نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام ابو یوسفؒ کے خلاف امام یحییٰ بن معینؒ کے اقوال کا علمی جائزہ : إِعْلَامُ القَاصِي والدَّانِي بِتَوْثِيقِ ابنِ مَعِينٍ لِلإِمَامِ أَبِي يُوسُفَ القَاضِي



إِعْلَامُ القَاصِي والدَّانِي بِتَوْثِيقِ ابنِ مَعِينٍ لِلإِمَامِ أَبِي يُوسُفَ القَاضِي


تمہید: 

فقہ حنفی کے قصرِ عالی شان کے معمارِ ثانی، قاضی القضاة امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم انصاریؒ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ نہ صرف امامِ اعظمؒ کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں، بلکہ علمِ حدیث اور فقہ کے اس سنگم پر فائز ہیں جہاں سے علم کے دریا پھوٹتے ہیں۔ امام یحییٰ بن معینؒ، جو فنِ جرح و تعدیل کے امامِ بے بدل ہیں، ان سے امام ابویوسفؒ کی واضح توثیق کے اقوال کتبِ رجال میں تواتر کے ساتھ موجود ہیں،  قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


سلسلہ دفاع قاضی ابو یوسف ؒ : قسط نمبر1 : قاضی القضاۃ امام یعقوب بن ابراہیم ابو یوسف الأنصاریؒ (متوفی ۱۸۲ھ) کی تعریف ، توثیق اور تحسین


زیرِ نظر تحریر میں ہم "تاریخ بغداد" (ت بشار 16/377) میں مذکور ان چند روایات کا علمی محاکمہ کریں گے جنہیں بعض کم فہم  ،  امام یحییٰ بن معینؒ  سے امام صاحب قاضی القضاة  کی تنقیص کے لیے پیش کرنے کی سعیِ لاحاصل کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراضات محض تارِ عنکبوت کی حیثیت رکھتے ہیں جن کی بنیاد ہی لرزہ براندام ہے۔


1. أخبرني أحمد بن عبد الله الأنماطي، قال: أخبرنا محمد بن المظفر الحافظ، قال: أخبرنا علي بن أحمد بن سليمان المصري، قال: حدثنا أحمد بن سعد بن أبي مريم قال: وسألته يعني يحيى بن معين عن أبي يوسف فقال: لا يكتب حديثه. قلت: قد روى غير ابن أبي مريم عن يحيى أنه وثقه. 

 احمد بن سعد بن ابی مریم  نے کہا: میں نے یحییٰ بن معینؒ سے ابویوسفؒ کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: ان کی حدیث نہ لکھی جائے۔ (خطیب بغدادی کہتے ہیں کہ) میں کہتا ہوں: ابن ابی مریم کے علاوہ دیگر حضرات نے یحییٰ بن معینؒ سے ان کی توثیق روایت کی ہے۔

جواب:

اس روایت کا جواب خود صاحبِ کتاب خطیب بغدادیؒ نے دے کر معترضین کے دانت کھٹے کر دیے ہیں۔ خطیب بغدادیؒ اس قول کو نقل کرنے کے فوراً بعد فرماتے ہیں: "قلت: قد روى غير ابن أبي مريم عن يحيى أنه وثقه۔" (میں کہتا ہوں: ابن ابی مریم کے علاوہ دیگر حضرات نے یحییٰ بن معین سے ان کی توثیق روایت کی ہے۔)  لہٰذا ابن ابی مریم کی اس انفرادی روایت کی بنیاد ہی منہدم ہو جاتی ہے۔  قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 145: کہ یحییٰ بن معین نے کہا کہ ابوحنیفہ سے حدیث نہ لکھی جائے۔


2.  أخبرنا محمد بن أحمد بن رزق، قال: أخبرنا هبة الله بن محمد بن حبش الفراء، قال: حدثنا أبو جعفر محمد بن عثمان بن أبي شيبة قال: وسمعته يعني يحيى بن معين وذكر له أبو يوسف القاضي فقال: لم يكن يعرف بالحديث. 

ابوجعفر محمد بن عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے یحییٰ بن معینؒ کو سنا، جب ان کے سامنے قاضی ابویوسفؒ کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: "وہ علمِ حدیث (کی مہارت) سے معروف نہ تھے۔"

جواب:

ابوجعفر محمد بن عثمان بن ابی شیبہ بذاتِ خود جرح و تعدیل کے میزان میں سخت مجروح ہیں۔  قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود



 3. أخبرني عبد الله بن يحيى السكري، قال: أخبرنا محمد بن عبد الله الشافعي، قال: حدثنا جعفر بن محمد بن الأزهر، قال: حدثنا ابن الغلابي قال: قال يحيى بن معين: أبو يوسف القاضي لم يكن يعرف الحديث، وهو ثقة.

 ابن الغلابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: یحییٰ بن معینؒ نے فرمایا: "قاضی ابویوسف حدیث میں (زیادہ) معروف نہ تھے، لیکن وہ ثقہ ہیں۔"

جواب: یہ قول درحقیقت امام ابویوسفؒ کی منقبت میں ہے، نہ کہ تنقیص میں امام صاحب محدثین کے اس مخصوص گروہ کی طرح نہ تھے جو ایک ایک حدیث کے سو سو طرق  تلاش کرنے میں وقت صرف کرتے ہیں۔ آپ کا اصل جوہر "فقہ الحدیث" اور استنباطِ مسائل تھا۔ آپ کے پاس جب صحیح حدیث پہنچ جاتی، تو آپ اس سے اجتہاد فرما کر امت کی رہنمائی فرماتے۔ امام ابن معینؒ نے "وھو ثقة" کہہ کر مہرِ تصدیق ثبت کر دی کہ علمی طور پر وہ مکمل معتبر ہیں، چاہے ان کی شہرت کا رخ فنِ حدیث کے بجائے فنِ فقہ کی طرف رہا ہو۔  سبحان اللہ! قاضی 

ابویوسف  ثقہ بھی ہیں اور فقیہِ عصر بھی۔


 4. أخبرنا عبيد الله بن عمر الواعظ، قال: حدثنا أبي، قال: حدثنا أبو عبد الله بن مهران المستملي، قال: حدثنا حسين بن فهم قال: سمعت أبي يسأل يحيى بن معين عن أبي يوسف فقال: ثقة إذا حَدَّثَ عَن الثقات.

 حسین بن فہم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد کو سنا کہ وہ یحییٰ بن معینؒ سے ابویوسفؒ کے بارے میں پوچھ رہے تھے، تو انہوں نے فرمایا: "جب وہ ثقہ راویوں سے روایت کریں تو ثقہ ہیں۔"

جواب:

امام ابویوسفؒ کا علمی ظرف بہت وسیع تھا۔ دیگر کبار محدثین  جیسے امام سفیان ثوریؒ اور امام شعبہؒ کی طرح آپ کا  یہ معمول تھا کہ وہ ضعیف راویوں سے بھی حدیثیں لکھ لیتے تھے تاکہ:

  • روایات کے مختلف طرق کا علم ہو سکے۔

  • شواہد اور متابعات میں ان سے مدد لی جا سکے۔

  • ان کے تفردات اور غلطیوں کی پہچان ہو سکے۔ قاعدہ: کسی ثقہ راوی کا کسی ضعیف سے روایت کرنا اس کی اپنی ثقاہت کو مجروح نہیں کرتا، بلکہ صرف اس مخصوص سند کو ضعیف کرتا ہے۔

امام ابن معینؒ کا اپنا کڑا معیار

امام یحییٰ بن معینؒ نقدِ رجال میں اپنی "شدت" اور "کڑے معیار" کے لیے مشہور تھے۔ ان کا اپنا مسلک یہ تھا کہ وہ صرف ان راویوں سے روایت کرنا پسند کرتے تھے جو ان کے نزدیک غایت درجے کے ثقہ ہوں۔ جب انہوں نے امام ابویوسفؒ کے بارے میں یہ جملہ کہا ثقة إذا حَدَّثَ عَن الثقات ، تو وہ دراصل امام صاحب  کے "منہجِ روایت" کی نشان دہی کر رہے تھے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امام شعبہ بن الحجاج (امیر المومنین فی الحدیث) اور امام سفیان ثوریؒ جیسے جلیل القدر ائمہ، جن کی ثقاہت پر امت کا اجماع ہے، وہ بھی ضعیف راویوں سے روایت لے لیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ امام بخاریؒ نے بھی اپنی "الادب المفرد" اور دیگر تصانیف میں ایسے راویوں سے روایت لی ہے جن پر جرح موجود ہے۔  کیا اس سے امام شعبہؒ کی ثقاہت پر آنچ آتی ہے؟ ہرگز نہیں! یہی معاملہ امام ابویوسفؒ کا ہے کہ وہ بحرِ علم تھے اور ہر خشک و تر سے واقفیت رکھتے تھے۔


5.  أخبرني الأزهري، قال: حدثنا عبد الرحمن بن عمر، قال: حدثنا محمد بن أحمد بن يعقوب قال: سمعت عباسا يعني الدوري يقول: سمعت يحيى بن معين يقول: أبو يوسف أنبل من أن يكذب.

عباس دوریؒ کو سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے یحییٰ بن معینؒ کو فرماتے سنا: "ابویوسف اس سے کہیں زیادہ بلند مرتبہ (نبیل) ہیں کہ وہ جھوٹ بولیں۔"

6.  أخبرنا محمد بن أحمد بن رزق، قال: حدثنا أحمد بن علي بن عمر بن حبيش الرازي قال: سمعت محمد بن أحمد بن عصام يقول: سمعت محمد بن سعد العوفي يقول: سمعت يحيى بن معين يقول: كان أبو يوسف ثقة، إلا أنه كان ربما غلط.

 میں نے محمد بن سعد العوفی کو سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے یحییٰ بن معینؒ کو سنا، وہ فرماتے تھے: "ابویوسف ثقہ تھے، مگر کبھی کبھی ان سے (حدیث میں) غلطی ہو جاتی تھی۔"

جواب:

اس پر معترض کا خوش ہونا نادانی کی انتہا ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ کون سی ایسی ہستی ہے جس سے بھول چوک ممکن نہ ہو؟  قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی  ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 141: کہ یحییٰ بن معین نے کہا کہ ابوحنیفہ جھوٹ بولنے سے بہت شریف النسب تھے۔ وہ صدوق تھے مگر بے شک ان کی حدیث میں وہ کچھ ہوتا تھا جو شیوخ کی حدیث میں نہیں ہوتا۔



 7. أخبرنا الأزهري، قال: حدثنا عبد الرحمن بن عمر، قال: حدثنا محمد بن أحمد بن يعقوب، قال: حدثنا جدي قال: سمعت يحيى بن معين يقول: كتبت عن أبي يوسف وأنا أحدث عنه وقال جدي: سمعت أحمد بن حنبل يقول: أول من كتبت عنه الحديث أبو يوسف، وأنا لا أحدث عنه.

ہمیں الازہری نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے عبد الرحمن بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن احمد بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے میرے دادا نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے یحییٰ بن معینؒ کو فرماتے سنا: "میں نے ابویوسفؒ سے حدیث لکھی ہے اور میں ان سے روایت کرتا ہوں۔" اور میرے دادا نے کہا: میں نے احمد بن حنبلؒ کو فرماتے سنا: "سب سے پہلے جن سے میں نے حدیث لکھی وہ ابویوسفؒ تھے، مگر (اب) میں ان سے روایت نہیں کرتا۔"

جواب:

روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ امام یحییٰ اور امام احمد دونوں کے اُستاد امام ابو یوسف تھے، جہاں تک یہ لکھا ہے کہ امام احمد نے بعد میں ابو یوسف سے روایت نہیں کی، تو اس بارے میں مکمل تفصیل اس مضمون میں پڑھی جا سکتی ہے۔


اعتراض نمبر 35 : امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جرح 


حاصلِ بحث :

امام الجرح والتعدیل، یحییٰ بن معینؒ کے مختلف ارشادات اور ان کی روشنی میں امام ابویوسفؒ "ثقہ" (معتبر) اور "نبیل" (عظیم المرتبت) تھے۔ تاریخ بغداد میں مذکور وہ روایات جن میں بظاہر جرح نظر آتی ہے، یا تو وہ سنداً "شاذ" ہیں (جیسے ابن ابی مریم کی روایت)، یا ان کے راوی "مطعون و کذاب" ہیں (جیسے ابن ابی شیبہ)۔ خود خطیب بغدادیؒ نے ان کے مقابلے میں توثیقی روایات کو ترجیح دے کر معترضین کا راستہ روک دیا ہے۔ امام ابن معینؒ کا یہ کہنا کہ وہ "حدیث میں معروف نہ تھے"، دراصل ان کی فقہی جلالت کا اعتراف ہے کہ وہ محض "راویِ حدیث" نہیں بلکہ "فقیہِ حدیث" تھے۔ آپ کی ثقاہت اس قدر مسلم تھی کہ خود ابن معینؒ اور امام احمد بن حنبلؒ جیسے اکابر نے آپ سے حدیث کا سماع کیا۔

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...