امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے خلاف محدث عبداللہ بن ادریس کوفی رحمہ اللہ کے بعض اقوال کا تحقیقی جائزہ
امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے خلاف محدث عبداللہ بن ادریس کوفی رحمہ اللہ کے بعض اقوال کا تحقیقی جائزہ
﷽
اسلامی تاریخ کے افق پر چند ایسی فروزاں شخصیتیں نمودار ہوئیں جن کی علمی ضیا پاشیاں رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔ ان عبقری ہستیوں میں سرِ فہرست امامِ اعظم، سراج الامہ، سیدنا امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابتؒ کی ذاتِ گرامی ہے، جنہوں نے تفقہ فی الدین اور تدوینِ فقہ کے وہ سنگِ میل عبور کیے کہ عقلِ انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ آپ نے شریعتِ مطہرہ کے غوامض اور باریکیوں کو جس شرحِ صدر اور اصولی ترتیب کے ساتھ مرتب فرمایا، اس نے امتِ مسلمہ کو ایک ابدی فکری اثاثہ عطا کیا۔ اسی دبستانِ علم و دانش کے ایک تابندہ ستارے امام قاضی ابو یوسفؒ ہیں، جن کی فقہی بصیرت اور منصبِ قضا پر فائز ہو کر عدل و انصاف کی ترویج نے حنفی دبستان کو ایک جہانِ نو سے روشناس کرایا۔
لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تاریخ کے جھروکوں میں جہاں علم کی روشنی ہے، وہیں حاسدین کی تیرہ بختی اور متعصبین کی کج فہمی نے بھی اپنا رنگ دکھایا ہے۔ مسلکی عصبیت کے زیرِ اثر بعض کج رو تذکرہ نگاروں نے ان ائمہِ ہدیٰ کی جانب ایسے نازیبا اور سخت اقوال منسوب کر دیے ہیں جو نہ صرف علمِ جرح و تعدیل کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہیں، بلکہ عدل و دیانت کے دامن پر بھی ایک بدنما داغ ہیں۔
زیرِ نظر تحریر میں ہم محدث عبداللہ بن ادریس کوفی کے ان تند و تیز اور سخت اقوال کا علمی و تحقیقی محاکمہ پیش کریں گے جو انہوں نے امامِ اعظم ابو حنیفہؒ اور امام قاضی ابو یوسفؒ کے متعلق صادر فرمائے۔
اس سے قبل کہ ہم اصل بحث کا آغاز کریں، یہ بات ذہن نشین رہے کہ ابنِ ادریس کے یہ جملے کسی علمی دلیل کا نتیجہ نہیں تھے، بلکہ ان کے پسِ پردہ وہ شدید تعصب اور عناد کارفرما تھا جو انہیں اپنے ہی شہر کے ائمہ (اہلِ کوفہ) سے تھا۔
"ضال و مضل" جیسے الفاظ کا تحقیقی رد
1. حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ السِّنْدِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِدْرِيسَ، يَقُولُ: كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ ضَالًّا مُضِلًّا، وَأَبُو يُوسُفَ فَاسِقًا مِنَ الْفَاسِقِينَ
عبد اللہ بن ادریس کا قول کہ ابو حنیفہ ضال اور مضل ہے اور ابو یوسف فاسقوں میں سے ایک فاسق ہے (الضعفاء للعقیلی 4/441 ، تاریخ بغداد ت بشار 16/377)
الجواب : محدث عبداللہ بن ادریس کا یہ کہنا کہ "ابو حنیفہ ضال مضل (گمراہ اور گمراہ کرنے والا) ہے اور ابو یوسف فاسق ہے"، علمِ جرح و تعدیل کے میزان پر ایک کوڑی کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔ آج کے دور کے وہ غیر مقلدین جو امامِ اعظمؒ کی تنقیص کے لیے ابنِ ادریس کے ان اقوال کو حرزِ جان بناتے ہیں، وہ اپنے ہی گھر کی خبر لیں۔ فرقہ غیر مقلد اہلحدیث کے نزدیک ایک معروف موقف یہ ہے کہ بے نماز شخص کافر ہے۔ اس موقف کے چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں:
فرقہ اہلحدیث کے اصول کے مطابق
حوالہ نمبر 1
فرقہ غیر مقلد کے عبدالقادر عارف حصاری ایک فتویٰ میں لکھتے ہیں (جو دسمبر 1978 میں غیر مقلدین کے مجلہ محدث میں شائع ہوا): "میری تحقیق میں حق اور صواب یہ ہے کہ بےنماز کافر و مشرک خارج از اسلام ہے اور دائمی جہنمی ہے نہ اس کا نکاح کسی موحد مسلمان سے جائز ہے او رنہ اس کا جنازہ پڑھنا جائز ہے او رنہ اسلامی برتاؤ سلام وغیرہ جائز ہے اور نہ بے نماز ، نمازی اور نہ نمازی، بے نماز کا وارث ہے او رنہ بے نماز کافر کی اولاد نابالغہ کا جنازہ کرنا جائز ہے اور اس پر وہی تمام احکام نافذ ہیں جو کفار کے بارہ میں کتاب وسنت میں وارد ہیں۔"
حوالہ نمبر 2 : "دلائل کی رُو سے صحیح بات یہی ہے، کہ بے نماز کافر ہے" (فتاویٰ اہل حدیث ۲۹/۲تا۵۷ روپڑی ، فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:872 ، محدث فتویٰ)
حوالہ نمبر 3 : غیر مقلدین کی ویب سائٹ توحید ڈاٹ کام پر سعودی سلفی شیخ بن باز کا مترجم فتویٰ شائع کیا گیا ہے، جس میں لکھا ہے: "شرعاً مکلف اور شری احکام سے آگاہ ہونے کے باوجود ایک شخص تارک نماز ہو کر مرا ہو تو ایسا شخص کافر ہے۔ اسے غسل دیا جائے نہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے اور نہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں ہی دفن کیا جائے"
اب یہاں ایک قابل غور حقیقت سامنے آتی ہے۔
جس عبداللہ بن ادریسؒ نے امام ابو حنیفہؒ کو "ضال مضل" کہا، انہی کے بارے میں یہ بات نقل ہوئی ہے کہ وہ جمعہ کی نماز کے تارک تھے اور اس بات کا وہ خود اقرار کرتے تھے۔ چنانچہ وہ یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہتے تھے ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَنَّامِ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثِ النَّخَعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ إِدْرِيسَ يَقُولُ: مَا أَنَا وَحَيٌّ وَابْنُ حَيٍّ لَا نَرَى جُمُعَةً، وَلَا جَمَاعَةً، وَلَا جِهَادًا.
ابو سعید اشج کہتے ہیں میں نے ابن ادریس کو یہ کہتے ہوئے سنا: "جب میں زندہ ہوں اور ابن حَیّ بھی زندہ ہے، تو ہم نہ جمعہ کے قائل ہیں، نہ جماعت کہ قائل ہیں، اور نہ جہاد کے" (الضعفاء الكبير للعقيلي ١/٢٢٩ ، اسنادہ صحیح)
شرعی و اصولی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو فریضۂ صلاۃ کا انکار، خواہ وہ ایک ہی نماز یا صرف نمازِ جمعہ کی صورت میں کیوں نہ ہو، بہرصورت ایک سنگین لغزش ہے جس کی اہمیت و فرضیت سے کوئی صاحبِ علم ناواقف نہیں۔
سوال یہ ہے کہ: جو شخص بقولِ غیر مقلدین "تارکِ جمعہ و جماعت" ہونے کی بنا پر (معاذ اللہ) دائرہ اسلام سے مشکوک ہو رہا ہو، اس کی جرح ایک ایسے امام (ابو حنیفہؒ) کے خلاف کیسے قبول کی جا سکتی ہے جو تقویٰ اور عبادت کا ہمالہ تھا ؟ سفیان بن عیینہ ؒ کہتے ہیں کہ اللہ ابوحنیفہ ؒ پر رحم کرے وہ کثر ت سے نماز پڑھنے والے تھے ۔ (تاریخ بغداد ج:۱۵ص:۴۸۲،شیخ بشار عواد معروف اس کی سند کو صحیح کہتے ہیں )
یا جرح و اعتراض کے تمام تیر صرف امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ ہی کی طرف چلائے جائیں گے؟
احناف کا اسلوب
ہم اہل السنت والجماعت احناف کا شیوہ ادب ہے۔ ہم ابنِ ادریس کے ان اقوال کو ان کی بشری لغزش یا سیاسی و مذہبی حالات کا شاخسانہ قرار دے کر تاویل کرتے ہیں تاکہ ایک محدث کی توہین نہ ہو۔ لیکن غیر مقلدین کا حال یہ ہے کہ:
وہ ایک طرف تارکِ نماز کو کافر کہتے ہیں۔
دوسری طرف اسی تارکِ نماز (ابنِ ادریس) کے قول کو امامِ اعظمؒ کی تذلیل کے لیے سینے سے لگاتے ہیں۔
یہ "میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو" والا معاملہ ہے۔ اگر ابنِ ادریس معتبر ہیں، تو ان کا ترکِ جمعہ بھی قبول کرو (جو تمہارے نزدیک کفر ہے)۔ اور اگر وہ اپنی اس لغزش کی وجہ سے مجروح ہیں، تو ان کی زبان سے نکلے ہوئے زہریلے کلمات کو امامِ اعظمؒ کے خلاف دلیل بنانا چھوڑ دو۔
خود غیر مقلدین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ احناف اپنے اکابر کے بارے میں ادب اختیار کرتے ہیں، جبکہ غیر مقلد اہلحدیث اکثر اکابر کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اس بارے میں غیر مقلد مؤرخ محمد اسحاق بھٹی کی کتاب ملاحظہ ہو: (نقوش عظمت رفتگاں ص 353)
ابن ادریس کا اہل کوفہ سے تعصب
عبداللہ بن ادریسؒ اگرچہ کوفہ کے رہنے والے تھے، مگر ان کا رجحان اہل مدینہ کے مسلک کی طرف تھا اور وہ اہل کوفہ کی سخت مخالفت کرتے تھے۔ چنانچہ یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں: قال يعقوب بن شيبة : كان يخالف الكوفيين یعنی ابن ادریس اہل کوفہ کی مخالفت کیا کرتے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء 9/44)
قراءتِ متواترہ پر حملہ:
یہ مخالفت یہاں تک بڑھ گئی تھی کہ وہ امام قاری حمزہ کوفیؒ (جو قراء سبعہ میں سے ایک ہیں) کی قراءت کو بھی پسند نہیں کرتے تھے۔
چنانچہ انہوں نے کہا: ما أستجيز أن أقول لمن يقرأ لحمزة : إنه صاحب سنة .
یعنی: "میں اس شخص کو صاحب سنت کہنا جائز نہیں سمجھتا جو حمزہ کی قراءت پر قرآن پڑھتا ہے۔"
اس پر حافظ ذہبیؒ فرماتے ہیں: قلت : اشتهر تحذير ابن إدريس من ذلك ، والله يغفر له ، وقد تلقى المسلمون حروفه بالقبول ، وأجمعوا اليوم عليها .
یعنی ابن ادریس کی یہ بات معروف ہے، مگر اللہ ان کی اس لغزش کو معاف فرمائے، کیونکہ امام حمزہ کی قراءت کو مسلمانوں نے قبول کیا ہے اور آج پوری امت اس پر متفق ہے۔ (سیر 9/47)
یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ ابن ادریسؒ کو اہل کوفہ کے ائمہ کے بارے میں شدید تعصب تھا۔لہٰذا، جس طرح امام حمزہ کوفیؒ کی قرأتِ متواترہ کے خلاف ابنِ ادریس کا کلام ان کے ذاتی تعصب کی بنا پر محدثین کے ہاں مردود اور ناقابلِ التفات قرار پایا، بعینہٖ امامِ اعظم ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کی جلالتِ قدر کے خلاف ان کی یہ جروحات بھی علمی میزان میں ہیچ اور یکسر مسترد ہیں۔ لہٰذا اگر غیر مقلد حضرات ابن ادریس کی جرح کو امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے خلاف قبول کرتے ہیں تو اصول کے مطابق انہیں امام حمزہؒ کی قراءت پر بھی اعتراض قبول کرنا ہوگا، حالانکہ وہ قرآن کی متواتر قراءت ہے۔
پس یا تو وہ قرآن کی ایک متواتر قراءت کا انکار کریں، فقہ سے تو پہلے ہی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ، فرقہ اہلحدیث اب قرآن کا بھی منکر ہو جائے یا پھر انصاف کے ساتھ تسلیم کریں کہ ابن ادریس کی یہ جروحات قابل اعتماد نہیں۔
حاصلِ بحث
مذکورہ بالا حقائق سے یہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے خلاف دی گئی یہ جرح علمی بنیادوں پر نہیں بلکہ شخصی عناد اور کوفی دشمنی پر مبنی ہے۔ محققین کے نزدیک ایسی جرح جو محض تعصب یا ذاتی مخالفت پر مبنی ہو، مردود اور ناقابلِ التفات ہے۔
غیر مقلدین کا اپنے ہی خود ساختہ فتووں (تارکِ نماز کی تکفیر) کو پسِ پشت ڈال کر ابنِ ادریس کے قول سے استدلال کرنا ان کے فکری تضاد کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ جس شخص کو قرآن کی متواتر قراءت (قراءتِ حمزہ) ہضم نہ ہوتی ہو، اس کا فقہِ حنفی کے خلاف بولنا اس کے اپنے ظرف کی تنگی ہے، نہ کہ ائمہِ احناف کا نقص۔امامِ اعظمؒ کی جلالتِ قدر پر پوری امت کے ائمہ کا ثناء خوان ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ابنِ ادریس جیسے چند افراد کی انفرادی جرح "کالعدم" ہے اور اس کی حیثیت اس غبار کے برابر بھی نہیں جو کسی پہاڑ سے ٹکرا کر خود ہی فنا ہو جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ "پس رہا جھاگ، تو وہ اڑ جایا کرتا ہے، اور رہی وہ چیز جو لوگوں کو نفع دیتی ہے، تو وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے (سورة الرعد - آیت 17)۔"
آج امامِ اعظمؒ کا فیض پوری دنیا میں جاری ہے، جبکہ ان پر طعن کرنے والے صرف تاریخ کی گرد آلود کتابوں میں عبرت کا نشان بن کر رہ گئے ہیں۔
امام ابو یوسفؒ کے متعلق "خواب" کی حقیقت
ایک اور روایت بھی ہمیں ابنِ ادریس سے امام ابو یوسف کے تعلق سے ملتی ہے:
2. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ إِدْرِيسَ، يَقُولُ: رَأَيْتُ أَبَا يُوسُفَ، وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ فِي الْمَنَامِ يُصَلِّي عَلَى غَيْرِ قِبْلَةٍ،
-
تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال ١٠/٢٨
-
تاريخ الإسلام - ت بشار ٥/٧٢٨(ان دونوں میں امام ذہبیؒ نے ذکر کیا ہے)
-
تهذيب التهذيب - ط الهندية ١١/٢٧٢(امام ابن حجرؒ)
-
خلاصة تذهيب تهذيب الكمال ١/٤٢٧(امام خزرجيؒ)
-
تحرير تقريب التهذيب ٤/٩٩(شیخ بشار عواد)
ان تمام کتب میں اس راوی کے بارے میں کوئی واضح توثیق نقل نہیں کی گئی۔
اسی طرح:
-
التكميل في الجرح والتعديل ومعرفة الثقات والضعفاء والمجاهيل ٢/٢٧٣(امام ابن کثیرؒ)
-
تهذيب الكمال في أسماء الرجال ٣١/٥١٨(امام مزیؒ)
-
الكمال في أسماء الرجال ٩/٣٥٨(امام عبد الغنی المقدسیؒ، ت ٦٠٠ھ)
-
ذخيرة العقبى في شرح المجتبى ٢٥/١٢٠(محمد بن علی بن آدم الاثيوبيؒ، ت ١٤٤٢ھ)
ان کتب میں امام ابو حاتمؒ کا قول نقل کیا گیا ہے، قال أبو حاتم: أتيته بالمصّيصة فنظرت في حديثه فوجدت أحاديث مشهورة ولم أكتب عنه. (الجرح والتعديل ٩/ ١٨٥)
یعنی امام ابو حاتم فرماتے ہیں کہ میں اس سے مصیصہ میں ملا، اس کی احادیث دیکھیں، کچھ معروف احادیث پائیں، لیکن میں نے اس سے روایت نہیں لکھی۔ یہ طرزِ بیان خود اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امام ابو حاتمؒ اس راوی سے مطمئن نہیں تھے۔امام ذہبیؒ نے اپنی ابتدائی دور کی کتاب الکاشف میں ایک جگہ اس راوی کو ثقہ کہا ہے۔ لیکن بعد کی کتب میں انہوں نے اس راوی کی کسی واضح توثیق کا ذکر نہیں کیا۔غالباً یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے امام ذہبی کی اس ابتدائی رائے کو برقرار نہیں رکھا، بلکہ اس راوی کا درجہ کم کر کے اسے مقبول قرار دیا ہے۔ امام نسائیؒ نے اس راوی سے صرف ایک ہی روایت نقل کی ہے، اور اس روایت کے ساتھ خود یہ الفاظ بھی ذکر کیے: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ (السنن الكبرى - النسائي - ط الرسالة ٤/١٠٢) جبکہ البانی نے اسی روایت کے بارے میں کہا: منكر (المسند الموضوعي الجامع للكتب العشرة ٢/٢٥٢) اسی طرح امام طبرانیؒ نے بھی اس کی ایک روایت کے بارے میں یہ صراحت کی ہے کہ اس میں اسی راوی کا تفرد ہے: المعجم الأوسط للطبراني ٩/١٥٠ — الطبراني (ت ٣٦٠) مزید برآں سلفی محقق أبو عبد الرحمن عادل بن يوسف الغرازي نے اپنی تحقیق میں اس راوی کو صراحت کے ساتھ ضعیف قرار دیا ہے: (الفقيه والمتفقه - الخطيب البغدادي ١/٤٦٣)
ان تمام اقوال کو جمع کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بہت سے ائمہ اور محققین جیسے:
-
حافظ ابن حجر
-
امام ابو حاتم
اور دیگر محدثین کے نزدیک یہ راوی ثقہ نہیں بلکہ مقبول درجے کا راوی ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے مقدمہ تقریب التہذیب میں لفظ مقبول کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے: من ليس له من الحديث إلا القليل، ولم يثبت فيه ما يترك حديثه من أجله، وإليه الاشارة بلفظ " مقبول " حيث يتابع، وإلا فلين الحديث. یعنی جرح و تعدیل کے اصول کے مطابق وہ راوی جس کی احادیث کم ہوں اور اس پر ایسی جرح نہ ہو کہ اس کی حدیث بالکل ترک کر دی جائے، اس کی طرف "مقبول" کے لفظ سے اشارہ کیا جاتا ہے، بشرطیکہ اس کی روایت کی متابعت موجود ہو، ورنہ وہ لین الحدیث شمار ہوتا ہے۔ ان تمام دلائل اور اقوال سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ یحییٰ بن محمد بن سابق کا درجہ زیادہ سے زیادہ مقبول ہے، اور مقبول راوی کی روایت بلا متابعت قابل اعتماد نہیں ہوتی۔
خواب کی شرعی حیثیت:
اس سند کی دوسری خامی یہ ہے کہ اس میں ابنِ ادریس کا خواب بیان ہوا ہے۔ ابنِ ادریس کی جرح کو اہلِ کوفہ کے خلاف بطورِ دلیل پیش نہیں کیا جا سکتا۔ تیسری بات یہ ہے کہ یہ ایک خواب کا واقعہ ہے، اور خواب کے بارے میں اصولی طور پر یہ بات معروف ہے کہ اس سے شرعی حکم یا کسی شخص کے حق میں قطعی جرح و تعدیل ثابت نہیں کی جاتی۔ اچھے خواب اللہ کی طرف سے اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں ، جیسا کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں پس جب کوئی اچھے خواب دیکھے تو اس کا ذکر صرف اسی سے کرے جو اسے عزیز ہو اور جب برا خواب دیکھے تو اللہ کی اس کے شر سے پناہ مانگے اور شیطان کے شر سے اور تین مرتبہ تھوتھو کر دے اور اس کا کسی سے ذکر نہ کرے پس وہ اسے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا (بخاری 7044)۔
فرقہ اہلحدیث کے بدنام زمانہ متضاد شخصیت زبیر علی زئی لکھتے ہیں
"صحابۂ کرام کے بعد کسی اُمتی کا خواب حجت نہیں ہے "
(کتاب الاربعین لابن تیمیہ ص 114)
مزید یہ کہ خواب شرعی حجت نہیں ، خواب سے شرعی احکام ثابت نہیں ہوتے جیسا کہ محدثین نے لکھا ہے ( فتح الباری 12 /388 ) اور خود غیر مقلدوں نے بھی لکھا ہے ۔( فتاوی علمائے حدیث : باب الغسل والکفن 1/71 ، مقالات زبیر علی زئی 5/342 ، فتاوی ثنائیہ مدنیہ 1/881 )
خلاصۂ بحث
مذکورہ بالا حقائق اس بات پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ ائمہِ احناف کے خلاف دی جانے والی جروحات علمی بنیادوں سے تہی دامن اور محض شخصی عناد و کوفی دشمنی کا شاخسانہ ہیں۔ امامِ اعظمؒ کی فقہی سلطنت وہ مستحکم حصار ہے جسے عصبیت کے کنکروں سے نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ حق وہی ہے جس کی گواہی تاریخ کے تسلسل اور امت کے تعامل نے دی۔ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے تلامذہ کا فیض آج بھی پوری دنیا میں جاری و ساری ہے، جبکہ ان پر کیچڑ اچھالنے والے اقوال تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو چکے ہیں۔
سلسلہ دفاع علمائے احناف : سلسلہ دفاع قاضی ابو یوسف ؒ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں