نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر 17: امام ابو حنیفہ نے کہا کہ حضرت ابو بکرؓ کا ایمان اور ابلیس کا ایمان برابر ہے


 اعتراض نمبر 17:
 کہ امام ابو حنیفہ نے کہا کہ حضرت ابو بکرؓ کا ایمان اور ابلیس کا ایمان برابر ہے


أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد بن عبد الله السراج - بنيسابور - أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس الطرائفي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبوب بن موسى الأنطاكي قال: سمعت أبا إسحاق الفزاري يقول: سمعت أبا حنيفة يقول: إيمان أبي بكر الصديق، وإيمان إبليس واحد، قال إبليس يا رب، وقال أبو بكر الصديق يا رب. قال أبو إسحاق: ومن كان من المرجئة ثم لم يقل هذا. انكسر عليه قوله.

الجواب : 

میں کہتا ہوں کہ عثمان بن سعید الدارمی اور محبوب ( بن موسی انطاکی ابو صالح الفراء) جن کا ذکر [عتراض نمبر 2: امام ابو حنیفہ اور ان کے والد نصرانی پیدا ہوئے تھے۔ ] ہو چکا ہے اور الفزاری ابو حنیفہؒ کے بارے میں زبان درازی کرتا تھا ، اور ان سے دشمنی اس وجہ سے رکھتا تھا کہ اس کے بھائی نے ابراہیم کی وزارت کے خلاف فتویٰ دیا تھا جو کہ منصور کے زمانہ میں عہدیدار تھا تو وہ لڑائی میں قتل کر دیا گیا تو الفزاری نے اس ابراہیم کے شیخ امام اعظم ابو حنیفہؒ کے خلاف جہالت کی وجہ سے زبان درازی شروع کر دی جیسا کہ اس کی تفصیل ابن ابی حاتم کی الجرح والتعدیل کے مقدمہ میں ہے. اور وہ شخص اتنی استطاعت نہیں رکھتا تھا کہ ان فتووں کے بارے میں ابو حنیفہؒ سے چشم پوشی کرے جن کو علمی مقام میں ید بیضاء حاصل ہے۔ حاشا وکلا ابو حنیفہؒ جیسا آدمی اس قدر کمزور بات نہیں کہہ سکتا۔ اور شوافع، جس کا پیرو کار خود خطیب بھی ہے، ان کا مذہب دشمن کی گواہی اور اس کی روایت کے بارے میں مشہور ہے کہ (اس کی گواہی قابل قبول نہیں) تو سند کے آخر میں الفزاری کا ہونا ہی اس خبر کے مردود ہونے کے لیے کافی ہے تو ایسی خبر کیسے قبول کی جا سکتی ہے؟ جبکہ اس کی سند میں الدارمی اور محبوب بھی موجود ہیں جو عقیدہ میں ابو حنیفہؒ کے مخالفین میں سے ہیں اور اسی ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن الفزاری کے متعلق ابن سعد نے الطبقات الکبری میں کہا ہے کہ وہ حدیث میں اکثر و غلطی کرتا تھا اور ابن قتیبہ نے المعارف میں کہا کہ وہ اپنی حدیث میں بہت غلطیاں کرتا تھا اور اسی کے مثل محمد بن اسحاق الندیم نے فہرست ابن ندیم میں لکھا ہے ۔ لیکن ابو حنیفہ اور اس کے اصحاب کے بارے میں اس کی زبان درازی کا فائدہ یہ ہوا کہ اس کی روایات ان لوگوں میں مشہور ہو گئیں جو اغراض والے تھے. تو یہ اس کے لیے باعث اجر نہیں بلکہ اس کی وجہ سے اس پر وبال ہے۔ پھر اس کے ساتھ یہ بھی کہ جو آدمی اپنی حدیث میں اکثر غلطیاں کرنے والا ہو، اس کی حدیث سے اعراض واجب ہے چہ جائیکہ وہ روایت کرنے میں منفرد بھی ہو. اور وہ صاحب اصطرلاب نہیں ہے (یعنی یہ ابو اسحاق ابراہیم بن محمد وہ نہیں ہے جس نے گرمی اور سردی معلوم کہ کرنے کا آلہ ایجاد کیا تھا) اگرچہ علامہ ابن حجر کو یہ وہم ہوا ہے جس کا اظہار انہوں نے تہذیب التہذیب میں کیا ہے اور ان کو وہم صرف اس لیے ہوا کہ ان دونوں کا نام اور نسبت ایک ہی ہے حالانکہ ان دونوں کے زمانوں اور پیشیوں میں بہت فرق ہے۔ اور زمین پر رینگ کر چلنے والا اس کے مقابل کیسے ہو سکتا ہے جو اپنے علم کے ساتھ آسمان پر گھومتا ہے۔ 

اور شاید کہ ابن حجر نے جب یہ دیکھا کہ ابن ندیم نے الفہرست میں الفزاری کا ذکر ص 387 میں اس عنوان کے تحت کیا ہے طبقة اخرى وهم المحدثون تو ہو سکتا ہے کہ ابن حجر نے اس سے سمجھا ہو تو ابن حجر نے اس محدث الفزاری کو فلسفی سمجھ لیا اس وجہ سے کہ بیشک الفزاری جو اس کا علم رکھتا تھا، وہ وہی ہے حلانکہ یہ لفظ المحدثون "تحدیث" سے نہیں بلکہ "الحداثة" سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آدمی ابن ندیم صاحب الفہرست کے قریبی زمانے کا ہے۔ اور ابن ندیم نے اس کے بعد صراحت سے ذکر کیا ہے 《 وهو ابو اسحاق ابراهيم بن حبیب الفزاری 》 تو اس صراحت کے بعد ابن حجر نے جو وہم کیا ہے، اس کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اس لیے کہ جو الفزاری فلسفی ہے، اس کے باپ کا نام "حبیب" ہے اور جو الفزاری محدث ہے، اس کے باپ کا نام "محمد" ہے اور جو محدث ہے، وہ "دوسری" صدی کا ہے اور جو فلسفی ہے وہ "چوتھی" صدی کا ہے ۔

اور ان لوگوں میں سے ہے جو ابن ندیم کے زمانہ کے قریب قریب ہیں، قدیم لوگوں میں سے نہیں ہے۔ اور خطیب نے اس کے بعد جو خبر نقل کی ہے 

أخبرنا ابن الفضل، أخبرنا عبد الله بن جعفر، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا أبو بكر الحميدي عن أبي صالح الفراء عن الفزاري قال: قال أبو حنيفة: إيمان آدم، وإيمان إبليس واحد. قال إبليس: * (رب بما أغويتني) * [الحجر 39]، وقال: * (رب فأنظرني إلى يوم يبعثون) * [الحجر 36] وقال آدم: * (ربنا ظلمنا أنفسنا) * [الأعراف 23].

، اس کی سند میں (عبداللہ بن جعفر)ابن درستویہ الدراہمی ہے اور آپ اس کے حال سے بخوبی واقف ہیں تو ایسی خبر جس کی سند میں الفزاری اور ابو صالح اور ابن درستویہ جیسے لوگ ہوں، اس سے ابو حنیفہؒ کی طرف منسوب بات ثابت نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے کہا کہ حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا ایمان ایک جیسا ہے.

 نعوذ بالله من الخذلان 

ہم رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

امام ابو حنیفہ نے کہا کہ حضرت ابو بکرؓ کا ایمان اور ابلیس کا ایمان برابر ہے

 محبوب بن موسى الأنطاكي أبي صالح الفراء

وقال أبو عبيد الآجري، عن أبي داود: ثقة لا يلتفت إلى حكاياته إلا من كتاب 

(تهذيب الكمال 27/265 ، سوالات ابی عبید الآجری 2/258)


الفزاري

ابو اسحاق الفزاری کی جرح امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے حق میں کیوں قابلِ قبول نہیں؟

امام ابو اسحاق الفزاری کے دل میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں شدید نفرت اور عداوت موجود تھی۔جیسا کہ تاريخ بغداد ١٣/٣٨٤ ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی سوانح اور دیگر کتبِ تاریخ و رجال میں اس واقعے کا ذکر موجود ہے  کہ جب ابراہیم بن عبداللہ طالبی نے ابو جعفر منصور کے خلاف خروج کیا تو اتو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ان کے ساتھ تعاون اور نصرت کا موقف اختیار کیا۔ ابو اسحاق الفزاری کا بھائی اسی لشکر میں شریک ہوا اور اسی جنگ میں قتل ہوگیا۔ انتهى 

بھائی کی موت کے بعد ابو اسحاق الفزاری اس صدمے کو برداشت نہ کر سکا۔ اس نے اپنے بھائی کی ہلاکت کا ذمہ دار امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو سمجھ لیا، اور اسی بنا پر ان کے خلاف سخت کلام اور طعن و تشنیع شروع کر دی۔لہٰذا اس معاملے میں ذاتی صدمے اور جذباتی اثرات کا پہلو بھی شامل تھا، اسی لیے اصولِ جرح و تعدیل کے مطابق ایسے شخص کی جرح کو وہی وزن نہیں دیا جاتا جس کے بارے میں تعصب یا شدید اختلاف کا احتمال ہو۔اسی اصول کو شیخ معلمی نے یوں بیان کیا ہے: «وقدمنا في القواعد أنه إذا ظهر أن بين الرجلين ثغرة لم يقبل ما يقوله أحدهما في الآخر إلا مفسراً محققاً مثبتاً.» "ہم پہلے قواعد میں بیان کر چکے ہیں کہ جب دو اشخاص کے درمیان دوری یا کشیدگی ظاہر ہو جائے تو ان میں سے ایک کا دوسرے کے متعلق کلام اس وقت تک قبول نہیں کیا جائے گا جب تک وہ مفسر، محقق اور ثابت شدہ نہ ہو۔" (التنكيل، ط المكتب الإسلامي، ٢/٦٨٨)

حیرت کی بات یہ ہے کہ خود شیخ المعلمی الیمانی صاحب نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ الفزاری کے دل میں امام صاحب کے خلاف شدید ترین جذبات تھے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: «هو الذي أحفظ أبا إسحاق على أبي حنيفة، فإن بلغ ذلك أن يسمى عداوة، فهي عداوة دينية.» "یہی وہ سبب تھا جس نے ابو اسحاق کو ابو حنیفہ کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے پر آمادہ کیا، اور اگر اسے عداوت کہا جائے تو وہ دینی عداوت تھی۔" (التنكيل، ضمن آثار المعلمي، ١٠/١٦٤)

گویا جب شیخ صاحب نے خود یہ مان لیا کہ فزاری کے دل میں امام صاحب کے خلاف عداوت کی بھٹی سلگ رہی تھی، تو اصولِ جرح کے تحت فزاری کا کلام امام صاحب کے حق میں کلمۂ مہمل بن جانا چاہیے تھا؛ لیکن یہاں شیخ صاحب کا مسلکی تعصب آڑے آ گیا، اور انہوں نے آگے چل کر یہ عجیب و غریب تاویل پیش کی:  «فهي عداوة دينية، لا ترد بها الرواية بإجماعهم.» "یہ دینی عداوت ہے، اس لیے اجماع کے مطابق اس کی روایت رد نہیں ہوگی۔"

ہم کہتے ہیں: سبحان اللہ! عذرِ گناہ بدتر از گناہ۔ یہاں ہمیں ابو اسحاق الفزاری کی احادیث میں ثقاہت سے کوئی سروکار نہیں ہے، نہ ہم اس کی حدیث کو ضعیف کہنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہمارا محلِ نزاع ابو اسحاق الفزاری کی روایتِ حدیث نہیں، بلکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے خلاف اس کی جرح، حکایات اور الزامات ہیں۔آخر عداوت، عداوت ہی ہوتی ہے، خواہ اسے "دینی" کہا جائے یا "دنیوی"۔ جب اصل سبب تعصب اور مخالفانہ رجحان ثابت ہو گیا تو پھر جرح و تعدیل کے مسلمہ اصول یہی تقاضا کرتے ہیں کہ اس کے انفرادی الزامات کو بغیر مضبوط شواہد کے قبول نہ کیا جائے۔

شیخ المعلمی الیمانی صاحب کی تضادِ بیانی 

شیخ المعلمی الیمانی صاحب جب اپنی پسند کے راویوں کا دفاع کرتے ہیں، تو ان کا ترازو بالکل بدل جاتا ہے۔ جب وہ ابن عمار الموصلی کے احوال پر گفتگو کرتے ہیں، تو ابن عمار اور ابو یعلیٰ کے درمیان موجود علمی، مذہبی اور خاندانی دوری کو رفع دفع کرنے کے لیے خود ہی ایک بہترین اصول وضع کرتے ہیں۔«وقدمنا في القواعد أنه إذا ظهر أن بين الرجلين ثغرة لم يقبل ما يقوله أحدهما في الآخر إلا مفسراً محققاً مثبتاً»

"ہم قواعد میں پہلے یہ بیان کر چکے ہیں کہ جب دو آدمیوں کے درمیان کوئی دوری (شکاف) ظاہر ہو جائے تو ان میں سے ایک کا دوسرے کے بارے میں کلام قبول نہیں کیا جائے گا، الا یہ کہ وہ مفسر، محقق اور ثابت شدہ ہو۔"  (التنكيل ، ط المكتب الإسلامي، 2/688)

ابن عمار کے دفاع میں اسی اصول کو مزید واضح کرتے ہوئے شیخ صاحب لکھتے ہیں: «فأما أبو يعلي فكانت بينه وبين ابن عمار مباعدة ما في المذهب كما يدل عليه عكوف أبي يعلي على سماع كتب أهل الرأي من بشر بن الوليد، وردفتها كدورة عائلية كما يدل عليه۔۔۔» 

"ابو یعلیٰ کا معاملہ، تو ان کے اور ابن عمار کے درمیان مذہب میں کچھ دوری تھی، جیسا کہ ابو یعلیٰ کا بشر بن ولید سے کتبِ اہل الرائے کے سماع پر جمے رہنا اس کی دلیل ہے، اور اس کے ساتھ خاندانی رنجش کی کدورت بھی شامل ہو گئی تھی..." (التنكيل ، ط المكتب الإسلامي، 2/688)

یہاں شیخ المعلمی الیمانی صاحب پوری باریک بینی سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ چونکہ ابو یعلیٰ اور ابن عمار کے درمیان مذہبی رجحانات اور خاندانی رنجش کی وجہ سے دوری تھی، اس لیے ابن عمار کے خلاف ابو یعلیٰ کا کلام بالکل ناقابلِ التفات ہے۔

ہمارا سوال یہ ہے: شیخ صاحب! جو اصول ابن عمار الموصلی کے لیے آبِ حیات ہے، وہ امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے معاملے میں زہرِ قاتل کیوں بن جاتا ہے؟ ابو یعلیٰ کی 'خاندانی کدورت ' تو آپ کو نظر آ گئی، لیکن فزاری کے بھائی کے قتل کی وجہ سے پیدا ہونے والی ناراضی کو آپ دینی عداوت قرار دے کر اس کی جرح کو کیسے قبول کر رہے ہیں؟ یہ کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟

ابو اسحاق الفزاری کی دشمنی کا ایک اور واضح ثبوت

امام ابن عبدالبر نے روایت نقل کی ہے: «قَالَ أَبُو يَعْقُوبَ وَأنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ إِجَازَةً قَالَ نَا جَدِّي قَالَ نَا مُحَمَّد بن مُسلم قَالَ سَمِعت اسماعيل ابْن دَاوُد يَقُول كَانَ ابْن الْمُبَارك يذكر عَن أَبى حنيفَة كل خير ويزكيه ويقرضه ويثنى عَلَيْهِ وَكَانَ أَبُو الْحسن الفزازى يَكْرَهُ أَبَا حَنِيفَةَ وَكَانُوا إِذَا اجْتَمَعُوا لَمْ يجترىء ابو اسحق أَنْ يَذْكُرَ أَبَا حَنِيفَةَ بِحَضْرَةِ ابْنِ الْمُبَارَكِ بشئ»

 اسماعیل بن داؤد بیان کرتے ہیں کہ امام عبداللہ بن مبارکؒ جب امام ابو حنیفہؒ کا تذکرہ کرتے تو ہمیشہ آپ کی خوبیاں بیان کرتے، آپ کی توثیق اور تعریف فرماتے۔ اس کے برعکس ابو اسحاق فزاری امام ابو حنیفہؒ کو ناپسند کرتے تھے۔ لیکن جب یہ لوگ اکٹھے بیٹھتے، تو ابو اسحاق کو ہرگز یہ جرأت نہ ہوتی تھی کہ وہ ابن المبارک کی موجودگی میں امام ابو حنیفہؒ کے خلاف کوئی (برائی کی) بات زبان پر لائے۔

اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے شیخ المعلمی الیمانی صاحب نے فزاری کی اس خاموشی کو ایک نیا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: «أقول: إن صحت هذه الحكاية فإنما تدل على أدب كل من الإمامين مع صاحبه وحسن اعتقاده فيه، ولو كان ابن المبارك يرى أن أبا إسحاق يكذب على أبي حنيفة ويحكي عنه ما لم يكن ويتكلم فيه بالهوى ما ساغ لابن المبارك أن يسكت»

میں کہتا ہوں: اگر یہ حکایت صحیح ہے تو یہ دونوں اماموں کے ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ ادب اور مابین اچھے اعتقاد پر دلالت کرتی ہے۔ اگر ابن المبارک یہ سمجھتے کہ ابو اسحاق، ابو حنیفہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان کے بارے میں وہ باتیں گھڑتے ہیں جو انہوں نے نہیں کہیں اور نفسانی خواہش کی بنیاد پر کلام کرتے ہیں، تو ابن المبارک کے لیے ہرگز جائز نہ تھا کہ وہ خاموش رہتے۔ (التنكيل - ط المكتب الإسلامي ١/‏٢٩٢)

ہم کہتے ہیں: حضرت! یہ حسنِ ادب نہیں، بلکہ امیر المؤمنین فی الحدیث امام عبداللہ بن مبارکؒ کا علمی رعب، جلال اور دبدبہ تھا۔ امام عبداللہ بن مبارکؒ امامِ اعظمؒ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ فزاری کو معلوم تھا کہ اگر اس نے استادِ محترم کے خلاف زبان کھولی، تو ابن المبارک جیسا جلیل القدر محدث اس کے پرخچے اڑا دے گا اور اس کے تعصب کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ جائے گا۔ شاگردِ رشید کے سامنے استاد کے خلاف بولنے کی ہمت نہ ہونا فزاری کی "مجبوری اور خوف" تھا، جسے شیخ صاحب بڑی خوبصورتی سے "حسنِ ادب" کا لبادہ اڑھا رہے ہیں۔

ابو اسحاق الفزاری کا ایک غیر مفسر الزام

رہی یہ بات کہ "اگر فزاری جھوٹ باندھتے تو ابن المبارک خاموش نہ رہتے"، تو اس کا جواب خود فریقِ مخالف کی پیش کردہ روایات سے مل جاتا ہے۔ اسی ابو اسحاق الفزاری سے مخالفین یہ روایت بھی پیش کرتے ہیں: «حدثني أبو إسحاق الفزاري قال: كنت آتي أبا حنيفة أسأله عن الشئ من أمر الغزو. فسألته عن مسألة، فأجاب فيها، فقلت له: إنه يروي فيها عن النبي صلى الله عليه وسلم كذا وكذا؟ قال: دعنا من هذا؟ قال: وسألته يوما آخر عن مسألة قال فأجاب فيها، قال فقلت له: إن هذا يروى عن النبي صلى الله عليه وسلم فيه كذا وعن النبي صلى الله عليه وسلم فيه كذا وكذا، فقال: حك هذا بذنب خنزير.»

 ابو اسحاق فزاری بیان کرتے ہیں: "میں ابو حنیفہ کے پاس آیا کرتا تھا اور ان سے جہاد سے متعلق مسائل پوچھا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ میں نے ان سے ایک مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اس کا جواب دیا۔ میں نے عرض کیا: اس مسئلے کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے اس طرح اور اس طرح کی حدیث مروی ہے۔ انہوں نے فرمایا: 'اس بات کو چھوڑو۔' پھر ایک اور دن میں نے ان سے ایک اور مسئلہ پوچھا، انہوں نے اس کا جواب دیا۔ میں نے کہا: اس مسئلے کے بارے میں بھی نبی کریم ﷺ سے اس طرح اور اس طرح کی روایت منقول ہے۔ اس پر انہوں نے فرمایا: 'اس (حدیث) کو سور کی دم سے مٹا یا کھرچ دو۔'" (تاريخ بغداد - ت بشار ١٥/‏٥٣٣)

لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ ابو اسحاق الفزاری نے نہ اس حدیث کا متن ذکر کیا، نہ سند بیان کی، نہ یہ بتایا کہ وہ روایت صحیح تھی یا ضعیف، محفوظ تھی یا منکر، ثابت تھی یا معلول۔

اگر فزاری صاحب اپنی اس کہانی میں اتنے ہی سچے اور دیانت دار تھے، تو انہوں نے مجلس کی وہ تفصیلات کیوں چھپا لیں؟ وہ کون سا شرعی مسئلہ تھا؟ وہ کون سی حدیثِ مبارکہ تھی؟ نہ اس حدیث کا متن ذکر کیا، نہ سند بیان کی، نہ یہ بتایا کہ وہ روایت صحیح تھی یا ضعیف، محفوظ تھی یا منکر، ثابت تھی یا معلول۔ جس کے بارے میں امام صاحب نے (بقول ان کے) ایسا جملہ ارشاد فرمایا؟ کیا معلوم وہ روایت سرے سے ثابت ہی نہ ہو، یا من گھڑت ہو، یا اس کی سند میں کوئی کذاب راوی موجود ہو؟ فزاری نے یہ تمام حقائق کیوں چھپائے؟ اگر وہ یہ باتیں واضح کرتے تو پوری علمی برادری کو معلوم ہو جاتا کہ وہ خبر واقعی اعراض کرنے اور کھرچ دینے کے ہی قابل تھی یا نہیں۔ ایسی مبہم اور غیر واضح تفصیلات پر مبنی روایت، جو ایک کینہ پرور دشمن کی زبان سے نکل رہی ہو؛ کیا یہ تعصب کے زمرے میں نہیں آئے گی؟

ماخذ: «تحويل التنكيل إلى صاحبه المعلمي، لما وقع في الأوهام والأباطيل»، از مساعد زیب و محمد رئیس۔


اور یہ فَزاری، امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں بہت زیادہ زبان درازی کرتا تھا، اور ہر مجلس میں ان کی مخالفت کرتا تھا، نیز خلفاء کے قریب ہونے کے لیے ان پر یہ الزام لگاتا تھا کہ وہ عباسی خلفاء کے خلاف خروج کے قائل ہیں۔ اور اس کا سبب — جیسا کہ کہا جاتا ہے — یہ تھا کہ امام ابو حنیفہؒ نے اس کے بھائی فَزاری کو حضرت ابراہیم بن عبداللہ طالبی کی مدد کرنے کا فتویٰ دیا تھا، جنہوں نے بصرہ میں ابو جعفر منصور کے خلاف خروج کیا تھا۔ اس جنگ میں فَزاری کا بھائی ابراہیم کے ساتھ لڑتے ہوئے مارا گیا، تو وہ اپنے بھائی کی موت پر صبر نہ کر سکا اور اس کا دماغ ماؤف ہو گیا۔ اس نے امام ابو حنیفہؒ کو ہی اس کا ذمہ دار سمجھا، اور جہالت میں امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں انتہائی بدزبانی کرنے لگا، جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے۔


مزید تفصیل کیلئے دیکھیں  "النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود

تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر20 : امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، جلیل القدر محدث و فقیہ امیر المومنین فی الحدیث امام عبد اللہ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین : سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ

 *مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین*  صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرنے کی احادیث کا مجموعہ مرفوع موقوف اور آثار کتب احادیث سے *✍️۔۔ ابو محمد آصف بن یوسف ۔۔🔸*  *(النعمان سوشل میڈیا سروسز)* *🌹سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ 🌹* سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ *♦️ حدیث نمبر... 1️⃣♦️* 🔹۔۔۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ۔۔۔  🔹۔۔۔ سیدناجابربن سمرہ رضہ نےفرمایا رسول اقدسﷺ ھم پرداخل ھوئےاور لوگ(صحابہ) رضہ نماز کے اندر رفع الیدین کررہے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ھے کہ میں تمہیں دی...