نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر 134: کہ سفیان ثوری نے کہا کہ مرتدہ کے بارہ میں عاصم کی حدیث کوئی ثقہ راوی تو روایت نہیں کرتا البتہ ابو حنیفہ اس کو روایت کرتے تھے۔


 اعتراض نمبر  134: 

کہ سفیان ثوری نے کہا کہ مرتدہ کے بارہ میں عاصم کی حدیث کوئی ثقہ راوی تو روایت نہیں کرتا البتہ ابو حنیفہ اس کو روایت کرتے تھے۔


أخبرنا البرمكي، أخبرنا محمد بن عبد الله بن خلف، حدثنا عمر بن محمد الجوهري، حدثنا أبو بكر الأثرم، حدثنا أبو عبد الله، حدثنا عبد الرحمن ابن مهدي قال: سألت سفيان عن حديث عاصم في المرتدة؟ فقال: أما من ثقة فلا، كان يرويه أبو حنيفة. قال أبو عبد الله: والحديث كان يرويه أبو حنيفة عن عاصم عن أبي رزين عن ابن عباس في المرأة إذا ارتدت، قال: تحبس ولا تقتل.

128 - أخبرنا عبيد الله بن عمر الواعظ، أخبرنا أبي، حدثنا أحمد بن مغلس، حدثنا مجاهد بن موسى، حدثنا أبو سلمة منصور بن سلمة الخزاعي قال: سمعت أبا بكر بن عياش وذكر حديث عاصم. فقال: والله ما سمعه أبو حنيفة قط.


الجواب : 

میں کہتا ہوں کہ اس کی سند میں عمر بن محمد الجوھری السذابی ہے جو کہ موضوع حدیث کی روایت میں منفرد ہے اس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ تو ایسی سند جس میں السذابی ہو اس کے ساتھ ثوری سے یہ روایت ثابت نہیں ہو سکتی[1]۔ 

اور جو روایت خطيب نے ابو بکر بن عیاش کی طرف منسوب کی ہے کہ بے شک اس نے کہا کہ اللہ کی قسم ابو حنیفہ نے اس کو کبھی نہیں سنا۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ ابو بکر بن عیاش سے یہ روایت ثابت ہے تو اس کی کلام نفی پر شہادت ہے جو کہ مردود ہے۔

 اور جو آدمی یاد رکھتا ہے وہ اس کے خلاف حجت ہوتا ہے جس نے یاد نہیں رکھا۔

 یا یہ کہ اس کی تاویل یہ ہوگی کہ اس کی کلام کا مطلب یہ ہے کہ میری معلومات کے مطابق اس نے اس کو نہیں سنا[2]۔

 اور ابن عدی نے الکامل میں مرتدہ سے متعلق ابوحنیفہ کی روایت ذکر کی ہے جس کی سند یوں ہے۔ حدثنا احمد بن محمد بن سعيد حدثنا احمد بن زهير بن حرب قال سمعت يحيى بن معين يقول كان الثوری کہ یحییٰ بن معین نے کہا کہ ثوری ابوحنیفہ  پر ایک حدیث کی وجہ سے عیب لگاتے تھے جو ابوحنیفہ کے علاوہ کوئی اور روایت نہیں کرتا اور وہ ابو حنیفہ - عاصم ابو رزین عن ابن عباس کی سند سے روایت کرتے ہیں۔  پھر جب یمن کی طرف گئے تو اس کو عاصم سے تدلیس کرتے تھے۔ پھر ابن عدی نے احمد بن محمد بن سعید علی بن الحسن بن سهل محمد بن فضل البطی داؤد بن حماد بن فرافصه۔ وکیع ابوحنیفہ - عاصم ابو رزين عن ابن عباس کی سند نقل کر کے کہا عورتوں کے بارہ میں جبکہ وہ مرتد ہو جائیں کہ ان کو قید کیا جائے اور قتل نہ کیا جائے۔ وکیع نے کہا کہ شام میں اس حدیث کے متعلق سفیان سے پوچھا جاتا تو کبھی وہ نعمان عن عاصم کہتے اور کبھی کہتے کہ بعض اصحابنا کہ ”ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہے"۔ الخ

اور ابن ابی العوام نے محمد بن احمد بن حماد ابویحیی محمد بن عبد اللہ بن یزید المقرئ۔ عبد الله بن الوليد العدنی سفیان ثورى عن رجل عن عاصم اور دوسری سند ابو بشر الدولابی صاحب لنا جس کی کنیت ابوبکر تھی۔  یعقوب بن اسحاق ابو يوسف العطار الفقيه - عبد الرزاق۔ سفیان ابوحنیفہ - عاصم ابو رزین عن ابن عباس نقل کی کہ حضرت ابن عباس نے عورت کے بارہ میں کہا جو مرتدہ ہو جائے اس کو قید کیا جائے اور قتل نہ کیا جائے۔ الخ۔  اور اس کے ساتھ ظاہر ہو گیا کہ بے شک یہ روایت تو خود سفیان ابوحنیفہ سے کرتے تھے۔ خواہ ہر منکر ذلیل و خوار ہوتا رہے[3]۔


امام کوثری کا کلام مکمل ہوا 


[1] عمر بن محمد بن عيسى الجوهري هو عمر بن محمد بن عيسى بن سعيد المعروف بالسذابي قال الخطيب في بعض حديثه نكرة  (تاريخ بغداد ت بشار ج13/ص74)

وفي حديثه بعض النكرة وذكر له هذا الحديث المنكر فقال حدثنا عبد العزيز الأرحبي ثنا أحمد بن عبد العزيز الصريفيني ثنا عمر بن محمد ثنا الحسن بن عرفة ثنا يزيد بن هارون ثنا حماد بن سلمة عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس رضي الله عنهما مرفوعا عن جبرئيل عن الله قال انا الله لا اله الا انا كلمتي من قالها أدخلته جنتي ومن أدخلته جنتي فقد امن عذابي والقرآن كلامي ومنى خرج * قلت * هذا موضوع انتهى  (لسان الميزان، ابن حجر - ج ٤ - الصفحة ٣٢٥)


[3].  حدثنا أبو سلمة منصور بن سلمة الخزاعي قال: سمعت أبا بكر بن عياش وذكر حديث عاصم. فقال: والله ما سمعه أبو حنيفة قط.

ہم سے ابو سلمہ منصور بن سلمہ خزاعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابو بکر بن عیاش کو سنا، اور انہوں نے عاصم کی حدیث کا ذکر کیا، تو کہا: اللہ کی قسم! ابو حنیفہ نے یہ حدیث کبھی نہیں سنی۔

الجواب :  سب سے پہلے یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس روایت کے راوی ابو سلمہ منصور بن سلمہ خزاعی، ابو بکر بن عیاش کے آخری دور کے شاگرد ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب خود ابو بکر بن عیاش کا حافظہ کمزور ہو چکا تھا۔ لہٰذا قوی احتمال ہے کہ ابو سلمہ نے یہ بات ابو بکر بن عیاش سے اسی دور میں سنی ہو جب ان کا ضبط پہلے جیسا باقی نہ رہا تھا۔ اسی بنا پرابو بکر بن عیاش کے اس قول کو قطعی اور حتمی دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

مزید برآں، یہ بات خود اس دعوے کے خلاف جاتی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے یہ حدیث نہیں سنی، کیونکہ امام سفیان ثوری اس حدیث کو امام ابو حنیفہ سے روایت کرتے تھے، اور اس حدیث میں امام ابو حنیفہ کی متابعت بھی موجود ہیں ، تو ابو بکر بن عیاش کا یہ کہنا کہ “ابو حنیفہ نے یہ حدیث کبھی نہیں سنی” درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یہ بھی ایک مسلم حقیقت ہے کہ ہمیں ابو بکر بن عیاش سے بعض ایسے منفرد دعوے ملتے ہیں جن کی تائید کوئی دوسرا نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر ابو بکر بن عیاش کا یہ قول ملاحظہ ہو:

«أخبرني أبو عبد الله محمد بن عبد الواحد، أخبرنا محمد بن العباس، حدثنا أحمد بن نصر الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الرحيم، حدثنا أبو معمر قال: قال أبو بكر بن عياش: يقولون إن أبا حنيفة ضرب على القضاء، إنما ضرب على أن يكون عريفا على طرز حاكة الخزازين.»


حالانکہ یہ بات تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو کوڑے اس وجہ سے لگائے گئے تھے کہ خلیفۂ وقت انہیں قاضی بنانا چاہتا تھا اور انہوں نے اس منصب کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس واقعے کا انکار گزشتہ چودہ سو برس میں کسی نے نہیں کیا، چاہے وہ امام صاحب کا مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے باوجود ابو بکر بن عیاش کا یہ انوکھا اور منفرد دعویٰ سامنے آتا ہے، جو ثابت شدہ تاریخی حقیقت کے خلاف ہے۔ یہ مثال خود اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ابو بکر بن عیاش کے بعض منفرد دعوے قابلِ اعتماد نہیں رہے۔

لہٰذا اسی اصول پر ابو بکر بن عیاش کا یہ کہنا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فلاں حدیث کسی سے نہیں سنی، ایک غیر ثابت اور محلِّ نظر دعویٰ ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ابو بکر بن عیاش کے علم میں یہ بات ہی نہ ہو کہ امام ابو حنیفہ نے یہ روایت عاصم سے سنی تھی یا نہیں، اور انہوں نے اپنی محدود معلومات کی بنیاد پر یہ بات کہہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ان کا یہ قول کسی پر حجت نہیں بنتا۔

خصوصاً جب کہ ہم پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اس روایت میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی متابعت موجود ہیں، جیسا کہ سنن دارقطنی (4/127) میں مذکور ہے۔ اس بنا پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اس روایت کے حوالے سے کوئی اعتراض درست نہیں ٹھہرتا۔


[3] ۔  امام ابو حنیفہؒ پر جرح اور امام سفیان ثوریؒ کا طرزِ عمل – ایک علمی تضاد


اگر امام سفیان ثوریؒ واقعی امام ابو حنیفہؒ کو غیر ثقہ راوی سمجھتے تھے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ:

1. پھر وہ اسی روایت (مرتدہ کو قید کیا جائے گا )کو خود کیوں بیان کرتے ہیں؟ (سنن درقطنی 3457)

2. اپنا فقہی فتویٰ اسی روایت کے مطابق کیوں دیتے ہیں؟(سنن ترمذی رقم 1458)

3. اگر وہ اس روایت کو منکر یا ضعیف سمجھتے، تو ان کا عملی موقف اسی روایت کا عکس کیوں ہوتا؟ 

یہ تینوں سوالات ایک گہری علمی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیںامام سفیان ثوریؒ کی طرف سے امام ابو حنیفہؒ پر جو جرح منقول ہے، وہ نہ تو انصاف پر مبنی تھی، نہ قادح (یعنی روایت کو ناقابل قبول بنانے والی) ، امام سفیان ثوری کی جرح ہمیشہ غیر مفسر ہوتی ہے ، اگر وہ یہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت ثقہ سے نہیں آئی تو کیا مطلب ثقہ سے کم درجہ صدوق یا حسن درجہ کے راوی سے آئی ہے ؟ پھر جب کہ اس روایت میں امام صاحب کی متابعت بھی موجود ہے (سنن دار قطنی 127/4) ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ جرح محض اختلافِ فقہ و طرزِ اجتہاد کی بنیاد پر تھی،

 مثلاً: کثرتِ قیاس یا کوفہ کے محدثین کے مخصوص طرز پر۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امام ثوریؒ کا عملی رویہ اور فقہی رجحان امام ابو حنیفہؒ کے ساتھ ہم آہنگ تھا۔ مثال کے طور پر: امام ترمذی کے مطابق: "بعض اہلِ علم نے کہا کہ مرتدہ عورت کو قتل کیا جائے، اور بعض نے کہا کہ اسے قتل نہ کیا جائے بلکہ قید کیا جائے، اور یہی امام سفیان ثوریؒ کا قول ہے۔" جبکہ یہ موقف وہی ہے جو امام ابو حنیفہؒ سے مروی حدیث میں آیا ہے: «اﻟﻤﺮﺃﺓ ﺗﺮﺗﺪ، ﻗﺎﻝ: «ﻻ تقتل ﻭﻻ ﺗﺤﺒﺲ» (مسند أبي حنيفة برواية أبو نعيم ) یاد رہے کہ امام سفیان ثوریؒ سے بعض اوقات یہ بات نقل ہوئی کہ: "یہ روایت ثقہ راوی سے نہیں۔" لیکن وہ خود بھی اسے روایت کرتے ہیں، اور اسی کے مطابق فتویٰ بھی دیتے ہیں۔ گویا ان کا عمل خود اس جرح کی تردید کر رہا ہے۔

اب اگر سفیان ثوریؒ جیسے جلیل القدر محدث و فقیہ کا خود انہی روایات پر اعتماد اور فقہی ہم آہنگی تھی تو امام ابو حنیفہ کو غیر ثقہ کہنا انکا دوہرا معیار دکھاتا ہے کیونکہ آپ ایک طرف امام ابو حنیفہ پر جرح کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف اپنی فقہی دلیل بھی ان سے مروی روایت پر قائم کر رہے ہیں ۔ تو گویا یہ تضاد ہے کہ آپ راوی کو غیر معتبر لیکن روایت کو معتبر مان رہے ہیں.  یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ پر جرحیں اُن کے فہم، بصیرت، اور استقلال رائے سے خائف ہو کر کی گئیں، نہ کہ کسی واقعی علمی کمزوری کی بنیاد پر۔ اور یہ صرف ایک مسئلہ نہیں کہ جس میں امام سفیان ثوری نے امام ابو حنیفہ کی موقف کے مطابق فتوی دیا ہو مثال اور بھی ہے.  لہٰذا سفیان ثوری رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہؒ پر کی گئی جرح:

1. یا تو غیر معتبر ہے

2. یا محض تاثراتی و شخصی ہے 

3. یا وقتی علمی اختلاف پر مبنی تھی، جو عملی طور پر تسلیم میں بدل گئی




ہمیں سفیان ثوری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ کی واضح تعریف بھی ملتی ہے ، جہاں سفیان ثوری رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ کی حدیث میں تعریف کی ہے ، ذیلی مضمون کی پہلی روایت ملاحظہ ہو۔ 


تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر 25 : امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کے طرزِ عمل سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی عظمت کا روشن ثبوت اعتراض سے اعتراف تک: امام سفیان ثوریؒ کا امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں رویہ





امام سفیان ثوری نے حدیث میں امام ابو حنیفہ کی تعریف کی ہے اس پر مزید تفصیل کیلئے دیکھیں 

الاجماع شمارہ 21 ص 60۔


مزید تفصیل کیلئے دیکھیں

اعتراض نمبر 18 : امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جروحات کا تحقیقی جائزہ

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...