اعتراض نمبر 106 :
کہ سفیان ثوری نے کہا کہ ابو حنیفہ گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو نعيم الحافظ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّد عبد الله بن مُحَمَّد بن جعفر بن حيان، قَالَ: حَدَّثَنَا سلم بن عصام، قَالَ: حَدَّثَنَا رسته، عن موسى بن المساور، قال: سمعت جبر وهو عصام بن يزيد الأصبهاني، يقول: سمعت سفيان الثوري، يقول: أَبُو حنيفة ضال مضل.
الجواب :
میں کہتا ہوں کہ اس خبر کے راوی خطیب اور ثوری کے علاوہ باقی سب اصبہانی ہیں ابو نعیم اپنے تعصب کے ساتھ ساتھ متکلم فیہ ہے اور اس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور اسی طرح اس کے شیخ کو ابو احمد العسال نے ضعیف کہا ہے جو اس کا ہم شہر تھا۔
اور سالم بن عصام تو غریب روایات والا ہے۔ اور رستہ اصبہانی کی ولادت 188ھ ہے اور اس کے بھتیجے کی روایت کے مطابق اس کی ولادت ابن مھدی کی وفات سے صرف دس سال پہلے ہے۔
اور یہ بعید ہے کہ اس کا بھتیجا اس کی سن ولادت سے ناواقف ہو اور اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ بے شک اس نے ابن مھدی سے تیسں ہزار احادیث روایت کی ہیں تو اتنی کثرت سے احادیث لینا دس سال کی عمر کے بچہ سے تصور نہیں کیا جا سکتا اور صحاح ستہ والوں میں صرف ابن ماجہ نے اس سے روایت کی ہے[1]۔
ابو موسیٰ المدینی نے کہا کہ اس کے بارہ میں ابو مسعود نے کلام کیا ہے جو کہ الحافظ البارع احمد بن الفرات الرازی ہے۔
اس نے ری والوں کو خط لکھا اور ان کو اس سے روایت کرنے سے منع کیا۔
نیز وہ اپنی حدیث میں بکثرت غریب حدیث لاتا ہے۔
اور ابو محمد بن حیان نے کہا کہ اس کی غریب احادیث زیادہ ہیں۔
اور موسیٰ بن المساور ابو الهيثم الضبي الحلیہ کے راویوں میں سے ہے اور مجہول الحال ہے اور میں نے کوئی آدمی نہیں دیکھا جس نے اس کی توثیق کی ہو۔ اور جبر کا تلفظ جیم اور باء مشدد کے فتحہ کے ساتھ ہے۔
اور اگر فرض کر لیا جائے کہ سفیان ثوری نے ابوحنیفہ کو ضال (گمراہ) شمار کیا ہے تو اس کی کوئی وضاحت نہیں کہ اس نے کسی وجہ سے ایسا کیا ہے۔ اگر ایمان کی کسی بات میں کہا ہے تو ایمان سے متعلق عقائد تو ان کے خالص ہدایت ہیں جیسا کہ پہلے اس کی تحقیق ہو چکی ہے۔
اور اگر اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ہے تو ہمیں معلوم نہیں کہ ان دونوں کے درمیان کسی اعتقادی مسئلے میں اختلاف ہوا ہو۔
اور ایسا جملہ تو اعتقادی مسئلہ میں اختلاف کی وجہ سے ہی کہا جا سکتا ہے۔
اور پہلے خطیب نے خود ص 341 میں ثوری سے ابوحنیفہ کی تعریف پر مشتمل روایت بیان کی ہے اور ابن عبد البر نے الانتقاء ص 127 میں کئی روایات نقل کی ہیں جن میں ثوری نے ابوحنیفہ کی تعریف کی ہے۔
اور یہاں سند کا جو حال ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔
اور اگر ہم فرض کر لیں کہ ایمان کا معاملہ ثوری پر مخفی تھا تو اس نے ابو حنیفہ کو اس وجہ سے ضال و مضل شمار کیا ہے تو ابوحنیفہ پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے؟[2]
اور اس کے بعد والی روایت[3] میں عبد اللہ بن ادریس کا قول کہ ابو حنیفہ ضال اور مضل ہے اور ابو یوسف فاسقوں میں سے ایک فاسق ہے تو اس کی سند میں الداعر ایوب بن اسحاق السافری ہے جس کے بارہ میں ابن یونس نے کلام کیا ہے اور اس کی سند میں رجاء ابن السندی بھی ہے اور غیبت میں اس کی زبان کھلی رہتی تھی۔ اور صحاح ستہ والوں نے اس سے اعراض کیا ہے۔ اور عبد الغنی المقدسی کو مغالطہ ہوا ہے جو اس نے کہا کہ بخاری نے اس سے روایت لی ہے جیسا کہ المزی وغیرہ نے کہا ہے ۔ اللہ تعالی عبد اللہ بن ادریس الاودی کو معاف فرمائے کہ وہ اپنی سمجھ کے مطابق معمولی وجہ سے لوگوں کو گمراہ کہ دیتا تھا۔
اور اس کے بعد والی خبر[4] میں ایوب بن اسحاق بن السافری بھی ہے۔
اور ہم یہی سمجھتے ہیں کہ اس نے ایوب الواسطی پر جھوٹ ہی باندھا ہے کیونکہ اس نے یزید بن ہارون کی جانب یہ بات منسوب کی ہے کہ بے شک اس نے کہا کہ میں نے ابوحنیفہ کے ساتھیوں سے زیادہ عیسائیوں کے ساتھ مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں دیکھا۔
حالانکہ صحیح سند کے ساتھ تو یزید بن ھارون سے ابوحنیفہ کی شان میں انتہائی تعریف ثابت ہے جیسا کہ خود خطیب نے ص 342 میں روایت نقل کی ہے۔
اور یہ کیسے ہو سکتا ہے حالانکہ ابن عبدالبر نے الحکم بن المنذر - یوسف بن احمد محمد بن علی السمنائی۔ احمد بن حماد القاسم بن عبادہ - محمد بن علی۔ یزید بن ہارون کی سند نقل کر کے کہا کہ یزید بن ہارون نے کہا کہ مجھ سے خالد بن عبد الله اللطحان الواسطی نے کہا کہ تو ابوحنیفہ کی کلام دیکھا کرتا کہ تجھے فقہ حاصل ہو جائے کیونکہ تجھے ضرورت ہے۔
یا کہا کہ تو اس کی طرف محتاج ہے۔
اور خالد الواسطی نے اس سے بہت سی احادیث روایت کی ہیں۔
پس اے مخاطب ذرا سمجھ سے کام لے کہ کیا کوئی شخص اپنے شیخ کی نصیحت کو ان لوگوں کے حق میں قبول کر سکتا ہے جن کو وہ نصاری کی طرح سمجھتا ہو۔ اللہ کی قسم یہ تو خالص بہتان ہے۔
اور بے شک ابن ابی العوام نے جعفر بن محمد ابن اعین یعقوب بن شیبہ یعقوب بن احمد الحسن بن علی۔ یزید بن ھارون کی سند نقل کر کے کہا کہ یزید بن ہارون نے کہا جبکہ اس سے کسی آدمی نے پوچھا کہ اے ابو خالد تو سب سے زیادہ فقیہ کس کو سمجھتا ہے؟ تو اس نے کہا ابوحنیفہ کو۔ اور ابوحنیفہ تو ان کے اکابر کا یقینا استاد ہے۔
اور میری خواہش ہے کہ میرے پاس اس کے مسائل میں سے ایک لاکھ مسائل ہوتے اور اس نے کہا کہ میں نے اس کے ساتھ یہ مجلس موت سے صرف ایک ہفتہ پہلے کی ہے۔ الخ۔
اور ابن ابی العوام نے اسی طرح ابراہیم بن احمد بن سهل القاسم بن غسان ابراہیم بن عبد اللہ الہروی کی سند نقل کر کے کہا کہ عبد اللہ نے کہا کہ میں نے یزید بن ہارون کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ایک ہزار فقہاء کو پایا اور ان میں سے اکثر سے لکھا تو میں نے ان میں سب سے زیادہ فقیہ سب سے زیادہ حلیم اور سب سے زیادہ پرہیزگار پانچ آدمیوں کو پایا۔
ان میں پہلا نمبر ابوحنیفہ کا ہے
الخ۔ پس اللہ کی پناہ کہ یزید بن ہارون نے اپنی زبان سے وہ بات کہی ہو جس کو خطیب نے اس کی طرف منسوب کر کے بیان کیا ہے۔
اور یہ صرف ابن سافری کی شرارت ہی ہو سکتی ہے۔
اور اللہ تعالیٰ ہی اس سے حساب لے گا اور ان لوگوں سے بھی جنہوں نے اس کی روایت کو موضوع ہونے کی نشاندہی کیے بغیر روایت کیا ہے۔
حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ خبر
جھوٹی ہے۔
امام کوثری کا کلام مکمل ہوا۔
[1]۔ مصنفوا تحرير تقريب التهذيب : ثقة، قيل كان عنده عن ابن مهدي ثلاثون ألف حديث، فمن الطبيعي أن يغرب على غيره
[2](أخبار أصبهان 2/104، طبقات المحدثين بأصبهان والواردين عليها 2/110) سے خطیب نے یہ روایت نقل کی ہے۔ اس کی سند کا جائزہ درج ذیل ہے:
▪︎ عصام بن يزيد بن عجلان
سوائے امام ابنِ حبان کے کسی نے بھی عصام بن یزید کو مستقل طور پر ثقات میں شمار نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی کتاب الثقات (۸/ ۵۲۰) میں ان کا تذکرہ تو کیا، لیکن ساتھ ہی ایک ایسی جرح بھی نقل کر دی جو ان کی توثیق کے مرتبے کو یکسر گرا دیتی ہے۔ ابنِ حبان لکھتے ہیں: "عِصَامُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَجْلَانَ... يَتَفَرَّدُ وَيُخَالِفُ، وَكَانَ صَدُوقًا۔" جب کوئی راوی درجۂ صدوق میں ہو، لیکن اس کی صفت یہ ہو کہ وہ روایات میں ’منفرد‘ ہوتا ہو اور دوسرے ثقات کی ’مخالفت‘ کرتا ہو، تو اس کی منفرد روایات مقبول نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ’شذوذ‘ یا ’نکارت‘ کے دائرے میں چلی جاتی ہیں۔ امام سفیان ثوری سے اتنی بڑی بات نقل کرنے میں عصام بن یزید کا اکیلا ہونا اور ان کا یہ تفرد، ابنِ حبان کی اپنی صراحت کے مطابق محلِ نظر ہے۔ دیگر کتبِ رجال کی خاموشی مثلاً امام ابن ابی حاتم کی الجرح والتعدیل (۷/ ۲۶)، ابو نعیم کی تاریخ اصبہان (۲/ ۱۳۸)، اور أبي الشيخ الأصبهاني کی طبقات المحدثین بأصبھان (۲/ ۱۱۰)، ان میں سے کسی ایک کتاب میں بھی عصام بن یزید کے بارے میں کوئی واضح توثیق، تعدیل یا مدح کا کلمہ منقول نہیں ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے عصام بن یزید کا تذکرہ اپنی کتاب لسان المیزان (۴/ ۱۶۸) میں کیا ہے۔جس میں صرف ان راویوں کو لایا جاتا ہے جو کسی نہ کسی درجے میں مجروح ہوں یا جن کی روایات میں نکارت پائی جاتی ہو۔ لسان المیزان میں ان کا ذکر ہونا ہی اس بات کی بین دلیل ہے کہ عصام بن یزید کی مرویات محلِ اشکال اور نکارت سے خالی نہیں تھیں۔
▪︎ سلم بن عصام أبو أمية الثقفي اور عبد الرحمن بن عمر الزهري (رستہ)
اگرچہ یہ دونوں راوی مجموعی طور پر صدوق یا ثقہ قرار دیے گئے ہیں، لیکن محدثین نے ان کے متعلق یہ بھی تصریح کی ہے کہ ان سے غرائب اور منفرد روایات کثرت سے منقول ہیں، اس لیے محض ان کی روایت کو بلا قرینہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔
سلم بن عصام کے بارے میں ابو نعیم لکھتے ہیں: صاحب كتاب كثير الحديث والغرائب.
(تاريخ أصبهان 1/396)
ابو الشیخ فرماتے ہیں:كان شيخًا صدوقًا صاحب كتاب، وكتبنا عنه أحاديث غرائب.
اسی طرح ذہبی نے ان کے بارے میں کہا: له غرائب.
رستہ (عبد الرحمن بن عمر الزہری) کے متعلق ابو الشیخ کی تصریح ہے: غرائب حديث رسته تكثر.
مزید برآں، الكاشف میں انہیں ثقہ کہا گیا ہے، جبکہ التقريب میں "ثقة له غرائب" اور الميزان میں "ثقة ينفرد ويغرب" کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔
▪︎ پیش کردہ متابعت کا جائزہ
شیخ المعلمی الیمانی صاحب نے سلم بن عصام کی متابعت کے لیے درج ذیل سند پیش کی ہے: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: ثَنَا رُسْتَهْ، قَالَ: ثَنِي مُوسَى بْنُ الْمُسَاوِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عِصَامَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَقُولُ: «كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ ضَالًّا مُضِلًّا». (طبقات المحدثين بأصبهان والواردين عليها ٢/١٥٥)
تاہم یہ متابعت بھی محلِّ استدلال نہیں، کیونکہ سند کے ابتدائی راوی مُحَمَّد بن عَمْرو بن شِهاب مجہول ہیں۔ شیخ المعلمی الیمانی صاحب اور کتاب کے محقق نے ان کی تعیین محمد بن أحمد بن عمرو کے طور پر کی ہے، لیکن یہ محلِ نظر ہے؛ کیونکہ ہماری تحقیق کے مطابق مصنف ابو الشیخ نے کہیں بھی محمد بن أحمد بن عمرو کا نام اختصار کے ساتھ "محمد بن عمرو" ذکر نہیں کیا۔
بالفرض اگر یہ تعیین درست بھی مان لی جائے، تب بھی اصل اشکال برقرار رہتا ہے، کیونکہ روایت کا مدار عصام بن یزید پر ہے، جو اس نقل میں منفرد ہیں اور جن کے بارے میں مخالفتِ ثقات کی صراحت موجود ہے۔
خلاصۂ کلام:
اس سند میں کم از کم تین ایسے رواۃ موجود ہیں جن کی بعض اہلِ علم نے توثیق کی ہے، لیکن ساتھ ہی ان کے بارے میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ غرائب روایت کرتے تھے یا بعض اوقات دیگر رواۃ کی مخالفت کرتے تھے۔ لہٰذا امام ابو حنیفہؒ کے خلاف اس روایت کو قابلِ احتجاج قرار دینا محلِ نظر ہے۔
مزید یہ کہ اگر بالفرض سند کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے، تب بھی اس سے امام ابو حنیفہؒ پر اعتراض لازم نہیں آتا۔ اس کی تفصیل کے لیے قارئین "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود مضمون: "امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر متفرق اعتراضات، اعتراض نمبر 18"
کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
[3]. أخبرنا إبراهيم بن محمد بن سليمان المؤدب الأصبهاني، أخبرنا أبو بكر المقرئ، حدثنا سلامة بن محمود القيسي، حدثنا أيوب بن إسحاق بن سافري، حدثنا رجاء السندي قال: قال عبد الله بن إدريس: أما أبو حنيفة فضال مضل، وأما أبو يوسف ففاسق من الفساق.
قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
[4]۔ وقال أيوب بن شاذ بن يحيى الواسطي صاحب يزيد بن هارون قال: سمعت يزيد بن هارون يقول: ما رأيت قوما أشبه بالنصارى من أصحاب أبي حنيفة.
اول تو سند میں سلامة بن محمود القيسي کی توثیق ہمیں کسی محدث سے نہیں ملی ۔ لہذا یہ سند ہی مشکوک ٹہرتی ہے۔
دوم : امام یزید بن ہارون رحمہ اللہ سے صحیح سند سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تعریف ثابت ہے ۔
قال الإمام يزيد بن هارون الواسطي: أدركت الناس فما رأيت أحداً أعقل ولا أفضل ولا أورع من أبي حنيفة.
امام یزید بن ہارون ؒ کہتے ہیں کہ میں نے (کئی) لوگوں کو دیکھا (جن میں امام مالک ، امام احمد بن حنبل ، ابن ابی شیبہ ، امام شعبہ ، امام حماد بن سلمہ ، حماد بن زید ، امام سفیان ثوری ، سلمان بن طرخان، سلیمان التیمی ، علی بن مدینی رحمھم اللہ اور دیگر کبار اہل علم شامل ہیں ) ، مگر میں نے امام ابو حنیفہ ؒ سے زیادہ عقلمند، متقن اور افضل کسی کو نہیں دیکھا
( تاريخ بغداد ت بشار 15/498 ، اسنادہ حسن)
وضاحت :
اس روایت میں امام یزید بن ہارون ؒ ’’ افعل ‘‘کا صیغہ استعمال کیا ہے، جو کہ امام صاحب کے اعلیٰ درجہ(یعنی ثقہ کے درجہ سے بھی اعلیٰ درجہ)کی توثیق پر دلالت کرتا ہے۔
(مجلہ الاجماع : شمارہ نمبر ۴:ص ۶۵)
مزید تفصیل قارئین " النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود
جب صحیح سند سے تعریف ثابت ہے تو لہذا اعتراض والی روایت معتبر نہیں ہے۔
سوم : بالفرض اگر کسی طرح صحیح سند سے اعتراض ثابت بھی ہو جائے ، تب بھی یہ غیر مفسر ہے کہ کس طرح اصحاب ابی حنیفہ عیسائیوں کے مشابہ ہیں ؟ یہ تفصیل روایت میں موجود نہیں ہے ، نہ ہی اپنے موقف پر کوئی دلیل ہے ، تو وہ موقف جرح و تعدیل میں مردود ہے۔
امام صاحب رحمہ اللہ کے اصحاب ، امام صاحب کی فقہ پر ہیں ، اگر اصحاب ابی حنیفہ نے کوئی فقہی اختلاف کیا بھی ہے تو ، وہ مجتہد تھے ، اور اس بارے میں تفصیل احناف کی فقہی کتب میں موجود ہے۔ جب کہ عقیدے میں احناف کی ترجمانی (بلکہ اہل السنہ والجماعہ کی ترجمانی) ، عقیدہ طحاویہ میں اصحاب ابی حنیفہ نے کی ہے ، جو کہ پوری دنیا کے مسلمان ، عقائد میں اس کتاب کو مسلم مانتے ہیں۔
لہذا بتایا جائے کہ وہ کونسا مسئلہ یا عقیدہ ہے جو اصحاب ابی حنیفہ کا نصاری جیسا ہے تا کہ جرح میں وزن پیدا ہو ، اور اصحاب ابی حنیفہ رحمہ اللہ تو بہت اعلی درجے کے ہیں ، ابو حنیفہ اور اس کے لائق اصحاب کے مذہب پر چلنے والے سلطانوں کو ہی دیکھ لیا جائے کہ کتنوں نے نصاری کے خلاف جہاد کر کے ، کتنی ہی زمیں پر تثلیث توڑ کر توحید کا پرچم لہرایا ہے۔
حنفی سلطان محمد فاتح رحمہ اللہ نے قسطنطنیہ فتح کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کو پایا ( بعض غیر مقلدوں نے اہل السنہ سے جل سڑ کر ان احادیث کو بھی ضعیف یا موضوع کہا ہے ، جس بارے میں کافی و شافی جواب کیلئے شیخ وائل حنبلی حفظہ اللہ تعالی کا یہ رسالہ دیکھیں ، رسالہ ہمارے ٹیلیگرام مکتبہ میں موجود ہے ، لنک ویب سائٹ پر ہے۔
أحاديثُ مُنْتَخَبَةٌ فِي فَتحِ القُسطنطينية لقراءتها في ذكرى تحقق البشارة النبوية ) اور پوری عیسائی رومی سلطنت اکھاڑ پھینکی اور اسلام کو پھیلایا (یہ صرف ایک مثال ہے) تو کیا اصحاب ابی حنیفہ ، نصاری کے مشابہ ہیں ؟؟؟
انصاف ہم قارئیں پر چھوڑتے ہیں۔
امام قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ پر امام یزید بن ہارون رحمہ اللہ کی جرح :
قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود










تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں