اعتراض نمبر 42:
کہ سفیان ثوری نے کہا کہ ابو حنیفہ سے دو مرتبہ کفر سے توبہ طلب کی گئی۔
أخبرنا ابن رزق، أخبرنا أحمد بن عبد الله الوراق، حدثنا أبو الحسن علي ابن إسحاق بن عيسى بن زاطيا المخرمي قال: سمعت إبراهيم بن سعيد الجوهري يقول: سمعت معاذ بن معاذ.
وأخبرنا ابن الفضل، أخبرنا عثمان بن أحمد الدقاق، حدثنا سهل بن أبي سهل الواسطي، حدثنا أبو حفص عمرو بن علي قال: سمعت معاذ بن معاذ يقول:
سمعت سفيان الثوري يقول: استتبت أبا حنيفة من الكفر مرتين.
الجواب :
میں کہتا ہوں کہ مطبوعہ مصری دونوں نسخوں میں " استنبت " کے الفاظ ہیں کہ سفیان ثوری نے کہا کہ میں نے ابو حنیفہ سے توبہ طلب کی اور یہ الفاظ غلط ہیں اس لیے کہ بیشک ثوری تو قاضی تھے ہی نہیں یہاں تک کہ ان کو توبہ طلب کرنے کا اختیار ہوتا.
اور واقعہ میں الفاظ وہی ہیں جو ہم نے ذکر کیے ہیں اور یہی الفاظ پہلی روایت اور ہندی نسخہ اور اس کتاب کے علاوہ دیگر کتب میں مذکور واقعہ کے مطابق ہیں۔
اور رہا معاملہ اس کی سند کا تو پہلی سند میں ابن رزق اور ابن زاطیا ہیں.
اور دوسری سند میں عثمان بن احمد ہے جو ابو عمرو بن السماک کے نام سے مشہور ہے جس کی طرف بناوٹی اخبار روایت کرنے کا اشارہ کیا جاتا ہے. اور عمرو بن علی الفلاس تو اہل کوفہ سے انتہائی تعصب رکھنے والا اور بہت ہی زیادہ اعراض کرنے والا تھا۔
وأخبرنا ابن رزق، أخبرنا ابن سلم، حدثنا أحمد بن علي الأبار، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا نعيم بن حماد، حدثنا يحيى بن سعيد ومعاذ بن معاذ قالا.
وأخبرنا ابن الفضل، أخبرنا ابن درستويه، حدثنا يعقوب، حدثنا نعيم قال:
سمعت معاذ بن معاذ و يحيى بن سعيد يقولان: سمعنا سفيان يقول: استتيب أبو حنيفة من الكفر مرتين. وقال يعقوب مرارا.
اور ان روایات کے بعد ایک اور روایت ہے جس کی پہلی سند میں ابن رزق، ابن سلم الابار اور نعیم بن حماد ہیں۔
اور دوسری سند میں ابن درستویہ ہے اورر نعیم ہیں۔
أخبرنا أبو نعيم الحافظ، حدثنا محمد بن أحمد بن الحسن، حدثنا بشر بن موسى، حدثنا عبد الله بن الزبير الحميدي قال: سمعت مؤملا يقول:
استتيب أبو حنيفة من الدهر مرتين.
أخبرنا أبو سعيد الحسن بن محمد بن عبد الله بن حسنويه الكاتب - بأصبهان - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن عيسى بن مزيد الخشاب، حدثنا أحمد بن مهدي، حدثنا عبد الله بن معمر، حدثنا مؤمل بن إسماعيل قال: سمعت سفيان الثوري يقول: إن أبا حنيفة استتيب من الزندقة مرتين.
اور ان کے بعد اسی کے ہم معنی کچھ اور روایات ہیں جن کی اسناد میں نعیم بن حماد اور ابن درستویہ اور الحمیدی ہیں اور الحمیدی جس کی طرف محمد بن عبد الحکم نے لوگوں کے بارے میں باتوں سے متعلق کذب کی نسبت کی ہے اور بیشک ہم نے اس کو آزمایا بھی ہے اور ایک راوی مومل ہے ، اگر وہ ابن اہاب ہے تو اس کو ابن معین نے ضعیف کہا ہے جیسا کہ خطیب نے نقل کیا ہے اور اگر وہ ابن اسماعیل ہے جیسا کہ بعض طرق میں اس کی صراحت ہے تو وہ امام بخاری کے ہاں متروک الحدیث ہے اور اس طبقہ میں ان دونوں کے علاوہ کوئی اور مومل نہیں ہے.
اور عبد اللہ بن معمر متروک راوی ہے جیسا کہ المیزان میں ہے. اور دونوں مطبوعہ نسخوں میں مسلم بن عبد اللہ ہے اور ہندی نسخہ میں سلیمان بن عبد اللہ ہے تو ان میں سے کوئی نسخہ بھی درست ہو تو وہ اگر سلیم بن عبد اللہ الزاہد ہے تو وہ کمزور ہے ، اور اگر وہ سلیمان بن عبد الله الرقی ہے تو وہ لیس بشئ ہے اور اگر ان دونوں کے علاوہ کوئی اور ہے تو وہ مجھول ہے۔
وقال أحمد بن مهدي: حدثنا أحمد بن إبراهيم، حدثني سلم بن عبد الله، حدثنا جرير عن ثعلبة قال: سمعت سفيان الثوري - وذكر أبا حنيفة - فقال: لقد استتابه أصحابه من الكفر مرارا.
اور جریر بن عبد الحمید کے بارے میں یہ قول پایا جاتا ہے کہ وہ صرف بکریاں چرانے کے قابل ہی ہے اور ثعلبہ بن سہیل القاضی کو ابن الجوزی نے الضعفاء میں ذکر کیا ہے اور یحیی بن معین نے کہا کہ وہ لیس بشئ ہے۔
اور ابن عبد البر کی عبارت الانتقاء میں 《 استتيب ابو حنيفة مرتين 》 ہے اور اس میں 《 من الكفر 》 کے الفاظ نہیں ہیں۔ پھر ابن عبد البر نے اپنی سند کے ساتھ عبد اللہ بن داود الخريبي الحافظ سے نقل کیا ہے کہ ابو حنیفہ سے توبہ طلب کرنے کے واقعات بالکل جھوٹ ہیں تفصیل کے لیے الانتقاء دیکھیں۔
أخبرنا الحسن بن أبي بكر، أخبرنا عبد الله بن إسحاق البغوي، حدثنا الحسن بن عليل، حدثنا أحمد بن الحسين - صاحب القوهي - قال: سمعت يزيد بن زريع قال: استتيب أبو حنيفة مرتين.
اور یزید بن زریع کی عبارت کی سند میں البغوی ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے ۔
أخبرنا ابن رزق والبرقاني قالا: أخبرنا محمد بن جعفر بن الهيثم الأنباري، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر. وأخبرنا الحسين بن الصوفي، أخبرنا محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا جعفر بن شاكر، حدثنا رجاء - وهو ابن السندي - قال: سمعت عبد الله بن إدريس يقول: استتيب أبو حنيفة مرتين. قال: وسمعت ابن إدريس يقول: كذاب من زعم أن الإيمان لا يزيد ولا ينقص.
أخبرنا القاضي أبو بكر الحيري، حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم قال: سمعت الربيع بن سليمان يقول: سمعت أسد بن موسى قال: استتيب أبو حنيفة مرتين.
اور عبد اللہ بن ادریس کی عبارت استنيب ابو حنيفة مرتین ہے
أخبرنا محمد بن عبد الله بن أبان الهيتي، حدثنا أحمد بن سلمان النجاد، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل قال: قلت لأبي: كان أبو حنيفة استتيب؟ قال: نعم.
اور بعض طرق میں اسد بن موسیٰ ہے جو ابن حزم کے ہاں منکر الحدیث ہے اور وہ روایت جو عبد اللہ بن احمد عن ابیہ کی سند سے کی گئی ہے، اس میں احمد بن عبد اللہ بن ابنا الہیتی ہے جو علم حدیث میں بالکل کورا ہونے کے ساتھ ساتھ مغفل تھا جیسا کہ خطیب نے کہا ہے۔ اور احمد بن سلمان النجاد حنبلی ہے جس کے بارے میں دار قطنی نے کہا کہ وہ دوسروں کی کتابوں سے ایسی حدیثیں بھی بیان کرتا تھا جو اس کے اصول کے مطابق نہ ہوتی تھیں۔ اور یہ انتہا ہے ان خبروں کی جن کو خطیب نے اسناد کے ساتھ ابو حنیفہ سے توبہ طلب کرنے کے بارے میں نقل کیا ہے۔ اور ہر قسم کا گرد و غبار اکٹھا کر کے کثرت طرق لانے کی انتہائی کوشش کی ہے۔ اور جو ہم نے ذکر کیا ہے، وہ یقینا ان اسانید کی کمزوریاں ظاہر کرنے میں کافی ہے۔ علاوہ اس کے یہ بات بھی ہے کہ خلق قرآن کا نظریہ تو اس وقت ضلالت و گمراہی ہے جبکہ اس سے مراد قرآن کی وہ حیثیت لی جائے جو اللہ تعالٰی کے ساتھ قائم ہے اور وہ کلام نفسی ہے۔ بہر حال حروف اور ان کی ادائیگی کے وقت ان کی آواز جو تلاوت کرنے والوں کی زبانوں سے نکلتی ہے اور حروف کو ملانا اور قطع کرنا اور ان کو لکھنے کی سیاہی اور مصاحف کے اوراق میں ان حروف کے جو نقوش ہیں اور وہ حروف جو حفظ کرنے والوں کے دماغوں میں مستحیل ہوتے ہیں تو وہ یقیناً مخلوق ہیں، حادث ہیں۔ اور اس کے بر عکس دعوی ضد بازی اور کھلی گمراہی ہوگی۔ نیز علم اور ذہانت میں امام ابو حنیفہ کا پایہ بہت بلند ہے۔ وہ یقینا کلام نفسی کے علاوہ دوسری حیثیت کو ہی مخلوق کہیں گے جیسا کہ ان کا مرتبہ بلند ہے اس سے کہ وہ پہلے یعنی کلام نفسی کو مخلوق کہیں۔ لیکن جاہل ناقلین کو آپ دیکھیں گے کہ وہ کافر قرار دینے میں لا پرواہی کرنے لگے ہیں اور آپ کو تعجب ہوگا جب آپ دیکھیں گے کہ ابن ابی حاتم جیسا آدمی کہتا ہے کہ بیشک قرآن کو مخلوق کہنے والا پکا کافر ہے، ملت سے نکل جاتا ہے۔ اس سے اس کی مراد قرآن کریم کے الفاظ ہیں کہ الفاظ کو مخلوق کہنے والا کافر ہے جیسا کہ اس کے کلام کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے اور آپ کا تعجب بڑھ جائے گا جب آپ دیکھیں گے کہ وہ امام بخاری کے بارے میں کہتا ہے کہ چونکہ وہ لفظ کو مخلوق کہتے ہیں اس لیے اس کو ابو زرعہ اور ابو حاتم نے ترک کر دیا۔ اور اللہ تعالی کی اپنی مخلوق میں مختلف خوبیاں ہیں اور کوئی تعجب نہیں کہ کسی کی بات کو جاہل ناقلین عیب کے طور پر ہی بیان کرنے لگ جائیں حالانکہ وہ بات اس کی منقبت کی ہوتی ہے۔
"امام ابو حنیفہ سے توبہ طلب کرنے کی روایت ثقہ راویوں سے"
اور یہاں ابو حنیفہ سے توبہ طلب کرنے کی ایک اور روایت ہے ، ہم اس کا ذکر کرتے ہیں کیونکہ اس میں فوائد ہیں۔ اور یہ وہ روایت ہے جس کو ابن ابی العوام الحافظ نے الحسن بن حماد سجادہ کے واسطہ ہے ابو قطن عمرو بن الهيثم البصری سے روایت کیا ہے کہ
ابو قطن نے کہا کہ میں نے کوفہ جانے کا ارادہ کیا تو شعبہ رحمہ اللہ سے کہا کہ کیا آپ کوفہ میں کسی کی طرف رقعہ لکھنا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور سفیان ثوری رحمہ اللہ کی طرف لکھنا چاہتا ہوں۔ تو میں نے کہا آپ مجھے ان دونوں کی طرف لکھ دیں تو انہوں نے لکھ دیا اور میں کوفہ چلا گیا اور میں نے وہاں لوگوں سے پوچھا کہ ابو حنیفہ اور سفیان میں زیادہ عمر والے کون ہیں تا کہ میں ان کو رقعہ پہلے پہنچاؤں تو مجھے بتایا گیا کہ ابو حنیفہ عمر رسیدہ ہیں تو میں نے ان کو رقعہ دیا تو انہوں نے کہا کہ میرا بھائی ابو بسطام(امام شعبہ) کیسا تھا؟ تو میں نے کہا کہ وہ خیریت سے تھے۔ پس جب انہوں نے رقعہ پڑھا تو کہا کہ جو چیز ہمارے پاس ہے وہ تجھے بخش دی جائے گی اور جو ہمارے پاس نہیں بلکہ کسی دوسرے کے پاس ہے تو اس کے لیے ہم تمہاری مدد کریں گے۔ اور پھر میں سفیان ثوری کی جانب گیا تو اس کو وہ رقعہ پہنچایا تو انہوں نے بھی مجھے وہی کہا جو ابو حنیفہ نے کہا تھا۔
پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی طرف سے ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ بیشک ابو حنیفہ سے دو مرتبہ کفر سے توبہ طلب کی گئی تھی، کیا وہ ایسا کفر تھا جو ایمان کی ضد ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ جب سے میں نے یہ بیان کیا ہے، اس وقت سے لے کر اب تک اس مسئلے کے بارے میں تیرے سوا کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا اور اپنا سر جھکا لیا پھر کہا کہ نہیں ایسا نہ تھا لیکن واصل الشاری کوفہ میں داخل ہوا تو اس کے پاس ایک جماعت آئی تو انہوں نے اس سے کہا بیشک یہاں ایک ایسا آدمی ہے جو گنہگاروں کو کافر نہیں کہتا اور ان کی مراد اس شخص سے ابو حنیفہ تھے۔ تو اس نے پیغام بھیجا تو وہ اس کے پاس حاضر ہوئے اور اس نے کہا اے شخص مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ اہل معاصی (گنہگاروں) کو کافر نہیں کہتے تو انہوں نے کہا کہ یہ تو میرا مذہب ہے تو اس نے کہا کہ یہ یقینا کفر ہے پس اگر تو نے توبہ کی تو ہم تیری توبہ قبول کر لیں گے اور اگر تو نے انکار کیا تو ہم تجھے قتل کر دیں گے ۔ تو انہوں نے کہا کہ میں کس بات سے توبہ کروں؟ تو اس نے کہا کہ اسی سے۔ تو انہوں نے کہا کہ میں کفر سے توبہ کرتا ہوں۔ پھر وہ چلے گئے تو منصور کے ساتھیوں کی جماعت آئی تو انہوں نے واصل کو کوفہ سے نکال دیا پھر کچھ مدت کے بعد منصور نے موقع پایا تو وہ کوفہ میں داخل ہوا تو وہی جماعت اس کے پاس آکر کہنے لگی بیشک وہ آدمی جس نے توبہ کی تھی، وہ اپنے اس سابقہ نظریے کا ہی پرچار کرتا ہے تو اس نے بلانے کے لیے پیغام بھیجا تو وہ اس کے پاس حاضر ہوئے تو اس نے کہا اے شیخ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بیشک آپ اپنے اسی نظریہ کی طرف لوٹ گئے ہیں جو تمہارا پہلے تھا تو انہوں نے کہا کہ وہ کیا ہے؟ تو اس نے کہا کہ بیشک آپ گنہگاروں کو کافر نہیں کہتے تو انہوں نے کہا وہ تو میرا مذہب ہے تو وہ کہنے لگا کہ بیشک یہ ہمارے نزدیک کفر ہے پس اگر آپ نے توبہ کر لی تو ہم تمہاری توبہ قبول کر لیں گے اور اگر آپ نے انکار کیا تو ہم تجھے قتل کر دیں گے۔ تو انہوں نے کہا کہ چست و چالاک لوگ قتل نہیں کیے جاتے یہاں تک کہ اس نے تین مرتبہ توبہ طلب کی تو انہوں نے کہا کہ میں کس چیز سے توبہ کروں تو اس نے کہا کفر ہے۔ تو انہوں نے کہا بیشک میں کفر سے توبہ کرتا ہوں۔ پس یہی وہ کفر ہے جس سے ابو حنیفہ سے توبہ طلب کی گئی تھی الخ۔ [1]
اور اسمیں اٹل بات ہے اس لیے کہ بیشک ابو القاسم بن ابی العوام الحافظ ہے، نسائی کا ساتھی ہے اور سجادہ اور ابو قطن سارے کے سارے ثقہ اور ثبت ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی ان لوگوں سے حساب لے گا جو من گھڑت گمراہ کن افسانوں کے ساتھ اس امام فقیہ ملت کی شہرت کو داغدار کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اللہ تعالی سے سلامتی کی درخواست کرتے ہیں۔ [2]
![]() |
| سفیان ثوری نے کہا کہ ابو حنیفہ سے دو مرتبہ کفر سے توبہ طلب کی گئی۔ |
![]() |
| سفیان ثوری نے کہا کہ ابو حنیفہ سے دو مرتبہ کفر سے توبہ طلب کی گئی۔ |
امام کوثری کا کلام مکمل ہوا۔
[1]۔ فضائل ابی حنیفہ لابن ابی العوام ت بہرائچی صفحہ 74،75
[2]
امام ابو حنیفہؒ سے "کفر سے توبہ" کی روایات کی حقیقت
امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں بعض تاریخی مصادر میں یہ دعویٰ نقل ہوا ہے کہ آپ سے "کفر سے توبہ" کروائی گئی تھی۔ تاہم جب اس موضوع سے متعلق تمام روایات کو ان کی سند، متن اور تاریخی حیثیت کے اعتبار سے یکجا کرکے تنقیدی نظر سے دیکھا جائے تو یہ دعویٰ اپنے ثبوت کے اعتبار سے نہایت کمزور دکھائی دیتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ روایات ایک ایسے مبہم اور غیر مفسر واقعے کی تصویر پیش کرتی ہیں جسے کسی قطعی اعتقادی الزام کی بنیاد بنانا نہ علمی دیانت کے مطابق ہے اور نہ اصولِ تحقیق کے۔
اس سلسلے کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ اگرچہ واقعہ متعدد طرق سے منقول ہے، لیکن کسی بھی صحیح، متصل اور صریح سند میں یہ بیان نہیں کیا گیا کہ امام ابو حنیفہؒ سے آخر کس عقیدے یا کس قول کی وجہ سے توبہ کرائی گئی تھی۔ نہ کسی راوی نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اس مجلس کا عینی شاہد تھا، نہ یہ کہا کہ اس نے یہ واقعہ براہِ راست سنا یا دیکھا، اور نہ ہی کسی معتبر روایت میں اس مبینہ "کفر" کی وضاحت موجود ہے۔
یہ بھی کہیں مذکور نہیں کہ آیا معاذ اللہ امام ابو حنیفہؒ نے توحید، رسالتِ محمدی ﷺ، ملائکہ، آسمانی کتابوں، آخرت، ختمِ نبوت، قرآنِ مجید یا کسی ایسے عقیدے کا انکار کیا تھا جو شرعاً کفر قرار پاتا ہو۔ ان تمام احتمالات میں سے کسی ایک کی بھی تائید کسی صحیح، متصل اور مفسر روایت سے نہیں ہوتی۔
اس روایت کے نقل کرنے والوں کے بیانات خود باہم شدید اختلاف کا شکار ہیں، جو اس کی تاریخی حیثیت کو مزید مشتبہ بنا دیتا ہے۔ بعض ناقلین نے صرف یہ لکھا کہ امام ابو حنیفہؒ سے "کفر سے توبہ" کروائی گئی، لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ مبینہ کفر کیا تھا۔ بعض نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ سے دو مرتبہ توبہ کروائی گئی، جبکہ بعض نے اس کی تعداد کئی مرتبہ بیان کی۔ بعض نے کسی سبب یا عقیدے کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا، اور بعض نے محض اپنے گمان کی بنیاد پر یہ احتمال ظاہر کیا کہ شاید یہ معاملہ "خلقِ قرآن" کے مسئلے سے متعلق تھا۔ گویا اصل واقعہ کے بارے میں خود ناقلین کے درمیان نہ کوئی اتفاق ہے، نہ کوئی متعین تاریخی بیان۔
اس سے بھی زیادہ قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ ان تمام روایات کے باوجود آج تک کوئی ایک ایسا راوی سامنے نہیں آتا جو پوری صراحت کے ساتھ یہ کہے: "میں اس مجلس میں موجود تھا"، یا "میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا"، یا "میں نے اپنے کانوں سے سنا" کہ امام ابو حنیفہؒ سے فلاں عقیدے کی وجہ سے توبہ کروائی جا رہی تھی۔ اگر واقعی ایسا غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہوتا تو کم از کم ایک ثقہ عینی شاہد ضرور ملتا جو اس کی تفصیل بیان کرتا۔ لیکن پورے ذخیرۂ روایات میں ایسا کوئی گواہ موجود نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اس روایت کی تاریخی بنیاد کو نہایت کمزور کر دیتی ہے۔
جب اسلامی شریعت کا یہ مسلمہ قانون ہے کہ زنا جیسے عیب اور حدِ شرعی کے اثبات کے لیے بھی چار عینی شاہدین کی صریح گواہی درکار ہوتی ہے، تو امت کے اتنے بڑے امام، جن کے علم اور فقہ پر صدیوں سے کروڑوں مسلمانوں کا عمل ہے، ان پر کفر کا اتنا سنگین الزام محض مبہم، اضطراب زدہ اور بے اصل روایات کی بنیاد پر کیسے سچا مانا جا سکتا ہے؟ جب امامِ وقت پر اتنا سنگین الزام عائد کیا جائے تو اس کے اثبات کے لیے نہایت واضح، مفسر اور قطعی دلیل درکار ہوتی ہے، نہ کہ مجمل احتمالات!
اگر واقعی امام صاحبؒ سے کسی صریح کفریہ عقیدے کی بنا پر توبہ کرائی گئی ہوتی، تو یہ کوئی گلی محلے کا واقعہ نہ تھا؛ یہ تاریخ کا ایک غیر معمولی اور عظیم واقعہ ہوتا جسے ثقہ راویوں کی ایک کثیر تعداد تواتر اور پوری تفصیلات کے ساتھ محفوظ کرتی۔ ایسے واقعے کا صرف ایک مبہم اور مجمل جملے تک محدود رہ جانا خود اس بات کی صریح علامت ہے کہ اصل واقعہ بعد کے راویوں کے سامنے بھی واضح نہ تھا اور انہوں نے سنی سنائی باتوں پر قیاس کے محل کھڑے کیے۔
کیا "کفر سے توبہ" کا تعلق مسئلۂ خلقِ قرآن سے تھا؟
بعض نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ سے جس "کفر" کے سبب توبہ کرائی گئی، اس سے مراد مسئلۂ خلقِ قرآن تھا۔ ان کے نزدیک امام صاحبؒ ابتدا میں قرآنِ کریم کو مخلوق کہتے تھے، بعد میں اس عقیدے سے رجوع کر لیا، اور یہی رجوع "کفر سے توبہ" کے عنوان سے مشہور ہوگیا۔
لیکن جب اس دعوے کو اصولِ حدیث اور تاریخی شواہد کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض ایک گمان ہے،اگر واقعی امام ابو حنیفہؒ نے کسی زمانے میں قرآنِ کریم کو مخلوق کہا ہوتا تو اس دعوے کے اثبات کے لیے کم از کم ایک ایسی صحیح، متصل اور صریح روایت ضرور موجود ہوتی جس میں واضح الفاظ میں یہ مذکور ہوتا کہ امام ابو حنیفہؒ نے خود قرآن کو مخلوق قرار دیا، پھر بعد میں اس قول سے رجوع کر لیا۔ لیکن پورے ذخیرۂ حدیث، تاریخ اور عقائد میں ایسی ایک بھی روایت موجود نہیں۔
اس کے برعکس صحیح اور متعدد اسانید سے یہ بات ثابت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ قرآنِ مجید کو غیر مخلوق قرار دیتے تھے، اور یہی اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے۔
چنانچہ امام بیہقیؒ نے (الأسماء والصفات ج ١ ص ٢١١ رقم ٥٥٠ ) میں صحیح سند کے ساتھ امام ابو حنیفہؒ کا یہ عقیدہ نقل کیا ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، مخلوق نہیں۔ اسی طرح تاریخ بغداد میں متعدد صحیح اور حسن اسانید سے یہی عقیدہ منقول ہے، جن میں امام ابو حنیفہؒ کا موقف پوری وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے (تاریخ بغداد، ط العلمية، ج١٣، ص٣٧٤، وسنده صحيح) نیز (ج١٥، ص٥١٤، وسنده صحيح)، (ج١٥، ص٥١٦، سنده جيد)، اور (ج١٥، ص٥١٧، سنده حسن)۔ یہ روایات اس قدر متعدد ہیں کہ ان کے بعد اس مسئلے میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ مزید برآں، امام ابو یوسفؒ سے منقول ایک مشہور روایت بھی اس حقیقت کی مؤید ہے۔ وہ فرماتے ہیں: «ناظرت أبا حنيفة ستة أشهر، فاتفق رأينا على أن من قال القرآن مخلوق فهو كافر.»
یعنی: "میں نے امام ابو حنیفہؒ سے چھ ماہ تک اس مسئلے میں مناظرہ کیا، پھر ہمارا اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ جو شخص قرآن کو مخلوق کہے وہ کافر ہے۔"
ایک علمی مغالطے کا ازالہ
بعض لوگ اس روایت سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ گویا امام ابو حنیفہؒ ابتدا میں خلقِ قرآن کے قائل تھے اور بعد میں رجوع کر لیا۔اب اگر کوئی فہم سے عاری انسان اس مناظرے سے یہ اخذ کرے کہ امام صاحب کا مؤقف پہلے کچھ اور تھا، تو یہ اس کی عقل کا قصور ہے۔ یہاں بحث اس بات پر ہو رہی تھا کہ قرآن کو مخلوق کہنے والے پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا یا نہیں؟ نفی و اثبات کی اس علمی بحث اور نقد کو عقیدے کی خرابی پر محمول کرنا حقیقت میں دشمنی اور تعصب کا بدترین نمونہ ہے۔ چنانچہ روایت کے الفاظ اس پر دلالت نہیں کرتے کہ امام صاحبؒ نے کبھی خلقِ قرآن کا عقیدہ اختیار کیا تھا۔اسی لیے کسی صحیح اور صریح روایت میں یہ موجود نہیں کہ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ہو: "میں پہلے قرآن کو مخلوق کہتا تھا، پھر اس عقیدے سے رجوع کر لیا۔" اگر ایسا کوئی رجوع واقع ہوا ہوتا تو یقیناً وہ بھی محفوظ رہتا، کیونکہ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا، اور اس کے نقل کرنے کے اسباب بھی بکثرت موجود تھے۔ لہٰذا "کفر سے توبہ" کی مجمل روایت کو مسئلۂ خلقِ قرآن پر محمول کرنا نہ صرف بے دلیل ہے بلکہ صحیح اور صریح روایات کے بھی خلاف ہے۔
روایاتِ سفیان ثوریؒ کا حقیقی پس منظر اور ابن ابی العوامؒ کی مفسر روایت
جب "امام ابو حنیفہؒ سے کفر سے توبہ" کی تمام روایات کا استقرائی جائزہ لیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر کا مدار امام سفیان ثوریؒ پر ہے۔ امام سفیان ثوریؒ سے اس موضوع پر دو طرح کی روایات منقول ہیں۔
پہلی قسم وہ روایات ہیں جن میں صرف اتنا ذکر ہے کہ امام ابو حنیفہؒ سے "کفر سے توبہ" کرائی گئی، لیکن اس سے آگے کوئی تفصیل موجود نہیں۔ ان روایات میں نہ اس مبینہ کفر کی نوعیت بیان کی گئی ہے، نہ سبب، نہ زمانہ، نہ مقام، نہ اس مجلس کے حاضرین، اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ توبہ کا مطالبہ کس بنیاد پر کیا گیا تھا۔ گویا پورا واقعہ محض ایک اجمالی جملے کی صورت میں نقل ہوا ہے۔
خوش قسمتی سے، پورے ذخیرۂ حدیث و تاریخ میں ایک ایسی روایت موجود ہے جو ان تمام مبہم داستانوں کا قاطع جواب فراہم کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ اس مبینہ "کفر" کی اصل حقیقت کیا تھی۔ اس روایت کو امام ابن ابی العوامؒ نے اپنی کتاب میں پوری تفصیل سے نقل کیا ہے، مگر مخالفین اس کے سامنے لرزہ براندام ہیں اور اسے قبول کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ یہ ان کے خود ساختہ الزامات کے محل کو ایک ہی ضرب میں مسمار کر دیتی ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اس روایت میں مذکور "کفر" سے مراد وہ کفر نہیں تھا جو ایمان کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے، بلکہ ایک مخصوص خارجی گروہ کا باطل نظریہ تھا، جس کی بنیاد پر انہوں نے امام ابو حنیفہؒ کو اپنے معیار کے مطابق "کافر" قرار دیا اور توبہ کا مطالبہ کیا۔
یہ روایت حسبِ ذیل ہے: وجدت في كتابي من حديث الحسن بن حماد سجادة، وقد حدثت به عنه قال: ثنا أبو قطن عمرو بن الهيثم قال: أردت الخروج إلى الكوفة فقلت لشعبة: من تكاتب بالكوفة؟ قال: أبو حنيفة وسفيان الثوري، فقلت: أكتب لي إليهما، فكتب، وصرت إلى الكوفة، فسألت عن أسن الرجلين؟ فقيل: أبو حنيفة، فدفعت إليه الكتاب، فقال: كيف أخي أبو بسطام؟ قلت بخير، فلما قرأ الكتاب قال: ما عندنا فلك مبذول، وما عند غيرنا فاستعن بنا نعينك، ومضيت إلى الثوري فدفعت إليه كتابه، فقال لي مثل ما قال أبو حنيفة، فقلت له، شيء يروى عنك تقول: إن أبا حنيفة استتيب من الكفر مرتين، أهو الكفر الذي هو ضد الإيمان؟ فقال: ما سألني عن هذه المسألة أحد غيرك منذ كلمت بها، وطأطأ رأسه ثم قال: لا، ولكن دخل واصل الشاري إلى الكوفة فجاء إليه جماعة فقالوا له: إن هاهنا رجلاً لا يكفر أهل المعاصي يعنون أبا حنيفة، فبعث فأحضره وقال: يا شيخ بلغني أنك لا تكفر أهل المعاصي؟ قال: هو مذهبي، قال: إن هذا كفر، فإن تبت قبلناك وإن أبيت قتلناك، قال: مم أتوب؟ قال: من هذا، قال: أنا تائب من الكفر، ثم خرج، فجاءت جماعة من أصحاب المنصور فأخرجت واصلاً عن الكوفة، فلما كان بعد مدة وجد من المنصور خلوة فدخلها، فجاءت تلك الجماعة فقالت: إن الرجل الذي كان تاب قد راجع قوله، فبعث فأحضره فقال: يا شيخ بلغني أنك راجعت ما كنت تقول، فقال: وما هو؟ فقال: إنك لا تكفر أهل المعاصي، فقال: هو مذهبي، قال: فإن هذا عندنا كفر، فإن تبت منه قبلناك وإن أبيت قتلناك، قال: والشراة لا يقتلون حتى يستتاب ثلاث مرات، فقال: مم أتوب؟ قال: من الكفر، قال: فإني تائب من الكفر، قال: فهذا هو الكفر الذي استتيب منه."
یہ پہلی روایت ہے جس میں خود امام سفیان ثوریؒ سے براہِ راست یہ سوال کیا گیا کہ آخر امام ابو حنیفہؒ سے "کفر سے توبہ" کا کیا مطلب تھا؟ کیا اس سے وہ کفر مراد ہے جو ایمان کے منافی ہے لیکن امام سفیان ثوریؒ نے اس سوال کے جواب میں نہ صرف اس مفہوم کی نفی فرمائی بلکہ پورے واقعے کا پس منظر بھی بیان کر دیا۔اس فیصلہ کن روایت نے ان تمام احتمالات کی بنیاد منہدم کر دی جن کی بنا پر بعض لوگوں نے اس روایت کو اعتقادی کفر پر محمول کر رکھا تھا۔
اس کے بعد امام سفیان ثوریؒ نے تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کوفہ میں خارجی فکر رکھنے والے ایک شخص (واصل الشاري) کے پاس بعض لوگوں نے جا کر شکایت کی کہ یہاں ایک شخص موجود ہے جو اہلِ معاصی کو کافر نہیں کہتا، اور اس سے ان کی مراد امام ابو حنیفہؒ تھے۔ اس پر اس خارجی نے امام ابو حنیفہؒ کو طلب کیا اور کہا: "مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اہلِ معاصی کو کافر نہیں کہتے؟" امام ابو حنیفہؒ نے جواب دیا: "یہی میرا مذہب ہے۔" اس نے کہا: "ہمارے نزدیک یہ کفر ہے، اگر تم توبہ کر لو تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے، ورنہ قتل کر دیں گے۔" یہاں غور کیجیے کہ امام ابو حنیفہؒ پر الزام یہ نہیں لگایا گیا کہ انہوں نے توحید، رسالت، قرآن، آخرت یا کسی ضروریِ دین کا انکار کیا ہے، بلکہ صرف اس بات پر اعتراض کیا گیا کہ وہ اہلِ کبائر کو کافر قرار نہیں دیتے تھے۔ یہی دراصل خوارج کا معروف عقیدہ تھا۔ ان کے نزدیک کبیرہ گناہ کا مرتکب اسلام سے خارج ہو جاتا تھا، جبکہ امام ابو حنیفہؒ اور جمہور اہلِ سنت کا عقیدہ یہ تھا کہ گناہِ کبیرہ انسان کو اسلام سے خارج نہیں کرتا۔ گویا جس چیز کو خوارج "کفر" کہہ رہے تھے، وہ درحقیقت اہلِ سنت کا مسلمہ عقیدہ تھا۔ اسی لیے امام ابو حنیفہؒ نے ان کے جبر اور قتل کی دھمکی سے بچنے کے لیے صرف یہ فرمایا: "أنا تائب من الكفر." یعنی: "میں کفر سے توبہ کرتا ہوں۔" انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں اپنے اس عقیدے سے رجوع کرتا ہوں کہ اہلِ معاصی کافر نہیں ہوتے، بلکہ جب کچھ عرصے بعد دوبارہ اسی مسئلے پر انہیں بلایا گیا تو انہوں نے پھر وہی جواب دیا: "هو مذهبي." "یہی میرا مذہب ہے۔" اگر پہلی مرتبہ انہوں نے واقعی اپنے عقیدے سے رجوع کر لیا ہوتا تو دوسری مرتبہ دوبارہ اسی عقیدے کا اظہار نہ کرتے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی "توبہ" اپنے عقیدے سے رجوع نہیں تھی، بلکہ محض خوارج کے اس بے بنیاد الزام سے براءت کا اظہار تھا جسے وہ اپنی اصطلاح میں "کفر" کہتے تھے۔ اس روایت کا سب سے اہم اور فیصلہ کن حصہ آخر میں خود امام سفیان ثوریؒ کے الفاظ ہیں، جہاں انہوں نے پوری گفتگو سمیٹتے ہوئے فرمایا: "فهذا هو الكفر الذي استتيب منه." یعنی: "یہی وہ کفر ہے جس سے امام ابو حنیفہؒ کو توبہ کرائی گئی تھی (فضائل أبي حنيفة وأخبارہ، ص ٧٤-٧٥، رقم ٨٤)۔"
شیخ المعلمي اليماني صاحب کا اشکال
اس سند پر شیخ المعلمي اليماني صاحب نے التنکيل میں ایک اشکال وارد کرتے ہوئے لکھا ہے: «ومع ذلك فلم يدرك سجادة، لأن سجادة توفى سنة ٢٤١ والنسائي نفسه يروي عن رجل عنه ويظهر أنه إنما وقع في كتاب ابن أبي العوام «حدثت عن الحسن بن حماد سجادة» فقول الأستاذ «وذلك ما حدثه» حقها أن تقرأ هكذا بالبناء للمجهول، فعلى هذا لا يدري من شيخ ابن أبي العوام إن كان له شيخ غیر نفسه وصح الخبر عنه.» (التنكيل، ط المكتب الإسلامي، ١/٤٧١)
شیخ المعلمي اليماني صاحب کے کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ امام ابن ابی العوامؒ نے حسن بن حماد سجادہ سے یہ روایت براہِ راست نہیں سنی، بلکہ عبارت میں موجود لفظ «حدثت» کو مبنی للمعلوم (معروف) پڑھنے کے بجائے مبنی للمجہول یعنی «حُدِّثتُ» پڑھا جائے، جس کا مطلب یہ نکلے گا کہ ان کے درمیان کوئی نا معلوم شیخ (راوی) موجود ہے، لہذا سند کا اتصال مجروح ہو گیا۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ امام ابن ابی العوامؒ کے اصل الفاظ «وقد حدثت به عنه» (میں نے یہ روایت بیان کی) ہیں۔ جب تک کوئی واضح قرینہ موجود نہ ہو، «حدثت» کو اس کے حقیقی اور متبادر معنی، یعنی معروف (مبنی للمعلوم) پر محمول کیا جاتا ہے۔ محض احتمال کی بنیاد پر اسے مجہول قرار دینا قواعدِ زبان اور اسلوبِ محدثین، دونوں کے خلاف ہے۔ مزید یہ کہ شیخ المعلمی نے اپنے اشکال کی بنیاد کسی دوسرے نسخے، سماع، یا تاریخی شہادت پر نہیں رکھی، بلکہ صرف ایک احتمال پر رکھی ہے۔ گویا انہوں نے فرمایا کہ "ممکن ہے" یہاں «حُدِّثتُ» (مبنی للمجہول) مراد ہو۔ لیکن اصول یہ ہے کہ محض احتمال، اصل کو ترک کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا، جب تک اس کے حق میں کوئی واضح اور قطعی دلیل موجود نہ ہو۔
مزید برآں، شیخ المعلمی الیمانی صاحب نے جو یہ گمان ظاہر کیا کہ اصل عبارت «حدثت عن الحسن بن حماد» تھی اور بعد میں اس میں تصرف ہوا، اس کے لیے انہوں نے خود لفظ «ويظهر» (ایسا ظاہر ہوتا ہے) استعمال کیا ہے، جو اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کے پاس دنیا کے کسی نسخے یا مخطوطے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
ثانیاً، ہم تنزلی طور پر اگر شیخ المعلمي اليماني صاحب کے اس گمان کو تسلیم بھی کر لیں اور اسے «حُدِّثتُ» (مبنی للمجہول) فرض کر لیں، تب بھی اس روایت کی صحت، اتصال اور مضمون پر کوئی آنچ نہیں آتی۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ روایت متناً اور معناً ایسے قوی شواہد، قطعی قرائن اور خارجی شواہد سے مؤید ہے جو اس کی اصل حقیقت کو نکھار دیتے ہیں اور شیخ المعلمی الیمانی صاحب کے احتمالی اشکال کی عمارت کو یکسر مسمار کر دیتے ہیں۔
روایت کی صحت پر دلالت کرنے والے قوی خارجی قرائن
افسوس کی بات یہ ہے کہ شیخ المعلمي اليماني صاحب نے ان واضح قرائن سے یکسر صرفِ نظر کر لیا اور روایت کو رد کرنے چل پڑے۔ محدثین کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جب کسی روایت کو خارجی قرائن اور دیگر طرق سے تائید حاصل ہو جائے، تو اس کی حجیت قائم ہو جاتی ہے۔
پہلا قرینہ: دوسری صحیح روایت سے ابتدائی حصے کی تائید
امام ابن ابی العوامؒ کی روایت کا ابتدائی حصہ اس طرح ہے: وجدت في كتابي من حديث الحسن بن حماد سجادة، وقد حدثت به عنه قال: ثنا أبو قطن عمرو بن الهيثم قال: أردت الخروج إلى الكوفة، فقلت لشعبة: من تكاتب بالكوفة؟ قال: أبو حنيفة وسفيان الثوري، فقلت: اكتب لي إليهما، فكتب، وصرت إلى الكوفة، فسألت عن أسن الرجلين؟ فقيل: أبو حنيفة، فدفعت إليه الكتاب، فقال: كيف أخي أبو بسطام؟...
اس روایت میں ابو قطن عمرو بن الہیثم بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کوفہ جانے کا ارادہ کیا تو امام شعبہؒ سے دریافت کیا کہ کوفہ میں کن اہلِ علم کے نام خط لکھا جائے؟ امام شعبہؒ نے فرمایا کہ ابو حنیفہ اور سفیان ثوری دونوں اس کے مستحق ہیں۔ چنانچہ انہوں نے دونوں حضرات کے نام تعارفی خطوط لکھے، اور ابو قطن ان خطوط کو لے کر کوفہ پہنچے۔
چنانچہ یہی واقعہ ایک دوسری سند سے بھی منقول ہے۔ امام خطیب بغدادیؒ روایت کرتے ہیں: أخبرنا محمد بن أحمد بن رزق، أخبرنا إسماعيل بن علي الخَطَّبي، حدثنا الحسين بن فهم، حدثنا يحيى بن معين، قال: حدثنا أبو قطن، قال: كتب لي شعبة إلى أبي حنيفة يحدثني، فأتيته فقال: كيف أبو بسطام؟ قلت: بخير... (تاريخ بغداد - ت بشار ١٠/٣٥٨)
اس روایت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ اس میں پورا واقعہ مذکور نہیں، لیکن اس کے بنیادی اجزاء بعینہٖ وہی ہیں جو امام ابن ابی العوامؒ کی روایت میں موجود ہیں، مثلاً:
- امام شعبہؒ کا ابو قطن کے لیے تعارفی مکتوب لکھنا۔
- ابو قطن کا کوفہ جانا۔
- امام ابو حنیفہؒ سے ملاقات کرنا۔
- امام ابو حنیفہؒ کا امام شعبہؒ (ابو بسطام) کی خیریت دریافت کرنا۔
یہ تمام جزئیات دونوں روایات میں ایک دوسرے سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہیں۔یہی مطابقت اس امر کا قوی قرینہ ہے کہ دونوں روایات ایک ہی اصل واقعے کی طرف اشارہ کر رہی ہیں، اور امام ابن ابی العوامؒ نے اسی محفوظ تاریخی روایت کی تفصیل بیان کی ہے۔
دوسرا قرینہ: امام سفیان ثوریؒ کی صحیح روایات سے کامل موافقت
امام ابن ابی العوامؒ کی روایت کے حق میں دوسرا اور نہایت مضبوط قرینہ یہ ہے کہ اس کا مضمون امام سفیان ثوریؒ سے صحیح اسانید کے ساتھ منقول دیگر روایات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ امام ابن ابی العوامؒ کی روایت میں بیان ہوا ہے کہ جب ابو قطن نے امام سفیان ثوریؒ سے دریافت کیا: "آپ سے یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ سے کفر سے توبہ کرائی گئی تھی، کیا اس سے وہ کفر مراد ہے جو ایمان کے مقابلے میں ہوتا ہے؟" تو امام سفیان ثوریؒ نے بلا تردد فرمایا: "لا." پھر اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ واقعہ خوارج کے ایک گروہ سے متعلق تھا، جو اہلِ کبائر کو کافر قرار دیتا تھا، جبکہ امام ابو حنیفہؒ کا موقف یہ تھا کہ اہلِ معاصی (گناہگار لوگ)محض گناہ کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتے۔ یہی اختلاف اس پورے واقعے کا سبب بنا۔
اب اگر واقعی امام سفیان ثوریؒ کے نزدیک امام ابو حنیفہؒ نے کوئی ایسا عقیدہ اختیار کیا ہوتا جو حقیقتاً کفر تھا، تو یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی دوسری صحیح روایات میں اس کا ذکر بالکل نہ کرتے، بلکہ اس کے برعکس امام ابو حنیفہؒ کے متعلق احتیاط، انصاف اور حسنِ ظن کا اظہار کرتے۔
چنانچہ امام خطیب بغدادیؒ صحیح سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں: أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى بن الفضل الصيرفي... عن يحيى بن ضريس قال: شهدت سفيان، وأتاه رجل فقال له: ما تنقم على أبي حنيفة؟... (تاریخ بغداد، 15/504، إسناده صحيح)
اس روایت میں الإمام الحافظ والقاضي يحيى بن ضريس نے براہِ راست امام سفیان ثوریؒ سے دریافت کیا: : "آپ امام ابو حنیفہؒ پر کیا اعتراض کرتے ہیں؟" یہ سوال انتہائی اہم تھا، کیونکہ اگر امام سفیان ثوریؒ کے نزدیک امام ابو حنیفہؒ نے واقعی ایسا کفریہ عقیدہ اختیار کیا تھا جس پر انہیں دو مرتبہ توبہ کرائی گئی، تو اس سے زیادہ مناسب موقع اس کے اظہار کا کوئی اور نہ تھا۔ لیکن اس کے برخلاف امام سفیان ثوریؒ نے نہ تو کسی کفریہ عقیدے کا ذکر کیا، نہ خلقِ قرآن کی بات کی، نہ کسی بدعتِ مکفرہ کا حوالہ دیا، بلکہ طویل خاموشی کے بعد ایسے کلمات ارشاد فرمائے جو ان کے عدل، احتیاط اور علمی دیانت کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: «ولا نحاسب الأحياء، ولا نقضي على الأموات، ونسلم ما سمعنا، ونكل ما لا نعلم إلى عالمه، ونتهم رأينا لرأيهم.» اگر امام سفیان ثوریؒ کا مقصود امام ابو حنیفہؒ پر اعتقادی کفر کا الزام ثابت کرنا ہوتا تو ان کلمات کا کوئی محل باقی نہیں رہتا۔ کیونکہ جو شخص کسی کو کافر سمجھتا ہو، وہ اس کے بارے میں "ہم اپنی رائے کو ان کی رائے کے مقابلے میں متہم سمجھتے ہیں" جیسے الفاظ استعمال نہیں کرتا۔
یہی وجہ ہے کہ امام ابن ابی العوامؒ کی روایت اور اس صحیح روایت کے درمیان مکمل موافقت پائی جاتی ہے۔ دونوں کا حاصل ایک ہی ہے کہ امام سفیان ثوریؒ نے امام ابو حنیفہؒ کے متعلق غلو، مبالغہ اور بے بنیاد الزامات سے احتراز کیا، اور ان کے بارے میں وہ مفہوم ہرگز مراد نہیں لیا جو بعد کے بعض لوگوں نے ان مجمل روایات سے اخذ کر لیا۔
یہاں ایک اور نہایت اہم نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ اگر امام سفیان ثوریؒ کے نزدیک "استتيب من الكفر" سے مراد حقیقی اور اعتقادی کفر ہوتا تو جب ان سے براہِ راست پوچھا گیا کہ آپ کو امام ابو حنیفہؒ پر کیا اعتراض ہے، تو سب سے پہلے اسی واقعے کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ جب کسی شخص کو اپنا موقف واضح کرنے کا بہترین موقع میسر ہو اور وہ اس موقع پر بھی کسی سنگین الزام کی تائید نہ کرے، تو یہ اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ اس الزام کو وہ اس معنی میں درست نہیں سمجھتا جس معنی میں بعد کے لوگوں نے اسے مشہور کر دیا۔
اسی بنا پر امام ابن ابی العوامؒ کی روایت کو امام سفیان ثوریؒ کے صحیح اور ثابت شدہ اقوال کی روشنی میں پڑھا جائے تو دونوں میں کوئی تعارض باقی نہیں رہتا، بلکہ ہر روایت دوسری کی شرح اور تائید بن جاتی ہے۔
تیسرا قرینہ: عبداللہ بن مبارکؒ کے سوال پر امام سفیان ثوریؒ کا سونا اگلتا جواب
ایک اور نہایت قوی خارجی قرینہ وہ روایت ہے جس میں امام عبداللہ بن مبارکؒ نے خود امام سفیان ثوریؒ سے امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں دریافت کیا۔ امام عبداللہ بن مبارکؒ بیان کرتے ہیں: قال عبد الله بن المبارك: سألت أبا عبد الله سفيان بن سعيد الثوري عن أبي حنيفة، فقال: كان أبو حنيفة شديد الأخذ للعلم، ذابًّا عن حرام الله عز وجل أن يستحل، يأخذ بما صح عنده من الأحاديث التي حملها الثقات، وبالآخر من فعل رسول الله ﷺ، وما أدرك عليه علماء الكوفة، ثم شنع عليه قوم، نستغفر الله، نستغفر الله.
عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے ابو عبد اللہ سفیان بن سعید ثوری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: "امام ابو حنیفہ علم حاصل کرنے میں بہت مضبوط اور سنجیدہ تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال قرار دینے سے پوری قوت کے ساتھ روکتے تھے۔ جن احادیث کو وہ معتبر اور قابلِ اعتماد راویوں سے صحیح سمجھتے، انہی پر عمل کرتے تھے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے آخری عمل کو اختیار کرتے تھے، اور جن باتوں پر کوفہ کے علماء کو پایا، ان کو بھی سامنے رکھتے تھے۔ پھر کچھ لوگوں نے ان پر بے جا اعتراضات کیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے، اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے۔" (فضائل أبي حنيفة لابن أبي العوام، رقم: 144، إسناده حسن، والانتقاء لابن عبد البر، ومناقب الأئمة الأربعة لابن عبد الهادي)
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ سوال کرنے والے امام عبداللہ بن مبارکؒ ہیں، جو اپنے زمانے کے جلیل القدر محدث، فقیہ اور زاہد تھے۔ وہ امام ابو حنیفہؒ کے ممتاز شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن ساتھ ہی امام سفیان ثوریؒ سے بھی ان کا گہرا علمی تعلق تھا۔ اس لیے وہ اس معاملے میں کسی اجنبی یا غیر متعلق شخص کی حیثیت نہیں رکھتے، بلکہ ان سے بڑھ کر اس سوال کے لیے موزوں شخصیت کا تصور بھی مشکل ہے۔
دوسری بات یہ کہ امام عبداللہ بن مبارکؒ نے سوال بھی نہایت عمومی انداز میں کیا۔ انہوں نے کسی خاص مسئلے کا ذکر نہیں کیا بلکہ صرف امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں دریافت کیا۔ اس نوعیت کے سوال میں اگر امام سفیان ثوریؒ کے نزدیک امام ابو حنیفہؒ پر کوئی ایسا اعتقادی انحراف ثابت ہوتا جسے وہ کفر سمجھتے، تو اس کے اظہار کا یہ بہترین موقع تھا۔
لیکن اس کے برعکس امام سفیان ثوریؒ نے امام ابو حنیفہؒ کی متعدد علمی اور دینی صفات بیان کیں۔ انہوں نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہؒ علم کے حصول میں نہایت مضبوط تھے، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دینے سے سخت اجتناب کرتے تھے، صحیح احادیث پر عمل کرتے تھے، اور اہلِ کوفہ کے معتبر علماء کے آثار سے استدلال کرتے تھے۔ ایک محدث کسی ایسے شخص کے بارے میں، جسے وہ حقیقتاً کافر یا صاحبِ عقیدۂ مکفرہ سمجھتا ہو، اس نوعیت کی شہادت نہیں دیتا۔ پھر امام سفیان ثوریؒ نے گفتگو کے اختتام پر فرمایا: «ثم شنع عليه قوم، نستغفر الله، نستغفر الله.» یعنی: پھر بعض لوگوں نے ان کے خلاف بہت مبالغہ اور شور و غوغا کیا۔ اللہ سے مغفرت چاہتے ہیں، اللہ سے مغفرت چاہتے ہیں۔ امام سفیان ثوریؒ نے ان لوگوں کی مذمت کی جو امام ابو حنیفہؒ کے خلاف حد سے بڑھ گئے تھے۔ اگر امام ابو حنیفہؒ پر حقیقی کفر ثابت ہوتا، تو "شنع عليه قوم" کہنا محلِ نظر ہوتا، کیونکہ ایسے موقع پر اصل جرم بیان کیا جاتا، نہ کہ لوگوں کی مبالغہ آرائی پر اظہارِ افسوس۔
اسی طرح «نستغفر الله، نستغفر الله» کا دو مرتبہ فرمانا بھی قابلِ غور ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امام سفیان ثوریؒ اس پورے ماحول سے ناخوش تھے جس میں امام ابو حنیفہؒ کے خلاف بے احتیاط اور مبالغہ آمیز گفتگو کی جا رہی تھی۔ اگر امام سفیان ثوریؒ کے نزدیک امام ابو حنیفہؒ نے واقعی ایسا کفر اختیار کیا تھا جس پر انہیں دو مرتبہ توبہ کرائی گئی، تو کیا امام عبداللہ بن مبارکؒ جیسے جلیل القدر شاگرد سے اس حقیقت کو چھپانے کا کوئی سبب ہو سکتا تھا؟
یقیناً نہیں۔ بلکہ اگر ایسا ہوتا تو امام سفیان ثوریؒ اسی موقع پر صاف الفاظ میں فرماتے کہ "امام ابو حنیفہؒ نے فلاں کفریہ عقیدہ اختیار کیا تھا، پھر اس سے توبہ کی گئی۔" لیکن پورے جواب میں اس قسم کا ایک لفظ بھی موجود نہیں۔ اس روایت کا مضمون بھی امام ابن ابی العوامؒ کی اس مفصل روایت سے مطابقت رکھتا ہے۔
چوتھا قرینہ: امام سفیان ثوریؒ کا متعدد فقہی مسائل میں امام ابو حنیفہؒ کی طرف رجوع
امام ابن ابی العوامؒ کی روایت کے حق میں ایک اور نہایت اہم خارجی قرینہ یہ ہے کہ امام سفیان ثوریؒ کا عملی طرزِ عمل خود اس تصور کی نفی کرتا ہے کہ وہ امام ابو حنیفہؒ کو کسی اعتقادی کفر کا مرتکب سمجھتے تھے۔ بلکہ متعدد مسائل میں خود ان کا رجوع امام ابو حنیفہؒ کی رائے کی طرف ثابت ہے۔
امام ابن عبدالبرؒ روایت کرتے ہیں: قال علي بن مسهر: كنت عند سفيان الثوري فسأله رجل عن رجل توضأ بماء قد توضأ به غيره فقال: نعم، هو طاهر... ثم كنت عنده بعد ذلك بأيام فجاءه رجل فسأله عن الوضوء بماء قد استعمله غيره فقال: لا يتوضأ به؛ لأنه ماء مستعمل، فرجع فيه إلى قول أبي حنيفة. (الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء، ص: 146)
اس روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ ابتدا میں امام سفیان ثوریؒ مستعمل پانی سے وضو کو جائز قرار دیتے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ امام ابو حنیفہؒ اس کے عدمِ جواز کے قائل ہیں اور اس کی علت "ماء مستعمل" بیان کرتے ہیں، تو چند روز بعد انہوں نے اپنے سابقہ فتویٰ سے رجوع کرتے ہوئے اسی موقف کو اختیار کر لیا۔
یہ روایت کئی اہم نکات پر دلالت کرتی ہے۔
اولاً، امام سفیان ثوریؒ نے امام ابو حنیفہؒ کے استدلال کو علمی اعتبار سے قابلِ غور سمجھا، اسی لیے اس پر غور کیا اور بعد میں اپنے سابقہ موقف سے رجوع کر لیا۔
ثانیاً، اگر امام سفیان ثوریؒ کے نزدیک امام ابو حنیفہؒ کسی اعتقادی کفر یا گمراہی میں مبتلا ہوتے، تو ان کے فقہی استدلال کو اس درجہ کا اعتماد حاصل نہ ہوتا کہ خود امام سفیانؒ اپنے فتویٰ میں اس کی طرف رجوع کرتے۔
ثالثاً، یہ واقعہ اس حقیقت کا بھی شاہد ہے کہ دونوں ائمہ کے درمیان اختلافات علمی نوعیت کے تھے، نہ کہ اعتقادی تکفیر پر مبنی۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں امام سفیانؒ کو امام ابو حنیفہؒ کی دلیل راجح محسوس ہوئی، وہاں انہوں نے بلا تکلف اس کو قبول کر لیا۔
لہٰذا امام سفیان ثوریؒ کا امام ابو حنیفہؒ کی رائے کی طرف رجوع کرنا اس امر کا ایک مضبوط خارجی قرینہ ہے کہ ان کے مابین تعلق اجتہادی اختلاف کا تھا، نہ کہ ایمان و کفر کی بنیاد پر دائمی مخاصمت کا۔
پانچواں قرینہ: امام سفیان ثوریؒ کا امام ابو حنیفہؒ سے روایت کرنا اور ان کی روایت سے استدلال کرنا
امام ابن ابی العوامؒ کی روایت کی تائید میں ایک اور نہایت اہم خارجی قرینہ یہ ہے کہ امام سفیان ثوریؒ نہ صرف امام ابو حنیفہؒ سے احادیث روایت کرتے تھے، بلکہ متعدد فقہی مسائل میں ان سے منقول روایات کے مطابق فتویٰ بھی دیتے تھے۔ (الکامل لابن عدی، 8/236) اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ امام سفیان ثوریؒ سے یہ قول بھی منقول ہے: "مرتدہ عورت کے بارے میں عاصم کی یہ حدیث کوئی ثقہ راوی روایت نہیں کرتا، البتہ ابو حنیفہ اسے روایت کرتے تھے۔" تو سب سے پہلے یہ بات قابلِ غور ہے کہ اس عبارت سے کم از کم یہ حقیقت ضرور ثابت ہو جاتی ہے کہ امام سفیان ثوریؒ کے نزدیک امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں وہ مفہوم ہرگز مراد نہیں تھا جو بعض متعصبین "کفر سے توبہ" والی مجمل روایات سے اخذ کرتے ہیں۔ اگر ان کے نزدیک امام ابو حنیفہؒ حقیقتاً کافر ہوتے، تو وہ محض ایک روایت پر گفتگو نہ کرتے بلکہ اصل اعتراض ان کے عقیدہ پر کرتے۔
رہا اس قول کا اصل مفہوم، تو اس پر خود چند بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
اگر امام سفیان ثوریؒ واقعی اس روایت میں امام ابو حنیفہؒ کو ناقابلِ اعتماد سمجھتے تھے، تو پھر وہ اسی مضمون کی روایت خود کیوں بیان کرتے ہیں؟ (سنن الدارقطني، رقم: 3457)
مزید یہ کہ وہ اپنا فقہی فتویٰ بھی اسی کے مطابق کیوں دیتے ہیں؟
امام ترمذیؒ فرماتے ہیں: "بعض اہلِ علم مرتدہ عورت کے قتل کے قائل ہیں، جبکہ بعض نے کہا کہ اسے قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ قید کیا جائے گا، اور یہی امام سفیان ثوریؒ کا مذہب ہے۔" (سنن الترمذي، رقم: 1458) یہی موقف امام ابو حنیفہؒ سے بھی منقول ہے۔ چنانچہ ان سے روایت ہے: «المرأة ترتد، قال: لا تقتل...» (مسند أبي حنيفة برواية أبي نعيم) جب امام سفیان ثوریؒ خود اسی روایت کو امام ابو حنیفہؒ سے روایت کرتے ہیں اور فقہی طور پر بھی اسی کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں، تو اس روایت کی بنیاد پر امام ابو حنیفہؒ پر کی جانے والی جرح ان کے اپنے تعامل سے بے اثر ہو جاتی ہے۔
چھٹا قرینہ: ائمہ جرح و تعدیل کی دانستہ خاموشی
فنِ نقد اور جرح و تعدیل کے جو اساطین اور تاجدار ہیں مثلاً حافظ ابن حجر عسقلانی، حافظ الذہبی، اور حافظ المزی جیسے اکابر ، انہوں نے امام اعظمؒ کے تراجم اور سوانح لکھتے وقت ان "کفر سے توبہ" والی روایات کو ادنیٰ التفات کے لائق بھی نہیں سمجھا۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ روایات ان کے طے کردہ سخت علمی اور نقدِ حدیث کے معیار پر پوری ہی نہیں اترتی تھیں، اور ابن ابی العوامؒ کی روایت نے ان تمام افسانوں کا قلع قمع کر دیا تھا۔
حاصلِ بحث
اس تمام تفصیلی بحث، متعدد خارجی قرائن اور مجموعی شواہد کی روشنی میں (فضائل أبي حنيفة وأخباره، ص 74-75، رقم: 84) کی یہ روایت ایک مفسر اور مبین روایت کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے، جو ان تمام مجمل اور مبہم روایات کی حقیقی مراد کو واضح کر دیتی ہے۔
یہ روایت پوری صراحت کے ساتھ بتاتی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ سے جس "کفر" سے توبہ کرائی گئی، اس سے مراد ہرگز وہ کفرِ حقیقی نہیں تھا جو ایمان کی ضد اور اسلام سے خروج کا سبب بنتا ہے، بلکہ وہ خوارج کے ایک باغی گروہ، بالخصوص واصل الشاری، کا خود ساختہ معیارِ تکفیر تھا۔ چونکہ امام ابو حنیفہؒ اہلِ کبائر کو دائرۂ اسلام سے خارج نہیں سمجھتے تھے، اس لیے خارجیوں نے اپنے فاسد عقیدے کی بنیاد پر آپ کو "کافر" قرار دیا اور اسی خود ساختہ الزام سے توبہ کا مطالبہ کیا۔ امام ابو حنیفہؒ نے جان کے تحفظ کے لیے حکمت اور توریہ کے ساتھ ایسے الفاظ اختیار کیے جن سے ان ظالموں کا مطالبہ وقتی طور پر پورا ہو گیا، لیکن آپ نے اپنے صحیح عقیدے سے ہرگز رجوع نہیں فرمایا۔
اس کے برعکس "کفر سے توبہ" کے عنوان سے منقول دیگر تمام روایات مجمل، مبہم اور غیر مفسر ہیں۔ ان میں نہ مبینہ کفر کی نوعیت بیان کی گئی ہے، نہ اس کی وجہ، نہ کسی عینی شاہد کا بیان موجود ہے، نہ واقعے کی مکمل تفصیل، اور نہ ہی کسی صحیح و صریح سند سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے کون سا ایسا عقیدہ اختیار کیا تھا جسے شرعی معنی میں کفر کہا جا سکے۔ چنانچہ اصولِ حدیث کا تقاضا یہی ہے کہ ان مجمل روایات کو اس مفسر روایت کی روشنی میں سمجھا جائے، نہ کہ مفسر روایت کو چھوڑ کر مجمل آثار سے استدلال کیا جائے۔
اب اگر کوئی شخص اس مفسر روایت کو قبول نہیں کرتا اور اس کے باوجود امام ابو حنیفہؒ پر اعتقادی کفر کا دعویٰ برقرار رکھتا ہے، تو اصولِ حدیث، اصولِ تحقیق اور علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ وہ درج ذیل سوالات کے واضح، مدلل اور صحیح اسانید پر مبنی جوابات پیش کرے:
وہ کون سی صحیح، متصل اور صریح روایت ہے جس میں واضح الفاظ کے ساتھ مذکور ہو کہ امام ابو حنیفہؒ نے کوئی متعین کفریہ عقیدہ اختیار کیا تھا؟
وہ کون سا ثقہ اور عینی شاہد ہے جس نے اپنی آنکھوں سے یہ واقعہ دیکھا ہو، یا اپنے کانوں سے اسے سنا ہو، اور روایت میں «رأيتُ» یا «سمعتُ» کی صراحت بھی موجود ہو؟
اگر واقعی امام ابو حنیفہؒ سے اعتقادی کفر کی بنا پر توبہ کرائی گئی تھی، تو وہ کفر کیا تھا؟ کیا وہ توحید کے انکار سے متعلق تھا؟ رسالت سے؟ ملائکہ پر ایمان سے؟ ختمِ نبوت سے؟ قرآنِ کریم سے؟ یا کسی اور ضروریِ دین سے؟ اس کی واضح تعیین کس صحیح روایت میں موجود ہے؟
اگر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ خلقِ قرآن کے مسئلے سے متعلق تھا، تو وہ صحیح، متصل اور صریح روایت کہاں ہے جس میں یہ مذکور ہو کہ امام ابو حنیفہؒ پہلے قرآن کو مخلوق کہتے تھے، پھر اس عقیدے سے رجوع کر لیا؟
اگر امام ابو حنیفہؒ سے واقعی اعتقادی کفر کی بنا پر توبہ کرائی گئی تھی، تو وہ شخص کون تھا جس نے ان سے توبہ کرائی؟ اس کا نام کیا تھا؟ اس کی علمی، شرعی یا عدالتی حیثیت کیا تھی؟ کیا وہ قاضی تھا، خلیفہ تھا، امیر تھا یا کسی بااختیار عدالت کا نمائندہ؟ اس پورے واقعے کی تفصیل کسی صحیح، متصل اور صریح سند سے کیوں ثابت نہیں؟
اگر امام ابو حنیفہؒ کا جرم واقعی ایسا تھا جو اسلام سے خارج کر دیتا تھا، تو پھر اس دور کے محدثین، فقہاء اور ائمہ نے ان سے روایت کیوں کی، ان کے علم و فضل کا اعتراف کیوں کیا، اور ان کے فقہی اجتہادات سے استفادہ کیوں جاری رکھا؟
اگر امام ابو حنیفہؒ سے اعتقادی کفر کی بنا پر توبہ کرائی گئی تھی، تو اس کے بعد بھی اس کفر کی حقیقت کسی صحیح روایت میں محفوظ کیوں نہ رہ سکی، جبکہ صرف مجمل اور مبہم عبارات ہی منقول رہ گئیں؟
عقیدۂ طحاویہ اور دیگر معتبر مصادر میں محفوظ حنفی عقیدہ کی نفی کس بنیاد پر کی جائے گی، جبکہ وہ صراحت کے ساتھ امام ابو حنیفہؒ کے عقیدۂ اہلِ سنت کی نمائندگی کرتے ہیں؟
حافظ المزیؒ، حافظ ذہبیؒ، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ اور دیگر ناقد ائمہ نے امام ابو حنیفہؒ کے تراجم میں اس قصے کو ان کے عقیدے کے خلاف فیصلہ کن دلیل کے طور پر کیوں اختیار نہیں کیا، حالانکہ اگر یہ واقعہ صحیح اور قطعی ہوتا تو اسے نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا؟
جب تک ان سوالات کے صحیح، صریح اور اصولی جوابات پیش نہیں کیے جاتے، اس وقت تک امام ابو حنیفہؒ پر اعتقادی کفر کا الزام محض ایک دعویٰ ہی رہے گا، جسے نہ صحیح شواہد حاصل ہیں، نہ مضبوط تاریخی بنیاد، اور نہ ہی اصولِ تحقیق اس کی تائید کرتے ہیں۔
لہٰذا منصفانہ اور محققانہ نتیجہ یہی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ ان تمام بے بنیاد الزامات سے بری ہیں، اور "کفر سے توبہ" کی مجمل روایات کو امام ابن ابی العوامؒ کی مفسر روایت اور دیگر صحیح شواہد کی روشنی میں ہی سمجھنا علمی دیانت، اصولِ حدیث اور انصاف کا تقاضا ہے۔
نوٹ: کتاب «فضائلِ ابی حنیفہ» ایک معتبر ماخذ ہے۔ اس موضوع پر تفصیلی مباحث ہماری کتاب «تحويل التنكيل إلى صاحبه المعلمي، لما وقع في الأوهام والأباطيل» میں مذکور ہیں۔تفصیل کے خواہش مند قارئین اس کتاب کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
نوٹ : یہ مضمون "علی طحاوی الحنفی صاحب" کا تحریر کردہ ہے جو اہل حق علماء دیوبند کے مجلہ الاجماع میں بھی لکھتے رہتے ہیں۔
امام اعظم ؒ کے خلاف بہت سی روایات کذاب، حاسد اور کم فہم راویان کی مرہون منت ہیں ـ انہیں اعتراضات میں سے ایک اعتراض جسے فرقہ اہل حدیث کا صرف متعصب طبقہ پیش کرتا ہے معتدل اور اہل علم اس قسم کے اعتراضات سے دامن پاک تو رکھتے ہیں بلکہ ایسے الزامات پر اعتماد بھی نہیں کرتے؛ اس لیے یہاں مخاطب وہی طبقہ ہے جو تعصب میں انتہا کے درجے کو پہنچے ہوۓ ہیں ـ قارئین کرام کے سامنے اس مسئلے کی اصل حقیقت اور وضاحت دی جاۓ گی ـ لیکن اس سے پہلے یہ بات بھی ذھن نشین ہونی چاہیے کہ متقدمین میں اس روایت پر اعتبار یا تو لاعلمی یا پھر تعصب نظری کا نتیجہ ہے اس کے علاوہ کوئی وجہ باقی نہیں ـ شیخ محمد زاھد بن حسن کوثری ؒ نے اس مسئلے میں تاریخ بغداد کی روایات کے جواب دیے ہیں جو اہل علم کی نظر میں کافی ہیں چونکہ اُس جواب میں باقی روایات پر کلام موجود نہیں ہے اس لیے میں اس مسئلے کی تمام تر روایات کو سامنے رکھ کر اس شبھے کا جواب دینے کو ضروری سمجھتا ہوں ۔
ہم نے اس مسئلے کی تمام تر روایات کا احاطہ کیا اور ان میں سے سب سے صحیح اسناد کو ہی نقل کیا ہے جو مخالفین کے نزدیک صحیح ہوسکتی ہے اور ضعیف روایات جن کا ضعف عیاں ہے اس پر بحث نہیں کی جاۓ گی اگر ان روایات پر تحقیق درکار ہو تو شیخ کی کتاب تانیب الخطیب کی طرف مراجعت کیا جاۓ ـ
ان روایات کی تعداد تو اگرچہ زیادہ ہے اور اصحاب الحدیث سے جتنا ہوسکا انہوں نے ہر ہر سند کو محفوظ کر کے قلم بند کیا ہے تاکہ اس ضروری مسئلے کے متعلق کوئی بات باقی نا رہ جاۓ ـ چونکہ امام سفیان الثوری ؒ کی شان و جلالت اہل سنت علما میں مسلم تھی اس لیے انکا یہ واقعہ بیان کرنا ہی انکے مداحوں کے لیے سند بن گیا اور لوگوں نے اس پر ایسے ہی اعتبار کرلیا جیسے بیان ہوا اور اصحاب الحدیث میں ہی یہ بات مشہور رہی یا روایت کی جانے لگی ورنہ اصل میں اس بات کے رد کے لیے تو بس اتنا ہی کافی ہے کہ اس قسم کی تہمت کے باوجود لوگ آپ سے فقہی مسائل بھی پوچھتے حدیث بھی سنتے اور فقہ بھی سیکھتے اس اعتبار سے امام کی مجلس میں کوئی فرق نا آیا اور نا ہی ایک بھی ایسی روایت اصحاب الحدیث لکھ سکے ہیں جس میں اتنا ہی مل جاۓ کہ کسی شاگرد ابو حنیفہ نے اٹھ کر سوال کیا ہو یا انکے کسی ساتھی نے اس واقعے کی تردید یا قبول کیا ہو یا اس حوالے سے خود امام کو کسی طرح کی بات سننی پڑی ہو الغرض یا تو یہ واقعہ عوام کے سامنے اس قدر واضح بات تھی کہ اس واقعے کی وضاحت کی ضرورت نا تھی یا پھر اس واقعے کو غلط انداز سے پیش کیا گیا جسے ان لوگوں نے قبول کیا جو اس دور میں موجود نا تھے یا جنکی تمام تر توجہ امام پر اعتراض کرنے پر تھی ـ
ہم اعتراض کی وہ روایات لکھ دیتےہیں جو معترض کے مطابق صحیح، حسن اور مقبول ہوسکتی ہیں اور وہ روایات جن میں کذاب, مجھول اور ضعیف راویان ہیں انہیں میں نے ترک کردیا ہے تاکہ مخالفین کا موقف انکے اصول کے مطابق قابل استدلال روایات سے پیش کیا جاۓـ
عبداللہ بن احمد نقل کرتے ہیں :
"حَدثنِي أبي قَالَ حَدثنَا مُؤَمل قَالَ سَمِعت سُفْيَان الثَّوْريّ قَالَ استتيب أَبُو حنيفَة مرَّتَيْنِ"(العلل رقم ٣٥٨٧)
عبداللہ بن احمد نقل کرتے ہیں :
"حَدثنِي أبي قَالَ سَمِعت سُفْيَان بن عُيَيْنَة يَقُول استتيب أَبُو حنيفَة مرَّتَيْنِ فَقَالَ لَهُ أَبُو زيد يَعْنِي حَمَّاد بن دَلِيل رجل من أَصْحَاب سُفْيَان لِسُفْيَان فِي مَاذَا فَقَالَ سُفْيَان تكلم بِكَلَام فَرَأى أَصْحَابه أَن يستتيبوه فَتَابَ"
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں" ابو حنیفہ سے دو مرتبہ توبہ کروائی گی ابوزید رح یعنی حماد بن دلیل جوکہ سفیان رح کے ساتھیوں میں سے تھا اس نے سفیان رح سے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ دراصل انہوں نے ایک بات ایسی کی کہ جس پر اس کے ساتھیوں نے اس سے توبہ کی درخواست کی آپ توبہ کریں اس سے چنانچہ انہوں نے توبہ کی۔"(العلل برقم:٣٥٨٨)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بقول سفیان ثوری ؒ کے امام ابو حنیفہ کے ہی أصحاب نے ان سے توبہ طلب کی اور روایت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ احتراماً گزارش تھی ناکہ کسی قاضی کا حکم یہ الگ سوال ہے کہ سفیانؒ تک یہ بات کس سند سے پہنچی ہے ـ مزید امام سفیان سے سوال کرنے والے حماد بن دلیل تو خود أصحاب ابی حنیفہ میں سے تھے اور وہی اس واقعے سے بے خبر ہیں!! انکے متعلق خطیب بغدادی کہتے ہیں :
وَكَانَ قد أخذ الفقه عَنْ أَبِي حنيفة (تاریخ بغداد وزیلویه ط العلمية ج ٨ ص ١٤٦)
حماد بن دلیل جو کہ حنفی طبقات میں شمار کیے جاتے ہیں اور امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد بھی ہیں وہ بھی امام کے متعلق ایسے کلام کو نہیں جانتے جس کا تزکرہ سفیان ثوری سے ملتا ہےـ
عبداللہ بن احمد نقل کرتے ہیں :
"حدثني أبو الفضل الخراساني، نا سلمة بن شبيب، نا الفريابي، سمعت سفيان الثوري، يقول: استتيب أبو حنيفة من كلام الزنادقة مرارا"
زندقہ کے کلام سے ابو حنیفہ سے کئی دفعہ توبہ کرائی گئی(السنة رقم ٢٦٩)
یہاں سفیان سے بیان بدل گیا ہے پہلے کی روایتوں میں امام سفیان نے دو مرتبہ کا ذکر کیا ہے جب کہ یہاں کئی مرتبہ کا ذکر ہوا ہے ۔
"حدثني أبو عقيل يحيى بن حبيب بن إسماعيل بن عبد الله بن حبيب بن أبي ثابت، ثنا غالب بن فوائد ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ :"رَأَيْتُ أَبَا حَنِيفَةَ يُطَافُ بِهِ عَلَى حِلَقِ الْمَسْجِدِ يُسْتَتَابُ أَوْ قَدِ اسْتُتِيبَ"
شریک بن عبداللہ کہتے ہیں :"میں نے ابو حنیفہ کو دیکھا اسے مسجد کے حلقوں پر گشت کرا کر توبہ کرائی جارہی تھی ـ"(السنة رقم ٣٢٧)
عبداللہ بن احمد کہتے ہیں:
حدثنا أحمد بن محمد بن يحيى بن سعيد القطان حدثنا يحيى بن آدم حدثنا شريك وحسن بن صالح أنهما شهدا أبا حنيفة وقد استتيب من الزندقة مرتين
شریک اور حسن بن صالح نے بیان کیا کہ" ہم نے ابو حنیفہ کو دیکھا کہ ابو حنیفہ سے کفریہ بات سے توبہ کرائی گئی ـ"(السنة رقم ٣٣٧)
ان تمام روایات میں اس بات کی وضاحت نہیں ہے کہ آخر ایسی کونسی بات تھی جس سے توبہ کروائی گئی چنانچہ آگے کے اقوالات میں یہ بات واضح کردی جاۓ گی آخر کونسا ایسا مسئلہ تھا جس سے امام صاحب سے گزارش کی گئی انکے اصحاب کی طرف سے بقول سفیان ثوری کے ـ
امام ابن عبدالبر کہتے ہیں
وَذَكَرَ السَّاجِيُّ فِي كِتَابِ الْعِلَلِ لَهُ فى بَاب أَبى حنيفَة أَنه استتيب فى خَلْقِ الْقُرْآنِ فَتَابَ وَالسَّاجِيُّ مِمَّنْ كَانَ يُنَافِسُ أَصْحَابَ أَبِي حَنِيفَةَ" (الانتقاء ص١٥٠)
ساجی نے اپنی کتاب العلل میں باب ابی حنیفہ میں ذکر کیا ہے کہ ابو حنیفہ سے خلق قرآن کے مسئلے میں توبہ کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے توبہ کرلی اور ساجی ان لوگوں میں سے تھا جو ابو حنیفہ کے اصحاب کے ساتھ مقابلہ کرتے تھےـ
ساجی کے تحت وہ مسئلہ جس سے امام صاحب سے رجوع کرایا گیا وہ خلق قرآن کا ہے جسے سفیان اور شریک نے کفر کہا ہے ـ
اسی طرح امام احمد سے بھی انکے بیٹے نقل کرتے ہیں
"استتابوه أظن في هذه الآية: {سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ} قال: هو مخلوق."
"ان کو توبہ کرائی گئ میرے خیال میں اس آیت کے متعلق تھی< سبحن ربک رب العزة عما یصفون >
اس پر انہوں نے کہا کہ یہ مخلوق ہےـ" (العلل ج٢ص٥٤٦)
ابن جوزي کہتے ہیں
"أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ قال: أخبرنا أبو بكر أحمد بن علي الحافظ قَالَ:المشهور عَنْ أبي حنيفة أنه كَانَ يَقُول بخلق القرآن ثُمَّ استتيب منه. "
احمد بن علی الحافظ کہتے ہیں" ابو حنیفہ کے حوالے سے مشہور ہے کہ وہ خلق قرآن کے قائل تھے مگر ان سے رجوع کرایا گیاـ" (المنتظم ج ٨ ص١٣٣)
أن تمام تر اقوالات سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ امام صاحب سے توبہ کرائی گئی خلق قرآن کے مسئلے میں اور امام سفیان کے بیان کے مطابق یہ توبہ انکے اصحاب نے دو مرتبہ طلب كی اور ایک روایت کے مطابق کئی دفعہ ـ
الجواب
⚪امام سفیان نے اپنا ماخذ ان تمام تر روایات میں بیان نہیں کیا انکا یہ دعوہ تھا جو سند کا محتاج ہے ایک روایت میں اسکا اگرچہ ذکر ہے
امام ابن شاھین نقل کرتے ہیں
أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: نا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: نا مُؤَمَّلٌ، قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ كَثِيرٍ، يَقُولُ: " اسْتُتِيبَ أَبُو حَنِيفَةَ مَرَّتَيْنِ. "
عباد بن کثیر کہتے ہیں کہ ابو حنیفہ سے دو مرتبہ کرائی گئی(شرح أصول اعتقاد أھل السنة والجماعة رقم ١٨٣٠)
سفیانؒ نے یہ روایت عباد بن کثیر سے سنی تھی اور عباد بن کثیر مشہور ضعیف راوی ہیں ـ
⚪امام سفیان ثوری امام ابو حنیفہ سے سخت تعصب بھی رکھتے تھے اور انکے تعصب کی کیا انتہا تھی آئیے زرہ دیکھیے
عبداللہ بن احمد کہتے ہیں
"حدثني أبي ثنا شعيب بن حرب قال سمعت سفيان الثوري يقول: ما أحب أن أوافقهم على الحق... "
شعیب بن حرب کہتے ہیں کہ:" سفیان ثوری کو کہتے ہوے سنا کہ مجھے یہ بات بھی پسند نہیں کہ میں حق بات پر بھی ان سے موافقت کروں ـ"(السنةج١ص١٩٢)
یعنی امام سفیان حق بات میں بھی امام ابو حنیفہ کی موافقت کرنا پسند نہیں کرتے تھے استغفراللہ!! اگر یہ ثابت ہے تو تعصب کس شے کا نام ہے؟ یا اس قسم کی روایات آئمہ دین کی طرف منسوب کردی گئیں تو وہ اس سے پاک ہیں چونکہ اس کے برعکس ایسے بھی اقوالات بسند حسن و صحیح ملتے ہیں جن میں امام سفیانؒ نے امام ابو حنیفہ کی طرف فقہی مسائل میں رجوع کیا واللہ اعلم ۔
امام ابن عدی نقل کرتے ہیں:
" وحدثنا محمد بن القاسم سمعت الخليل بن خالد يعرف بأبي هند يقول: سمعت عبد الصمد بن حسان يقول كان بين سفيان الثوري وأبي حنيفة شيء فكان أبو حنيفة اكفهما لسانا."
عبدالصمد بن حسان کہتے ہیں" سفیان ثوری اور ابو حنیفہ کے درمیان ناراضگی تھی اور ابو حنیفہ اپنی زبان پر زیادہ قابو کرنے والے تھےـ"
(الکامل ج ٨ ص ٢٣٦)
اس دلیل سے واضح ہوتا ہے کہ سفیان ثوری امام کے متعلق کس قدر متعصب تھے اور انکے متعلق ایسے ایسے الفاظ کہے جنکو اہل سنت نے قبول نہیں کیا ہے اور یکسر مسترد کردیا آپکے ایک سے زائد اعتدال سے گِرے اقوال ہیں جیسا کہ امام کو منحوس کہنا جو فرمان نبی اکرم ؐ کے بھی خلاف ہے اس کے علاوہ بھی اقوالات ہیں جنکا ذکر ضروری نہیں اس لیے آپکی روایت امام ابو حنیفہ کے متعلق معتبر نہیں ہے اور نا ہی قابل اعتبار جس میں ذم مروی ہو ـ امام سفیان کے مقابلے میں امام ابو حنیفہ ؒ سے ایک بھی ایسا کلمہ نہیں دکھایا جاسکتا جو توہین آمیز ہو بلکہ امام سے اس قدر اختلاف کے باوجود حق پر مبنی قول مروی ہے سفیان ثوری کے متعلق ـ
ابن عدی کہتے ہیں :
"حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز، حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الحميد الحماني سمعت أبا سعد الصاغاني يقول جاء رجل إلى أبي حنيفة فقال ما ترى في الأخذ عن الثوري فقال اكتب عنه ما خلا حديث أبي إسحاق عن الحارث عن علي وحديث جابر الجعفي."
ایک شخص ابو حنیفہ کے پاس آیا اور پوچھا ثوری سے روایت لینے کے بارے میں آپکی کیا راۓ ہے ابو حنیفہ نے کہا :"کہ ان سے روایت لکھ سکتے ہو سوائے حدیث ابی اسحاق عن حارث عن علی اور جابر جعفی کی روایت سےـ" (الكامل ابن عدي ج٢ ص ٣٢٨)
علما میں آثار کے باعث اختلاف ہے کہ امام سفیان مدح کرنے والوں میں شمار ہیں یا نہیں لیکن میری تحقیق میں امام سفیان معترضین میں شمار ہیں اگر قوی دلائل اس طرف ہوں کہ ان سے توثیق ثابت ہے تو میں اپنی رائے سے بالضرور رجوع کروں گاـ
⚪سفیان ثوری کی روایت عقل اور شواہد کے بھی خلاف ہے اور امام خلق قرآن کے مسئلے میں اہل سنت کی ہی راۓ رکھتے ہیں ـ امام کے شاگردوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس نے یہ گواہی دی ہو کہ امام خلق قرآن کے قائل تھے، بلکہ امام کے ثقہ اصحاب سے تو اس بات کی نفی ملتی ہے تو پھر یہی اصحاب امام سے قرآن کے مسئلے میں کیسے توبہ لے سکتے ہیں؟
امام ابو بکر احمد بن حسین البیھقی کہتے ہیں :
"وقرأت في كتاب أبي عبد الله محمد بن محمد بن يوسف بن إبراهيم الدقاق بروايته عن القاسم بن أبي صالح الهمذاني , عن محمد بن أيوب الرازي , قال: سمعت محمد بن سابق , يقول: سألت أبا يوسف , فقلت: أكان أبو حنيفة يقول القرآن مخلوق؟ , قال: معاذ الله , ولا أنا أقوله , فقلت: أكان يرى رأي جهم؟ فقال: معاذ الله ولا أنا أقوله " رواته ثقات.
محمد بن سعید بن سابق کہتے ہیں میں نے ابو یوسف سے پوچھا :
" کیا ابو حنیفہ قرآن کو مخلوق کہتے تھے؟ انہوں نے کہا : اللہ کی پناہ! میں بھی ایسا نہیں کہتا ، کیا وہ جھم والے خیالات رکھتے تھے؟ انہوں نے کہا اللہ کی پناہ! میں بھی ایسا نہیں کہتا ـ" (الأسماء والصفات ج ١ ص ٢١١ رقم ٥٥٠ اسناده صحيح)
اسی طرح امام کے دیگر اصحاب کی بھی یہی گواہی ہے،چنانچہ خطیب بغدادی نقل کرتے ہیں :
" وقال النخعي: حدثنا محمد بن شاذان الجوهري قال: سمعت أبا سليمان الجوزجاني، ومعلى بن منصور الرازي يقولان: ما تكلم أبو حنيفة ولا أبو يوسف، ولا زفر، ولا محمد، ولا أحد من أصحابهم في القرآن، وإنما تكلم في القرآن بشر المريسي، وابن أبي دؤاد، فهؤلاء شانوا أصحاب أبي حنيفة."
" محمد بن شاذان جوہری کہتے ہیں میں نے ابو سلیمان الجوزجانی(ثقہ امام) اور معلی بن منصور رازی(ثقہ فقیہ) کو کہتے ہوۓ سنا کہ امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد اور امام زفر نے قرآن کے بارے میں لب کشائی نہیں کی بشیر مریسی اور ابن ابی داؤد نے اس بارے میں لب کشائی(قرآن کو مخلوق کہنا) کی اور امام ابوحنیفہ اور انکے اصحاب کی شان کو مجروح کیاـ"(تاریخ بغداد الذیلویه ط العلمیة ج ١٣ ص ٣٧٤ وسندہ صحیح)
امام ابو سلیمان الجوزجانی الحنفی اور امام معلی بن منصور دونوں شاگرد امام ابو یوسفؒ و امام محمد بن الحسنؒ ہیں دونوں نے اس معاملے میں امام کی طرف نسبت کا انکار کیا ہے جو دلیل ہے کہ امام سے خلق قرآن کے مسئلے میں ایسا کچھ بھی مروی نہیں جو قابل گرفت ہو بلکہ امام ابو سلیمان الجوزجانی کے متعلق ابن ابی حاتم نے یہاں تک کہا ہے کہ وہ خلق قرآن کے قائل کی تکفیر کرتے تھے ـ
امام سفیان کی طرف یہ روایت گھڑی گئی ہے کہ امام ابوحنیفہ کے اصحاب نے ان سے توبہ طلب کی تھی چونکہ امام کے اصحاب تو اس بات کی نفی کررہے ہیں تو وہ کیسے توبہ کرا سکتے ہیں؟ یا پھر یہ سبقت لسان کا نتیجہ ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ راوی نے فھمًا بیان کردیا ہو چونکہ اس روایت کی متابعت نہیں ملتی کہ امام کے شاگردوں نے توبہ طلب کی اس اعتبار سے یہ روایت کا متن مضطرب ہے اور اب اس اضطراب کو دور کرنا متعصبین کے ذمے ہے ـ
⚪امام احمدؒ سے عبداللہ بن احمد نے نقل کیا ہے
"استتابوه أظن في هذه الآية: {سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ} قال: هو مخلوق."
"ان کو توبہ کرائی گئ میرے خیال میں اس آیت کے متعلق تھی< سبحن ربک رب العزة عما یصفون >
اس پر انہوں نے کہا کہ یہ مخلوق ہےـ" (العلل ج٢ص٥٤٦)
یہ بات تو پہلے بیان کردی گئی ہے کہ امام خلق قرآن کے مسئلے میں اہل سنت کی راۓ رکھتے تھے اس پر تفصیلی کلام بھی کیا جاسکتا تھا لیکن ہم نے موضوع کی مناسبت سے دو روایات پر اکتفاء کیا ہے لیکن یہاں یہ اثر بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ امام احمد کے اقوال میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے انکے بیٹے إرجاء کا قول نقل کرتے ہیں جب کہ امام احمد سے ارجاء کی قطعی نفی ذکر کی گئی ہے ـ چونکہ یہ روایت منقطع ہے اس لیے اس کا جواب دینا ضروری بھی نہیں ہے ـ
خطیب بغدادی نقل کرتے ہیں :
"قال النخعي: حدثنا أبو بكر المروذي قال: سمعت أبا عبد الله أحمد بن حنبل يقول: لم يصح عندنا أن أبا حنيفة كان يقول القرآن مخلوق."( تاریخ بغداد وذيلوية ط العلمية ج ١٣ ص ٣٧٤ واسنادہ صحیح)
اس روایت سے تین باتیں ممکن ہوسکتی ہیں: -
⏺️امام احمد کی طرف کسی ایک راوی نے غلط نسبت کی ہے ـ
⏺️امام احمد کا پہلے کا قول تحقیق پر مبنی نہیں تھا بعد میں آپ نے اپنے قول سے رجوع کرلیا ـ
⏺️اگر امام پر إرجاء کی تہمت ہی نہیں تھی تو پھر رجوع کس مسئلے سے کرایا گیا؟
یہ یاد رکھا جاۓ کہ بسند یہ بات ثابت نہیں ہے کہ امام سے توبہ إرجاء کے مسئلے میں کرائی گئی تھی یہ راۓ ان متقدمین و متاخرین (ساجی وغیرہ) سے ملتی ہے جو اس موقعہ پر موجود نہیں تھے ـ سنداً جو راۓ ملتی ہے وہ یہی ہے کہ خوارج نے امام کے مسئلے سے اختلاف کیا تھا جس کا تعلق خلق قرآن کے مسئلے سے نہیں ہےـ
⚪دوسرے راوی قاضی شریک بن عبداللہ النخعی ہیں جن سے یہاں تک روایات گھڑی گئی ہیں کہ توبہ انہوں نے ہی طلب کی تھی خیر شریک بھی امام ابو حنیفہ کے تعلق سے زبان قابو میں نہیں رکھتے تھے اس لیے انکی روایت بھی اس قابل نہیں کہ اس سے احتجاج کیا جاۓـ اور روایت کو ایسے ہی تسلیم کرلیا جاۓ تو اس کا جواب آگے آرہا ہےـ
⚪اسی روایت کی دوسری حقیقت بھی ہے جو قرین قیاس اور دلائل کے موافق ہے اور اصل واقعے کی صحیح تشریح ہے
محدث عبدالقادر القرشیؒ کہتے ہیں :
"وَقَالَ أَبُو الْفضل الْكرْمَانِي لما دخل الْخَوَارِج الْكُوفَة ورأيهم تَكْفِير كل من أذْنب وتكفير كل من لم يكفر قيل لَهُم هَذَا شيخ هَؤُلَاءِ فَأخذُوا الإِمَام وَقَالُوا تب من الْكفْر فَقَالَ أَنا تائب من كل كفر فَقيل لَهُم أَنه قَالَ أَنا تائب من كفركم فَأَخَذُوهُ فَقَالَ لَهُم أبعلم قُلْتُمْ أم بِظَنّ قَالُوا بِظَنّ قَالَ إِن بعض الظَّن إِثْم وَالْإِثْم ذَنْب فتوبوا من الْكفْر قَالُوا تب أَيْضا من الْكفْر فَقَالَ أَنا تائب من كل كفر فَهَذَا الذى قَالَه الْخُصُوم أَن الإِمَام استتيب من الْكفْر فى طَرِيق الْحجاز... "
ابو الفضل کرمانی نے کہا :" جب خوارج کوفہ میں داخل ہوئے تو تو انکی رائے تھی کہ ہر گناہ گار کو کافر قرار دینا اور اور ہر اس شخص کی تکفیر جو کسی اور جو کافر نہ کہے أن سے کہا گیا کہ یہ سب کا استاد ہے(ابو حنیفہ) تو انہوں نے امام کو پکڑ لیا اور کہا کفر سے توبہ کرو تو امام ابو حنیفہ نے کہا :کہ میں ہر کفر سے توبہ کرتا ہوں تو پھر خوارج سے کسی نے کہا ابو حنیفہ نے کہا ہے کہ میں تمہارے کفر سے توبہ کرتا تو خوارج نے امام کو پکڑ لیا تو امام نے کہا کہ ایسا تم نے کسی یقین کی بنیاد پر کہا ہے یا پھر ظن کی بنیاد پر تو وہ کہنے لگے کہ ظن کی بنیاد پر امام نے کہا کہ: ان بعض الظن إثم (بعض گمان گناہ ہیں) اور إثم گناہ ہے پس تم کفر سے توبہ کرو، پھر وہ خوارج أمام سے کہنے لگے کہ: کفر سے توبہ تم بھی توبہ کرو تو امام نے کہا کہ کہ میں ہر کفر سے توبہ کرتا ہوں یہ وہ بات جس کو خصم یعنی مخالف ذکر کیا ہے کہ امام نے حجاز کے راستے میں توبہ کی... "(الجواھر المضیة في طبقات الحنفية ج ١ ص٤٨٧، ٤٨٨)
اس واقعے سے ملتی جلتی بات امام سفیان ثوری سے بھی مروی ہے جو ان تمام تر روایات کا اصل اور تسلی بخش جواب ہے ـ
امام ابن ابی العوامؒ نقل کرتے ہیں
"وجدت في كتابي من حديث الحسن بن حماد سجادة، وقد حدثت به عنه قال: ثنا أبو قطن عمرو بن الهيثم قال: أردت الخروج إلى الكوفة فقلت لشعبة: من تكاتب بالكوفة؟ قال: أبو حنيفة وسفيان الثوري، فقلت: أكتب لي إليهما، فكتب، وصرت إلى الكوفة، فسألت عن أسن الرجلين؟ فقيل: أبو حنيفة، فدفعت إليه الكتاب، فقال: كيف أخي أبو بسطام؟ قلت بخير، فلما قرأ الكتاب قال: ما عندنا فلك مبذول، وما عند غيرنا فاستعن بنا نعينك، ومضيت إلى الثوري فدفعت إليه كتابه، فقال لي مثل ما قال أبو حنيفة، فقلت له، شيء يروى عنك تقول: إن أبا حنيفة استتيب من الكفر مرتين، أهو الكفر الذي هو ضد الإيمان؟ فقال: ما سألني عن هذه المسألة أحد غيرك منذ كلمت بها، وطأطأ رأسه ثم قال: لا، ولكن دخل واصل الشاري إلى الكوفة فجاء إليه جماعة فقالوا له: إن هاهنا رجلاً لا يكفر أهل المعاصي يعنون أبا حنيفة، فبعث فأحضره وقال: يا شيخ بلغني أنك لا تكفر أهل المعاصي؟ قال: هو مذهبي، قال: إن هذا كفر، فإن تبت قبلناك وإن أبيت قتلناك، قال: مم أتوب؟ قال: من هذا، قال: أنا تائب من الكفر، ثم خرج، فجاءت جماعة من أصحاب المنصور فأخرجت واصلاً عن الكوفة، فلما كان بعد مدة وجد من المنصور خلوة فدخلها، فجاءت تلك الجماعة فقالت: إن الرجل الذي كان تاب قد راجع قوله، فبعث فأحضره فقال: يا شيخ بلغني أنك راجعت ما كنت تقول، فقال: وما هو؟ فقال: إنك لا تكفر أهل المعاصي، فقال: هو مذهبي، قال: فإن هذا عندنا كفر، فإن تبت منه قبلناك وإن أبيت قتلناك، قال: والشراة لا يقتلون حتى يستتاب ثلاث مرات، فقال: مم أتوب؟ قال: من الكفر، قال: فإني تائب من الكفر، قال: فهذا هو الكفر الذي استتيب منه."
ابو قطن نے کہا کہ "میں نے کوفہ جانے کا ارادہ کیا تو شعبہ رح سے کہا آپ کوفہ میں کسی کی طرف رقعہ لکھنا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا ابوحنیفہ رح اور سفیان ثوریؒ کی طرف لکھنا چاہتا ہوں تو میں نے کہا آپ مجھے ان دونوں کی طرف لکھ دیں، تو انہوں نے لکھ دیا اور میں کوفہ چلا گیا اور میں نے وہاں لوگوں سے پوچھا کہ ابو حنیفہؒ اور سفیان ثوریؒ سے زیادہ عمر والے کون ہیں تاکہ میں انکو رقعہ پہلے پہنچاؤں تو مجھے بتایا گیا کہ ابوحنیفہؒ عمر رسیدہ ہیں تو میں اں کو رقعہ دیا انہوں نے کہا میرا بھائی ابو بسطام کیسا تھا؟ تو میں نے کہا :وہ خیریت سے تھے پس جب انہوں نے رقعہ پڑھا تو کہا: کہ جو چیز ہمارے پاس ہے وہ تجھے بخش دی اور جو ہمارے پاس نہیں کسی اور کے پاس ہے تو اس کے لیے ہم مدد کریں گے۔ اور پھر میں سفیان ثوری رحمہ کی جانب گیا تو ان کو وہ رقعہ پہنچایا تو انہوں نے بھی مجھے وہی کہا جو ابوحنیفہ نے کہا تھا۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی طرف سے ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ آپ کہتے ہیں بیشک ابوحنیفہ سے دو مرتبہ کفر سے توبہ طلب کی گئ تھی؟ کیا وہ ایسا کفر تھا جو ایمان کی ضد ہے ؟ تو انہوں نے کہا :جب سے میں نے یہ بیان کیا ہے اس وقت سے لے کر اب تک اس مسلے کے بارے میں تمہارے سوا کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا اور اپنا سر جھکا لیا پھر کہا: کہ نہین ایسا نہین تھا۔ لیکن واصل البخاری کوفہ میں داخل ہوا تو اس کے پاس ایک جماعت آئی تو انہوں نے اس سے کہا بیشک یہاں ایک ایسا آدمی جو گنہگاروں کو کافر نہیں کہتا اور ان کی مراد اس شخص سے ابو حنیفہ تھے ۔ تو اس نے پیغام بھیجا تو وہ اس کے پاس حاضر ہوئے اور اس کی کہا: اے شخص مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ اہل معاصی(گناہ گار) کو کافر نہیں کہتے تو انہوں نے کہا کہ یہ تو میرا مذہب ہے تو اس نے کہا یقیناً کفر ہے پس اگر تو نے توبہ کرلی تو ہم تیری توبہ قبول کرلیں گے۔ اور اگر تو نے انکار کیا توہم تجھے قتل کریں گے تو انہوں نے کہا: کس بات سے توبہ کروں؟ تو اس نے کہا: اسی سے، تو انہوں نے کہا: میں کفر سے توبہ کرتا ہوں پھر وہ چلے گئے تو منصور کے ساتھیوں کی جماعت آئی تو انہوں نے واصل کو کوفہ سے نکال دیا پھر کچھ مدت کے بعد منصور نے موقع پایا تو وہ کوفہ میں داخل ہوا تو وہی جماعت اس کے پاس آکر کہنے لگی بیشک وہ آدمی جس نے توبہ کی تھی اپنے سابقہ نظریے کا پرچار کرتا ہے تو اس نے بلانے کے لیے پیغام بھیجا تو اس کے پاس حاضر ہوئے تو اس نے کہا :اے شیخ! مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بیشک آپ اپنے اسی نظریہ کی طرف لوٹ گئے ہیں جو پہلے تھا تو انہوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ تو اس نے کہا بے شک آپ گناہ گاروں کو کافر نہیں کہتے تو انہوں نے کہا: وہ تو میرا مذہب ہے، تو انہوں نے کہا :بے ہمارے نزدیک کفر ہے پس اگر آپ نے توبہ کرلی تو ہم تمھاری قبول کرلیں گے اگر آپ آنے انکار کیا تو ہم تجھے قتل کردیں گے۔ تو انہوں نے کہا :چست و چالاک لوگ قتل نہیں کیے جاتے یہاں تک کہ اس نے تین مرتبہ توبہ طلب کی تو انہوں نے کہا: میں کس چیز سے توبہ کروں تو اس نے کہا: کفر سے تو انہوں نے کہا کہ بیشک کفر سے توبہ کرتا ہوں پس یہی وہ کفر ہے جس سے ابو حنیفہؒ سے توبہ طلب کی گئ تھی۔" (فضائل أبي حنيفة وأخبار ص ٧٤،٧٥ رقم ٨٤ اسناده صحيح)
اس سند کے تمام راہ ثقہ و صدوق ہیں ۔
اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ امام سے جس کفر کی توبہ کرائی گئی تھی دراصل وہ قابلِ اعتراض بات نا تھی جسے صرف تعصب کی بنا پر پھیلایا گیا ـ اور یہ ہی روایت ان تمام تر اعتراض کا شافی جواب ہے ـ اگر توبہ کی وجہ کوئی اور ہے تو اس دعوے پر صریح دلائل پیش کرنا ہوں گے نہیں تو یہ تمام تر روایات کسی کام کی نہیں جب تک کہ مدعی اپنے دلائل میں صراحت نا دکھا دے تاکہ مذکورہ قول کو رد کیا جاتا ہے ـ مزید اتنی بڑی تہمت کے لیے ثقہ رواہ کی ایک جماعت کی گواہی درکار ھے نا کہ مبھم باتیں کہ" ہم نے دیکھا " اور بات مکمل بیان نا ہوئی کہ کیا وجہ تھی اور کون کروارہا تھا یہ تمام باتوں کو خیال میں رکھ کر ہمارے مضمون کا رد لکھا جائے ۔
اعتراض نمبر 18 : امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جروحات کا تحقیقی جائزہ






تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں