے معصوم نہیں ہیں اس لیے کہ وہ کسی نہ کسی وقت ، تو کسی نہ کسی عمل میں کو تاہی کر ہی جاتے ہیں ۔ اور اس میں بہت بڑی مصیبت ہے (کہ اس کی وجہ سے امت کی اکثریت کو ایمان سے خارج ماننا پڑتا ہے)
امام کوثری کا کلام مکمل ہوا
[1]۔ ولفظ ابن أبي العوام: حدثني أبو بكر محمد بن جعفر الإمام قال: حدثنا هارون بن عبد الله بن مروان الحمال قال: حدثنا سليمان بن حرب بن حماد بن زيد قال: جلست إلى أبي حنيفة بمكة فقلت له: حدثنا أيوب قال: رآني سعيد بن جبير قد جلست إلى طلق بن حبيب فقال لي: ألم أرك جلست إلى طلق؟ لا تجالسه. قال أبو حنيفة: كان طلق يرى القدر
حماد بن زید نے کہا کہ میں مکہ میں ابو حنیفہ کے پاس بیٹھا تھا تو میں نے اس سے کہا کہ ہمیں ایوب نے بیان کیا ہے اس نے کہا کہ مجھے سعید بن جبیر نے طلق بن جیب کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا تو اس نے مجھے کہا کہ میں نے تجھے طلق کے پاس بیٹھے ہوئے کیوں دیکھا ہے ؟ اس کے پاس مت بیٹھ۔ تو ابوحنیفہ نے کہا کہ طلق قدری نظریہ رکھتا تھا۔
فضائل أبي حنيفة وأخباره ومناقبه ، ابن ابی العوام رحمہ اللہ ت بہرائچی صفحہ 124
اس کی تفصیل قارئین اس لنک میں دیکھ سکتے ہیں۔
[2]روایت : كان طلق يرى الإرجاء
خطیب بغدادیؒ تاریخ بغداد (ت بشار، ١٥/٥١١) میں یہ روایت نقل کرتے ہیں: "أخبرنا ابن الفضل، أخبرنا عبد الله بن جعفر، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا سليمان بن حرب. وأخبرنا ابن الفضل أيضا، أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن موسى البربري، حدثنا ابن الغلابي عن سليمان ابن حرب قال: حدثنا حماد بن زيد قال: جلست إلى أبي حنيفة، فذكر سعيد بن جبير، فانتحله في الإرجاء. فقلت: يا أبا حنيفة من حدثك؟ قال: سالم الأفطس. قال: قلت له: سالم الأفطس كان مرجئا ولكن حدثني أيوب. قال: رآني سعيد بن جبير جلست إلى طلق، فقال: ألم أرك جلست إلى طلق؟ لا تجالسه. قال حماد: وكان طلق يرى الإرجاء. قال: فقال رجل لأبي حنيفة: يا أبا حنيفة ما كان رأى طلق؟ فأعرض عنه، ثم سأله فأعرض عنه ثم قال: ويحك كان يرى العدل"
یہ الفاظ "كان يرى العدل" ہی المعرفۃ والتاریخ (ت العمری، ط العراق، ٢/٧٩٣) از امام یعقوب فسویؒ (م ٢٧٧ھ) میں بھی موجود ہیں، جبکہ فضائل ابی حنیفہ وأخباره ومناقبه از ابن ابی العوامؒ (ت بہرائچی، ص: ١٢٤) میں یہی روایت "كان طلق يرى القدر" کے الفاظ سے منقول ہے۔بادیُ النظر میں یہ دونوں روایات ایک دوسرے سے متضاد معلوم ہو سکتی ہیں، لیکن حقیقتاً ان میں کوئی تعارض نہیں، کیونکہ خود قدریہ اپنے آپ کو "أہل العدل والتوحید" (انصاف اور توحید والے) کہلواتے تھے۔ چنانچہ محقق سعود بن عبد العزيز الخلف لکھتے ہیں: "ثانيا: العدل، وحقيقته عندهم نفي قدر الله عزوجل ومشيئته النافذة على خلقه، وأن العباد خالقون لأفعالهم، فسموا لذلك مجوس هذه الأمة، وسموا قدرية لنفيهم القدر، وهم يلقبون أنفسهم أهل العدل والتوحيد" (الانتصار في الرد على المعتزلة القدرية الأشرار، ١/٦٩) یعنی قدریہ اپنے آپ کو "عدل" کے لقب سے موسوم کرتے تھے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے تقدیر اور نافذ مشیت کی نفی کرتے اور بندوں کو اپنے افعال کا خالق سمجھتے تھے، اسی لیے انہیں اس امت کا مجوس بھی کہا گیا اور "قدریہ" کا نام دیا گیا، جبکہ وہ خود کو "اہلِ عدل و توحید" کہلواتے تھے۔ یہی مضمون دیگر مصادر میں بھی مذکور ہے، جیسے مدارج السالکین (ط عطاءات العلم، ٤/٤٤٨) از ابن قیمؒ (م ٧٥١ھ)، اور الموسوعۃ المیسرۃ فی الأدیان والمذاہب والأحزاب المعاصرۃ (ص: ٦٩) از ڈاکٹر مانع الجہنی، اور المدخل لدراسۃ الشریعۃ الإسلامیۃ (ص: ٧٣)۔
معترضین کی طرف سے ایک ممکنہ اعتراض یہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے طلق کو ارجاء کے بجائے قدریہ کی طرف منسوب کیا، جبکہ باقی تمام مصادر میں طلق کے بارے میں ایسے کلمات نہیں ملتے۔ چنانچہ طبقات ابن سعد (٧/٢٢٨)، تاریخ البخاري الکبیر (٤/٣١٣٨)، اور تاریخہ الصغیر (١/٢٢٦) میں امام حمادؒ کا یہ قول موجود ہے: "وَقَال حماد بْن زيد، عن أيوب: رآني سَعِيد بن جبير جلست إلى طلق بن حبيب، فقال: ألم أرك جلست إلى طلق بن حبيب، لا تجالسه، قال حماد: وكان يرى الإرجاء" یعنی یہاں طلق کو ارجاء کی طرف منسوب کیا گیا ہے، نہ کہ قدر کی طرف۔
اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ امام ابو حنیفہؒ خود قدریہ کی معرفت اور ان کے رد میں بصیرت رکھنے والے تھے۔ امام ابن الندیمؒ اپنی کتاب الفہرست میں لکھتے ہیں کہ امام اعظمؒ نے "رد علی القدریہ" کے نام سے ایک مستقل کتاب تصنیف فرمائی، جیسا کہ إیضاح الدلیل فی قطع حجج أہل التعطیل (١/٢٢) میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ لہٰذا یہ بات بعید نہیں کہ امام صاحبؒ کو خود طلق کی کوئی ایسی بات پہنچی ہو جو قدریہ کے موافق تھی، اور اسی بنیاد پر انہوں نے یہ جملہ ارشاد فرمایا ہو۔
یہاں یہ نکتہ ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے کہ تابعین کی طرف جو نسبت کی جاتی ہے کہ وہ "قدری" یا "مرجئی" تھے، وہ عموماً استخراجی طور پر کہی جاتی ہے یعنی انہوں نے کوئی ایسی بات کہی جس سے کوئی خاص مفہوم نکلتا ہو، تو اسی بنیاد پر ان کی طرف یہ نسبت ہو گئی، ورنہ متاخرین کے ہاں رائج قدریہ و مرجئہ والی بدعات متقدمین میں اس تمام تر سنگینی کے ساتھ نہیں پائی جاتی تھیں۔ متقدمین قدریہ/مرجئہ اور متاخرین قدریہ/مرجئہ کے درمیان یہی وہ بنیادی فرق ہے، بالکل اسی طرح جیسے متقدمین کے ہاں "شیعہ" (جو حضرت علیؓ کے ساتھ رہتے اور امیر معاویہؓ کی مخالفت کرتے تھے) کو بھی "شیعانِ علی" کہا جاتا تھا، جبکہ متاخرین شیعہ صحابہ کرامؓ پر طعن و تبرا کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ احادیث و فتاویٰ جن میں قدریہ کی تردید وارد ہوئی ہے، ان سے مراد متاخرین قدریہ ہیں، جو تقدیر کے سرے سے منکر ہیں، نہ کہ متقدمین تابعین۔
حافظ ابن حجرؒ نے ہدی الساری میں قدریہ کی یہ تعریف بیان کی ہے کہ "جو یہ کہے کہ شر محض فعلِ انسانی ہے"۔ یہ تعریف انہی مقبول تابعین پر صادق آتی ہے جن پر قدریہ ہونے کا قول اختیار کیا گیا، جن کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال تھی، کہ ادباً شر کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کرنی چاہیے، اور اس کے نظائر ظواہرِ ادلہ میں بھی موجود ہیں۔ لیکن چونکہ شریعت میں اس پر اصرار درست نہیں، اس لیے کبار اہلِ علم نے اس کی تحسین نہیں کی، اور لوگوں کو اس غلو سے بچانے کے لیے مجالست سے منع کیا۔ آسان لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ امام صاحبؒ کے اس قول کے مطابق طلق میں قدریہ خفیفہ تھی، جو بیانِ نظریہ ہے، نہ کہ بیانِ جرح۔ اسی وجہ سے طلق کے مرجئی/قدری ہونے کے باوجود محدثین کے ہاں ثقہ ہیں، جبکہ متاخرین قدریہ کئی بدعات کے مرتکب ہوئے، اور ضروریاتِ دین تک کا انکار ان کے کلام میں نکل آتا ہے۔ خود اسی لیے فریقِ مخالف کے امام ابن تیمیہؒ نے بھی ان کو قدریہ مشرکیہ، قدریہ ابلیسیہ وغیرہ اقسام میں تقسیم کیا ہے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ طلق کو سب نے مرجئی کہا ہے، صرف امام ابو حنیفہؒ ہی انہیں قدری کہہ رہے ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسی طرح جابر جعفی کو سب سے پہلے کذاب قرار دینے والے بھی امام ابو حنیفہؒ ہی تھے، جبکہ اس وقت تک اس کا معاملہ باقی محدثین پر عیاں نہ ہوا تھا۔ امام بیہقیؒ کا یہ قول منقول ہے: "ولو لم يكن في جرح الجعفي إلا قول أبي حنيفة رحمه الله لكفاه به شرًّا، فإنه رآه وجرّبه، وسمع منه ما يوجب تكذيبه فأخبر به" یعنی اگر جابر جعفی کی جرح میں صرف امام ابو حنیفہؒ کا قول ہی ہوتا تو وہی کافی تھا، کیونکہ آپ نے خود اسے دیکھا، آزمایا اور اس سے ایسی باتیں سنیں جو اس کی تکذیب کو لازم کرتی تھیں(القراءة خلف الإمام للبيهقي ١/١٥٧)۔ اسی طرح ابن حزم ظاہریؒ نے بھی صراحت کی: "جابر الجعفي كذاب، وأول من شهد عليه بالكذب أبو حنيفة" یعنی جابر جعفی کو سب سے پہلے جھوٹا قرار دینے والے امام ابو حنیفہؒ تھے(المحلى بالآثار ١٠/٢٦٨)۔امام ذہبیؒ نے اپنی کتاب "ذکر من یعتمد قولہ فی الجرح والتعدیل" میں انہی ائمہ کا ذکر کیا ہے جن کی جرح و تعدیل معتبر و مقبول ہے، اور اس میں امام ابو حنیفہؒ کا نام بھی شامل کیا۔ اسی طرح امام سخاویؒ نے بھی آپ کو ائمۂ جرح و تعدیل میں شمار کیا ہے۔بالکل اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ طلق کی کوئی خاص بات امام صاحبؒ کو معلوم ہوئی ہو، اور امام صاحبؒ چونکہ قدریہ کی معرفت رکھتے تھے، اسی بنا پر انہوں نے طلق کو قدریہ کی طرف منسوب کیا۔
یہ بات نہایت اہم ہے کہ خود سعید بن جبیرؒ بھی مرجئہ اہلِ سنت سے تعلق رکھتے تھے، جیسا کہ ائمہ نے صراحت کی ہے۔ امام شہرستانیؒ الملل والنحل (١/١٤٦) میں لکھتے ہیں: "رجال المرجئة الْحسن بن مُحَمَّد بن عَليّ بن ابي طَالب وَسَعِيد بن جُبَير وطلق بن حبيب وَعَمْرو بن مرّة ومحارب بن دثار وَمُقَاتِل بن سُلَيْمَان وذر وعمربن ذَر وَحَمَّاد بن ابي سُلَيْمَان وَأَبُو حنيفَة وَأَبُو يُوسُف وَمُحَمّد بن الْحسن وقديد بن جَعْفَر وَهَؤُلَاء كلهم ائمة الحَدِيث لم يكفروا اصحاب الْكَبَائِر بالكبيرة وَلم يحكموا بتخليدهم فِي النَّار خلافًا للخوارج والقدرية" یعنی مرجئہ کے رجال میں سعید بن جبیرؒ، طلق بن حبیبؒ، امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ، امام محمدؒ اور دیگر ائمہ حدیث شامل ہیں، اور یہ سب اصحابِ کبائر کو کبیرہ گناہ کی وجہ سے کافر نہیں سمجھتے تھے، اور نہ ان کے ہمیشہ جہنم میں رہنے کا حکم لگاتے تھے، خوارج اور قدریہ کے برخلاف۔
یہی مضمون الوافی بالوفیات (١٢/١٣٤) میں بھی مذکور ہے: "وَمن رجال الإرجاء سعيد بن جُبَير"، اور امام صفدیؒ وضاحت کرتے ہیں: "وَالْمرجِئَة جنس لأَرْبَعَة أَنْوَاع الأول مرجئة الْخَوَارِج ومرجئة الْقَدَرِيَّة ومرجئة الجبرية والمرجئة الصَّالِحَة... وَمن رجال الإرجاء سعيد بن جُبَير وطلق بن حبيب وَعَمْرو بن مرّة ومحارب بن دثار وَعَمْرو بن ذَر وَحَمَّاد بن سُلَيْمَان شيخ أبي حنيفَة وَأَبُو حنيفَة وَأَبُو يُوسُف وَمُحَمّد بن الْحسن وَمُقَاتِل بن سُلَيْمَان وَهَؤُلَاء هداة الدّين وأئمة الْمُسلمين وخالفوا الْقَدَرِيَّة والخوارج والمرجئة فِي أَنهم لم يكفروا أَصْحَاب الْكَبَائِر بالكبائر وَلَا حكمُوا بتخليدهم فِي النَّار وَلَا سبوا أحدا من الصَّحَابَة وَلَا وَقَعُوا فيهم"۔
گویا خود سعید بن جبیرؒ بھی مرجئہ اہلِ سنت میں شمار ہوتے تھے، اور یہ نہایت ممکن ہے کہ طلق کی کوئی ایسی رائے، جو مرجئہ اہلِ بدعت کے قریب تھی، سعید بن جبیرؒ کے علم میں آئی ہو، جس کی بنیاد پر انہوں نے طلق کے ساتھ مجالست سے منع کیا۔یہ بات ملحوظ رہے کہ مرجئہ اہلِ بدعت اور مرجئہ اہلِ سنت میں بنیادی فرق ہے۔ ارجاء کا اصل معنی ہے تاخیر اور مہلت دینا، جیسا کہ علامہ شہرستانیؒ اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ارجاء کے متعدد معانی ہیں: ایک "تاخیر کرنا" (جیسے قرآن میں "قالوا أرجه وأخاه" آیا ہے)، دوسرا "امید دلانا" یعنی یہ بھروسہ دینا کہ ایمان لانے کے بعد گناہ نقصان نہیں دیتے، جیسا کہ مرجئہ اہلِ بدعت کا موقف ہے۔ اور کچھ کے نزدیک ارجاء یہ ہے کہ گناہِ کبیرہ کرنے والے کا فیصلہ قیامت پر چھوڑ دیا جائے اور دنیا میں اس کے متعلق جنتی یا جہنمی ہونے کا حتمی فیصلہ نہ کیا جائے جیسا کہ مرجئہ اہلِ سنت کا موقف ہے (الملل والنحل، ص: ١٣٧)۔
اسی لیے وہ لوگ جو گناہِ کبیرہ کرنے والے کا فیصلہ اللہ اور قیامت پر چھوڑ دیتے ہیں کہ اللہ چاہے تو معاف کر دے اور جنت میں بھیج دے، یا سزا دے کر جہنم میں ڈال دے، وہ سب مرجئہ اہلِ سنت ہیں، اور اسی وجہ سے امام ابو حنیفہؒ اور دیگر محدثین کو "مرجئہ" کہا گیا۔ جیسا کہ ملا علی قاریؒ شرح فقہ الاکبر (ص: ٦٤) میں لکھتے ہیں کہ قونویؒ نے ذکر کیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کو مرجئہ اس لیے کہا جاتا تھا کہ وہ گناہِ کبیرہ کرنے والے کا فیصلہ اللہ کی رضا پر چھوڑ دیتے تھے، اور ارجاء کے معنی تاخیر کے ہیں۔
گویا مرجئہ اپنے میں دو طرح کے لوگ ہیں: ایک مرجئہ اہلِ بدعت، جن کے بارے میں ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں: "پھر مرجئہ مذمومہ بدعتی قدریہ سے الگ ایک فرقہ ہے، جن کا عقیدہ یہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد کوئی کبیرہ گناہ نقصان دینے والا نہیں جیسا کہ کفر کے بعد کوئی نیکی فائدہ مند نہیں... بس اس ارجاء (اہلِ بدعت) اور اس ارجاء (اہلِ سنت [امام ابو حنیفہؒ]) میں کیا نسبت؟" (شرح فقہ الاکبر، ص: ٦٥)۔ جبکہ مرجئہ اہلِ سنت، یعنی امام ابو حنیفہؒ کا موقف یہ ہے: "اور ہم یہ نہیں کہتے کہ مومن کے لیے گناہ مضر نہیں، اور نہ ہم اس کے قائل ہیں کہ مومن بالکل جہنم میں داخل نہیں ہوگا، اور نہ یہ کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اگرچہ فاسق ہو دنیا سے ایمان کی حالت میں نکلا ہو... اور نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہماری تمام نیکیاں مقبول ہیں اور تمام گناہ معاف ہیں جیسا کہ مرجئہ (اہلِ بدعت) کا عقیدہ ہے" (فقہ الاکبر، ص: ٢٢٧-٢٣٤)۔
[3]۔ سورہ الحجرات
قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ اِنۡ تُطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَا یَلِتۡکُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِکُمۡ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴﴾
دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ۔ آپ کہہ دیجئے کہ درحقیقت تم ایمان نہیں لائے لیکن تم یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ( مخالفت چھوڑ کر مطیع ہو گئے ) حالانکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا تم اگر اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے لگو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا ۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
[4]۔ قال: فاخبرني عن الإيمان، قال:" ان تؤمن بالله، وملائكته، وكتبه، ورسله، واليوم الآخر، وتؤمن بالقدر خيره وشره"، قال: صدقت
اس (جبرئیل ) نے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور آخری دن (یوم قیامت) پر ایمان رکھو اور اچھی اور بری تقدیر پر بھی ایمان لاؤ۔“ اس نے کہا: آپ نے درست فرمایا۔
(صحیح مسلم 93۔)

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں