اعتراض نمبر 82 : کہ امام مالک نے کہا کہ اگر ابو حنیفہ اس ستون کو سونے کا کہے تو وہ اس کو ثابت کر کے دکھائے گا ۔ ابو محمد نے کہا کہ اس سے مالک کی مراد یہ ہے کہ ابو حنیفہ کے سامنے بے شک حق ظاہر ہو جائے تو وہ حق کی طرف نہیں لوٹتا بلکہ اپنی خطا کے باوجود دلیل سے اپنی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اعتراض نمبر 82 : کہ امام مالک نے کہا کہ اگر ابو حنیفہ اس ستون کو سونے کا کہے تو وہ اس کو ثابت کر کے دکھائے گا ۔ ابو محمد نے کہا کہ اس سے مالک کی مراد یہ ہے کہ ابو حنیفہ کے سامنے بے شک حق ظاہر ہو جائے تو وہ حق کی طرف نہیں لوٹتا بلکہ اپنی خطا کے باوجود دلیل سے اپنی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
أخبرنا أحمد بن محمد العتيقي والحسين بن جعفر السلماسي والحسن بن علي الجوهري قالوا: أخبرنا علي بن عبد العزيز البرذعي، أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن أبي حاتم الرازي، حدثنا أبي، حدثنا ابن أبي سريج قال: سمعت الشافعي يقول: سمعت مالك بن أنس - وقيل له: تعرف أبا حنيفة؟ فقال: نعم! ما ظنكم برجل لو قال: هذه السارية من ذهب لقام دونها حتى يجعلها من ذهب، وهي من خشب أو حجارة؟ قال أبو محمد: يعني أنه كان يثبت على الخطأ ويحتج دونه ولا يرجع إلى الصواب إذا بان له.
الجواب :
میں کہتا ہوں کہ ابن ابی حاتم نے متن کے الفاظ تبدیل کرنے کے بعد از خود ہی اس کی تفسیر کی ہے اور پہلے خطیب نے ہی ص 338[1] میں نقل کیا ہے کہ بے شک مالک نے کہا ہاں میں نے ایسے آدمی کو دیکھا ہے کہ اگر وہ تیرے ساتھ اس ستون کے بارہ میں کلام کرے تو اپنی دلیل کے ساتھ وہ اس کو سونے کا کر دکھائے گا۔ الخ
اور ابن ابی سریج نے مالک تک اپنی سند کے ساتھ جو الفاظ نقل کیے ہیں جس کو ابو محمد حیان نے ابو العباس الجمال سے روایت کیا ہے وہ الفاظ یہ ہیں کہ ہاں میں نے ایسے آدمی کو دیکھا ہے کہ اگر وہ اس ستون کو دیکھے حالانکہ وہ پتھر کا ہے تو وہ کہے کہ بے شک وہ سونے کا ہے تو وہ اپنی دلیل کے ساتھ اس کو ثابت کر دکھائے گا۔
اور اس کے مثل ابو اسحاق الشیرازی کی طبقات الفقہاء میں ہے۔
اور ابن الجوزی نے المنتظم میں کہا ہے کہ ابو حنیفہ کی ذہانت اور اس کی فقاہت کے بارہ میں لوگوں کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ سفیان ثوری اور ابن المبارک دونوں کہا کرتے تھے کہ ابو حنیفہ افقہ الناس ہیں۔
اور مالک سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے ابو حنیفہ کو دیکھا ہے تو انہوں نے کہا کہ میں نے ایسے آدمی کو دیکھا ہے کہ اگر وہ تیرے ساتھ اس ستون کے متعلق کلام کرے کہ وہ سونے کا ہے تو وہ اپنی دلیل سے ثابت کر دکھائے گا۔
اور امام شافعی نے کہا کہ سارے لوگ فقہ میں ابو حنیفہ کے محتاج ہیں۔ الخ[2]
پس آپ دیکھیں گے کہ ابن الجوزی باوجودیکہ ابو حنیفہ اور اس کے اصحاب سے کنارہ کش تھے وہ امام مالک کے کلام کو ابو حنیفہ کی فقاہت اور ذہانت پر دلیل کے ضمن میں نقل کر رہے ہیں اور اسی طرح سبط ابن الجوزی کی کتاب الانتصار والترجیح میں ہے۔
اور ابن عبد البر نے الانتقاء ص 146 میں احمد بن محمد ابو عمر بن الحباب احمد بن الفضل الدینوری محمد بن جریر احمد بن خالد الخلال الشافعی کی سند نقل کر کے کہا کہ امام شافعی نے فرمایا کہ ایک دن امام مالک سے عثمان البتی کے بارہ میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کان رجلا مقاربا کہ وہ درمیانہ درجہ کا آدمی تھا۔
اور ان سے ابن شبرمہ کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ وہ درمیانہ درجہ کا آدمی تھا۔
تو ان سے پوچھا گیا پس ابو حنیفہ کیسے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ تمہارے ان ستونوں کے پاس آئے پھر وہ تمہیں قیاس سے قائل کرنے لگے کہ بے شک وہ ستون لکڑی کے ہیں (حالانکہ وہ لکڑی کے نہ ہوں) تو تم یقین کر لو گے کہ بے شک وہ لکڑی کے ہیں۔ الخ[3]
اور یہ ساری خبریں اس بات پر دلالت کے لیے نقل کی گئی ہیں جو اللہ تعالی نے ابو حنیفہ کو عمدہ رائے اور معانی کی تہہ تک پہنچنے اور علم میں وسعت کی قوت دے رکھی تھی۔
عداوت کی وجہ سے اس میں عیب پر دلالت کے لیے نہیں نقل کی گئی۔
اور جس طرح مالک نے ابو حنیفہ کی تعریف کی ہے اسی جیسی تعریف بعض حضرات نے امام شافعی کی بھی مدح کرتے ہوئے کی ہے نہ کہ اس میں عیب بتانے کے لیے۔
لیکن روایت میں راوی ابن ابی حاتم المسکین جس کے بارہ میں کہا جاتا تھا کہ بائیں جانب والے کاتب نے اس کے خلاف کچھ نہیں لکھا۔ (یعنی وہ بہت زیادہ پرہیز گار تھا پھر اس کو حرب بن اسماعیل السیرجانی نے اعتقاد میں برباد کر دیا یہاں تک کہ وہ اہل حق متکلمین کے خلاف کمر بستہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ بے شک یہ کہنا کہ قرآن کے الفاظ مخلوق ہیں تو یہ بھی کفر ہے۔
اس طرح کہنے والا ملت سے
نکل جاتا ہے اور کتاب الرد علی الجہمیہ میں وہ چیزیں ذکر کی گئی ہیں جو اس کی عقل کی خرابی پر دلالت کرتی ہیں اور وہ بے پناہ دشمنی چھپاتا تھا ان لوگوں کے بارہ میں جو قرآن کریم کے الفاظ کو مخلوق کہتے تھے۔
پس عقلیں تقسیم کرنے والی ذات بڑی پاک ذات ہے۔
پس آپ دیکھیں گے کہ وہ اسی وجہ سے امت کے حفاظ کے شیخ بخاری کے بارہ میں بھی کلام کرنے سے نہ بچتا تھا۔
اس کو ابوزرعہ اور ابوحاتم نے ترک کر دیا تھا۔
پس جب اس کی یہ حالت حدیث کی روایت کرنے والوں کے بارہ میں ہے تو پھر اس کی رائے اہل فقہ اور روایت کے بارہ میں کیا ہوگی۔
اور اس نے خود اعتراف کیا کہ وہ علم کلام سے ناواقف ہے۔ جیسا کہ کتاب الاسماء والصفات ص 269 میں ہے مگر اس کے باوجود آپ دیکھیں گے کہ وہ علم اصول الدین کی تنگ جگہوں میں داخل ہوتا ہے۔ تفویض (کہ متشابہات کے ظاہر پر ایمان رکھنا اور مفہوم کو اللہ کی طرف سونپ دینا) اور تنزیہہ (جو چیزیں اللہ تعالی کے لیے لائق نہیں ان سے اس کو منزہ ماننا) کے نظریہ سے دور ہٹنے والا تھا تو اس کے قدم پھسل گئے۔
اس کی حالت یہ تھی کہ جو کام اس نے کیا ہوتا اس کے متعلق گمان کرتا کہ اس نے نہیں کیا۔ اور وہ روایت بالمعنی نقل کرتا تو اس کو بالکل ہی بدل دیتا۔
اور یہی وہ شخص ہے جس کے
بارہ میں بے تکی باتیں کہنے والے کہتے تھے کہ بے شک کاتب شمال وہ چیز پاتا ہی نہیں جو اس کے خلاف لکھے (یعنی انہوں نے اس کو اتنا پارسا مشہور کر رکھا تھا)
بے شک کتاب الجرح والتعدیل میں اس نے کہا کہ ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی نے میری طرف ابو عبد الرحمن المقرٸ سے جو روایت لکھ کر بھیجی اس میں لکھا کہ ابو عبد الرحمن المقرٸ نے کہا کہ ابو حنیفہ نے ہمارے سامنے حدیثیں بیان کیں۔ پھر جب حدیث سے فارغ ہوئے تو کہا یہ کہ سب جو کچھ تم نے سنا ہے وہ سب ہوا اور بے اصل ہیں[4]۔
پھر کہا کہ ابراہیم بن يعقوب الجوزجانی نے مجھے لکھ کر بھیجا کہ مجھے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا کہ میں نے جریر کو کہتے ہوئے سنا کہ محمد بن جابر الیمامی نے کہا کہ ابو حنیفہ نے مجھ سے حماد کی کتابیں چوری کیں[5]۔
پھر کہا کہ ہمیں احمد بن منصور المروزی نے بتلایا کہ میں نے سلمہ بن سلمان سے سنا وہ کہتا تھا کہ عبد اللہ یعنی ابن المبارک نے کہا کہ بے شک میرے ساتھی ابو حنیفہ سے روایت کرنے کے بارہ میں مجھے ملامت کرتے ہیں۔
اور یہ اس لیے کہ بے شک اس نے محمد بن جابر کی کتاب لی جس میں اس نے حماد بن ابی سلیمان سے مروی روایات لکھی ہوئی تھیں پھر وہ روایات حماد سے کرنے لگے حالانکہ انہوں نے وہ روایات اس سے نہیں سنی تھیں[6]۔
ابی حاتم باقی لوگوں کی بہ نسبت زیادہ جانتے ہیں کہ بے شک الجوزجانی اہل کوفہ سے کنارہ کش تھے۔
یہاں تک کہ اہل نقد کی اس کے بارہ میں رائے پختہ ہو گئی کہ اہل کوفہ کے بارہ میں اس کی بات قابل قبول نہیں ہے۔
اور وہ ناصبی خبیث حریزی مذہب کا تھا[7]۔
اس کی ایک لونڈی نے چوزہ لیا تا کہ اس کو ذبح کرائے تو اس نے اس کو ذبح کرنے والا کوئی نہ پایا تو یہ کہنے لگا سبحان اللہ ایک چوزے کو ذبح کرنے والا نہیں ملتا اور علی ایک صبح میں بیس ہزار سے اوپر مسلمانوں کو ذبح کر دیتا تھا۔ الخ[8]۔
(حضرت علیؓ کے بارہ میں اس کا ایسا نظریہ تھا، معاذ اللہ )
پس اس جیسے خبیث آدمی کی بات کی تصدیق کیا ابو حنیفہ کے بارہ میں کوئی متقی پرہیز گار کر سکتا ہے؟
پھر اس روایت میں محمد بن جابر الیمامی الاعمی ہے جس کے بارہ میں امام احمد نے کہا کہ
اس سے صرف وہی آدمی حدیث بیان کرے گا جو اس سے بھی زیادہ شریر ہوگا اور ابن معین
اور نسائی نے اس کو ضعیف کہا۔ پس ابن ابی حاتم اس جیسے آدمی کی سند سے ابو حنیفہ کو (علم و عمل) سے خالی کر دینے کا ارادہ رکھتا ہے[9]۔
یہاں تک کہ اپنی ان روایات میں پائی جانے والی باتوں سے بھی خالی کرنا چاہتا ہے جو اس نے اپنے ایسے شیخ سے بیان کی ہیں جس کا ساتھ اس کو عرصہ دراز تک حاصل رہا اور اس کی وجہ سے وہ روایات فقہ میں پیش کی جاتی ہیں۔
لیکن تعصب اسی طرح دن کو رات بناتا رہتا ہے۔
علاوہ اس کے یہ بات بھی ہے کہ ابو حنیفہ کے مذہب کے مطابق تو راوی کے اپنے خط کا بھروسہ نہیں ہوتا جب تک وہ اس کا ذکر نہ کرے جس سے روایت کی گئی ہے تو محمد بن جابر الاعمی کی کتاب پر کیسے بھروسہ ہو سکتا ہے جس کے بارہ میں معلوم ہی نہیں کہ اس کی کتاب کس نے لکھی۔
اور اگر ہم اس چیز سے پردے ہٹانے شروع کریں جو ابن ابی حاتم نے ردی قسم کے اعتقاد چھپا رکھے تھے اور جن کو اہل حق کے مقابلہ میں اٹھائے پھرتا تھا تو کلام طویل ہو جائے گی۔ پس اسی اشارہ پر اکتفا کرتے ہیں تا کہ معلوم کیا جا سکے کہ اس سے اس کے فن کی صرف وہی بات کی جا سکتی ہے جس میں اس کا تعصب بھڑکا ہوا نہ ہو۔
پس جو شخص یہ کہتا ہے کہ بے شک فلاں آدمی کا کاتب شمال اس کے خلاف کچھ نہیں لکھتا تو اس قول کی وجہ سے تو جرات کے ساتھ غیوب پر جا پڑتا ہے (یعنی اس کو غیب کا علم ہے جس سے اس نے معلوم کیا کہ اس کا بائیں جانب کا فرشتہ اس کے خلاف کچھ نہیں لکھتا) نیز یہ تو تعریف میں مبالغہ کرنا ہے اور ان دونوں چیزوں کا ہر دیندار آدمی انکار کرتا ہے۔
ہم اللہ تعالی سے حفاظت کی درخواست کرتے ہیں[10]۔
امام کوثری کا کلام مکمل ہوا۔
[1].تاریخ بغداد ت بشار 15/463 اسنادہ صحیح
[2]. المنتظم في تاريخ الأمم والملوك 8/131
[3].مناقب الشافعي للبيهقي 1/536 ، الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء ١/١٤٦ ، المنتخب من ذيل المذيل ١/١٣٩ — أبو جعفر ابن جرير الطبري
[4]۔. نا عبد الرحمن انا إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني فيما كتب إلى عن أبي عبد الرحمن المقرئ قال: كان أبو حنيفة يحدثنا فإذا فرغ من الحديث قال: هذا الذي سمعتم كله ريح وباطل
الجرح والتعديل - الرازي - ج ٨ - الصفحة ٤٥٠
ابو عبدالرحمن المقری کہتے ہیں کہ ابو حنیفہ ہمیں حدیث سناتے اور جب اس سے فارغ ہوتے تو کہتے: یہ جو تم سب نے سنا ہے یہ سب ریح وباطل ہے
تفصیل کے لیے دیکھیے: "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود مضمون
[5] ، [6] ۔اعتراض
: اعتراض :
نا عبد الرحمن انا إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني فيما كتب إلى حدثني إسحاق بن راهويه قال سمعت جريرا يقول قال محمد بن جابر اليمامي: سرق أبو حنيفة كتب حماد منى.
اسحاق بن راهويه کہتے ہیں میں نے جریر کو سنا کہ محمد بن جابر اليمامى نے کہا کہ ابو حنیفہ نے مجھ سے حماد کی کتابیں چوری کیں
الجرح والتعديل - الرازي - ج 8 - الصفحة 450
جواب :
تفصیل کے لیے دیکھیے: "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود مضمون
[7]۔ الثقات لابن حبان ٨/٨١
[8]۔ تهذيب التهذيب ١/١٨٢
[9]۔ أحمد بن حنبل : لا يحدث عنه إلا شر منه، ومرة: ربما ألحق في كتابه أو يلحق في كتابه يعنى الحديث، ومرة: يروي أحاديث مناكير وهو معروف بالسماع يقولون رأوا في كتبه نحو حديثه عن حماد فيه اضطراب، ومرة: منكر أنكره جدا، ومرة: ليس به بأس
أحمد بن شعيب النسائي : ضعيف
أحمد بن صالح الجيلي : ضعيف
الذهبي : سيئ الحفظ
عبد الرحمن بن مهدي : ضعفه، ومرة: كان يحدث عنه ثم تركه بعد
عمرو بن علي الفلاس : صدوق كثيرالوهم، متروك الحديث
محمد بن إسماعيل البخاري : ليس بالقوي، يتكلمون فيه، روى مناكير
[10]۔ امام مالک رحمہ اللہ سے جروحات کے متعلق تفصیلی جواب کیلئے دیکھیں " النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
▪︎ تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر 19
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں