نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امامِ جلیل، قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر امام بخاری رحمہ اللہ سے منسوب جرح کا علمی و تحقیقی جائزہ

 


امامِ جلیل، قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر امام بخاری رحمہ اللہ سے منسوب  جرح کا علمی و تحقیقی جائزہ


مقدمہ: امام ابو یوسفؒ کا علمی مقام اور معترضین کا ہدف

ائمۂ اسلام کی عظیم جماعت میں امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیمؒ کا نام نہایت احترام اور جلال کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ آپ امام اعظم  کے جلیل القدر شاگرد، فقہِ حنفی کے اولین مدونین میں سے، اور خلافتِ عباسیہ کے پہلے قاضی القضاۃ تھے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ وہ عبقری شخصیت ہیں جن کی فقاہت اور ثقاہت پر امت کا سوادِ اعظم متفق رہا ہے۔ تاہم، بعض حلقوں کی جانب سے امام بخاری رحمہ اللہ کی کتب کے حوالے دے کر آپ کی شخصیت کو ہدفِ ملامت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم ان اعتراضات کا علمی و تحقیقی محاسبہ کریں گے تاکہ غبارِ تلبیس چھٹ جائے اور حق آشکار ہو سکے۔

پہلا اعتراض اور اس کی حقیقت

امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب "التاریخ الکبیر" میں ہے: [١٢٦١٣] يَعْقوبُ بنُ إِبْراهيمَ، أَبُو يُوسُفَ، القَاضِي۔ سَمِعَ الشَّيبانيَّ۔ وَصاحِبُهُ تَرَكوهُ، يَعنِي أَبَا حَنيفةَ۔

  ابو یوسف، جو کہ ابو حنیفہ کے ساتھی تھے، انہوں نے شیبانی سے روایت سنی۔ انہیں ترک کر دیا گیا۔ (التاریخ الکبیر للبخاری - ت الدباس والنحال 10/468)

مجہول جارح  کی جانب منسوب جرح

اس جرح کا جواب یہ ہے کہ یہاں "جرح کرنے والا" (جارح) نامعلوم اور مبہم ہے۔ یعنی یہ معلوم نہیں کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے ترک کیا۔ جب جارح مجہول ہو تو ایسی جرح  قابلِ قبول نہیں ہوتی۔ 

فریقِ مخالف (غیر مقلدین) کے گھر کی شہادتیں

خود فرقۂ اہل حدیث کے نزدیک بھی یہی اصول تسلیم شدہ ہے۔چنانچہ غیر مقلد عالم شیخ زبیر علی زئی لکھتے ہیں: ’’حافظ ابن عبد البر نے بعض مجہول لوگوں سے ‘ضعفوہ’ کا عندیہ دیا ہے۔ یہ ضعیف قرار دینے والے لوگ کون ہیں؟ ہمیں معلوم نہیں۔‘‘ (توضیح الاحکام، فتاویٰ علمیہ: 1/597) 

اسی طرح غیر مقلد مصنف ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں: ’’امام دارقطنیؒ نے اگر ‘لینوہ’ کہا ہے تو اس کو لین کہنے والے مجہول ہیں، لہٰذا اس کا کوئی اعتبار نہیں۔‘‘ (توضیح الکلام 1/534) اسی کتاب میں ایک اور مقام پر صاف الفاظ میں لکھتے ہیں: ’’اگر جارح مجہول ہو تو اہلِ علم نے ایسی جرح کو قبول نہیں کیا۔‘‘ (توضیح الکلام 1/534) بلکہ مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’یہ کلام موجبِ جرح نہیں، کیونکہ یہ مجہول آدمی سے منقول ہے۔‘‘ (توضیح الکلام 1/534)

اسی اصول کو زبیر علی زئی غیر مقلد نے ایک اور مقام پر یوں بیان کیا ہے: ’’ابن ابی حاتم کا قول ‘تکلموا فیہ’ کئی لحاظ سے مردود ہے… اس کا جارح نامعلوم ہے۔‘‘ (نور العینین، ص 88) اور مولانا عبد الرحمن مبارک پوری غیر مقلد صاف الفاظ میں لکھتے ہیں: ’’جارحِ مجہول کی جرح غیر معتبر اور نامقبول ہے۔‘‘ (تحقیق الکلام، صفحہ 1/63) یہ تمام تصریحات اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ اگر جرح کرنے والا مجہول ہو تو اس کی جرح کو کسی حال میں قبول نہیں کیا جاتا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ مجہول افراد کی جرح قابلِ قبول نہیں۔ لہٰذا یہاں بھی جب  جارح  معلوم ہی نہیں تو اس جرح کی کوئی علمی حیثیت باقی نہیں رہتی۔پس جب خود معترضین کے نزدیک مجہول کی جرح مردود ہے، تو امام صاحب کے خلاف اس مبہم عبارت سے استدلال کرنا "بنا بر فاسد علی الفاسد" کے مترادف ہے۔

 کتاب "الضعفاء الصغیر"  میں موجود جرح 

بعض لوگ امام بخاری سے ایک اور عبارت پیش کرتے ہیں: ٤٣٦- يعقوب بن إبراهيم أبو يوسف القاضي: سمع الشيباني: تركه يحيى وعبد الرحمن، ووكيع وغيرهم 

یعقوب بن ابراہیم ابو یوسف قاضی: انہوں نے شیبانی سے روایت سنی۔۔ یحییٰ، عبد الرحمٰن، وکیع اور دوسرے لوگوں نے انہیں ترک کر دیا۔  (الضعفاء الصغير للبخاري ١/‏١٤٢) 

نسخوں کا اختلاف: سند اور متن میں اضطراب

عام طور پر غیر مقلدین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ صرف صحیح سند والی روایات پیش کرتے ہیں۔ لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس روایت کی سند کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ الضعفاء الصغير کی جو سند ذکر کی جاتی ہے وہ اس طرح ہے: أخبرنا الشيخ الإمام العالم أبو عبد الله محمد بن عمر بن عبد الغالب العثماني قراءة عليه، وأنا في ليلة العشرين من شهر رمضان سنة أربع عشرة وستمائة قدم علينا حلب قال: أخبرنا الشيخ أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عبد الله بن الحسين الفاراني، أنبأ أبو علي الحسن بن أحمد الحسن الحداد إجازة، أنبأ أبو نعيم أحمد بن عبد الله بن أحمد الحافظ، ثنا أبو أحمد محمد بن أحمد بن الغطريف العبدي الدهستاني بجرجان بسنة إحدى وسبعين وثلاثمائة قرأت عليه في أصله، فأقر به، قال قرأت على آدم بن موسى الخواري ثنا أبو عبد الله محمد بن إسماعيل قال: (الضعفاء الصغير للبخاري ت أبي العينين ١/‏٢٠).

اس سند میں ایک راوی  أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عبد الله بن الحسين الفاراني مجہول ہیں۔ اس کا ترجمہ اس کتاب کے محققین کو نہیں مل سکا۔ چنانچہ اس کتاب کے محققین:

  • أبو عبد الله أحمد بن إبراهيم بن أبي العينين

  • د۔ سالم بن صالح العماری

  • محمود إبراهيم زايد

اور غیر مقلد محقق زبیر علی زئی (تحفۃ الأقویاء، ص 9)

ان میں سے کسی نے بھی اس راوی کی کوئی توثیق پیش نہیں کی۔

اسی طرح اس سند میں ایک اور راوی ہیں: آدم بن موسى الخواري  ان کی بھی کوئی صریح 

توثیق موجود نہیں۔ صرف اتنا ہے کہ ابن حبان نے ان سے اپنی صحیح میں روایت لی ہے۔حالانکہ غیر مقلدین خود بڑی شدت سے یہ کہتے ہیں کہ ابن حبان مجہول رواۃ کی توثیق میں متساہل ہیں۔

 نکتہ : 

زبیر علی زئی نے آدم بن موسى الخواري کو آدم بن علی کے ساتھ متعین کیا ہے، لیکن یہ تعیین درست نہیں۔ کتاب ري الظمآن بتراجم شيوخ ابن حبان ١/‏٢١٥ میں شیخ أبو إدريس شريف بن صالح التشادي المصري نے واضح کیا ہے کہ آدم بن علی ایک الگ راوی ہیں اور یہ راوی الگ ہیں۔ اسی طرح المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم کے محقق نے بھی حاشیے میں اس وضاحت کو ذکر کیا ہے۔

محمد بن یوسف البناء اور مسبح بن سعید: سند کی تیسری بڑی خرابی

سند کی تیسری خرابی یہ ہے کہ اگر ہم الضعفاء الصغير کے مختلف مطبوعہ نسخوں کا تقابل کریں تو سند اور متن دونوں میں واضح اختلاف نظر آتا ہے۔

مثلاً ایک سند یوں ہے: أخبرنا الشيخ الإمام العالم أبو عبد الله محمد بن عمر بن عبد الغالب العثماني... قال: أخبرنا الشيخ أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عبد الله بن الحسين الفاراني... أبنا أبو علي الحسن بن أحمد الحداد... أبنا أبو نعيم أحمد بن عبد الله الحافظ... ثنا أبو أحمد محمد بن أحمد بن الغطريف... قال: قرأت على آدم بن موسى الخواري ثنا أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري

جبکہ دوسری سند میں ابو نعیم اور ابن الغطریف کے درمیان ایک اضافی راوی موجود ہے: أخبرنا الشيخ أبو علي الحسن بن أحمد الحداد، المقرىء قراءة عليه، وأنا أسمع في شهر الله الأصم رجب سنة تسع وخمس مائة. أنبا أبو نعيم، أحمد بن عبد الله بن احمد بن إسحق الحافظ بيست أنبأ محمد بن يوسف البنا الصوفي قراءة عليه في ذي الحجة ، سنة ست وعشرين وأربع مائة . أنبا أبو أحمد محمد بن الغطريف الرباطي بجرجان ، قال : قرأت علی آدم بن موسى الخواري ، ثنا أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري رحمه الله تعالى

اس طرح سند میں کہیں زیادتی اور کہیں کمی پائی جاتی ہے۔ مختلف مطبوعہ نسخوں میں اس اختلاف کی صراحت بھی موجود ہے۔ مثلاً:

  • غیر مقلد محمد شمس الحق عظیم آبادی اور محی الدین الہ آبادی کے حواشی و تعلیقات سے چھپا نسخہ : ادارہ ترجمان السنہ

  • د۔ سالم بن صالح العماری کے نسخے

  • محمود ابراہیم زاید کے تحقیق شدہ نسخے (ص 15)

ان میں ابو نعیم اور ابو احمد محمد بن الغطریف کے درمیان محمد بن یوسف البناء کا واسطہ موجود ہے۔ جبکہ:

  • زبیر علی زئی کی تحقیق تحفۃ الأقویاء (ص 9)

  • ابو عبد الله احمد بن ابراہیم بن ابی العینین کا محققہ نسخہ

ان میں  ابو نعیم اور ابو احمد محمد بن الغطریف کے درمیان محمد بن یوسف البناء کا واسطہ  موجود نہیں۔

اس کے علاوہ اس کتاب کو امام بخاری سے أبو جعفر مسبح بن سعيد نے بھی روایت کیا ہے، لیکن وہ بھی مجہول ہیں۔ چنانچہ غیر مقلد عالم کفایت اللہ سنابلی لکھتے ہیں: “أبو جعفر مسبح بن سعيد الوراق البخاري کے حالات اور ان کی توثیق ہمیں نہیں مل سکی۔ ان کا امام بخاری کا  شاگرد ہونا اور ان کی بعض کتب کا راوی ہونا ان کی توثیق کے لیے کافی نہیں ہے۔”


اسی طرح محقق د۔ سالم بن صالح العماری  نے الضعفاء الصغير ص 77 پر ایک اور سند ذکر کی ہے: وقد وصلت إلينا من طريق أبي بكر محمد بن عبد الله بن فطر البروجردي الخراساني (ت: ٣٧٧هـ)، عن مسبح بن سعيد عن الإمام البخاري

لیکن خود محقق نے یہ بھی اقرار کیا ہے کہ محمد بن عبد الله بن فطر البروجردي الخراساني کے حالات  معلوم نہیں( الضعفاء الصغير ص 77)۔ اس طرح یہ سند بھی ضعیف ہے اور مسبح بن سعید تو پہلے ہی مجہول ہیں۔

اس سے واضح ہوا کہ غیر مقلدین کے اپنے اصول کے مطابق بھی یہ جرح سنداً ثابت نہیں۔

متن میں اضطراب

اگر ہم اس متن کی تفصیل پر غور کریں تو ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے: مختلف مطبوعہ نسخوں میں اس جرح کے متن کا واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ الضعفاء الصغير جسے د۔ سالم بن صالح العماری نے اپنی تحقیق کے ذریعے شائع کیا ہے اور  اسی طرح جو تحقیق أبي العينين نے کی ہے، اس نسخے میں کچھ یوں درج ہے:

"يعقوب بن إبراهيم أبو يوسف القاضي سمع الشيباني، تركه يحيى وعبد الرحمن ووكيع وغيرهما. حكي لنا عن النعمان قال: ألا تعجبون من يعقوب يقول علي ما لا أقول؟" (الضعفاء للبخاري، ترجمہ نمبر 436)

اس کے برعکس، دوسرے نُسخے میں یہ عبارت درج ہے:

۴۱۲ - "يعقوب بن إبراهيم القاضي سمع بن السائب تركه يحيى وابن مهدي وغيرهما" (الضعفاء الصغير للبخاري، تحقیق زايد 1/123)

یہاں وکیع کا ذکر نہیں کیا گیا، اور نہ ہی وہ اضافی عبارت   حكي لنا عن النعمان ... موجود ہے جو پہلے نسخے میں پائی جاتی ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نسخوں میں متن کا بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نسخوں میں اضافی الفاظ ہیں اور بعض میں نہیں۔


مزید یہ کہ بہت سے محدثین ، مورخین اور سلفیوں  نے جب امام ابو یوسفؒ کا ذکر کیا تو انہوں نے صرف تركوه تک ہی عبارت نقل کی، درج ذیل کتب میں صرف "ترک" کی عمومی بات ہے اور وہ اضافی جملے ( تركه يحيى وعبد الرحمن، ووكيع وغيرهم... ) موجود ہی نہیں ہیں:

  1. البخاري — التاريخ الكبير للبخاري (ت الدباسي والنحال ١٠/٤٦٨، ت المعلمي اليماني ٨/٣٩٧، بحواشي محمود خليل ٨/٣٩٧)

  2. الخطيب البغدادي — تاريخ بغداد (ت بشار ١٦/٣٨١، ط العلمية ١٤/٢٦٢)

  3. ابن حجر العسقلاني — لسان الميزان (ت أبي غدة ٨/٥١٨، ط الهندية ٦/٣٠٠)

  4. الذهبي — ميزان الاعتدال ٤/٤٤٧، ديوان الضعفاء ١/٤٤٥

  5. مقبل بن هادي الوادعي — رجال الحاكم في المستدرك ٢/٣٩٠

  6. شادي آل نعمان — الجامع لكتب الضعفاء والمتروكين والكذابين ١٧/١٨٢

  7. محمد المصنعي — مصباح الأريب في تقريب الرواة الذين ليسوا في تقريب التهذيب ٣/٤٠١

  8. خالد بن ضيف الله الشلاحي — التبيان في تخريج وتبويب أحاديث بلوغ المرام ٦/١٥٢، روضة الممتع في تخريج أحاديث الروض المربع ٢/٣٨٥

  9. عبد العزيز الطريفي — التحجيل في تخريج ما لم يخرج من الأحاديث والآثار في إرواء الغليل ١/٩٨

  10. ديوان السنة — قسم الطهارة ٢٤/٢٤٩

  11. عبد الله بن صالح الفوزان — منحة العلام في شرح بلوغ المرام ٧/١٣٢

  12. مجلة الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة — ٢٤/١١٧

  13. ناصر الدين الألباني — سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة ٨/١٤٤

  14. أكرم زيادة الفالوجي — المعجم الصغير لرواة الإمام ابن جرير الطبري ٢/٧٧٠

اس سے واضح ہوتا ہے کہ التاريخ الكبير والے الفاظ تركوه  زیادہ معتبر ہیں۔


مزید برآں غیر مقلد محقق زبیر علی زئی نے اپنی کتاب تحفۃ الأقویاء میں امام بخاری کی کتاب الضعفاء الصغير کی ایک اور سند پیش کی ہے جس میں امام بخاری سے روایت محمد بن شعیب الغازی کرتے ہیں۔ یہ سند المعجم المفهرس أو تجريد أسانيد الكتب المشهورة والأجزاء المنثورة (ابن حجر عسقلانی) سے نقل کی گئی ہے۔ ٦٧٦ - كتاب الضُّعَفَاء للْبُخَارِيّ أَنبأَنَا أَبُو عَليّ مُحَمَّد بن أَحْمد الفاضلي عَن يُونُس ابْن أبي إِسْحَاق عَن أبي الْقَاسِم بن مكي عَن أبي الْقَاسِم بن بشكوال أَنبأَنَا مُحَمَّد بن عبد الغافر قِرَاءَة عَلَيْهِ أَنبأَنَا أَبُو الْعَبَّاس أَحْمد بن عمر العذري أَنبأَنَا أَبُو ذَر عبد بن أَحْمد الْهَرَوِيّ أَنبأَنَا عبد الله بن أَحْمد بن عَليّ الْمُقْرِئ أَنبأَنَا أَبُو الْحُسَيْن عَليّ بن إِبْرَاهِيم أَنبأَنَا أَبُو الْحسن مُحَمَّد بن شُعَيْب الْغَازِي سَمِعت مُحَمَّد بن إِسْمَاعِيل البُخَارِيّ بِهِ

لیکن اس سند سے بھی غیر مقلدین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، کیونکہ خطیب بغدادی نے محمد بن شعیب الغازی سے صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں: أخبرنا ابن الفضل، أخبرنا علي بن إبراهيم المستملي، حدثنا محمد بن إبراهيم بن شعيب الغازي، حدثنا محمد بن إسماعيل البخاري قال: يعقوب بن إبراهيم أبو يوسف القاضي تركوه. یعنی زبیر علی زئی کی پیش کردہ صحیح سند والی روایت میں بھی صرف تركوه ہی ہے، اضافی جملے نہیں ہیں۔ اس طرح یہ روایت درحقیقت ہمارے موقف کی تائید کرتی ہے۔

بالفرض اگر ہم یہ بھی مان لیں کہ اضافی جملے امام بخاری سے ثابت ہیں، تب بھی اس سے امام ابو یوسفؒ کی ثقاہت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ اس لیے کہ یہاں امام بخاری یہ نقل کر رہے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان، وکیع، اور عبد الرحمن بن مہدی وغیرہ نے امام ابو یوسف کو ترک کیا تھا۔

 انقطاعِ سند

امام بخاری کی ان تینوں ائمہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے، کیونکہ یحییٰ بن سعید القطان اور ابن مہدی کی وفات 198 ہجری میں ہوئی، جبکہ وکیع بن الجراح کی وفات 197 ہجری میں ہو چکی تھی۔ دوسری طرف امام بخاری کی پیدائش ہی 194 ہجری میں ہوئی تھی،لہٰذا اس بنا پر یہاں سند منقطع ہے، اس لیے وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ان ائمہ نے امام ابو یوسف کو  ترک کیا۔

یحییٰ بن سعید القطان کے حوالے سے وہم کا ازالہ

یہ ممکن ہے کہ امام بخاری نے اس  روایت کی بنیاد پر یہ گمان کر لیا ہو کہ یحییٰ بن سعید القطان نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو ترک کر دیا تھا۔أخبرنا أبو القاسم عبد الله بن أحمد بن علي السوذرجاني- بأصبهان- أخبرنا أبو بكر بن المقرئ، حدثنا محمّد بن الحسن بن علي بن بحر، حدثنا أبو حفص عمرو بن علي قال: سمعت يحيى- يعني القطّان- وقال له جار له: حدثنا أبو يوسف عن أبي حنيفة عن جواب التّيميّ. فقال: مرجئ عن مرجئ عن مرجئ.

 اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے امام صاحب کی ثقاہت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ اول تو ایسی روایات اکثر و بیشتر عقیدے کے فروعی مسائل  سے تعلق رکھتی ہیں، اور اصولِ حدیث کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ عقیدے کے فروعی اختلافات کی بنا پر کسی  کی ثقاہت مجروح نہیں ہوتی۔

قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


سلسلہ دفاعِ قاضی ابو یوسفؒ قسط نمبر 12 : امام ابو یوسفؒ اور امام ابو حنیفہؒ پر ’’مرجئ‘‘ ہونے کا اعتراض : ایک علمی جائزہ اور مدلل جواب


امام ابن مہدی کا طرزِ عمل اور حقیقتِ حال

اسی طرح اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ امام بخاری  تک یہ بات پہنچی کہ امام عبد الرحمن بن مہدی نے ابو یوسف سے کچھ نہیں لیا یا کچھ نہیں سنا ، تو یہ بھی امام صاحب کے ضعف کی دلیل ہرگز نہیں بن سکتی۔قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود



وکیع بن جراح اور امام ابو یوسف

جہاں تک امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ کا تعلق ہے، اگر امام بخاری نے کسی روایت سے یہ تاثر لیا کہ وکیع نے امام صاحب کو ترک کر دیا تھا، تو یہ محض ایک غلط فہمی ہے۔قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود



ان تمام احتمالات اور روایات کا عمیق مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے خلاف "ترک" کے الفاظ یا تو سند کے تزلزل کی نذر ہیں، یا ناقدین کے تعصب اور وہم کا نتیجہ ہیں۔

جب اپنوں نے ہی جرح کو مسترد کر دیا

بالفرضِ محال اگر کسی گمان کی بنیاد پر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ ان تین کبار ائمہ (یحییٰ بن سعید، وکیع اور ابن مہدی) نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو ترک کر دیا تھا، تب بھی امام صاحب کی ثقاہت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ کسی ایک محدث کا کسی دوسرے راوی سے روایت نہ لینا، اس کے ضعیف یا مجروح ہونے کی قطعی دلیل نہیں ہوتا۔ اس موقف کی تائید خود فریقِ مخالف (غیر مقلدین) کے گھر کی شہادتوں سے بھی ہوتی ہے:

  • حافظ محمد گوندلوی لکھتے ہیں: "کسی شخص کا کسی راوی سے روایت ترک کر دینا کوئی مفسر جرح (واضح جرح) نہیں۔ لہذا توثیق کے بعد معتبر نہیں"۔ (خیر الکلام، ص 163)

  • زبیر علی زئی رقمطراز ہیں: "ایک ثقہ راوی سے اگر کوئی ثقہ راوی روایت ترک کر دے تو وہ ثقہ راوی متروک نہیں بن جاتا"۔ (نصر الباری، ص 35)

پس ثابت ہوا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جیسے جبلِ علم اور ثقہ امام کے خلاف اس قسم کے احتمالات اور "ترکِ روایت" کے واقعات پیش کرنا علمی بددیانتی ہے۔ جب آپ کی ثقاہت و عدالت دلائلِ قاہرہ سے ثابت ہے، تو محض بعض ائمہ کا آپ سے روایت نہ کرنا (جس کی وجوہات تعصب یا علمی مشغولیات بھی ہو سکتی ہیں) آپ کے مقامِ بلند کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

محدثانہ مصروفیت بمقابلہ قاضی القضاۃ  کی عدالتی ذمہ داریاں

تیسری بات یہ ہے کہ امام ابو یوسفؒ صرف محدث ہی نہیں بلکہ جلیل القدر فقیہ بھی تھے اور بعد میں قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس وجہ سے دیگر محدثین کی طرح کثرت سے روایت کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ لہٰذا اگر بعض محدثین سے ان کی روایت کم ملتی ہے یا کسی نے ان سے روایت نہیں لی تو یہ کوئی عیب کی بات نہیں، کیونکہ ان کا عظیم منصب انہیں عام رواۃ کی طرح روایت کرنے سے روکتا تھا۔

خلاصہ یہ ہے کہ امام ابو یوسفؒ پر امام بخاری سے منقول جرح نہ سند کے اعتبار سے ثابت ہے اور نہ متن کے اعتبار سے مضبوط۔ مزید یہ کہ اگر اس کے بعض الفاظ کو بالفرض صحیح بھی مان لیا جائے تب بھی اس سے امام ابو یوسفؒ کی عدالت اور ثقاہت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ امت کے جلیل القدر فقہاء، محدثین اور مؤرخین نے ہمیشہ آپ کو عزت اور احترام کے ساتھ یاد کیا ہے۔ لہٰذا ایسے شبہات کو بنیاد بنا کر اس عظیم امام کی علمی عظمت کو کم کرنے کی کوشش کرنا انصاف اور دیانت کے خلاف ہے۔ 

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...