امام ابو یوسفؒ پر امام وکیع کی تنقید کا تحقیقی جائزہ
امامِ اجل، فقیہِ ملت، قاضی القضاة حضرت امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم انصاری رحمہ اللہ (شاگردِ رشید امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ) کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ علمِ حدیث اور فقہ کے تابندہ ستارہ ہیں تاہم، بعض حلقوں کی جانب سے تاریخ کی چند کمزور اور غیر مستند روایات کے سہارے آپ کی جلالتِ علمی اور ثقاہت پر حرف اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں ایک ایسی ہی روایت کا علمی، اصولی اور تحقیقی محاسبہ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ حق و باطل کا فرق واضح ہو سکے۔
اعتراض
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ قَالَ:سَمِعْتُ وَكِيعًا، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ مَسْأَلَةٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ أَبَا يُوسُفَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَحَرَّكَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: أَمَا تَتَّقِي اللَّهَ، بِأَبِي يُوسُفَ تَحْتَجُ عِنْدَ اللَّهِ.
اعتراض کی بنیاد اس روایت پر رکھی جاتی ہے جس میں احمد بن علی، یحییٰ بن محمد بن سابق کے واسطے سے یہ قول نقل کرتے ہیں کہ: جب ایک شخص نے امام وکیع رحمہ اللہ کے سامنے امام ابو یوسف کا کوئی قول پیش کیا تو انہوں نے سر ہلا کر کہا: "کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟ کیا اللہ کے حضور (دلیل کے طور پر) ابو یوسف کو پیش کرو گے؟" (الضعفاء للعقیلی 4/441 ، تاریخ بغداد ت بشار 16/377)
:جواب
سند کا ضعف: یحییٰ بن محمد بن سابق پر محدثین کی جرح
مذکورہ روایت کی سند میں ایک راوی "یحییٰ بن محمد بن سابق" موجود ہے، جو محدثین کے نزدیک "ضعیف" قرار دیا گیا ہے۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
لہٰذا یہ روایت ثابت ہی نہیں ہے۔
قول کی نامعلومی اور نسبت کا احتمال
بالفرضِ محال، اگر اس روایت کو سنداً درست تسلیم کر بھی لیا جائے، تب بھی اس سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی ثقاہت، حفظِ حدیث یا جلالتِ فقہ پر کوئی حرف نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روایت میں اس "مسئلے" یا "قول" کی کوئی وضاحت نہیں ہے جو امام وکیع کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ سائل کون تھا؟ کیا اس نے امام ابو یوسف کی طرف قول کی نسبت درست کی تھی یا غلط؟ یہ قوی امکان موجود ہے کہ اس شخص نے امام ابو یوسف کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کر دی ہو جو حقیقت میں ان کا موقف ہی نہ ہو، جس پر امام وکیع نے اس کی زجر و توبیخ فرمائی ہو۔
اجتہادی اختلاف اور مقامِ مجتہد
یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مسئلہ خالص اجتہادی نوعیت کا ہو جس میں امام وکیع کی رائے امام ابو یوسف سے مختلف ہو۔ علمِ دین کا ادنیٰ طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ مجتہد اگر خطا بھی کرے تو اسے ایک اجر ملتا ہے اور صواب پر دوہرے اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ امام ابو یوسف کا مرتبہ "مجتہدِ مطلق" کا ہے، لہٰذا کسی ایک فقہی مسئلے میں اختلاف کو بنیاد بنا کر ان کی پوری علمی شخصیت کو ہدفِ ملامت بنانا سراسر نا انصافی اور علمِ دین سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔
امام وکیع اور فقہِ حنفی کا تعلق
معترضین اس حقیقت سے آنکھیں چراتے ہیں کہ امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ خود امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مسلک کے پیروکار تھے اور امام ابو یوسف کے علمی مقام کے معترف تھے۔ تاریخ اور تذکروں کی کتب میں صحیح سند کے ساتھ یہ روایات موجود ہیں کہ امام وکیع نے امام ابو یوسف کے "قیاس" اور ان کی فقہی بصیرت کی تعریف فرمائی ہے۔ (تاريخ بغداد ت بشار 16/365 ) أخبار أبي حنيفة وأصحابه ص158 ، وهذا إسناد صحیح
قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
سلفِ صالحین اور ائمہ دین نے صراحت کی ہے کہ امام وکیع فقہِ حنفی کے مطابق ہی فتاویٰ دیا کرتے تھے۔قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک امام جس کے فقہی مکتب کو وہ خود اپنائے ہوئے ہوں، اسی کی عدالت اور ثقاہت کا انکار کر دیں؟
حاصلِ کلام: امام ابو یوسفؒ پر اعتراض کی حقیقت
خلاصہِ بحث یہ ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے خلاف پیش کی جانے والی یہ روایت فنی لحاظ سے "ضعیف" اور متن کے لحاظ سے "مبہم" ہے۔ غیر مقلدین کا ایسی لایعنی اور کمزور روایات کو ائمہ احناف کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنا ان کی علمی دیانت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ امام ابو یوسف وہ عظیم فقیہ ہیں جن کے علم سے تدوینِ فقہ کی عمارت مکمل ہوئی۔ ان کی شان میں گستاخی کرنا درحقیقت علمِ نافع کی توہین ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ائمہ دین کا ادب کرنے اور صراطِ مستقیم پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرمائے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں