نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام ابو یوسفؒ اور امام ابو حنیفہؒ پر ’’مرجئ‘‘ ہونے کا اعتراض : ایک علمی جائزہ اور مدلل جواب

 


امام ابو یوسفؒ اور امام ابو حنیفہؒ پر ’’مرجئ‘‘ ہونے کا اعتراض : 

ایک علمی جائزہ اور مدلل جواب


أخبرنا أبو القاسم عبد الله بن أحمد بن علي السوذرجاني- بأصبهان- أخبرنا أبو بكر بن المقرئ، حدثنا محمّد بن الحسن بن علي بن بحر، حدثنا أبو حفص عمرو بن علي قال: سمعت يحيى- يعني القطّان- وقال له جار له: حدثنا أبو يوسف عن أبي حنيفة عن جواب التّيميّ. فقال: مرجئ عن مرجئ عن مرجئ.



 امام یحییٰ بن سعید القطانؒ سے یہ منقول ہے کہ انہوں نے ایک موقع پر فرمایا: ’’مرجئ عن مرجئ عن مرجئ‘‘۔ بعض حضرات اس جملے کو بنیاد بنا کر امام اعظم امام ابو حنیفہؒ   اور ان کے عظیم شاگرد امام ابو یوسفؒ  پر طعن کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک منصف مزاج اور اصولِ حدیث سے واقف شخص کے نزدیک یہ اعتراض علمی وزن نہیں رکھتا۔ ذیل میں اس کا تفصیلی اور مدلل جواب پیش کیا جاتا ہے:

پہلی بات: یہ اعتراض حدیث یا فقہ پر نہیں ہے

سب سے پہلے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہاں نہ تو امام ابو یوسفؒ اور امام ابو حنیفہؒ  کی عدالت پر کوئی جرح ہے، نہ ان کے حفظ و ضبط پر، نہ فقاہت پر، اور نہ روایتِ حدیث میں ان کی ثقاہت پر۔ لفظ ’’مرجئ‘‘ کا تعلق ایک اعتقادی اصطلاح سے ہے،  اہلِ سنت کے ہاں ’’ارجاء‘‘ کا وہ مفہوم جسے امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب اختیار کرتے تھے، یہ تھا کہ: ایمان کی اصل تصدیقِ قلب ہے، اور کبیرہ گناہ کا مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔یہ موقف درحقیقت اہلِ سنت ہی کا قول ہے، اور اس مفہوم کا ’’ارجاء‘‘ ہرگز وہ گمراہ کن ارجاء نہیں جو غالی مرجئہ کا تھا۔ تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


 یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی راوی اس نوع کے ارجاء کا قائل ہو تو محدثین نے اس کی روایت کو رد نہیں کیا، جب تک وہ ثقہ، ضابط اور عادل ہو۔ چنانچہ صحيح البخاري اور  
صحيح مسلم میں ایسے رواۃ کی احادیث موجود ہیں جن پر ’’ارجاء‘‘ کا اطلاق کیا گیا، لیکن چونکہ وہ صدوق اور ثقہ تھے اس لیے ان کی روایت قبول کی گئی۔ پس واضح ہوا کہ اس نسبت سے نہ حدیث متاثر ہوتی ہے اور نہ فقہ؛ بلکہ یہ محض ایک فروعی اعتقادی تعبیر کا اختلاف ہے۔

دوسری بات: خود یحییٰ بن سعید القطانؒ کا فقہی میلان

یہاں ایک نہایت اہم نکتہ قابلِ توجہ ہے امام یحییٰ بن سعید القطانؒ خود جلیل القدر محدث تھے۔ اگر بالفرض وہ اس اعتقادی تعبیر سے اختلاف رکھتے بھی تھے، تو یہ اختلاف انہیں فقہِ حنفی سے جدا نہ کر سکا۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ امام یحییٰ بن سعید القطانؒ فقہی مسائل میں امام ابو حنیفہؒ کے اقوال پر فتویٰ دیتے تھے۔ اگر ’’مرجئ‘‘ ہونا ان کے نزدیک کوئی قادح اور موجبِ رد ہوتا، تو وہ ہرگز امام ابو حنیفہؒ کے قول پر فتویٰ نہ دیتے۔

یہ طرزِ عمل خود اس بات کی روشن دلیل ہے کہ: یہ اختلاف بنیادی عقیدے میں نہ تھا؛ نہ اسے گمراہی سمجھا گیا؛ اور نہ اسے علمی اہلیت کے منافی قرار دیا گیا۔ اگر یہ کوئی سنگین بدعت ہوتی تو یحییٰ القطان جیسے محتاط محدث اس کے حامل امام کے اقوال کو اختیار نہ کرتے۔

تیسری بات: فقہی اتباع اور علمی اعتراف

یہ حقیقت بھی تاریخی طور پر ثابت ہے کہ امام یحییٰ بن سعید القطانؒ، باوجود بعض اعتقادی تعبیرات میں اختلاف کے، فقہِ امام ابو حنیفہؒ کے قائل اور ان کے اجتہادات کے معترف تھے۔

یہ معمولی نوعیت کا اختلاف ان کو نہ فقہِ حنفی سے ہٹا سکا اور نہ امام اعظمؒ کی علمی عظمت کو کم کر سکا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ ایسا نہ تھا جسے جرحِ مفسر یا قدحِ قادح قرار دیا جا سکے۔قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر 22 : امام یحیی بن سعید القطان کاامام ابوحنیفہ سے اخذ واستفادہ


خلاصۂ کلام

  1. ’’مرجئ‘‘ کہنا حدیث کی صحت، عدالت، ضبط یا فقاہت پر جرح نہیں۔

  2. یہ اختلاف فروعی اعتقادی تعبیر کا ہے، جسے جمہور اہلِ سنت نے قبول کیا۔

  3. خود قائلِ جملہ (یحییٰ القطانؒ) فقہی طور پر امام ابو حنیفہؒ کے متبع تھے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کوئی قادح امر نہ تھا۔

لہٰذا اس روایت کو بنیاد بنا کر امام ابو یوسفؒ یا امام ابو حنیفہؒ پر طعن کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ امام ابو یوسفؒ کی جلالتِ علمی، عدالت، ثقاہت اور فقاہت ایسی سطحی شبہات سے بلند ہے۔ ان کا مقام امت کے اکابر فقہاء اور ائمۂ اسلام میں مسلم اور محفوظ ہے، اور ایسے بے وزن اعتراضات سے ان کی عظمت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

تبصرے